اکتوبر ۲۰۱۴ء

’’دہشت گرد‘‘ کا موقف اس کی زبانی

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

میری اس گزارش پر بعض دوستوں کو الجھن ہوتی ہے کہ کسی کے بارے میں یک طرفہ بات نہیں کرنی چاہیے اور اگر کسی فرد یا گروہ کے بارے میں کوئی شکایت یا اعتراض ہو تو اس سے بھی پوچھ لینا چاہیے کہ تمہارا موقف کیا ہے؟ اس کا موقف از خود طے کرنے کی بجائے اس سے دریافت کرنا چاہیے اور اگر وہ کوئی وضاحت پیش کرے تو اسے یکسر مسترد کر دینے کی بجائے اس کا سنجیدگی اور انصاف کے ساتھ جائزہ لینا چاہیے۔ ہمارے ساتھ گزشتہ ڈیڑھ صدی سے یہ معاملہ جاری ہے کہ اکابر علماء دیوبند پر گستاخ رسولؐ ہونے کا الزام مسلسل دہرایا جا رہا ہے۔ عبارات پیش کی جا رہی ہیں اور فتوؤں پر فتوے جاری ہو...

دستور پاکستان اور عالمی لابیاں

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ملک کے دستور و آئین کے خلاف جو قوتیں ایک عرصہ سے سرگرم عمل ہیں، موجودہ سیاسی بحران کی طوالت سے ان کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے اور کچھ دوستوں کا خیال ہے کہ شاید اس مہم کا اصل مقصد یہی ہو۔ ہم نہیں سمجھتے کہ عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری ارادتاً وطن عزیز کو بے آئین کر کے پاکستان کے نظریاتی تشخص اور جغرافیائی وحدت کو داؤ پر لگا سکتے ہیں، لیکن غیر شعوری طور پر بہت کچھ ہو سکتا ہے اور گزشتہ چند سالوں میں ’’عرب بہار‘‘ کے سیاسی اور عوامی ریلے سے عالمی منصوبہ بندوں نے جو نتائج انتہائی انجینئرڈ طریقہ سے حاصل کر لیے ہیں، ان کو دیکھتے ہوئے کوئی بھی نتیجہ...

اسلامی ممالک میں مذہبی انتہا پسندی: اسباب اور حل

― مولانا مفتی محمد تقی عثمانی

1۔ میری گفتگو عدم اطاعت کے عنوان سے ہوگی کیوں کہ کانفرنس کے عنوان میں یہ پہلو بھی شامل ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ اطاعت کے وجوب اور اثبات کے موضوع کو مفتی مصر شیخ احمد شوقی علام حفظہ اللہ تعالی نے تفصیل سے بیان فرمادیا ہے۔ 2۔ عصرحاضر کی بڑی مشکل یہی عدم طاعت ہے یعنی مسلم معاشروں اور مسلم ملکوں میں حکمرانوں کی اطاعت نہ کرنے کا رجحان زیادہ ہے اور اسی سے مشکلات بڑھ رہی ہیں۔ 3۔ اس سلسلے میں قرآن و سنت کی بعض نصوص کو غلط طور پر بیان کیا جارہا ہے اور ان کے ذریعے سے حکمرانوں کی اطاعت کی سرے سے نفی کی جارہی ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ حکمرانوں کی طاعت واجب...

ڈاکٹر محمد شکیل اوج شہید

― خورشید احمد ندیم

’’افکارِ شگفتہ‘‘ بہت دنوں سے میرے سامنے رکھی ہے۔ ڈاکٹر شکیل اوج کا محبت بھرا اصرار اور پھر میری افتادِ طبع، دونوں متقاضی رہے کہ اس پر کچھ لکھوں۔ موضوعات کا تنوع اور دلچسپی مجھے اپنی طرف کھینچتے رہے مگر غمِ دوراں نے مہلت ہی نہ دی۔ آج افکار باقی ہیں مگر وہ شگفتہ چہرہ میری نظروں سے اوجھل ہو چکا، ہمیشہ کے لیے۔ ڈاکٹر فاروق خان کی شہادت کے بعد، یہ دوسرا گھاؤ ہے جو رگِ جاں میں اتر گیا ہے۔ مجھے یاد نہیں کہ ڈاکٹر شکیل اوج سے پہلی ملاقات کب ہوئی، لیکن یہ یاد ہے کہ برسوں سے ایک ہی ملاقات چلی آتی تھی۔ ۱۶ستمبر تک، جب وہ اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ شاید اس کے...

علماء دیوبند کا اجتماعی مزاج اور فکری رواداری

― حافظ خرم شہزاد

بریلوی علما وعوام سے اختلاف میں اعتدال۔ بہاول پور کے مشہور مقدمے میں ’’مختار قادیانی نے اعتراض کیا کہ علماء بریلی، علمائے دیوبند پر کفر کا فتویٰ دیتے ہیں اور علمائے دیوبند علمائے بریلی پر۔ اس پر شاہ صاحب نے فرمایا: ’’میں بطور وکیل تمام جماعت دیوبند کی جانب سے گذارش کرتا ہوں کہ حضرات دیوبند ان کی تکفیر نہیں کرتے۔ اہل سنت والجماعت اور مرزائی مذہب والوں میں قانون کا اختلاف ہے اور علماء دیوبند وعلماء بریلی میں واقعات کا اختلاف ہے، قانون کا نہیں۔ چنانچہ فقہاء حنفیہ رحمہم اللہ نے تصریح کی ہے کہ اگر کوئی مسلمان کسی شبہ کی بنا پر کلمہ کفر کہتا...

