مذہبی انتہا پسندی کے محرکات

مولانا غازی عبد الرحمن قاسمی

امت مسلمہ جن مسائل سے دوچار ہے، ان میں ایک اہم مسئلہ مذہبی انتہا پسندی سے متعلق ہے جس کی وجہ سے امن عامہ کا بری طرح متاثر ہونا، عدم برداشت، رواداری کافقدان اور دیگر خوفناک مسائل پیدا ہوگئے ہیں۔

شریعت اسلامیہ میں جو وسعت اوراعتدال پسندی کا تناسب ہے، اس کو نظر انداز کرتے ہوئے مذہبی تعلیمات اور معاملات کوایسی انتہا کی بھینٹ چڑھادینا جو روح شریعت سے متصادم ہو، مذہبی انتہا پسندی ہے۔ مثلاً ایسے مذہبی احکامات یا معاملات جو مباح یا مستحب ہیں، ان کو فرض یا واجب کے بالمقابل لے آنا اور اسی طرح مکروہ تنزیہی اور اس کے قریب ترین کاموں کو حرام اور مکروہ تحریمی کے دائرہ میں داخل کرنا،یا استحبابی اعمال کے ترک کرنے والے پر سخت تنقید کرنا اور بعض مذہبی معاملات جن میں بحث ومباحثہ کی گنجائش ہے اوروہ اجتہاد اور غورووفکر کے متقاضی ہیں، ان میں صرف اپنی رائے کو اقرب الی الصواب سمجھتے ہوئے دوسروں کی رائے کو مکمل طور پر باطل قرار دینا یا اختلاف رائے کی صورت میں مرنے ومارنے پر اتر آنا یا اس کی دھمکیاں دینا وغیرہ مذہبی انتہا پسندی ہے۔

مذہبی انتہا پسندی کے محرکات اور اسباب کا جب جائزہ لیا جاتاہے تو اس بارے میں متعدد جوہ سامنے آتی ہیں۔ 

فرقہ واریت

اس وقت مذہبی انتہا پسندی کی ایک بڑی وجہ فرقہ واریت ہے۔ ہر جماعت اپنی شناخت اور انفرادیت کے لیے دوسرے سے ممتاز ہونا چاہتی ہے اور خود کو متبع حق سمجھتے ہوئے دوسروں کو راہ راست سے دور سمجھتی ہے اور بسااوقات اسی پر اکتفا نہیں کیا جاتا بلکہ دوسروں کی تکفیر کرناضروری سمجھا جاتاہے۔ فرقہ واریت کے اس رویے سے عدم برداشت اور انتہا پرستی کے جذبات پروان چڑھتے ہیں،جبکہ قرآن وحدیث میں فرقہ پرستی کی کسی قسم کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اسلام فرقہ واریت سے منع کرتا ہے۔ مگر نہایت افسوس کی بات ہے کہ ہم لوگ خود کومسلمان کہلواتے ہیں، مگر قرآن وسنت کے بیان کردہ احکامات کو پس پشت ڈالتے ہوئے اپنی من مانی کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج امت مسلمہ ان مسائل کے گرداب میں پھنس چکی ہے جو نقصان اورخسران کی طرف لے جا رہے ہیں۔

قابل غور بات یہ ہے کہ جب قرآن وسنت صریح الفاظ میں فرقہ واریت کی مذمت کرتے ہیں توپھر یہ صورت حال کیوں پیدا ہورہی ہے ؟اس کی بڑی وجہ یہی ہے کہ ان احکامات کی صحیح طریقے سے وضاحت اور اس حوالہ سے طلباءکی ذہن سازی نہیں ہورہی،وہ صرف یہ سمجھتے ہیں کہ جو فرقہ ہمارا ہے یہی درست ہے اور باقی غلط ہیں۔جبکہ ان کو یہ باور کرایا جائے کہ وہ جماعت طائفہ منصورہ میں شامل ہوگی جو قرآن وسنت کے مطابق عمل کرے، صرف باتوں تک خود کو محدود نہ رکھے۔

اپنے مسلک یاجماعت کو دوسروں سے افضل سمجھنا

انتہا پسندی کا دوسرا بڑا محرک اپنے مسلک اور جماعت کو دوسروں کے مسالک اور جماعتوں سے نہ صرف بہتر سمجھنا بلکہ زور وشور سے قول وفعل کے ذریعے اس کا پر چار بھی ہے، حالانکہ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کا روز قیامت فیصلہ ہوگا کہ عنداللہ کون مقبول ہے۔

