مدرسہ ڈسکورسز : سفر قطر کے احوال و تاثرات

مولانا محمد رفیق شنواری

امریکہ کی ایک معروف کیتھولک یونیورسٹی، یونیورسٹی آف نوٹرے ڈیم میں اسلامیات کے پروفیسر ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ صاحب نے پاک و ہند کے دینی مدارس کے فضلاء کے لیے " مدرسہ ڈسکورسز" کے عنوان سے ایک تین سالہ کورس متعارف کروایا ہے جو پچھلے سال شروع ہوا تھا اور آئندہ سال اختتام پذیر ہوگا۔ پروفیسر ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ کی پیدائش ساؤتھ افریقہ میں ہوئی، دارلعلوم دیوبند اور ندوۃ العلماء لکھنو میں دینی تعلیم کی تکمیل کی۔ اس کے بعد لندن میں صحافت سے وابستہ رہے اور اس کے بعد امریکہ منتقل ہوگئے۔ امام غزالی کے فلسفہ لسانیات پر پی ایچ ڈی کی۔ ان کا پی ایچ ڈی کا کام تو اب تک غیر مطبو ع ہے، لیکن امام غزالی پر ان کی ایک اور کتاب Ghazali and the Poetics of Imagination زیور طبع سے آراستہ ہے جس نے ۲۰۰۵ء میں American Academy of Religion سے مذہبیات کی تاریخ میں بہترین کتاب کا ٹائٹل بھی حاصل کیا ہے۔ پروفیسر صاحب بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے ذیلی ادارے اقبال انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ریسرچ اینڈ ڈائیلاگ سے شائع ہونے والی کتاب ’’دینی مدارس: عصری معنویت اور جدید تقاضے‘‘ کے مصنف بھی ہیں جو دراصل ان کی انگریزی تصنیف ?What is a Madrasa کا ترجمہ ہے۔ ترجمہ ہندوستانی فاضل محقق مولانا ڈاکٹر وارث مظہری نے کیا ہے۔ ابراہیم موسیٰ صاحب آج کل یونیورسٹی آف نوٹرے ڈیم (امریکہ)میں بطور پروفیسر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ 

پروفیسر ابراہیم موسیٰ فلسفہ لسانیات کے متخصص ہیں اور اس باب میں ابتدائی دینی تعلیم مدرسے سے لینے کی بدولت اسلامی علوم اور تراث کے ساتھ ان کا گہراتعلق واضح طور پر ان کے کام میں محسوس ہوتا ہے۔ ان کے سامنے یہ حقیقت واضح ہے کہ اسلامی علوم و فنون کے کسی بھی پہلو پر کام تراث کے ساتھ مضبوط تعلق اور کامل فہم کے بغیر بہر صورت ادھورا ہوگا۔ اسی طرح پروفیسر صاحب یہ بھی جانتے ہیں کہ مدارس کا نظام تعلیم کئی اعتبار سے قابل نقد و اصلاح ہونے کے باوجود طلبہ کا تراث کے ساتھ گہرے فہم اور مضبوط گرفت کا رشتہ استوار کر دیتا ہے۔ انہی باتوں کو سامنے رکھ کر انہوں نے یہ ضرورت محسوس کی کہ مدارس میں پروان چڑھنے والی تراث فہمی کی ان صلاحیتوں کے لیے مغرب کے جدید اسلوبِ تحقیق اور نقد و نظر کے نئے اور متعارف منہاج کے مطابق نشوونما کا موقع پیدا کیا جائے جو ممکن ہے مستقبل میں مغرب اور اسلام کے درمیان علمی وتہذیبی مکالمے کی بنیاد ثابت ہو۔ 

