مولانا محمد بشیر سیالکوٹیؒ ۔ چند یادیں، چند باتیں

محمد عثمان فاروق

عربی زبان کے استاذ، متعدد کتابوں کے مولف مولانا بشیر سیالکوٹیؒ (۱۹۴۰۔۲۰۱۶ء) طویل علالت کے بعد ۱۶ اکتوبر کو انتقال کر گئے۔ ان کی پوری زندگی علوم اسلامیہ کی تدریس بالخصوص عربی زبان کی تعلیم میں گزری۔ مولانا سیالکوٹی عربی نظم و نثر دونوں میں یکساں اور کمال مہارت رکھتے تھے۔ ان کی دیرینہ آرزو اور والہانہ لگن تھی کہ ملک پاکستان میں لسان القرآن کو فروغ ملے تاکہ لوگوں کا خدا کی کتاب اور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے زندہ تعلق قائم ہو۔ مولانا سیالکوٹی کی خدمات کے پیش نظر عالم عرب کے تین جید علماء( دکتور ف عبدالرحیم، دکتور عبدالغفور البلوشی، محمد عزیر شمس) نے انہیں شیخ العربیہ کا لقب دیا۔

جولائی ۲۰۱۳ ء میں راقم کو الشریعہ اکیڈمی گوجرانوالہ میں دورہ تفسیر قرآن میں شرکت کا موقع ملا۔ دورہ کے اختتام پر شرکاء کو اکیڈمی کی طرف سے جن کتابوں کا سیٹ تحفے میں دیا گیا، ان میں سے ایک کتاب مولانا سیالکوٹی کی ’’ درس نظامی کی اصلاح اور ترقی‘‘ بھی تھی۔ اس کتاب کے مطالعے کے بعد مولانا سیالکوٹی کی خدمت میں نیاز مندانہ حاضری دینے کا شوق پیدا ہوا، چنانچہ میں نے خط لکھ کر ملاقات کی خواہش کی اظہار کیا جسے مولانا نے بڑی محبت اور شفقت سے قبول کیا۔ اس کے بعد وقتاً فوقتاً ملاقات ہوتی اور استفادے کا موقع ملتا رہتا۔ 

مولانا سیالکوٹی سے جب بھی ملاقات ہوتی، ان کی گفتگو کا مرکزی نکتہ ہمیشہ دینی تعلیم کا نصاب، عربی زبان کی تدریس اور طریقہ تدریس ہوتا۔ اپنی کتاب’’ درس نظامی کی اصلاح اور ترقی‘‘ کے بارے میں بتایا کہ میں نے اس کا عنوان ’’ درس نظامی کا محاسبہ ‘‘ سوچ رکھا تھا، لیکن پھر غور کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ عنوان تو مخاطب کو رد عمل کی نفسیات میں مبتلا کر دے گا اور یوں کتاب کے مقصد کو نقصان پہنچے گا، لہٰذا میں نے کتاب کا عنوان تبدیل کر دیا اور انداز نگارش کو مزید بہتر کرنے کی کوشش کی۔ مولانا سیالکوٹی ارباب مدارس بالخصوص طبقہ علماء کے جمود اور اور قدیم نصاب و طریقہ تدریس پر اصرار کے حوالے سے شکوہ کناں رہتے تھے۔ ایک مرتبہ( تاسف سے) کہنے لگے ہم لوگوں نے درس نظامی کو منزل من اللہ سمجھ لیا ہے اور کسی نئی اور مثبت تبدیلی کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں بلکہ جو کوئی یہ کام کرنے کی کوشش کرے تو اسے گردن زدن قرار دے دیا جاتا ہے۔ مولانا کی یہ سوچی سمجھی رائے تھی کہ مروجہ دینی نصاب اور طریقہ تدریس دونوں ہی ناقص، فرسودہ ہیں اور دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہیں۔ مولانا سیالکوٹی کا یہ مفصل تنقیدی جائزہ کوئی عجلت میں نہیں کیا گیا، بلکہ ان کے چالیس سالہ تجربے ، غور فکر کا حاصل تھا۔ وہ ہمارے دینی علم کی روایت سے ہٹے ہوئے آدمی بھی نہیں تھے بلکہ اسی مر وجہ نظام تعلیم سے گزر کر آئے تھے۔ اس لحاظ سے ان کی آرا گہرے غور فکر کی مستحق ہیں۔ ان کی تنقید کو یہ کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ یہ تو جدیدیت سے مرعوب کسی روشن خیال دانشور کی ذہنی اختراعات ہیں جو استعمار کی ایجنڈے کو تقویت پہنچا رہا ہے، جو دینی علمی کی مبادیات سے واقف ہے نہ دینی علم کی روایت سے۔

