چند اہم دینی شخصیات کا سانحہ ارتحال

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

گزشتہ ماہ کے دوران میں بہت سی اہم دینی وقومی شخصیات اس دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ آئندہ سطور میں ان کا ایک مختصر تذکرہ کیا جائے گا۔

پروفیسر غفور احمدؒ 

پروفیسر غفور احمد اللہ کو پیارے ہوگئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اخبارات میں ان کی وفات کی خبر پڑھ کر ماضی کے بہت سے اوراق ذہن کی یادداشت میں کھلتے چلے گئے۔ ان کا نام پہلی بار ۱۹۷۰ء کے انتخابات کے بعد سنا جب وہ کراچی سے جماعت اسلامی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ میرا تعلق جمعیۃ علماء اسلام پاکستان سے تھا اور اس دور میں جمعیۃ علماء اسلام اور جماعت اسلامی میں مخاصمت دینی اور سیاسی دونوں محاذوں پر عروج پر تھی۔ مجھے مولانا عبد اللہ درخواستیؒ ، مولانا عبید اللہ انورؒ ، مولانا مفتی محمودؒ اور مولانا غلام غوث ہزارویؒ کے قریبی کارکنوں میں شمار ہونے کا اعزاز حاصل تھا، اس لیے جماعت اسلامی کے منتخب ارکان اسمبلی کے حوالے سے کسی مثبت سوچ کا اس وقت کوئی امکان نہیں تھا، لیکن خدا گواہ ہے کہ جوں جوں پروفیسر غفور احمد پارلیمانی اور سیاسی محاذ پر آگے بڑھتے گئے، قلب و ذہن کے دریچے ان کے لیے کھلتے چلے گئے اور ان کی شرافت و متانت اور حوصلہ و تدبر دیکھ کر ان کے احترام کی طرف بتدریج مائل ہوتا رہا۔

مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد باقی ماندہ پاکستان میں دستوری طور پر سب سے بڑا اور پہلا مرحلہ دستور سازی کا تھا۔ ۱۹۷۰ء میں منتخب ہونے والی قومی اسمبلی در اصل دستور سازی کے عنوان پر منتخب ہوئی تھی اور دستور سازی کا مرحلہ طے ہو جانے کے بعد اسے قانون ساز اسمبلی کی حیثیت اختیار کر لینا تھی۔ اس دستور ساز اسمبلی میں اپوزیشن عددی لحاظ سے کچھ قابل ذکر نہیں تھی، لیکن شخصیات کے حوالے سے اتنی مضبوط اپوزیشن شاید ہی قومی اسمبلی کو کبھی میسر آئی ہو ۔ خان عبد الولی خانؒ ، مولانا مفتی محمودؒ ، مولانا شاہ احمد نورانیؒ ، مولانا ظفر احمد انصاریؒ ، مولانا عبد الحقؒ ، چودھری ظہور الٰہی اور پروفیسر غفور احمد جیسی بھاری بھر کم شخصیات اس اپوزیشن کی قیادت کر رہی تھیں اور اسلامی سوشلزم کے نعرے پر الیکشن جیتنے والی پاکستان پیپلز پارٹی کی اکثریت والے ایوان میں دستور کو واضح اسلامی بنیادوں پر استوار کرنے اور اسلام کو ملک کا سرکاری مذہب قرار دلوانے کے ساتھ ساتھ پارلیمنٹ کو قانون سازی میں قرآن و سنت کے دائرے میں پابند بنانا ۱۹۷۳ء کے دستور کی وہ نمایاں خصوصیات ہیں جن پر آج بھی اس ایوان کو فخر ہونا چاہیے اور اس مقصد کے لیے دستور سازی کے ہوم ورک میں اپوزیشن کی طرف سے مولانا ظفر احمد انصاریؒ اور پروفیسر غفور احمد کی شبانہ روز محنت بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

دستور کی منظوری اور نفاذ کے ساتھ ہی قومی اسمبلی کے سامنے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرر دینے کا مسئلہ پیش آگیا۔ اس مسئلے کی اپنی ایک طویل تاریخ ہے جس کا ذکر بات کو طویل کر دے گا، لیکن ہوا یہ کہ قادیانیوں کی اپنی ایک حماقت کی وجہ سے کہ چناب نگر (ربوہ) کے ریلوے سٹیشن پر نشتر میڈیکل کالج ملتان کے سٹوڈنٹس پر قادیانی نوجوانوں نے حملہ کر دیا، ملک بھر میں اس پر احتجاجی سلسلہ شروع ہوگیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس احتجاج نے بھرپور عوامی تحریک کی شکل اختیار کر لی اور قومی اسمبلی کو اس پر قانون سازی کرنا پڑی۔ مسئلہ ختم نبوت پر قانون سازی کے اس مرحلے میں بھی پروفیسر غفور احمد نے سرگرم حصہ لیا۔ پروفیسر صاحب کا مزاج عام طور پر ذہن سازی اور لابنگ کے ذریعے اپنی بات کو موثر بنانے کا ہوتا تھا اور وہ اس میں ہمیشہ کامیاب رہتے تھے۔