 حدیث میں ایک مسلمان اوریہودی کا واقعہ آتاہے کہ ایک مسلمان اور یہودی کی آپس میں بحث ہوگئی۔ مسلمان نے کہا، اس ذات کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیاپر فضیلت دی ۔یہود ی نے کہا، اس ذات کی قسم جس نے موسیٰ علیہ السلام کو دنیا پر فضیلت دی۔ اس پر مسلمان نے یہود ی کے چہرے پر تھپڑ ماردیا ۔یہود ی نے سار ا ماجرا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنایا۔ اس پر آپ نے مسلمان سے صورت حال دریافت کی اور فرمایا:

لا تخیرونی علی موسی، فان الناس یصعقون یوم القیامة فاصعق معھم، فاکون اول من یفیق فاذا موسی باطش جانب العرش فلا ادری اکان فی من صعق فافاق قبلی او کان ممن استثنی اللہ (۱)

”مجھ کو موسیٰ علیہ السلام پر فضیلت نہ دو، اس لئے کہ لوگ قیامت کے دن بے ہوش ہو جائیں گے، میں بھی ان لوگوں کے ساتھ بے ہوش ہو جاوں گا۔ سب سے پہلے مجھے ہوش آئے گا تو میں دیکھوں گا کہ موسیٰ علیہ السلام عرش کا کونہ پکڑے ہوئے ہوں گے۔ میں نہیں جانتا کہ وہ بے ہوش ہو کر مجھے سے پہلے ہوش میں آجائیں گے، یا اللہ تعالیٰ نے ان کو بے ہوشی سے مستثنیٰ کر دیا ہے۔“

امام بدر الدین عینی لکھتے ہیں: ”اور اس حدیث میں ایسی فضیلت بیان کرنے سے منع کیا گیا جو لڑائی جھگڑے کا باعث بنے جیسے کہ مسلمان نے یہودی کو طمانچہ مار دیا۔“(۲)

جب آپ کا اپنی بلندوبالاشان اوررفعت مکان کے باوجوداپنے آپ کو حضرت موسیٰ پر اور پیغمبروں کو ایک دوسرے پر فضیلت دینے سے منع کیا باوجود اس بات کہ آپ امام الانبیاءاور خاتم النبین ہیں تو پھرعصر حاضر میں ا س بات کی گنجائش کہاں نکل سکتی ہے کہ ہر جماعت صرف اپنے آپ کو متبع حق سمجھتے ہوئے دوسروں سے خود کو افضل وبرتر سمجھے اور ایسے افکار وخیالات پھیلائے جو انتہا پسندی کی طرف لے جارہے ہیں؟

مخالفت و موافقت میں انتہا کرنا

مذہبی انتہا پسندی کا ایک اہم سبب اپنے مدمقابل جماعتوں کی مخالفت یا موافقت میں انتہا کرناہے کہ ہروہ کام اور طریقہ اختیار کیا جائے جس سے دیگر مخالف جماعتوں اور گروہوں کی بھر پورمخالفت ہو یاکسی جماعت سے ایسی موافقت کا اظہار ہو کہ اس طرز عمل سے ان کی انفرادیت قائم ہو۔ یہ طرز عمل بسا اوقات اس انتہا تک لے جاتاہے جو دنگا فساد اورقتل وغارت کا موجب بنتے ہیں۔

احادیث مبارکہ میں ایک واقعہ بیان ہوا ہے جس میں اعتدال پسندی کا حکم اور انتہا پسندی سے دوری کا سبق ملتاہے۔اس کا اطلاق آج کی اس صورت حال پر کیا جاسکتاہے۔

یہود کا طرز عمل تھا کہ ماہواری کے ایام میں اپنی عورتوں سے الگ تھلگ رہتے،کھانا وپینا ،رہائش اور جملہ معاملات ترک کردیتے تھے۔ اور نصاریٰ ان ایام کی کچھ پروا نہ کرتے،اپنی بیویوں سے جماع کرتے تھے۔ اور زمانہ جاہلیت کے لوگوں کی عادت بھی یہود کی طرح تھی۔(۳۲)صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ کو جب اس مسئلہ کی ضرورت پیش آئی تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو یہ آیات مبارکہ نازل ہوئیں:

