قرآن مجید میں خدا کے وعدوں کو سمجھنے میں غلطی

محمد ندیم پشاوری

اسلام کے دشمنوں نے مختلف زمانوں میں اسلام کو ناقص بنانے اور اس کے اجزاء میں کتر بیونت پیدا کرنے اور پیوند کاری کی کوششیں کی ہیں جس میں وہ ہمیشہ ناکام ہوتے رہے ہیں کیونکہ دین کی حفاظت کے لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیشہ اہل علم پیدا فرمائے جو دین کو اس کی مکمل شکل میں باقی رکھنے کے لئے جدوجہد کرتے رہے کیونکہ اسلام مکمل اور آخری دین کی صورت میں آیا ہے اور اس کو قیامت تک اسی طرح مکمل طریقہ سے باقی رہنا ہے۔ اس وقت بھی دین کو اس کی مکمل شکل سے ہٹا کر پیش کرنے کی کوششیں وقتاً فوقتاً ہوتی نظر آتی ہیں اور بعض اوقات غلط فہمی، کم علمی یا کسی شخصیت کی حاضر جوابی اور عقلی استدلالات سے متاثر ہو کر بعض اہل علم اور اہل قلم حضرات بھی غلط نظریات، افکار اور رجحانات کا شکار ہوجاتے ہیں اور اُن غلط افکار، نظریات و رجحانات کی ترویج کے لیے کبھی کبھار زبان کے ساتھ ساتھ قلم کی مدد بھی حاصل ہو جاتی ہے۔ پچھلے مہینے ایسے ہی ایک صاحب قلم محترمی و مکرمی جناب اکٹر عرفان شہزاد صاحب کا مضمون ماہنامہ الشریعہ کے جنوری کے شمارے میں پڑھنے کا اتفاق ہوا جس پر چند تحفظات پیش کرنا مقصود ہے۔ 

محترم موصوف کے مضمون ’’قرآن مجید میں خدا کے وعدوں کو خدا کا حکم سمجھنے کی غلطی‘‘ کو بار بار پڑھنے سے جو نتیجہ اخذ کیا گیا ہے اور جہاں تک موصوف کے موقف کو سمجھا گیا ہے، اس کو دو نکات میں مختصرا یوں بیان کیا جا سکتا ہے:

۱۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کئے گئے تمام یا اکثر (جن کا مضمون میں تذکرہ کیا گیا ہے)وعدے عمومی حیثیت کے نہیں ہیں بلکہ مخصوص ہیں۔ ان کا مصداق نبی صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ کرام (رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین) تھے جو مجموعی طور پر امت مسلمہ کو شامل نہیں ہیں۔ 

اس موقف کو اختیار کرنے کے لیے جس نظریے کا سہارا لیا گیا ہے وہ کچھ یوں ہے:

۲۔ مسلمانوں کا اسلام کے سیاسی غلبے کے لیے جدوجہد کرنا حالات کا تقاضا تو ہو سکتا ہے، انسانی سماج کی ضرورت تو ہو سکتی ہے لیکن اس جدوجہد کو دینی فریضہ سمجھ کر سر انجام دینا مسلمانوں کی غلط فہمی اور قرآن مجید میں خدا کے وعدوں سے نا واقفیت ہے۔مسلمانوں کے لیے اس جدوجہد کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت، فتح و کامرانی حکمت کا تقاضا تو ہو سکتا ہے لیکن شرط، ذمہ داری یا کوئی عام قانون نہیں۔

موصوف کے مضمون کا تنقیدی جائزہ پیش کرنے سے قبل اس بنیادی غلط فہمی کا ازالہ ناگزیر ہے جو موصوف کے مذکورہ بالا نظریے کی پشت پر کارفرما دکھائی دیتا ہے اور وہ بنیادی غلط فہمی ’’دین اور سیاست و ریاست کے رشتے‘‘ سے ناواقفیت ہے جس کے نتیجے میں اجتماعی جدوجہد وجود میں آتی ہے۔دین و سیاست کا رشتہ بے حد نازک ہے اور اس رشتہ کو بیان کرنا پل صراط پر چلنے سے زیادہ مشکل کام ہے کیونکہ کسی ایک پہلو پر ضرورت سے کم یا ضرورت سے زیادہ بات کرنا آسمانی دین کی غلط تشریح تک پہنچا دیتا ہے۔ اسلام کے سیاسی غلبے کو اگر نظر انداز کیا جائے تو موجودہ سیاسی کشمکش اور اسلام اور مسلمانوں کے خلاف عالمی استعماری سازشیں بے معنی ہیں کیونکہ حزب اختلاف اسلام کو ہر شخص کی انفرادی زندگی کے طور پر قبول کرنے کا برملا اعتراف کر چکے ہیں۔ 

امریکہ کے مشہور مصنف جے ویلیم فیڈرر اپنی کتاب What Every American Needs to know about the Qur'an میں اسلام کو ایک دہشت گرد اور خونخوار مذہب کے طور پر پیش کرنے کے باوجود انفرادی طور پر اسلام کے مستقبل کے بارے میں رقمطراز ہیں: 

We say to Muslim believers there is a noble future for Islam as a personal faith, not a political doctrine.