مجھے ان کے ساتھ قومی اتحاد میں ۱۹۷۷ء کے الیکشن اور تحریک نظام مصطفی کے دوران کام کرنے کا موقع ملا۔ پاکستان قومی اتحاد کے صدر مولانا مفتی محمودؒ تھے اور سیکرٹری جنرل چودھری رفیق احمد باجوہ مرحوم چنے گئے جن کا تعلق جمعیۃ العلمائے پاکستان سے تھا، جبکہ پنجاب میں قومی اتحاد کے صدر محترم حمزہ تھے اور سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی کے رہنما پیر محمد اشرف تھے۔ بعد میں ایک مرحلے میں رفیق احمد باجوہ اور پیر محمد اشرف دونوں ان مناصب سے کسی وجہ سے الگ ہوگئے تو مرکز میں پروفیسر غفور احمد اور پنجاب میں مجھے سیکرٹری جنرل بنا دیا گیا۔ اس حیثیت سے ہمارا رابطہ پاکستان قومی اتحاد کی تحلیل تک مسلسل رہا۔ پاکستان قومی اتحاد کے اجلاسوں کے علاوہ بھی تنظیمی حوالے سے ہمارا رابطہ رہتا تھا اور وقتاً فوقتاً ملاقاتیں ہوتی رہتی تھیں۔ اس دوران میں نے کراچی میں پروفیسر غفور احمد مرحوم کے گھر میں بھی حاضری دی اور ان سے مختلف مسائل پر گفتگو اور تبادلۂ خیالات کا سلسلہ چلتا رہا۔ ان کی سنجیدگی، متانت اور تدبر سے ان کا ہر ملنے والا متاثر تھا۔ مجھے بھی ان کے دھیمے رویے، مضبوط موقف اور سب کے احترام پر مبنی لہجے نے سب سے زیادہ متاثر کیا۔

۱۹۷۷ء کی تحریک نظام مصطفی میں، جو دراصل الیکشن میں دھاندلیوں کے خلاف احتجاجی تحریک تھی، لیکن چونکہ قومی اتحاد نے نظام مصطفی کے نفاذ کے نعرے پر انتخاب لڑا تھا ، اس لیے فطری طور پر اس تحریک نے بھی تحریک نظام مصطفیؐ کا عنوان اختیار کر لیا، اس تحریک کی قیادت میں مولانا مفتی محمود، نوابزادہ نصر اللہ خان، مولانا شاہ احمد نورانی، سردار شیر باز خان مزاری، چودھری ظہور الٰہی، پیر آف پگارہ شریف، سردار محمد عبد القیوم خان اور میاں طفیل مرحوم کے نام نمایاں تھے۔ لیکن اس کے تنظیمی اور دفتری معاملات کو کنٹرول کرنے والی ٹیم کو پروفیسر غفور احمد کی مدبرانہ رہنمائی میسر تھی جو اس تحریک کا ایک اہم کردار ہے۔ قومی اتحاد نے جنرل ضیاء الحق مرحوم کے دور میں وفاقی کابینہ میں شمولیت اختیار کی تو پروفیسر غفور احمد مرحوم بھی وفاقی وزیر بنے۔ اس سے قبل وہ ذوالفقار علی بھٹور مرحوم کے ساتھ مذاکرات میں پاکستان قومی اتحاد کے سہ رکنی وفد میں مولانا مفتی محمود اور نوابزادہ نصر اللہ خان مرحوم کے ساتھ شامل رہ چکے تھے۔ اس دور کی یادداشتیں کتابی شکل میں ’’پھر مارشل لاء آگیا‘‘ کے عنوان سے قلم بند کر کے انہوں نے شائع کر دی ہیں۔

پروفیسر غفور احمد کا شمار محب وطن، دیانت دار، با اصول اور حق گو سیاسی رہنماؤں میں ہوتا تھا۔ قحط الرجال کے اس دور میں ان کی وفات سے یقیناًبہت بڑا خلا پیدا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں اور پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق دیں، آمین یا رب العالمین۔