وَیَسئَلُونَکَ عَن المَحِیضِ، قُل ھُوَ اَذًی فَاعتَزِلُوا النِّسَاء فِی المَحِیضِ (۳)

”آپ سے یہ لوگ حیض کے متعلق دریافت کرتے ہیں تو آپ ان کو بتا دیجئے کہ حیض ایک طرح کی گندگی ہے لہٰذا زمانہ حیض میں عورتوں سے دور رہو۔“

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید وضاحت بیان فرمادی:

جامعوھن فی البیوت واصنعوا کل شیء غیر النکاح (۴)

 ”ان کے ساتھ گھروں میں رہو، ماہواری کے ایا م میں وطی کے علاوہ دیگر تمام معاملات کی اجازت ہے۔“

جب اس بات کا علم یہود کو ہوا توانہوں نے چہ مگوئیاں شروع کردیں کہ آپ ہر بات میں ہماری مخالفت کرتے ہیں۔ یہ سن کر دو صحابیوں حضرت اسید بن حضیر اور حضرت عباد ابن بشر نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ساری بات سناکر کہا :” اے اللہ کے رسول ! یہودی ایسی ایسی باتیں کہہ رہے ہیں تو کیا ہم زمانہ حیض میں عورتوں کے ساتھ جماع نہ کر لیا کریں؟“ (۵)

ان دو صحابیوں کی اس بات کامقصود یہ تھا کہ ہم اپنی بیویوں کے ساتھ ان ایام میں جماع کیاکریں تاکہ ان یہودکی انتہائی مخالفت ہوجائے۔ یہ بات سن کر  آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ اقدس متغیر ہو گیا۔وجہ ناراضی یہ تھی کہ کسی کی مخالفت میں اتنا نہ آگے بڑھ جاو کہ شریعت کی مخالفت اور معصیت کا ارتکاب لازم آئے۔ 

یہود ونصاریٰ نے اس مسئلہ میں جو شدت اور انتہا پسندی اختیار رکھی تھی، اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کے لیے درمیانی راستہ نکال دیا کہ وطی کے علاوہ باقی معاملات کی اجازت ہے۔ لہٰذا جہاں یہ معلوم ہوا کہ کسی کی مخالفت یا محبت میں اتنا آگے بڑھ جانا جو شریعت کے مقرر کردہ اصو ل وضوابط کے خلاف ہو، وہ ناجائز ہے، وہاں یہ بھی معلوم ہوا کہ اسلام میں انتہا پسند ی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس قسم کی روایات کی ایسی تشریح وتوضیح کی جائے کہ دینی تعلیم حاصل کرنے والے افراد شریعت کی اصل روح تک پہنچ سکیں اور اس کے مطابق اپنی زندگیو ں کو ڈھالیں اور معاشرتی زندگی کے بہتربنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

رواداری کا فقدان

اس وقت رواداری بالکل مفقود ہے۔حالات کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتاہے کہ عوام تو ایک طرف، خواص ایک دوسرے کو برداشت کرنا،اکٹھے بیٹھنا تو درکنار، دیکھنے کو تیار نہیں ہیں۔ ظاہر ہے، جب اس قسم کا طرز عمل مذہبی پیشواوں اور طبقوں کی طر ف سے آئے گا تو عوام پر اس کے اثرات ویسے ہی مرتب ہوں گے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ عوا م وخواص میں سے رواداری کے جذبات ختم ہوگئے ہیں۔حالانکہ اسلامی تاریخ کا مطالعہ بتلاتاہے کہ اسلام میں غیرمسلموں کے ساتھ بھی رواداری سے کام لینے کا کہا گیا ہے چہ جائیکہ مسلمانوں کے ایک دوسرے سے تعلقات عدم رواداری کی نذ ر ہوجائیں۔جب اسلام نے غیرمسلموں کے ساتھ رواداری اور حسن سلوک برتنے کا حکم دیا ہے تو وہ کب اس بات کی اجازت دے سکتاہےکہ ہم اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ رواداری سے نہ پیش آئیں۔