اس فکر کو عملی شکل دینے کے لیے " مدرسہ ڈسکورسز" کے عنوان سے یہ پروگرام متعارف کرایا گیا جس کومالی طور پر امریکہ کا ایک مشہور ادارہ جان ٹمپلٹن فاؤنڈیشن سپورٹ کر رہا ہے۔ اس منصوبے کو عملی شکل دینے میں پروفیسر صاحب کو نوٹرے ڈیم یونیورسٹی کے رفقائے کار، خاص طور پر ڈاکٹر ماہان مرزا کے علاوہ پاکستان سے مولانا عمار خان ناصر اور ہندوستان سے مولانا ڈاکٹر وارث مظہری کا تعاون بھی حاصل ہے۔ اس کورس کا دورانیہ تین سال رکھا گیا ہے جس کو چھ سمسٹرز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ہفتہ وار تدریسی سرگرمیاں آن لائن رکھی گئی ہیں اور استفادہ کو آسان بنانے کے لیے تدریس کے اوقات شام کے بعد رکھے گئے ہیں۔ نصاب کے طور پر علم کلام ، عقیدہ ، فلسفہ اور فلسفہ تاریخ کے اہم مباحث انتخاب کیا گیا ہے اور ان کی لیے کسی مخصوص کتاب کے بجائے مختلف مصنفین کی تحریریں منتخب کی گئی ہیں۔ 

اس کورس کا باقاعدہ آغاز پچھلے سال ہوا تھا۔ میں چونکہ اس سال شریک ہو سکا ہوں، اس لیے اپنے پہلے سمسٹر کے حوالے سے کچھ گذارشات پیش کروں گا۔ 

سمسٹر کے آغاز میں ہمارے سامنے عمومی سولات رکھے گئے۔ بعد میں ان سوالات کا تفصیلی تعارف، طلبہ کی طرف سے اشکالات و جوابات کا سلسلہ اور بحث کے سمٹنے تک جزوی سوالات بھی شامل ہوتے گئے۔ یوں پورے سمسٹر میں زیر بحث آنے والے تقریباً تمام موضوعات کا ایک جامع خاکہ شرکاء کے سامنے آگیا۔ ہر پہلو سے متعلق شہرہ آفاق اور نہایت معتبر اصحابِ قلم کی کتابو ں کے منتخبات کو تدریسی مواد کے طور پر رکھاگیا۔ تدریس کی ذمہ داری پاکستان سے مولانا عمار خان ناصر، ہندوستان سے مولانا ڈاکٹر وارث مظہری صاحب اور یونیورسٹی آف نوٹرے ڈیم سے ڈاکٹر ماہان مرزا صاحب نے اٹھائی، جبکہ وقتاً فوقتاً ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ بھی شریک گفتگو ہوتے رہے۔ 

کلاسز کا انتظام اس طور پر کیا گیا کہ ایک ہفتہ قبل ہمیں اگلی کلاس میں پڑھایا جانے والا مواد بھیج دیا جاتا اور کلاس کے مقررہ دن سے ایک یا دو دن پہلے پاکستانی طلبہ کے ساتھ مولانا عمار خان ناصر جبکہ ہندوستانی طلبہ کے ساتھ مولانا ڈاکٹر وارث مظہری ایک گھنٹے کی تیاری کی کلاس منعقد کرتے۔ اس میں ہر شریک اس مواد کو پڑھ کر کلاس میں شریک ہوتااور متن کی کسی مشکل کو سمجھنے کے لیے اپنا سوال استاد کے سامنے رکھ دیتا۔ کورس کی مرکزی کلاس شام سات بجے سے، درمیان میں عشاء کے لیے بیس پچیس منٹ کے وقفے کے ساتھ، رات دس بجے تک چلتی۔ یہ سب سے اہم اور بنیادی کلاس ہوتی جس میں پاک و ہند کے تمام شرکاء شریک ہوتے۔ اس کو دو یا تین حصوں میں تقسیم کر کے ہر استاد اپنا حصہ پڑھا دیتا اورآخر میں شرکا کے سولات کا جواب دیتا۔ مرکزی کلاس کے علاوہ طلبہ کی استعداد میں اضافہ کے لیے چند ذیلی سرگرمیاں بھی اس کورس کا حصہ ہیں۔ مثلاً شرکاء کو تین یا چار افراد پر مشتمل گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر گروپ، ہفتہ میں ایک دفعہ یونیورسٹی آف نوٹرے ڈیم کے کسی طالب علم کے ساتھ مخصوص موضوع پر انگریزی میں مکالمہ کرتا ہے۔ موضوع کا انتخاب اور متعلقہ مواد بذریعہ ای میل پہلے سے ارسال کر دیا جاتا ہے۔ ایک ہفتہ وار کلاس انگریزی زبان کے حوالے سے ہوتی ہے، جبکہ ایک کلاس تاریخ فلسفہ پر مبنی مشہور ناول Sophie's World کو گروپ کی شکل میں مشترکہ طور پر پڑھنے کے لیے منعقد کی جاتی ہے۔ 