مولانا سیالکوٹی نے محض مروجہ نصاب و نظام تدریس پر تنقید کرنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ عملاً ایک متبادل نصاب اور عصری اسلوب تدریس اپنے قائم کردہ ادارے معہد اللغۃ العربیہ اسلام آباد میں نافذ کر کے دکھایا ۔ مولانا سیالکوٹی کی اولاد اور تلامذہ اس مشن میں ان کے دست و بازو ہیں ۔ اب اس ادارے کی ذیلی شاخیں بھی کام کر رہی ہیں۔ گویا جو پودا مولانا سیالکوٹی نے لگایا تھا، وہ اب تن آور درخت بن چکا ہے۔ 

عربی زبان میں مہارت کے علاوہ وہ فارسی ور انگریزی بھی اچھی جانتے تھے۔ حضرت شاہ ولی اللہؒ کی فارسی کتاب ’’ازالۃ الخفاء عن خلافۃ الخلفاء‘‘ کا عربی ترجمہ کرنے کی سعادت بھی آپ کو حاصل ہے۔ ایک مرتبہ مولانا نے تحدیث نعمت کے طور پر بتایا کہ ۱۹۷۳ء میں قادیانی حضرات کے خلاف پارلیمنٹ میں علماء کے متفقہ فیصلے کا انگریزی ترجمہ میں نے ہی کیا تھا۔

نج کی ایک مجلس میں مولانا سیالکوٹی اردو تفاسیر پر گفتگو کر رہے تھے۔ جب تدبر قرآن کا ذگر آیا تو بلند تعریفی کلمات کہے اور اسے نمائندہ تفسیر قرار دیا۔ مولانا نے کہا کہ مولانا اصلاحیؒ کی بعض تفسیری آرا پر میرے ملاحظات ہیں جن میں مسئلہ رجم بھی شامل ہے۔ اس مسئلے پر خاصی لے دے ہوئی اور مولانا اصلاحی کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور بعض علماء نے تو انہیں منکرین حدیث کی صف میں کھڑا کر دیا، لیکن میرے نزدیک یہ زیادتی ہے۔ مولانا کے موقف پر نقد ضرور ہونا چاہیے، لیکن تنقید اور تنقیص میں فرق بہرحال ملحوظ رہنا چاہیے۔

ایک مرتبہ بر سبیل تذکرہ ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کا ذکر آیا تو مولانا سیالکوٹیؒ نے کہا کہ غازی صاحب فکر اسلامی کے ممتاز اور متوازن شارح تھے، میرے بہت قریبی دوستوں میں سے تھے، قدیم اور جدید پر گہری نظر رکھتے تھے۔ اکثر ہمارے اشاعتی ادارے دارالعلم، آبپارہ اسلام آباد تشریف لائے، کتابیں خریدتے اور مختلف علمی ، فکری اور ملت اسلامیہ کو درپیش مسائل پر تبادلء خیال کرتے تھے۔ اعلیٰ انتظامی عہدوں (غازی صاحب بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے وائس چانسلر رہے اور پرویز مشرف صاحب کے دور میں وفاقی وزیر برائے مذہبی امور بھی رہے) پر ہونے کے باوجود ان کے عجز و انکسار میں فرق آیا، نہ قلم و کتاب سے رشتہ کمزور ہوا۔ ایک مرتبہ غازی صاحب نے کتابیں خریدیں۔ جب جانے لگے تو میں نے ملازم سے کہا کہ ڈاکٹر صاحب کی کتابیں ان کی گاڑی میں رکھ دو تو غازی صاحب نے منع کر دیا اور صاحب الحاجۃ احق بھا کہتے ہوئے خود کتابوں کا تھیلا اٹھایا اور چل دیے۔ 

مولانا سیالکوٹی نے اپنے متعلق کہا کہ بہت سے لوگ مجھے اہل حدیث سمجھ کر کنی کتراتے ہیں کیونکہ ہمارے ہاں مسلکی تعصبات اور گروہی مفادات اتنے غالب ہو چکے ہیں کہ اپنے حلقے سے باہر کے اہل علم کی بات سننے اور ان سے استفادے کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ مولانا نے مزید بتایا کہ یہ بات درست ہے کہ میری تعلیم و تربیت سلفی ماحول میں ہوئی ہے اور ظاہر سی بات ہے، انسان قریبی شخصیات اور ماحول سے متاثر ہوتا ہے۔ میرا رجحان مسلک اہل حدیث کی جانب ہے اور ان کی بہت سی چیزیں مجھے اپیل کرتی ہیں، لیکن میں نے کبھی اس لیبل کو اپنے ساتھ خاص نہیں کیا بلکہ ہمیشہ یہی کوشش کی ہے کہ مسلکی و گروہی تنگ نائیوں سے اٹھ کر اسلام اور ملت اسلامیہ کے لیے جدو جہد کروں۔

