مولانا عبد المتینؒ ۔ حیات و خدمات کا مختصر تذکرہ

محمد عثمان فاروق

24 ستمبر 2013ء بروز منگل حضرت مولانا عبد المتین حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے خالق حقیقی سے جا ملے۔ آپؒ نے 76 برس کی طویل عمر پائی اور زندگی کا ایک ایک لمحہ ذکر خداوندی، ذوق عبادت، حسن معاشرت اور خلق کو خالق کی طرف دعوت دینے میں بسر کیا۔ حسن ظن، اخلاص و بے نفسی اور تحمل و رواداری آپؒ کی شخصیت کے عناصر ترکیبی تھے۔ 

حدیث میں آتا ہے: خیارکم اذا رؤوا ذکر اللّٰہ  (بہترین لوگ وہ ہیں جن کی زیارت سے اللہ یاد آجائے)۔ حضرت اس حدیث کا کامل مصداق تھے۔ راقم الحروف بچپن ہی سے حضرت سے متعارف تھا اور اپنی شعوری عمر ہی سے حضرت کے دروس، مجالس اور نجی ملاقاتوں سے استفادہ کرتا رہتا تھا۔ حضرت ہمیشہ نہایت کشادہ قلبی، خندہ پیشانی سے ملتے، سوالات کے جوابات دیتے اور اشکالات کو رفع کرتے۔ نتائج فکر سے قطع نظر حضرت کا زاویہ نگاہ اور خصوصاً آپ کی طبیعت کی زم خوئی اور مزاج کا ٹھیراؤ بہت اثر انگیز ہوتا تھا۔ عام طور پر عوام الناس کو مذہبی طبقے سے ایک شکایت یہ بھی رہتی ہے کہ یہ لوگ سخت طبیعت، تحکمانہ ذہنیت اور لب و لہجہ میں خشونت و درشتی کے حامل ہوتے ہیں۔ یہ بات علی الاطلاق درست نہیں لیکن شاید کسی حد تک صداقت کی حامل ہے، لیکن حضرت کی طبیعت، آپ کا مزاج اور لب و لہجہ اخلاق نبویؐ کا آئینہ دار تھا۔ راقم الحروف کو بہت سے علماء، مشائخ، دعاۃ دین اور مفکرین سے بالمشافہ ملاقات کرنے کا شرف حاصل ہے لیکن جو بے نفسی، نمود و نمائش سے بیزاری، پس منظر میں رہتے ہوئے دعوت و اصلاح کا کام کرنا، سخت سے سخت مخالفت کے باوجود رد عمل کی نفسیات سے اجتناب کرتے ہوئے صبر و ثبات سے کام کرنا اور سب سے بڑھ کر اپنے مخالفین و معاندین کے لیے بھی وسعت قلبی اور حسن ظن رکھنا، آپؒ کے ہاں دیکھی وہ بہت کم لوگوں کو حاصل ہے۔ یہ آپؒ کی امتیازی خصائص ہیں جو آپؒ کو دوسرے علماء و مصلحین سے ممتاز کرتی ہیں۔ 

سلف صالحین کے تذکروں میں ان کی خوبیوں میں دو خوبیاں مشترک پائی جاتی ہیں جو ان کی سعادت دارین کی وجہ ہوتی ہیں: ایک ان کا اخلاص اور دوسرا اُن کی صاف دلی۔ حضرت میں یہ دونوں خصوصیات بدرجۂ اتم پائی جاتی تھیں۔ وہ اپنے سے مختلف نقطۂ نظر رکھنے والے لوگوں کا تذکرہ بھی بہت سنجیدگی، شائستگی اور متانت سے کرتے تھے، کسی بھی شخصیت سے اصولی اختلافات کے علی الرّغم طعن و تشنیع، تکفیر و تضلیل نہ کرتے بلکہ ہر حال میں اعتدال و توازن کا دامن تھامے رکھتے۔ اگرچہ آپ دیوبندی مدرسۂ فکر سے وابستہ تھے لیکن اس کے باوجود دوسرے مسالک کا بھی احترام کرتے اور اس معاملے میں آپ ہر طرح کے تعصب، تحرب اور فرقہ واریت سے ماوراء تھے۔

