الشریعہ اکادمی میں فکری نشستیں

ادارہ

۳۰ دسمبر ۲۰۱۲ء کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کی یاد میں فکری نشست منعقد ہوئی جس میں اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی نے اپنے مطالعہ اور تاثرات کا ماحصل کیا اور الشریعہ اکادمی کے طلبہ کے علاوہ شہر کے دیگر اصحابِ ذوق اس فکری نشست میں شریک ہوئے۔ حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کی شخصیت اور خدمات پر کی جانے والی گفتگو کا مختصر خلاصہ درج ذیل ہے:

حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کا تعلق نانوتہ میں مقیم صدیقی خاندان سے تھا۔ انہوں نے خود اپنا نسب نامہ تحریر کیا ہے جس کے مطابق وہ حضرت قاسم بن محمدؒ کی اولاد میں سے ہیں جو حضرت ابوبکر صدیقؓ کے پوتے تھے اور ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کے نہ صرف بھتیجے تھے بلکہ ان کے علوم و فیوض کے ورثاء میں ان کا نام سرفہرست شمار ہوتا ہے اور وہ تابعینؒ کے دور کے سات بڑے فقہاء کرام میں شامل ہیں۔ حضرت نانوتویؒ ایک زمیندار گھرانے کے چشم و چراغ تھے، لیکن قدرت نے ان کی راہ نمائی دینی تعلیم کی طرف کی اور اپنے وقت کے اکابر علماء کرام و مشائخ مولانا شاہ عبد الغنیؒ ، مولانا مملوک علی نانوتویؒ ، مولانا احمد علی سہارنپوریؒ اور حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ جیسے بزرگوں سے فیض پا کر وہ خود بھی اپنے دور کے اکابر علماء کرام میں شمار ہوئے۔ انہوں نے ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں شاملی کے محاذ پر عملی حصہ لیا۔ ارتداد کے فتنوں کا مقابلہ کرکے پنڈت دیانند سرسوتی جیسے مناظرین کو میدان میں شکست دی۔ میلہ خدا شناسی کے نام پر منعقد ہونے والے مختلف مذاہب کے سرکردہ علماء کرام اور متکلمین کے مشترکہ اجتماع میں اسلام کی حقانیت پر معرکۃ الآراء خطاب کے ذریعہ اسلام کی حقانیت کا لوہا منوایا، وہ اپنے دور میں اسلام کے سب سے بڑے متکلم تھے اور وقت کے اسلوب کے مطابق اسلامی تعلیمات کو پیش کرنے میں ان کو کمال حاصل تھا، لیکن ان کا سب سے بڑا کارنامہ دارالعلوم دیوبند کا قیام سمجھا جاتا ہے کہ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے بعد جب ایسٹ انڈیا کمپنی کی جگہ برطانوی حکومت نے براہ راست متحدہ ہندوستان پر اپنی حکومت قائم کی اور دفتری، عدالتی اور تعلیمی نظام یکسر تبدیل کر کے درس نظامی کے مدارس کو نہ صرف بند کر دیا بلکہ اس کے جاری رہنے کے سارے ظاہری امکانات کو ختم کر کے رکھ دیا۔ ہزاروں مدارس بند کر دیے گئے، ان کی جائیدادیں ضبط ہوگئیں، بہت سے مدارس بلڈوز ہوگئے، علماء کرام کی بڑی تعداد آزادی کی جنگ میں حصہ لینے کی پاداش میں شہید کر دی گئی، بے شمار علماء کرام گرفتار ہوگئے، مقدمات اور داروگیر کے وسیع سلسلہ نے علماء کرام اور دینی کارکنوں پر خوف و ہراس کی کیفیت طاری کر دی اور بظاہر اس کا کوئی امکان باقی نہ رہا کہ قرآن کریم، حدیث، فقہ، عربی زبان، فارسی اور دیگر دینی علوم کی تدریس و تعلیم کا کوئی سلسلہ یہاں باقی رہ سکے گا۔

اس ماحول میں دینی تعلیم کا سلسلہ از سرِ نو جاری کرنے اور مسلمانوں کی مدارس و مساجد کو آباد رکھنے کے لیے مولانا محمد قاسم نانوتویؒ نے اپنے دیگر رفقاء حاجی عابد حسینؒ ، مولانا رشید احمد گنگوہیؒ ، مولانا ذوالفقار علی دیوبندیؒ اور دوسرے حضرات کی معاونت سے دیوبند کے قصبہ میں دینی مدرسہ کا آغاز کیا جس کی برکات سے آج پوری دنیا فیض یاب ہو رہی ہے۔ ایک گمنام سے قصبہ میں ۱۸۶۵ء میں شروع ہونے والے اس مدرسہ کی شاخیں پورے عالم میں اس طرح پھیلیں کہ آج دنیا کا کوئی حصہ ایسا نہیں ہے جہاں اس شجر کے گھنے سائے اور متنوع پھل سے مسلمان فیض یاب نہ ہو رہے ہوں جبکہ عالمی استعمار فکری و تہذیبی دنیا میں دیوبند کو اپنا سب سے بڑا حریف اور اپنی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دینے پر مجبور ہے۔ 

