فروری ۲۰۱۳ء

چند اہم دینی شخصیات کا سانحہ ارتحال

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

گزشتہ ماہ کے دوران میں بہت سی اہم دینی وقومی شخصیات اس دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ آئندہ سطور میں ان کا ایک مختصر تذکرہ کیا جائے گا۔ پروفیسر غفور احمدؒ۔ پروفیسر غفور احمد اللہ کو پیارے ہوگئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اخبارات میں ان کی وفات کی خبر پڑھ کر ماضی کے بہت سے اوراق ذہن کی یادداشت میں کھلتے چلے گئے۔ ان کا نام پہلی بار ۱۹۷۰ء کے انتخابات کے بعد سنا جب وہ کراچی سے جماعت اسلامی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ میرا تعلق جمعیۃ علماء اسلام پاکستان سے تھا اور اس دور میں جمعیۃ علماء اسلام اور جماعت اسلامی میں...

اسلامی نظام کی جدوجہد اور اس کی حکمت عملی

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ہمارے ہاں پاکستان کی معروضی صورت حال میں نفاذِ اسلام کے حوالہ سے دو ذہن پائے جاتے ہیں۔ ایک یہ کہ سیاسی عمل اور پارلیمانی قوت کے ذریعہ اسلام نافذ ہو جائے گا اور دوسرا یہ کہ ہتھیار اٹھائے بغیر اور مقتدر قوتوں سے جنگ لڑے بغیر اسلام کا نفاذ ممکن نہیں ہے۔ ایک طرف صرف پارلیمانی قوت پر انحصار کیا جا رہا ہے جبکہ دوسری طرف ہتھیار اٹھا کر عسکری قوت کے ذریعہ مقتدر قوتوں سے جنگ لڑنے کو ضروری قرار دیا جا رہا ہے۔ میری طالب علمانہ رائے میں یہ دونوں طریقے ٹھیک نہیں ہیں۔ صرف الیکشن، جمہوریت اور پارلیمانی قوت کے ذریعہ نفاذ اسلام اس ملک میں موجودہ حالات میں...

جزا و عذاب قبر کی قرآنی بنیادیں

― محمد زاہد صدیق مغل

موجودہ دور میں انکار و تخفیف سنت مختلف پیراؤں میں جلوہ گر ہوتی ہے جس کی ایک شکل یہ اصول اختیار کرنا ہے کہ حدیث و سنت کی بنیاد پر کوئی عقیدہ ثابت نہیں ہوسکتا۔ چند روز قبل راقم کو اسی قسم کی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا جب ہمارے ایک عزیز نے دوران گفتگو یہ سوال کردیا کہ جناب، یہ عذاب قبر کا جو تصور ہمارے ہاں رائج ہے، اس کی شرعی بنیاد کیا ہے؟ سوال فی البدیہہ تھا، لہٰذا راقم نے چند احادیث کا حوالہ پیش کردیا، لیکن چونکہ آج کل تخفیف حدیث کی وبا عام ہے، لہٰذا جھٹ سے کہنے لگے کہ ’ قرآن میں کہاں ہے؟‘ جب ان صاحب کے استدلال کا تجزیہ کیا تو ان کی بنیادیں درج...

مریم جمیلہؒ ۔ اسلام کی بے باک ترجمان

― پروفیسر خورشید احمد

میں اکتوبر کے مہینے میں لسٹر، انگلستان میں زیرعلاج تھا کہ ۳۱؍اکتوبر۲۰۱۲ء کو یہ غم ناک اطلاع ملی کہ ہماری محترم بہن اور دورِحاضر میں اسلام کی بے باک ترجمان محترمہ مریم جمیلہ صاحبہ کا انتقال ہوگیا ہے___ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ۔ اللہ تعالیٰ ان کی نصف صدی سے زیادہ پر پھیلی ہوئی دینی، علمی اور دعوتی خدمات کو قبول فرمائے اور ان کواپنے جوارِرحمت میں اعلیٰ مقامات سے نوازے۔ محترمہ مریم جمیلہ سے میرا تعارف وائس آف اسلام کے ایڈیٹر کی حیثیت سے ان کے امریکا کے قیام کے دوران ہی ہوچکا تھا اور ہم ان کے مضامین شائع کر رہے تھے۔ پھر جون...

