الشریعہ اکادمی میں دورۂ تفسیر قرآن

مولانا وقار احمد

الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ مولانا زاہد الراشدی کی زیر نگرانی گذشتہ پچیس سال سے کام کر رہی ہیں۔الشریعہ اکیڈیمی نے مذہبی حلقوں میں یہ احساس پیدا کیا ہے کہ انہیں معاشرے میں دینی و دنیاوی طبقات میں تفریق کو ختم کرنے اور اسلام کے پیغام کا مؤثر انداز میں ابلاغ کرنے کے لیے عصر حاضر کے اسلوب، مناہج اور طریقہ کار سے آگاہی حاصل کر نے کی اشد ضرورت ہے۔ ۷۰ء کی دہائی کے بعد مخصوص عوامل کے تحت پاکستان میں شدت پسندی اور عدم برداشت کی فضاء کو فروغ ملا ہے اور بہت سے حلقوں کو غیر شعوری طور پر اس کے لیے استعمال بھی کیا گیا۔ اس حوالے سے الشریعہ کے متوازن طرز فکر نے نوجوان اہل علم کو سوچنے پر مجبور کیا اور فکری میدان میں اس شدت پسندی کے سد باب کے لیے قابل قدر خدمات انجام دی ہیں۔ 

الشریعہ کا بنیادی میدان فکری تربیت اور تعلیمی نظام میں اصطلاحات ہے اور اکادمی کا زیادہ تر کام بھی انہی دائروں میں ہے ۔ نظام تعلیم میں تبدیلی کے عصری تقاضوں کی تفہیم کے لیے مولانا زاہد الراشدی نے ایک طویل جدوجہد کی ہے جس کے اثرات بعض نئے بننے والے مدارس کے رجحانات میں واضح نظر آتے ہیں۔ 

اکادمی کا دورۂ تفسیر 

۲۰۱۱ء میں الشریعہ اکادمی میں دورہ تفسیر کا آغاز کیا گیا جس کی اب تک چار کلاسیں ہو چکی ہیں۔ اس دورہ سے استفادہ کرنے والوں میں مدارس کے اساتذہ، سکول وکالج کے اساتذہ اور مدارس کے منتہی درجات کے طلباء شامل ہیں۔ اس کلاس کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے: 

۱۔ترجمہ و تفسیر 

۲۔ مختلف قرآنی موضوعات پر سلسلہ محاضرات 

یہ دورہ تفسیر امام اہل سنت مولانا سرفراز خان صفدر ؒ کے جاری کردہ دورۂ تفسیر کا تسلسل ہی ہے جو انہوں نے جامعہ نصرۃ العلوم میں شروع کیا تھا اور ان کی وفات سے چند سال پہلے ان کے ضعف و کمزوری کی وجہ سے منقطع ہوا۔ اس دورہ میں کچھ مزید اصلاحات کے ساتھ کافی حد تک انھی کے انداز کی پیروی کی جاتی ہے۔ دورہ تفسیر کے تقریباً سبھی اساتذہ امام اہل سنت ؒ کے شاگرد ہیں اور تفسیر کے باب میں ان کے فیض یافتہ ہیں۔ ان اساتذہ کرام کی کچھ انفرادی خوبیاں حسب ذیل ہیں ۔ 

شیخ الحدیث مولانا زاہد الراشدی دامت برکاتہم 

مولانا زاہد الراشدی کے درس تفسیر کی خوبیوں میں سے ایک اہم خوبی جدید ذہن کے پیدا کردہ اشکالات اور ان کا جواب ہے۔ مولانا مولانا ان اشکالات کی طرف توجہ دلاتے ہیں اور حقیقی صورت حال کو واضح کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر ملک کے معروف قانون دان ایس ایم ظفر کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں :

’’اقوام متحدہ کے معاہدات اور ہدایات کی پابندی کے لیے انہوں نے قرآنی حکم یٰٓأَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ (المائدۃ: ۱) اور خُذِ الْعَفْوَ وَاْمُرْ بِالْعُرْفِ (الاعراف: ۱۹۹) سے استدلال کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت کا عرف اقوام متحدہ کا قانون ہے۔ ‘‘

قرآن حکیم میں لوگوں کے درمیان فیصلہ کرتے ہوئے معاملات بما انزل اللہ کی بنیاد پر طے کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ قرآن حکیم میں ہے: وَ اَنِ احْکُمْ بَیْنَھُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ وَ لَا تَتَّبِعْ اَھْوَآءَ ھُمْ (المائدۃ: ۴۹)

