دینی مدارس کے فضلا کا یورپی ممالک کا مطالعاتی دورہ ۔ مختصر روداد اور تاثرات

مولانا محمد رفیق شنواری

جرمنی کی ایرفرٹ یونی ورسٹی کی طرف سے دینی مدارس کے طلبہ کے بعد وہاں کے ایک تحقیقی ادارے میکس پلانک فاؤنڈیشن (Max Foundation۔Planck ) کی دعوت پر دینی مدارس کے فضلا بھی یورپ کے دورہ سے ہو آئے ہیں۔ اس دورے کی مختصر روداد ، تاثرات اور اس کے انتظام و انصرام کے بارے چند گزارشات پیش کی جاتی ہیں۔ 

میکس پلانک فاؤنڈیشن کا تعارف اور دورے کا مقصد 

سب سے پہلے میکس پلانک سوسائٹی کے بارے میں جاننا ضروری ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے نتیجے میں جرمنی، بکھرنے کے بعد جب دوبارہ لڑکھڑاتے وجود کے ساتھ ابھرنے لگا تو مختلف شعبوں میں حکومت کو رہنمائی فراہم کرنے کی خاطر 1948ء میں اس ادارے کو قائم کیا گیااور اس سے پہلے 1911ء میں قائم ہونے والا ادارہ Kaiser Wilhelm Society بھی اس میں ضم کر دیا گیا۔ کارکردگی اور کام کے معیار کی بدولت میکس پلانک اس وقت ایک ادارے کی شکل میں ایک عمارت کے اندر محصور نہیں بلکہ جرمنی سے باہر دیگر یورپی ممالک اور امریکہ تک اس کا دائرہ وسیع ہو چکا ہے اوراس وقت سو سے زائد ادارے اس سوسائٹی کے زیر نگرانی کام کر رہے ہیں۔ ان سب اداروں کو تین بنیادی شعبوں میں تقسیم کیا گیا ہے: میڈیکل سائنسز ، کیمسٹری و ٹیکنالوجی اور ہیومینیٹیز۔ پھر ہر کیٹگری میں مزید کئی ادارے کام کر رہے ہیں۔ یہ تمام ادارے انتظامی طور پر ایک دوسرے سے آزاد ہیں اور وسائل کی فراہمی میں اپنی مدد آپ کے تحت کام کرتے ہیں۔ لیکن ان سب کا معیار میکس پلانک سوسائٹی کی سطح پر برقرار رکھنے کے لیے ان سب کی کڑی نگرانی ہوتی رہتی ہے۔ Kaiser Wilhelm Instituteکے تحت 1924ء میں Kaiser Wilhelm Institute for Comparative Public Law and International Law کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا گیا تھا۔ 1948ء میں یہ ادارہ بھی میکس پلانک میں ضم ہو گیا جس کا نام MaxPlanck Institute for Comparative Public Law and International Law پڑ گیا جسے مختصر کر کے میکس پلانک فار انٹرنیشنل لا (MPIL)بھی کہا جاتا ہے۔ اس کا دفتر ہائیڈل برگ یونی ورسٹی کے نیو کیمپس میں قائم ہے اور اور اس کے اجلاسات بھی اسی یونیورسٹی کے لا سکول میں ہی منعقد ہوتے رہتے ہیں۔ میکس پلانک فار انٹرنیشنل پیس اینڈ رول آف لا (MPIL) کے کچھ لوگوں نے 2013ء میں ایک نیا ادارہ Max-Planck Foundation for International Peace and the Rule of Law (جس کی طرف آگے میکس پلانک فاؤنڈیشن کے الفاظ کے ساتھ اشارہ کیا جائے گا) قائم کیا۔ اس ادارے کا بنیادی مقصد کسی بھی ملک کے لیے دستورسازی یا آئین میں ترامیم و اصلاحات لانے یا کسی بھی مسئلے سے متعلق قانون سازی میں تعاون مہیا کرنا ہے۔ دینی مدارس کے لیے ورکشاپ اور جرمنی کے دورے کا انتظام اسی میکس پلانک فاؤنڈیشن نے کیا تھا۔ 

ایک دور دراز اور خوش حال ملک کے ادارے کا پاکستان کے ستم زدہ اداروں کے تعلیم یافتگاں کے ساتھ مل بیٹھنے سے آخر کیا مقصد ہو سکتا ہے؟ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس وقت دہشت گردی بلا شبہ ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے۔ دوسری طرف عالمی سطح پر اسلام، اسلامی تعلیمات ، روایات و اقدار کے مراکز یعنی دینی مدارس اور ان سے نکلنے والے علما و فضلا کے ساتھ اس مسئلے کو پیوستہ کرنے کی کوششیں بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ وطن عزیز میں بھی بین الاقوامی دباؤ کے تحت ہر حکومت مدارس کے بارے میں کوئی نہ کوئی قدم اٹھاتی رہی ہے۔ اس تناظر میں مدارس اور مدارس کے فضلا ملکی و بین الاقوامی دونوں پہلوؤں سے چھان بین اور تحقیق کا موضوع بن گئے جس پر کافی حد تک لکھا گیا اور لکھا جا رہا ہے۔ دیگر اداروں کی طرح اس ادارے نے بھی ایک مستقل پروجیکٹ کی شکل میں اس پر کام کا آغاز کیا۔ اس دورے کا مقصد بھی یہ بتایا گیا کہ مدارس میں تعلیم و تربیت پانے والے فضلا کے بارے میں میڈیا کے پراپیگنڈا اور دیگر تعصب اور دین دشمنی پر مبنی نام نہاد تحقیقی رپورٹس پر اندھے اعتماد کی بجائے براہ راست ان کے ساتھ بیٹھ کر ان کی سوچ، اندازِ فکر، اور ان کے ہاں صحیح اور غلط میں تمیز کے پیمانوں کو دیکھا جائے اور اسی طرح یہ کہ انھیں بین الاقوامی اداروں میں لے جا کر عالمی سطح کے سیاسی و قانونی فیصلوں میں کلیدی کردار ادا کرنے والے لوگوں اور وہاں کے طریقہ کار کا مشاہدہ کرایا جائے تاکہ دنیا کو ان کی حقیقی تصویر اور تعمیری کردار کے بارے میں آگاہ کیا جا سکے۔ مزید یہ کہ بین الاقوامی اداروں اور مدارس کے درمیان ایک براہِ راست رابطہ پیدا ہونے سے ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع میسر ہوگا۔ 

ظاہر ہے، اتنا بڑا مقصد ایک ہی دورے سے حاصل کرنا اور محض بارہ افراد سے ہزاروں اداروں اور لاکھوں افراد کی سوچ اور ذہنی رویوں کے متعلق جاننا مشکل بلکہ ناممکن ہے؛ اسی لئے اس ادارے نے اس کام کو ایک سلسلہ وار پروجیکٹ کے طور پر انجام دینے کا فیصلہ کیا ہے اور یہ اس کا صرف پہلا حصہ تھا۔ اس ادارے کے لوگوں نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ مسلم معاشرے میں عام علما کی بہ نسبت مفتیانِ کرام کا اثر زیادہ ہوتا ہے اور عوام اپنے ہر طرح کے مسائل میں انھی سے رہنمائی لیتے ہیں اور انھی کی بتلائی ہوئی باتوں (فتاویٰ) پر عمل کرتے ہیں۔ اس لحاظ سے اس پروگرام کا اگلا حصہ سند یافتہ مفتیانِ کرام کے لیے ہوگا۔ 

پاکستان میں ورکشاپ

اس پروگرام کا آغاز بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی اسلام آباد کے ذیلی ادارے شریعہ اکیڈمی کے تعاون سے ایک ورک شاپ کے انعقاد سے کیا گیا۔ ملک کے مختلف حصوں سے پانچوں مسالک کے مدارس سے تقریباً پچاس فضلا اس میں شریک ہوئے۔ تمام فضلا کے رہنے کا انتظام اسلام آباد کے ایک فور سٹار ہوٹل میں کیا گیااور کلاسز فیصل مسجد کے احاطے میں واقع شریعہ اکیڈمی میں ہوتی رہیں۔ 