قاضی حسین احمدؒ 

محترم قاضی حسین احمد مرحوم کے ساتھ میرے تعلقات کی نوعیت دوستانہ تھی اور مختلف دینی و قومی تحریکات میں باہمی رفاقت نے اسے کسی حد تک بے تکلفی کا رنگ بھی دے رکھا تھا۔ ان کے ساتھ میرا تعارف اس دور میں ہوا جب وہ جماعت اسلامی پاکستان کے قیم تھے۔ پاکستان قومی اتحاد کے صوبائی سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے مجھے اتحاد میں شامل جماعتوں کے راہ نماؤں کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھنا ہوتا تھا۔ یہ رابطہ انتخابی مہم میں بھی تھا اور تحریک نظام مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے چلائی جانے والی اجتماعی تحریک میں بھی تھا۔ بعد میں جب سینیٹ آف پاکستان میں مولانا قاضی عبد اللطیفؒ اور مولانا سمیع الحق کے پیش کردہ ’’شریعت بل‘‘ کے لیے ملک گیر عوامی جدوجہد منظم کرنے کا مرحلہ سامنے آیا تو اس کے لیے قاضی حسین احمد صاحب پیش پیش تھے اور انہوں نے اس سلسلہ میں بہت متحرک اور بھرپور کردار ادا کیا۔ قاضی صاحب محترم کے ساتھ اس سے قبل ۱۹۸۴ء کی تحریک ختم نبوت میں بھی رفاقت رہی جس کے نتیجے میں امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری ہوا، اس میں قادیانیوں کو اسلام کا نام استعمال کرنے سے قانونًا روک دیا گیا ہے اور ان کے لیے اسلام کی مذہبی علامات اور اصطلاحات کے استعمال کو قانونی جرم قرار دیا گیا ہے۔ 

اس دوران ایک دلچسپ واقعہ ہوا۔ قاضی حسین احمد صاحبؒ نے جماعت اسلامی پاکستان کے قیم (سیکرٹری جنرل) کی حیثیت سے حضرت مولانا سید حامد میاںؒ سے رابطہ کیا کہ جماعت اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ اگر یہ قرارداد پاس کر دے کہ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے جن افکار و نظریات سے جمعیۃ علماء اسلام یا دوسرے حلقوں کو اختلاف ہے، جماعت اسلامی انہیں مولانا مودودیؒ کے تفردات سمجھتے ہوئے ان مسائل میں جمہور علماء اہل سنت کے ساتھ ہے تو کیا اس قرارداد کے بعد جمعیۃ علماء اسلام اور جماعت اسلامی دونوں مل کر ملک میں دینی جدوجہد کی پوزیشن میں ہوں گی؟ مولانا سید حامد میاںؒ نے اس مسئلہ پر مولانا محمد اجمل خانؒ سے بات کی۔ دونوں بزرگوں نے آپس میں مشورہ سے طے کیا کہ اس سوال کا کوئی حتمی جواب دینے سے پہلے مسلکی حوالہ سے تین بڑے بزرگوں حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ ، حضرت مولانا قاضی مظہر حسینؒ اور حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود مدظلہ سے مشورہ کر لینا چاہیے۔ 

دونوں حضرات نے ان تینوں بزرگوں کے پاس حاضر ہو کر مشورہ کرنے کی ذمہ داری میرے سپرد کی اور میں نے حضرت مولانا سید حامد میاںؒ اور حضرت مولانا محمد اجمل خانؒ کے نمائندے کے طور پر تینوں بزرگوں کے سامنے یہ سوال رکھا۔ اس پر تینوں بزرگوں کے جوابات مختلف تھے۔ والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ نے جواب دیا کہ اگر جماعت اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ اس مفہوم کی قرارداد پاس کر دے تو پھر ہمارے پاس جماعت اسلامی کے ساتھ اختلاف باقی رکھنے کا کوئی شرعی اور اخلاقی جواز نہیں رہ جاتا۔ حضرت مولانا قاضی مظہر حسینؒ نے ارشاد فرمایا کہ صرف اس مضمون کی قرارداد کافی نہیں ہوگی بلکہ جماعت اسلامی کی مجلس شوریٰ کو مولانا مودودیؒ کی شخصیت کے بارے میں بھی اپنا موقف واضح کرنا ہوگا، جبکہ علامہ ڈاکٹر خالد محمود صاحب کا موقف یہ تھا کہ صرف قرارداد سے کام نہیں بنے گا، اس لیے کہ اصل اختلاف جماعت اسلامی کے دستور کی اس شق سے شروع ہوا تھا جس میں جماعت اسلامی کے رکن کے لیے ضروری قرار دیا گیا ہے کہ وہ رسول خدا کے سوا کسی کو معیار حق نہ سمجھے، کسی کو تنقید سے بالا تر نہ سمجھے اور کسی کی ذہنی غلامی میں مبتلا نہ ہو۔ اس پر حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ نے اعتراض کیا تھا کہ اس سے صحابہ کرامؓ کے معیار حق اور تنقید سے بالاتر ہونے کی نفی ہوتی ہے اور تقلید کی بھی نفی ہوتی ہے جو جمہور اہل سنت کے موقف سے انحراف ہے۔ اس سے اختلاف کا آغاز ہوا تھا، اس لیے اگر جماعت اسلامی اختلافات کو ختم کرنا چاہتی ہے تو اسے دستور کی اس شق میں علماء اہل سنت کے حسب منشا ترمیم کرنا ہوگی، ورنہ قرارداد کے بعد بھی اصل اختلاف جوں کا توں رہے گا۔ 

