پاکستانی سیاست، ہیئت مقتدرہ اور تحریک انصاف

محمد عمار خان ناصر

(گزشتہ دنوں میں ملکی سیاسی صورت حال کے حوالے سے جو مختلف شذرات سوشل میڈیا  کے لیے لکھے گئے، وہ ایک مناسب ترتیب سے یہاں پیش کیے جا رہے ہیں)

سیاست، مثالی تصور کے لحاظ سے، قومی زندگی کا رخ متعین کرنے اور اجتماعی قومی مفاد کو بڑھانے کے عمل میں کردار ادا کرنے کا نام ہے۔ تاہم اس کردار کی ادائیگی سے دلچسپی رکھنے والوں سے یہ توقع کرنا کہ وہ بے غرضی اور للہیت کا مجسم نمونہ ہوں، قطعی طور پر غیر حقیقت پسندانہ سوچ ہے۔ انسانی نفسیات اور معاشرے کی ساخت کے لحاظ سے سیاسی کردار ادا کرنے کے داعیے کو طاقت اور طاقت سے وابستہ مفادات سے الگ کرنا یا الگ رکھتے ہوئے سمجھنا ناممکن ہے۔ یوں کسی بھی فرد یا جماعت یا طبقے کے متعلق یہ فرض کرنا کہ وہ صرف قومی مفاد کے جذبے سے متحرک ہے، احمقانہ بات ہوگی۔ پس سیاسی تجزیے اور سیاسی مواقف کی تائید وحمایت کے لیے یہ بنیاد سرے سے بے معنی ہے۔ مختلف طبقے اور جماعتیں اپنے موقف کی پیش کاری اس پہلو سے کر سکتی ہیں اور کرتی رہتی ہیں، لیکن سیاسی عمل کے معروضی تجزیے میں اس کو سنجیدگی سے لینے والے اہل قلم، جن کا ہمارے ہاں سیلاب آیا ہوا ہے، میری نظر میں سیاسی تجزیے کی سرے سے اہلیت ہی نہیں رکھتے۔ لازما سیاسی تجزیے یا سیاسی تائید ومخالفت کی بنیاد یہی ہو سکتی ہے کہ کسی خاص صورت حال میں کس موقف کی تائید یا حمایت نتائج کے لحاظ سے (نہ کہ سیاسی کرداروں کے حسن عمل یا عزائم وغیرہ کے لحاظ سے) قومی زندگی کی بہتر تنظیم پیدا کر سکے گی۔ ظاہر ہے، اس تجزیے میں اختلاف رائے نہ صرف ممکن بلکہ ضروری ہے، اور اسی سے سیاسی عمل جمہوری اصولوں پر آگے بڑھتا ہے۔

موجودہ سیاسی منظرنامے میں بنیادی طور پر اقتدار کی کشمکش کے فریق تین طبقوں میں تقسیم ہیں اور شطرنج کی بساط پر تینوں کی پوزیشن کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔

کشمکش کا سب سے طاقتور فریق عسکری ادارہ ہے اور بنیادی طور پر سیاسی کھیل کے اصول وضوابط اور شرائط وقیود وہی طے کرتا ہے۔ ملکی تاریخ کے ابتدائی زمانے سے ہی، معلوم اسباب وواقعات کی وجہ سے، اس ادارے کو قومی سیاسی عمل پر کنٹرول حاصل کرنے اور اسے اپنی ترجیحات کے مطابق آگے بڑھانے کے مواقع حاصل رہے ہیں اور قومی سیاست میں اس کا مسلسل کردار اس سوچ کا غماز ہے کہ قوم سازی کی اہلیت دراصل اسی کے پاس ہے۔ آئین سازی، انتخابات، جمہوری عمل اور داخلی وخارجی سطح پر پالیسی سازی اگر عسکری ادرے کے طے کردہ فریم ورک کے اندر اور اس کی self-understanding کو طوعا یا کرہا مانتے ہوئے ہو تو قابل قبول ہے، لیکن قوم سازی کا دعوی رکھنے والا کوئی دوسرا مرکز طاقت ناقابل برداشت ہے۔ یہ طرز فکر طاقت کی نفسیات اور مزاج کے عین مطابق ہے اور سیاسی طاقت کے اصولوں کے لحاظ سے اس پر کوئی خاص اعتراض وغیرہ نہیں بنتا۔ یہ طاقت کا کھیل ہے اور اس میں طاقت کے مقابلے میں جوابی طاقت ہی کسی بھی موقف کی عملی قدروقیمت متعین کرتی ہے۔

