مولانا سعید احمد رائے پوریؒ / مولانا مفتی محمد اویسؒ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مولانا سعید احمد رائے پوریؒ کے ساتھ میرا رابطہ سب سے پہلے ۱۹۶۷ء میں ہوا جب دینی مدارس اور کالجوں کے طلبہ پر مشتمل ایک مشترکہ طالب علم تنظیم ’’جمعیت طلباء اسلام پاکستان‘‘ کے نام سے وجود میں آئی۔ سرگودھا اور لاہور کے ساتھ ساتھ گوجرانوالہ بھی اس تنظیم کی سرگرمیوں کے ابتدائی مراکز میں سے تھا۔ گوجرانوالہ میں ہمارے ایک استاذ محترم مولانا عزیز الرحمنؒ ، میاں محمد عارف اور راقم الحروف اس کے لیے متحرک تھے جبکہ مولانا سعید احمد رائے پوریؒ جمعیۃ طلباء اسلام کی تنظیم و توسیع کے لیے مسلسل سرگرم عمل تھے۔ حضرت مولانا محمد اجمل خانؒ اور حضرت سید نفیس شاہ صاحبؒ کے ساتھ وہ بھی جے ٹی آئی کے سرپرست کے طور پر متعارف تھے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ جے ٹی آئی کو شہر شہر اور قصبہ قصبہ منظم کرنے اور طلبہ کی ذہن سازی میں ان کا کردار سب سے زیادہ نمایاں رہا۔ ہمارا یہ رابطہ اور اشتراک کار جمعیۃ طلباء اسلام کے بعد جمعیۃ علماء اسلام میں بھی سالہا سال تک جاری رہا اور ہم نے متعدد دینی تحریکات میں اکٹھے کام کرنے کی سعادت حاصل کی۔ اس طرح کم و بیش ایک عشرہ تک فکری، سیاسی اور تحریکی رفاقت کے بعد جب جمعیۃ طلباء اسلام دو حصوں میں بٹ گئی تو ہم دو الگ الگ کیمپوں میں شمار ہونے لگے، لیکن باہمی ملاقاتوں اور تبادلۂ خیالات کا سلسلہ چلتا رہا۔ بعض مسائل پر اختلاف رائے کے باوجود ہماری دوستی اور باہمی احترام و مودّت میں کوئی فرق نہ آیا۔ حتیٰ کہ گزشتہ سال کے دوران وہ گوجرانوالہ میں اپنے عقیدت مندوں کے پاس ایک دو روز کے لیے تشریف لائے تو میں نے ان سے ملاقات کی اور تھوڑی دیر کے لیے الشریعہ اکادمی تشریف لانے کی درخواست کی۔ جمعیۃ اہل سنت ضلع گوجرانوالہ کے ضلعی صدر حاجی عثمان عمر ہاشمی بھی اس ملاقات میں میرے ساتھ تھے، حضرت مولانا رائے پوریؒ ، مولانا مفتی عبد الخالق آزاد اور دیگر احباب کے ہمراہ اکادمی میں تشریف لائے، ایک مختصر سی نشست ہوئی جس میں مولانا مفتی عبد الخالق آزاد نے گفتگو کی اور پھر دعا پر مجلس اختتام پذیر ہوگئی۔ مولانا رائے پوریؒ کے ساتھ یہ ملاقات آخری ثابت ہوئی اور پھر ان کی زندگی میں ان سے ملاقات کا کوئی موقع نہ بن سکا۔ 