میں نے جب تینوں بزرگوں کے جوابات حضرت مولانا سید حامد میاںؒ اور حضرت مولانا محمد اجمل خانؒ کو پہنچائے تو انہوں نے باہمی مشورہ سے علامہ ڈاکٹر خالد محمودؒ کے جواب کو زیادہ قرین قیاس قرار دیا اور مجھے یہ ذمہ داری سونپی کہ میں قاضی حسین احمد صاحب کو مل کر اس سے آگاہ کردوں۔ چنانچہ میں نے قاضی صاحب موصوف سے ملاقات کی اور انہیں یہ پیغام پہنچا دیا۔ قاضی صاحب نے فرمایا کہ مجلس شوریٰ میں قرارداد کی منظوری کی صورت تو میں کر سکتا ہوں، لیکن جماعتی دستور میں ترمیم کی پوزیشن میں نہیں ہوں۔ اس پر دونوں طرف سے خاموشی اختیار کر لی گئی۔ مگر تھوڑے عرصہ کے بعد قاضی حسین احمد صاحب جماعت اسلامی پاکستان کے امیر منتخب ہوگئے۔ یہ وہ دور تھا جب وہ متحدہ شریعت محاذ کے سیکرٹری جنرل تھے اور میں سیکرٹری اطلاعات تھا۔ گڑھی شاہو لاہور کے علامہ اقبالؒ روڈ پر ڈاکٹر اسرار احمد صاحب مرحوم کی تنظیم اسلامی پاکستان کے مرکزی دفتر میں متحدہ شریعت محاذ کی مرکزی کونسل کا اجلاس تھا۔ قاضی صاحب مرحوم جماعت اسلامی کے امیر منتخب ہو چکے تھے، لیکن ابھی انہوں نے حلف نہیں اٹھایا تھا۔ اس اجلاس میں قاضی صاحب اور راقم الحروف ساتھ ساتھ بیٹھے تھے۔ میں نے انہیں جماعت کا امیر منتخب ہونے پر مبارک باد دی تو انہوں نے بے تکلفی سے میری ران پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا کہ اب تو میں ترمیم کی پوزیشن میں بھی آگیا ہوں، اب بات کرو! میں نے ہنستے ہوئے دل لگی کے انداز میں کہا کہ ’’رسم تاج پوشی کے بعد بات کریں گے‘‘۔ یعنی وہ جماعت اسلامی پاکستان کی امارت کا حلف اٹھا لیں تو اس کے بعد بات چلائیں گے۔ اس بات سے میں نے حضرت مولانا محمد اجمل خانؒ اور حضرت مولانا سید حامد میاںؒ کو آگاہ کر دیا، لیکن اس سلسلہ میں اس کے بعد پھر کوئی بات کسی طرف سے بھی باضابطہ طور پر سامنے نہیں آئی اور یہ سارا قصہ تاریخ کی نذر ہوگیا۔ 

قاضی حسین احمد صاحبؒ کا خاندانی پس منظر جمعیۃ علماء ہند کا تھا۔ ان کے والد محترم حضرت مولانا قاضی عبد الرب صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ جمعیۃ علماء ہند کے صوبائی صدر تھے، دارالعلوم دیوبند کے فاضل تھے اور شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کے شاگرد تھے۔ قاضی صاحبؒ کے بھائی مولانا عبد القدوسؒ بھی فاضل دیوبند تھے جو وفاقی شرعی عدالت کے جج رہے ہیں۔ قاضی صاحبؒ کا نام حسین احمد حضرت مدنیؒ کی نسبت سے رکھا گیا تھا اور قاضی صاحبؒ نے مجھے خود بتایا کہ وہ چھ سال کی عمر تک گفتگو نہیں کر سکتے تھے۔ ایک بار حضرت مدنیؒ ان کے گھر تشریف لائے تو ان کے والد محترمؒ نے حضرت مدنیؒ سے دعا اور دم کرنے کی درخواست کی۔ حضرت مدنیؒ نے دم کیا، دعا فرمائی اور قاضی حسین احمد صاحب کے منہ میں لعاب ڈالا۔ قاضی صاحب کہتے تھے کہ اس کے بعد میں نے بولنا شروع کر دیا۔ وہ کہا کرتے تھے کہ میں حضرت مدنیؒ کی زندہ کرامت ہوں۔ 