یہاں ایک بات کی وضاحت مناسب ہوگی۔ وہ یہ ہے کہ اکثر لوگوں کو بشمول ہمارے چند شرکا کے، اتنے مہنگے ہوٹلوں میں رہائش نیز بڑے پیمانے پر کیے جانے والے اخراجات سے اس ورک شاپ کے مقاصد اور اس ادارے کی نیت پر شک سا ہونے لگا کہ مدارس کے فضلا پر اس قدر اخراجات سے آخر ان کا کیا مقصد ہو سکتا ہے؟ راقم کا ذاتی تاثر یہ ہے کہ اس شک کی وجہ شاید ترقی یافتہ یورپ کے ایک مضبوط اکانومی پر قائم ملک کے ادارے اور پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے مدارس کے طرز معاشرت کے درمیان پایا جانے والا فیصلہ ہے۔ مدارس کا طرز زندگی کم وسائل پر قائم ہے، پاکستان کے عام شہری کے طرز زندگی سے بھی فروتر ہے۔ میرے خیال میں مالی وسائل سے مالامال ادارے کے لیے ایک بیرونی ملک میں ایک حساس مسئلے پر ورکشاپ پر اتنے اخراجات شاید ان کے نقطہ نظر سے معمول کی بات ہے۔

بہرحال پانچ ہفتوں پر مشتمل ورکشاپ کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا۔ پہلے دو حصوں میں تمام شرکا کو Public International Law اور Constitutional Law پڑھائے گئے۔ تدریس کی ذمہ داری اٹھانے والے ہر مضمون پر اتھارٹی سمجھے جانے والے قومی و بین الاقوامی سطح کے مشہور و معروف پروفیسرز نے اٹھائی ، جن میں سے بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی کے نائب صدر اور شریعہ اکیڈمی کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر محمد منیر، پروفیسر ڈاکٹر محمد مشتاق احمد نے بین الاقوامی قانون اور فقہ السیر کے مضامین پڑھائے، پروفیسرڈ اکٹر عزیز الرحمن، سپریم کورٹ کے سینئر وکیل جناب حامد خان اور پروفیسر ڈاکٹر محمد زبیر عباسی نے کانسٹی ٹیوشنل لا، کانسٹی ٹیوشنلزم، ان کے اسلامی تعلیمات سے تقابل اور پاکستان میں دستور سازی کی تاریخ کے مطالعہ کی ذمہ داری اٹھائی۔ ان حضرات کے ساتھ میکس پلانک فاؤنڈیشن کی جانب سے تشریف لائے Dr. Mixmalion Sphor نے ہیومن رائٹس لا کا مضمون پڑھایا۔ دو ہفتے کا یہ دورانیہ یقیناًہمارے لئے خرد افروزی اور فکر کی تازہ کاری کا ایک بہترین موقع تھا جس سے سب شرکا نے خوب فائدہ اٹھایا۔ 

تدریسی دورانیہ ختم ہونے کے بعد ایک ہفتہ کی چھٹی کی سہولت کے ساتھ آخری ہفتے میں ہر شریک کورس کوایک موضوع پردس سے بارہ صفحات پر مشتمل تحقیقی مضمون تیار کر کے پریزینٹیشن دینے کے لیے کہا گیا۔ ہر شریک کو پریزینٹیشن کے لیے پچیس منٹ کا وقت دیا گیا، دیگر تمام شرکا کی طرف سے سوالات جوابات کا سلسلہ بھی ہوا اور آخر میں پروفیسر ڈاکٹر محمد مشتاق احمداورمیکس پلانک فاؤنڈیشن کے سربراہ Dr. Tillman Roder کی جانب سے اسے مزید بہتر بنانے کے لیے تجاویز بھی دی گئیں۔ 

اس کے بعد دو ہفتے کے وقفے کے ساتھ اپنے مضامین کو حتمی شکل دے کر بھیجنے کے لیے کہا گیا اور اس ادارے کے اسکالرز کی طرف سے تمام مضامین کا جائزہ لینے کے بعد جرمنی کے دورے کے لیے بارہ منتخب شرکاء کے ناموں کا اعلان کیا گیا۔ ان بارہ افراد کے اسمائے گرامی یہ ہیں :

۱۔ مفتی محمد تاج ، فاضل جامعہ دارلعلوم کراچی 

۲۔ مفتی احمد افنان ، فاضل جامعہ دارلعلوم کراچی

۳۔ مولانا محمد صادق کاکڑ، فاضل جامعہ بنوریہ عالمیہ سائٹ کراچی

۴۔ مولانا محمدمعین الدین شاہ جمالی ، فاضل دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف سرگودھا

۵۔ مولانا محمد رفیق شنواری ، فاضل جامعہ امداد العلوم الاسلامیہ پشاور

۶۔ مولانا ذیشان حیدر ، فاضل جامعہ اشرفیہ لاہور

۷۔ مولانا بہرام خان ، فاضل جامعہ دارالعلوم کراچی

۸۔ مولانا عثمان اکبر ، فاضل جامعۃ الرشید کراچی

۹۔ مولانا محمد شہزاد، فاضل جامعہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ 

۱۰۔ مولانا ڈاکٹر نعیم الدین ، فاضل دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف سرگودھا

۱۱۔ مولانا عبدالحمید ، فاضل مرکز الدعوۃ السلفیۃ، فیصل آباد

۱۲۔ مولانا محمد یوسف، فاضل دارالعلوم محمدیہ غوثیہ،گجرات

جرمنی میں ورکشاپ 

ای میل کے ذریعے ہمیں پاسپورٹ لے کر جرمن ایمبیسی جانے، ویزا لے کر فلائیٹ کی تاریخ اور وہاں کی تمام مصروفیات کی ترتیب سے متعلق معلومات ملتی رہیں۔ ویزا لینے کے بعد کراچی، لاہور اور اسلام آباد سے ٹرکش ایئر لائن کی چھبیس اکتوبر صبح چھ بجے والی فلائیٹ سے استنبول روانہ ہوئے۔ استنبول میں ہم سب ساتھی ایک ہی طیارے کے ذریعے جرمنی کے فرانکفرٹ شہر ظہرکے وقت پہنچے، اور وہاں سے بس کے ذریعے جرمنی کے دوسرے شہر ہائیڈل برگ روانہ ہوئے جہاں میکس پلانک فاونڈیشن ہے اور وہیں ہمارا قیام طے تھا۔ اگلے روز یعنی پیر کے دن سےAdam Walker کے ساتھ جو خود یونی ورسٹی آف ہالینڈ میں علوم الحدیث میں پی ایچ ڈی اسکالر تھے، ہماری ورکشاپ شروع ہوئی۔ Adam Walker کا تعلق برطانیہ سے ہے، ہائیڈل برگ یونی ورسٹی کے شعبہ قانون کے پی ایچ ڈی اسکالرز کے ساتھ فاؤنڈیشن کی عمارت میں فاؤنڈیشن ہی کی درخواست پر ریسرچ میتھڈالوجی کا مضمون پڑھاتے ہیں۔ عربی زبان پر عبور کے ساتھ ساتھ عربی الفاظ بھی خوب صورتی کے ساتھ ادا کرنے پر قدرت رکھتے تھے۔ پی ایچ ڈی کی ڈگری کے لیے حدیث المنزلہ پر تحقیقی کام کر رہے ہیں۔ اب تک آغاز سے لے کر امام سیوطی تک اس حدیث کے ایک سو چوہتر طرق جمع کر چکے ہیں۔ خود ایک پاکستانی اسکالر جناب ڈاکٹر افتخار زمان کے کام کے بڑے مداح تھے، اور جہاں تک میں نے ان کے اور ڈاکٹر افتخار زمان کے کام کا جائزہ لیا تو ان کا انداز اور اسلوبِ تحقیق بھی جناب ڈاکٹر افتخار زمان سے مشابہ تھا۔ طبقات ، رجال، مصطلح الحدیث اور حدیث کی کتابوں پر ہونے والے کام پر گہری نظر رکھتے تھے۔ 