اب اس آیت کریمہ پر متعدد اعتراضات مغرب کی طرف سے کیے گئے ہیں۔ ان اعتراضات میں سے ایک "وَ لَا تَتَّبِعْ اَھْوَآءَ ھُم" پر بھی ہے۔ مولانا راشدی اس کا جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں: 

’’لَا تَتَّبِعْ اَھْوَآءَ ھُم  کی بھی حد ہے۔ کیا سوسائٹی کی ہر خواہش کی ہم نفی کر دیں گے؟ نہیں ایسا نہیں ہے۔ ۔۔۔۔۔۔ بلکہ سوسائٹی کی جو خواہش حق کے مقابلے پر ہوگی،وہ رد کر دی جائے گی۔ وَ لَا تَتَّبِعْ اَھْوَآءَ ھُمْ عَمَّا جَآءَ کَ مِنَ الْحَق۔ فقہی اصطلاح میں ہم یوں کہتے ہیں کہ منصوصات کے مقابلے میں سوسائٹی کی خواہشات کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ ہاں، اگر منصوصات کے خلاف کوئی خواہش نہیں ہے تو ٹھیک ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ سوسائٹی کی کوئی بات ماننی ہی نہیں۔ بد قسمتی سے ہم بھی اس معاملے میں دوسری انتہا پر چلے جاتے ہیں۔ قرآن نے خود یہ حد بیان کر دی کہ آپ کے پاس جو وحی آ گئی، جو نصوص قطعیہ آ گئیں، ان معاملات میں سوسائٹی کی خواہشات کی پیروی نہیں ہوگی۔ اگر سوسائٹی قرآن وسنت کے کسی فیصلہ کے مقابلے پر آتی ہے تو اس کی بات رد ہوجائے گی۔ باقی جو معاملات ہیں ان میں سوسائٹی کا حق ہے، وہ جیسے چاہے کرے۔‘‘

مولانا ظفر فیاض صاحب 

مولانا ظفر فیاض صاحب مدرسہ نصرۃ العلوم کے فاضل اور استاذ حدیث ہیں۔ مولانا نے تفسیر کئی بار شیخ مولانا سرفراز خان صفدرؒ سے پڑھی اور مفسر قرآن مولانا عبد الحمید خان سواتی اور شیخ عبد القیوم ہزاروی سے بھی طویل عرصہ تک استفادہ کیا ہے۔ مولانا نے شیخ مولانا سرفراز خان صفدرؒ کے درس تفسیر کی کاپی بھی لکھی ہے۔ مولانا تفسیر پڑھانے میں شیخ صفدرؒ کے منہج کی پیروی کرتے ہیں۔ مولانا کے درس کے امتیازی خصائص درج ذیل ہیں: 

۱۔ مولانا طوالت کلامی سے بچتے ہوئے انتہائی اختصار کے ساتھ مباحث قرآنیہ کو پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ 

۲۔ مولانا دورہ تفسیر کے درس میں یہ کوشش کرتے ہیں کہ طلباء کو لفظی و بامحاورہ ترجمہ کرنے کی صلاحیت حاصل ہو جائے۔ اس وجہ سے وہ ترجمہ پر خاص توجہ دیتے ہوئے مختلف انداز سے ترجمہ کرتے ہیں، لفظی ترجمہ ، بامحاورہ ترجمہ، محاورے کا ترجمہ اردو یا پنجابی کے محاورے میں ، وغیرہ ، ترجمہ کے لیے وہ شیخ صفدر کے نوٹس اور مولانا سواتی کے ترجمہ و تفسیر سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ 

۳۔ مولانا ظفر فیاض صاحب قرآن حکیم سے مختلف مسلم گروہوں کے استدلالات کو ذکر کر کے قوی رائے کو بیان کرتے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ وہ طلباء کو پرزور تاکید کرتے ہیں کہ جس رائے پر آپ کو شرح صدر ہے، یا جس شیخ پر آپ کو اعتماد ہے، مضبوطی سے اس رائے پر قائم رہو، مگر دوسرے کو نہ چھیڑو۔ 

۴۔ مولانا ظفر فیاض صاحب اپنے درس میں شیخ سرفراز خان صفدر ؒ کے انداز تفسیر کی پیروی کرنے کو کوشش کرتے ہیں، اور بسااوقات شیخ صفدر اور مفسرقرآن مولانا عبد الحمید خان سواتی کے انداز کو جمع کرنے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔ 