اس سلسلہ میں ایک لطیفے کی بات یہ ہے کہ قاضی صاحب جب جماعت اسلامی کے امیر منتخب ہوئے تو ان دنوں میں امریکہ گیا۔ وہاں میرے میزبان جماعت اسلامی کے ایک معروف راہ نما تھے۔ ان کے والد محترم بھی عالم دین تھے۔ وہ نیویارک کے جان ایف کینیڈی ایئرپورٹ پر مجھے لینے کے لیے آئے تو آمنا سامنا ہوتے ہی انہوں نے مجھے مبارک باد دی کہ مبارک ہو، جماعت اسلامی پر جمعیۃ علماء اسلام نے قبضہ کر لیا ہے۔ انہوں نے یہ بات اگرچہ دل لگی کے طور پر کہی تھی، مگر اس میں کوئی شک نہیں کہ دوسری دینی جماعتوں کے ساتھ جماعت اسلامی کے مخصوص داخلی ماحول کی وجہ سے پیدا ہونے والے بُعد کو کم کرنے اور مل جل کر کام کرنے کا کھلا ماحول قائم کرنے میں قاضی صاحب مرحوم کا کردار بہت نمایاں رہا ہے۔

قاضی صاحب ملک میں نفاذ اسلام اور دیگر دینی و قومی تحریکات کے لیے دینی جماعتوں اور مختلف مکاتب فکر کے درمیان مشترکہ جدوجہد کی راہ ہموار کرنے میں ہمیشہ متحرک رہتے تھے۔ ان میں بات سننے کا حوصلہ تھا، اس لیے ہم ان سے بعض نازک معاملات پر بھی بے تکلفی سے بات کر لیا کرتے تھے۔ جن دنوں قاضی صاحبؒ کا لندن میں دل کا بائی پاس آپریشن ہوا، میں لندن میں تھا، ان کی بیمار پرسی کے لیے حاضر ہوا تو وہاں مجلس میں افغانستان کی خانہ جنگی زیر بحث تھی۔ ان دنوں انجینئر گلبدین حکمت یار اور انجینئر احمد شاہ مسعود کے دھڑوں میں سخت جنگ ہو رہی تھی۔ پروفیسر برہان الدین ربانی افغانستان کے صدر تھے۔ ان کے ساتھ انجینئر گلبدین حکمت یار کو وزیر اعظم بنایا گیا تھا، لیکن انہوں نے وزارت عظمیٰ قبول نہیں کی اور ان دونوں دھڑوں کے درمیان جنگ نے بہت تباہی پھیلائی۔ طالبان اسی خانہ جنگی کے رد عمل میں سامنے آئے تھے۔ میں نے اس مجلس میں قاضی صاحب مرحوم سے کہا کہ انجینئر حکمت یار اور پروفیسر ربانی کے درمیان ہونے والی خانہ جنگی کے مسلسل جاری رہنے کے ذمہ دار آپ ہیں۔ قاضی صاحب تھوڑے سے پریشانی ہوئے اور پوچھا وہ کیسے؟ میں نے کہا کہ یہ دونوں آپ کے سیاسی حلقہ کے لوگ ہیں، سیاسی فکر کے حوالہ سے دونوں کا تعلق جماعت اسلامی سے ہے، آپ کو کس نے مشورہ دیا تھا کہ آپ گلبدین حکمت یار کے ساتھ فریق بن کر کھڑے ہو جائیں؟ آپ ہی ان میں صلح کرانے کی پوزیشن میں تھے، لیکن آپ نے حکمت یار کے حق میں فریق بن کر خود کو جانبدار بنا لیا ہے، اس لیے اب کون ان میں صلح کرائے گا؟ یہ بات سن کر قاضی صاحبؒ تو خاموش ہوگئے، لیکن مجلس کے دوسرے حضرات نے میری بات کی تائید کی۔ 

قاضی حسین احمدؒ ایک فکرمند، حوصلہ مند اور دردِ دل سے بہرہ ور راہ نما تھے، ان کی جدائی ہم سب کے لیے صدمہ کی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں جگہ دیں اور پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق سے نوازیں۔ آمین یا رب العالمین۔

