خدا شاہد، اگر سینے میں دِل بیدار ہو جائے
تری ہر ہر نظر کون و مکاں سے پار ہو جائے
جو تو حق کی حمایت کے لیے تیار ہو جائے
نگاہیں تیر بن جائیں زباں تلوار ہو جائے
خلیل اللہ کا جذبہ اگر پیدا کوئی کر لے
تو نمرودوں کی آتش آج بھی گلزار ہو جائے
خدا سے تو مدد مانگے اگر اے نا خدا اب بھی
تو ہر طوفان سے تیرا سفینہ پار ہو جائے
سحر ہونے کو ہے، ایسا کوئی نغمہ سنا بلبل
چمن کا غنچہ غنچہ خواب سے بیدار ہو جائے
وہی رہتے ہیں زندہ، موت سے جن کو محبت ہے
وہی مرتے ہیں جن کو زندگی سے پیار ہو جائے
ارادے دشمنوں کے ہم سے ٹکرانے کے ہیں سلؔمان
وطن کا ہر جواں فولاد کی دیوار ہو جائے
(ہفت روزہ ترجمانِ اسلام، لاہور ۔ ۲۰ جنوری ۱۹۸۴ء)