جولائی ۲۰۱۳ء

طالبان اور امریکہ کے مذاکرات

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

قطر میں افغان طالبان کا سیاسی دفتر کھلنے کے ساتھ ہی امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوتا دکھائی دینے لگا ہے اور دونوں طرف سے تحفظات کے اظہار کے باوجود یہ بات یقینی نظر آرہی ہے کہ مذاکرات بہرحال ہوں گے، کیونکہ اس کے سوا اب کوئی اور آپشن باقی نہیں رہا اور دونوں فریقوں کو افغانستان کے مستقبل اور اس کے امن و استحکام کے لیے کسی نہ کسی فارمولے پر بالآخر اتفاق رائے کرنا ہی ہوگا۔ افغانستان میں امریکی افواج اور نیٹو کی عسکری یلغار کے بعد ہم نے اس وقت بھی عرض کر دیا تھا اور اس کے بعد بھی وقتاً فوقتاً یہ گزارش کرتے آرہے ہیں کہ...

اراکان کے مظلوم مسلمانوں کی حالت زار

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

این۔این۔آئی کے حوالہ سے ’’پاکستان‘‘ (۲۰ جون کو) میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ نے برما (میانمار) سے مطالبہ کیا ہے کہ اقلیتی روہنگیا مسلمانوں کی شہریت اور طویل مدتی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے معاملات کا تعین کیا جائے جن میں لاکھوں افراد نسلی تشدد کے واقعات کے نتیجے میں پناہ گزین خیموں میں رہائش پر مجبور ہوئے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد سے متعلق ادارے نے بتایا ہے کہ برما کی مغربی ریاست راکھین (اراکان) میں ایک لاکھ چالیس ہزار افراد بے گھر ہیں۔ ایک برس سے جاری بودھ مسلمان فسادات...

آزادی فکر و نظر اور مسلم معاشرے کی صورت حال

― مولانا محمد وارث مظہری

آزادی فکر ونظر انسانی فطرت کا لازمی تقاضا ہے۔انسان حیوان ناطق ہے۔اسے عقل اور قوت تفکیر سے نوازا گیا ہے جس کے ذریعے وہ خیر وشر میں تمیز کرتا ہے اور جس کی بنیاد پر اس سے فطرت کا مطالبہ ہے کہ وہ خود اپنی ذات وکائنات میں غور کرکے اپنے وجود کے مقصد کی دریافت کرے ۔قرآن میں درجنوں مقامات پر تقلیدی روش اختیار کرنے کے بجائے انسان کو عقل کے استعمال پر ابھارا گیا ہے اور عقل وفکر کو پس پشت ڈال دینے والوں کو اس معاملے میں جانوروں بلکہ ان سے بھی بدتر قرار دیا گیا ہے۔(الاعراف: 179) اس لحاظ سے دوسرے تمام قابل ذکر مذاہب کے مقابلے میں اسلام کو عقل و فکر کا مذہب قرار...

بر صغیر کی دینی روایت میں برداشت کا عنصر (۲)

― مولانا مفتی محمد زاہد

بر صغیر میں فرقہ وارانہ تقسیم کا ایک اہم زاویہ حنفی اور اہلِ حدیث تقسیم ہے۔ اگرچہ دونوں طرف کے حضرات کے درمیان مناظرہ بازی اور کبھی کبھار دشنام بازی بھی ہوتی رہی ہے، لیکن دونوں طرف کے سنجیدہ اور راسخ علم رکھنے والی شخصیات نے ہمیشہ نہ صرف یہ کہ اس اختلاف کو اپنی حدود میں رکھنے کی کوشش کی بلکہ ایک دوسرے کے احترام کی مثالیں بھی قائم کیں۔ اس سلسلے میں چند واقعات کا تذکرہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ حنفی، اہلِ حدیث اختلاف کا ایک اثر جو دینی مدارس میں درس و تدریس کے ماحول پرمرتب ہوا اور پھر عوامی ماحول بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا، یہ تھا کہ درس و...

