مئی ۲۰۱۵ء

مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور سعودی سلامتی

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مشرق وسطیٰ میں صورت حال کس رخ پر جا رہی ہے، اس کے بارے میں ۱۹؍ اپریل کے اخبارات میں شائع ہونے والی دو خبریں ملاحظہ فرما لیں۔ ایک خبر کے مطابق ایران کے صدر محترم جناب حسن روحانی نے کہا ہے کہ سعودی عرب نے یمن پر فضائی حملہ کر کے نفرت کے بیج بو دیے ہیں جس کے نتائج اسے سمیٹنا پڑیں گے۔ جبکہ دوسری خبر میں لبنان کے سابق وزیر اعظم سعد حریری نے حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ پر الزام لگایا ہے کہ وہ ایرانی ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں اور سعودی حکمرانوں کے خلاف نفرت انگیزی کی مہم چلا رہے ہیں۔ اس کے بعد ۲۱؍ اپریل کے اخبارات میں ایرانی افواج کے کمانڈر بریگیڈیر...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا محمد امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۷)

― ڈاکٹر محی الدین غازی

(۵۶) أَلَدُّ الْخِصَامِ کا مفہوم۔ لفظ خصومۃ کے معنی ہوتے ہیں بحث ومباحثہ کے، جس میں جھگڑے کی کیفیت بھی کبھی شامل ہوسکتی ہے۔ فیروزآبادی نے لکھا ہے، الخُصومَۃُ: الجَدَلُ۔ قرآن مجید میں اس لفظ کے متعدد مشتقات استعمال ہوئے ہیں، جہاں مترجمین نے جھگڑنے کے لفظ سے ترجمہ کیا ہے، خود لفظ خصام کا ترجمہ بحث مباحثہ اور جھگڑے سے کیا ہے، جیسے: أَوَمَن یُنَشَّأُ فِیْ الْحِلْیَۃِ وَہُوَ فِیْ الْخِصَامِ غَیْْرُ مُبِیْنٍ۔ (الزخرف :۱۸)۔ ’’کیا اللہ کے حصے میں وہ اولاد آئی جو زیوروں میں پالی جاتی ہے اور بحث و حجت میں اپنا مدعا پوری طرح واضح بھی نہیں کر سکتی؟‘‘۔...

دورِ جدید کا فقہی ذخیرہ: عمومی جائزہ (۲)

― مولانا سمیع اللہ سعدی

آٹھویں قسم :ابواب فقہیہ پر تفصیلی کتب۔ عصر حاضر اختصاص و تخصص کا دور ہے۔ پورے فن کی بجائے فن کے مندرجات میں سے ہر ایک پر علیحدہ مواد تیار کرنے کا رجحان ہے ،بلکہ ایک باب کے مختلف پہلووں میں سے ہر پہلو پر الگ الگ کتب لکھنے کا رواج ہے ۔یہ رجحان فقہ اسلامی کے عصری ذخیرے میں بھی نظر آتا ہے۔ پوری فقہ اسلامی پر کتب لکھنے کی بجائے فقہ اسلامی کے ابواب میں سے ہر ایک پر تفصیلی کتب لکھی گئی ہیں ۔ذیل میں مختلف ابواب فقہیہ پر اہم عصری تصنیفات کی ایک فہرست دی جاتی ہے۔ فقہ العبادات پر اہم کتب۔ ۱۔العبادۃ فی الاسلام، مولف :ڈاکٹر یوسف القرضاوی۔ ۲۔مقاصد المکلفین...

شعبہ مساجد ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی لاہور کا نظم و نسق ۔ دیگر نظام ہائے مساجد کے لیے راہنما اصول

― حافظ محمد سمیع اللہ فراز

DHA لاہور، پاکستان آرمی کا ماتحت بااختیار ادارہ ہے، جس کا مقصد اپنے رہائشیوں کو عالمی سطح کے معیار کے مطابق رہائشی سہولیات فراہم کرنا ہے۔ بنیادی طور پر آرمی آفیسرز کے لیے بننے والے اس رہائشی منصوبہ کو بعد ازاں عوام الناس کے لیے وسعت دے دی گئی۔ اسی نام سے کراچی اور اسلام آباد میں بھی ادارے موجود ہیں۔ DHA لاہور، نہ صرف رہائشی سہولیات کے لحاظ سے ایک ممتاز حیثیت کاحامل ہے بلکہ دینی امور اور مساجد کا مستحکم ومنظم شعبہ، 25 سال سے یہاں آباد لوگوں کی مذہبی و روحانی ضروریات کو پورا کر رہا ہے۔ اس وقت کل 35 مساجد موجود ہیں جو ’’مسجد ۔ تمام مسلمانوں کے لیے‘‘...

متبادل بیانیہ ’’اصل بیانیے‘‘ کی روشنی میں (۲)

― محمد زاہد صدیق مغل

قومی سیاسی پہلو پر چند اصولی کلمات۔ اصل شرع کی بالادستی ہے، ریاست بنانے کے طریقے ظروف ہیں۔ غامدی صاحب دراصل ظروف کو اولیت دے کر گفتگو کی ترتیب کو بدل رہے ہیں۔ جس بیانئے کو رد کرنے کے لیے غامدی صاحب نے بیانیہ وضع فرمایا ہے، اس کے تناظر میں اس کا سادہ سا جواب کچھ اس طرح ہے: ’’’نیشن سٹیٹ‘ کا فارمیٹ بدلنا کوئی 'دین شکنی' نہیں ہے۔ ریاستی عمل (قوانین کے اجراء اور نفاذ) کو اسلام کا پابند کردینے کی جو بھی صورت مسلمانوں کی استطاعت میں ہو، مسلمان اْسے کیوں اختیار نہ کریں؟ 98 فیصد مسلم آبادی اپنی ’’سماجی قوت‘‘ اور ’’سیاسی رِٹ‘‘ کو اس کا ذریعہ بنائے،...

