انسانی صحت کے لیے حرارت کی اہمیت

حکیم محمد عمران مغل

کرۂ ارضی پر انسانی زندگی اور انسانی صحت کے لیے سورج کی فراہم کردہ تپش اور حرارت بے حد اہم ہے۔ اگر سورج کی تپش نہ ہو تو زندگی کا کاروبار ٹھپ ہو کر رہ جائے۔ اگر سورج کی تپش کی زیادتی سے جسم کو بیماریاں لاحق ہوتی ہیں تو صحت کا گلشن بھی اسی تپش سے کھلتا ہے۔ پھلوں میں مٹھاس، غلے میں بڑھوتری اور پھولوں میں رنگ ، خوشبو اور چمک جو پیدا ہوتی ہے، وہ سورج کی گرمی سے ہوتی ہے۔ انسان کو جب بخار ہوتا ہے تو خون کے کئی مادے پگھل کر ضائع ہوتے ہیں۔ 

جسم میں ٹھنڈک کی زیادتی کی وجہ سے جوڑ جکڑے جاتے ہیں اور شوگر کے مرض کی زیادتی بھی ٹھندک کی وجہ سے ہے۔ اطباء نے اپنے تجربات میں لکھا ہے کہ ایک مریض کو ٹی بی کا مرض لاحق ہو جائے اور دوسرے کو جوڑوں کے درد اور گنٹھیا کا تو ٹی بی کا مریض شفا یاب ہو کر لمبی عمر پا سکتا ہے، لیکن قوت باہ کے مریض کا چراغ ٹمٹمانا شروع کر دیتا ہے۔ 

الغرض جس قدر ہو سکے، ٹھنڈی اشیاء سے اجتناب برتیں۔ کھانے کے بعد جوارش کمونی ضرور استعمال کریں۔اگر ہو سکے تو جوارش جالینوس بھی استعمال کرتے رہیں۔ طب یونانی میں بعض ادویہ سال ہا سال تک کھائی جاتی ہیں۔

امراض و علاج

اکتوبر ۲۰۱۴ء

جلد ۲۵ ۔ شمارہ ۱۰

’’دہشت گرد‘‘ کا موقف اس کی زبانی
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

دستور پاکستان اور عالمی لابیاں
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

اسلامی ممالک میں مذہبی انتہا پسندی: اسباب اور حل
مولانا مفتی محمد تقی عثمانی

ڈاکٹر محمد شکیل اوج شہید
خورشید احمد ندیم

علماء دیوبند کا اجتماعی مزاج اور فکری رواداری
حافظ خرم شہزاد

مسجدِ اقصی کی تولیت اور عمار خان ناصر صاحب کی تحریرات ۔ تفصیلی و تنقیدی جائزہ (۲)
مولانا سمیع اللہ سعدی

قرآنی تدبرِ کائنات: روحانی تدبر مراد ہے یا سائنسی؟ (کرم فرماؤں کی خدمت میں جوابی توضیحات)
مولانا محمد عبد اللہ شارق

تحریک انسداد سود کی رابطہ کمیٹی کا اجلاس
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مولانا مسعود بیگ اور ڈاکٹر شکیل اوج کا المناک قتل
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

علماء دیوبند ۔ مولانا عتیق الرحمٰن سنبھلی کا مکتوب
ادارہ

الشریعہ اکادمی میں علمی و فکری نشستیں
مولانا محمد عبد اللہ راتھر

انسانی صحت کے لیے حرارت کی اہمیت
حکیم محمد عمران مغل