ترجمہ: ’’ہم مسلمانوں سے یہ کہنا چاہتے ہیں کہ سیاسی غلبے کو بالائے طاق رکھتے ہوئے انفرادی طور پر اسلام کا مستقبل خوش آئند ہے۔‘‘

یہی وہ موقف ہے جس کے بارے میں مفکر اسلام سید ابو الحسن علی ندوی نے اپنی وفات سے دو سال قبل اپریل 1997ء میں دار العلوم ندوۃ العلماء کے شعبہ ’’دعوت و تربیت‘‘ کی زیر نگرانی قائم ’’المعہد العالی للدعوۃ والفکر الاسلامی‘‘ کے زیر اہتمام ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا: ’’اہل مغرب اسلام کو بحیثیت عالمگیر دعوت ، سیاسی قوت اور مذہبی آزادی کے اتنا کمزور کرنا چاہتے ہیں کہ وہ محدود رقبہ میں اور خاص نسل اور قومیتوں کے دائرہ کے اندر ہی نافذ اور کارفرما رہے، لیکن عالمی پیمانے پر اس کا وجود اور نفوذ ختم ہو جائے۔‘‘

حضرت عمر کے دور میں ربعی بن عامر سردارانِ فارس کے دربار میں سفیر بن کر گئے تھے اور اپنی تقریر میں اسلام کی تعریف کے دوران اسلام اور سیاست کے نازک رشتے اور حساس تعلق کی وضاحت کچھ یوں کرتے ہیں:

فَقَالوا لَہ مَا جَاءَ بِکم؟ فَقَالَ، اَللہ اِبتَعَثنَا لِنخرِجَ مَن شَاءَ مِن عِبَادَۃِ العِبَادِ اِلیَ عِبَادَۃ اللہِ وَمِن ضَیقِ الدّْنیَا اِلَی وسعَتِھَا وَمِن جَوَرِ الاَدیَانِ اِلَی عَدلِ الاِسلَامِ فَاَرسَلنَا بِدِینِہِ اِلَی خَلقِہِ لِنَدعوھم الیہِ (البدایۃ و النہایۃ /الجزء السابع/غزوۃ القادسیۃ) 

’’اہل دربار نے پوچھا کہ تم لوگ یہاں کس لئے آئے ہو ؟ربعی بن عامر نے جواب دیا: اللہ نے ہمیں اس لئے بھیجا ہے تاکہ وہ جسے چاہے اسے بندوں کی بندگی سے نکال کر اللہ کی بندگی میں داخل کرے، دنیا کی تنگی سے آخرت کی وسعت کی طرف، مذاہب کے ظلم سے اسلام کے عدل کی طرف لائیں۔ پس اللہ نے ہم کو اپنے دین کے ساتھ اپنی مخلوق کی طرف بھیجا ہے تاکہ ہم لوگوں کو اس طرف بلائیں‘‘۔ 

اس بات سے کون انکار کر سکتا ہے کہ مِن عِبَادَۃِ العِبَادِ اِلیَ عِبَادَۃ اللہِ سے مطلق العنان اور استبدادی نظام حکومت و سیاست سے نجات دلانا مراد ہے، وَمِن ضَیقِ الدّْنیَا اِلَی وسعَتِھَا میں اسلام کی جہاں گیری اور وسعت و آفاقیت کا ذکر ہے اور وَمِن جَوَرِ الاَدیَانِ اِلَی عَدلِ الاِسلَامِ سے اسلام کے عادلانہ قوانین کی طرف اشارہ ہے؟

امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں:

’’دین میں سیاست اور روحانیت دونوں کی اہمیت ہے۔ سیاست اور سلطنت کو نظر انداز کر دینا یا اسلامی معاشرہ میں اسلام کے معاشی، سیاسی اور اجتماعی قوانین کے نفاذ کی کوششوں کا تمسخر اور استہزاء غلط تصور دین کا حامل ہونا ہے اور اس کج فکری و مسلمانوں کے ذہنوں تک پھیلانا ایک محرف دین کی طرف مسلمانوں کو بلانے کے مرادف ہے۔‘‘

مزید لکھتے ہیں :