سیاسی عمل اور قوم سازی پر اپنے اختیار کو مستحکم رکھنے کے لیے عسکری ادارے کی حکمت عملی بنیادی طور پر دو نکاتی ہی رہی ہے۔ پہلا یہ کہ جب تک جمہوری سیاسی قوتوں کی باہمی تقسیم اور اختلافات کی manipulation ممکن ہو، اسی کو بروئے کار لایا جائے۔ دوسرا یہ کہ جہاں جمہوری سیاسی عمل کے نتیجے میں سیاسی قوتوں میں خود اختیاری کا شعور ایسی صورت اختیار کرنے لگے جو عسکری ادارے کے لیے قابل قبول نہ ہو تو معمول کے سیاسی عمل کو معطل کر کے فوجی اقتدار کے تحت کھیل کے ضوابط اور سیاسی مہروں کی پوزیشن وغیرہ ازسرنو متعین کر دی جائے۔

اس صورت حال سے ایک بنیادی نکتہ تو یہ سامنے آتا ہے کہ ہمارے ہاں سیاسی عمل کے لیے ہموار زمین موجود نہیں۔ مثالی مفہوم میں ہموار زمین دنیا میں کہیں بھی نہیں پائی جاتی، اس لیے ظاہر ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ ہمارے ہاں ناہمواری نسبتا بہت زیادہ ہے۔ چنانچہ جو جماعتیں اقتدار میں حصہ چاہتی ہیں، ان کے لیے ہیئت مقتدرہ کے ساتھ ایک مثبت مساوات قائم کرنا ناگزیر ہے۔ پچھلی تین دہائیوں میں، حصہ داری کا ہر معاملہ جو کسی اڑچھن کے بغیر  آگے بڑھا ہے، اسی اصول پر ممکن ہوا ہے اور جہاں یہ مساوات قائم نہیں ہو سکی، وہاں سیاسی عمل کو انقطاع یا اکھاڑ پچھاڑ کا شکار ہونا پڑا ہے۔ جنرل مشرف کے دور کی حکومتیں (بشمول ایم ایم اے کی حکومت کے) پہلی صورت کی، جبکہ نوے کی دہائی میں نواز شریف اور بے نظیر کی اور اسی طرح ۲٠۱۳ء میں مسلم لیگ نون کی حکومتیں دوسری صورت کی مثالیں ہیں۔ لمبی چوڑی تفصیل اور تجزیے کے بغیر، صرف اس انجام کو دیکھ لینا اس حقیقت کے اثبات کے لیے کافی ہے جس سے، ملک کی سیاسی تاریخ میں قومی سطح پر ابھرنے والے تین بڑے سیاسی لیڈروں (بھٹو، بے نظیر اور نواز شریف) کو دوچار ہونا پڑا ہے۔