اس وقت فقہائے اربعہ کے پیروکار دنیا کے مختلف حصوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔آپ شروح حدیث ،تفسیر یا فقہ میں حنفی ومالکی،شافعی ،حنبلی اہل علم کی کتب کا مطالعہ کریں تو ان میں بہت سے دیگر فقہی مسالک سے تعلق رکھنے والے افراد کے تفسیری یا فقہی اقوال ملیں گے، مثلاً حنفی مفسرین کے اقوال، مالکی وشافعی مفسرین کی کتب تفسیر میں ملیں گے اور اسی طرح ان کے اقوا ل حنفی مفسرین کی تفاسیر میں موجود ہیں۔ علیٰ ہذ االقیاس حنفی کتب فقہ میں دیگر فقہی مسالک کے اہل علم کے اقوال ہیں اور ان کی کتب میں حنفی علماءکے حوالے اور اقتباسات موجود ہیں۔ باوجود اس بات کہ وہ علماءمسلکاً امام ابو حنیفہ، امام مالک،امام شافعی ،امام احمد کی فقہ پر عمل کرنے والے ہیں۔مگر ان کی کتب میں دیگر مسالک کے اہل علم کے حوالے اور اقوال واقتباسات کا موجود ہونا رواداری کی بہت بڑی مثال ہے۔

علامہ ابن عبدالبر مالکی (م -463ھ)نے اپنی مشہور کتاب ”جامع بیان العلم “میں ایک خوبصورت بات لکھی ہے کہ ہمارے اکابر دوران تحقیق دیگر ہم عصر یا متقدم اہل علم کی تحقیق کے برعکس رائے قائم کرنے کے باوجود ایک دوسرے پر فتویٰ بازی نہیں کرتے تھے۔چنانچہ وہ لکھتے ہیں :

 ما برح المستفتون یستفتون فیحل ھذا ویحرم ھذا فلا یری المحرم ان المحلل ھلک لتحلیلہ ولا یری المحلل ان المحرم ھلک لتحریمہ (۶)

”مفتی حضرات ہمیشہ فتویٰ دیتے رہے۔ ان میں سے ایک حلال کا فتوی دیتا ہے اور دوسرا حرام کا فتویٰ دیتاہے۔ حرام کا فتویٰ دینے والا یہ نہیں کہتا کہ حلال کا فتویٰ دینے والا اس فتویٰ کی وجہ سے ہلاک ہوگیا اورنہ حلال کا فتویٰ دینے والا یہ کہتا ہے کہ حرام کا فتویٰ دینے والا اس فتوے کی وجہ سے ہلا ک ہوگیا۔“

امت مسلمہ میں جوا خوت وعصمت کے اثرات ملتے ہیں، اس کی بڑی وجہ روداری ہے کہ ایک دوسرے کے ساتھ علمی وتحقیقی اختلاف کے باوجودقطع تعلقی کو بیچ میں آنے نہیں دیا گیااور اختلاف رائے کو مخالفت میں تبدیل نہیں ہونے دیا۔ جبکہ آج ہم کسی بھی جماعت کی اچھی باتوں کا تسلیم کرناتو در کنار، ان کے وجود کو ہی برداشت کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ یہ رویہ اسلامی تعلیمات اور ہمارے اکابر کے طرز عمل کے خلاف ہے۔اگر ہم خود قرآن وسنت پر عمل کرنے والا مسلمان اور سابقہ علماءکے علمی ورثہ کا امین ثابت کرنا ہے تو اپنی اس روش کو تبدیل کرنا ہوگا۔ 

اہل علم کی طرف غلط اقوال کی نسبت

مذہبی انتہا پسندی کا ایک اور بڑا محرک دوسرو ں کی طرف غلط اقوال کی نسبت ہے۔جیسا کہ علامہ ابن تیمیہ کی مخالفت کی بڑی وجہ ان کی طرف ایسے غلط اقوال کی نسبت تھی جس سے مقام رسالت میں بے ادبی اور تنقیص کا پہلو نکلتا تھا۔یہی وجہ ہے کہ آٹھویں صدی ہجری کے آخر میں ایک گروہ مخالفین کا اتنا غلو کرچکا تھا کہ انہوں نے یہ فتویٰ دے دیا تھا جو ابن تیمیہ کو شیخ الاسلام کہے، وہ کافرہے۔اس کی تردید میں حافظ شمس الدین الشافعی ( م-842ھ)نے کتاب ”الرد الوافر علی من زعم ان من سمی ابن تیمیة شیخ الاسلام کافر“ لکھی جس میں ستاسی علماءکی ابن تیمیہ کے بارے میں عمدہ کلمات اور تاثرات جس پر حافظ ابن حجر اور امام عینی کی تقاریظ بھی ہیں۔شیخ اکبر محی الدین ابن العربی کی کتابوں میں بھی امام شعرانی کے بقول یہ عمل ہوا ہے۔ وہ اپنا واقعہ الاجوبة المرضیة میں بیان فرماتے ہیں کہ میری کتاب ”البحر المورود فی المواثیق والمعھود“ میں بعض حاسدوں نے ایسا کردیا اور جامع ازہر میں اس کی خوب تشہیر کی گئی۔ ایک فتنہ کھڑا ہوگیا۔ پھرمیں نے اصل نسخہ جید علماءکی تقریظات کے ساتھ بھیجا تو معاملہ ختم ہوا۔(۷)