’’جب کبھی دین و سیاست میں جدائی ہوتی ہے دو، گروہ معرض وجود میں آتے ہیں۔ ایک گروہ ان لوگوں کا ہوتا ہے جو دین دار تو ہوتے ہیں، لیکن قوتِ حرب، و جاہ و مال سے، جس کا دین خداوندی ضرورت مند ہوتا ہے، دین کی تکمیل نہیں کر سکتے۔ دوسرا گروہ ایسے امراء و حکام پر مشتمل ہوتا ہے جو مال اور حربی قوت کو بروئے کار تو لاتے ہیں، لیکن اس سے ان کا مقصد دین کی اقامت نہیں ہوتا۔ دونوں گروہ اسلام کے لیے بے کار ہیں‘‘۔ (السیاسۃ الشرعیۃ)

علامہ سید سلیمان ندوی اس موضوع پر رقم طراز ہیں:

’’اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت حکومت و سلطنت اور دنیا کی سیاست ہے، یہاں تک کہ کتاب و نبوت کی دولت کے بعد اس کا درجہ ہے‘‘۔ (سیرۃ النبی جلد ۷ صفحہ ۵)

مزید فرماتے ہیں : 

’’اسلام دین و دنیا اور جنت ارضی و جنت سماوی اور آسمانی بادشاہت اور زمین کی خلافت دونوں کی دعوت کو لے کر اول ہی روز سے پیدا ہوا ہے۔ اس کے نزدیک عیسائیوں کی طرح خدا اور قیصر دو نہیں، ایک ہی شہنشاہ علی الاطلاق ہے جس کے حدود حکومت میں نہ کوئی قیصر ہے نہ کوئی کسریٰ۔ اس کا حکم عرش سے فرش تک اور آسمان سے زمین تک جاری ہے۔ وہی آسمان پر حکمراں ہے، وہی زمین پر فرماں روا ہے‘‘۔ (سیرۃ النبی جلد ۷ ص ۷)

یہی اسلام کی انفرادیت ہے کہ یہ تسبیح و مناجات کے ساتھ سیاسی شوکت اور اجتماعی قوت کا ضامن ہے اور اسی لئے اقبال نے کہا ہے:

وہ نبوت ہے مسلماں کے لیے برگ و حشیش

جس نبوت میں نہ ہو قوت و شوکت کا پیام

اقبال کا یہ شعر محض ایک شعر نہیں بلکہ قرآن کریم کی چند آیتوں کا پرتو ہے:

وَلِلّٰہِ العِزَّۃ وَلِرَسُولِہِ وَلِلمُومِنِینَ (المنافقون ۸)

’’اور اللہ ہی کے لئے غلطہ و عزت اور اس کے رسول کے لئے اور مومنین کے لئے‘‘ (المنافقون: ۸)

وَلَا تَھِنُوا وَلَا تَحزَنُوا وَاَنتُمُ الاَعلَونَ اِن کُنتُمْ مُّومِنِینَ (آل عمران : ۱۳۹)

’’ہراساں اور غم زدہ مت ہو، تم ہی سربلند ہو گے اگر تم صاحب ایمان ہو۔‘‘

مولاناابو الکلام آزاد فرماتے ہیں:

’’اسلام کا قانونِ شرعی یہ ہے کہ ہر زمانے میں مسلمانوں کا ایک خلیفہ و امام ہونا چاہیے۔ خلیفہ سے مقصود ایسا خود مختار مسلمان سربراہ اور صاحب حکومت و مملکت ہے جو مسلمانوں اور ان کی آبادیوں کی حفاظت اور شریعت کے اجراء و نفاذ کی پوری قدرت رکھتا ہو اور دشمنوں سے مقابلہ کے لیے پوری طرح طاقتور ہو۔‘‘ [تحریک خلافت از قاضی محمد عدیل عباسی، ص ۵۱]

اسلام نے یہ تعلیم دی ہے کہ غلبہ اسلام کی راہ میں خون شہادت کا ایک قطرہ بھی مومن کے معاصی کے دفتر کو دھو دیتا ہے اور قرآن مجید میں موجود وہ تمام وہ وعدے، جن کو سمجھنے میں ڈاکٹر عرفان شہزاد صاحب سے غلطی سرزد ہوئی ہے، متوجہ ہوتے ہیں۔

