ڈاکٹر ممتاز احمد اور ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری کا سفر آخرت

مولانا سید متین احمد شاہ

ڈاکٹر ممتاز احمد کا سانحہ ارتحال

30 مارچ 2016 کو اسلامی یونی ورسٹی کے سابق صدر اور ادارہ اقبال براے تحقیق ومکالمہ (IRD) کے سربراہ ڈاکٹر ممتاز احمد انتقال کر گئے۔ آپ کی پیدائش 1942ء/ 1943ء میں گوجر خان ضلع راول پنڈی میں ہوئی۔گورنمنٹ ہائی سکول حضرو ضلع اٹک سے 1957ء میں میٹرک کیا اور گوجر خان سے انٹرمیڈیٹ کر کے کراچی چلے گئے اور جماعت اسلامی کے ادارے معارفِ اسلامی سے وابستہ ہو گئے۔ کراچی یونی ورسٹی سے بی اے اور ایم اے سیاسیات میں کیا۔1965ء میں سرکاری ادارے نیپا (NIPA) سے وابستہ ہوئے۔1969ء میں بیروت کی امریکی یونی ورسٹی سے یک سالہ وظیفہ ملا جہاں Islamic Attitude Towards Modernization کے موضوع پر مقالہ لکھ کر ایم اے کیا۔ شکاگو یونی ورسٹی سے پی ایچ ڈی کیا اور پھر زندگی کا زیادہ تر وقت امریکا ہی میں گزرا۔ کولمبیا کالج، شکاگو اسٹیٹ یونی ورسٹی اور ورجینیا کی ہمپٹن یونی ورسٹی میں تدریس کی خدمات سرانجام دیں۔ آپ اسلامی یونی ورسٹی کے صدر بھی رہے اور ادارہ اقبال براے تحقیق ومکالمہ (IRD) کے سربراہ بھی۔ مؤخر الذکر ذمے داری وہ آخر تک نبھاتے رہے۔ آخری عمر میں آپ کے گردے ناکارہ ہو گئے تھے اور یہی ان کا مرضِ وفات ثابت ہوا۔

ڈاکٹر ممتاز احمد ایک صاحبِ نظر دانش ور اور اردو وانگریزی میں یکساں مہارت کے ساتھ لکھنے والے باکمال مصنف تھے۔ آپ نے نو کتابیں اور کئی تحقیقی مقالات تحریر کیے جو عالمی سطح کے معیاری مجلات میں اشاعت پذیر ہوئے۔ آپ عالمی سیاسی مسائل اور دنیا کی فکری و علمی حرکیات سے باخبر رہنے والی شخصیت تھے۔ برصغیر پاک وہند میں دینی و عصری نظامِ تعلیم کے مسائل و مباحث پر آپ کی نظر گہری تھی۔ ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری (جن کی وفات کا سانحہ بھی اس کے بعد جلد ہی پیش آگیا) نے ان کی وفات پر ایک تعزیتی جلسے میں کہا کہ اپنی وفات سے پہلے ڈاکٹر ممتاز احمد نے مغربی فکروفلسفے کے بعض اہم مباحث پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان پر ابھی تک توجہ نہیں ہو سکی ہے۔ 

اپنے اخلاق وخصائل میں وہ ایک پرجوش انسان تھے۔ جوہر قابل کی قدر دانی اور اپنے ماتحت کے ساتھ خوئے دل نوازی کا معاملہ ان کی اعلیٰ خوبیاں تھیں۔علما اور اہل دین سے محبت رکھنے والے انسان تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کی کامل مغفرت فرمائے اور اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے۔ آمین


ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری کا سفر آخرت

بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی اسلام آباد کو ڈاکٹر ممتاز احمد کی وفات کے بعد جلد ہی نامور اسکالر پروفیسر ایمریطس ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری کی وفات (24اپریل 2016ء) کا سانحہ برداشت کرنا پڑا۔

آپ 27دسمبر 1932ء کو مولانا ظفر احمد انصاری کے گھر پیدا ہوئے جو قیامِ پاکستان اور تحریک آزادی کے ایک سرگرم کارکن تھے۔ تحریک کے صف اول کے قائدین قائد اعظم، نواب زادہ لیاقت علی خان، خواجہ ناظم الدین اور سردار عبدالرب نشتر جیسے حضرات کے ساتھ آپ کے قریبی تعلقات تھے۔ تحریک پاکستان میں مولانااشرف علی تھانوی کے خلفا نے جو حصہ لیا تو جمعیت علمائے اسلام کی تشکیل وتاسیس میں مولانا ظفر احمد انصاری بھی شامل تھے۔ پاکستان بننے کے بعد قراردادِ مقاصد کی تسوید میں آپ کا مرکزی کردار تھا۔ اس کے علاوہ ملک وملت کی خدمت میں مولانا انصاری کئی کلیدی مناصب پر کام کرتے رہے۔ 

ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری کو اپنے باکمال والد کی خوبیوں کا حظ وافر عطا ہوا تھا۔ زمانہ طالب علمی میں اسلامی جمعیت سے وابستہ رہے اور پروفیسر خورشید احمد، خرم جاہ مراد، ڈاکٹر اسرار احمد اور دیگر کئی لوگ آپ کے ہم عصر تھے۔ آپ نے جامعہ کراچی میں بھی تعلیم حاصل کی اور اعلیٰ تعلیم میں پی ایچ ڈی میکگل یونی ورسٹی مونٹریال کینیڈا سے 1966ء میں کیا۔ آپ کا پی ایچ ڈی کا مقالہ The Early Development of Fiqh in Kufah with special reference to the works of Abu Yusuf and Shaybani (کوفہ میں فقہ کا ابتدائی ارتقا: ابو یوسف اور شیبانی کی تصانیف کا خصوصی مطالعہ) کے عنوان سے تھا۔ آپ نے اپنی تدریسی زندگی کا آغاز پرنسٹن یونی ورسٹی امریکا کے شعبہ مطالعاتِ شرقی میں وزٹنگ استادکی حیثیت سے کیا۔تب سے آپ نے کنگ عبدالعزیز یونی ورسٹی جدہ، یونی ورسٹی آف میلبورن آسٹریلیا، میکگل یونی ورسٹی کینیڈا، یونی ورسٹی آف شکاگو اور بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی اسلام آباد جیسی بڑی بڑی یونی ورسٹیوں میں علومِ اسلامیہ اور تاریخ کے استاد کی حیثیت سے تدریسی فرائض سرانجام دیے۔ آپ انگریزی، اردو، عربی، فرانسیسی اور فارسی زبانوں پر قدرت رکھتے تھے۔

1988ء سے آپ ادارہ تحقیقاتِ اسلامی اسلام آباد کے ڈائریکٹر جنرل رہے۔ یہاں آپ نے ادارے کے عالمی شہرت یافتہ مجلے Islamic Studies کی ادارت کا طویل عرصہ کام کیا اور اس کے معیار کو خوب سے خوب تر کی طرف لے جانے میں ان تھک محنت کی۔ ادارہ تحقیقاتِ اسلامی کے رفقا کا کہنا ہے کہ بعض اوقات آپ نے کسی مقالے کے مسودے کو بیس مرتبہ نظر سے گزارنے کا جاں گداز کام بھی کیا ہے۔ اتنی محنت کے باوجود اگرچہ مقالہ جات مصنف ہی کے نام سے شائع ہوتے ہیں ، لیکن اس تزیین گلستاں میں مدیر کی محنت کی حیثیت باغباں کے جڑوں کو دیے گئے پانی کی سی ہوتی ہے جو نظر تو نہیں آتا، لیکن درختوں کی ہریالی اور اس کے شگفتہ پھولوں کی خوشبو اسی باغباں کے خونِ جگر کی مرہونِ احسان ہوتی ہے۔ اس مجلے کی ادارت کے علاوہ آپ دنیا میں کئی تحقیقی مجلات کے مشاورتی بورڈ کے بھی رکن تھے۔ آپ کا سب سے قابل قدر کام مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی تفسیر ’’تفہیم القرآن‘‘ کا انگریزی ترجمہ ہے۔ 

UNESCO نے ایک اسلامی انسائیکلوپیڈیا کا منصوبہ چھے جلدوں میں شروع کیا جس کی پہلی جلد The Foundations of Islam کے آپ شریک مدیر تھے اور اپنی وفات سے چند مہینے پہلے اسے مکمل کیا۔ کینیڈا میں مقیم ڈاکٹر مظفر اقبال Brill کے Encyclopedia of the Quran کے جواب میں مسلم نقطہ نظر سے Integrated Encyclopedia of the Quran کی اشاعت کا کام کر رہے ہیں جس میں پوری مسلم دنیا کے اعلیٰ سطح کے اہل علم شریک ہیں۔ ڈاکٹر انصاری بھی اس پراجیکٹ کا حصہ تھے۔ اس کے علاوہ انگریزی میں آپ کی کئی کتابیں اور اعلیٰ سطح کے علمی مقالات یادگار ہیں۔ ان مقالات کا تین جلدوں پر مشتمل ایک مجموعہ ادارہ اقبال براے تحقیق ومکالمہ (IRD) (اسلامی یونی ورسٹی اسلام آباد) سے اشاعت کے مراحل میں ہے۔ ادارہ تحقیقاتِ اسلامی سے وابستگی کے دوران میں آپ نے انگریزی میں کئی علمی کتابیں شائع کروائیں جو اپنے موضوعات پر عمدہ حوالے کا درجہ رکھتی ہیں۔

اپنے اعلیٰ ترین علمی کمالات کے باوجود ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری شفقت اور تواضع کا ایک ایسا مجسمہ تھے جس کی نظیر اب رخِ زیبا کا چراغ جلا کر ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی۔ اپنے رفقا کی عزت، ان کی علمی اور فکری تربیت کی غرض سے مطالعے کے لیے علمی کتابوں کی تجویز، لکھنے کے لیے موضوعات کی نشان دہی، چھوٹے سے کام پر بلند الفاظ میں حوصلہ افزائی جیسی خوبیاں ہر اس انسان کی یادداشت کا عمدہ سرمایہ ہے جسے ڈاکٹر انصاری کے ساتھ کچھ وقت گزارنے کا تجربہ ہوا ہو۔ شدید پیرانہ سالی اور ضعف کے عالم میں بھی فیصل مسجد میں نمازِ جمعہ ادا کرنے تشریف لاتے تھے۔ بعض اوقات کسی معمولی مسئلے میں بھی احتیاط اور ورع کے پیش نظر اپنے رفقا سے فقہی مسئلہ جاننے کی کوشش کرتے تھے جس کی طرف عام افراد کی توجہ بھی نہیں جاتی۔

علم وتحقیق کے میدان میں قحط اور کم یابی بلکہ نایابی کے اس دور میں ڈاکٹر انصاری ایک ابر نیساں تھے۔ افسوس کہ یہ ابر برس کر اب ہمیشہ کے لیے تھم گیا۔


اخبار و آثار