احترام انسانیت اور امت مسلمہ کے لیے راہ عمل

غلام حیدر

اس کرہ ارض پر بسنے والے سات ارب سے زائد انسانوں(۱)میں مسلمانوں کی تعداد دو ارب سے متجاوز ہے۔ (۲) اتنی بڑی تعداد میں ہونے کے باوجود مسلمان معتوب ہیں۔ اور دنیا کی امامت و قیادت سے بیدخل کردئیے گئے ہیں۔ اس کی وجوہات پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ مسلمانوں کو اللہ رب العزت نے یہ منصب عطا کیا ہے کہ وہ پوری انسانیت کی رہنمائی کریں اور لوگوں کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر روشنی دکھائیں ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: 

کُنتُمْ خَیْْرَ أُمَّۃٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنکَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللّٰہِ (۳)
"تم ایک بہترین امت ہو تمہیں لوگوں کے لیے نکالا گیا ہے۔ تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو اور تم اللہ پر ایمان رکھتے ہو"

آج صورتحال یہ ہے کہ مسلمان خود جہالت کے اندھیروں میں ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہیں اور روشنی ہے کہ دور دور تک نظر نہیں آرہی ۔ 

سب سے پہلے اسلام کی اصل تعلیمات کو سمجھ کر ان پر عمل کرنا ہوگا اور پھر انسانیت کو ان تعلیمات کی برکات سے آگاہ کرنا ہوگا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 

"انما مثلي و مثل امتي کمثل رجل استو قد نارا فجعلت الدواب والفراش یقعن فیھا وانا آخذ بحجزکم وانتم تقحمون فیھا" (۴)
’’میری اور میری امت کی حالت اس شخص کی طرح ہے جس نے آگ جلائی ہو اور مختلف جانور اور پروانے اس میں گرنے کے لیے دوڑتے چلے آرہے ہوں۔ میں تمہیں تمہاری کمروں سے پکڑ رہا ہوں اور تم اس میں گرنے پر اصرار کررہے ہو۔‘‘

جو لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دی ہوئی اس تمثیل کو ذہن میں رکھتے ہوں اور یہ جانتے ہوں کہ وہ آگ بھڑک رہی ہے جس میں دنیا کی قومیں سر کے بل گر رہی ہیں کہ جن کو کمر سے پکڑ پکڑ کر بچانا ہماری ذمہ داری ہے، وہ آخر اس جذبے سے کیسے خالی ہو سکتے ہیں کہ جہاں تک ممکن ہو ہمیں لوگوں کو اس آگ میں گرنے سے بچانا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اس امت کو اخرجت للناس کہا ہے یعنی اسے لوگوں کے لیے نکالا گیا ہے۔ 

آج کی دنیا اسلام اور مسلمانو ں کے بارے میں غلط فہمیوں اور شکوک و شبھات کا شکار ہے۔ یہ غلط فہمیاں اور شکوک و شبہات ختم کرنے یا کم کرنے میں مسلمان ناکام ہو ئے ہیں جس کی وجہ سے سات ارب سے زائد انسان دلدل میں پھنستے جا رہے ہیں۔ احترام انسانیت دور حاضر کا نہ صرف ایک اہم مسئلہ ہے بلکہ ایک چیلنج بن گیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تکریم انسانیت کے بارے میں اسلام کی تعلیمات کو سمجھا جائے تاکہ دنیا امن و سکون کا گہوارہ بن سکے۔ 

اسلام امن و سلامتی کا دین ہے اور دوسروں کو بھی امن و عافیت کے ساتھ رہنے کی تلقین کرتا ہے ۔ اسلام کے دین امن و سلامتی ہونے کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بھیجے ہوئے دین کے لیے نام ہی "اسلام"پسند کیا ہے ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے :

وَرَضِیْتُ لَکُمُ الإِسْلاَمَ دِیْناً (۵) 
’’اور تمہارے لیے اسلام کو (بطور) دین (یعنی مکمل نظام حیات کی حیثیت سے) پسند کرلیا۔‘‘