امید قوی ہے کہ قارئین کو اس نازک رشتے اور تعلق کا احساس ہو گیا ہو گا کیونکہ اسلام کی تاریخ سلطنت و مذہب کے اشتراک کی تاریخ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں مکی و مدنی دونوں زندگیاں جمع کر دی گئی تھیں۔ آپ کی ذاتِ مبارک میں امامت و نبوت دونوں کو اس طرح بہم کر دیا گیا تھا، اسی لیے تو علامہ سید سلیمان ندوی فرماتے ہیں کہ ’’اسلام اور سیاست کو ایک دوسرے سے جدا کرنا ناخن کو گوشت سے علیحدہ کرنا ہے‘‘۔ ان شواہد کو مد نظر رکھتے ہوئے کسی بھی عقل سلیم کے لیے اس بات کو قبول کرنا ممکن نہیں کہ ’’دین کے سیاسی غلبے کے لیے جدوجہد کرنا دینی فریضہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔‘‘ یہ الفاظ مخصوص ذہنی تراش خراش کے بعد ہی زبان اور قلم سے ادا ہو سکتے ہیں کہ ’’دین اسلام کو غالب کرنے اور سیاسی طور پر نافذ کرنے کے لیے اجتماعی کوشش دین کا ایک اضافی جزو ہے اور اس قسم کی جدوجہد پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس امت مسلمہ کے ساتھ کوئی وعدہ نہیں کیا گیا اور نہ یہ جدوجہد اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کو مشروط ہے۔‘‘

دلائل و استدلالات کا جائزہ

اقتباس: ’’قرآن میں سیاسی جدوجہد کے نتیجے میں کئے گئے وعدے صحابہ کرام کے حق میں تھے جو پورے ہوئے، عام مسلمان ان وعدوں کا مخاطب ہیں نہ مصداق۔‘‘

تبصرہ: ہر خاص و عام جانتا ہے کہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا محکم پیغام قیامت تک تمام انسانوں کے لیے نور ہدایت ہے جس کے اولین مخاطب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی اور صحابہ کرام (رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین) تھے اور اِن ذوات فاضلہ کے بعد قیامت تک آنے والا ہر انسان اس پیغام کے ایک ایک حرف کا مخاطب ہے۔ قرآن مجید کی عمومیت ہی اِس کا اعجاز ہے۔ مثلاً کسی شخص کے بالغ ہونے یا غیر مسلم کے اسلام قبول کرنے کے بعد ’’اَقِیمُوا الصَّلٰوۃ‘‘ کا حکم دونوں کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ صاحب نصاب ہونے کی صورت میں ’’اٰتُوا الزَّکٰوۃ‘‘ پر عمل کرنا لازم ہے۔ ماہ رمضان میں ’’اَتِمُّوا الصِّیَامَ‘‘ کے حکم کا بجا لانا فرض ہے۔ حج کی فرضیت کے بعد ’’اَتِمُّوا الحَجَّ‘‘ بیت اللہ کی زیارت اور مخصوص احکام کی بجا آوری کا تقاضا کرتا ہے۔ اِن احکامات پر عمل کرنے کے بعدمسلمانوں کو اِن احکامات کی بجا آوری پر انعام و اکرام اللہ تعالیٰ ہی کی شایان شان ہے۔ 

کیا کوئی شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ مسلمانوں کو نماز پڑھنے کا تو حکم ہے، لیکن تنھی عن الفحشاء والمنکر اْن کے لیے نہیں ہے؟ رمضان کے مہینے میں مشقتوں اور تکلیفوں کو برداشت کر کے لمبے لمبے روزے رکھنے کے تو مسلمان پابند ہیں، لیکن لعلکم تتقون اور وانا اجزی بہ صرف پیغمبر اور صحابہ کرام کے لیے تھے؟ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ صاحب استطاعت ہونے کے بعد مسلمانوں پر مناسک حج کی بجا آوری لازمی ہے لیکن رجع کیوم ولدتہ امہ سے ان کا اکرام نہیں کیا جائے گا؟ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ صدقات و خیرات کے ذریعے مسلمانوں پر غریبوں کی مدد کرنا ایمان کا تقاضا ہے، لیکن کَمَثَلِ حَبَّۃٍ اَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ کُلِّ سُنْبُلَۃٍ مِّاءَۃُ حَبَّۃٍ وَاللّٰہُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُ (البقرۃ: ۲۶۱) تو آپ اور صحابہ کرام کے لیے خاص تھے؟ اگر اِن احکامات کی تعمیل پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے جزا اور بدلے کے تمام وعدے مسلمانوں کے لیے ہیں اور روگردانی کی صورت میں تمام وعیدات مسلمانوں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں تو پھر کون سے قاعدوں اور قوانین کے تحت مسلمانوں کی اسلام کے سیاسی غلبے کے لیے سیاسی جدوجہد کے وعدوں کو قرون اولیٰ کے ساتھ مخصوص کیا جا رہا ہے؟