پروگرام کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ ونٹر اور سمر میں تمام شرکا کو ایک ہی جگہ جمع کیا جائے تاکہ براہِ راست مل بیٹھنے اور آپس میں بالمشافہہ گفتگوا ور ایک دوسرے کے ساتھ خیالات و آراء کے تبادلہ کا موقع ملے۔ چنانچہ دسمبر ۲۰۱۷ء کے آخری ہفتے میں کورس کے سالِ اول اور سالِ دوم میں شریک پاک وہند کے تمام طلبہ کو قطر کی حمد بن خلیفہ یونیورسٹی کے کالج آف اسلامک اسٹڈیز کی دعوت پر قطر لے جانے کا پروگرام بنایا گیا۔ 

قطر میں ورکشاپ کے احوال

قطر جانے سے پہلے ونٹر انٹینسو کے لیے تدریسی مواد ہمیں بھیجا گیا اور وہاں کی مصروفیات کی تفصیلات بھی فراہم کی گئی۔ کورس کے پاکستانی شرکاء لاہور ایئر پورٹ سے بذریعہ سری لنکن ائیر لائن ۲۴ دسمبر ۲۰۱۷ء بروز اتوار روانہ ہوئے۔ کولمبو ایئر پورٹ پر دو گھنٹے کے وقفے کے بعد دوحہ کی فلائیٹ لی اور رات بارہ بجے ہم دوحہ کے انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اترے۔ دوحہ کا یہ خوب صورت ایئر پورٹ دنیا کا آٹھواں بڑا ائیر پورٹ مانا جاتا ہے۔ائیر پورٹ سے باہر ہوٹل کی بسیں انتظار میں کھڑی تھی جو ہمیں سیدھا ہوٹل لے گئیں۔ قطر میں ہم دوحہ کی حمد بن خلیفہ یونیورسٹی کے کالج آف اسلامک اسٹڈیز کے مہمان رہے اور اسی کے آڈیٹوریم میں کلاسز کا انعقاد ہوتارہا۔ حمد بن خلیفہ یونیورسٹی دوحہ کے ایجوکیشن سٹی میں واقع ہے جس کا قیام ۲۰۱۰ء میں عمل میں لایا گیا۔ ہمارے قیام کا انتظام ایجوکیشن سٹی میں ہی ایک فور اسٹار ہوٹل میں کیا گیا جہاں سے کالج تک آنے جانے کے لیے گاڑیوں کا انتظام کیا گیا تھا۔ ایجوکیشن سٹی کو ’’نیشنل فاؤنڈیشن فار ایجوکیشن، سائنس اینڈ کمیونٹی ڈیویلپمنٹ‘‘ نامی تنظیم نے سنٹر فار ہائر ایجوکیشن کے طور پر تعمیر کیا ہے اور اب تک یہاں چھ امریکی جامعات کے کیمپسز کے علاوہ قطر نیشنل لائبریری (جس کا ذکر آگے آرہا ہے) سمیت دیگر کئی تعلیمی ادارے قائم ہو چکے ہیں۔ 

