راولپنڈی کا الم ناک سانحہ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

۱۰ محرم الحرام کا دن امید و یاس کی کیفیت میں گزارنے کے بعد رات کو بستر پر لیٹا تو خوشی اور اطمینان کے تاثرات ذہن و قلب پر غالب تھے اور مطمئن تھا کہ جو دن بہت سے خطرات و خدشات جلو میں لیے صبح طلوع ہوا تھا، وہ کم از کم ہمارے شہر میں امن و سکون کی کیفت کے ساتھ گزر چکا ہے، اس لیے بھی کہ محرم الحرام کے آغاز میں گوجرانوالہ کی ایک امام بارگاہ میں تین افراد ایک حملہ میں جاں بحق ہو چکے تھے اور ۱۰ محترم جمعۃ المبارک کے روز ہونے کی وجہ سے بد اَمنی کے امکانات زیادہ نظر آرہے تھے۔ مگر صبح نماز فجر کے لیے اٹھا تو موبائل فون کی سکرین پر موجود اس میسج نے سارا سکون غارت کر دیا جس میں سانحہ راولپنڈی کے وقوع کی خبر دی گئی تھی۔ نماز سے فارغ ہو کر راولپنڈی اور اسلام آباد کے احباب سے فون پر رابطہ شروع کیا تو سبھی فون بند ملے حتیٰ کہ سارا دن کچھ پتہ نہ چل سکا کہ کیا ہوا ہے اور تازہ صورت حال کیا ہے؟ مختلف اطراف سے پے در پے وصول ہونے والی اضطراب انگیز اطلاعات لمحہ بہ لمحہ پریشانی اور رنج و غم میں اضافہ کرتے چلے جا رہی تھیں، جبکہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر طوفان بپا کر دینے والا میڈیا حیرت انگیز طور پر خاموش تھا۔ راولپنڈی اور اسلام آباد کی فون سروس معطل تھی اور کوئی قابل اعتماد ذریعہ میسر نہیں آرہا تھا جس سے اصل صورت حال معلوم کی جا سکے۔ 

اس فضا میں ۱۲؍ محرم اتوار کو مرکزی جامع مسجد میں شہر کے علماء کرام اور تاجر راہ نماؤں کا مشترکہ اجلاس ہوا جس میں اس وقت تک معلوم ہونے والی صورت حال کے مطابق مقررین نے اپنے جذبات و تاثرات کا اظہار کیا جن میں غم و غصہ اور اضطراب و بے چینی کا پہلو نمایاں تھا اور اس حوالہ سے سامنے آنے والی دہشت گردی اور درندگی پر ہر شخص نفرت و غصہ کا اپنے اپنے انداز میں بھرپور اظہار کر رہا تھا۔ مگر ایک بات سب راہ نماؤں کی زبانوں پر مشترک تھی کہ امن عامہ کے لیے بد اَمنی اور تباہی کا باعث بننے والے مذہبی جلوسوں کو عام شاہراہوں اور گلیوں بازاروں میں لانے کا کوئی جواز نہیں ہے اور اس پر حکومت کو بہرحال نظر ثانی کرنا ہوگی۔ ایسے جلوس اگر عبادت ہیں تو انہیں عبادت گاہوں تک محدود کر دینے کی ضرورت ہے اور اس طرح ہر سال سیکیورٹی کے نام پر پورے قومی نظام اور سرکاری اداروں کو مسلسل ایک عشرے تک معطل کیے رکھنا کوئی معقولیت نہیں رکھتا۔ اجلاس میں ایک قرارداد کے ذریعہ مطالبہ کیا گیا کہ حکومت اس سلسلہ میں کوئی واضح حکمت عملی طے کرے اور امن عامہ کے لیے خطرہ بن جانے والے جلوسوں کو چار دیواری میں محدود کرنے کے لیے قانون سازی کرے۔ 