قرآن کی کسی بھی آیت کے مفہوم کی تخصیص یا تو قرآن کی دوسری آیت کے ذریعے ممکن ہے یا پھر خبر متواتر اور مشہور کے ذریعے تخصیص کی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ صرف خالص عقلی استدلالات کے ذریعے تخصیص کرنا مسلمانوں کو غلط پٹڑی پر گامزن کرنا ہے۔ کل کو اگر کوئی شخص نبوت کا اعلان کرے اور دعوی کرے کہ قرآن پچھلی نسلوں کے لیے تھا اور موجودہ امت کے لیے مجھ پر وحی بھیجی جا رہی ہے تو موصوف اپنے پیش کردہ اصول کی روشنی میں قرآن کی صداقت کو کیسے ثابت کریں گے؟

اقتباس: ’’زبان کا معروف اسلوب ہے کہ وعدہ اگر خاص کسی شخص یا اشخاص سے یا جائے تو وہی اس کا مخاطب اور مصداق ہوتے ہیں۔۔۔۔۔اس کا انکار ممکن نہیں۔‘‘

اگر کوئی شخص کسی بچے سے کہے کہ ’’امتحانات میں اچھی کارکردگی دکھانے پر اسے انعام ملے گا‘‘ تو اِس کا مطلب یہی ہو سکتا ہے کہ بچے کو محنت کی ترغیب دی جا رہی ہے اور مطلوبہ نتائج حاصل ہونے پر اس شخص کی طرف سے بچے کو انعام دینا لازمی ہو گا، لیکن اگر نہیں دے گا تو جھوٹا ہو گا۔ ہم اللہ تعالیٰ کے غلام ہیں اگر احکام کی بجا آوری پر ہمیں جزا نہ بھی ملے اور اللہ کی تائید و نصرت شامل حال نہ ہو تو اعتراض نہیں کیا جا سکتا، لیکن جو ذات اپنے بارے میں ومن اصدق من اللہ قیلا کا اقرار کرے، جس کی رحمت ہر چیز پر چھائی ہوئی ہو، اور جو احکام کی بجا آوری کے سلسلے میں بار بار وعدوں کی یاد دہانی کرے تو اس کے لیے جزا اور بدلہ نہ دینا اس کے شایان شان نہیں۔ 

دوسری بات یہ کہ مخلوق اور خالق کے درمیان کسی بھی قسم کی مماثلت کا تصورنہیں کیا جا سکتا، چہ جائیکہ اپنے وعدوں کو خدا کے وعدوں پر قیاس کیا جائے۔ اس قسم کے استدلالات مشرکین مکہ بھی کیا کرتے تھے جس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’فَلَا تَضرِبُوا لِلہِ الاَمثَال‘‘۔

تیسری بات یہ کہ اگر کوئی شخص کسی بچے کو ’’مکتوب ‘‘ پیش کرے جس میں یہ وعدہ کیا گیا ہو کہ’’اچھی کارکردگی پر اسے انعام دیا جائے گا‘‘، بچہ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتا ہے اور وہ شخص اپنے وعدے کے مطابق بچے کو انعام سے نوازتا ہے۔ اس کے بعد وہی ’’مکتوب‘‘ دوسرے بچے کو پکڑاتا ہے اور دوسرا بچہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر انعام کا مطالبہ کرتا ہے تو اس شخص کے لیے یہ کہنا کس طرح صحیح اور ممکن ہو سکتا ہے کہ اِس ’’مکتوب‘‘ میں لکھا گیا وعدہ تو پہلے بچے کے لیے تھا، آپ کے لیے نہیں ہے، لہٰذا آپ انعام کے مستحق نہیں ٹھہرتے؟

موصوف نے اِس عقلی استدلال کے ضمن میں چار آیتیں پیش کی ہیں: 

وَلَا تَھِنُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ [سورۃ آل عمران: ۱۳۹]

وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّھُمْ فِی الْاَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ، وَلَیُمَکِّنَنَّ لَھُمْ دِیْنَھُمُ الَّذِی ارْتَضٰی لَھُمْ وَ لَیُبَدِّلَنَّھُمْ مِّنْ بَعْدِ خَوْفِھِمْ اَمْنًا، یَعْبُدُوْنَنِیْ لَا یُشْرِکُوْنَ بِیْ شَیْءًا، وَمَنْ کَفَرَ بَعْدَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓءِکَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ [سورۃ النور: ۵۵]

وَالَّذِیْنَ ھَاجَرُوْا فِی اللّٰہِ مِنْ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا لَنُبَوِّءَنَّھُمْ فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَلَاَجْرُ الْاٰخِرَۃِ اَکْبَرُ لَوْ کَانُوْا یَعْلَمُوْنَ [سورۃ النحل: ۴۱]

وَمَنْ یُّھَاجِرْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ یَجِدْ فِی الْاَرْضِ مُرٰغَمًا کَثِیْرًا وَّسَعَۃً [سورۃ النساء: ۱۰۰]