مولانا محمد عمار خان ناصر 

مولانا محمد عمار خان ناصر نے تفسیر مولانا محمد سرفراز خان صفدر سے پڑھی ہے اور علم تفسیر میں حلقہ فراہی کے ممتاز محقق جناب جاوید احمد غامدی صاحب سے بھی طویل عرصے تک استفادہ کیا ہے۔ مولانا عمار ناصر عربی زبان و ادب کا خاص ذوق رکھتے ہیں۔ مولانا کے درس تفسیر کے اہم خصائص درج ذیل ہیں: 

۱۔ مولانا ناصر قرآن پاک کی زیر مطالعہ سورت کو ایک مربوط ومنظم شکل میں پیش کرتے ہیں۔ سورت کے مرکزی مضمون کا تعین کر کے اس کے مختلف حصوں کا تعلق مرکزی مضمون کے ساتھ سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کے لیے وہ زیادہ تر مولانا امین احسن اصلاحی کی تفسیر تدبر قرآن سے استفادہ کرتے ہیں اور اپنے غور وفکر سے مزید نئے پہلو بھی تلاش کر کے پیش کرتے ہیں۔ 

۲۔ مولانا عمار ناصر کو عربی کے ساتھ ساتھ اردو زبان پر بھی عبور حاصل ہے، دونوں زبانوں کی باریکیوں اور نزاکتوں کو سمجھتے ہیں، اسی وجہ سے فہم قرآن کی اکثر مشکلات کو ترجمہ میں سمو دیتے ہیں۔ ترجمہ ایسا مربوط اور بامحاورہ ہوتا ہے کہ بہت کم مقامات پر توضیح مزید کی ضرورت پڑتی ہے۔ 

۳۔ مولانا کے درس تفسیر میں لغوی تشریحات اور بلاغی دلالات پر بحث کی جاتی ہے جس کے لیے وہ عموماً الکشاف للزمخشری اور دیگر کتب سے استفادہ کرتے ہیں۔

۴۔ مولانا تذکیر کو قرآن حکیم کے بنیادی موضوعات میں شامل کرتے ہیں اور تذکیر اور اس کے لوازمات پر دوران درس میں خصوصی توجہ دیتے ہیں۔ اسی طرح قرآن حکیم کے فلسفہ اخلاق اور اس کے عملی نتائج وغیرہ پر بحث کی جاتی ہے۔ 

مولانا فضل الہادی 

مولانا زاہد الراشدی کے بعد تفسیر قرآن کا زیادہ حصہ مولانا فضل الہادی پڑھاتے ہیں۔ مولانا فضل الہادی آلائی بٹگرام کے رہنے والے ہیں، مدرسہ نصرۃ العلوم اور دارالعلوم کراچی سے درس نظامی کے درجات علیا کی تعلیم حاصل کی ہے۔ تفسیر قرآن مولانا سرفراز خان صفدر اور مولانا زاہد الراشدی سے پڑھی، جب کہ دورہ حدیث دارالعلوم کراچی سے کیا ہے۔ مدرسہ اشاعت الاسلام مانسہرہ کے استاذ حدیث ہیں۔ الشریعہ اکادمی کے دورہ تفسیر میں تدریس کے لیے پابندی سے تشریف لاتے ہیں۔ ان کے درس تفسیر کی اہم خصوصیات حسب ذیل ہیں: 

۱۔ مولانا قرآن پاک کی تفسیر میں چارفنون کا بکثرت استعمال کرتے ہیں : علم صرف و علم نحو اور علم لغت و علم بلاغت ۔ 

۲۔ قرآنی مطالب کے تجزیہ وتحلیل کے لیے وہ امام شاہ ولی اللہ کے بیان کردہ علوم خمسہ، ، مولانااحمدعلی لاہوری، مولاناحسین علی اوران کے تلامذہ مولانا محمد عبداللہ درخواستی ومولاناسرفرازخان صفدرکے منہج وافادات سے استفادہ کرتے ہیں۔ جو تفاسیر ان کے زیر مطالعہ رہتی ہیں، ان میں بیان القرآن از مولانا اشرف علی تھانوی، تدبر قرآن از مولاناامین احسن اصلاحی ، صفوۃ التفاسیرللصابونی، تفسیر ماجدی از مولانا عبد الماجد دریا آبادی، ذخیرۃ الجنان از مولانا محمد سرفراز خان صفدر، معالم العرفان فی دروس القرآن از مولانا عبد الحمید خان سواتی اور آسان ترجمہ قرآن از مولانامحمدتقی عثمانی قابل ذکر ہیں۔ 