مولانا راشدی نے کہا کہ جن بزرگوں کا ہم مسلسل نام لیتے ہیں، جن کی طرف نسبت کو ہم اپنے لیے باعث فخر سمجھتے ہیں اور جن کا تذکرہ کر کے ہم تاریخ میں عزت اور مقام حاصل کرتے ہیں، ان کی جدوجہد، خدمات اور مشن سے ہمیں واقف ضرور ہونا چاہیے تاکہ ان کے نقش قدم پر ہم صحیح طور پر چل سکیں۔

مولانا عبد الستار تونسوی کی یاد میں تعزیتی ریفرنس

۳۱؍ دسمبر کو اکادمی میں حضرت مولانا عبد الستار تونسویؒ کی وفات حسرت آیات پر تعزیتی ریفرنس کے طور پر ایک نشست ہوئی جس میں شہر کے علماء کرام کی ایک بڑی تعداد شریک ہوئی۔ جمعیۃ علماء اسلام پاکستان (س) کے سیکرٹری جنرل مولانا عبد الرؤف فاروقی اس نشست کے مہمان خصوصی تھے۔ اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی نے اپنی گفتگو میں کہا کہ اہل سنت کے عقائد و مذہب اور ناموس صحابہؓ کے تحفظ و دفاع کے لیے حضرت مجدد الف ثانیؒ ، حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ اور حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ کی علمی جدوجہد کو امام اہل سنت حضرت مولانا عبد الشکور لکھنویؒ نے جو منظم شکل دی تھی اور اس کے لیے ایک پورا تربیتی نظام قائم کیا تھا۔ پاکستان میں اس کے امین مولانا عبد الستار تونسویؒ ، مولانا دوست محمد قریشیؒ ، مولانا سید نور الحسن بخاریؒ ، مولانا قائم الدین عباسیؒ ، مولانا قاضی مظہر حسینؒ ، علامہ ڈاکٹر خالد محمود، مولانا عبد اللطیف جہلمیؒ ، مولانا عبد الحئی جام پوریؒ اور ان کے رفقاء تھے جنہوں نے اپنے اکابر کے طرز اور اسلوب کے مطابق مذہب اہل سنت کی خدمت اور عقائد اہل سنت کے فروغ کے محاذ کو قائم رکھا۔ آج مولانا عبد الستار تونسویؒ کی وفات سے تاریخ کا وہ باب مکمل ہوگیا ہے جبکہ آج اسی اسلوب اور طرز کو از سرِ نو زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔

مولانا عبد الرؤف فاروقی نے مذہب اہل سنت کی تاریخ پر روشنی ڈالی اور اس کے پس منظر میں حضرت مولانا عبدالستار تونسویؒ اور ان کے رفقاء کی جدوجہد کی اہمیت کو واضح کیا۔ انہوں نے کہا کہ مولانا تونسویؒ اپنے وقت میں اس فن کے امام تھے اور انہوں نے ہزاروں علماء کرام کو اس مشن کے لیے تیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج ہمارے مدارس کے طلبہ کی غالب اکثریت کو مذہب اہل سنت کی علمی و فکری بنیادوں اور اپنے اکابر کے طرز و اسلوب سے شناسائی حاصل نہیں ہے اس لیے ضرورت ہے کہ مدارس دینیہ میں حضرت مولانا عبد الشکور لکھنویؒ کی طرز پر کام کیا جائے اور علماء و طلبہ کو علمی اور تحقیقی طور پر اس کے لیے تیار کیا جائے۔

تعزیتی نشست میں حضرت علامہ عبد الستار تونسویؒ کی وفات کو علمی و دینی حلقوں کے لیے ایک عظیم نقصان قرار دیتے ہوئے ان کی دینی و ملی خدمات پر خراج عقیدت پیش کیا گیا اور ان کی مغفرت و بلندئ درجات کی دعا کی گئی۔