لفظ اسلام سَلَمَ یا سَلِمَ سے ماخوذ ہے، جس کے معنی امن و سلامتی اور خیر و عافیت کے ہیں ۔ اسلام اپنے لغوی معنی کے اعتبار سے سراسر امن ہے۔ گویا امن و سلامتی کا معنی لفظ اسلام کے اندر ہی موجود ہے ۔ لہذا اپنے معنی کے اعتبار سے ہی اسلام ایک ایسا دین ہے جو خود بھی سراپا سلامتی ہے اور دوسروں کو بھی امن و سلامتی ، محبت و رواداری، اعتدال و توازن اور صبرو تحمل کی تعلیم دیتا ہے۔ 

قرآن و حدیث میں اگر مسلم اور مومن کی تعریف تلاش کی جائے تو یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے نزدیک مسلمان صرف وہ شخص ہے جو تمام انسانیت کے لیے پیکر امن و سلامتی ہو اور مومن بھی وہی شخص ہے جو امن و آشتی ، تحمل و برداشت ، بقاء باہمی اور احترام آدمیت جیسے اوصاف سے متصف ہو۔ یعنی اجتماعی سطح سے لے کر انفرادی سطح تک ہر کوئی اس سے محفوظ و مامون ہو۔

اسلام انسانوں کے احترام کا درس دیتا ہے اور ان کی عزت، جان اور مال کو محترم سمجھتا ہے۔ 

اللہ تعالیٰ نے سورۃ المائدۃ میں ارشاد فرمایا:

مَن قَتَلَ نَفْساً بِغَیْْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِیْ الأَرْضِ فَکَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعاً وَمَنْ أَحْیَاہَا فَکَأَنَّمَا أَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعاً (۶) 
’’جس نے کسی شخص کو بغیر قصاص کے یا زمین میں فساد (پھیلانے کی سزا) کے (بغیر، ناحق) قتل کر دیا تو گویا اس نے (معاشرے کے) تمام لوگوں کو قتل کرڈالااور جس نے کسی کی جان بچائی اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔‘‘

مندرجہ بالا آیت میں مسلم اور غیر مسلم کی تخصیص کے بغیر انسانی جان کی قدرو قیمت بیان کی گئی ہے۔ 

سید ابو الا علیٰ مودودی (م:۱۹۷۹ء)اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ 

’’دنیا میں نوع انسانی کی زندگی کا بقا منحصر ہے اس پر کہ ہر انسان کے دل میں دوسرے انسانوں کی جان کا احترام موجود ہو اور ہر ایک دوسرے کی زندگی کے بقا و تحفظ میں مدد گار بننے کا جذبہ رکھتا ہو۔ جو شخص ناحق کسی کی جان لیتا ہے و ہ صرف ایک ہی فرد پر ظلم نہیں کرتا بلکہ یہ بھی ثابت کرتا ہے کہ اس کا دل حیات انسانی کے احترام سے اور ہمدردی نوع کے جذبہ سے خالی ہے ،لہٰذا وہ پوری انسانیت کا دشمن ہے، کیونکہ اس کے اندر وہ صفت پائی جاتی ہے جو اگر تمام افراد انسانی میں پائی جائے تو پوری نوع کا خاتمہ ہو جائے ۔اس کے برعکس جو شخص انسان کی زندگی کے قیام میں مدد کرتا ہے وہ در حقیقت انسانیت کا حامی ہے۔ کیونکہ اس میں وہ صفت پائی جاتی ہے جس پر انسانیت کے بقا کا انحصار ہے۔‘‘ (۷)

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ حجتہ الوداع کے موقع پر پوری نسل انسانی کو عزت ، جان او رمال کا تحفظ فراہم کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: 

"فان دماء کم واموالکم واعراضکم علیکم حرام، کحرمۃ یومکم ھذا،فی بلد کم ھذا، فی شھرکم ھذا" (۸) 
’’بے شک تمہارے خون اور تمہارے مال اور تمہاری عزتیں تم پر اسی طرح حرام ہیں جیسے تمہارے اس دن کی حرمت تمہارے اس شہر میں اور تمہارے اس مہینے میں (مقرر کی گئی) ہے۔‘‘