مولانا عبد الستار تونسویؒ 

حضرت مولانا عبد الستار تونسویؒ بھی چل بسے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ابھی دو ہفتے قبل وہ گوجرانوالہ تشریف لائے تھے۔ ایک پروگرام میں شریک ہونے کے بعد جامعہ نصرۃ العلوم میں آرام فرمایا۔ میں صبح اسباق کے لیے مدرسہ میں پہنچا تو طلبہ نے بتایا کہ حضرت تونسویؒ صاحب تشریف لائے ہوئے ہیں اور مہمان خانے میں آرام فرما رہے ہیں۔ اسباق سے فارغ ہو کر میں مہمان خانے میں گیا تو وہ لحاف اوڑھے لیٹے ہوئے تھے مگر جاگ رہے تھے۔ میں نے سلام عرض کیا، مصافحہ کیا اور دعا کی درخواست کر کے واپس پلٹ گیا تاکہ ان کے آرام میں زیادہ خلل نہ آئے۔ دورہ حدیث کے طلبہ نے فرمائش کی کہ حضرت تونسوی صاحبؒ انہیں اپنی سند کے ساتھ حدیث روایت کرنے کی اجازت مرحمت فرما دیں۔ میں نے مولانا حاجی فیاض خان سواتی سے کہا کہ وہ مناسب موقع دیکھ کر حضرتؒ سے درخواست کردیں اور گھر واپس آگیا۔ یہ معلوم ہوتا کہ یہ حضرت تونسویؒ سے میری آخری ملاقات ہے تو شاید انہیں کچھ دیر کے لیے بے آرام بھی کر لیتا، مگر یہ علم اللہ تعالیٰ نے صرف اپنے پاس ہی رکھا ہے کہ کس کی زندگی نے کب اور کہاں اس کا ساتھ چھوڑ جانا ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ کی بے شمار حکمتیں پوشیدہ ہیں۔

حضرت علامہ عبد الستار تونسویؒ کی زیارت پہلی بار غالباً طالب علمی کے دور میں قلعہ دیدار سنگھ کی مدینہ مسجد کے سالانہ اجلاس میں ہوئی تھی جہاں وہ اور ’’تنظیم اہل سنت‘‘ کے دیگر قائدین حضرت مولانا دوست محمد قریشیؒ ، حضرت مولانا قائم الدین عباسیؒ اور دیگر حضرات تشریف لایا کرتے تھے۔ اس کے بعد گزشتہ نصف صدی کے دوران متعدد مجالس اور پبلک جلسوں میں ان سے ملاقات رہی۔ مختلف تحریکات میں ان کے ساتھ شریک ہونے کا موقع ملا اور بہت سے مواقع پر ان سے استفادہ کی سعادت حاصل ہوئی۔ وہ شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ اور امام اہل سنت حضرت مولانا عبد الشکورلکھنویؒ کے ممتاز شاگردوں میں سے تھے۔ اہل سنت کے عقائد و مسلک کے تحفظ اور حضرات صحابہ کرامؓ کے ناموس و وقار کی سربلندی کے لیے حضرت مولانا عبد الشکور لکھنویؒ کی جدوجہد اور خدمات اس حوالہ سے تاریخ کے ایک مستقل باب کی حیثیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے لکھنو میں بیٹھ کر جو ہمیشہ اہل تشیع کا گڑھ رہا ہے، اہل سنت کے عقائد کا پرچار کیا، حضرات صحابہ کرامؓ کی عزت و ناموس کا پرچم بلند کیا، سنی مسلمانوں کے حقوق و مفادات کا تحفظ کیا اور اس مشن کے لیے برصغیر کے طول و عرض سے تعلق رکھنے والے ہزاروں علماء کرام کی تربیت کر کے انہیں تیار کیا۔ میرے چچا محترم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ بھی حضرت لکھنویؒ کے شاگردوں میں سے ہیں بلکہ ان کی وساطت سے ہماری سند حدیث ’’علماء فرنگی محل‘‘ کے ساتھ متصل ہو جاتی ہے۔ 

