الشریعہ اکادمی کی سالانہ کارکردگی رپورٹ

مولانا مفتی محمد عثمان

الشریعہ اکادمی کا قیام آج سے ربع  صدی قبل مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ کے خطیب ،مدرسہ نصرۃ العلوم کے شیخ الحدیث مولانا زاہد الراشدی صاحب کی نگرانی واہتمام میں عمل میں لایا گیا ۔اس کا بنیادی مقصد  دینی  حلقوں میں عصری تقاضوں کا شعور اجاگر کرنا اور باہمی رابطہ و تعاون کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ علمی و فکری  بیداری کی فضا قائم کرنا ہے ۔اس مقصد کے لیے تعلیم وتدریس،ابلاغ عامہ کے میسر ذرائع اور فکری و علمی مجالس کے ذریعے جدوجہد جاری ہے ۔ابتدائی چند سال اکادمی کی سر گرمیاں مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں جاری رہیں ۔بعد میں کھیالی گوجرانوالہ کے ایک بزرگ حاجی یوسف علی قریشی رحمہ اللہ نے ہاشمی کالونی کنگنی والہ میں ایک کنال اراضی الشریعہ اکادمی  کے لیے وقف کردی. جہاں مسجد خدیجۃ  الکبریؓ اور تعلیمی بلاک کی تعمیر کی گئی ۔تہہ خانہ اور اس کے اوپر ایک منزل تعمیر ہوچکی ہے ۔

الشریعہ اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہدالراشدی اور ڈپٹی ڈائریکٹر مولانا عمار خان ناصر ہیں جبکہ مولانا محمدعثمان جتوئی،مولانا طبیب الرحمن،مولانا عبدالوہاب،مولانا کامران،مولانا عبدالغنی،مولانا محفوظ الرحمٰن،قاری ابوبکر اور حافظ عبد الرحمن پر مشتمل اساتدہ ومنتظمین کی ٹیم ان کے ساتھ مصروف کار ہے۔ معاونین میں حاجی عثمان عمر ہاشمی، محمد معظم میر، محمد مبشر چیمہ، قیصرصاحب، طیب صاحب، یحییٰ میر، عاصم بٹ صاحب، ڈاکٹر محمد عمران، محمد  دلشاد، زبیر صاحب اور حاجی بشیر صاحب نمایاں ہیں ۔ 

اکادمی کے شعبہ جات

الشریعہ اکادمی میں درج ذیل شعبوں میں کام جاری ہے :

