مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحبؒ / مولانا قاضی مقبول الرحمنؒ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر رحمہ اللہ تعالیٰ ملک کے بزرگ صوفیاء کرام میں سے تھے جن کی ساری زندگی سلوک و تصوف کے ماحول میں گزری اور ایک دنیا کو اللہ اللہ کے ذکر کی تلقین کرتے ہوئے طویل علالت کے بعد گزشتہ ہفتے کراچی میں انتقال کر گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کا روحانی تعلق حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی قدس اللہ سرہ العزیز کے حلقہ کے تین بڑے بزرگوں حضرت مولانا محمد احمد پرتاب گڑھیؒ ، حضرت مولانا شاہ عبد الغنی پھول پوریؒ اور حضرت مولانا شاہ ابرار الحق آف ہر دوئیؒ سے تھا۔ وہ ان بزرگوں کے علوم و فیوض کے امین تھے اور زندگی بھر ان فیوض و برکات کو لوگوں میں تقسیم کرتے رہے۔ ان کا حلقۂ ارادت پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش سے باہر جنوبی افریقہ، برطانیہ اور دیگر ممالک تک وسیع تھا اور بلا مبالغہ لاکھوں مسلمانوں نے ان سے روحانی استفادہ کیا۔ علماء کرام کی ایک بڑی تعداد ان سے بیعت تھی اور انہیں اہل علم کے مرجع کا مقام حاصل تھا۔

مجھے مولانا محمد عیسیٰ منصوری کے ہمراہ لندن کی بالہم مسجد میں ایک بار ان کی صحبت میں حاضری کا اتفاق ہوا تھا اور اس مجلس کی تروتازگی اور بہار ابھی تک ذہن میں نقش ہے۔ باغ و بہار شخصیت تھے، سخن فہمی کے ساتھ ساتھ شعر گوئی کا کمال بھی رکھتے تھے اور با ذوق صوفیاء کرامؒ کی طرح انہیں محبت الٰہی اور عشق رسولؐ کے حوالہ سے دلی جذبات کی تپش کو اشعار کی صورت میں ڈھالنے کا بھرپور ذوق اور ملکہ حاصل تھا۔ گلشن اقبال کراچی میں ایک بڑی دینی درسگاہ اور خانقاہ قائم کی جہاں سے ہزاروں علماء کرام نے علمی و روحانی فیض حاصل کیا۔ اب ان کے فرزند جانشین مولانا حکیم محمد مظہر صاحب اس مرکز کا نظام چلا رہے ہیں اور اپنے عظیم باپ کے مشن کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ لاہور میں اس خانقاہ کی شاخ چڑیا گھر کی مسجد میں مصروف عمل ہے اور ہمارے محترم دوست ڈاکٹر عبد المقیم اپنے شیخؒ کی روحانی برکات لوگوں میں بانٹ رہے ہیں۔

ہماری دینی اور معاشرتی زندگی میں خانقاہ کا ایک مستقل مقام اور نظام ہے جہاں سے لوگوں کو روحانی فیض، اللہ اللہ کے ذکر کی تلقین اور محبت رسولؐ کی حلاوت کے ساتھ ساتھ نفسیاتی سکون بھی ملتا ہے۔ اگرچہ دوسرے بہت سے اداروں کی طرح یہ ادارہ بھی کمرشل ازم سے بہت متاثر ہوا ہے لیکن شاہ حکیم محمد اخترؒ جیسے باخدا بزرگوں کی صورت میں قدرت ایزدی نے اس عظیم ادارے کی آبرو اور بھرم کو قائم رکھا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ حضرت حکیم صاحبؒ کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کریں اور ان کے لگائے ہوئے علمی و روحانی گلشن کو ہمیشہ آباد رکھیں۔ آمین یا رب العالمین۔ 

