جون ۲۰۱۸ء

قومی ریاست اور جہاد: کیا کوئی نیا فکری پیراڈائم ممکن ہے؟

― محمد عمار خان ناصر

جدید قومی ریاست کے بارے میں ایک بہت بنیادی احساس جو روایتی مذہبی اذہان میں بہت شدت کے ساتھ پایا جاتا ہے، یہ ہے کہ اس تصور کو قبول کرنا درحقیقت جہاد کی تنسیخ کو تسلیم کر لینے کے مترادف ہےجو اسلامی تصور حکومت واقتدار کا ایک جزو لا ینفک ہے۔ اس کی تشریح یہ ہے کہ اسلامی شریعت میں مسلمان ریاست کی ذمہ داریوں میں سے ایک اہم ذمہ داری یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے، چند ضروری شرائط کے ساتھ، ارد گرد کے علاقوں میں قائم غیر مسلم حکومتوں کے خلاف جنگ کر کے یا تو ان کا خاتمہ کر دے اور ان علاقوں کو مسلمان ریاست کا حصہ بنا لے یا کم سے کم انھیں اپنا...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۴۳)

― ڈاکٹر محی الدین غازی

(۱۴۲) انتصر کا ترجمہ۔ انتصر کے لغت میں دو مفہوم ملتے ہیں: ایک انتقام لینا، اور دوسرا ظالم کا مقابلہ کرنا۔ وانتَصَرَ منہ: انتَقَمَ (القاموس المحیط) وانتصر الرجل اذا امتنع من ظالمہ، قال الازھری: یکون الانتصار من الظالم الانتصاف والانتقام، وانتصر منہ: انتقم۔ والانتصار: الانتقام (لسان العرب) وانتَصَرَ منہ: انتقم۔ (الصحاح)۔ جدید لغت المعجم الوسیط میں اس کی اچھی تفصیل ملتی ہے کہ جب یہ فعل من کے ساتھ ہو تو انتقام لینا، علی کے ساتھ ہو تو غلبہ حاصل کرنا اور بغیر صلے کے عام معنی ظالم کا مقابلہ کرنا اور اس کے ظلم کو روکنا ہوتا ہے۔ انتصر: امتنع من ظالمہ...

جدید ریاست میں فقہ اسلامی کی تشکیل جدید ۔ بنیادی خدوخال اور طریق کار (۲)

― مولانا سمیع اللہ سعدی

بحث دوم : فقہ اسلامی اور تشکیل جدید کا متقاضی حصہ۔ فقہ اسلامی کی تشکیل جدید سے پہلے اس سوال کا جواب معلوم کرنا نہایت ضروری ہے کہ فقہ اسلامی کے کس حصے کی تشکیل جدید وقت کی ضرورت ہے اور کس قسم کے مسائل تجدید کا تقاضا کرتے ہیں ؟تجدید کے بنیادی خدوخال طے کرنے سے پہلے اگر محل ِتجدید کا تعین نہیں ہوا تو قوی امکان ہے کہ عمل تجدید تحریف یا تغییر میں تبدیل ہوجائے ۔اس نکتے پر بحث سے کرنے سے پہلے فقہ اسلامی کے بنیادی شعبہ جات اور فقہی مسائل کی مختلف انواع کا ذکر کیا جاتا ہے ۔ فقہ اسلامی اور معاصر قانون کے نامور ماہر ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب رحمہ...

دھتکارے ہوئے بھارتی مسلمانوں کی داستانِ کرب ۔ ایک اور پاکستان؟

― پروفیسر ڈاکٹر دوست محمد خان

شمس الرحمان فاروقی (۱۹۳۵ء) ادبی دنیا کا ایک مقتدر نام ہے۔ وہ شاعر، ادیب، نقاد اور سماجی دانشور ہیں۔ الٰہ آباد سے ایم اے انگریزی بھی کیا ہے اور انوکھے انداز میں تنقیدی کلیے وضع کیے ہیں۔ مختلف اعزازات سے انہیں نوازا گیا ہے۔ پاکستان آچکے ہیں اور کراچی کی ایک باوقار ادبی تقریب میں چبھتے ہوئے سوالوں کا جواب محتاط انداز میں دیا ہے جس کا انہوں نے اپنی تحریر یں ذکر کیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے انڈین ایکسپریس کی ۵ اپریل کی اشاعت میں ایک بھرپور مضمون لکھا ہے۔ یہ ایک چشم کشا تحریر ہے اور پاکستانی دانشوروں کے لیے ایک لمحۂ فکریہ۔ مضمون ۷۰ سالہ تجربات، مشاہدات...

قرآن مجید میں تحریف کا جاہلانہ مطالبہ

― حافظ عاکف سعید

فرانس کے سابق صدر نکولس سرکوزی اور وہاں کے سابق وزیر اعظم کے علاوہ تین سوسیاستدانوں اور دانشوروں نے ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے ہیں جس میں یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ چونکہ قرآن مجید کے بعض حصے یہود مخالف تعلیمات پر مشتمل ہیں ، لہٰذا انہیں قرآن سے نکال دینا چاہیے۔یہ اعلامیہ فرانس کے روزنامہ Le parisien میں 21 اپریل کو شائع ہوا ہے۔فرانس کے سابق صدر اور وزیر اعظم سمیت ان تمام تین سو سیاستدانوں اور دانشوروں کو اس بات کا شاید علم نہیں کہ قرآن انجیل اور تورات کی طرح نہیں کہ جس میں اپنی مرضی کے مطابق جب چاہا، تحریف کردی۔ قرآن کی حفاظت کا ذمہ اللہ نے لیا...