مسجدِ اقصی کی تولیت اور عمار خان ناصر صاحب کی تحریرات ۔ تفصیلی و تنقیدی جائزہ (۲)

― مولانا سمیع اللہ سعدی

مشرکین مکہ پر قیاس۔ جناب عما ر صاحب نے حقِ تولیت کے ’’مزعومہ شرعی دلائل ‘‘کا ذکر کرتے ہوئے تیسرے نمبر پر یہ ’’دلیل ‘‘ذکر کی ہے اور یہ’’دعوی ‘‘کیا ہے کہ مسلم مفکرین یہود کی تولیت کی منسوخی کے لئے مسجدِ اقصی کو مسجدِ حرام پر اور یہود کو مشرکینِ مکہ پر ’’قیاس ‘‘کرتے ہیں۔کہ جس طرح مشرکینِ مکہ اللہ کی نافرمانی کے نتیجے میں مسجدِ حرام کی تولیت سے محروم کئے گئے ،اسی طرح یہود بھی اپنی نافرمانیوں کی بدولت مسجدِ اقصی کی تولیت سے محروم ہونگے۔ آنجناب نے یہ استدلال حضرت قاری طیب صاحب ؒ کی مایہ ناز کتاب ’’مقاماتِ مقدسہ اور ان کا اجتماعی نظام...

قرآنی تدبرِ کائنات: روحانی تدبر مراد ہے یا سائنسی؟ (کرم فرماؤں کی خدمت میں جوابی توضیحات)

― مولانا محمد عبد اللہ شارق

اپنے گذشتہ مضمون ’’تدبرِ کائنات کے قرآنی فضائل ۔۔۔‘‘ پر بالترتیب جناب عاصم بخشی اور ڈاکٹر شہباز منج کے دو ناقدانہ تبصرے ’’الشریعہ‘‘ کے شمارہ اگست ۲۰۱۴ء میں نظر سے گذرے۔ دونوں صاحبان نے میرے مضمون میں مذکور اصل علمی نکات سے ذرا بھی مس نہیں کیا اور نہ ہی میرے اصل موقف ومدعا کو موضوعِ بحث بنایا ہے جسے میں ان کی طرف سے نیم دلانہ ’’اعترافِ حقیقت‘‘ سمجھتا ہوں۔ تاہم کچھ مغالطے ہیں اور کچھ سوالات ہیں جو خصوصا اول الذکر ناقد نے اٹھائے ہیں اور ہماری گفتگو کے اصل منشاء سے غیر متعلق ہونے کے باوجود زیرِ بحث موضوع سے ہی کچھ کچھ متعلق ہیں اور ان...

تحریک انسداد سود کی رابطہ کمیٹی کا اجلاس

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

تحریک انسداد سود پاکستان کی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ۱۳ ستمبر کو بعد نماز ظہر آسٹریلیا مسجد لاہور میں منعقد ہوا جس میں مولانا عبد الرؤف ملک، مولانا حافظ عبد الغفار روپڑی، علامہ خلیل الرحمن قادری، ڈاکٹر فرید احمد پراچہ، ڈاکٹر محمد امین، پروفیسر حافظ ظفر اللہ شفیق، مولانا قاری جمیل الرحمن اختر، مولانا حافظ محمد سلیم، مولانا مجیب الرحمن انقلابی، قاری محمد یوسف احرار اور دیگر حضرات نے شرکت کی۔ جبکہ صدارت کے فرائض راقم الحروف ابو عمار زاہد الراشدی نے سر انجام دیے۔ اجلاس میں ملک کی موجودہ عمومی صورت حال اور انسداد سود مہم کی سرگرمیوں کا جائزہ...

مولانا مسعود بیگ اور ڈاکٹر شکیل اوج کا المناک قتل

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

جامعہ بنوریہ کراچی کے استاذ مولانا مسعود بیگ کی شہادت کا غم ابھی تازہ تھا کہ کراچی یونیورسٹی کے شعبہ اسلامیات کے سربراہ ڈاکٹر محمد شکیل اوج کی شہادت کی خبر سننا پڑی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ کراچی ایک عرصہ سے مختلف حوالوں سے قتل وغارت کی آماج گاہ بنا ہوا ہے۔ قومیتوں کے اختلافات اور فرقہ وارانہ تنازعات کے علاوہ سیاسی اور لسانی جھگڑے اس قتل وغارت کے محرکات میں سرفہرست ہیں اور اس میں سب سے زیادہ غم واندوہ اور رنج وصدمہ کا پہلو یہ ہے کہ عام شہریوں اور کارکنوں کی قیمتی جانوں کے ضیاع کے ساتھ ساتھ مختلف مکاتب فکر اور طبقات کے ارباب علم ودانش خاص...