لہٰذا کسی بھی انسان کو ناحق قتل کرنا ، اس کا مال لوٹنا اور اس کی عزت پر حملہ کرنا یا اس کی تذلیل کرنا دوسروں پر حرام ہے۔ 

اسلام قومی اور بین الاقوامی معاملات میں امن ورواداری کا درس دیتا ہے۔ 

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کئی مواقع پر غیر مسلموں کے نمائندے آئے، لیکن آپ نے ہمیشہ ان سے خود بھی حسن سلوک فرمایا اور صحابہ کرام کو بھی یہی تعلیم دی، حتیٰ کہ نبوت کے جھوٹے دعویدار مسیلمہ کذاب کے نمائندے آئے جنہوں نے صریحاً اعتراف ارتداد کیا تھا لیکن آپ ان کے سفارتکار ہونے کے باعث ان سے حسن سلوک سے پیش آئے۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں:

انی کنت عند رسول اللہ ﷺ جالسا اذا دخل ھذا (عبداللہ بن نواحۃ) ورجل وافد ین من عند مسیلمۃ ۔ فقال لھما رسول اللہ ﷺ : اتشھدان انی رسول اللہ ؟ فقالا لہ: نشھد ان مسیلمۃ رسول اللہ ، فقال: امنت باللہ ورسلہ ، لوکنت قاتلا وفداً لقتلتکما (۹) 
’’میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا جب یہ شخص (عبداللہ بن نواحہ) اور ایک اور آدمی مسیلمہ (کذاب) کی طرف سے سفارت کاربن کرآئے تو انہیں حضور اکرم نے فرمایا: کیا تم دونوں اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں؟ انہوں نے( اپنے کفر و ارتداد پر اصرار کرتے ہوئے ) کہا : ہم گواہی دیتے ہیں کہ مسیلمہ (معاذ اللہ) اللہ کا رسول ہے ۔ حضورا کرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (کمال برداشت اور تحمل کی مثال قائم فرماتے ہوئے ارشاد)فرمایا: میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھتا ہوں۔ اگر میں سفارت کاروں کو قتل کرنے والا ہوتا تو تم دونوں کو قتل کردیتا ۔‘‘

غور کیجئے کہ بار گاہ رسالت مآب میں مسیلمہ کذاب کے پیرو کاروں کے اعلانیہ کفر و ارتداد کے باوجود تحمل سے کام لیا گیا، کسی قسم کی سزا نہیں دی گئی، نہ ہی انہیں قید کیا گیا اور نہ ہی انہیں قتل کرنے کا حکم فرمایا گیا۔ صرف اس لیے کہ وہ سفارت کار تھے۔ 

اسلام میں غیر مسلموں کے مذہبی رہنماؤں کے قتل کی بھی ممانعت کی گئی ہے۔ 

حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے مروی ایک روایت میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ بہت اہم ہیں جو کہ آپ لشکر روانہ کرتے وقت فرماتے تھے: 

"لا تغد روا ولا تغلوا، ولا تمثلوا ، ولا تقتلواالوالدان، ولا اصحاب الصوامع (۱۰) 
"غداری نہ کرنا، دھوکہ نہ دینا، نعشوں کی بے حرمتی نہ کرنا اور بچوں اورپادریوں کو قتل نہ کرنا"

اسلام نے دوسروں کا مال لوٹنا حرام قرار دیا ہے ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے: 

وَلاَ تَأْکُلُواْ أَمْوَالَکُم بَیْْنَکُم بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُواْ بِہَا إِلَی الْحُکَّامِ لِتَأْکُلُواْ فَرِیْقاً مِّنْ أَمْوَالِ النَّاسِ بِالإِثْمِ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ (۱۱) 
"اور تم ایک دوسرے کے مال آپس میں ناحق نہ کھایا کرو اور نہ مال کو (بطور رشوت) حاکموں تک پہنچایا کرو کہ یوں لوگوں کے مال کا کچھ حصّہ تم (بھی) ناجائز طریقے سے کھاسکو حالانکہ تمہارے علم میں ہو (کہ یہ گناہ ہے) "

