امام اہل سنتؒ کے دورۂ برطانیہ کی ایک جھلک

مولانا عبد الرؤف ربانی

(امام اہل سنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر قدس اللہ سرہ العزیز نے 1986ء کے دوران ’’جمعیۃ علماء برطانیہ‘‘ کی دعوت پر ’’سالانہ توحید و سنت کانفرنس‘‘ میں شرکت کے لیے برطانیہ کا دورہ کیا اور مذکورہ کانفرنس کے علاوہ مختلف شہروں میں متعدد دینی اجتماعات سے بھی خطاب فرمایا۔ ان کے ایک شاگرد مولانا عبد الرؤف ربانی (خطیب مکی مسجد، رحیم یار خان) ان کے رفیق سفر تھے۔ انہوں نے ہماری درخواست پر اس سفر کے کچھ تاثرات مختصراً قلم بند فرمائے ہیں۔ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ حضرت امام اہل سنتؒ کی ’’سوانح حیات‘‘ کے لیے ان کے بیرونی اسفار کی تفصیلات زیادہ سے زیادہ حاصل کی جائیں تاکہ یہ سوانح جلد از جلد منظر عام پر آسکے۔ احباب سے درخواست ہے کہ اس سلسلہ میں جس دوست کے پاس معلومات ہوں وہ ہمیں مہیا فرمائیں تاکہ یہ کارِ خیر جلد پایہ تکمیل تک پہنچ سکے۔ راشدی)


راقم الحروف کو حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کے فرزند ارجمند مولانا زاہد الراشدی کا فون آیا کہ میرے والد گرامی برطانیہ کے تبلیغی دورہ پر وہاں کے مسلمانوں کے شدید اصرار پر تشریف لے جا رہے ہیں۔ چونکہ آپ برطانیہ جاتے رہتے ہیں اور آپ کے خاندان کے افراد بلکہ پورے علاقہ چھچھ کے لوگ برطانیہ میں مقیم ہیں، میری خواہش ہے کہ آپ والد گرامی کے ساتھ بطور خادم ضرور جائیں۔ اس لیے بھی کہ آپ والد گرامی کے شاگرد اور مدرسہ نصرۃ العلوم کے فارغ التحصیل ہیں۔ یقیناًمیرے لیے زندگی کی یہ سب سے بڑی متاع اور خوشی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ سعادت نصیب فرمائی کہ میں اپنے شفیق استاذ محترم کا ہم سفر بنوں اور اُن کی رفاقت میں خدمت کا کچھ موقع میسر آسکے۔ چنانچہ حسب پروگرام رخت سفر باندھا، جانے کے لیے تیاری کر لی۔ حضرت کا سامان اٹھایا، برطانیہ جانے کے لیے ایئرپورٹ پہنچے، دس گھنٹے کی مسافت کے بعد ہیتھرو ایئرپورٹ پر طیارے نے لینڈ کیا اور خیریت سے لندن پہنچ گئے۔ ایئرپورٹ پر حضرت مولانا کے استقبال کے لیے آئے ہوئے علماء کرام کا جم غفیر تھا۔ حضرت نے حسب مدارج و مراتب تمام علماء کرام اور دیگر استقبال کے لیے آئے ہوئے لوگوں سے معانقہ و مصافحہ کیا۔ 

وہاں کے تمام بڑے بڑے شہروں میں پروگرام پہلے سے ترتیب دیے گئے تھے۔ حضرت امام اہل سنت جہاں جہاں تشریف لے جاتے علماء اور دیندار طبقہ کے لوگ کثیر تعداد میں پہنچ جاتے۔ حضرت شیخ الحدیث اردو زبان میں قرآن و حدیث کے حوالہ جات دے کر بڑا مربوط و مبسوط خطاب فرماتے۔ آپ کی تقریر دلپذیر سن کر لوگوں کی آنکھیں نم ہو جاتیں۔ حضرت صاحب کا پرتاثیر بیان جو ان کے علم و عمل کی غمازی کرتا تھا، ان کے ذہن و قلب پر نقش ہوتا ہوا محسوس ہوتا۔ زمانہ طالب علمی میں جمعیۃ طلباء اسلام کا مرکزی اور صوبائی عہدیدار رہنے کی وجہ سے میرا سیاسی مزاج تھا، اس لیے میں استاذ محترم کے سفر، سکونت، اخلاق، علمیت اور بالخصوص عملی زندگی کا بغور مشاہدہ کرتا رہا۔ میں آج تک ورطۂ حیرت میں ہوں کہ اس پورے سفر کے دوران میں نے حضرت کا کوئی عمل ایسا نہیں دیکھا جو خلاف سنت ہو۔ ایک حیران کن چیز میرے مشاہدے میں آئی کہ حضرت شیخ الحدیث جس مدرسہ میں جاتے تو وہاں کے کتب خانہ میں جو کتاب بھی اٹھاتے، بس پہلی مرتبہ کتاب کھولتے۔ اسی صفحہ میں سے ایک چھوٹے سے علیحدہ کاغذ کے ٹکڑے پر کچھ تحریر فرماتے اور پھر وہ کاغذ جیب میں رکھ لیتے۔ غرضیکہ جو صفحہ بھی پہلی مرتبہ کھولتے، اسی صفحہ سے دو چار الفاظ لکھ کر اپنے پاس محفوظ فرمالیتے، کبھی اوراق پلٹنے کی نوبت نہ آتی۔ 