جماعتی ، تنظیمی اور تحریکی تعارف سے ہٹ کر ان کا اصل تعارف رائے پوری کی خانقاہ رحیمیہ کے حوالہ سے تھا کہ وہ خانقاہ رائے پور شریف کے مسند نشین حضرت مولانا عبد العزیز رحمہ اللہ تعالیٰ کے فرزند اور رفیق کار تھے۔ رائے پوری کی خانقاہ برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش میں روحانی اور فکری اثر و رسوخ رکھنے والی خانقاہوں میں ایک نمایاں مرکز کی حیثیت رکھتی ہے اور تحریک آزادی میں اس کا مستقل کردار ہے۔ حضرت شاہ عبد الرحیم رائے پوریؒ ، شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کے شاگرد اور ان کے رفقائق کار میں سے تھے، حضرت شیخ الہندؒ نے تحریک آزادی کے لیے جو تانا بانا بنا تھا، حضرت شاہ عبد الرحیم رائے پوریؒ اس نظم کے اہم رکن تھے اور مالٹا کی اسارت سے رہائی کے بعد حضرت شیخ الہندؒ نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں ضعف و علالت کے باوجود تحریک آزادی کو نیا رنگ دینے کی جو طرح ڈالی تھی، رائے پور کی خانقاہ کا اس میں بھی حصہ ہے، حضرت شیخ الہندؒ نے تشدد اور عسکریت کی پالیسی کو خیرباد کہہ کر عدم تشدد کو اپنی نئی جدوجہد کی اساس بنایا اور سیاسی و فکری تربیت سازی کو برصغیر میں علماء حق کی جدوجہد کے نئے دور کا سب سے بڑا ہتھیار قرار دیا۔ حضرت شیخ الہندؒ نے قرآنی تعلیمات کے عام سطح پر فروغ، مختلف طبقات اور علمی حلقوں کے درمیان اختلاف کو کم کرنے اور دینی مدارس اور یونیورسٹیوں کے فضلا و طلبہ کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کو اپنی جدوجہد کے اہم اہداف بتایا اور پھرا س رُخ پر جب کام شروع ہوا تو مفکر انقلاب حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ اور شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ نے دہلی میں نظارت قرآنیہ کے عنوان سے فکری تربیتی مرکز کی بنیاد رکھی جو حالات زمانہ کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ مختلف مراحل سے گزرتی ہوئی متعدد فکری مراکز کی شکل اختیار کر گئی۔ اس پروگرام کے مطابق علماء اور کالجوں کے فضلاء کی ذہن سازی میں جہاں بہت سے دیگر اکابر علماء کرام کی محنت تاریخ کا حصہ ہے، وہاں رائے پور کی خانقاہ رحیمیہ کے مسند نشین حضرت مولانا شاہ عبد القادر رائے پوریؒ کی شخصیت بھی ایک نمایاں حصہ رکھتی ہے۔ یہ اللہ والے بظاہر متحرک نظر نہیں آتے اور سٹیج پر خطابت کے جوہر نہیں دکھاتے، لیکن ان کی خاموشی، مجالس، قلب و ذہن کی کیفیات کو اپنے سانچے میں ڈھالنے کے لیے اکسیر کا کام دیتی ہیں، ماضی قریب میں حضرت مولانا خواجہ خان محمد رحمہ اللہ تعالیٰ آف کندیاں شریف کے بارے میں بعض لوگ کہتے تھے کہ وہ بولتے نہیں ہیں اور کسی عمومی مجلس میں خطاب نہیں کرتے لیکن تحریک ختم نبوت کے سب سے بڑے قائد شمار ہوتے ہیں۔ میں ان سے عرض کیا کرتا تھا کہ حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ کی خاموشی بڑے بڑے خطباء کی خطابت پر بھاری ہے اور ان کی خاموش مجالس بڑی بڑی کانفرنسوں سے زیادہ اثر رکھتی ہیں۔ حضرت مولانا شاہ عبد القادر رائے پوریؒ کی زیارت کا شرف مجھے حاصل نہیں ہوا اور نہ ہی ان کی کسی مجلس سے فیض یاب ہو سکا ہوں لیکن مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ ان کی مجالس کا رنگ کیسا ہوتا ہوگا اور ان کی توجہات اور چھوٹے چھوٹے جملے کس طرح ذہن و قلب کی دنیا کو بدل دیتے ہوں گے۔

