محمد بن عیسیٰ بن سورہ بن موسیٰ بن الضحاک ترمذیؒ موجودہ ازبکستان میں 824ء میں پیدا ہوئے۔ یہ وہ اعلیٰ و ارفع دور تھا جب معتبر ترین محدثینِ حدیث تدوینِ حدیث کا عظیم فریضہ سرانجام دینے میں مصروف تھے، وہ محدثین جنہوں نے ترویجِ حدیث میں بھی اہم کر دار ادا کیا۔ اسی ماحول میں امام ترمذیؒ پلے بڑھے اور جوان ہوئے اور اپنے وقت کے مشہور و معروف محدثین کی قربت سے سرفراز ہوئے اور ان کے سامنے زانوئے تلمذ طے کرنے کا شرف حاصل کیا، جن میں بڑے نام حضرت امام بخاری رحمہ اللہ، حضرت امام مسلم رحمہ اللہ اور حضرت ابو داؤد رحمہ اللہ تھے۔
امام ترمذیؒ پہلے امام ہیں جنہوں نے حدیث و فقہ ہی نہیں، اجتہادی مفکر کے حوالے سے بھی شہرت حاصل کی۔ امام ترمذیؒ نے جہاں بہت ساری اور کتب تصنیف کیں وہاں ’’صحاحِ ستہ‘‘ میں بھی اپنا نام درج کرایا۔ آپؒ نے امامِ کائنات، فخرِ موجودات، مولائے کُل، نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اوصافِ عالیہ پر مبنی کتاب ’’الشمائل المحمدیہ‘‘ بھی مرتب فرمائی۔
امام ترمذیؒ نے ’’جامع ترمذی‘‘ میں فقط احادیث ہی جمع نہیں کیں بلکہ احادیث کی صحت، راویوں اور فقہی مسائل پر بھی تبصرہ کیا۔ آپؒ کی یہ کتاب راویانِ احادیث کے حالات پر بھی ایک با اعتبار دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے، جس کا بنیادی ڈھانچہ جن خصوصیات پر مشتمل ہے وہ یہ ہیں:
- صحیح احادیث یعنی ’’حسن احادیث‘‘۔
- ضعیف احادیث، ایسا پہلی بار کیا گیا تھا جس کی وجہ سے امامؒ تنقید کا نشانہ بنے۔
- انہوں نے حدیث پر فقہی بحث کا بھی رواج ڈالا اور مختلف مکاتبِ فکر: احناف، شوافع اور حنابلہ کے فکری اقوال کو بیان کیا، ہر مسئلے میں موجود اختلافی رائے کی وضاحت فرمائی۔
- راویوں کی ثقاہت یا ضعف کو بھی زیربحث لائے۔
جامع ترمذی پچاس ابواب سے زیادہ پر مشتمل ہے جن میں عقائد، معاملات، اخلاقیات، ذکر و اذکار اور سیرتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں احادیث جمع کی گئی ہیں۔ سب سے منفرد بات یہ ہے کہ اس میں فقہی مذاہب کا تقابلی جائزہ بھی لیا گیا ہے، جو کہ محدثین، فقہاء اور دینی طلباء تک کے لیے استفادے کا سامان ہے۔
جبکہ کتاب الشمائل میں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیاتِ طیبہ کے چھوٹے بڑے تمام پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ شمائلِ ترمذی میں امامؒ نے کمال حسنِ ترتیب سے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جسمانی خصوصیات، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رنگت، گیسوئے مبارک، آنکھوں اور دیگر اعضائے جسمانی کا خوبصورت پیرائے میں ذکر کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پسندیدہ خوراک، عمامہ و پاپوش اور لباس و خوشبو تک کے بارے میں بیان کیا ہے، اور اس سے بڑھ کر ان تمام امور سے متعلق آپؐ کے طریقوں اور آداب و اطوار تک کا ذکر کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وآلہ وسلم کے علم، حلم، صبر و تواضع، شفقت و محبت اور حسنِ اخلاق و شائستہ مزاج، حسِ مزاح اور اندازِ گفتار کے ساتھ ساتھ مردوں اور عورتوں کے ساتھ طرزِ تکلم تک سے آگہی بخشی ہے۔ غرض امام مکرم ترمذیؒ نے اپنی اس تصنیف کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آئینہ ذات بنا دیا ہے۔
ایک اور کتاب ’’العلل الصغیر‘‘ ہے جس میں اصولِ حدیث، اسنادِ حدیث اور روایات کی کمزوریوں کا بیان ہے۔ لفظ ’’العلل‘‘ کے معنی کمزوری یا نقص کے ہیں۔ مذکورہ کتاب میں خفیہ اور بعض کمزوریوں کا ذکر باریک بینی سے کیا ہے اور حدیث کی اسناد میں تضاد بھی عیاں کر دکھایا ہے اور اس قاعدے کلیے کی وضاحت کی ہے کہ بعض احادیث صحیح اسناد کے باوجود ضعیف کیوں کہلاتی ہیں۔ گویا کہ حدیث کی کمزوری کا اندازہ لگانے کے اصول اور حدیث کو سمجھنے کے قواعد کو فقہ کی روشنی میں آشکار کرنے کی کوشش کی ہے۔
اسی طرح ایک کتاب ’’العلل الکبیر‘‘ ہے جس میں احادیث کی خفیہ کمزوریوں، نقائص اور اختلافات کا ذکر اور اسناد میں پائی جانے والی خامیوں کی نشاندہی کی ہے۔ ایک حدیث کے مختلف الفاظ میں روایت ہونے کے اسباب، اور روایت میں شکوک و شبہات کے پہلوؤں کی تلاش، ان سب امور کو موضوع بنایا ہے۔ امام ترمذیؒ نے متعدد معروف راویوں کی جرح تعدیل پر بحث کر کے ان اسرار و رموز کی نشاندہی کی ہے کہ کن راویوں کی روایت کو قابلِ قبول یاناقابلِ قبول گردانا جاتا ہے۔ امام ترمذیؒ نے حدیث کے فنی اصولوں کو جامع انداز میں پیش کیا اور آئمہ کے حدیث کے نظریات اور ان کے درمیان پائے جانے والے اختلافات کا بھی جائزہ لیا۔ اس لیے ان کی تصنیف العلل کو گہری تحقیقی اور فنی کتاب کا نام دیا گیا ۔
حقیقت یہ ہے ترمذیؒ نے سب سے جدا اسلوب میں احادیث کی جانچ پرکھ کا انداز اپنایا اور معاصرین سے ہٹ کر طرز کی بنیاد رکھی۔ اسی لیے علماء، محدثین اور فقہاء ان کے کیے ہوئے کام کو منفرد قرار دیتے اور تسلیم کرتے ہیں۔
(روزنامہ اوصاف، ۱۷ فروری ۲۰۲۵ء)
نوٹ: شمائلِ ترمذی (الشمائل الممحمدیہ) پر مولانا حامد سراج عطاری مدنی کی ایک تفصیلی تحریر اس لنک پر دستیاب ہے۔ شمائلِ ترمذی کی عربی شروحات کی ایک فہرست ویکیپیڈیا کے اس لنک پر دیکھی جا سکتی ہے۔ (ادارہ)