ہم ان کے ساتھ چائے اور کھانے کے وقفے میں بھی اکثر علمی موضوعات پر گفتگو کرتے تھے۔ ہمارے بعض ساتھیوں کی صلاحیت اور کتب شناسی سے کافی متاثر ہوئے۔ اپنی گفتگو میں بہ تکرار یہ کہتے رہے کہ آج تحقیق کی دنیا میں مغربی معیاراور اسلوب کو ہر جگہ اپنایا جاتا ہے۔ یہ ایک الگ بات ہے کہ چند موضوعات یا سائنسی علوم میں یہ درست ہو، لیکن کلی طور پر اور تمام علوم میں بے جا انفعالیت کے ساتھ اس کو تسلیم کرنا ہر گز درست نہیں۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ مغرب باقی دنیا کی مرعوبیت اوربے جا انفعالیت والی سوچ اور ذہنیت سے فائدہ اٹھا کر اسلامی علوم کو بھی دلیرانہ موضوعِ تحقیق بنا رہا ہے اور دنیا میں اسلام کی من مانی تعبیر پیش کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں شاید مغرب میں کچھ مثبت اور صحیح معنوں میں تحقیقی کام بھی ہوئے ہیں۔ اس کی مثال میں جناب ڈاکٹرافتخار زمان کے کام کا حوالہ دیتے۔ مزید یہ بھی کہتے کہ جناب ڈاکٹرافتخار زمان کا مقالہ غیر مطبوعہ ہونے کے باوجود مغربی دنیا میں علوم الحدیث میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے پی ایچ ڈی کے مقالوں میں سے ہے، اور مسکرا کر کہتے کہ میرا نہیں خیال کہ ان کو اس بات کا پتہ بھی ہو۔ اسلامی علوم میں تحقیق کے مغربی اصول و اسلوب پر گفتگو کے دوران ہمیں اس بات کی ترغیب دیتے رہے کہ آپ لوگوں کو شریعت اور تمام اسلامی علوم کو براہِ راست مصادر سے سمجھنے پر قدرت حاصل ہے۔ اس کا فائدہ اٹھاکر مغربی زبان و اسلوب میں ساری دنیا میں مانے جانے والے تحقیق کے اس فورم پر اپنا کردار ادا کریں۔ تحقیق کے اس مسلمہ فورم پر اسلامی علوم کے اعتبار سے نااہل لوگوں کے کام کو تنقید کا نشانہ بنا کر اور ہمیں آگے بڑھ کر اس فورم پر کردار ادا کرنے پر آمادہ کرنے کے لیے انہوں نے دو روزہ ورکشاپ میں تحقیق و تنقید کے اصول و قواعد تفصیل سے پڑھائے اور اس کے بعد واشنگٹن لاء ریویو میں اسلام پر شائع شدہ دو تحقیقی مقالے ہمیں دیے اور کہا کہ تحقیق و تنقید کے اصولوں کی بنیاد پر آپ لوگ ان مقالوں کا تنقیدی نگاہ سے مطالعہ کریں اور یہ سامنے رکھتے ہوئے کہ تحقیق کی دنیا میں اس رسالے کا کیا مقام و مرتبہ ہے، دیکھیں کہ یہ مقالے کس حد تک اس معیار پر پورا اترتے ہیں۔ 

تین دن تک تحقیق و تنقید کے اصول و قواعد پڑھنے کے بعد ہمیں مغربی مصنفین کے دو تحقیقی مقالوں کا اجتماعی تنقیدی مطالعہ کرایا جن سے ایک تو ان قواعد کی تمرین ہوئی اور دوسرا تحقیق کی دنیا میں قدر کی نگاہ سے دیکھے جانے والے مغربی فورمز پر کچھ متعصب اور نا اہل لوگوں کا تسلط بھی دیکھا اور یہ احساس ہوا کہ مدارس کی چار دیواری سے باہر بھی تحقیق کی دنیا میں اسلام اور شریعت کو اصل مصادر و مراجع سے براہِ راست سمجھنے کی صلاحیت رکھنے والے علما کو کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد انھی اصولوں پر بعض شرکا کے تحقیقی مضامین کا جائزہ لیا گیا اور فرداً فرداً ہر ایک کو اس کے مضمون سے متعلق تجاویز دی گئیں۔ 

میکس پلانک انسٹی ٹیوٹ کے مرکزی کتب خانے کا دورہ 

ورکشاپ کی صورت میں مقالہ جات کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ لینے کے بعدمیکس پلانک فار انٹرنیشنل پیس اینڈ رول آف لا (MPIL) کے مرکزی کتب خانے کے دورے کا پروگرام طے تھا۔ بدھ، یکم دسمبر کی یخ بستہ سہ پہر کو صاف ستھری سڑک پر بیس منٹ تک پیدل چل کر ہم ایک پر شکوہ عمارت میں داخل ہوئے۔ یہ دفاتر، ریڈنگ ہال اور بعض خفیہ و اہم دستاویز ات کے لیے مخصوص مکانات پر مشتمل میکس پلانک فار انٹرنیشنل پیس اینڈ رول آف لا کا مرکزی کتب خانہ تھا۔ پاکستانی علما کا سن کر اس لائبریری کے پرانے اور ریٹائرڈ لائبریرئن جوشم شوائتسکے ہمارے وفد کا استقبال کرنے اور کتب خانے کا وزٹ کرانے کے لیے ذاتی دلچسپی سے تشریف لائے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ سقوطِ برلن کے بعد جرمنی جب دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی کوشش میں تھا تو میکس پلانک فار انٹرنیشنل پیس اینڈ رول آف لا کو جرمنی کے سرکاری اداروں کو ملکی استحکام اور بین الاقوامی سطح کے معاملات طے کرنے نیز اس سب میں مذہب کا کردار متعین کرنے میں مدد مہیا کرنے کا فرض سونپا گیا تھا۔ اس لیے اس ادارے کو عالمی سطح کی کتابیں، مجلات اور خفیہ و تاریخی رپورٹیں جمع کرنے میں ریاستی وسائل فراہم تھے۔ ادارے کی اس ذمہ داری کو دیکھتے ہوئے اس کے کتب خانے کے لیے بنیادی طور پر چار طرح کی کتابیں اور معلومات اکٹھی کرنا اولین ترجیح ٹھہرا:

1. Public International Law

2. Constitutional Law

3. Theory of Law (Jurisprudence)

4. Religion

مذہب کی کتابیں جمع کرنے کا مقصد صرف دینیات اور مذاہب کی تعلیمات میں تحقیق نہیں تھا، بلکہ ہر مذہب کو اصل بنیادوں اور اس کی تعلیمات کی روح کے ساتھ سمجھ کر ان کے ریاست کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کو متعین کرنے اور اس بارے میں اپنے عوام کے ساتھ اعتماد و اطمینان کا رشتہ قائم کرنے میں ریاستی اداروں کو سہولت فراہم کرنا تھا۔اسی طرح ملک کے داخلی نظام میں استحکام پیدا کرنے اور اپنی ترجیحات کے حصول کی خاطر قانون اور دستور سازی میں کوئی خاص اور موافق منہج ڈھونڈھنے اور اختیار کرنے کے لیے اصولِ قانون کی کتابیں بھی جمع کی گئیں تاکہ قانون سازی اور قانون کی تعبیر و تشریح کے لیے مختلف قانونی نظریات (Legal theories) کا مطالعہ و تحقیق بھی کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ دیگر ریاستوں کے ساتھ معاملات طے کرنے میں مدد فراہم کرنے کی خاطر بین الاقوامی قانون کی کتابیں بھی اکٹھی کی گئی۔ اسی سلسلے کی ایک انتہائی اہم اور تاریخی دستاویز 1648 کی پیس آف ویسٹ فالیہ بھی تھی جس کی بنیاد پر یورپی اقوام کی تقسیم ہوئی تھی اور نیشن اسٹیٹ کا تصور بھی اسی سے پھوٹا تھا۔ اس دستاویز کو تاریخی اور غیر معمولی اہمیت کے حامل ہونے کی وجہ سے انتہائی محفوظ جگہ پر رکھا گیا تھا۔ کتب خانے میں کافی پرانی کتابیں، رسائل اور خفیہ اور نایاب رپورٹیں انتہائی اہتمام کے ساتھ، دل فریب ترتیب اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے سائنٹیفک انداز میں رکھی گئی تھی۔ میری ذاتی دلچسپی قانون سے تھی، اس لئے قانون سے متعلق کوئی شیلف سرسری طور پر ہی سہی، دیکھے بغیر آگے نہیں گزرا۔ بالخصوص امریکی جامعات کے مجلات ہارورڈ لاء ریویو، واشنگٹن لاء ریویو ، نیو یارک لاء ریویو وغیرہ اور عرب لاء کوارٹرلی کے علاوہ بھی کافی وقیع جرائد و مجلات کی پرانی فائلیں مکمل پڑی ہوئی نظر آئیں۔ یہیں پہلی بار ہم نے سلطنت عثمانیہ کا آئین قدیم اردو نما ترکی رسم الخط میں دیکھا۔ 

اس لائبریری میں مختلف خفیہ ایجنسیوں کی خفیہ رپورٹس بھی موجود تھیں۔ ہمیں چائنیز ایجنسیوں کی کچھ رپورٹس بھی دکھائی گئیں۔ پی ایل ڈی اور دیگر کئی درجن پاکستانی مطبوعات دیکھ کر دل میں ایک خوشگوار حیرت کا احساس ناگزیر تھا۔ کتابوں کی کثرت کے پیش نظر زیادہ سے زیادہ جگہ کو استعمال میں لانے کے لیے شیلفوں کو ایک بٹن دباکر آگے پیچھے دھکیلنے کا انتظام کیا گیا ہے اور صفائی کا عالم یہ ہے کہ ایسی شیلفیں جہاں میرے خیال میں شاید ہی کوئی جاتا ہو، وہاں ہاتھ پھیر کر بھی کہیں گرد محسوس نہیں کی گئی۔ سچ یہ ہے کہ یہاں کتاب دوستی کا عالم دیکھ کر بہت تعجب بھی ہوا اور اپنے یہاں کے حالات اور اس باب میں اپنی پستی پر افسوس بھی۔

میکس پلانک انسٹی ٹیوٹ کے مرکزی کتب خانے کے دورے کے بعد ہم نے جمعرات اور جمعہ کے دو دن اپنے مقالات پر نظر ثانی اور مزید بہتر کرنے پر صرف کیے۔ اس دوران ہم نے انسٹی ٹیوٹ اور فاؤمڈیشن دونوں کے کتب خانوں سے استفادہ کیا۔ ٰاؤنڈیشن میں کتابوں کا ذخیرہ کم مگر عالمی طباعتی اداروں کی گراں قدر اور بیش قیمت نیز اعلیٰ معیار کی تحقیقی کتابوں پر محیط تھا۔ اسی طرح اس دورے کا پہلا ہفتہ جو ورکشاپ اور اپنے مقالات پر نظر ثانی اور مزید بہتر کرنے کے لیے مختص تھا، جمعے کو ختم ہوا۔ 

ہفتے اور اتوار کے دو دن ہمیں ذاتی طور پر سیر و تفریح یا کسی دوست عزیز سے ملنے کے لیے دیے گئے۔ اکثر دوست سیر تفریح کے لیے سوٹزرلینڈ چلے گئے۔ سوٹزرلینڈکی خوب صورتی واقعی بے مثال ہے۔ سرسبز پہاڑ ہیں اور بہتی نہریں جن کے کناروں پر صاف ستھری اور کشادہ سڑکوں کا جال بچھایا گیا ہے۔ پہاڑوں پر چڑھ کر برف پوش چوٹیوں، ان کے درمیاں اڑتے بادل کے ٹیلوں اور نیچے زمین کی ہریالی اور درختوں کا نظارہ کرنے کے لیے حکومت نے بجلی سے چلنے والی ریل کا نظام بنایا ہے جو سطح زمین سے اوپر پہاڑ پر چڑھتی ہے۔ نہروں اور ان میں آبشاروں سے گرتے پانیوں کے منظر سے محظوظ ہونے کے لیے کشتیاں چلائی گئی ہیں جن کو کسی بھی مشکل صورت حال سے نمٹنے کے لیے تین سے چار منٹ میں پہنچنے والے ہیلی کاپٹرز سے جوڑا گیا ہے۔ سب سے اہم اور بنیادی چیز یہ کہ زائرین کے لیے امن کو یقینی بنایا گیا ہے جس کی وجہ سے یہ ملک ساری دنیا سے سیاحوں کا مرکز بن چکا ہے جو اس ملک کی آمدنی میں غیر معمولی اضافے کا سبب بن رہا ہے۔ اس حسین اور خوب صورت ملک میں انتہائی نظم و ضبط، صفائی ستھرائی کے غیر معمولی اہتمام اور اس کو حسین و محفوظ رکھنے کے لیے یہاں کے رہائشیوں میں احساس و شعور نے یقیناًاس کے قدرتی حسن کو زیادہ پر کشش اور قابل دید بنا دیا ہے۔ قدرتی حسن کی یہاں پاکستان میں بھی کمی نہیں اور نہ بھر پور طریقے سے محظوظ ہونے کے لیے انتظامات ناممکن ہیں، لیکن امن کے فقدان نے ساری دنیا کے سیاحوں کو اس ملک کے حسن سے لطف اندوز ہونے سے محروم کر دیا ہے۔ اگر امن کی نعمت اس ملک کے نصیب میں آ جائے تو یہ ملک بھی عالمی سیاحوں کا مرکز بن سکتا ہے۔ حکومتی انتظامات اور نظام کی بہتری تو کافی حد تک اس کی آمدنی میں اضافے کا سبب بھی بنیں گے۔ 

بہرحال دو دن سوٹزرلینڈ میں گذارنے کے بعد اتوار کو تقریباً رات دس بجے واپس جرمنی پہنچ گئے۔ 

فیڈرل کا نسٹی ٹیوشنل کورٹ آف جرمنی کا دورہ 

ہمارا دوسرا ہفتہ مختلف اداروں کے وزٹ کے لیے طے تھا۔ اس سلسلے میں پہلا دورہ جرمنی کے کانسٹی ٹیوشنل کورٹ کا کیا گیا۔ کانسٹی ٹیوشنل کورٹ ہائیڈل برگ سے کئی کلومیٹر کے فاصلے پر کارلسرو شہر میں واقع ہے۔ چھ دسمبر بروزِ پیر صبح آٹھ بجے ریل کے ذریعے کارلسرو کے لیے روانہ ہوئے۔ ہماری ملاقات کانسٹی ٹیوشنل کورٹ کے جسٹس ڈاکٹر میڈاؤسکی کے ساتھ طے تھی۔ فاضل جسٹس انتہائی خوش مزاج اور متواضع انسان تھے۔ ہماری آمد کی اطلاع ملتے ہی خود استقبال کے لیے آئے اور جب اپنا تعارف کروایا تو ہم سب اعلیٰ عدلیہ کے ایک جسٹس کے یوں استقبالیہ پر آنے پر ایک دوسرے کوتعجب سے دیکھنے لگے۔ استقبالیہ سے جسٹس صاحب خود ہی ہمیں عدالت کا وزٹ کرانے لے گئے، بالخصوص کورٹ روم جہاں کیسز کی سماعت اور فیصلے ہوتے ہیں۔ کورٹ کی ساری عمارت شیشے کی بنی ہوئی ہے جس کی وجہ انہوں نے یہ بتائی کہ چونکہ ہماری ساری کارروائی پبلک ہوتی ہے، اس لیے کسی کا بھی حق ہے کہ جب چاہے ہماری کارروائی دیکھ سکتا ہے جس کے لیے کورٹ کے اندر جانے کی بھی ضرورت نہیں بلکہ شیشے کی دیوار سے بھی دیکھ سکتا ہے۔ کر انہوں نے ایک واقعہ سنایا کہ پچھلے مہینے رات دس بجے میں اپنے چیمبر میں بیٹھا کام کر رہا تھا کہ ایک بندہ سامنے سڑک پر گزرا۔ وہ شراب کے نشے میں تھا۔ مجھے دیکھ کر اس نے زوردار آواز میں کہا کہ Thank you for working for me this hour ( اتنی دیر تک ہماری خدمت کرنے کے لیے آپ کا شکریہ )۔ 