  • درجہ حفظ اور درس نظامی کی کلاسوں میں  کم وبیش  پچاس طلبہ اکادمی میں مقیم ہیں جن کے اخراجات کی کفالت اکادمی کے ذمہ ہے 
  • درس نظامی میں درجہ اولی کا کورس اور میٹرک کا نصاب تین سالوں میں پڑھایا جا تا ہےاور میٹرک کا امتحان گوجرانوالہ بورڈ سے دلوایا جاتا ہے جس میں طلبہ کی کارکردگی الحمدللہ ہر آنے والے سال میں گزشتہ سالوں سے بہتر ہوتی ہے ۔سال ۲۰۱۷ میں اکادمی کے ہونہارطالبعلم فرمان اللہ نے میٹرک کے امتحان میں ۹۲۵،اسامہ وارث نے ۸۹۳،عبدالرحمٰن نے ۸۲۲اور کامران حیدر نے ۸۷۱ نمبر حاصل کر کے نمایاں کامیابی حاصل کی ۔اس کے علاوہ اکادمی میں ابتدائی طلبہ کے لیے ایک بنیادی درجہ ہےجس میں طلبہ کو مڈل تک کا نصاب پڑھا کر میٹرک کرنے کی استعداد  پیدا کی جاتی ہے ۔
  • شعبان کے مہینے میں دینی مدارس کے طلبہ کے لیے دورۂ تفسیرقرآن کریم اور محاضرات علوم قرآن کا سلسلہ گزشتہ آٹھ سال سے کامیابی کے ساتھ جاری ہے ۔
  • تعلیمی سال کے دوران دینی مدارس کے طلبا کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے کسی نہ کسی مقابلے کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ پہلے کچھ سال تحریری مقابلے کروائے گئے جبکہ گزشتہ تین سال سے  کوئز مقابلے کا اہتمام کیا جا رہا ہے جوکہ کامیابی کے ساتھ جاری ہے ۔ ہر سال اس  مقابلے کاموضع طلباءکی دلچسپی کو مد نظر رکھتے ہوےمنتخب کیا جاتاہے ۔یہ مقابلہ دو مراحل پر مشتمل ہوتا ہے اس سال پہلے مرحلے کا موضوع خلافت بنو امیہ اور دوسرے مرحلے کا موضوع خلافت بنو عباسیہ تھا ۔پہلامرحلہ 11جنوری 2018ءکو جبکہ دوسرامرحلہ 18 جنوری 2018ء کومنعقد ہوا۔جس میں شہربھر سے مدارس کے طلباء نے حصہ لیااوربھرپور تیاری کاثبوت دیا۔
  • اکادمی کی لائبریری میں مختلف موضوعات پر ہزاروں کتابیں موجود ہیں جن سے دینی وعصری اداروں کے طلباء و اساتذہ استفادہ کرتے ہیں ۔
  • شعبہ نشرو اشاعت کے تحت مولانا زاہد الراشدی ،مولانا عمار خان ناصر اور دیگر اہل قلم سے اب تک دو درجن کے لگ بھگ کتابیں شائع ہو چکی ہیں ۔

جامع مسجد خورشید ومدرسہ طیبہ کوروٹانہ

کوروٹانہ کے قریب شیخوپورہ روڈ کی طرف جانے والی سڑک پر کھیالی کے ایک مخیر دوست حاجی میاں ثناء اللہ جنجوعہ ایڈووکیٹ کے خاندان نے ایک ایکڑ زمین وقف کی  ہے جہاں الشریعہ اکادمی کے تحت جامع مسجد خورشید ومدرسہ طیبہ کوروٹانہ کی بنیاد رکھی گئی۔ ابتداءًحاجی محمد معظم میر کی نگرانی میں چند کمرے تعمیر کرکے قرآن کریم کی تعلیم کا سلسلہ شروع کیا گیا جو تاحال جاری ہے۔جبکہ تعلیمی پروگرام کی توسیع کے لیے جامع مسجد خورشید اور چند کمروں پر مشتمل تعلیمی بلاک تعمیر کر لیا گیا ہے اور انشاء اللہ رمضان کے بعد شروع ہونے والے تعلیمی سال سے وہاں با قاعدہ پڑھائی کا آغاز ہو جا ئے گا جبکہ منصوبے کے مطابق وہا ں ابھی بہت سا تعمیری کام باقی ہے ۔

علمی وفکری نشستیں/ سیمینار

اکادمی میں وقتا ًفوقتاً مختلف علمی و فکری موضوعات پر اہل علم کی نشستوں ،سیمینارز اور تربیتی ورک شاپس کا اہتمام کیا جاتا ہے جن میں معروف ارباب علم و فکر اظہار خیال فرماتے ہیں ۔سال رواں منعقد ہونے والی نشستوں کی تفصیل حسب ذیل ہے :