قطر میں ہمارا قیام ایک ہفتہ رہا اور اس دوران کورس کے اساتذہ اور دیگر اہل علم و دانش کو سننے اوران سے براہ راست استفادہ کے مواقع میسر آئے۔ ۲۵ دسمبر بروز پیر سے باقاعدہ ورکشاپ کا آغاز ہوا۔ ڈاکٹر ماہان مرزا صاحب نے اس کورس کے اہداف اور اس پورے ہفتے کی سرگرمیوں اور طریقہ کار سے متعلق مفصل بریفنگ دی اور اس کے بعد ’’معاصر فکری تحدیات‘‘ کے موضوع پر محاضرہ پیش کیا جس میں مذہب اور سائنس کے درمیان تعلق کو مرکزی حیثیت حاصل رہی۔ مستقبل کے کیا امکانات ہیں؟ مفکرین اس پہلو کو اپنے چشم تخیل سے کیسے دیکھ رہے ہیں؟ ان امور بھی پر ڈاکٹر صاحب نے مختلف اہل فکر و دانش کی تحریروں کی روشنی میں تفصیلی گفتگو کی جس کی تکمیل سوالات و جوابات کے سیشن سے ہوئی۔ لنچ کے بعد ڈاکٹر ماہان مرزا کے لیکچر میں زیر بحث آنے والے موضوعات پر طلبہ کے درمیان گروپس کی شکل میں گفتگو ہوتی رہی۔ مغرب کے بعد اگلے دن کے مواد سے متعلق تیاری کی کلاس ہوئی۔ رات کو حمد بن خلیفہ یونیورسٹی کی جانب سے عشائیے کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں کالج آف اسلامک اسٹڈیز کے ڈین پروفیسر عماد شاہین اور چند پروفیسر حضرات نے اپنے مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور پروگرام کے آئندہ مراحل پر بھی اپنی میزبانی کی پیش کش کی۔ 

اگلا دن یعنی ۲۶ دسمبر پروفیسر ابراہیم موسیٰ صاحب کے لیکچر کے لیے تھا۔ پروفیسر صاحب نے’’نص کی تعبیر و تشریح (Hermeneutics)، روایت اور تاریخ ‘‘پر گفتگو کی۔ لنچ کے بعد گروپس کی شکل میں مذاکرہ اور اگلی کلاس کی تیاری کے ساتھ یہ دن بھی اختتام پذیر ہوا۔ 

۲۷ دسمبر کو ڈاکٹر محمد خلیفہ نے ’’مذہب ، سائنس اور ترقی ‘‘ کے موضوع پر اور ڈاکٹر دین محمد نے ’’جدیدیت ، مذہب اور مختلف آرا‘‘ کے موضوعات پر بات کی۔ لنچ اور تیاری کے بعد سب شرکاء دوحہ کے ’’سوق واقف‘‘ دیکھنے کے لیے گئے۔ سوق واقف کوئی بہت پرانا شہر نہیں، لیکن دوحہ جیسے جدید شہر میں اپنے قدیم انداز، پرانے طرز تعمیر اور ہاتھ کی بنی اشیاء کی دکانوں کی کثرت کی وجہ سے یہ بازار سیاحوں کی توجہ کا مرکز رہتا ہے۔ دوگھنٹے اس بازار میں گھومنے اور سیر وتفریح کے بعد ہم واپس ہوٹل پہنچے۔ مغرب کی نماز کے بعد ہم یونیورسٹی گئے جہاں اگلے دن کی کلاس کی تیاری کی گئی اور پھریونیورسٹی کے ریستوران میں ڈنر پر اس دن کی مصروفیات بھی ختم ہوئیں۔ 