اس کے بعد ہمیں ایک ہال میں لے جایا گیا جہاں فاضل جسٹس نے جرمنی کے عدالتی نظام، اسٹرکچر اور Hierarchy (عدالتوں کے مراتب) کے بارے میں بریفنگ دی۔ عدلیہ کی آزادی کا بار بار فخر کے ساتھ ذکر کرتے رہے۔ جرمنی سول لاء کے نظام پر قائم ملک ہے، اس لئے وہاں کا عدالتی نظام پاکستان اور کامن لا نظام پر قائم ملکوں سے مختلف ہے۔ جرمنی میں عدلیہ Inquisitorial system پر قائم ہے جہاں عدالت خود بھی کسی کیس کے حقائق تک پہنچنے میں شامل ہوتی ہے جب کہ کامن لا کے نظام پر قائم ملکوں میں Adversarial System پر عمل ہوتا ہے جہاں عدلیہ کی حیثیت فریقین کے درمیان ایک غیر جانب دار منصف کی ہوتی ہے اور وہ خود کیس کے حقائق معلوم کرنے میں مشغول نہیں ہوتی۔ جسٹس صاحب نے ہم سے بھی کافی سوالات پوچھے۔ فتویٰ کے بارے میں انہوں نے تفصیلی بریفنگ لی۔ بالخصوص بہ تکرار یہ پوچھتے رہے کہ پاکستان کے اندر ملکی قانونی نظام کے ساتھ ساتھ علما کا فتوے کا نظام یکساں کیسے چلتا ہے؟ نیز ان فتاویٰ پر عمل درآمد کروانے کا کیا نظام ہے؟ ہمارے کچھ شرکا نے جو شعبہ افتا سے منسلک ہیں، اس سوال کا تفصیلی جواب دیا کہ افتاء اور قضاء میں کئی اعتبار سے فرق پایا جاتا ہے۔ عدالتی فیصلے تو دو یا زیادہ فریقوں میں کوئی تنازع ہو تو دیے جاتے ہیں جبکہ فتویٰ عقائد وعبادات میں بھی دیا جاتا ہے جہاں دو فریقین کے درمیان نزاع نہ ہو بلکہ معاملہ خالص ذاتی نوعیت کا ہو اور کسی کو رہنمائی درکار ہو۔ دوسرا یہ کہ عدالتی فیصلہ آنے کے بعد اس پر عمل درآمد کروانے کے لیے ریاستی طاقت ہوتی ہے جبکہ فتوے کی حیثیت کوئی شرعی حکم جاننے میں مدد لینے کی حد تک ہے، اس پر زبردستی عمل نہیں کروایا جاتا۔ اس کے ساتھ انھیں شریعت کورٹ اور سپریم کورٹ کے شریعت اپیلٹ بنچ سے بھی آگاہ کیا گیا۔ 

دورانِ گفتگو ہمارے بعض ساتھیوں کی قرآن و سنت کی نصوص کی تلاوت سے کافی متاثر دکھائی دینے لگے۔ پشتو ، پنجابی یا کسی بھی مادری زبان کے علاوہ اردو کے ساتھ عربی اور انگریزی پر عبور کو بھی انہوں نے کافی سراہا۔ فاضل جج کے ساتھ ہماری ملاقات کا طے شدہ دورانیہ صرف ایک گھنٹہ تھا لیکن انھوں نے ہمیں ڈھائی سے تین گھنٹے تک وقت دیا۔ دورانِ گفتگو پر تکلف چائے کے ساتھ ہماری ضیافت بھی ہوتی رہی۔ تین گھنٹے پر محیط یہ محفل تقریباً ساڑھے بارہ بجے اختتام کو پہنچی اور ہم واپس ہائیڈل برگ کے لیے روانہ ہوئے۔ 

یورپی عدالت برائے انسانی حقوق اورکاؤنسل آف یورپ کا دورہ

اگلے دن یعنی سات دسمبر بروزِ منگل ہم نے فرانس کے لیے رخت سفر باندھا جہاں یورپ کے دو بڑے اداروں کا دورہ طے تھا۔ یہ دونوں ادارے فرانس کے شہر اسٹراس برگ میں واقع ہیں۔ سات دسمبر کی صبح ہائیڈل برگ سے جرمنی کے ایک دوسرے شہر کالسرو تک اور وہاں سے ایک تیز ترین ٹرین کے ذریعے ریاستی حدود کو محسوس کیے بغیر فرانس کے شہر اسٹراس برگ میں داخل ہوئے۔ یورپین کورٹ آف ہیومن رائٹس کی ایک جسٹس صاحبہ نے، جن کا تعلق جرمنی سے تھا، اس عدالت کی تاریخ، ساخت اور دائرہ اختیار کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ شامی مہاجرین کے بارے میں اس عدالت کے کردار کو خاص طور پر وضاحت کے ساتھ اجاگر کیا اور فخر سے کہا کہ ہم نے تمام یورپی ریاستوں کوشامی مہاجرین کو اپنے ملک واپس بھیجنے سے منع کیا ہے۔ اس کے بعد سوال و جواب کی نشست ہوئی جس میں زیادہ تر موضوع گفتگو سزائے موت کا خاتمہ ، مرد و عورت کی کلی مساوات اور اسکارف کے مسائل رہے۔ اسلوب بیان اور تعبیر پر قدرت کے علاوہ جج صاحبہ اپنی گفتگو کے دوران اس عدالت کے مختلف کیسز کا حوالہ دیتی رہیں جس سے قانونی نظائر (Precedents) کے ساتھ ان کے تعامل کا اندازہ ہوتا رہا۔ یورپین کورٹ آف ہیومن رائٹس میں ایک فریق لازماً کوئی یورپی ریاست ہوتی ہے جب کہ دوسرا فریق کوئی شکایت کنندہ ہوتا ہے جو اپنی کسی حق تلفی کی تلافی کے لیے اس عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے۔ یہ عدالت بنیادی طور پر یورپین کنونشن آن ہیومن رائٹس، اور خصوصی حالات میں دوسرے بین الاقوامی معاہدات کی روشنی میں فیصلے کرتی ہے۔ عدالت کا فیصلہ آخری اور حتمی ہوتا ہے اور اس کے پچانوے فیصد فیصلوں پر عمل در آمد بھی ہوتا ہے۔ تاہم بعض حالات میں کوئی ریاست فیصلے کو ماننے سے انکار بھی کر دیتی ہے۔ 