حضرت شاہ عبد القادر ائے پوریؒ کے ملفوظات اور مجالس کا تذکرہ پڑھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ زمانے کی نبض پر ان کا ہاتھ تھا اور وہ اخلاقی اور روحانی بیماریوں کا علاج کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے عقیدت مندوں کی سیاسی اور فکری صحت کا بھی لحاظ رکھتے تھے، وہ اپنے دور کے سیاسی اتار چڑھاؤ پر مسلسل نظر رکھتے تھے اور امت کی خاموش مگر موثر راہ نمائی سے کسی وقت بھی غافل نہیں رہے۔ حضرت شاہ عبد الرحیم رائے پوریؒ اور حضرت شاہ عبد القادر رائے پوریؒ کا تذکرہ میں نے کتابوں میں پڑھا ہے اور کچھ انہیں دیکھنے والوں سے سنا ہے لیکن حضرت مولانا عبد العزیز رائے پوریؒ کی زیارت و مجلس سے کئی بار فیض یاب ہوا ہوں اور ان کے روحانی فیض سے حظ اٹھایا ہے، ان کی خدمت میں جب حاضری ہوتی تو ان کے فرزند و جانشین مولانا سعید احمد رائے پوریؒ سے بھی ملاقات ہوتی تھی، مختلف مسائل پر تبادلہ خیال ہوتا تھا اور اختلاف رائے کے باوجود تبادلۂ خیالات کا یہ سلسلہ جاری رہتا تھا۔ 

مجھ سے متعدد دوستوں نے ان کی زندگی میں ہمارے باہمی اختلاف رائے کے بارے میں پوچھا تو میں نے عرض کیا کہ اس اختلاف کا عقیدت و مسلک سے تعلق نہیں تھا بلکہ بعض سیاسی، معاشی اور تحریکی مسائل کی تعبیرات و تشریحات میں ہمارا زاویۂ نگاہ مختلف تھا جو اب بھی مختلف ہے لیکن یہ نظری اور فکری اختلاف ہے، مسلکی اختلافات اور نظری و فکری اختلافات کے الگ الگ دائروں کا فرق اب زیادہ تر ملحوظ نہیں رہا اور جس طرح ہم نے فقہی معاملات میں حق، باطل، خطاء و صواب اور اولیٰ و غیر اولیٰ کے دائروں کو گڈ مڈ کر رکھا ہے اسی طرح فکری اور اعتقادی دائروں کا فرق بھی ہماری نظروں سے اوجھل ہوتا جا رہا ہے۔

بہرحال حضرت مولانا سعید احمد رائے پوریؒ ہجری لحاظ سے کم و بیش نوے برس اس جہان رنگ و بو میں گزار کر خالق حقیقی کے حضور پیش ہو چکے ہیں اور ان کے رفقاء کار خصوصاً ان کے جانشین مولانا مفتی عبد الخالق آزاد ان کے قائم کردہ روحانی و فکری مرکز جامعہ رحیمیہ میں ان کی جدوجہد اور مشن کی مرکزیت کو قائم رکھنے کی سعی میں مصروف ہیں۔ ہم دعا گو ہیں کہ اللہ رب العزت حضرت مولانا سعید احمد رائے پوریؒ کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کریں اور ان کے پسماندگان، رفقاء اور متوسلین کو حوصلہ و استقامت کے ساتھ ان کی حسنات کا سلسلہ جاری رکھنے کی توفیق سے نوازیں۔ آمین یا رب العالمین۔