اس لیے جب کسی صاحب علم کا ایسا قول ملے جو محل اشکال ہو تو اسی سے رجوع کرنا چاہیے۔ حدیث مبارکہ میں ایک واقعہ آتاہے۔حضرت ابی ابن کعب رضی اللہ راوی ہیں کہ میری نظر میں مدینہ کے لوگوں میں نمازیوں میں سے کسی کا مکان مسجد سے اتنا دور نہ تھا جتنا کہ ایک شخص کا تھا، مگر اس کی جماعت ناغہ نہ ہوتی تھی۔ میں نے اس سے کہا کہ اگر تم ایک گدھا خرید لو جس پر گرمی کی شدت اور تاریکی کی بنا پر تم سوار ہو کر مسجد آسکو تو بہتر ہوگا۔ اس نے کہا مجھے یہ پسند نہیں کہ میرا گھر مسجد سے متصل ہو۔ یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک بھی پہنچی۔ آپ نے اس سے پوچھا، تیرا اس قول سے کیا مقصد تھا؟ وہ بولا یارسول اللہ، میری غرض اس سے یہ تھی کہ مجھے مسجد میں آنے اور جانے کا ثواب ملے۔ آپ نے یہ سن کر فرمایا کہ اللہ نے تجھے وہ سب عطا فرمادیا جو تو نے اس سے چاہا۔(۸)

اس صحابی کا یہ کہنا کہ مجھے یہ پسند نہیں کہ میرا گھر مسجد سے متصل ہو، بظاہر بہت سخت بات لگتی ہے مگر آپ نے اس پر کسی قسم کا ردعمل ظاہرکرنے سے پہلے اس کی مراد پوچھی۔ اسی طرح ہمیں بھی چاہیے کہ اس حدیث سے جو پیغام مل رہاہے، اس پر عمل کریں۔ مذہبی شخصیات کے اقوال نقل کرتے وقت انتہائی احتیاط کی ضرور ت ہے اور محل نظر افکار کی اصل کتب سے مراجعت کرکے رائے قائم کی جائے اور اگر وہ شخصیت زندہ ہوتو اسی سے استفسا ر کیاجائے۔

اسلاف پرستی

اس وقت اسلاف پرستی اس قدر مذہبی طبقوں میں راسخ ہوچکی ہے کہ کسی بھی شخصیت پر جائز اور تعمیری تنقید کا سننا بھی گوارا نہیں کیا جاتا۔ حالانکہ انبیاء کے بعدکوئی بھی شخص خطا سے معصوم نہیں ہے۔اور نہ ہی یہ ممکن ہے کہ اس کی تحریر یا تقریر میں کبھی کوئی خطا یا لغز ش نہ ہوئی،اور اگر ایسا ہوتا بھی ہے تو بتقاضائے بشریت یہ معبوب نہیں ہے۔مگر اس وقت جو صورتحال ہے، کسی بھی مسلک کے پیروکار سے اگرکہا جائے کہ اس مسئلہ میں آپ کے امام،استاد یا عالم کی فلاں تحقیق درست نہیں ہے یا اس پر یہ سوالات ہوتے ہیں اور اس کے مقابلے میں فلاں کی بات درست ہے تو وہ لوگ قطع نظر اس بات سے کہ ان کاتعلق کس جماعت سے ہے، شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہیں یا ایسی تاویلات کا سہارا لیں گے جس سے ان کے امام، شیخ، استاد کی بات کی تردید نہ ہوسکے، اگرچہ وہ تاویلیں فاسد ہوں۔اور یہ رویہ بھی صرف موجود ہ دور کا نہیں ہے بلکہ صدیوں پہلے یہ رویہ سامنے آیا اوراب پوری طرح اپنی بنیادوں پر کھڑاہے۔