ہیئت مقتدرہ کو سیاسی طاقت کے میدان جو برتری حاصل ہے، اس کی وجہ سے اس کے پاس آپشنز بھی زیادہ ہیں۔ وہ جہاں کسی حریف سیاسی طاقت کو، حسب موقع، manhandle کر سکتی ہے، وہاں سیاسی جدلیات سے ازخود ابھرنے والے سیاسی کرداروں کے ساتھ معاملہ بندی کے علاوہ نئے سیاسی کردار تخلیق بھی کر سکتی ہے۔ تینوں صورتوں میں نتیجہ بہرحال ایک ہی رہتا ہے۔ پیپلز پارٹی کو، بھٹو کی پھانسی کے بعد مزاحمت کے ایک لمبے مرحلے سے گزر کر آخر جناب زرداری کی وساطت سے معاملہ بندی تک ہی پہنچنا پڑا۔ نواز شریف نے سیاسی کیریئر کا آغاز ہیئت مقتدرہ کی آشیرواد کے ساتھ کیا، لیکن بعد کے مراحل میں خود اختیاری کے شعور کی وجہ سے اسی انجام کے قریب قریب آ پہنچے ہیں جو اس سے پہلے بھٹو کے لیے طے کیا گیا تھا۔ تحریک انصاف اگر اقتدار میں حصہ دار بنی ہے تو طاہر ہے، اس کے لیے کوئی نیا template نہیں بنایا گیا، اس کے کردار کو بھی اسی چلے آنے والے پیٹرن کی روشنی میں سمجھنا ضروری ہے۔


کاروباری برادری کا، شکایات کے ازالے کے لیے آرمی چیف سے رجوع کرنا میری نظر میں سیاسی شعور کی بہتری اور حقیقت پسندی کی علامت ہے، چاہے جمہوریت پسندوں کے احساسات اس سے کتنے ہی مجروح ہوئے ہوں۔ موجودہ سیٹ اپ سرتاسر منافقت پر مبنی ہے، جس میں سب جانتے ہیں کہ اختیارات کا مرکز کہاں ہے اور پھر بھی توقعات اور مطالبات کا رخ سیاسی حکومتوں کی طرف رکھ کر جمہوریت کی لاج رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سیاسی طاقت کی یہ بالکل سادہ اور عام فہم اخلاقیات ہے کہ جس کے پاس فیصلے کرنے کا اختیار ہو، ذمہ داری اور جواب دہی بھی اسی کی ہونی چاہیے۔ ہم نے قومی طور پر ایک جمہوری خود فریبی اختیار کرتے ہوئے کم وبیش اس طرح کی تقسیم کار کی ہوئی ہے جیسی ایک معروف لطیفے میں دو بھائیوں نے کی تھی کہ آو مل کر گائے خریدتے ہیں اور تقسیم کار یوں ہوگی کہ گائے کا اگلا حصہ ایک بھائی کا ہوگا جو چارہ وغیرہ ڈالنے کا ذمہ دار ہوگا، اور پچھلا حصہ دوسرے بھائی کا جو دودھ دوہ لیا کرے گا۔

موجودہ سیٹ اپ میں گائے کا پچھلا حصہ ہیئت مقتدرہ کا ہے، اور ذمہ داری، جواب دہی، وسائل کی فراہمی، معیشت کا بندوبست، عوامی لعن طعن کا سامنا کرنا وغیرہ سیاسی حکومتوں کے سپرد ہے۔ اس قومی منافقت کو تسلیم کیے بغیر ہم مزید ستر سال بھی کولہو کے بیل کی طرح اسی طرح دائرے میں چکر لگاتے رہیں گے۔ سیاست دانوں میں تھوڑی سی اخلاقی جرات اور عقل مندی ہو تو انھیں ایسا سیاسی سیٹ اپ تجویز کرنا چاہیے جس میں ہیئت مقتدرہ قومی امور کے انتظام وانصرام میں جواب دہی میں بھی حصہ دار بنے۔ دودھ تو وہ دوہ رہی ہے، کچھ چارے کا بندوبست کرنے کی ذمہ داری بھی اس پر ہو۔ یہ یک طرفہ محبت آخر کب تک چلے گی کہ