اسی تناظر میں ۱۹؍ نومبر کو فیصل آباد میں پاکستان شریعت کونسل کے ایک اجلاس میں موجودہ حالات کے تناظر میں پاکستان شریعت کونسل کا جو موقف طے کیا گیا، وہ درج ذیل ہے:

  • سانحۂ راولپنڈی ہر لحاظ سے انتہائی قابل مذمت ہے اور تشدد و بربریت کی بد ترین مثال ہے جس کا سنجیدگی کے ساتھ نوٹس لینے کی ضرورت ہے۔
  • حکومت نے اس سانحہ کی انکوائری کے لیے جوڈیشل کمیشن قائم کیا ہے جو ایک مناسب قدم ہے، مگر پاکستان شریعت کونسل کی رائے میں اس کمیشن کو سانحۂ راولپنڈی کے اسباب و عوامل کے تعین اور اس کے ذمہ دار حضرات کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ سنی شیعہ کشیدگی میں مسلسل اضافہ اور اس کے ملک کے امن کے لیے تباہ کن صورت اختیار کرجانے کے اسباب و عوامل اور پس پردہ محرکات کا جائزہ لے کر ان کے سدباب کے لیے بھی سفارشات پیش کرنی چاہئیں۔ اس لیے پاکستان شریعت کونسل حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ جوڈیشل کمیشن کے دائرہ کار کو وسعت دی جائے اور سنی شیعہ کشمکش میں خوفناک اضافے کے اسباب و عوامل کے تعین کو بھی اس کی ذمہ داری میں شامل کیا جائے۔
  • مسجد و مدرسہ اور مارکیٹ کی سرکاری خرچ پر تعمیر جلد از جلد شروع کی جائے اور ان اداروں کے ذمہ دار حضرات کو اعتماد میں لے کر تعمیر نو کا پروگرام طے کیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان شریعت کونسل یہ مطالبہ کرتی ہے کہ مدینہ کلاتھ مارکیٹ کو محکمہ اوقاف سے واگزار کر کے اسے دارالعلوم تعلیم القرآن کو واپس کیا جائے۔
  • محرم الحرام کے ان جلوسوں کی وجہ سے پورے ملک کی انتظامی مشنری مسلسل دس دن تک اسی کام کے لیے وقف رہتی ہے۔ بہت سے ضروری امور معطل ہو جاتے ہیں، کروڑوں روپے خرچ ہوتے ہیں اور کم و بیش دو ہفتے تک خطرات و خدشات کی دھند ملک بھر کی فضا میں چھائی رہتی ہے۔ اس مسئلہ کا مستقل حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے ورنہ پہلے سے زیادہ خطرات اور بد اَمنی کو فروغ حاصل ہوتا رہے گا۔ اس لیے پاکستان شریعت کونسل تجویز کرتی ہے کہ بد اَمنی، خوف و ہراس اور فرقہ وارانہ تصادم کا باعث بننے والے جلوسوں کو عبادت گاہوں اور چار دیواری کے دائرہ میں محدود کیا جائے اور گلیوں بازاروں میں ایسے مذہبی جلوسوں کے گزرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی جائے۔ 
  • اس سانحہ میں دیگر عوامل کے ساتھ ساتھ ضلعی حکام کی غفلت بھی اس کا بڑا سبب ہے اس لیے سانحہ کے ملزمان اور پس پردہ افراد و محرکات کے ساتھ ضلعی حکام کی کارکردگی کا جائزہ لینے کی بھی ضرورت ہے اور حکومت کو تمام ملزمان اور ذمہ دار حضرات کے خلاف سخت کاروائی کرنی چاہیے۔ سانحۂ راولپنڈی کے موقع پر حالات کو کنٹرول کرنے اور رائے عامہ کی صحیح راہ نمائی کے لیے اسلام آباد اور راولپنڈی کے علماء کرام، وفاق المدارس العربیہ پاکستان، جمعیۃ علماء اسلام پاکستان، اہل السنۃ والجماعۃ پاکستان اور جمعیۃ اشاعت التوحید والسنۃ کے راہ نماؤں نے جس بیدار مغزی اور حوصلہ و محنت کے ساتھ کردار کیا ہے وہ قابل تعریف ہے اور پاکستان شریعت کونسل ملک کے تمام دینی حلقوں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ ان اداروں اور جماعتوں کے ساتھ اس سلسلہ میں بھرپور تعاون جاری رکھیں۔ 
  • اجلاس میں میڈیا کے غیر ذمہ دارانہ رویہ کا بھی نوٹس لیا گیا اور کہا گیا کہ ملک بھر میں اضطراب و بے چینی پھیلنے اور مختلف شہروں میں بد اَمنی کی فضا پیدا ہونے میں نیشنل میڈیا کی غفلت اور سوشل میڈیا کی غیر ذمہ دارانہ روش کا بھی بڑا دخل ہے، اس لیے اس بات کا نوٹس لینے کی بھی ضرورت ہے۔
  • پاکستان شریعت کونسل محسوس کرتی ہے کہ تمام مکاتب فکر کو سانحۂ راولپنڈی سے پیدا شدہ صورت حال میں ہم آہنگی اور باہمی مفاہمت کے ساتھ قوم کی راہ نمائی کرنی چاہیے اور خاص طور پر دیوبندی مسلک کی جماعتوں اور مراکز کے درمیان ہم آہنگی اور رابطہ و مشاورت کی انتہائی ضرورت ہے اور تمام جماعتوں کے راہ نماؤں کو اس بارے میں خصوصی توجہ دینی چاہیے۔