شیخ الاسلام عزالدین بن عبدالسلام (م -660ھ)لکھتے ہیں :

”اور عجیب تر بات یہ ہے کہ بعض فقہائے مقلدین کو اپنے امام کی دلیل کے ایسے ضعف پر واقفیت ہو جاتی ہے کہ جس کی کمزوری کو دور کرنے کے لیے وہ کوئی راہ نہیں پاتے، اور وہ اس کے باوجود اس مسئلہ میں اسی کی تقلید کرتے ہیں اوران ائمہ کامذہب ترک کر دیتے ہیں جن کی تائید میں کتاب وسنت او ر صحیح قیاسات ہیں ،محض اس لیے کہ ان کو امام کی تقلید سے انحراف گوارا نہیں ،بلکہ کتاب وسنت کے ظاہر مطلب کو دور کرنے کے لیے وہ تدبیریں کرتے ہیں ،اور اپنے امام کے دفاع میں ہرطرح کی بعید اور بے بنیاد تاویلوں سے ان کو احتراز نہیں ہوتا۔“ (۹)

جب اندھی عقیدت وتقلید سے یہ حال ہو کہ سب کچھ جانتے ہوئے کہ اس مسئلہ یا قول ورائے میں اس کے امام کی بات مرجوح اور دوسرے امام کی بات راجح اور حدیث کے زیادہ موافق ہے، تب بھی وہ اپنے امام کی بات کو رد کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتا تو پھر انتہا پسندی کی شدت میں کمی نہیں ہوسکے گی۔ جبکہ اگر ان ائمہ یا بزرگوں کی زندگی میں ان سے اختلاف رائے ہوتا تو وہ بھی ایسا نہ کرتے۔ عصر حاضر کے محققین میں یہ حوصلہ ہونا چاہیے کہ ان کی تحقیقات پر اگر کسی کو اعتراض ہوتو وہ اپنی تحقیقات پر نظر ثانی کریں۔ اگر اصلاح کی ضرورت ہو یا رجوع کرنے کی نوبت آئے تو ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے ،اگر اس جماعت کے کسی امام یا عالم کی کوئی اصلاح طلب بات ہو تو اسے تسلیم کرتے ہوئے قبول کرلیا جائے اور خوامخواہ کی بے جان وضاحتوں سے اجتناب کیا جائے۔اور تقلید کا انکار نہیں ہے ،مگراندھی تقلید سے بچنا بھی ضروری ہے۔


حوالہ جات 

1.  البخاری،محمد بن اسماعیل ،ابو عبداللہ ،الجامع الصحیح ،دار طوق النجاة، 1422ھ ،جلد3،صفحہ120

2.  العینی ،بدرالدین،محمود بن احمد ،عمدة القاری شرح صحیح البخاری،بیروت،داراحیاءالتراث العربی،س ن ،جلد 12، صفحہ 250

3.  البقرہ:222

4.  ابو داود،سلیمان بن الاشعث ،السجستانی ،السنن ،بیروت ،المکتبة العصریہ،س ن ،جلد1،صفحہ67

5.  ابو داود،السنن ،جلد1،صفحہ67

6.  ابن عبدالبر،یوسف بن عبداللہ،جامع بیان العلم وفضلہ،المملکة العربیہ السعودیہ،دار ابن الجوزی، 1414ھ، جلد 2، صفحہ 902

7. ندوی ،ابوالحسن علی ،سید ،تاریخ دعوت وعزیمت،لکھنو ،مجلس تحقیقات ونشریات اسلام، 2005ء،جلد2،صفحہ158

8. ابو داود،سلیمان بن اشعث السجستانی ،السنن ،بیروت ،المکتبة العصریة، س ن ،جلد1،صفحہ152

9. ابن عبدالسلام ،عزالدین عبدالعزیز،ابو محمد،قواعد الاحکام فی مصالح الانام،قاہرہ،مکتبة الکلیات الازھریہ، 1414ھ، جلد 2، صفحہ 159


آراء و افکار