راقم کے اس سوال پر کہ وہ کون سی شخصیات ہیں جنہوں نے آپ کی فکر و نظر پر اثر ڈالا، مولانا نے بتایا کہ ویسے تو بہت سے علماء سے سیکھنے کو بہت کچھ ملا، لیکن میں اپنے آپ کو تین اہل علم کی فیض تربیت کا نتیجہ سمجھتا ہوں:

۱۔ مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ ۲۔مولانا عبدالغفارحسنؒ ۳۔ مولانا محمد حنیف ندویؒ 

مولانا سیالکوٹی ابتدا میں سعودی سفارتخانے میں ملازمت کرتے رہے، لیکن کچھ عرصے بعد تصنیف و تالیف اور درس و تدریس میں یکسو ہو گئے۔ بعد میں بھی متعدد مرتبہ انہیں سفارتخانے کی طرف سے پیش کش کی گئی، لیکن وہ ایک ہی جواب دیتے کہ میں مبعوث ہو کر محبوس نہیں ہونا چاہتا۔

مولانا سیالکوٹیؒ کی تصنیفات میں سے چند یہ ہیں:

۱۔ الامام المجدد والمحدث الشاہ ولی اللہ الدھلوی، حیاتہ ودعوتہ 

۲۔ اقرا  ( یہ کتاب چار اجزاء پر مشتمل ہے جو عربی کا جدید اور با تصویر ریڈر ہے)

۳۔ آسان عربی ( دو اجزاء پر مبنی یہ کتاب جس میں صرف و نحو کو عام فہم انداز میں بیان کیا گیا ہے)

۴۔ مفتاح الانشاء ( یہ کتاب بھی دو اجزاء میں ہے جو اعلیٰ جماعتوں کے طلبہ کو عربی زبان میں ترجمہ ، تحریر اور انشاء کی تعلیم دیتی ہے)

۵۔ الصرف الجمیل ( دو اجزاء، جس میں عربی افعال کی تفصیلی گردانوں اور ان کے روز مرہ استعمالات کا باتصویر بیان ہے)

۶۔ اساس الصرف (تین اجزاء، علم صرف کے قواعد کا موثر دلچسپ اور آسان پیرائے میں بیان ہے)

۷۔ ھیا غنوا یا اطفال (عربی کی دلچسپ نظموں کا مجموعہ جس میں اسلام کے بنیادی عقائد و تعلیمات اور ملی نغمے شامل ہیں)

اس کے علاوہ مولانا نے متذکرہ بالا درسی کتابوں کی راہنمائے اساتذہ(مرشد المعلمین/Teacher's Guide) بھی تیار کر رکھی ہیں۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ مولانا سیالکوٹ کی مساعی کو شرف قبول عطا کرے، ان کے مشن کو ترقی حاصل ہو اور ہمیں بھی دین کی خدمت کرنے کی توفیق حاصل ہو۔ (آمین)

اخبار و آثار

فروری ۲۰۱۷ء

جلد ۲۸ ۔ شمارہ ۲

اختلاطِ مرد وزن، پردہ اور سماجی حقوق و فرائض / دینی مدارس کا نصاب ونظام۔ قومی پالیسی وضع کرنے کی ضرورت
محمد عمار خان ناصر

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر - مولانا محمد امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۲۷)
ڈاکٹر محی الدین غازی

’’سفر جمال: نبی مکرمؐ کی جمالیاتی مزاحمت کی پر عزم داستان‘‘
پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم ورک

حضرت مولانا سلیم اللہ خانؒ ، حضرت مولانا عبد الحفیظ مکیؒ اور حضرت قاری محمد انورؒ کا انتقال
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

معاصر اسلامی معاشروں کو درپیش فکری تحدیات
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

دینی مدارس کے فضلا کا یورپی ممالک کا مطالعاتی دورہ ۔ مختصر روداد اور تاثرات
مولانا محمد رفیق شنواری

دینی مدارس اور عصری رجحانات
غازی عبد الرحمن قاسمی

احمدی اور تصورِ ختم نبوت : ایک احمدی جوڑے سے گفتگو
ڈاکٹر محمد شہباز منج

مولانا محمد بشیر سیالکوٹیؒ ۔ چند یادیں، چند باتیں
محمد عثمان فاروق

فقہائے احناف اور فہم حدیث ۔ اصولی مباحث (مصنف: محمد عمار خان ناصر)
ڈاکٹر حافظ مبشر حسین