الشریعہ اکادمی کی ماہانہ فکری نشست

حافظ محمد رشید

الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کی ہفتہ وار یا ماہانہ فکری نشستوں میں استاد گرامی مولانا زاہد الراشدی دام ظلہ عصر کی نماز کے بعد سے مغرب تک ایک پون گھنٹہ کسی متعین موضوع پر بیان فرماتے ہیں۔ اس سال دو نشستیں طے کی گئیں ۔ ایک ہفتہ وار نقشبندی اصلاحی نشست جو کہ الشریعہ اکادمی کے نئے کیمپس جامعہ طیبہ اسلامیہ ، باقر کوٹ کوروٹانہ میں بروز سوموار عصر تا مغرب منعقد ہوتی ہے اور دوسری ماہانہ  نشست اکادمی کے مین کیمپس کنگنی والہ گوجرانوالہ میں ہر ماہ کی تیسری جمعرات کو منعقد کی جاتی ہے ۔ اس نشست کا موضوع " پاکستان کی دینی تحریکات کا تعارف " ہے۔ اس سے پہلے جن موضوعات  پر فکری نشستیں ہوتی رہیں، وہ حسب ذیل ہیں:

1۔ امام شاہ ولی اللہ اور ان کے خانوادے کا علمی تعارف ،  2۔ برصغیر پاک و ہند کی دینی تحریکات کا تعارف ، 3۔اکابر علماء دیوبند کا علمی و فکری تعارف ، 4۔ تحریک پاکستان اور اس میں علماء کا کردار، 5۔ اصطلاحات تصوف و سلاسل تصوف کا تعارف ، 6۔ میرے اساتذہ و مشائخ (اس میں استاد گرامی نے اپنے سب اساتذہ کا بھرپور تعارف کروایا)،  7۔ پاکستان میں نفاذ اسلام کی آئینی جدوجہد

ان نشستوں میں شہر کے علماء و طلبہ کی بڑی تعداد شریک ہوتی ہے ،  نشست کے آخر میں سوالات کے سیشن ہوتا ہے جس میں موضوع  سے متعلقہ سوالات کو زیر بحث لایا جاتا ہے ۔

اس سال استاد گرامی کے لائق فرزند مولانا حافظ محمد  عمار خان ناصر نے اپنی پی ایچ ڈی مکمل کی اور یونیورسٹی کی طرف سے ان کو ڈگری ایوارڈ کر دی گئی ۔ سترہ اکتوبر کی نشست اس حیثیت سے بھی خاص تھی کہ اس میں استاد گرامی نے مولانا عمار خان ناصر کو پی ایچ ڈی کی ڈگری ملنے کی خوشی میں شہر بھر سے اپنے متعلقین کو اس خوشی میں شریک کرنے کے لیے چائے کی دعوت دی تھی ۔ شہر بھر سے تقریبا سو کے قریب احباب نے اس دعوت میں شرکت کی جن کی چائے و دیگر لوازمات سے تواضع کی گئی ۔

الشریعہ اکادمی کے قیام کے مقاصد میں ایک مقصد علماء و طلبہ کو ایسا پلیٹ فارم فراہم کرنا بھی تھا جس سے ان کو علمی میدان میں راہنمائی مل سکے ۔ اس مقصد کے لیے اکادمی میں ایک  وقیع لائبریری کا قیام عمل میں لایا گیا وہیں علماء و طلبہ کو علمی راہنمائی کے لیے افراد بھی مہیا کیے گئے جن سے وہ اپنے موضوعات تحقیق پر گفتگو کر کے منہج تحقیق و مواد سے متعلقہ معلومات حاصل کر سکیں ۔ اس کے علاوہ مدارس کے قابل ، محنتی اور علمی میدان میں آگے بڑھنے کا جذبہ رکھنے والے دینی مدارس کے طلبہ کے لیے یہ سہولت فراہم کی گئی کہ وہ کسی  یونیورسٹی میں ایم فل و پی ایچ ڈی کے شعبہ میں داخلہ لیں تو ان کی رہائش اور دیگر  اخراجات کے بندوبست میں حتی المقدور اکادمی کی طرف سے تعاون کیا جائے گا۔ اگرچہ یہ سلسلہ ابھی کافی محدود سطح پر ہے لیکن اس کے باوجود کافی طلبہ اس سہولت سے فائدہ اٹھا چکے ہیں اور کچھ اٹھا رہے ہیں ۔ ملک بھر سے ایم فل و پی ایچ ڈی اسلامیات کے طلبہ استاد گرامی اور مولانا عمار خان ناصر سے اپنے تحقیقی موضوعات کے بارے مشاورت کرنے کے لیے رابطہ کرتے ہیں اور حتی الامکان، ان کی راہنمائی کی کوشش کی جاتی ہے ۔ الشریعہ اکادمی کے متعلقین میں سے بہت سے  لوگ ایم فل و پی ایچ ڈی کی ڈگریاں مکمل کر چکے ہیں اور کچھ کے مقالات جاری ہیں ۔  ان میں سے چیدہ چیدہ احباب کے نام و موضوعات تحقیق حسب ذیل ہیں ۔

1۔ ڈاکٹر حافظ محمد سرور خان ، پی ایچ ڈی ۔ موضوع: اوجز المسالک الی مؤطا امام مالک ، مولانا محمد زکریا کاندھلوی ؒ  (اسلوب و خصائص )

2۔ مولانا وقار احمد ، پی ایچ ڈی ، موضوع : مولانا عبید اللہ سندھی ؒ کے تفسیری افادات : تحقیقی مطالعہ  (مقالہ جمع ہو چکا ہے )

3۔ مولانا عبد الغنی ، ایم فل ، موضوع: مولانا محمد سرفراز خان صفدر ؒ کی تصانیف میں علوم القرآن کے مباحث

4۔ حافظ محمد رشید ، ایم فل ، موضوع: مولانا محمد سرفراز خان صفدر کی تصانیف میں اصول فقہ کے مباحث

5۔ حافظ عامر جاوید ، ایم فل ، موضوع : مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کی تصانیف میں علم الکلام کے مباحث

6۔ حافظ عثمان حیدر ، ایم فل ، موضوع : امام ابن تیمیہ ؒ کی عبادات سے متعلق منفرد فقہی آراء ۔ تحقیقی مطالعہ

7۔ حافظ محمد بلال، ایم فل ، موضوع : امیر عبد القادر الجزائری ؒ ۔ حیات و خدمات

8۔ محمد شہزاد حسین ، ایم فل موضوع : تکفیر کے اصول و ضوابط : امام غزالی ؒ کے افکار کی روشنی میں ۔

9۔ حافظ محمد طفیل کوہاٹی ، ایم فل ، موضوع : مذہبی شدت پسندی کے سد باب میں ممتاز علماء کرام کا کردار، خیبر پختونخواہ کے تناظر میں

10۔ مولانا محمد تہامی بشر، ایم فل ۔ موضوع : برصغیر میں مذہبی سیاسی جدوجہد: فکری اساسات کا تجزیاتی مطالعہ 

11۔ حافظ محمد رشید ، پی ایچ ڈی ، موضوع : فقہ الحدیث میں مولانا انور شاہ کاشمیری ؒ کا مقام و منہج۔ (زیر ترتیب)

12۔ مولانا وقاص احمد ، ایم فل ۔ موضوع :    اسلامی تاریخ  سے متعلق مولانا سندھی کے افکار (زیر ترتیب)

الشریعہ اکادمی

(نومبر ۲۰۱۹ء)

Flag Counter