پہلی آیت میں مخاطب کے صیغوں کے ساتھ خطاب کیا گیا ہے جس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ اِن آیتوں کے مصداق صرف آپ اور صحابہ کرام ہیں اور دیگر مسلمان اِس کے مصداق ہیں نہ مخاطب۔ دوسری آیت میں خطاب کے صیغے بھی مفقود ہیں، جبکہ تیسری اور چوتھی آیت میں تو خطاب عموم کے صیغوں سے کیا گیا ہے، لیکن موصوف کو اِس میں بھی تخصیص کا مفہوم دکھائی دے تو کیا کہا جا سکتا ہے۔

اقتباس: ’’قرآن مجید میں بڑی وضاحت سے یہ بات آئی ہے کہ خدا اپنے اصول کبھی نہیں بدلتا۔ اگر یہ وعدے عام مسلمانوں کے لیے بھی ہوتے تو کامیابی ان کو بھی نصیب ہوتی۔ چونکہ یہ وعدے مسلمانوں کے لیے تھے ہی نہیں، اس لیے ان کے حق میں پورے نہیں ہوئے۔ خدا نے اپنا اصول نہیں بدلا۔‘‘

یہ وعدے مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ خاص ہیں، اس کے لئے مذکورہ بالا ترتیب کے مطابق دلیل پیش کرنا لازمی ہے۔ عقل کی بنیاد پر کسی آیت کو ایک زمانے کے ساتھ مخصوص کر دینا نا انصافی بھی ہے اور قرآن کریم کی غلط تشریح بھی ہے۔ رہی یہ بات کہ یہ وعدے مسلمانوں کے حق میں کبھی پورے نہیں ہوئے تو نتائج اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔ ہمیں فقط محنت، کوشش اور جدوجہد کا مکلف کیا گیا ہے، لیکن اس کے علاوہ بھی ہجرت کے بعد ملک خدادا د پاکستان جو صحیح معنوں میں ایک اسلامی ریاست کا قیام ہے، درجہ بالا آیت کی عملی تشریح ہے۔یقیناًاللہ تعالیٰ اپنے اصول کبھی نہیں بدلتا اور اللہ تعالیٰ کا قانون یہی ہے کہ جو بھی ہمارے راستے میں کوشش کریں گے، ہماری تائید و نصرت اور امداد ان کے ساتھ ضرور شامل حال ہوگی۔ چنانچہ ارشاد ہے: 

وَالَّذِیْنَ جَاھَدُوْا فِیْنَا لَنَھْدِیَنَّھُمْ سُبُلَنَا وَاِنَّ اللّٰہَ لَمَعَ الْمُحْسِنِیْنَ (العنکبوت ۶۹) 

اس آیت میں شک کی گنجائش ہے نہ تاویل کی کیونکہ لَنَھْدِیَنَّھُمْ میں تاکیدات کے مجموعہ اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کی یقین دہانی کرتا ہے۔اس کے علاوہ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَکَرٍ اَوْ اُنْثٰی وَھُوَ مُؤْمِن فَلَنُحْیِیَنَّہٗ حَیٰوۃً طَیِّبَۃً وَلَنَجْزِیَنَّھُمْ اَجْرَھُمْ بِاَحْسَنِ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (النحل ۹۷) میں بھی تاکیدات کو جمع کر کے ’’عام مسلمانوں‘‘ سے وعدے کو یقینی بنایا گیا ہے۔

اقتباس: ’’یہ بات ذہنی میں رہنی چاہیے کہ صحابہ نے دشمنان اسلام کے خلاف جو قتال کیا، وہ غلبہ و حکومت کے لیے نہیں تھا بلکہ خدا کے نافرمانوں کو اتمام حجت کے بعد خدا کے آخری سزا دینے کے لیے اور مظلوم مسلمانوں کو ان کے پنجہ ظلم سے چھڑانے کے لیے تھا۔‘‘

مظلوم مسلمانوں کا مدد کے لیے پکارنے پر لبیک کہنا ہمیشہ سے مسلمانوں کا دینی فریضہ رہا ہے اور یہی غلبہ و حکومت کی بنیاد ہے۔ اگر صرف مظلوم مسلمانوں کی مدد کرنا ہی مقصود تھا تو آپ کو حیات میں اور آپ کے رخصت ہونے کے بعد صحابہ کرام (رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین) اور ان کے رفقاء کبھی سو سال تک ریاست و حکومت کو برقرار رکھنے کی کوشش نہ کرتے بلکہ کبھی کبھار مشاجرات تک بھی نوبت پہنچ چکی تھی۔