کیا غامدی فکر و منہج ائمہ سلف کے فکر و منہج کے مطابق ہے؟ غامدی صاحب کے دعوائے مطابقت کا جائزہ (۴)

― مولانا حافظ صلاح الدین یوسف

حد رجم اللہ کا حکم ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے تو واضح الفاظ میں اپنے پیغمبر کے بارے میں فرمایا ہے: وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِیْلِ لَأَخَذْنَا مِنْہُ بِالْیَمِیْنِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْہُ الْوَتِیْنَ (الحاقہ: 44۔46)۔ ’’اگر وہ ہم پر کچھ باتیں گھڑ کر لگا دیتا تو ہم اسکے دائیں ہاتھ کو پکڑ لیتے ،پھر ہم اس کی شہ رگ کاٹ دیتے۔‘‘ یہ اللہ نے کوئی اصول بیان نہیں کیا بلکہ خاص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت بتلایا ہے کہ اگر یہ کوئی بات اپنی طرف سے گھڑ کر ہماری طرف منسوب کردیتے توہم سخت مواخذہ کرتے؛ اس آیت میں گویا اس بات کی وضاحت...

الشریعہ اکادمی میں دورۂ تفسیر قرآن

― مولانا وقار احمد

الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ مولانا زاہد الراشدی کی زیر نگرانی گذشتہ پچیس سال سے کام کر رہی ہیں۔الشریعہ اکیڈیمی نے مذہبی حلقوں میں یہ احساس پیدا کیا ہے کہ انہیں معاشرے میں دینی و دنیاوی طبقات میں تفریق کو ختم کرنے اور اسلام کے پیغام کا مؤثر انداز میں ابلاغ کرنے کے لیے عصر حاضر کے اسلوب، مناہج اور طریقہ کار سے آگاہی حاصل کر نے کی اشد ضرورت ہے۔ ۷۰ء کی دہائی کے بعد مخصوص عوامل کے تحت پاکستان میں شدت پسندی اور عدم برداشت کی فضاء کو فروغ ملا ہے اور بہت سے حلقوں کو غیر شعوری طور پر اس کے لیے استعمال بھی کیا گیا۔ اس حوالے سے الشریعہ کے متوازن طرز فکر...

تمغۂ امتیاز

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

گزشتہ ۲۳ مارچ کو میں نے زندگی میں دوسری بار شیروانی پہنی۔ اس سے قبل شادی کے موقع پر ۲۵؍ اکتوبر ۱۹۷۰ء کو شیروانی پہنی تھی جو حضرت والد محترم رحمہ اللہ تعالیٰ نے بطور خاص میری شادی کے لیے سلوائی تھی۔ خود میرے ساتھ بازار جا کر ٹیلر ماسٹر کو ناپ دلوایا تھا اور ایک قراقلی ٹوپی بھی خرید کر دی تھی۔ یہ دونوں شادی کے دن میرے لباس کا حصہ بنیں۔ قراقلی تو میں اس کے بعد بھی ایک عرصہ تک خاص تقریبات میں پہنتا رہا ہوں لیکن شیروانی دوبارہ پہننے کا حوصلہ نہیں ہوا اور وہ میں نے شادی کے دوسرے دن چھوٹے بھائی مولانا عبد القدوس قارن کو دے دی۔ اپنے اپنے مزاج کی بات...

پاکستان شریعت کونسل کا اجلاس

― ادارہ

۳۱ مارچ کو جامع مسجد سیدنا عثمان غنیؓ اسلام آباد میں پاکستان شریعت کونسل کی مرکزی مجلس مشاورت کا ایک اہم اجلاس مولانا فداء الرحمن درخواستی کی زیر صدارت منعقد ہوا جس کے شرکاء میں مولانا قاری جمیل الرحمن اختر، مفتی محمد نعمان، مفتی محمد سیف الدین، جناب صلاح الدین فاروقی، حافظ سید علی محی الدین، جناب سعید اعوان، مولانا تنویر احمد علوی، قاری عبید اللہ عامر، مولانا محمد ادریس ڈیروی، مولانا سعید اللہ خان قاسم، مولانا محمد ادریس علوی، مولانا عبد الرزاق، حافظ پیر ریاض احمد چشتی، مولانا عبد الخالق، قاری محمد اکرم مدنی، پروفیسر حافظ ظفر حیات...

الشریعہ اکادمی کے اساتذہ کا دو روزہ مطالعاتی دورہ

― مولانا محمد عبد اللہ راتھر

اپریل کو الشریعہ اکادمی کے اساتذہ ورفقاء کے لیے اسلام آباد کے ایک مطالعاتی دورے کا اہتمام کیا گیا۔ وفد الشریعہ اکیڈمی کے چھ اساتذہ اور ایک رفیق کار پر مشتمل تھا۔ مطالعاتی دورہ کا مقصد مختلف تعلیمی اداروں کے نظام ونصاب کا مطالعہ کرنا اور ان سے استفادہ کی صورتوں پر غور کرنا تھا۔ وفد کے سفر کی پہلی منزل ہری پور میں مولانا وقار احمد کی رہائش گاہ تھی جہاں اس دو روزہ دورہ کی اگلی منازل مشاورت سے طے کی گئیں۔ وفد کی پہلی ملاقات ہائی ٹیک یونیورسٹی کے شعبہ اسلامیات کے صدر ڈاکٹر طفیل ہاشمی صاحب سے ہوئی۔ ڈاکٹر صاحب موصوف سے متعلقہ موضوع پر سیر حاصل گفتگو...

ای میل سبسکرپشن

 

Delivered by FeedBurner

Flag Counter