اس عدالت میں کاؤنسل آف یورپ کی ممبر یورپی ریاستوں سے ایک ایک جج آتا ہے جس کا طریقہ کار یہ ہے کہ ریاست کی طرف سے نامزد کردہ تین ججز میں سے کسی ایک کا انتخاب کیا جاتا ہے جو نو سال کے ناقابل تجدید عرصے کے لیے یہاں پر کام کرتا ہے۔ اس وقت، فی ریاست ایک جج کے حساب سے، کل ۴۷ ججز یہاں کام کر رہے ہیں۔ عدالت میں دو چیمبر ہوتے ہیں۔ نچلے درجے کے چیمبر میں ۷ جج ہوتے ہیں اور اگر یہاں کے فیصلے پر مزید غور کی ضرورت ہو یا اس کے خلاف اپیل کی جائے تو ۱۷ ججز کا دوسرا بینچ بیٹھتا ہے جس کا فیصلہ حتمی ہوتا ہے اور اس کے خلاف اپیل کا حق نہیں ہوتا۔ عجیب بات یہ تھی کہ یورپین کورٹ آف ہیومن رائٹس کو جج صاحبہ ایک معجزے سے تعبیر فرما رہی تھیں اور بجا طور پر یہ ۱۹۵۰ کی دہائی کے حساب سے ایک سیاسی معجزہ ہی تھا۔ تاہم یورپینز میں سے ہی کچھ لوگوں کو اس عدالت سے شکایت ہے۔ عین عدالت کے دروازے پر ایک برطانوی شہری پتہ نہیں کتنے عرصے سے احتجاج میں لگا ہوا تھا اور چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا کہ یہ عدالت انصاف فراہم نہیں کر رہی۔ یہ عدالت ہٹلر کی وجہ سے بنائی گئی تھی، لیکن یہاں سے بھی ظلم ہی تقسیم ہوتا ہے۔کمال کی بات یہ تھی کہ اس برطانوی شخص کے حق احتجاج کا احترام کیا جا رہا تھا اور اس کو عدالت کے دروازے پر شور مچانے اور تماشا لگانے سے روکنے کے لیے کوئی پولیس والا نہیں تھا۔ اس کے علاوہ بھی عدالت کے دروازے کے سامنے دیواروں پر احتجاجی پوسٹرز آویزاں تھے۔ 

ریسٹورنٹ سے لنچ کے بعد ہمیں کاؤنسل آف یورپ میں لے جایا گیا۔ کاؤنسل ہی کے استقبالیے میں ظہر کی نماز جماعت کے ساتھ ادا کی۔ کاؤنسل آف یورپ ۴۷ممالک پر مشتمل، ۲۷ریاستوں پر محیط یورپین یونین سے الگ ایک ادارہ ہے۔ اس ادارے کی تاریخ ، فرائض اور قیام کے مقاصد کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔ اس ادارے کے قیام کا مقصد یورپ کے خونریز اور سیاہ دور سے نکلنے کے بعد تمام ممبر ریاستوں کو آئین سازی، جمہوریت کے استحکام ، انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے میں تعاون فراہم کرنا تھا اور ہے۔ کوئی بھی ریاست سزائے موت کے قانون کے ساتھ اس یونین کی ممبر نہیں بن سکتی۔ اس کاؤنسل کی عمارت کے مختلف حصوں کا دورہ کروایا گیا بالخصوص ڈیبیٹ روم جو کہ ایک فرانیسیی آرکیٹیکٹ کا ڈیزائن کردہ ایک خوب صورت اور وسیع ہال ہے۔ حال بین الاقوامی سیاست اور قانون کے منظرنامے پریہ دو نمایاں ادارے تھے جن کا وزٹ یقیناًہمارے سیاست و قانون کے فہم میں اضافے کا سبب بنا۔ ان دو اداروں کے دورے سے تقریباً عصر کے وقت فارغ ہونے کے بعد ہم جرمنی کے لیے واپس روانہ ہوئے۔ 

نیدر لینڈز میں بین الاقوامی اداروں، STL ، ICTYاور ICJ کا دورہ

جرمنی کے ملکی اور یوروپی اداروں کے ساتھ ساتھ چند بین الاقوامی اداروں کا دورہ بھی ہمارے پروگرام میں شامل تھا۔ جن اداروں میں ہم نے جانا تھا، وہ سب نیدرلینڈز کے ایک خوب صورت شہر ہیگ میں واقع ہیں۔ ہم آٹھ دسمبر بروزِ بدھ، صبح فجر پڑھتے ہی بس کے ذریعے ہیگ کے سفر پر نکلے۔ جرمنی کی ہائی وے پر بس تیز رفتاری کے ساتھ دوڑ رہی تھی اور فرانس اورجرمنی کی طرح ہمیں یہاں بھی دو مختلف ملکوں کی سرحدوں کا پتہ نہیں چلا۔ میکس پلانک فاؤنڈیشن کے نمائندے نے ہمیں نیدرلینڈز کے حدود میں داخل ہونے کی خبر دی۔ ابھی ہم نیدرلینڈز کی خوبصورت شاہراہوں کا دوڑتی بس سے نظارہ کر رہے تھے کہ ایک ساتھی کو واٹس ایپ پر پیغام موصول ہوا کہ پاکستان میں پی آئی اے کا طیارہ تباہ ہوا ہے جس میں دیگر لوگوں کے ساتھ ساتھ جنید جمشید بھی اپنی اہلیہ کے ہمراہ شہید ہو گئے ہیں۔ دیارِ غیر میں وطن عزیز سے یہ جان گسل اطلاع ملتے ہی سب ساتھیوں پر رنج و الم کی کیفیت چھا گئی اور فوراً حدیث نبوی اکثروا ذکر ھاذم اللذات(کہ لطف ختم کرنے والی شے یعنی موت کو کثرت سے یاد کیا کرو) یاد آ گئی۔ اللہ پاک تمام شہداء کی کامل مغفرت فرمائے۔ اس قوم کو ہر طرح کی آفات و مصائب سے آزمائش اپنے حفظ و امان میں رکھیں۔ 

خصوصی ٹربیونل برائے لبنان (STL) کا دورہ 

چھ گھنٹے کے طویل سفر کے بعد ہم دکھی دلوں کے ساتھ ظہر کو ہیگ پہنچے جہاں سب سے پہلے Special Tribunal for Lebanon (STL) خصوصی ٹریبونل برائے لبنان کا دورہ طے تھا۔ ٹریبونل کے استقبالیے پر مامور سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے ایک پاکستانی گارڈ سے ملاقات ہوئی۔ ان سے تعارف اور کچھ دیر تک باتیں کرنے کے بعد ایک خاتون ہمیں لینے کے لیے آئیں۔ وہ ہمیں اوپر ایک اال میں لے گئیں اور ایک دوسری خاتون نے اس عدالت کے قیام، طریقہ کار اور اب تک ہونے والے کام کے بارے میں بریفنگ دی۔ ۱۴ فروری جسے دنیا بھر میں عید محبت کی حیثیت سے منایا جاتا ہے، 2005 میں یہ دن لبنان کی سیاسی تاریخ کو ایک نیا موڑ دے گیا جب بیروت میں ایک کار بم دھماکے میں اس وقت کے وزیر اعظم رفیق الحریری اور ان کے علاوہ بائیس لوگوں کو قتل کر دیا گیا۔ دہشت گردی کی اس واردات کی تحقیقات کے لیے اقوام متحدہ نے لبنان کی درخواست اور امریکہ و فرانس کے اصرار پرتیس مئی 2007 کو ہالینڈ کے شہر ہیگ میں باقاعدہ ٹربیونل قائم کیا جس کو 10جنوری 2007میں مؤثر قرار دینے کے بعدخصوصی طور پر اس واردات کی تحقیقات سونپی گئیں اور ٹربیونل کو ’سپیشل ٹربیونل فار لبنان‘کا نام دیا گیا۔ اس ٹربیونل کے مرکزی دفتر کے علاوہ بیروت میں ایک ذیلی دفتر بھی واقع ہے۔ ٹربیونل کے ججز میں لبنان کے ججز کے علاوہ بین الاقوامی ججز بھی شامل ہیں جن کا انتخاب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل تین سال کے دورانیے کے لیے کرتا ہے۔ 