نشے کی طلاق اور طلاق کے لیے عقل و ہوش کا مطلوبہ معیار

― مولانا مفتی محمد زاہد

ذیل کی سطور آج سے پانچ چھ سال قبل لکھ کر ملک متعدد اہلِ افتا کی خدمت میں بھیجی گئی تھیں ٗ تاکہ اس کے ذریعے اس مسئلے پر غور کی دعوت دی جائے۔ تاہم ایک دو کے علاوہ کسی جگہ سے اب تک جواب سے سرفرازی نہیں ہوسکی۔ اب ان گذارشات کو اس لیے شائع کیا جارہا ہے کہ وسیع پیمانے پر اہلِ علم تک پہنچا کر ان کی آراء سے استفادہ کیا جاسکے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کاارشاد ہے :کل طلاق جائز الاطلاق المعتوہ المغلوب علی عقلہ (جامع الترمذی رقم : ۱۱۹۱)۔ اگرچہ تکنیکی طور پر اس حدیث کی سند پر محدثانہ کلام ہوسکتی ہے اور خود امام ترمذی نے بھی اس حدیث کے ایک راوی عطاء بن عجلان...

ایک مجلس کی تین طلاقیں اور اصلاح کی گنجائش

― مولانا مفتی فضیل الرحمن عثمانی

اس میں شک نہیں کہ ایک ہی دفعہ میں تین طلاقیں دینے کا مسئلہ بعض اوقات بڑی پیچیدگی پیدا کر دیتا ہے۔ عام طور پر لوگ مسائل سے واقف نہیں ہیں اور طلاق دینا اگر ضروری ہی ہو تو اس کا صحیح طریقہ کیا ہے، اس کو نہیں جانتے۔ ایک مجلس میں ایک دفعہ میں تین طلاقیں دی جائیں تو وہ واقع ہو جاتی ہیں۔ یہ مغلظہ طلاق ہے اور اس کا حکم یہ ہے کہ میاں بیوی کا تعلق ختم ہو کر دونوں ایک دوسرے کے لیے اجنبی اور ان میں میاں بیوی کا تعلق ناجائز ہو جاتا ہے۔ اس صورت حال میں اصلاح کی کتنی گنجائش ہے، اس پر نظر ڈالتے ہیں۔ پہلی صورت: تین دیں مگر نیت ایک طلاق کی، کی۔ اگر ایک ہی دفعہ ایک...

طلاق کا وقوع اور نفاذ۔ چند اجتہاد طلب پہلو

― محمد عمار خان ناصر

شریعت نے میاں بیوی کے مابین نباہ نہ ہونے کی صورت میں رشتۂ نکاح کو توڑنے کی اجازت دی ہے۔ شریعت کی نظر میں اس رشتے کی جو اہمیت ہے، وہ یہ تقاضا کرتی ہے کہ اس کو ختم کرنے کا معاملہ پورے غور وخوض کے بعد اور تمام ممکنہ پہلوؤں اور نتائج کو سامنے رکھ کر ہی انجام دیا جائے۔ چنانچہ اگر کوئی شخص نادانی، جذباتی کیفیت، مجبوری یا کسی بد نیتی کی بنیاد پر طلاق دے دے تو رشتۂ نکاح کے تقدس کے پیش نظر یہ مناسب، بلکہ بعض صورتوں میں ضروری ہوگا کہ اسے غیر موثر قرار دیا جائے یا اس پر عدالتی نظر ثانی کی گنجایش باقی رکھی جائے۔ فقہا کے ایک گروہ کے ہاں یہ تصور پایا جاتا ہے...

نہ معرفت، نہ نگاہ!