مولانا مفتی محمد اویسؒ 

گزشتہ روز گوجرانوالہ کے ایک بزرگ عالم دین اور دار العلوم گوجرانوالہ کے بانی و مہتمم مولانا مفتی محمد اویس انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ کافی دنوں سے علیل اور صاحب فراش تھے، دو چار روز سے گفتگو بھی نہیں کر پا رہے تھے، منگل کو صبح نماز کے بعد موبائیل فون کے میسج چیک کیے تو ان میں غم کی یہ خبر بھی تھی کہ مولانا مفتی محمد اویس صاحب رات دو بجے انتقال کر گئے ہیں۔ مفتی محمد اویس کا خاندان تقسیم ہند کے موقع پر کرنال سے ہجرت کر کے سندھ کے ضلع سانگھڑ میں کوٹ بسّی کے مقام پر آبسا تھا۔ مفتی محمد اویس صاحب کی ولادت منشی خان مرحوم کے گھر میں ۱۹۵۵ء کے دوران ہوئی۔ انہوں نے درس نظامی کی زیادہ تر تعلیم جامعہ حسینیہ شہداد پور میں حاصل کی، دورۂ حدیث جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی میں حضرت مولانا مفتی محمد ولی حسن قدس اللہ سرہ العزیز کے دور میں کیا۔ پھر جامعہ حسینیہ شہداد پور میں کچھ عرصہ تک تدریسی خدمات سر انجام دیتے رہے۔ تبلیغی جماعت کے ساتھ زیادہ تعلق تھا اور دعوت و تبلیغ کی سرگرمیوں میں اکثر شریک رہتے تھے بلکہ تعلیم و تدریس اور دعوت و اصلاح کا ذوق بھی کم و بیش وہی رکھتے تھے، انہوں نے تجوید میں سبعہ عشرہ تک تعلیم ساہیوال میں حضرت مولانا قاری محمد عبد اللہ رحمہ اللہ تعالیٰ سے حاصل کی اور زندگی بھر مختلف قراء ات میں قرآن کریم کی تلاوت، سماع اور طلبہ میں اس کی ترغیب کا ذوق انہوں نے تازہ رکھا۔ ان کے خاندان کا کچھ حصہ ضلع شیخوپورہ میں کوٹ پنڈی داس میں بھی آباد ہے اور وہاں دینی خدمات سر انجام دینے والے ہمارے ساتھی مولانا مفتی زین العابدین مفتی محمد اویس صاحب کے بھتیجے ہیں۔ 

میرا اُن سے تعارف اس دور میں ہوا جب وہ گوجرانوالہ کے تبلیغی مرکز میں قائم ہونے والے دینی مدرسہ میں استاذ کی حیثیت سے تشریف لائے اور پھر یہ تعارف رفتہ رفتہ باہمی محبت و اعتماد کی شکل اختیار کرتا چلا گیا۔ گوجرانوالہ کے تبلیغی مرکز کا یہ دینی مدرسہ اس کے بعد ایمن آباد شہر کے ساتھ واہنڈو روڈ پر منتقل ہوا تو مفتی صاحب صدر مدرس کے طور پر وہاں منتقل ہوگئے اور کافی عرصہ تک تدریسی خدمات سر انجام دیتے رہے، اس مدرسہ کا نظام ہمارے محترم اور بزرگ دوست شیخ ممتاز احمد صاحب اور ان کے لائق فرزند مولانا شیخ امتیاز احمد (فاضل بنوری ٹاؤن) چلا رہے ہیں، کچھ عرصہ کے بعد مفتی محمد اویس صاحب نے گوجرانوالہ میں جی ٹی روڈ پر جلیل ٹاؤن کے عقب میں ایک وسیع رقبہ میں دار العلوم گوجرانوالہ کے نام سے ایک دینی درس گاہ کا آغاز کیا جس میں بہت سے مخلص اور مخیر دوست ان کے معاون اور دست بازو بنے۔ مجھے ایمن آباد کے دار العلوم مکیہ اور جلیل ٹاؤن کے دار العلوم میں متعدد بار حاضری کا موقع ملا ہے اور مولانا مفتی محمد اویسؒ اور ان کے رفقاء کا تدریسی، تربیتی اور انتظامی ذوق ہمیشہ خوشی اور حوصلہ کا باعث بنا ہے۔ طلبہ کی تعلیمی، اخلاقی، تبلیغی اور اصلاحی تربیت کے ساتھ حسن انتظام ان کا خصوصی امتیاز تھا۔ والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ خصوصی عقیدت و محبت رکھتے تھے اور اسی نسبت سے انہوں نے مجھے دار العلوم گوجرانوالہ کے سرپرست کی حیثیت دے رکھی تھی، مختلف مواقع پر کسی نہ کسی بہانے یاد کرتے اور مجھے بھی حاضر ہو کر خوشی ہوتی۔ چند روز قبل حاجی عثمان عمر ہاشمی صاحب کے ہمراہ بیمار پرسی کے لیے حاضری ہوئی تو تھوڑی بہت بات کر لیتے تھے لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ گفتگو کا سلسلہ منقطع ہو گیا ہے، میں ایک آدھ روز میں دوبارہ بیمار پرسی کے لیے حاضری کا سوچ رہا تھا کہ ان کی وفات کی خبر آگئی۔ 