  • ۲۲ دسمبر جمعۃ المبارک کو ”دینی مدارس،عصری معنویت اور جدید تقاضے“کےعنوان سے ایک پروگرام کا انعقاد کیا گیا جسکےمہمان خصوصی ڈاکٹر ماہان مرزا اور پروفیسر ابراہیم موسٰی تھے۔
  • اسی طرح ایک پروگرام ”دینی مدارس میں عصری تعلیم کے تجربات  ونتائج“کے عنوان سے ۱۴ نومبر۲۰۱۷کومنعقد ہوا جس کے مہمان خصوصی مفتی  محمدزاہد صاحب،مفتی حامدالحسن صاحب اور مولانا حماد الزہراوی صاحب تھے۔
  • اکادمی میں پندرہ روزہ فکری نشستوں کا سلسلہ بھی اپنے تسلسل کے ساتھ جاری ہے ۔اس سال فکری نشستوں کا موضوع” سیرت النبی ﷺ اور انسانی سماج “تھا،جب کہ اس کے ذیلی عنوانات حسب ذیل ہیں:
    • سیرۃالنبیﷺ اورانسانی حقوق  
    • سیرۃالنبیﷺ اورمعاشرتی حقوق 
    • سیرۃالنبی ﷺاور عورتوں کےحقوق 
    • سیرۃالنبیﷺ اور معاشی حقوق  
    • سیرۃالنبیﷺ اورغیرمسلموں کے حقوق 
    • سیرۃ النبیﷺ اور سیاسی حقوق
    • سیرۃالنبیﷺ اور مزدوروں کے حقوق 
    • سیرۃالنبی ﷺ اور پڑوسیوں کے حقوق
    • سیرۃالنبیﷺ اور غلاموں کے حقوق 
    • سیرۃالنبیﷺ اوربچوں کے حقوق 
    • سیرۃ النبی ﷺ اورقیدیوں کے حقوق
    • سیرۃالنبیﷺ اور مہمانوں کے حقوق 
    • سیرۃالنبیﷺ اور مسافروں کے حقوق 
    • سیرۃالنبیﷺ اور افسروں کے حقوق
    • سیرۃالنبیﷺ اور حاکموں کےحقوق۔

دورۂ تفسیر قرآن کریم

۶ شعبان المعظم ۱۴۳۹ھ مطابق۲۲ اپریل ۲۰۱۸ بروز اتوارسے سالانہ دورۂ تفسیر قرآن کریم و محاضرات قرآنی کا آغازکیا گیا جو ۲۷ شعبان بمطابق ۱۴ مئی تک جاری رہا۔ حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب مدظلہ نے  سورۃ فاتحہ ،البقرہ ،آل عمران،النساء اور آخری پارہ کی ، جبکہ مولانا فضل الہادی صاحب نے سورۃ الاعراف، الانفال، التوبہ، ارض القرآن ،جغرافیہ کے تحت آنے والی سورتوں کی تفسیر پڑھائی ۔ سورۂ یونس،رعد،ابراہیم ،النحل ،بنی اسرائیل اور الحج کی تدریس مولانا ظفر فیاض صاحب مدرس  جامعہ  نصرۃالعلوم  نے کی، جبکہ قرآن کریم کے باقی حصوں کی تدریس مولانا محمد یوسف، مولانا حافظ محمد رشید،مولانا عمار خان ناصر اور مولانا وقاراحمد نےکی ۔اس کے علاوہ مختلف موضوعات پر محاضرات بھی ہوئے جن میں مولانا فضل الہادی  صاحب نے ”ارض القرآن“ کے موضوع پر،مولانا احسان الحق نے ”مشکلات القرآن “کے موضوع پر ،مولانا وقار احمدو مولانا اورنگزیب اعوان نے ”امام شاہ ولی اللہ ؒسےمولانا عبیداللہ سندھیؒ تک“  کے موضوع پر ،مولانا عبدالرشید نے ”اصول تحقیق“ کے موضوع پر ،مولانا محمد عثمان اور مولانا محمد سرور نے کیرئر کونسلنگ کے موضوع پر ،پروفیسر محمداکرم ورک صاحب نے”استشراق“ کے موضوع پر اور مولانا منیر احمد علوی صاحب نے”ختم نبوت و قادیانیت“ کے موضوع پر  لیکچر دیے ۔


الشریعہ اکادمی