مولانا قاضی مقبول الرحمنؒ

دوسرے بزرگ میرپور آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے مولانا قاضی مقبول الرحمن قاسمیؒ ہیں جو گزشتہ عشرہ کے دوران اپنے رب کو پیارے ہوگئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کا آبائی تعلق آزاد کشمیر کے علاقہ باغ سے تھا۔ مدرسہ رحمانیہ ہری پور اور مدرسہ انوار العلوم مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ سمیت مختلف مدارس میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد جامعہ اشرفیہ لاہور میں ۱۹۶۶ء میں دورۂ حدیث کر کے فراغت حاصل کی اور وہیں تدریس کے فرائض سر انجام دینے لگے۔ آزاد کشمیر میں سردار محمد عبد القیوم خان صاحب نے جب اسلامی حدود و تعزیرات کے نفاذ کا فیصلہ کیا اور سیشن جج صاحبان کے ساتھ جید علماء کرام کو قاضی کے طور پر بٹھا کر مشترکہ عدالتی نظام کا آغاز کیا تو اس پر مختلف حلقوں کی طرف سے شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا اور اس مشترکہ عدالتی نظام کی کامیابی کو مشکوک سمجھا جانے لگا، لیکن تحفظات کی اس فضا کو ختم کرنے اور نئے نظام کو کامیاب بنانے میں جن علماء نے تدبر و فراست کے ساتھ محنت کی اور اپنے علم و فضل کے کمال کے ساتھ ساتھ حوصلہ و جرأت اور دیانت و امانت کی اعلیٰ مثال پیش کر کے جدید تعلیم یافتہ حلقہ کے تحفظات کو دور کیا اور اسلامی قوانین کے علاوہ علماء کرام کی علمی و عدالتی استعداد و صلاحیت کا سکہ منوایا۔ ان میں قاضی مقبول الرحمن قاسمیؒ کا نام نمایاں ہے جنہوں نے کم و بیش ربع صدی تک آزاد کشمیر کے مختلف اضلاع میں ضلع قاضی کے طور پر فرائض سر انجام دیے۔ آزاد کشمیر کے علماء کرام کو اس مرحلہ میں دو بڑے چیلنج درپیش تھے۔ ایک یہ کہ اسلامی قوانین و احکام آج کے عالمی تناظر اور معاشرتی ضروریات میں کس طرح قابل عمل ہو سکتے ہیں، اور دوسرا یہ کہ جدید ترقی یافتہ عدالتی نظام میں دینی مدارس سے تعلیم حاصل کرنے والے علماء کرام کو کس طرح ایڈجسٹ کیا جا سکتا ہے؟

محترم سردار محمد عبد القیوم خان صاحب نے، جو اب صاحبِ فراش ہیں، مجھے متعدد ملاقاتوں میں بتایا کہ آزاد کشمیر کے علماء کرام کی ایک بڑی تعداد نے بڑے حوصلہ اور تدبر کے ساتھ ان چیلنجوں کا سامنا کیا جس کی وجہ سے آج بھی آزاد کشمیر میں ضلع اور تحصیل کی سطح پر جج صاحبان اور قاضی حضرات کی مشترکہ عدالتیں کامیابی کے ساتھ چل رہی ہیں۔ لیکن سردار صاحب محترم اس سلسلہ میں تین علماء کرام کا نام بطور خاص لیتے ہیں، حضرت مولانا محمد یوسف خان آف پلندریؒ ، مولانا قاضی بشیر احمدؒ اور مولانا قاضی مقبول الرحمن قاسمیؒ ۔ سردار صاحب کا کہنا ہے کہ ان تین علماء کرام کے علم، دیانت اور محنت نے علماء کرام کا بھرم قائم کیا اور ان کی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ ان تینوں میں سے مولانا قاضی مقبول الرحمن قاسمیؒ حیات تھے جن کا گزشتہ ہفتے میرپور میں انتقال ہوگیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سب بزرگوں کو جوارِ رحمت میں جگہ دیں اور سردار محمد عبد القیوم خان کو صحت و سلامتی سے نوازیں۔ آمین یا رب العالمین۔ 

اخبار و آثار