پاکستان بننے کے بعد جن علماء کرام نے حضرت مولانا عبد الشکور لکھنویؒ کے اس مشن کو ان کے سکھائے ہوئے طرز اور اسلوب کے مطابق سنبھالا اور مسلسل محنت کر کے اسے ایک مستقل تحریک کی حیثیت دی ان میں حضرت مولانا عبدالستار تونسویؒ ، حضرت مولانا قاضی مظہر حسینؒ ، حضرت مولانا عبد اللطیف جہلمیؒ ، حضرت مولانا دوست محمد قریشیؒ ، حضرت مولانا سید نور الحسن شاہ بخاریؒ ، حضرت مولانا قائم الدین عباسیؒ ، حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود مدظلہ اور حضرت مولانا عبد الحئی جام پوریؒ بطور خاص قابل ذکر ہیں۔ انہوں نے ملتان میں تنظیم اہل سنت کے عنوان سے مرکز قائم کیا۔ ایک دور میں ’’دعوت‘‘ کے نام سے تنظیم اہل سنت کا مستقل جریدہ حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود مدظلہ کی ادارت میں شائع ہوتا رہا ہے جس نے اس مشن اور محاذ کے لیے دینی مدارس کے اساتذہ و طلبہ کی ذہن سازی میں اہم کردار ادا کیا۔ سرکردہ علماء کرام کے اس عظیم قافلہ کے ساتھ اس محاذ کے ایک اور عظیم مجاہد سردار احمد خان پتافیؒ اور ان کے علاوہ شاعر اہل سنت خان محمد کمتر مرحوم کا تذکرہ نہ کرنا نا انصافی کی بات ہوگی جن کی خدمات اس حوالہ سے بہت نمایاں ہیں۔ 

حضرت مولانا عبد الستار تونسویؒ کے تین بڑے محاذ تھے، وہ اہل سنت اور اہل تشیع کے درمیان اختلافی مسائل پر مباحثہ کے لیے اپنے وقت کے سب سے بڑے سنی مناظر تھے اور انہوں نے اس محاذ پر بڑے بڑے معرکے سر کیے ہیں۔ وہ پبلک جلسوں میں ناموس صحابہؓ اور عقائد اہل سنت کے اثبات و دفاع میں ایک کامیاب خطیب تھے جن کے محققانہ خطبات ہزاروں لوگوں کی ہدایت کا ذریعہ بنے ہیں اور دینی مدارس کے اساتذہ و طلبہ کو سنی شیعہ تنازعات پر مناظرہ کی تیاری کرانا اور سنی کاز کے لیے محنت کرنے کی تربیت دینا ان کا خصوصی مشغلہ تھا جس میں وہ نصف صدی سے زیادہ عرصہ تک مصروف رہے ہیں اور ان کے تربیت یافتہ ہزاروں علماء کرام نہ صرف پاکستان بلکہ بہت سے دوسرے ممالک میں بھی خدمات سر انجام دینے میں مصروف ہیں۔ 

ان کا سیاسی تعلق ہمیشہ جمعیۃ علماء اسلام کے ساتھ رہا ہے اور حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ ، حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ ، حضرت مولانا مفتی محمودؒ ، حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ اور دیگر اکابر جمعیۃ کے ساتھ ان کا مسلسل ربط و تعلق تھا۔ انہوں نے اپنے محاذ اور مشن کے ساتھ ساتھ تحریک تحفظ ختم نبوت، تحریک نفاذ شریعت، تحریک تحفظ ناموس رسالتؐ اور دیگر دینی تحریکات میں بھی متحرک کردار ادا کیا اور ان تحریکوں کی بھرپور سرپرستی کی۔ والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ اور عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ کے ساتھ ان کا گہرا تعلق تھا اور ان بزرگوں کی باہمی محبت و شفقت کے بہت سے مناظر نگاہوں کے سامنے گھوم رہے ہیں۔ 

حضرت مولانا عبد الشکور لکھنویؒ کا تربیت یافتہ یہ قافلہ ایک ایک کر کے ہم سے جدا ہوگیا ہے اور ان کے اسلوب و طرز کے حوالہ سے پیدا ہونے والا یہ عظیم خلا ہم جیسے حساس کارکنوں کو زندگی بھر پریشان کرتا رہے گا۔ ان میں سے اب صرف حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود مدظلہ حیات ہیں، اللہ تعالیٰ انہیں صحت و عافیت کے ساتھ تادیر سلامت رکھیں اور حضرت تونسویؒ کی خدمات کو قبولیت سے نوازتے ہوئے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں۔ آمین یا رب العالمین۔ 

مولانا محمد اشرف ہمدانی ؒ 

۱۶ جنوری کو صبح نماز فجر کے بعد درس سے فارغ ہوا تھا کہ ڈاکٹر حامد اشرف ہمدانی نے فون پر بتایا کہ ان کے والد محترم مولانا محمد اشرف ہمدانیؒ کا فیصل آباد میں انتقال ہوگیا ہے۔ زبان پر بے ساختہ انا للہ وانا الیہ راجعون جاری ہوا اور ڈاکٹر صاحب موصوف سے تعزیت و تسلی کے چند کلمات کہے، مگر جنازے میں شریک نہ ہو سکا۔ 