۲۸ دسمبر بروزِ جمعرات ڈاکٹر رناء دجانی نے (جن کا تعلق اردن سے ہے اور الجامعہ الہاشمیہ، اردن میں ایسو سی ایٹ پروفیسر ہیں) ’’مسلم دنیا میں ارتقا کی تدریس‘‘ سے متعلق تفصیلی لیکچر دیا۔ 

ظہر اور لنچ کے بعد دوحہ میں واقع میوزیم آف اسلامک آرٹ جانے کا پروگرام تھا۔ یہ میوزیم مصنوعی جزیرے پر کئی منزلہ انتہائی عالیشان بلڈنگ اور اس میں متنوع تاریخی اور نادر اشیا کے مجموعے کا نام ہے۔ میوزیم کی بلڈنگ کو اس طرز پر تعمیر کیا گیا ہے کہ دوحہ کی فلک بوس عمارتوں سے کسی بھی طرف سے دیکھنے والوں کو دور سے نظر آئے۔ ایک طرف وسیع و عریض سڑک اور باقی تینوں اطراف میں سمندر کا پانی۔ میوزیم کا ماحول بھی کافی خوبصورت اور پر فضا ہے۔ میوزیم کے اندردیگر نوادرات کے علاوہ اسلامی تہذیب کے اثرات و باقیات کو بھی اکٹھا کرنے کی کوشش کی گئی ہے، لیکن سچ یہ ہے کہ پانی کی طرح پیسہ خرچ کیے جانے کے باوجود ابھی یہ میوزیم تاریخ اور تہذیبوں کے آثار سے محبت رکھنے والوں کے لیے تسکین کا وہ سامان نہیں رکھتا جو ہمارے ملک پاکستان کیکئی میوزیمز میں پایا جاتا ہے۔ کاش ان کا خیال رکھنے اور سیاحوں کے لیے انھیں پرکشش بنانے پر توجہ دی جائے۔ میوزیم سے واپسی پر یہ دن بھی حسب معمول گروپس کی شکل میں اجتماعی مذاکرے اور اگلی کلاس کی تیاری کے ساتھ اختتام کو پہنچا۔ 

۲۹ دسمبر بروز جمعہ مولانا عمار خان ناصر اور مولانا ڈاکٹر وارث مظہری نے ’’مذہب اور نصوص کی تاویل‘‘ کے موضوعات پر تفصیلی بات کی۔ اس دن شرکاء میں سے کچھ اپنے دوست احباب سے ملاقات کے لیے گئے اور باقی شرکا کے لیے اساتذہ کے ساتھ دوحہ کے علاقے نیو سٹی کارنیش جانے کا پروگرام بنایا گیا۔ کارنیش بلند و بالا عمارتوں کے سائے میں ساحل سمندر کے سات کلومیٹر پر پھیلا خوب صورت اور پر فضا علاقہ ہے۔رات کو ان بلندو بالا عمارتوں سے پانیوں میں گرتی رنگا رنگ روشنیاں اورسمندر سے آنے والی ہلکی ہوائیں بہت خوب صورت نظارہ پیش کر رہی ہوتی ہیں۔ 

۳۰ دسمبر کو تمام شرکا کو کئی گروپس میں تقسیم کر کے ہر گروپ کو ایک یا دو اہم سوال طے کرنے اور پھر مؤثر انداز میں اس کا جواب پیش کرنے کی سرگرمی دی گئی۔ اس کی تیاری اور باہمی مشاورت کے لیے وقت بھی دیا گیا۔ تمام گروپس کی طرف سے اپنے منتخب کردہ سوال یا مشکل کی تفہیم کے لیے کافی دلچسپ انداز اختیار کیے گئے۔ تعلیمی تسلسل میں تمرین کا یہ پہلو قدرے مسرور کن بھی تھا۔ لنچ کے بعد ہمارا پروگرام دوحہ میں قائم قومی کتب جانے کا دورہ تھا۔ 

