الشریعہ اکادمی کے زیر اہتمام علمی وتحقیقی سرگرمیاں

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(۱۷۔ اکتوبر کو الشریعہ اکادمی کی ماہانہ فکری نشست میں گفتگو)

میرے بڑے بیٹے اور الشریعہ اکادمی کے ڈپٹی ڈائریکٹر حافظ محمد عمار خان ناصر نے ڈاکٹریٹ کی ہے اور پنجاب یونیورسٹی نے ان کو پی ایچ ڈی کی ڈگری ایوارڈ کر دی ہے ۔ یہ خوشی کا موقع ہے اور اس خوشی میں ہم نے آپ کو دعوت دی ہے اور چائے کا انتظام کیا ہے ۔ میں اس موقع پر تین حوالوں سے اپنی خوشی کا اظہار کرنا چاہوں گا تاکہ یہ ریکارڈ میں آ جائے ۔ پہلا ایک باپ کی حیثیت سے ۔ ایسے موقع پر  باپ سے زیادہ خوشی کس کو ہوگی ۔ عمارخان عالم دین بھی ہے ، مدرس بھی ہے ، پی ایچ ڈی بھی ہوگیا ہے اور کام بھی کر رہا ہے ۔ اس لیے ایسے بیٹے پر ایک باپ سے زیادہ کس کو خوشی ہوگی ۔ اس لیے مجھے خوشی ہے اور بہت خوشی ہے ۔ میری خوشی کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ  حافظ عمارخان نے جس موضوع کا انتخاب کیا وہ میری مرضی کا تھا ۔ ہر پی ایچ ڈی کرنے والا اپنے مقالے کے لیے موضوع کا انتخاب کرتا ہے۔ جو لائن میں چاہتا تھا، اس نے اسی لائن پر کام کیا ہے ۔ میں اس کی تھوڑی سی تفصیل عرض کرنا چاہوں گا ۔

ہمارے والد بزرگوار حضرت مولانامحمد  سرفراز خان صفدر ؒ کا بڑا علمی کام ہے ، چالیس سے زیادہ کتابیں ہیں، پوری دنیا میں لوگ ان سے استفادہ کر رہے ہیں اور یہ کتابیں بہت بڑا علمی ذخیرہ ہیں ۔ لیکن یہ علمی ذخیرہ ہمارے فقہی و کلامی مباحث کے حوالے سے ہے جن میں دیوبندی بریلوی اختلافات ہیں ، اہل حدیث دیوبندی اختلافات ہیں۔ یہ مباحث بھی ایک حد تک ہماری ضروریات میں سے ہیں ۔ اس حوالے سے وہ پوری دنیا میں متعارف ہیں کہ انہوں نے عقائد کی تعبیرات کے اختلافات اور فقہی اختلافات کے حوالے سے بڑی ضخیم کتابیں تحریر کی ہیں ۔ ان کتب کی ایک بہت بڑی خاصیت و خوبی تحریر کا اسلوب بیان اور علمی ثقاہت ہے ،  ان کے اسلوب بیان اور علمی ثقاہت پر ان کے مخالفین نے بھی داد دی ہے ۔ الفضل ما شہدت بہ الاعداء۔ ڈاکٹر غلام جیلانی برق نے لکھا کہ میرے خلاف کتاب لکھی گئی  ہے جس سے میں نے بھی استفادہ کیا ہے ۔ لیکن یہ تصانیف ان کلامی و مناظرانہ مباحث سے ہٹ کر بھی بہت بڑا علمی ذخیرہ ہیں ۔ میں ان کا بیٹا  ہوں ، ان کا شاگرد بھی ہوں اور ان کی جگہ کام بھی کر رہا ہوں ، اس لیے میری یہ خواہش تھی کہ ان کے کام کو مناظرانہ ماحول سے ہٹ کر مثبت انداز میں بھی  چھانٹی کر کے سامنے لایا جائے تاکہ وہ اہل علم جو مناظرہ کے مزاج کے نہیں ہیں وہ بھی اس سے استفادہ کر سکیں ۔ میں اس حوالے سے اپنے دیگر ساتھیوں اور حافظ عمار خان کو بھی کہتا رہا ہوں کہ دادا جی کی کتابوں پر کام کرو ۔ الحمدللہ میں اس بات پر بہت خوش ہوں کہ اس نے مولانا محمد  سرفراز خان صفدر ؒ کی کتابوں سے اصولی مواد کا انتخاب نہ صرف خود کیا ہے بلکہ الشریعہ  اکادمی کے بھی چار پانچ ساتھیوں سے بھی یہ کام کروایا ہے ۔