― محمد دین جوہر

الشریعہ دسمبر ۲۱۰۲ء میں میاں انعام الرحمن صاحب نے ’’۔۔۔ اور کافری کیا ہے؟‘‘ کے عنوان سے راقم کے مضمون کا جواب دیا ہے۔ انہوں نے کافی محنت سے مضمون کا ایک درسی گوشوارہ مرتب کیا اور پھر اس کا شق وار قانونی جواب دے کر قارئین کی خدمت میں پیش کرنے میں بڑی محنت اٹھائی۔ اس کے لیے وہ یقیناًداد کے مستحق ہیں۔ اس جواب الجواب کی pedantry کا، صاف ظاہر ہے کہ ہمارے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔ ان کے جواب سے ہمیں یہ اندازہ بخوبی ہو گیا ہے کہ میاں صاحب ہماری گزارشات اور سوالات کو register بھی نہیں کر پائے اور کسی دوسری طرف نکل کھڑے ہوئے۔ لفظوں کی گردانیں تو ہم نے سن رکھی...

جماعت اسلامی کے ناقدین و مصلحین

― خواجہ امتیاز احمد

...

میڈیا کا محاذ اور ہماری ذمہ داریاں

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

۲۳ جنوری ۲۰۱۲ء کو پریس کلب لاہور میں ایک سیمینار میں شرکت کا موقع ملا جس میں جناب امجد اسلام امجد، جسٹس (ر) نذیر غازی، جناب اوریاہ مقبول جان اور دیگر ممتاز دانش ور بھی شریک تھے۔ سیمینار میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ناموس و حرمت کے حوالہ سے بنائی جانے والی ایک فلم زیر بحث تھی اور اس فلم کا ایک حصہ شرکاء کو دکھایا گیا، میں نے اس موقع پر جو گزارشات پیش کیں ان کا خلاصہ نذر قارئین ہے۔ بعد الحمد والصلوٰۃ ! اس فلم کے حوالہ سے دو پہلوؤں پر تو کچھ عرض نہیں کر سکوں گا۔ ایک اس کا فنی اور تکنیکی پہلو ہے جس کے بارے میں کوئی تبصرہ کرنے کی پوزیشن میں...

الشریعہ اکادمی میں فکری نشستیں

― ادارہ

۳۰ دسمبر ۲۰۱۲ء کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کی یاد میں فکری نشست منعقد ہوئی جس میں اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی نے اپنے مطالعہ اور تاثرات کا ماحصل کیا اور الشریعہ اکادمی کے طلبہ کے علاوہ شہر کے دیگر اصحابِ ذوق اس فکری نشست میں شریک ہوئے۔ حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کی شخصیت اور خدمات پر کی جانے والی گفتگو کا مختصر خلاصہ درج ذیل ہے: حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کا تعلق نانوتہ میں مقیم صدیقی خاندان سے تھا۔ انہوں نے خود اپنا نسب نامہ تحریر کیا ہے جس کے مطابق وہ حضرت قاسم بن محمدؒ کی اولاد میں...

ہماری خوراک اور دن بدن بڑھتے امراض

― حکیم محمد عمران مغل

مشرقی تہذیب وتمدن میں جو امراض آج کل دیکھنے سننے میں آ رہے ہیں، طبی کتب میں ان کا تفصیل سے ذکر ہے، مگر عوامی سطح پر اکثر لوگ ان سے واقف نہیں تھے۔ اس کی ایک بڑی وجہ صحت اور اخلاق کی بلندی تھی ، مگر اب مشرقی معاشرے بھی پستی اور زوال کا شکار ہو چکے ہیں۔آج ہر مشرقی انگوٹھی پر مغربی نگینہ دور سے دیکھا جا سکتا ہے۔ ہماری بود وباش، خور ونوش سب مغربی تہذیب وتمدن کے رنگ میں رنگی جا چکی ہے۔ صبح اٹھتے ہی آب حیات یعنی چائے نہ ملے تو ہمارے ہوش وحواس بحال نہیں ہو پاتے۔ میں نے وہ حضرات بھی دیکھے ہیں جنھیں چائے کی خوشبو سونگھتے ہی قے ہونی لگتی تھی۔ وہ کہتے تھے...

ای میل سبسکرپشن

 

Delivered by FeedBurner

Flag Counter