نیشنل قطر لائبریری کا دورہ

بطور نیشنل لائبریری اس کے قیام کا اعلان قطر فاؤنڈیشن کی چیئر پرسن ملکہ موزا بنت ناصر المسند کی طرف سے نومبر ۲۰۱۲ء میں قطر کے پچاسویں یاد گاری دن پر کیا گیا۔ تب سے اس لائبریری پر کام شروع ہے۔ اس کا افتتاح امیر قطر خود کریں گے جس کی تقریب میں کئی دیگر ممالک کے سربراہان کی شرکت بھی متوقع ہے۔ اس لائبریری میں اب تک پندرہ لاکھ کتابیں جمع کی گئی ہیں اور کل بیس لاکھ کتابوں کی گنجائش ہے۔ میرے ذاتی مشاہدے کے مطابق تقریباً ہر کتاب پرحفاظت کی غرض سے پلاسٹک کور چڑھایا گیا ہے۔ اس لائبریری کا وزٹ کرانے کے لیے ہم سب شرکا کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا اور لائبریری کے مختلف حصوں کا الگ الگ نمائندے تفصیلی تعارف کراتے رہے۔ اس لائبریری کی خاص بات اس کا انوکھا طرزِ تعمیر اور خالص کتابی دنیا میں جدید ترین ٹیکنالوجی کی تنصیب ہے۔ 

اس کی تعمیر کا انداز کچھ یوں ہے کہ بالکل درمیان میں تہہ خانے بنائے گئے ہیں جس میں مخطوطات اور قدیم نایاب کتابیں جمع کی گئی ہیں۔ تہہ خانوں کے ارد گرد چار سو سیڑھی نما فرش ہیں جن پر الماریاں رکھی گئی ہیں اور بیچ میں پڑھنے کے لیے کرسیاں رکھی گئی ہیں۔ الماریوں میں جگہ جگہ کمپیوٹر اور آئی پیڈ نصب ہیں جن کے ذریعے کسی کتاب کو تلاش کیا جا سکتا ہے۔ لائبریری کے ممبرز کو کتاب دی بھی جاسکتی ہے۔ پڑھنے کے بعد کتاب عملہ کو بھی واپس کی جا سکتی ہے اور لائبریری کے اندر نصب سات ڈراپ سٹیشنز کے ذریعے بھی اپنی مقررہ جگہ پر واپس بھیجی جاسکتی ہے۔ کسی بھی ڈراپ سٹیشن میں کتاب ڈالی جائے تو تین منٹ کے اندر وہ اپنی الماری تک پہنچ جائے گی۔لائبریری کے اندر سیڑھی نما فرش، جہاں الماریاں رکھی گئی ہیں، کے نیچے لائبریری عملہ کے دفاتر، مختلف ہالز ، عملی کام کے لیے مخصوص کمرے وغیرہ تعمیر کیے گئے ہیں۔ مخطوطات کی سکیننگ اور کمپیوٹر میں انھیں محفوظ کرنے کے لیے نہایت جدید آلات نصب کیے گئے ہیں۔ لائبریری کے مختلف حصوں کے تفصیلی وزٹ کے بعد ہمیں ایک ہال میں لے جایا گیا جہاں ایک خاتون نے اس لائبریری کے بارے میں مزید معلومات دیں۔ اس کے اہداف کیا ہیں اور اس کی رکنیت کے حصول کا طریقہ اورفوائد کیا ہیں، ان سب امور کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔

لائبریری کے وزٹ کے دوران مجھے ایک خیال بار بار آتا رہا کہ سادہ، پر سکون اور یکسوئی والے ماحول کی بہ نسبت ٹیکنالوجی سے بوجھل اور سہولیات سے لبریز اس ماحول میں کتاب کی طرف بھر پور توجہ کتنا آسان یا مشکل عمل ہوگا۔