ایک بار برسبیل تذکرہ بانی جماعت اسلامی سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کا ذکر آگیا تو حضرت نے راقم سے کہا کہ سید مودودیؒ بڑے مفکر تھے۔ اگرچہ مجھے ان کے فہم دین اور تعبیر دین سے زیادہ اتفاق نہیں ہے لیکن یہ بات مسلمہ حقیقت ہے کہ جدید تعلیم یافتہ طبقے میں جو مقبولیت ان کو حاصل ہوئی، کسی دوسری شخصیت کو نہیں ہوئی۔ نسل نو کو دین سے قریب لانے اور دین کے لیے جدوجہد کرنے کا جذبہ پیدا کرنے میں مودودی صاحب کی بہت خدمات ہیں۔ پھر حضرت کہنے لگے، جب میں جامعہ اشرفیہ لاہور میں زیر تعلیم تھا تو سید مودودی صاحب سے ملنے کا اشتیاق پیدا ہوا۔ میں ان کی رہائش گاہ اچھرہ پہنچ گیا اور اجازت لے کر مولانا کی مطالعہ کے کمرے میں داخل ہوا تو دیکھا کہ مولانا تصنیف و تالیف میں مشغول ہیں۔ پھر کہنے لگے کہ مولانا کی شخصیت بہت باوقار، سنجیدہ اور دلنشین تھی۔ پھر کہنے لگے، بیٹا بس مجھے اتنا ہی یاد ہے کیونکہ یہ بات بہت پرانی ہے اور اب میرا حافظہ بھی میرا ساتھ نہیں دے رہا۔ 

مولانا اس زمانے میں جب جمعیۃ علماء اسلام کی قیادت حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ اور مفتی محمودؒ بقید حیات تھے۔ بہت فعال کارکن تھے۔ تعلیمی و تدریسی خدمات کے ساتھ ساتھ تحریک کے جلسے بھی منعقد کروایا کرتے تھے۔ اگرچہ چند سالوں بعد جمعیۃ کی قیادت کے انتقال کے بعد آپ تعلیم و تدریس کے کام میں یکسو ہوگئے، لیکن اس دوران 74ء کی تحریک ختم نبوت میں آپؒ نے بھرپور شرکت کی۔ گوجر خان شہر میں مختلف مکاتب فکر کے علماء و قائدین کو مجتمع کیا اور جیل بھی کاٹی۔ اڈیالہ جیل میں بہت سے لوگوں نے معافی نامے بھی لکھے لیکن حضرت کی غیرت ایمانی نے یہ گوارا نہ کیا۔ پھر جب آپؒ کی رہائی کا معاملہ ہونے لگا تو آپ نے یہ شرط رکھی کہ میرے ساتھ جو اور لوگ قید ہوئے ہیں ان کو بھی رہا کیا جائے ورنہ مجھے بھی جیل میں ان لوگوں کے ساتھ ہی رہنے دیا جائے۔