وہ بہت اچھے مدرس تھے، دار العلوم میں دورۂ حدیث تک تعلیم ہوتی اور بخاری شریف ان کے زیر درس رہتی تھی۔ قراء ات کا خاص ذوق رکھتے تھے اور جب بھی کوئی پروگرام ہوتا، اپنے طلبہ سے مختلف قرأتوں میں قرآن کریم کے مختلف حصوں کی تلاوت کراتے اور سامعین کے ساتھ ہم بھی محظوظ ہوتے۔ وہ واپڈا ٹاؤن کی مرکزی جامع مسجد کے خطیب بھی تھے اور ہزاروں لوگ ان کے وعظ و نصیحت سے فیض یاب ہوتے تھے۔

ان کے جنازے میں حاضری ہوئی تو ہمارے محترم بزرگ حضرت مولانا نعیم اللہ صاحب مہتمم مدرسہ اشرف العلوم نے ارشاد فرمایا کہ مفتی صاحبؒ کے خاندان والوں اور دار العلوم کے اساتذہ کی خواہش ہے کہ جنازہ آپ پڑھائیں اور ان کے فرزند مولانا محمد ادریس کی جانشینی کا اعلان کر کے دستار بندی بھی کرا دیں۔ چنانچہ یہ دونوں سعادتیں میں نے حاصل کیں جبکہ دستار بندی میں مولانا نعیم اللہ، مولانا عبد الغفار خان اور دوسرے متعدد بزرگ بھی میرے ساتھ شریک تھے۔

نماز جنازہ کے بعد انہیں دار العلوم گوجرانوالہ کے قریب ہی ایک عام قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا، نماز جنازہ سے قبل میں نے اپنی مختصر گفتگو میں یہ عرض کیا کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ارشاد بیسیوں بار پڑھا اور پڑھایا ہے لیکن کچھ عرصہ سے ہم اس کا عملی منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ ارشاد نبویؐ یہ ہے کہ قیامت سے قبل اللہ تعالیٰ علم کو دنیا سے اس طرح اٹھا لیں گے کہ اہل علم دنیا سے اٹھتے چلے جائیں گے اور ان کے ساتھ ان کا علم بھی اٹھتا جائے گا، گوجرانوالہ میں چند برسوں سے ہم یہی منظر دیکھ رہے ہیں، ہمارے شیخین کریمین حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ اور حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ تو رخصت ہوئے ہی تھے، ان کے ساتھ تھوڑے تھوڑے وقفہ سے مولانا اللہ یار خانؒ ، مولانا سید عبد المالک شاہؒ ، مولانا قاضی عصمت اللہؒ ، مولانا قاضی حمید اللہ خانؒ اور اب مولانا مفتی محمد اویسؒ بھی ہم سے جدا ہوگئے ہیں اور ہم رفع علم کا یہ کربناک منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اب سب بزرگوں کی مغفرت فرمائیں اور ہم سب کو ان بزرگوں کی حسنات کا سلسلہ جاری رکھنے کی توفیق سے نوازیں۔ آمین یا رب العالمین۔ 