قصور ہو تو ہمارے حساب میں لکھ جائے
محبتوں میں جو احسان ہو ، تمھارا ہو

ہیئت مقتدرہ کو قومی فیصلہ سازی اور نتیجتا جواب دہی میں باقاعدہ شریک کرنے کی بات الزامی نوعیت کی نہیں، ایک سنجیدہ بات ہے۔ قومی فیصلہ سازی کے چار بنیادی دائرے ایسے ہیں جن میں حتمی اور فیصلہ کن اختیار ہیئت مقتدرہ کو حاصل ہے اور وہ جو پالیسیاں طے کرتی ہے، ان کی پابندی سیاسی حکومتوں پر واجب ٹھہرتی ہے:

۱۔ داخلی قومی سلامتی سے متعلق مسائل۔ اس دائرے میں مثال کے طور پر دہشت گردی، وفاق گریز جماعتوں سے معاملہ اور گم شدہ افراد جیسے مسائل نمایاں ہیں۔

۲۔ خارجہ پالیسی کی ترجیحات

۳۔ سیاسی اقتدار میں حصہ داری کا مسئلہ

۴۔ اور قومی معاشی وسائل کی تنظیم

ان دائروں میں ہیئت مقتدرہ کو جواب دہی میں شریک کرنے کا مطلب یہ ہے کہ فیصلہ سازی کے علانیہ میکنزم میں یہ بات واضح اور معلوم ہونی چاہیے کہ فیصلے کی اتھارٹی کون ہے، اور اس کے لازمی نتیجے کے طور پر پارلیمنٹ میں اور رائے عامہ کے سامنے اپنی طے کردہ پالیسیوں اور ترجیحات کی وضاحت، تائیدی استدلال پیش کرنے اور تنقید کا سامنا کرنے وغیرہ کی ذمہ داری بھی ہیئت مقتدرہ کے نمائندوں پر ہی ہونی چاہیے۔ جو فیصلے عوامی منتخب نمائندے کر ہی نہیں رہے، ان کی وضاحت، توجیہ اور دفاع وغیرہ کی ذمہ داری ان بے چاروں پر ڈال دینا سیاسی اخلاقیات کے قطعی منافی اور سرتاسر منافقت پر مبنی بندوبست ہے جو ہم نے قومی طور پر قبول کیا ہوا ہے۔


روف کلاسرا صاحب نے اپنے  کالم میں حکومت کے خلاف موجودہ سیاسی فضا پیدا ہونے کے اسباب کے طور پر ناقص حکومتی کارکردگی اور قبل از اقتدار وبعد از اقتدار عمران خان کے رویوں کے فرق کا ذکر کیا ہے۔ ہماری رائے میں  کارکردگی کے سوال کے حوالے سے فی الحال کوئی حتمی فیصلہ صادر کرنا منصفانہ نہیں ہوگا اور یہ نکتہ کم سے کم اس وقت اپوزیشن کے جارحانہ رویے کا اصل محرک بھی نہیں ہے۔ البتہ بعد از اقتدار رویوں کا نکتہ بہت اہم ہے اور میں اس تعلق سے عمران خان کو دو سنگین سیاسی ’’جرائم’’ کا مرتکب تصور کرتا ہوں جس پر ان کا بے رحم محاسبہ ہونا چاہیے۔

ایک یہ کہ انھوں نے حصول اقتدار کی منہ زور خواہش میں عوام اور خاص طور پر نوجوانوں کے جذبات کا استحصال کرتے ہوئے ایک ایسا سیاسی بیانیہ متعارف کروایا جس کی بنیاد سرتاسر نفرت پر اور مخالف سیاسی جماعتوں کو demonize کرنے پر ہے۔ خوش فہمی میں یا دانستہ انھوں نے امیدوں کا ایسا تاج محل کھڑا کیا جس کی تعمیر خود ان کے لیے بھی ممکن نہیں، اس لیے کہ مشکلات بہت پیچیدہ اور گہری ہیں جن کا کوئی سیدھا، صاف اور فوری حل دستیاب نہیں ہے۔ ان کی ساری اچھل کود کا نتیجہ تبدیلی کی توقع رکھنے والوں کی مایوسی میں اضافے اور قومی سطح پر سیاسی منافرت کو آسمان تک پہنچا دینے کے علاوہ ابھی تک کچھ نہیں ہے۔