’’عالمی رابطہ ادب اسلامی‘‘ کا سیمینار

’’عالمی رابطہ ادب اسلامی‘‘ کی تحریک برصغیر کے ممتاز مفکر اور دانش ور مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ نے کی تھی۔ ان کے توجہ دلانے پر مختلف ممالک کے اسلامی جذبہ رکھنے والے ادیبوں اور دانش وروں نے جنوری ۱۹۸۶ء کے دوران لکھنؤ (انڈیا) میں جمع ہو کر ’’عالمی رابطہ ادب اسلامی‘‘ کی بنیاد رکھی اور طے کیا کہ اسلام دوست ادیبوں کی تخلیقات کی اشاعت اور ان کے درمیان رابطوں کو فروغ دینے کے لیے اس عنوان کے ساتھ محنت کی جائے گی۔ اس جدوجہد کے اہم مراکز بھارت، بنگلہ دیش، پاکستان، ترکی اور سعودی عرب میں ہیں اور اب تک اس سلسلے میں مختلف سطحوں کے متعدد اجلاس کانفرنسیں اور سیمینارز منعقد ہو چکے ہیں۔ پاکستان میں بھی اس کا حلقہ موجود و متحرک ہے جس میں مولانا فضل الرحیم، ڈاکٹر سعد صدیقی، ڈاکٹر محمود الحسن عارف، ڈاکٹر زاہد ملک، مولانا مفتی محمد زاہد، ڈاکٹر ظہور احمد اظہر، پروفیسر ڈاکٹر قاری محمد طاہر، ڈاکٹر زاہد اشرف، مجیب الرحمن انقلابی، ڈاکٹر حافظ سمیع اللہ فراز، ڈاکٹر محمد ارشد اور دیگر ارباب علم و دانش شامل ہیں۔ اس وقت ڈاکٹر سعد صدیقی ’’عالمی رابطہ ادب اسلامی‘‘ کے حلقۂ پاکستان کی صدارت اور ڈاکٹر محمود الحسن عارف سیکرٹری جنرل کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ اب اس فورم نے اپنا دائرہ لاہور کے علاوہ دوسرے شہروں تک وسیع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کا آغاز ۳؍ جنوری ۲۰۱۲ء کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں منعقدہ ایک تقریب سے ہوا۔

یہ سیمینار رابطہ ادب اسلامی کے تعارف اور اس کی سرگرمیوں کے تذکرے کے لیے منعقد ہوا جس کی صدارت اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی نے کی، جبکہ برطانیہ سے تشریف لانے والے ممتاز عالم دین اور دانشور مولانا مفتی برکت اللہ مہمان خصوصی تھے۔ سیمینار سے مولانا مفتی برکت اللہ، مولانا مفتی محمد زاہد، ڈاکٹر سعد صدیقی، ڈاکٹر محمود الحسن عارف، ڈاکٹر محمد ارشد، ڈاکٹر پروفیسر محمد اکرم ورک، ڈاکٹر سمیع اللہ فراز اور جناب خالد صابر نے خطاب کیا۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ اسلامی تعلیمات کے فروغ، اسلامی اقدار کے تحفظ، دین کی دعوت و ترویج اور قرآن و سنت کے احکام و قوانین کی تفہیم و تشریح کے لیے ادب کی مختلف اصناف اور ابلاغ کے موثر ذرائع کو اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، اس کے لیے ایسا ذوق رکھنے والے علمائے کرام، ادیبوں اور شاعروں اور میڈیا و تعلیم کے دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین کو باہمی رابطہ و تعلق کا اہتمام کرنا چاہیے جس کے لیے ’’عالمی رابطہ ادب اسلامی‘‘ کام کر رہا ہے۔

اس موقع پر گوجرانوالہ ڈویژن میں رابطہ کی شاخ قائم کرنے کی ذمہ داری ڈاکٹر محمد اکرم ورک کو سونپی گئی جو وہ کنوینر کی حیثیت سے مختلف شعبوں کے اصحابِ فکر سے رابطے قائم کر کے رابطہ ادب اسلامی کو مقامی سطح پر منظم کرنے کا اہتمام کریں گے۔ مہمان خصوصی مولانا مفتی برکت اللہ نے اپنے خطاب میں علمائے کرام، ادیبوں، دانش وروں، شاعروں، اساتذہ اور میڈیا سے تعلق رکھنے والے اصحابِ فکر پر زور دیا کہ وہ موجودہ عالمی تہذیبی و فکری کشمکش کا ادراک کرتے ہوئے اسلام کی خدمت کے راستے تلاش کریں اور باہمی مشورہ و رابطہ کے ساتھ فکری جدوجہد کو منظم کریں۔

اخبار و آثار