اقتباس: ’’مسلمانوں نے دین کے نام پر غلبے کے حصول کے لیے جن مشکلات کا راستہ اپنے لیے چنا ہے ، وہ ان کے دین کا تقاضا ہی نہیں ہے کیونکہ دین کا اصل مقصد تزکیہ نفس ہے۔‘‘

اسلام ایک جامع دین ہے اور اس کے جامع ہونے کا ایک مطلب یہ ہے کہ وہ عبادت و ریاست کا مجموعہ ہے۔ اس مجموعہ میں مرکزی حیثیت یقیناًخدا کے ساتھ لگاؤ اور تعلق کو حاصل ہے اور وہ اصلاً مطلوب ہے، لیکن خدا کے ساتھ تعلق کی استواری اور پھر اس کے بعد خدا کے عادلانہ قوانین کے نفاذ کے لیے اختیار اور طاقت کی ضرورت بھی پیش آتی ہے۔ اس کے لیے بھی سعی و کاوش ایک دینی ضروت ہے۔ نہ حکومت کے بغیر زمین میں فتنہ و فساد کو دفع کیا جا سکتا ہے اور نہ اللہ کے بندوں کے درمیان عدل و انصاف اور امن و امان کا قیام ممکن ہے۔حقیقت یہ ہے کہ انسان خلیفۃ اللہ ہے اور اس کا مقصد زندگی عبادت ہے۔ عبادت کے صرف داخلی تقاضوں کو پورا کرنا اور تسبیح و مناجات میں مشغولیت کو کافی سمجھ لینا ، ملت کے اجتماعی مسائل سے روگردانی اور عبادت کے خارجی تقاضوں کو جن کا تعلق خاکدان ارضی پر احکام الہٰی کے نفاذ سے اور غلبہ اسلام سے ہے، بالکلیہ نظر انداز کر دینا اور ان کو اہمیت نہ دینا اور اس میدان میں کام کرنے والوں کی حوصلہ شکنی یا تحقیر کرنا دین کے متوازن تصور کے خلاف ہے۔ عبادت کے داخلی تقاضے جوہر اور اصل کی حیثیت رکھتے ہیں اور اسلامی حکومت کا قیام اور دین کے قوانین عدل کا نفاذ اس کے لئے وسیلے کا درجہ رکھتے ہیں، اس لئے وہ بھی مطلوب ہیں۔ وسیلے اور مقصد کے اس فرق کو آشکارا کرنے کے لیے قرآن کریم کا ارشاد ہے: 

اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّکَنّٰھُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوۃَ وَاَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَنَھَوْا عَنِ الْمُنْکَرِ وَلِلّٰہِ عَاقِبَۃُ الْاُمُوْرِ (سورۃ الحج: ۴۱)

’’وسیلے‘‘ اور ’’مقصد‘‘ کے اِس فرق پر مفکر اسلام مولانا ابو الحسن علی ندوی نے اپنی کتاب ’’ارکان اربعہ‘‘ میں یوں روشنی ڈالی ہے:

’’انسان کی حیثیت یہ ہے کہ وہ اس زمین میں اللہ کا خلیفہ ہے۔ چونکہ وہ اللہ کا خلیفہ ہے، اس لئے اس کے اندر ذوق علم، شوق جستجو اور زمی کے خزینوں اور دفینوں سے فائدہ اٹھانے اور ان کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی صلاحیت بخشی گئی اور تعلیم اسماء کا امتیاز اسے عطا کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں انسان مسلسل رکوع و سجود اور مسلسل تسبیح و ذکر کا پابند نہیں۔ اگر وہ اس کی کوشش کرے گا تو اس زمین پر اللہ تعالیٰ کے خلیفہ کی حیثیت سے اپنی ناکامی کا ثبوت فراہم کرے گا۔‘‘

اس موضوع پر سید سلیمان ندویؒ اپنی شہرہ آفاق کتاب ’’سیرۃ النبی‘‘ میں یوں رقمطراز ہیں:

’’اسلام کے سارے دفتر میں ایک حرف بھی ایسا موجود نہیں ہے جس سے یہ معلوم ہو کہ قیام سلطنت اس دعوت کا اصل مقصد تھا اور عقائد و ایمان، شرائع و احکام اس کے لیے بمنزلہ تمہید تھے بلکہ جو کچھ ثابت ہوتا ہے، وہ یہ ہے کہ شرائع اور حقوق و فرائض ہی اصل مطلوب تھے اور ایک حکومت صالحہ کا قیام ان کے لیے وجہ اطمینان اور سکون خاطر کا باعث ہے تاکہ وہ احکام الہٰی کی تعمیل بآسانی کر سکیں۔ اس لیے وہ بھی عرضاً مطلوب ہے۔‘‘ (سیرۃ النبی جلد ۷ ص ۶)