عمران خان کا دوسرا جرم یہ ہے کہ اقتدار کی کشاکش میں حصہ دار بننے کے لیے انھوں نے اسٹیبلشمنٹ اور جمہوری قوتوں کے مابین سیاسی طاقت کے توازن میں دانستہ اور پورے شعور کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ کے لے پالک کا کردار قبول کیا ہے اور اقتدار میں آنے کے بعد خاص طور پر اس ہدف کی طرف پیش رفت کی کوشش کی ہے کہ سیاسی طاقت پر اسٹیبلشمنٹ کی اجارہ داری کو مستحکم سے مستحکم تر کیا جائے، حریف سیاسی جماعتوں کے لیے سیاسی عمل کے امکانات محدود سے محدود کیے جائیں، اور عدلیہ اور میڈیا کی آزادی کو سلب کرنے میں فعال یا کم سے کم خاموش شریک جرم کا کردار اختیار کیا جائے۔

حکومت اور اپوزیشن کے مابین مذاکرات پر ابتدائی اتفاق پیدا ہونا خوش آئند ہے اور میرے خیال میں یہ خود تحریک انصاف کے لیے ایک اچھا موقع ہے کہ وہ سیاست اور اقتدار کے حوالے سے پختگی کی طرف بڑھے۔ اس سفر میں مذکورہ دونوں نکات کے حوالے سے خود تنقیدی کا رویہ اپنانا خود عمران خان کے لیے مفید ہوگا، اگر وہ پاکستانی سیاست میں کوئی دیرپا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔


برادرم خاکوانی صاحب نے فرمایا ہے کہ ’’یہ پوزیشن لینے کا وقت ہے’’۔ ان کا کہنا ہے کہ منتخب حکومت کو پورا وقت ملنا چاہیے تاکہ عوام ان کا احتساب کر سکیں، ورنہ کوئی بھی حکومت ایک دو سال سے زیادہ کام نہیں کر سکے گی۔

اس پر ان سے عرض کیا ہے کہ کاش معروضی سیاسی صورت حال ایسی ہوتی کہ اس جمہوری اصول کی مطلق اور غیر مشروط طور پر تائید کی جا سکتی۔ بدقسمتی سے یہاں بنیادی سوال منتخب حکومت کے جمہوری حق سے زیادہ، سیاسی حرکیات کے بڑے فریم ورک سے متعلق ہے۔ تحریک انصاف کی، اقتدار میں شمولیت معمول کے حالات میں نہیں ہوئی، جیسا کہ خود خاکوانی صاحب نے بھی واضح کیا ہے۔ وہ ایک نیا فریق ہے جو اقتدار کی کشمکش میں شریک ہوا ہے اور اپنے بل بوتے پر نہیں ہوا، سب سے طاقتور فریق کی مدد سے ہوا ہے اور سیاسی طاقت کے پلڑے کو اس طرح ہیئت مقتدرہ کے حق میں جھکا کر ہوا ہے کہ خود تحریک انصاف کے لیے وہ جتنا بھی ضروری یا مفید ہو، مجموعی حیثیت سے اس عدم توازن کو ملکی سیاست کے لیے مثبت اور تعمیری نہیں کہا جا سکتا۔ اس لیے اپنی اپنی رائے اور ضمیر کے مطابق پوزیشن ضرور لینی چاہیے، لیکن یہ پوزیشن لازم نہیں کہ ایک ہی ہو اور حکومت کے حق میں ہو۔