اس ٹربیونل کی خاص بات یہ ہے کہ بین الاقوامی سطح پر کسی دہشت گردی کی عدالتی تحقیقات کرنے والا یہ واحد ٹربیونل ہے۔ ابتدائی طور پر یہ ٹربیونل تین سال کے عرصے کے لیے قائم کیا گیا تھا تاہم جب تک اس کا کام ختم نہ ہو، یہ اگلے کئی سال تک کام کرتا رہے گا۔اس خاتون کی عمومی اور تعارفی بریفنگ کے بعد جانبین کے وکلاء نے فریفنگ دی اور اپنے شواہد و دلائل کا خلاصہ پیش کیا۔ ان تینوں تفصیلی بریفنگز اور سوال و جواب کی نشستوں کے بعد یہی تاثر قائم ہوا کہ یہ اقوامِ متحدہ کا قائم کردہ سہی مگر ایک کمزور و ناتواں ادارہ ہے۔ اکثر کوئی مشکل سوال پوچھے جانے پر یہی جواب ملتا کہ اس ادارے کا قیام اقوامِ متحدہ کا ایک سیاسی فیصلہ ہے اور ہم اس ادارے کے قائم ہونے کے بعد اس کے قانونی امور کو دیکھنے پر مامور ہیں۔ اس ٹریبونل کو ICTY جس کا ذکر آگے آرہا ہے ، کے ایک جج نے بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اس کا قیام محض امریکہ اور فرانس کی خواہش ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس ادارے کے لیے سب سے زیادہ فنڈنگ بھی یہی دو ملک کر رہے ہیں۔ اس ادارے کے دورے سے فراغت کے بعدیاس و نا امیدی کے ساتھ ڈھلتی شام کو تھکے ہارے ہم نے ہوٹل کا رخ کیا اور اس طرح ہمارا آج کا یہ دن آدھا سفر اور آدھا اس ادارے کی نذر ہوگیا۔ 

انٹرنیشنل کریمنل ٹریبونل فار دی فارمر یوگوسلاویہ (ICTY) کا دورہ

یوگوسلاویہ کی نوے کی دہائی انسانی بحران، نسل کشی اور جنگی جرائم کا استعارہ ہے۔ 1991سے 1999 تک سابقہ یوگوسلاویہ میں لاکھوں انسان خانہ جنگی میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے جن میں ایک بڑی تعداد بوسنیا کے مسلمانوں کی بھی تھی جو سربیا کے درندوں کے ظلم و ستم کا نشانہ بنے تھے۔ ان جنگی جرائم میں ملوث افراد کو International Criminal Law (یاد رہے کہ اس شعبہ قانون کے وضع کرنے والوں میں تین سو سے زائد تحقیقی کتب و مقالات کے مصنف مسلمان مصری نژاد امریکی پروفیسر محمود شریف بسیونی بھی شامل ہیں) کے اصولوں کے تحت مجرموں کو عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کرنے اور ان کو سزا دینے کے لیے اقوام متحدہ نے ایک ٹربیونل قائم کیا تھا جس کو International Criminal Tribunal for The Former Yugoslavia یا مختصر طور پر ICTY کہا جاتا ہے۔ اس سانحے کو سمجھنے کے لیے اس ٹربیونل کی بعض کار روائیوں ، تحقیقاتی رپورٹوں کے بعض حصوں ، متاثرہ افراد اور خاندانوں کے بیانات اور صحافیوں کے تبصروں پر مشتمل ایک لمبی ڈاکومنٹری دکھائی گئی۔ اس کے بعد اس ٹربیونل کے کردار اور اہمیت کو سمجھنے کے لیے ایک فاضل جج نے پریزینٹیشن دی۔ خصوصی ٹربیونل برائے لبنان کی بہ نسبت یہ ٹربیونل بہت کچھ کر چکا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں عرب ممالک میں ہونے والے جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کا ذکر آیا تو موصوف جج نے مسکراہٹ کے ساتھ عرب لیگ کو تنقید کا نشانہ بنایا کہ انھیں بھی ایک ایسی عدالت قائم کرنی چاہیے، لیکن بدقسمتی سے عرب مما لک ایک دوسرے کو پسند نہیں کرتے۔اس خانہ جنگی میں ملوث ہزاروں افراد پر مختلف عدالتوں میں مقدمات چلائے گئے تھے تاہم ان میں سے با اثر 161 افراد پر مقدمہ آئی سی ٹی وائی میں چلایا گیا۔ ان افراد میں اس دور کا وزیر اعظم بھی شامل ہے۔ یہ ٹربیونل زیادہ سے زیادہ عمر قید کی سزا دے سکتی ہے اور اب تک کچھ افراد کو عمر قید کی سزا دی بھی جا چکی ہے۔ یہاں سے سنائی گئی سزا پر عمل در آمد مختلف ممالک میں کیا جاتا ہے۔اس ٹربیونل کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہاں پر کسی قسم کے استثنا کا کوئی تصور نہیں ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ اس عدالت سے نامزد کوئی بھی ملزم اپنی کسی بھی حیثیت کی بنیاد پر ماورائے قانون نہیں۔ 

عدالت کا دائرہ اختیار چار قسم کے جرائم تک محدود ہے جن کا 1991 سے 1999 تک ارتکاب کیا گیا ہو۔ یہ جرائم نسل کشی، انسانیت کے خلاف جرائم، جنگی قوانین کی خلاف ورزی اور جنیوا کنونشن کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔ عدالت کے اعداد و شمار کے مطابق 38 افراد کو سزا دی جا چکی ہے جن پر عمل در آمد 41 مختلف ممالک میں ہو رہا ہے۔ 31افراد کا کیس مختلف عدالتوں کی طرف بھیجا جا چکا ہے۔ 19 افراد کو بری کر دیا گیا ہے۔ 37 افراد کا کیس کسی وجہ سے درمیان میں ہی ختم کر دیا گیا تھا۔ ایک کیس چل رہا ہے جبکہ 6 افراد نے اپنی سزا کے خلاف اپیل کی۔ اس تمام کارروائی میں عدالت نے چار ہزار سے زیادہ افراد کی گواہیاں قلم بند کی ہیں، دس ہزار سے زیادہ دن عدالت کی کارروائی چلی ہے اور پچیس لاکھ سے زیادہ صفحات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ کارروائی کے لیے خصوصی کمرہ بنایا گیا ہے جہاں مختلف نوعیت کی گواہیاں لینے اور ملزموں کے بیانات قلمبند کرانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ایک خوب صورت نظام بنایا گیا ہے۔ اس کے تعارف کے لیے بھی ایک تفصیلی پریزینٹیشن دی گئی۔

بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کا دورہ

پچھلی صدی کے نصف آخر میں بین الاقوامی فوجداری قوانین میں کافی پیش رفت ہوئی ہے۔ انہی میں سے ایک بین الاقوامی فوجداری عدالت International Criminal Court یا آئی سی سی کا قیام بھی ہے۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ ایسی کسی عدالت کے قیام کی تجویز دینے والوں میں ایک نمایاں نام عالم اسلام کا ایک نہایت مؤقر نام محمود شریف بسیونی کا بھی ہے جن کے ذکر کے بغیر بین الاقوامی فوجداری قانون کبھی مکمل نہیں ہوگا ۔ کافی کوششوں اور مذاکرات کے بعد 1998 میں اٹلی کے شہر روم میں ایک معاہدہ طے پایا جس کو روم سٹیٹیوٹ کہا جاتا ہے۔ 2002 میں روم سٹیٹیوٹ کے موثر ہوتے ہی آئی سی سی کا وجود عمل میں آ گیا جو بین الاقوامی فوجداری قانون کی تاریخ کا ایک اہم موڑ ہے۔ یہ عدالت صرف ان ممالک تک دائرہ اختیار رکھتی ہے جو روم سٹیٹیوٹ کے فریق ہیں۔ عالمی سطح پر بڑی طاقتیں مثلاً روس، امریکا اور چین اور عالم اسلام کے اہم ملک پاکستان نے اب تک اس بین الاقوامی معاہدے کو تسلیم نہیں کیا ہے جس کی وجہ سے اس عدالت کی تاثیر میں کافی کمزوری محسوس ہو رہی ہے کیونکہ عالمی سطح پر جنگی جرائم کے مرتکبین اس عدالت کے دائرہ اختیار سے باہر ہیں۔ فی الوقت اس عدالت میں جن ۳۹ افراد پر مقدمات چل رہے ہیں، وہ سب افریقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ افریقہ سے ہی تعلق رکھنے والے ممالک جنوبی افریقہ، برونڈی اور گھیمبیا نے اعلان کیا ہے کہ وہ اب اس عدالت کے فریق نہیں رہے۔ اسی طرح بین الاقوامی قانون کی وسعت پذیری کے ساتھ بین الاقوامی عدالت سکڑتی اور کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ اس عدالت کی کمزوری کی دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ اس عدالت میں کیس لے جانے کے اخراجات کافی زیادہ ہیں، اس لیے اکثر ممالک اس میں کیس لے جانے کو دولت کا ضیاع سمجھتے ہیں۔ یہ عدالت بنیادی طور پر جنگی جرائم، نسل کشی اور جارحیت جیسے جرائم پر مقدمات چلانے کا اختیار رکھتی ہے اور بالعموم ان افراد پر مقدمہ چلاتی ہے جن پر مقامی عدالتوں میں مقدمات نہ چلائے جاتے یا نہ چلائے جا سکتے ہوں۔گو کہ فی الوقت آئی سی سی کافی کمزور عدالت ہے، لیکن بین الاقوامی فوجداری قانون، جو تیزی سے قوت پکڑتا جا رہا ہے، کے مضبوط ہونے پر آہستہ آہستہ مزید مؤثر ہوتی رہے گی۔ 

انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس ICJ اور اس عدالت میں ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ ICJ اقوامِ متحدہ کے چھ بنیادی اداروں میں سے ایک ہے جب کہ ICC اقوامِ متحدہ کا ادارہ نہیں ہے۔ یہ بین الاقوامی معاہدے کی بنیاد پر وجود میں آیاتھا اور اس کا اختیارِ سماعت صرف ممبر ممالک تک محدود ہے۔ ICC کے اقوامِ متحدہ سے آزاد ہونے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ویٹو پاورز کو ایسی عدالت پر تحفظات تھے۔ یہی وجہ ہے کہ روس ، امریکا اور چین نے روم سٹیٹیوٹ (جس کی بنیاد پر یہ عدالت وجود میں آئی ہے ) کی توثیق نہیں کی ہے۔ 

اس ادارے کے دورے سے فراغت کے ساتھ ہی ہمارا یہ یورپ کا دورہ بھی اختتام کو پہنچا اور ہم جمعرات کے دن ظہر کے بعد ہیگ کو الوداع کہتے ہوئے جرمنی کے لیے روانہ ہوئے۔ تقریباً رات گیارہ بجے ہائیڈل برگ پہنچے۔ جمعہ کا دن آرام اور پاکستان واپسی کے لیے تیاری میں گزرا۔ فرانکفرٹ سے تین بجے والی فلائیٹ سے عشاء کو استنبول پہنچے۔ استنبول میں ٹرکش ائیرلائن کی اسلام آباد جانے والی فلائیٹ موسم کی خرابی کی وجہ سے کینسل ہو گئی تھی۔ اس طرح ای ویزا لے کر استنبول شہر دیکھنے کا بھی موقع مل گیا۔ میری ذاتی طور پر زیادہ دلچسپی نیلی مسجد اور سلاطینِ ترک کے آثار دیکھنے میں تھی، اس لیے صبح ناشتے کے بعد نیلی مسجد پہنچا اور وہاں نزدیک ہی واقع سلاطین ترک کا قبرستان دیکھنے چلا گیا۔ قبرستان کی پرانی اور خاموش عمارتوں کے نیچے چشم تخیل سے ان بادشاہوں اور ان کے درباروں میں لوگوں اور غلاموں کی آمد و رفت کے ہجوم کا نظارہ کرنے اور ہر شے کے زوال اور فنا کے قانون پر کچھ دیر غور و فکر کرنے کے بعد ائیرپورٹ کے لیے روانہ ہوا۔ رات بارہ بجے کی فلائیٹ سے ہم اتوار کی صبح کو بخیر و عافیت جب اسلام آباد پہنچے تو بارہ ربیع الاول کو اپنا منتظر پایا۔ 

پاکستان میں ورکشاپ سے لے کر واپسی تک بارہا یہ خیال آتا رہا کہ میکس پلانک فاؤنڈیشن کے اس پروگرام کی طرح یورپ اور امریکا کے دیگر اداروں کو بھی مدارس کے فضلا کے ساتھ مل بیٹھنے اور اپنے ملکوں میں بلا کر تبادلہ خیال کے مواقع پیدا کرنے چاہییں۔ اس ضمن میں اہم بات یہ ہے کہ ایسے پروگراموں میں عموماً مدارس کے ایسے تعلیم یافتگان کو شرکت کا موقع ملتا ہے جو مدارس سے پڑھے ہوئے تو ہیں، لیکن فراغت کے بعد عملی زندگی میں ان کا مدارس کے ماحول سے کوئی تعلق نہیں رہ جاتا۔ جبکہ فکر و نظر کے اعتبار سے مکمل طور پر مدارس کے سانچے میں ڈھلے ہوئے فضلا یا مدارس کے نوجوان مدرسین انگریزی زبان پر قدرت نہ ہونے یا ایسے پروگرامات کی سرے سے آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے ان میں شرکت نہیں کر پاتے۔ ظاہر ہے، ایسی صورت میں جہاں ایک طرف مدارس کی نمائندگی نہیں ہو پاتی، وہاں ان اداروں کا مقصد بھی پورا نہیں ہوتا جو دراصل مدارس کے لوگوں کے ساتھ تبادلہ خیال کرنا چاہ رہے ہوتے ہیں۔ اس لیے میرے خیال میں ایسے پروگراموں میں مدارس کے فضلاء کو انفرادی طور پر شرکت کرنے کے بجائے اداروں کی سطح پر شرکت کا وقع دیا جائے اور ہر مدرسہ مشاورت سے نسبتاً زیادہ فائق اور باصلاحیت افراد کو ایسے پروگراموں میں بھیجے، نیز ہر مرحلے پر اساتذہ سے رہنمائی لی جاتی رہے تو اس سے نہ صرف مدرسے کی حقیقی تصویر دنیا تک جائے گی، بلکہ ان اداروں کا اصل مقصد بھی پورا ہوگا۔

اخبار و آثار

فروری ۲۰۱۷ء

جلد ۲۸ ۔ شمارہ ۲

اختلاطِ مرد وزن، پردہ اور سماجی حقوق و فرائض / دینی مدارس کا نصاب ونظام۔ قومی پالیسی وضع کرنے کی ضرورت
محمد عمار خان ناصر

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر - مولانا محمد امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۲۷)
ڈاکٹر محی الدین غازی

’’سفر جمال: نبی مکرمؐ کی جمالیاتی مزاحمت کی پر عزم داستان‘‘
پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم ورک

حضرت مولانا سلیم اللہ خانؒ ، حضرت مولانا عبد الحفیظ مکیؒ اور حضرت قاری محمد انورؒ کا انتقال
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

معاصر اسلامی معاشروں کو درپیش فکری تحدیات
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

دینی مدارس کے فضلا کا یورپی ممالک کا مطالعاتی دورہ ۔ مختصر روداد اور تاثرات
مولانا محمد رفیق شنواری

دینی مدارس اور عصری رجحانات
غازی عبد الرحمن قاسمی

احمدی اور تصورِ ختم نبوت : ایک احمدی جوڑے سے گفتگو
ڈاکٹر محمد شہباز منج

مولانا محمد بشیر سیالکوٹیؒ ۔ چند یادیں، چند باتیں
محمد عثمان فاروق

فقہائے احناف اور فہم حدیث ۔ اصولی مباحث (مصنف: محمد عمار خان ناصر)
ڈاکٹر حافظ مبشر حسین