الحمد للہ الشریعہ  اکادمی کے زیر اہتمام تقریبا چار پانچ ساتھی پی ایچ ڈی کر رہے ہیں یا کر چکے ہیں ۔ آٹھ دس ایم فل مکمل کر چکے ہیں اور کچھ کر رہے ہیں ۔ میں مزاحا یہ کہا کرتا ہوں کہ اس اکادمی کا نام الشریعہ اکادمی کی بجائے ایم فل اکادمی رکھ دینا چاہیے ۔ حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی ؒ اور مولانا محمد سرفراز خان صفدر ؒ کے کام کو اس انداز میں پیش کرنا جیسے میں نے وضاحت کی ، اس حوالے سے ایک کام اکادمی کے سابقہ ناظم مولانا وقار احمد نے ایم فل کی سطح پر کیا ۔ انہوں نے ایم فل انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی سے کیا اور ایم فل کا مقالہ عربی میں صوفی صاحب ؒ کی تفسیری خدمات پر لکھا ۔ ہماری اکادمی کے ساتھی حافظ محمد رشید نے " مولانا محمد  سرفراز خان صفدر ؒ کی تصانیف میں اصول فقہ کے مباحث " کے عنوان سے ایم فل کا مقالہ لکھا ۔ حضرت شیخ ؒ کی تصانیف کے علوم القرآن کے مباحث کے عنوان سے اکادمی کے سابقہ استاد مولانا عبد الغنی نے ایم فل کا مقالہ لکھا ہے اور اکادمی کے ہی ایک اور رفیق حافظ محمد عامر جاوید نے مولانا محمد  سرفراز خان صفدر ؒ کی تصانیف میں علم الکلام کے مباحث کے عنوان سے ایم فل کا مقالہ لکھا ۔خود عمار خان ناصر نے یہ کام کیا کہ مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ نے اپنی کتابوں میں اصول حدیث کیسے بیان کیے ہیں ، ان کو منتخب کیا ہے جو کتابی شکل میں چھپا بھی ہوا ہے ۔ اس کے علاوہ اس نے اپنے پی ایچ ڈی کے مقالے کے لیے بھی حدیث سے فقہاء احناف کے استدلال کے منہج کو عنوان بنایا ہے ، اس کی ایک کتاب اس سلسلے میں شائع ہو چکی ہے اور جو اس کا پی ایچ ڈی کا مقالہ ہے، وہ شائع ہو رہا ہے اور بلاشبہ اس موضوع پر ایک وقیع مقالہ ہے ۔یہ سارے احباب عمار کی ٹیم ہیں  اور وہی ان سب دوستوں سے یہ کام کروا رہا ہے  ۔ ہماری طرف سے مولانا محمد  سرفراز صاحب ؒ کے علمی کام میں یہ شرکت  میرے لیے خوشی کا دوسرا پہلو ہے ۔ مجھے اس کی بھی خوشی ہے کہ حافظ عمار خان نے پی ایچ ڈی کر لی ہے ، اس بات کی بھی خوشی ہے کہ وہ میری خواہش کے مطابق ہی کام کر رہا ہے اور اس کی بھی خوشی ہے کہ وہ اپنی ٹیم سے بھی کام لے رہا ہے ۔

تیسری خوشی الشریعہ اکادمی کے حوالے سے ہے ۔الشریعہ  اکادمی کے قیام کا  مقصد  بھی یہی تھا کہ علمی و فکری سطح پر کام کیا جائے ۔ یہ کام  عام طور پر عام آدمی کو محسوس نہیں ہوتا ۔ الحمد للہ میں اللہ پاک کا شکر ادا کرتا ہوں کہ روزانہ ملک کے کسی نہ کسی کونے سے ، کبھی کراچی ، کبھی ملتان اور کبھی کسی اور شہر سے کسی طالب یا طالبہ کا فون آتا ہے کہ ہم ایم فل یا پی ایچ ڈی کر رہے ہیں اور ہمیں اپنے موضوع کے حوالے سے راہنمائی درکار ہے ۔ راہنمائی کیجئے یا کوئی استاد مہیا کر دیں ۔ میں خود بتا سکتا ہوں تو خود بتا دیتا ہوں، ورنہ انہیں میں سے کسی نہ کسی کے حوالے کر دیتا ہوں ۔ ابھی پرسوں ایک پی ایچ ڈی کا طالب علم آیا تھا تو میں نے مولانا فضل الہادی کے حوالے کر دیا کہ ان سے بات کرو ، تمہارا مسئلہ یہ ہی حل کریں گے ۔ بعد میں فائنل مشورہ مجھ سے کر لینا ۔ گویا اکادمی کے حوالے سے بھی میرے ذہن میں جو خاکہ تھا ، میں مطمئن ہوں کہ اسی رخ پر کام چل پڑا ہے ۔ میرا شروع سے یقین ہے کہ اگر کام کرو گے تو اللہ تعالیٰ اسباب و وسائل بھی فراہم کر دیتا ہے ۔ جب اکادمی قائم کی تو ہم  سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ کیا ہو گا ۔ اب الحمد للہ یہاں بھی کام ہو رہا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ایک ایکڑ جگہ کوروٹانہ میں بھی دی ہے جہاں بلڈنگ بن کر کام شروع ہوچکا ہے ۔ الحمد للہ میں اب اس حوالے سے مطمئن ہوں کہ اگر میں چلا بھی گیا  اور ہر شخص نے اپنے وقت پر چلے ہی جانا ہے ، تو میں اکادمی کے کام پر بھی اور حافظ عمار خان ناصر کے کام پر بھی مطمئن جاوں گا ۔ انشاء اللہ العزیز۔ آپ حضرات سے درخواست ہے کہ میرے لیے ، اکادمی کے لیے، اکادمی کے متعلقین و معاونین کے لیے  اور حافظ عمار خان ناصر کے لیے دعا کریں ۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو ۔ جزاکم اللہ خیرا ۔

(ترتیب وتدوین: حافظ محمد رشید)


الشریعہ اکادمی