پاکستان شریعت کونسل کے مذکورہ اجلاس میں مختلف مکاتبِ فکر کی طرف سے ’’تحریک انسدادِ سود پاکستان‘‘ کے مشترکہ فورم کے قیام کا خیر مقدم کیا گیا اور ایک قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ملک کی معیشت کو اسلامی اصولوں پر استوار کرنے اور سودی نظام سے نجات دلانے کے لیے ایسی تحریک کی ضرورت ایک عرصہ سے محسوس کی جا رہی ہے اور مختلف مکاتب فکر کے زعماء کا یہ فیصلہ قابل تحسین ہے۔پاکستان شریعت کونسل اس فورم کے ساتھ بھرپور تعاون کرے گی اور اس کی کامیابی کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرے گی۔ راقم الحروف نے ’’تحریک انسدادِ سود پاکستان‘‘ کی رابطہ کمیٹی کے کنوینر کے طور پر تحریک کے مرحلہ وار پروگرام کے مختلف مراحل سے شرکاء کو آگاہ کیا اور اس موقع پر فیصل آباد کے ممتاز دانش ور جناب میاں محمد طاہر نے بھی سودی نظام کے خلاف جدوجہد کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

حالات و واقعات

دسمبر ۲۰۱۳ء

جلد ۲۴ ۔ شمارہ ۱۲

راولپنڈی کا الم ناک سانحہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

شہید کون؟ کی بحث
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

فقہائے احناف اور ان کا منہج استنباط
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی

اسلامی جمہوریت کا فلسفہ ۔ شریعت اور مقاصد شریعت کی روشنی میں (۱)
مولانا سمیع اللہ سعدی

’’اسلام، جمہوریت اور پاکستان‘‘
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مولانا عبد المتینؒ ۔ حیات و خدمات کا مختصر تذکرہ
محمد عثمان فاروق

امام اہل سنتؒ کے دورۂ برطانیہ کی ایک جھلک
مولانا عبد الرؤف ربانی

مولانا حافظ مہر محمد میانوالویؒ کا انتقال
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

تعارف و تبصرہ
ادارہ

مکاتیب
ادارہ

نسوانیت کا دشمن لیکوریا
حکیم محمد عمران مغل