۳۔ مولانا مذکورہ بالا امور میں ان بزرگوں سے استفادہ کرتے ہیں اور جو قول دلیل کے ساتھ مضبوط ہو اسے اختیار کرتے ہوئے اپنے استنباطات اور غور وفکر کے نتائج بھی پیش کرتے ہیں۔

۴۔ شریعت کے عائلی ،دیوانی، فوجداری قوانین کی توضیح بھی مولانا فضل الہادی کے درس تفسیر کا اہم حصہ ہے۔

۵۔ ارض القرآن مولانا فضل الہادی کے درس تفسیر کا اہم موضوع ہے۔ اس کے لیے وہ عموماً تاریخ ارض القرآن از مولاناسیدسلیمان ندوی، جغرافیہ قرآنی از مولاناعبد الماجد دریابادی، اطلس القرآن (شائع کردہ دار السلام) وکتاب الجغرافیہ از مفتی ابولبابہ شاہ منصور سے استفادہ کرتے ہیں۔ 

مولانا محمد یوسف 

مولانا محمد یوسف صاحب مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے فاضل اور الشریعہ اکادمی کے سابقہ ناظم ہیں۔ اس وقت مدرسہ ابو ایوب انصاری گنگنی والا گوجرانوالہ اور کلیۃ الاسلامیہ گرین ٹاون گوجرانوالہ کے مہتمم ہیں۔ مولانا بھی دورہ تفسیر میں کم وبیش پانچ پارے پڑھاتے ہیں۔ مولانا کے درس تفسیر کے اہم خصائص درج ذیل ہیں: 

۱۔ مولانا اردو کی جدید تفاسیر کا مطالعہ کر کے ان کا ماحصل پیش کرتے ہیں، جن میں وہ پاکستان میں اہلسنت والجماعت کے تمام مسالک کی نمائندہ کتب تفسیر کو لیتے ہیں: خصوصاً معارف القرآن از مولانا مفتی محمد شفیع، ضیاء القرآن از پیر محمد کرم شاہ ، تفہیم القرآن از مولانا ابو الاعلیٰ مودودی، تیسیر القرآن مولانا عبد الرحمن کیلانی، تدبر قرآن از مولانا امین احسن اصلاحی۔ 

۲۔ مولانا کے درس کے اہم امتیازات میں سے ایک تراث اسلامی کا تعارف اور اکابر امت خصوصا علماء دیوبند پر اعتماد کی تلقین ہے۔

۳۔ مولانا یوسف صاحب اپنے درس میں مولانا سرفراز خان صفدر کے افادات تفسیریہ کو بکثرت بیان کرتے ہیں۔ 

سلسلہ محاضرات قرآنیہ 

دورہ تفسیر کا دوسرا اہم حصہ سلسلہ محاضرات قرآنیہ ہے۔ قرآن حکیم اور علوم القرآن کے مختلف موضوعات پر قرآنیات کے ماہرین نماز ظہر سے نماز عصر تک بحث کرتے ہیں جس میں پہلے محاضر کی گفتگو ہوتی ہے اور پھر اس پر سوال جواب کا سلسلہ چلتا ہے۔ محاضرین میں عصری جامعات اور مدارس کے اساتذہ شامل ہوتے ہیں۔ سلسلہ محاضرات میں عموما پندرہ سے بیس محاضرات ہوتے ہیں۔ محاضرات کے عنوانات کا انتخاب کرتے ہوئے اس بات کا لحاظ رکھا جاتا ہے کہ طلبہ اپنے قدیم علمی وفکری سرمایہ سے واقفیت کے ساتھ ساتھ جدید چیلنجز کا ادراک بھی کریں۔ محاضرات کے لیے ہر سال بعض عنوانات اور اساتذہ تبدیل ہوتے رہتے ہیں، جب کہ بعض عنوانات مستقل ہیں، جیسا کہ مبادیات تفسیر، علوم خمسہ وغیرہ ۔