تحفظ ناموس رسالت

― ڈاکٹر قاری محمد طاہر

مولانا زاہد الراشدی بہت بالغ نظر عالم ہیں۔ ان کی نظر میں بلوغت ہی نہیں بلکہ گہرائی و گیرائی بھی ہے۔ حالات کو وسیع تناظر میں دیکھتے ہیں۔ بین السطور معاملہ پڑھ لینے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں اور جلد معاملے کی تہہ تک پہنچ جانا ان کا وصف ہے۔ مولانا ناخن گرہ کشا بھی رکھتے ہیں جن کی وجہ سے بڑی بڑی پیچیدہ اور الجھی گتھیاں سلجھتی چلی جاتی ہیں۔ پچھلے دنوں آزاد کشمیر میں تھے۔ جہاں توہین قرآن کے حوالے سے حالات نازک ہو گئے۔ مولانا کی گرہ کشائی کی صلاحیت بروقت کام آئی اور معاملات کنٹرول میں آگئے۔ وگرنہ ضلعی انتظامیہ، پولیس اور دیگر لوگوں کے لیے حالات بہت...

مغربی اجتماعیت : اعلیٰ اخلاق یا سرمایہ دارانہ ڈسپلن کا مظہر؟ (۲)

― محمد زاہد صدیق مغل

غربت اور افلاس کا فروغ اور اس کے مجوزہ حل۔ ذرائع پیداوار پر مارکیٹ ڈسپلن کے غلبے کے نتیجے میں غربت و افلاس ،معاشی و سماجی ناہمواریوں اور استحصال نے جنم لیا۔ (یہاں اس بات کا دھیان رہے کہ اگرچہ سرمایہ دارانہ نظام میں لوگوں کی مطلق آمدن (absolute income) میں اضافہ ہونے کی بنا پر مطلق (absolute) غربت تو کم ہوجاتی ہے، البتہ اضافی (relative) آمدنیوں کا تفاوت اور اضافی غربت میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سرمایہ دارانہ معاشرے میں لوگوں کی آمدنیوں میں مسلسل اضافے کے باوجود ۹۸ فیصد لوگ خود کو محروم اور ناخوش محسوس کرتے ہیں)۔ اس کی بنیادی طور پر چند وجوہات...

مولانا مودودیؒ اور مولانا ہزارویؒ کے حوالے سے مباحثہ

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ، مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ، مولانا غلام غوث ہزارویؒ اور مولانا محمد چراغؒ کے حوالے سے کچھ عرصے سے ’’الشریعہ‘‘ کے صفحات پر بحث جاری ہے اور چونکہ اب یہ بحث مکالمہ کے بجائے مورچہ بندی کی صورت اختیار کرتی جا رہی ہے، اس لیے مزید تکرار سے بچنے کے لیے ہم نے اس کو یہیں ختم کر دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ جیسا کہ کئی بار عرض کیا جا چکا ہے، ’’الشریعہ‘‘ کو علمی، فکری، تاریخی اور دیگر متعلقہ مسائل پر باہمی مباحثہ و مکالمہ کا فورم ضرور بنایا گیا ہے، لیکن ہم اسے صرف مکالمہ کی حد تک رکھنا چاہتے ہیں اور مناظرہ و محاذ آرائی...

چراغ علم و حکمت

― مولانا حافظ محمد عارف

ماہنامہ الشریعہ کے فروری 2013ء کے شمارہ میں خواجہ امتیاز احمد صاحب (سابق ناظم اسلامی جمعیت طلبہ گوجرانوالہ )کا ایک مضمون شائع ہوا، جو چوہدری محمد یوسف صاحب ایڈووکیٹ (سابق رکن جماعت اسلامی)کے مضمون کے جواب میں تھا۔ جس میں جماعت اسلامی کے بارے میں اظہار خیال کیا گیا تھا۔خواجہ امتیاز احمد صاحب نے اپنے مضمون کے شائع ہونے کے بعد مئی 2013ء کے شمارہ میں ایک مکتوب کے ذریعے مولانا فیاض صاحب کے استفسار پر چند وضاحتیں کیں۔ جن میں مولانا غلام غوث ہزاروی علیہ الرحمۃ کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’’وہ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد چراغ رحمہ اللہ کو سیاہ دل کہا...

مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحبؒ / مولانا قاضی مقبول الرحمنؒ

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر رحمہ اللہ تعالیٰ ملک کے بزرگ صوفیاء کرام میں سے تھے جن کی ساری زندگی سلوک و تصوف کے ماحول میں گزری اور ایک دنیا کو اللہ اللہ کے ذکر کی تلقین کرتے ہوئے طویل علالت کے بعد گزشتہ ہفتے کراچی میں انتقال کر گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کا روحانی تعلق حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی قدس اللہ سرہ العزیز کے حلقہ کے تین بڑے بزرگوں حضرت مولانا محمد احمد پرتاب گڑھیؒ ، حضرت مولانا شاہ عبد الغنی پھول پوریؒ اور حضرت مولانا شاہ ابرار الحق آف ہر دوئیؒ سے تھا۔ وہ ان بزرگوں کے علوم و فیوض کے امین تھے اور زندگی بھر ان...

مکاتیب

― ادارہ

(۱) محترم جناب مدیر الشریعہ، گوجرانوالہ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ آپ کے موقر مجلے کے تازہ شمارے میں ڈاکٹر ممتاز احمد صاحب (صدر اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد) کے ایک خط کے جواب میں عبد الفتاح محمد صاحب کا عربی مکتوب پڑھا۔ مکتوب نگار نے پاکستان کے اہل تشیع کے خلاف غم وغصے کا اظہار کیا ہے اور اسلام آباد میں شیعہ مدارس کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے کہ ’’اسلام آباد میں سات شیعہ جامعات قائم ہیں جن میں سے سب سے چھوٹے جامعہ کا حجم بھی اہل سنت کی سب سے بڑی یونی ورسٹی سے کئی گنا زیادہ ہے۔ دارالحکومت کے وسط میں جامعۃ الکوثر قائم ہے جو اردو میں الکوثر...

بعض مسائل کے حوالے سے امام اہل سنتؒ کا موقف

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

برادر عزیز مولانا عبد القدوس خان قارن سلمہ نے ایک خط میں، جو ’الشریعہ‘ کے اسی شمارے میں شامل اشاعت ہے، اس طرف توجہ دلائی ہے کہ گزشتہ شمارے کے ’کلمہ حق‘ میں عید کی نماز سے پہلے تقریر، ہوائی جہاز میں نماز اور نمازِ تراویح کے بعد اجتماعی دعا کے حوالے حضرت والد محترم نور اللہ مرقدہ کے موقف کی درست ترجمانی نہیں کی گئی۔ اس حوالے سے میری گزارشات حسب ذیل ہیں: o عید سے پہلے تقریر کے بارے میں ایک مختصر سا مکالمہ درج کر دیتا ہوں جو حضرت والد محترمؒ کی وفات سے چند ماہ پہلے کا ہے اور برادرم مولانا قاری حماد الزھراوی سلّمہ کی موجودگی میں ہوا تھا۔ عید سے...

خسرہ کا مجرب علاج

― حکیم محمد عمران مغل

خسرہ ایک متعدی مرض ہے۔ اس کا تعلق ایک مخصوص وائرس سے ہوتا ہے۔ صفراوی مزاج رکھنے والے بچے فوری اس کی زد میں آتے ہیں۔ اس کے ساتھ بخار بھی لازمی ہوتا ہے۔ نزلہ، زکام، کھانسی کی شکایت ہوتی ہے۔ پھر چوتھے دن جسم پر خشخاش یا باجرہ نما باریک دانے ظاہر ہوتے ہیں جو آپس میں ملے ہوئے ہوتے ہیں۔ زبان پر سفید تہہ جم جاتی ہے۔ کسی کو کم اور کسی کو زیادہ ابکائیاں آنے لگتی ہیں۔ مزاج حد درجہ چڑچڑا ہو جاتا ہے اور بھوک ختم ہو جاتی ہے۔ تین دن کے یہ دانے ڈھلنے لگتے ہیں۔ دانے ختم ہونے کے بعد باریک بھوسی جسم سے اترنے لگتی ہے۔ بچے کا پیشاب گاڑھا اور سرخ ہو جاتا ہے۔ اس کا...

جولائی ۲۰۱۳ء

جلد ۲۴ ۔ شمارہ ۷