مولانا محمد اشرف ہمدانیؒ کے ساتھ میرا پرانا تعلق تھا، وہ اس زمانے میں گوجرانوالہ کی پل لکڑ والا کی مسجد میں خطیب و امام تھے جب ہم نے گوجرانوالہ میں جمعیۃ علماء اسلام کی رکنیت سازی اور تنظیم کا کام شروع کیا تھا۔ میرا وہ طالب علمی کا آخری دور تھا اور ہمیں اس محنت میں مولانا محمد اشرف ہمدانیؒ کا بھرپور تعاون حاصل تھا۔ وہ اپنے دور کے ممتاز خطباء میں شمار ہوتے تھے اور ان کے خطبات جمعہ اور دروس گوجرانوالہ میں اور پھر فیصل آباد میں عام لوگوں کے لیے کشش اور استفادے کا ذریعہ ہوا کرتے تھے۔ میرا ان سے رابطہ شیرانوالہ لاہور کے حوالہ سے بھی تھا کہ وہ بھی میری طرح شیخ مکرم حضرت مولانا عبید اللہ انور قدس اللہ سرہ العزیز سے ادارت و عقیدت کا تعلق رکھتے تھے اور شیرانوالہ لاہور کی حاضری میں ہمارا اکثر ساتھ رہتا تھا۔

گوجرانوالہ میں چند سال خطابت کے جوہر دکھا کر وہ فیصل آباد چلے گئے اور جناح کالونی کی مرکزی جامع مسجد میں بطور خطیب خدمات سر انجام دینا شروع کیں، ان کی خطابت نے فیصل آباد میں اپنا رنگ جمایا اور دیوبندی مسلک کی ترجمانی اور ترویج کی جدوجہد میں حضرت مولانا مفتی زین العابدین، حضرت مولانا تاج محمودؒ اور حضرت مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ کے ساتھ ان کا نام بھی نمایاں ہوتا چلا گیا۔ تحریک ختم نبوت ان کا خصوصی میدان تھا، چنانچہ انہوں نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے فورم پر نہ صرف اس محاذ پر مسلسل خدمات سر انجام دیں بلکہ ۱۹۷۳ء میں قادیانیوں کو دستوری طور پر غیر مسلم قرار دیے جانے کے بعد چناب نگر (ربوہ) میں قادیانیوں کی آبادی کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو آباد کرانے، مسلم کالونی کی ترقی اور وہاں ختم نبوت کی مسجد و مرکز کی تعمیر میں متحرک کردار ادا کیا اور فیصل آباد کے علماء کرام اور تاجران کو اس اہم کام کی طرف متوجہ کرنے کے لیے حضرت مولانا تاج محمودؒ اور حضرت مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ کے ساتھ ان کے دست و بازو کے طور پر محنت کی۔ جناح کالونی کی مرکزی جامع مسجد سے الگ ہونے کے بعد انہوں نے ملت ٹاؤن میں جامع مسجد آمنہ اور اس کے ساتھ روحانی خانقاہ کا نظام قائم کرنے میں اپنی صلاحیتیں صرف کیں اور بہت سے لوگوں کے عقائد کی اصلاح اور دینی و روحانی تربیت کا ذریعہ بنے۔

شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ اور شیخ القرآن حضرت مولانا غلام اللہ خانؒ کے ساتھ خصوصی عقیدت رکھتے تھے اور ان کی گفتگو و خطابت میں ان بزرگوں کے فیوض کا اکثر تذکرہ رہتا تھا، والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کے ساتھ بھی ان کا مسلسل ربط و تعلق رہا اور وہ ان کے خوشہ چینوں میں شمار ہوتے تھے۔ چند ہفتے قبل حافظ ریاض احمد قادری کے ہمراہ حاضر ہوا، بستر علالت پر تھے، ضعف کا غلبہ تھا مگر بذلہ سنجی اسی طرح تھی جیسے جوانی کے زمانے میں ہوا کرتی تھی، کھلے مزاج اور بے تکلفانہ گفتگو کے عادی تھے۔ اس روز بھی کھلے مزاج کے ساتھ اور کھلے ماحول میں بہت سی باتیں کیں، لطیفے بھی ہوئے اور چٹکلے بھی سنائے۔ مجھے خوشی ہوئی کہ بیماری اور ضعف نے ان کے مزاج کو متاثر نہیں کیا۔ وہ کم و بیش پچھتر برس کی زندگی گزار کر اپنے خالق حقیقی کے حضور پیش ہوگئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مولانا ہمدانی رحمہ اللہ تعالیٰ کو جنت الفردوس میں جگہ دیں اور پسماندگان کو ان کی حسنات جاری رکھنے کی توفیق سے نوازیں۔ آمین یا رب العالمین۔

اخبار و آثار