دورہ ارض القرآن وارض السیرۃ 

الشریعہ کے دورہ تفسیر کا ایک مستقل حصہ ارض القرآن و ارض السیرۃ کا تعارف ہے۔ یہ کلاس نماز مغرب سے نماز عشاء تک ہوتی ہے جس کا دورانیہ ایک ہفتہ ہوتا ہے۔ اس کلاس میں باقاعدہ تدریسی فرائض مولانا فضل الہادی سرانجام دیتے ہیں، جب کہ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا عمار خان ناصر کے محاضرات بھی ہوتے ہیں۔ مولانا فضل الہادی اس کلاس میں نقشوں اور تصاویرکی مدد سے ارض القرآن وارض السیرۃ کا مکمل تعارف کراتے ہیں۔ اس کلاس میں درج ذیل عنوانات ہوتے ہیں: 

۱۔ مبادیات جغرافیہ

۲۔ قرآنی مقامات

۳۔ قرآنی شخصیات و اقوام 

۴۔ مقامات سیرۃ

۵۔ عہد نبوی کے عرب قبائل اوران کے مقامات

۶۔ عربی اور اردو میں کتب جغرافیہ قرآنی، تعارف منہج و خصائص

امسال اس کلاس میں تدریس کے لیے ملٹی میڈیا؍پروجیکٹر کا بھی استعمال کیا جائے گا۔ 

اصول تحقیق 

الشریعہ اکادمی کے دورہ تفسیر کے امتیازات میں سے اصول تحقیق پر سلسلہ محاضرات بھی ایک اہم سلسلہ ہے جو کہ دورہ کے دوران مغرب تا عشاء منعقد ہوتے ہیں۔ اس میں اصول تحقیق کے مختلف موضوعات پر ڈاکٹر محمد اکرم ورک ، مولانا حافظ محمد رشید اور مولانا حافظ محمد سرورکے محاضرات ہوتے ہیں۔ اس سلسلہ محاضرات کے عنوانات درج ذیل ہیں:

۱۔ تحقیق، تعارف و مبادیات 

۲۔ اصول تحقیق قرآن و حدیث کی روشنی میں مع امثلہ 

۳۔ محقق کے اوصاف 

۴۔ خاکہ تحقیق بنانے کا طریقہ و عملی مشق

۵۔ رسمیات تحقیق 

اکابر علماء ہند اور ان کی جدو جہد کا تعارف 

دورہ تفسیر کے موضوعات میں اکابر علماء ہند اور ان کی جدوجہد کا تعارف بھی شامل ہے۔ اس موضوع پر تین سے چار لیکچر بعد از نماز مغرب ہوتے ہیں، جو کہ عموماً راقم الحروف کے ذمہ ہوتے ہیں۔ اس سال کے مجوزہ موضوعات درج ذیل ہیں : 

۱۔ حضرت مجدد الف ثانی ، تعارف و خدمات 

۲۔ امام شاہ ولی اللہ، تعارف و خدمات قرآنیہ

۳۔ امام الہند مولانا محمد قاسم نانوتویؒ اور سرسید احمد خانؒ ، ایک تقابلی مطالعہ 

۴۔ مفسر قرآن مولنا عبد الحمید خان سواتی کی تفسیری مساعی

۵۔ علماء برصغیر کی خدمات علوم القرآن امام ولی اللہ سے اب تک ( اہم کتب، خصائص و امتیازات، اولیات ) 

اہم اداروں کی سیر اور ممتاز شخصیات سے ملاقاتیں

دورہ کے دوران جمعرات کو طلباء اور اساتذہ کا وفد شہر کے مطالعاتی دورہ پر جاتا ہے۔ ہر جمعرات کو کسی ادارے اور دو ، تین شخصیات سے ملاقات کی ترتیب بنائی جاتی ہے۔ یوں طلبہ کو مختلف شخصیات اور ان کے افکار سے مستفید ہونے کا موقع میسر ہو جاتا ہے۔ 

شرکاء کی آراء اور تجاویز

دورہ تفسیر کے اختتام پر ہر سال طلباء کی آراء (feedback) تحریراً حاصل کی جاتی ہیں اور ان کی روشنی میں مزید اصلاح کی کوشش کی جاتی ہے۔ 

یہ دورہ تفسیر ملک بھر کے دورہائے تفسیر میں ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے، جس کی اب تک چار کلاسیں ہو چکی ہے۔ جب کہ پانچویں کلاس انشاء اللہ حسب سابق رجب اور شعبان میں ۲۵ مئی بروز پیر تا۳۰ جون بروز منگل منعقد ہو گی۔ 

الشریعہ اکادمی

Flag Counter