چند دینی کارکنان

اس کے ساتھ دو تین اور تعزیتیں بھی ضروری سمجھتا ہوں، ہمارا عام طور پر مزاج بن گیا ہے کہ وفات پانے والے بڑے بزرگوں کو تو کسی نہ کسی طرح یاد کر لیتے ہیں لیکن کارکنوں کا تذکرہ نہیں ہوتا۔ تحریک آزادی اور تحریک ختم نبوت کے بزرگ تحریکی شاعر سائیں محمد حیات پسروری رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ایک پنجابی نظم میں اس صورت حال کو اس طرح تعبیر کیا تھا کہ مکان کی خوبصورتی اور مضبوطی میں دیواروں اور چھت کو تو ہر شخص دیکھتا ہے لیکن جو اینٹیں روڑے بن کر بنیادوں میں کوٹ دی جاتی ہیں ان کا کوئی نام تک نہیں لیتا، حالانکہ عمارت کی اصل مضبوطی انہی سے ہوتی ہے، یہی حالت ہمارے عام کارکنوں کی ہوتی ہے اور میں خود بھی اس دائرے سے باہر نہیں ہوں۔ گزشتہ دنوں گوجرانوالہ کے تین پرانے جماعتی اور تحریکی کارکن وفات پا گئے ہیں اور میری محرومی یہ ہے کہ اپنی مصروفیات کی وجہ سے ان کے جنازوں میں بھی شریک نہیں ہو سکا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ 

مولانا عبد السمیع نگینویؒ ہمارے بہت پرانے ساتھی تھے، رسول پورہ کی مسجد صدیقیہ میں اس دور میں امامت کے فرائض سر انجام دیتے تھے جب وہ جمعیۃ علماء اسلام اور مجلس تحفظ ختم نبوت کی تحریکی سرگرمیوں کا ایک اہم مرکز شمار ہوتی تھی، انہوں نے متعدد تحریکات میں ہمارے ساتھ شب و روز کام کیا، بعد میں تبلیغی جماعت میں زیادہ قت دینے لگے اور کچھ عرصہ رائے ونڈ مرکز میں بھی رہے۔ 

محمد اشرف صاحب جو بابا محمد اشرف کے نام سے معروف تھے اور ہم انہیں اشرف ہمدانی کے نام سے یاد کرتے تھے، جمعیۃ علماء اسلام نے جب گوجرانوالہ میں ’’انصار الاسلام‘‘ کے نام سے رضا کار تحریک منظم کی تو وہ حضرت مولانا مفتی عبد الواحد رحمہ اللہ تعالیٰ کی سرپرستی اور سالار قاسم خان مرحوم کی شبانہ روز محنت کا ثمرہ تھا۔ اس دور میں گوجرانوالہ کے شہریوں نے متعدد بار انصار الاسلام کے رضا کاروں کو سڑکوں پر منظم مارچ کرتے دیکھا ہے۔ محمد اشرف خان مرحوم بھی اس کے سرگرم سالاروں میں سے تھے۔ اکتوبر ۱۹۷۵ء کے دوران جامع مسجد نور مدرسہ نصرۃ العلوم میں منعقد ہونے والے کل پاکستان نظام شریعت کنونشن کا وہ منظر بہت سے شہریوں کو یاد ہوگا جب قاسم خان مرحوم کی قیادت میں سینکڑوں باوردی رضا کاروں نے شہر کی سڑکوں کا مارچ کیا تھا اور کنونشن کے سٹیج پر حضرت درخواستیؒ ، حضرت مولانا مفتی محمودؒ اور دیگر اکابر کو سلامی پیش کی تھی۔

محمد اشرف صاحب بھی ہمارے پرانے ساتھی تھے، انہیں ہم سیٹھ اشرف کے نام سے پکارتے تھے، تحریکی کارکن تھے، ختم نبوت کا دفتر ان کا اکثر بسیرا رہتا تھا، تحریک احیاء سنت کے عنوان سے مختلف تقریبات کا اہتمام کرتے رہتے تھے اور دینی تحریکات میں سرگرمی کے ساتھ شریک ہوتے تھے، ان کا فرزند قاری محمد ابوبکر مدنی ایک اچھا نعت خواں اور مداح رسولؐ اور مختلف دینی محافل کی زینت ہوتا ہے۔ یہ تینوں ساتھی گزشتہ تھوڑے سے عرصہ میں وقفہ وقفہ سے وفات پا گئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اللہ تعالیٰ ان کی دینی خدمات کو قبولیت سے نوازیں اور ان کے پس ماندگان کو ان کی حسنات کا سلسلہ جاری رکھنے کی توفیق دیں۔ آمین یا رب العالمین۔

اخبار و آثار

(نومبر ۲۰۱۲ء)

Flag Counter