مجھے بطور ایک سیاسی حکومت کے پی ٹی آئی سے ہمدردی ہے اور معمول کے سیاسی اختلاف کی صورت حال ہوتی تو میں بھی اسی کی تائید کرتا کہ اسے پانچ سال پورے کرنے اور اپنی کارکردگی دکھانے کا موقع ملنا چاہیے۔ اب بھی میری خواہش یہی ہے، لیکن افسوس، اسے رجحان متعین کرنے کی واحد بنیاد قرار دینا بہت مشکل ہے۔ اللہ کرے کہ تحریک انصاف سیاسی پختگی کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے سیاسی طریقے سے چیلنج سے نبرد آزما ہونے میں کامیاب ہو سکے۔ لیکن اگر اسے صرف اسٹیبلشمنٹ کے مہرے کے طور پر کردار ادا کرنا اور مخالف سیاسی طاقتوں کو میدان سے کلیتا خارج کر کے اسٹیبلشمنٹ کو مطلق العنان بنانا ہے تو معذرت کے ساتھ، اس کردار کی تائید یا حمایت نہیں کی جا سکتی۔


اپوزیشن (جو تدریجا متحدہ اپوزیشن بنتی جا رہی ہے) کے حقیقی عزائم اور اہداف کیا ہیں، مجھے کچھ اندازہ نہیں۔ ہو سکتا ہے، حکومت کو گرانا ہی طے ہوا ہو اور ممکن ہے، اس سے کم تر کوئی ہدف ہو۔ کافی حد تک اس کا تعلق اس بات سے بھی ہے کہ خود حکومت کیا رویہ اپناتی ہے۔ ذمہ دار حکومتی عہدیداروں کی طرف سے مذاکرات کی پیش کش کے  فورا بعد وزیر اعظم نے ایک  غیر ذمہ دارانہ بیان دینا ضروری سمجھا۔ بہرحال، اگر اپوزیشن اور حکومت میں اس پر موافقت کی کوئی صورت نکل سکتی ہو کہ حکومت کو کام کرنے دیا جائے تو میری ناقص رائے میں سیاسی مک مکا کے علاوہ بھی (جو بظاہر موجودہ تناظر میں اصل مقصد نہیں لگتا) ایک سنجیدہ سیاسی ایجنڈا ایسا ہو سکتا ہے جو ٹیبل پر رکھا جا سکے۔ میری رائے میں اپوزیشن کو کم سے کم ان تین نکات کے حوالے سے ایک نئے میکنزم پر اصرار اور پھر اس کی نگرانی کرنی چاہیے۔

۱۔ میڈیا پر عائد کی گئی کھلی اور چھپی قدغنوں کا ازالہ

۲۔ حکومت کے سیاسی مخالفین پر قائم کیے گئے مقدمات کے غیر جانب دارانہ جائزے کے لیے کسی عدالتی کمیشن کا قیام اور اس کمیشن کی رپورٹ کے مطابق مقدمات کو جاری رکھنے یا ختم کرنے کا معاہدہ (کیونکہ نیب وغیرہ اپنا اعتماد کھو چکے ہیں)

۳۔ اہم قومی امور (مثلا پی ٹی ایم کے ساتھ معاملہ اور مدارس کی رجسٹریشن وغیرہ) میں فیصلہ سازی کی سیاسی حکومت کی طرف منتقلی

اپوزیشن کی طرف سے استعفے کا مطالبہ بارگیننگ پوزیشن کو مضبوط بنانے کی حد تک ٹھیک ہے، لیکن اس پر ڈیڈ لاک پیدا نہیں ہونا چاہیے۔ تاہم مکرر عرض ہے کہ اس میں زیادہ ذمہ دارانہ رویہ اور لب ولہجہ اختیار کرنے کی ضرورت جتنی حکومت کو ہے، اتنی اپوزیشن کو نہیں ہے۔

حالات و واقعات

Flag Counter