قرآن میں سلطنت کے ملنے کو عزت اور سلطنت کے چھن جانے کو ذلت قرار دیا گیا ہے۔چنانچہ ارشاد ہے: 

قُلِ اللّٰھُمَّ مٰلِکَ الْمُلْکِ تُؤْتِی الْمُلْکَ مَنْ تَشَآءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْکَ مِمَّنْ تَشَآءُ، وَتُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَآءُ، بِیَدِکَ الْخَیْرُ، اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْر (آل عمران ۲۶)

’’اے اللہ، حکومتوں کے مالک، تو جسے چاہے حکومت دے اور جس سے چاہے حکومت چھین لے۔ تو جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت دے اور تیرے ہی قبضے میں ہر قسم کا خیر ہے۔‘‘

اس آیت میں عزت و ذلت سے مراد سلطنت کا ملنا اور سلطنت کا چھن جانا ہے۔ بلاغت کی اصطلاح میں اسے لف و نشر مرتب کہتے ہیں۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے انعامات میں نبوت و ہدایت کے بعد حکومت و سلطنت کا ذکر فرمایا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: 

اَمْ یَحْسُدُوْنَ النَّاسَ عَلٰی مَآ اٰتٰھُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ، فَقَدْ اٰتَیْنَآ اٰلَ اِبْرٰھِیْمَ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَاٰتَیْنٰھُمْ مُّلْکًا عَظِیْمًا (النساء: ۵۴) 

’’یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے دیے ہوئے فضل پر لوگوں (یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام) سے حسد کرتے ہیں حالانکہ ہم نے ابراہیم کی اولاد کو بھی حکمت اور عظیم بادشاہت عطا کی تھی۔‘‘

خلاصہ بحث یہ کہ دین میں حکومت کا قیام مقصود بالذات نہیں ہے۔ جن لوگوں نے دین کی تشریح اس انداز میں کی ہے کہ تمام پیغمبروں کو خدائی فوجدار بنا کر بھیجا گیا تھا اور ان کا مشن یہ تھا کہ وہ دوسروں سے اقتدار کی کنجیاں چھین لیں، وہ تشریح کے معاملے میں عدم توازن کا شکار ہوئے ہیں۔ قرآن و سنت میں اس بات کی صراحت نہیں ملتی ہے۔ غور کیجئے تو اس میں حکمت کا پہلو ہے اور بندوں پر اللہ کی خاص شفقت نظر آتی ہے۔ اگر اس کی صراحت کر دی جاتی تو کسی ملک میں دو مسلمان بھی پائے جاتے تو حکومت کا قیام ان پر فرض ہو جاتا اور ان کے لیے یہ کام ضروری ہو جاتا، خواہ اس کے لیے ان کی جان ہی کیوں نہ چلی جائے۔اسی طرح سے وہ لوگ بھی عدم توازن کا شکار ہوئے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم صرف بشیر و نذیر بنا کر بھیجے گئے تھے، اس لیے مسلمانوں کے لیے حکومت قائم کرنے کی کوشش غیر مشروع ہے۔

قرآن کریم میں غلبہ و اقتدار کو پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کی بڑی آرزو اور تمنا کے طور پر ذکر کیا گیا ہے:

وَاُخْرٰی تُحِبُّوْنَھَا نَصْر مِّنَ اللّٰہِ وَفَتْح قَرِیْب وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ (الصف ۱۳)

’’اور ایک چیز دے گا جسے تم عزیز رکھتے ہو مدد اللہ کی اور فتح قریب۔ اور خوشی سنا دو ایمان والوں کو‘‘۔

نصوص سے اقتدار اور غلبہ کے حصول کے اشارے ملتے ہیں۔ سیرت طیبہ اور تاریخ سے ثابت ہے کہ اس کے لیے مواقع کو استعمال کیا گیا ہے اور اسی لئے علماء اور ائمہ کرام نے اس کی ضرورت اور اہمیت پر زور دیا ہے اور نظام عدل کے قیام اور مظالم کے سد باب کو ضرور قرار دیا ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ نے حجۃ اللہ البالغہ میں لکھا ہے کہ: ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ملت و مدن، دونوں قسم کے مصالح کی تدبیر و انتظام کے لئے ہوئی تھی اور چونکہ امام ان کا نائب اور ان کے امر کو نافذ کرنے والا ہوتا ہے، اس لئے یہ دونوں کام اس کے لئے ضروری ہیں اور نبی کی اطاعت کی طرف اس کی اطاعت بھی واجب ہے۔‘‘

اللہ تعالیٰ دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائیں اور اپنی غلطی کو خندہ پیشانی سے قبول کرنے کی صلاحیت عنایت فرمائے۔ آمین

قرآن / علوم قرآن