علماء دیوبند ۔ مولانا عتیق الرحمٰن سنبھلی کا مکتوب

― ادارہ

عزیز گرامی میاں عمار صاحب۔ شکریہ کہ الشریعہ کے شمارے تا اگست موصول ہو گئے۔ امید ہے اب ماہ بماہ آتے رہیں گے۔ پیکیٹ کھولنے پر جو ذرا سی ورق گردانی فوراً ہی کی تو خاص اشاعت اور جون ہی کی عام اشاعت میں دو باتیں توجہ دلانے کے قابل نظر آئیں۔ خاص نمبر کے اسامہ مدنی صاحب کے مضمون (در دفاعِ مولانا راشدی) میں حضرت مولانا علی میاں صاحب کو فاضل دیوبند بتا دیا ہے جو واقعہ نہیں ہے۔ مولانا نے صرف چار مہینے دیوبند میں رہ کر بخاری اور ترمذی کے درس کی سماعت کی تھی۔ (پرانے چراغ جلد اول، تذکرہ حضرت مدنی)۔ جبکہ عام شمارہ میں انس حسان صاحب نے حضرت شیخ الہند کو جمعیۃ...

الشریعہ اکادمی میں علمی و فکری نشستیں

― مولانا محمد عبد اللہ راتھر

یہ بات مسلم ہے کہ ’’انسان‘‘ تحریر شدہ کتابوں سے اِتنا نہیں سیکھتا جتنا کتابِ زندگی کے تلخ و شیریں تجربات انسان کو سکھادیتے ہیں اور پھر ’’سفر‘‘ کا تو معنی ہی ’’کھولنا‘‘ ہے۔ سفر انسانی ذہن کے لیے معلومات و تجربات کے اَن گنت دریچے کھول دیتا ہے۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا زاہد الراشدی حفظہ اللہ اپنی عمر کے ۶۷ ویں برس میں ہیں اور اُن کی زندگی کا اکثر حصہ تدریس، خطابت اور دینی تحریکات کے مقاصد کی خاطراسفار میں گزراہے ۔ اندرون و بیرون ممالک کے سینکڑوں یادگار اسفار اُن کی زندگی کا حصہ ہیں۔ اسفار کی کثرت کے باوجود ۱۹۷۰ء سے باقاعدہ تدریس اور تب...

انسانی صحت کے لیے حرارت کی اہمیت

― حکیم محمد عمران مغل

کرۂ ارضی پر انسانی زندگی اور انسانی صحت کے لیے سورج کی فراہم کردہ تپش اور حرارت بے حد اہم ہے۔ اگر سورج کی تپش نہ ہو تو زندگی کا کاروبار ٹھپ ہو کر رہ جائے۔ اگر سورج کی تپش کی زیادتی سے جسم کو بیماریاں لاحق ہوتی ہیں تو صحت کا گلشن بھی اسی تپش سے کھلتا ہے۔ پھلوں میں مٹھاس، غلے میں بڑھوتری اور پھولوں میں رنگ ، خوشبو اور چمک جو پیدا ہوتی ہے، وہ سورج کی گرمی سے ہوتی ہے۔ انسان کو جب بخار ہوتا ہے تو خون کے کئی مادے پگھل کر ضائع ہوتے ہیں۔ جسم میں ٹھنڈک کی زیادتی کی وجہ سے جوڑ جکڑے جاتے ہیں اور شوگر کے مرض کی زیادتی بھی ٹھندک کی وجہ سے ہے۔ اطباء نے اپنے تجربات...

اکتوبر ۲۰۱۴ء

جلد ۲۵ ۔ شمارہ ۱۰

’’دہشت گرد‘‘ کا موقف اس کی زبانی
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

دستور پاکستان اور عالمی لابیاں
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

اسلامی ممالک میں مذہبی انتہا پسندی: اسباب اور حل
مولانا مفتی محمد تقی عثمانی

ڈاکٹر محمد شکیل اوج شہید
خورشید احمد ندیم

علماء دیوبند کا اجتماعی مزاج اور فکری رواداری
حافظ خرم شہزاد

مسجدِ اقصی کی تولیت اور عمار خان ناصر صاحب کی تحریرات ۔ تفصیلی و تنقیدی جائزہ (۲)
مولانا سمیع اللہ سعدی

قرآنی تدبرِ کائنات: روحانی تدبر مراد ہے یا سائنسی؟ (کرم فرماؤں کی خدمت میں جوابی توضیحات)
مولانا محمد عبد اللہ شارق

تحریک انسداد سود کی رابطہ کمیٹی کا اجلاس
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مولانا مسعود بیگ اور ڈاکٹر شکیل اوج کا المناک قتل
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

علماء دیوبند ۔ مولانا عتیق الرحمٰن سنبھلی کا مکتوب
ادارہ

الشریعہ اکادمی میں علمی و فکری نشستیں
مولانا محمد عبد اللہ راتھر

انسانی صحت کے لیے حرارت کی اہمیت
حکیم محمد عمران مغل

ای میل سبسکرپشن

 

Delivered by FeedBurner

Flag Counter