راقم الحروف نے نج کی مجلس میں حضرت سے ان کی پسندیدہ کتب کی بابت پوچھا تو کہنے لگے مجھے مولانا اشرف علی تھانویؒ کے ملفوظات و مواعظ، مفتی شفیعؒ کی تفسیر ’معارف القرآن‘‘، مفتی کفایت اللہؒ کے فتاویٰ ’’کفایت المفتی‘‘، مولانا منظور نعمانیؒ کی ’’معارف الحدیث‘‘ اور مولانا یوسف کاندھلویؒ کی ’’حیاۃ الصحابہ‘‘ پسند ہیں اور علوم دینیہ کے شائقین کو یہ کتب ضرور پڑھنی چاہئیں۔ آپؒ راقم کو یہ نصیحت کیا کرتے تھے کہ بیٹا آج کل کی وہ کتب جو مسلکی اور فروعی مسائل پر مبنی ہوتی ہیں جن میں قصے کہانیاں اور بے سروپا روایات کی بھرمار ہوتی ہے، بہت اجتناب کرنا، اگر دین کا صحیح ذوق پیدا کرنا چاہتے ہو تو متذکرہ بالا کتب کا مطالعہ کیا کرو۔ آپؒ مولانا سید سلمان ندویؒ اور سید ابوالحسن علی ندویؒ کی دینی بصیرت کے بہت قائل اور معترف تھے۔ ان کی کتب کا مشورہ راقم کو اکثر دیتے۔ خصوصاً علی میاں ندویؒ کی کتب ’’تاریخ دعوت و عزیمت‘‘، ’’ارکان اربعہ‘‘ اور ’’پرانے چراغ‘‘ کی ترغیب دیتے تھے۔ کتب سیرت میں اہل حدیث عالم و محققین حضرت قاضی سلیمان منصور پوریؒ کی کتاب ’’رحمت للعالمینؒ ‘‘ بہت پسند کرتے تھے اور ساتھ میں ڈاکٹر عبد الحئی عارفؒ کی کتاب ’’اسوۂ رسول اکرم‘‘ کے مطالعہ کی تشویق بھی دیتے تھے۔

ایک مرتبہ حضرت سے راقم کی گفتگو کا سلسلہ جاری تھا کہ اچانک ایک صاحب آئے اور بڑے پرتپاک انداز سے مولانا سے ملے۔ آپؒ بھی ان صاحب سے واقف تھے۔ یہ صاحب تصوف کے حلقے سے منسلک تھے اور فرط مسرت سے ان کی آنکھیں نم تھیں، کیونکہ انہیں اپنے مرشد سے خلافت عطا ہوئی تھی۔ وہ صاحب اپنے شیخ اور خانقاہ کی تعریف و توصیف میں رطب اللسان تھے، لیکن جذبات کے عدم توازن سے ان کی زبان ساتھ نہیں دے رہی تھی۔ راقم اس منظر پر حیرت میں مبتلا تھا۔ وہ صاحب کچھ دیر کی نشست اور سلام دعا کے بعد چلے گئے۔ مولانا میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمانے لگے کہ بیٹا اصل چیز تعلق مع اللہ ہے، اخلاق و معاملات کی بہتری اور فکر آخرت ہے۔ لوگوں نے جماعتوں، تناظیم اور مختلف حلقوں سے وابستگی کو ہی سب کچھ سمجھ لیا ہے۔ افسوس کہ حقیقتیں رخصت ہوتی جا رہی ہیں اور بس صورتیں ہی باقی رہ گئی ہیں۔ مقاصد نظروں سے اوجھل ہوگئے ہیں اور وسائل و ذرائع ہی مقصود و مطلوب بن گئے ہیں۔ پھر حضرت نے مولانا تھانویؒ کا یہ قول سنایا: ’’اصل چیز اصلاح ہے، بیعت ہونا مقصود نہیں ہے۔‘‘