ہفتے کا دن واپسی کی تیاریوں، وہاں کے پروفیسرز اور تمام اساتذہ کی اختتامی تقریروں میں گذرنے کے بعد اسی روز یعنی ۳۰ دسمبر بروز ہفتہ سری لنکن ایئر لائن کے ذریعے وطن عزیز کا رخ کیا اور ۳۱ دسمبر کو جب لاہور پہنچے تو سال ۲۰۱۷ء کا سورج اپنی الوداعی روشنیاں پاکستان اور بالخصوص اہل لاہور پر پوری فیاضی کے ساتھ بکھیر رہا تھا اور وہ نئے سال کی آمد اور استقبال کی تیاریوں میں مگن تھے۔ 

تاثرات

میکس پلانک فاؤنڈیشن کے بعد میرا کسی غیر ملکی ادارے کے ساتھ سفر اور تعلیمی دورے کا یہ دوسرا تجربہ تھا۔ دونوں میں جو چیز مجھے زیادہ عجیب لگی، وہ ان لوگوں کے ہاں وقت کی پابندی ہے۔ ان لوگوں کے لیے سب سے بیش قیمت چیز وقت ہے۔ ایک ایک لمحہ سوچ سوچ کر خرچ کرتے ہیں اور مقررہ وقت پر نہ صرف یہ کہ خود موجود رہتے ہیں بلکہ سب دوستوں کو نہایت خوش اخلاقی اور محبت سے بلا بلا کر نظام الاوقات کا پورا پورا خیال رکھنے کا پابند بناتے ہیں۔ 

دوسرا خاص پہلو، اس کورس کے دوران سلیبس کی ترتیب و تدوین، تدریسی انداز، اور عمل تعلم کو آسان سے آسان تر بنانے کے لیے اختیار کردہ حکمت عملی ہے۔ یہ شایداس کورس کی خصوصیت کے بجائے پورے مغرب کی روایت ہو۔ اولاً کسی بھی موضوع سے متعلق نہایت اہم سوالات کا تعین ہوتا ہے۔ پھر ان سولات کے جوابات کے لیے کسی ایک کتاب یا ایک مصنف کو ہمیشہ پڑھتے رہنے کے بجائے نہایت مستند تحریروں کاا نتخاب ہوتا ہے۔ ان منتخبات کو سمجھنے کے لیے الگ کلاس رکھی جاتی ہے، پھر استاد کے ساتھ پڑھنے اور تنقیدی جائزہ لینے اور اپنے سوالات پیش کرنے کے لیے الگ سیشن ہوتا ہے، اس کے بعد مزید غور و فکر کے لیے طلبہ کے آپس میں مل بیٹھنے اور مذاکرے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ ان تمام مراحل میں بالکل بھی متوجہ نہ رہنے والے کے دماغ کے ساتھ کچھ نہ کچھ ضرور چپک جاتا ہے۔ اس کے علاوہ پڑھانے کے انداز میں مسلسل تقریر اور محض لکھوانے کے بجائے مکالمہ اور طالب علم کو بولنے اور سوال پوچھنے کا موقع دینے کا اسلوب کافی مؤثر محسوس ہوتا ہے۔ تدریس کا یہ انداز اب رفتہ رفتہ پاکستان کی عصری جامعات میں بھی فروغ پا رہا ہے۔

حمد بن خلیفہ یونیورسٹی اور قطر کی نیشنل لائبریری کے ماحول سے اندازہ ہوا کہ قطر کے حکمران خاندان کے لیے عوام کو خوش رکھنا اور انھیں ہر طرح کی سہولت فراہم کرنا اولین ترجیح ہے، اسی لیے ہمیں بھی ہر جگہ عوام کے اندر اپنے حکمرانوں سے محبت کے اظہار کے مختلف انداز ملے۔ کاش پاکستان میں بھی حکمرانوں اور عوام کے درمیان ایسا ہی باہمی محبت کا رشتہ اور اس کے مثبت ثمرات دیکھنے کو ملیں۔ 

اخبار و آثار