مذہبی انتہا پسندی کے محرکات

― مولانا غازی عبد الرحمن قاسمی

امت مسلمہ جن مسائل سے دوچار ہے، ان میں ایک اہم مسئلہ مذہبی انتہا پسندی سے متعلق ہے جس کی وجہ سے امن عامہ کا بری طرح متاثر ہونا، عدم برداشت، رواداری کافقدان اور دیگر خوفناک مسائل پیدا ہوگئے ہیں۔ شریعت اسلامیہ میں جو وسعت اوراعتدال پسندی کا تناسب ہے، اس کو نظر انداز کرتے ہوئے مذہبی تعلیمات اور معاملات کوایسی انتہا کی بھینٹ چڑھادینا جو روح شریعت سے متصادم ہو، مذہبی انتہا پسندی ہے۔ مثلاً ایسے مذہبی احکامات یا معاملات جو مباح یا مستحب ہیں، ان کو فرض یا واجب کے بالمقابل لے آنا اور اسی طرح مکروہ تنزیہی اور اس کے قریب ترین کاموں کو حرام اور مکروہ...

مغربی ممالک کے مسلمانوں کے مسائل اور ذمہ داریاں

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(اقبال انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ریسرچ اینڈ ڈائیلاگ، اسلام آباد کے زیر اہتمام شائع ہونے والے مجموعہ “دیار مغرب کے مسلمان: مسائل، ذمہ داریاں، لائحہ عمل” کا دیباچہ۔) برطانیہ کا پہلا سفر میں نے ۱۹۸۵ءمیں اور امریکہ کا پہلا سفر ۱۹۸۷ءمیں کیا تھا۔ دونوں ممالک کے اس سفر کا ابتدائی داعیہ ”قادیانی مسئلہ“ تھا۔ ۱۹۸۴ءمیں صدر جنرل محمد ضیاءالحق مرحوم نے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے پاکستان میں اسلام کے نام پر اور مسلمانوں کی اصطلاحات کے ساتھ اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے سے قادیانیوں کو روک دیا اور ان کے لیے اسلام کا نام اور مسلمانوں کے مذہبی شعائر واصطلاحات...

حضرت مولانا سید عطاء المومن شاہ بخاریؒ

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

حضرت مولانا سید عطاء المومن شاہ بخاریؒ گزشتہ ماہ انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ کافی دنوں سے علالت میں اضافہ کی خبریں آرہی تھیں، اس دوران ایک موقع پر ملتان حاضری اور بیمار پرسی کا موقع بھی ملا اور ان کے فرزند گرامی مولانا سید عطاء اللہ شاہ ثالث سے وقتاً فوقتاً ان کے احوال کا علم ہوتا رہا مگر ہر آنے والے نے اپنے وقت پر اس دنیا سے رخصت ہو جانا ہے اور شاہ جی محترمؒ بھی ایک طویل متحرک زندگی گزار کر دار فانی سے رخصت ہوگئے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کی حسنات قبول فرمائیں، سیئات سے درگزر کریں اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں، آمین یا رب...

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کا نظریہ تخریج ۔ ایک تنقیدی جائزہ (۳)

― مولانا عبید اختر رحمانی

اب ہم ذیل میں چند وہ مثالیں ذکر کریں گے جن سے واضح ہوگاکہ امام صاحب نے نہ صرف ابراہیم نخعی کے قول کو ترک کیاہے بلکہ فقہاء کوفہ کو چھوڑ کر اس معاملہ مکی اورمدنی فقہ سے اورفقہاء سےا ستفادہ کیا ہے ۔۔۔۔ جوشخص امام کے پیچھے تشہد کے بقدر بیٹھے (قعدہ اخیرہ میں) اور پھر امام کے سلام پھیرنے سے قبل چلاجائے ،ایسے شخص کے بارے میں ابراہیم کی رائے یہ ہے کہ اس کی نماز نہیں ہوئی اور عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں کہ جب وہ امام کے پیچھے تشہد کے بقدر بیٹھ چکاتواس کی نماز ہوجائے گی ،امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں عطاکاقول میراقول ہے، امام محمد فرماتے ہیں کہ ہم بھی عطاء کے...

الشریعہ اکادمی کی سالانہ کارکردگی رپورٹ

― مولانا مفتی محمد عثمان

الشریعہ اکادمی کا قیام آج سے ربع صدی قبل مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ کے خطیب ،مدرسہ نصرۃ العلوم کے شیخ الحدیث مولانا زاہد الراشدی صاحب کی نگرانی واہتمام میں عمل میں لایا گیا ۔اس کا بنیادی مقصد دینی حلقوں میں عصری تقاضوں کا شعور اجاگر کرنا اور باہمی رابطہ و تعاون کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ علمی و فکری بیداری کی فضا قائم کرنا ہے ۔اس مقصد کے لیے تعلیم وتدریس،ابلاغ عامہ کے میسر ذرائع اور فکری و علمی مجالس کے ذریعے جدوجہد جاری ہے ۔ابتدائی چند سال اکادمی کی سر گرمیاں مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں جاری رہیں ۔بعد میں کھیالی گوجرانوالہ کے ایک...