راقم کے استفسار پر کہ اس پر فتن دور میں ہماری کیا ذمہ داریاں ہیں؟ مولانا نے جواب دیا کہ بیٹا! سب سے پہلی اور اصولی بات یہ ہے کہ افرادِ معاشرہ میں سے ہر فرد میں اصلاح نفس کی فکر پیدا ہو اور غالب ہو، اصلاح معاشرہ میری اصلاح سے شروع ہوتا ہے، دوسری چیز اپنے اہل خانہ کی تعلیم و تربیت کی فکر ہے۔ ہفتے میں ایک گھنٹہ مطالعہ قرآن، حدیث، سیرت النبیؐ و صحابہؓ اور آدابِ زندگی کے لیے مختص کیا جائے۔ استغفار و توبہ پر استقامت و مداومت اختیار کی جائے، تلاوت قرآن کا اہتمام کیا جائے، اپنے عیوب و نقائص پر نظر رکھی جائے، غیبت، تجسس اور دوسرے رذائل اخلاق سے بچا جائے۔ راقم کو ہمیشہ مولانا صاحبؒ دو چیزوں کی کثرت سے تلقین کرتے تھے۔ ایک نماز اور دوسرا تلاوت قرآن۔ اگر مولانا کی فکر اور دعوت کو چند جملوں میں سمو دیا جائے تو وہ یوں ہے کہ اللہ تعالیٰ سے تعلق و محبت جس کا ذریعہ نماز اور قرآن ہے، اہل خانہ کی تعلیم و تربیت جس کے لیے مستند کتب سے اجتماعی مطالعہ ممد و معاون ہے۔ دعوت دین جس میں لوگوں کی دنیا و آخرت کے مسائل کو حکمت، تدریج اور اخلاص سے حل کرنے کی تگ و دو کی جائے۔ دین کی تعبیر و تشریح میں سلف صالحین بالخصوص خیر القرون کے منہج و طریقہ کار کا التزام کیا جائے۔ علماء ربانی کی صحبتوں سے استفادہ کیا جائے۔ دنیا سے بقدر ضرورت تعلق رکھا جائے، آخرت کی فکر اور تیاری کو پیش نظر رکھا جائے۔ لوگوں کی فلاح و بہبود اور رفاہ عامہ کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا جائے اور اسے پوری دلجمعی اور یکسوئی کیے ساتھ سر انجام دیا جائے۔ آپؒ اکثر راقم کو فتنہ پرور اور مفاد پرست مذہبی پیشواؤں سے متنبہ رہنے کو کہا کرتے تھے جو لوگوں کا استحصال کرتے ہیں اور انہیں راہ حق سے منحرف کرنے کے درپے رہتے ہیں۔ 

مولانا نے 1958ء میں شہر گوجر خان میں تن تنہا توحید کی شمع روشن کی، پوری یکسوئی اور استقامت سے دعوت و اصلاح کا کام کیا۔ اس معاملے میں ادنیٰ درجے کی مداہنت گوارا نہ کی۔ مخالفین و معاندین نے آپ کی راہ میں روڑے اٹکائے، لیکن آپ اپنی منزل کی طرف رواں دواں رہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اعوان و انصار عطا کیے اور یوں یہ قافلہ آپ کی نگرانی میں سرگرم سفر رہا۔ آپؒ کی اولاد و احفاد میں آپؒ کے دو فرزندان ارجمند مفتی امداد اللہ اور مفتی سعید اللہ سر فہرست ہیں۔ اول الذکر جامعۃ المتین کے مہتمم ہیں اور ثانی الذکر اقراء روضۃ المتین سکول کے پرنسپل ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ان کی حسنات کو قبول فرمائے اور ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے، ہم سب کو ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

شخصیات

دسمبر ۲۰۱۳ء

جلد ۲۴ ۔ شمارہ ۱۲

راولپنڈی کا الم ناک سانحہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

شہید کون؟ کی بحث
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

فقہائے احناف اور ان کا منہج استنباط
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی

اسلامی جمہوریت کا فلسفہ ۔ شریعت اور مقاصد شریعت کی روشنی میں (۱)
مولانا سمیع اللہ سعدی

’’اسلام، جمہوریت اور پاکستان‘‘
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مولانا عبد المتینؒ ۔ حیات و خدمات کا مختصر تذکرہ
محمد عثمان فاروق

امام اہل سنتؒ کے دورۂ برطانیہ کی ایک جھلک
مولانا عبد الرؤف ربانی

مولانا حافظ مہر محمد میانوالویؒ کا انتقال
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

تعارف و تبصرہ
ادارہ

مکاتیب
ادارہ

نسوانیت کا دشمن لیکوریا
حکیم محمد عمران مغل