برطانیہ کی ایک مسجد میں تقریر کے دوران ایک شخص مجمع میں سے کھڑا ہوا او ر اس نے نہایت عقیدت کے ساتھ آپ کے مدرسہ کے لیے کچھ رقم دینے کا اعلان کیا۔ حضرت فرمانے لگے کہ کسی اور مدرسہ کو دے دو، میں تو صرف برطانیہ کے مسلمانوں سے ملنے آیا ہوں۔ وہاں پر انڈیا کے شہر گجرات کے مسلمانوں نے حضرت کے کھانے کی دعوت کی، بڑی پر تکلف دعوت تھی۔ ایک صاحب نے بڑی محبت کے ساتھ حضرت کی پلیٹ میں سالن ڈالا اور پلیٹ بھر دی۔ حضرت جتنا کھا سکتے تھے، کھا لیا۔ پلیٹ میں سالن چونکہ بہت زیادہ تھا۔ حضرت کم خوراک کھانے والے تھے۔ صوفی مزاج کا وہ گجراتی محبت سے کہنے لگا، حضرت! سنت پوری کریں۔ حضرت نے برجستہ جواب دیا کہ جان کی حفاظت فرض ہے۔ 

مولانا محمد اقبال رنگونی جو کہ برما کے شہر رنگون سے تعلق رکھتے تھے، برطانیہ کے مشہور عالم دین اور صاحب تحریر ہیں، مختلف رسائل میں معلومات سے بھرپور علمی مضامین لکھتے رہتے ہیں۔ ان کے چھوٹے بھائی مولانا بلال احمد جو کہ شیخ الحدیث مولانا محمد زکریاؒ کے غالباً آخری خلیفہ ہیں، اس وقت وہ بالکل نوجوان تھے اور انتہائی اچھے عالم تصور کیے جاتے تھے۔ انہوں نے بڑی عقیدت کے ساتھ حضرت ممدوح کو اپنے ہاں ٹھہرایا۔ حضرت کے معمولات میں تھا کہ رات گئے تک لکھنے میں مصروف رہتے۔ مولانا بلال رنگونی کے ہاں حسب عادت بیٹھے لکھ رہے تھے۔ میں بھی قریب دوسرے بستر پر لیٹا ہوا لحاف میں سے حضرت صاحبؒ کو دیکھ رہا تھا، تاکہ اگر انہیں کوئی ضرورت ہو تو میں خدمت انجام دوں۔ دیکھا کہ حضرت جس قلم سے لکھ رہے ہیں، اس میں سے سیاہی ختم ہوگئی۔ اب حضرت بار بار قلم جھٹکتے لیکن سیاہی نہ ہونے کے باعث قلم نے لکھنے سے جواب دے دیا۔ یہ منظر دیکھ کر میں نے عرض کیا کہ حضرت سامنے سیاہی کی دوات موجود ہے، قلم میں سیاہی بھر لیتے ہیں۔ حضرت کمال تقویٰ سے فرمانے لگے، مولوی بلال سے پوچھا نہیں۔ میں نے عرض کیا کہ اس قدر محبت سے مولانا بلال صاحب نے ٹھہرایا ہے، اس کو تو خوشی ہوگی۔ فرمانے لگے کہ اس سے اجازت نہیں لی۔ میرے اصرار کے باوجود حضرت نے قلم میں سیاہی نہیں ڈالی، یہ ان کے تقویٰ کی اعلیٰ مثال ہے۔ حضرت رحمۃ اللہ علیہ جیسی حزم واحتیاط آج کے دور میں عنقا ہے۔ 

انہوں نے تدریس، تصنیف، تقریر اور تصوف کے میدان میں شاندار خدمات سر انجام دی ہیں۔ ان کا قلم دین کی سربلندی، خلق خدا کی اصلاح اور مختلف فتنوں (قادیانیت، شیعیت، شرک و بدعت اور باطل قوتوں) کی بیخ کنی اور ان کے رد میں تا دم حیات سرگرم عمل رہا۔ ان کی تصنیفات اور تالیفات میں گو ناگوں موضوعات کا تنوع ہے۔ 

ہمارے 1977،1978ء کے دور طالب علمی میں حضرت گکھڑ سے روزانہ بس میں سفر کر کے دورہ حدیث پڑھانے کے لیے مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ آتے تھے۔ مدرسہ انتظامیہ نے حضرت کے آمد و رفت کی مشکلات دیکھتے ہوئے انہیں لانے لے جانے کے لیے کار لے لی۔ ایک روز گوجرانوالہ کے قریب ڈسکہ میں جلسہ تھا جس میں آپ نے شرکت کرنا تھی۔ فرمانے لگے کہ وہاں بس میں جانا ہے، کار میں نہیں۔ فرمانے لگے کہ مجھے کار پڑھانے کی سہولت کے لیے دی گئی ہے، ذاتی دوروں کے لیے نہیں۔ 

اللہ تعالیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی تمام کوششوں، کاوشوں کو قبول فرمائے اور اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔ حضرت کی مسند حدیث، مسند تفسیر کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے۔ ہم سب کو ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

اخبار و آثار

دسمبر ۲۰۱۳ء

جلد ۲۴ ۔ شمارہ ۱۲

راولپنڈی کا الم ناک سانحہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

شہید کون؟ کی بحث
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

فقہائے احناف اور ان کا منہج استنباط
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی

اسلامی جمہوریت کا فلسفہ ۔ شریعت اور مقاصد شریعت کی روشنی میں (۱)
مولانا سمیع اللہ سعدی

’’اسلام، جمہوریت اور پاکستان‘‘
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مولانا عبد المتینؒ ۔ حیات و خدمات کا مختصر تذکرہ
محمد عثمان فاروق

امام اہل سنتؒ کے دورۂ برطانیہ کی ایک جھلک
مولانا عبد الرؤف ربانی

مولانا حافظ مہر محمد میانوالویؒ کا انتقال
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

تعارف و تبصرہ
ادارہ

مکاتیب
ادارہ

نسوانیت کا دشمن لیکوریا
حکیم محمد عمران مغل