قرآن مجید میں تحریف کا جاہلانہ مطالبہ

حافظ عاکف سعید

فرانس کے سابق صدر نکولس سرکوزی اور وہاں کے سابق وزیر اعظم کے علاوہ تین سوسیاستدانوں اور دانشوروں نے ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے ہیں جس میں یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ چونکہ قرآن مجید کے بعض حصے یہود مخالف تعلیمات پر مشتمل ہیں ، لہٰذا انہیں قرآن سے نکال دینا چاہیے۔یہ اعلامیہ فرانس کے روزنامہ Le parisien میں 21 اپریل کو شائع ہوا ہے۔فرانس کے سابق صدر اور وزیر اعظم سمیت ان تمام تین سو سیاستدانوں اور دانشوروں کو اس بات کا شاید علم نہیں کہ قرآن انجیل اور تورات کی طرح نہیں کہ جس میں اپنی مرضی کے مطابق جب چاہا، تحریف کردی۔ قرآن کی حفاظت کا ذمہ اللہ نے لیا ہے۔ اس کا اعلان قرآن مجید میں چودہ سو سال قبل کردیا گیا ہے ۔چنانچہ یہ امر واقعہ ہے کہ قرآن چودہ صدیاں گزرنے کے باوجود اپنی اصل شکل میں موجود ہے اور اس میں زبر زیر تک کی تحریف اپنی سرتوڑ کوششوں کے باوجود بھی کوئی نہیں کرسکا۔

دشمنان اسلام قرآن مجید کے کروڑوں مصحفوں کو تلف بھی کردیں تو امت مسلمہ کے لاکھوں ہی نہیں کروڑوں حفاظ کے سینوں سے قرآن کو نہیں نکال سکتے۔ اس سے پہلے بھی قرآن کے نام پر بہت سی کوششیں کی گئی ہیں کہ اس کا کوئی نیا تحرئف شدہ ایڈیشن تیار کیا جائے ۔پچھلی دہائی میں بھی اس کی کوششیں ہوئیں اور یہود تو اس میں تحریف کرنے کی مسلسل کوششیں کرتے رہتے ہیں لیکن ان کی ہر کوشش ناکامی سے دوچار ہوئی ہے کیونکہ اس کی حفاظت کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہم نے ہی اس ذکر کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔بہرحال دشمنان خدا اپنی سی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں تو ہمیں اس کے جواب میں کم ازکم یہ تو ضرور کرنا چاہیے کہ قرآن کے ساتھ اپنے تعلق کو مضبوط سے مضبوط تر کریں۔ رمضان المبارک کے مہینے کا تقاضا بھی یہی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی ہمت اور توفیق عطا فرمائے۔آمین یا رب العالمین۔

حالات و واقعات