حضور اکرم ﷺ نے بھی دوسروں کے مال کولوٹنا حرام قرار دیا ہے۔ 

فان دماء کم واموالکم علیکم حرام (۱۲) 
’’بے شک تمہارے خون اور تمہارے مال تم پر حرام ہیں۔‘‘

غیر مسلم شہریوں کی جانوں کی طرح ان کے اموال کی حفاظت بھی اسلامی ریاست پر لازم ہے۔ امام ابو یوسف(م:۱۸۲ھ) نے نجران کے عیسائیوں کے ساتھ حضور اکرم ﷺ کے معاہدے کی یہ شق نقل کی ہے: 

ولنجران و حاشیتھا جواراللہ و ذمۃ محمد النبی رسول اللہﷺ، علی اموالھم وانفسھم وارضھم و ملتھم، و غائبھم و شاھد ھم، وعشیر تھم و بیعھم، وکل ماتحت ایدیھم من قلیل او کثیر (۱۳)
"اللہ اور اللہ کے رسول محمد ﷺ اہل نجران اور ان کے حلیفوں کے لیے ان کے مالوں، ان کی جانوں ، ان کی زمینوں، ان کے دین، ان کے غیر موجود و موجود افراد، ان کے خاندان کے افراد ، ان کی عبادت گاہوں اور جو کچھ بھی ان کے ہاتھوں میں ہے، تھوڑا یا زیادہ، ہر شے کی حفاظت کے ضامن اور ذمہ دار ہیں"

اسلامی ریاست میں غیر مسلم شہریوں کے جان و مال کی حفاظت کا اس قدر اہتمام کیا گیا ہے کہ ان کے اموال کی حفاظت اتنی ہی ضروری ہے جتنی مسلمانوں کے اموال کی حتیٰ کہ اگر کوئی مسلمان ان کی شراب یا خنزیر کو تلف کردے تو اس پر جرمانہ لازم آئے گا۔ فقہ حنفی کی مشہور کتاب 'ردالمحتار'میں علامہ ابن عابدین شامی (م: ۱۲۵۲ھ) لکھتے ہیں :

فان اراقہ رجل اوقتل خنزیرہ ضمن (۱۴) 
پھر اگر کوئی شخص اس (زمی) کی شراب بہادے یا اس کا خنزیر قتل کردے تو وہ ضمان دے گا۔ 

امام ابن قدامہ حنبلی (م: ۶۲۰ھ) نے کہا ہے کہ غیر مسلم شہری کا مال چوری کرنے والے پر اسی طرح حد عائد ہوگی جس طرح مسلمان کا مال چوری کرنے والے پر ہوتی ہے ۔ان کے الفاظ اس طرح ہیں۔ 

ویقطع المسلم بسرقۃ مال المسلم والذمی (۱۵)

علامہ ابن حزم (م:۴۵۶ھ) بیان کرتے ہیں: 

ولم یات نھی قط عن قطع یدمن سرق مال کافر ذمی (۱۶)
"جس شخص نے کسی کافر ذمی کا مال چوری کیا اس کا ہاتھ کاٹنے کی نفی کہیں وارد نہیں ہوئی"

اسلام میں جیسے مسلمان کی عزت وآبرو کی تذلیل حرام ہے ویسے ہی غیر مسلم شہری کی عزت کو پامال کرنا بھی جائز نہیں ہے۔ 

ایک دفعہ گورنر مصر حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے بیٹے نے ایک غیر مسلم کو ناحق سزادی ۔ خلیفہ وقت حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس جب اس کی شکایت کی گئی تو انہوں نے سر عام گورنر مصر کے بیٹے کو اس غیر مسلم مصری سے سزا دلوائی اور یہ تاریخی جملہ ارشاد فرمایا: 

مذ کم تعبدتم الناس وقد ولد تھم امھاتھم احرار؟ (۱۷) 
"تم نے کب سے لوگوں کو اپنا غلام سمجھ لیا ہے حالانکہ ان کی ماؤں نے انہیں آزاد جنا تھا؟ "

آیات قرآنی، احادیث مبارکہ، صحابہ کرام اور فقہائے امت کے اقوال کی روشنی میں یہ واضح ہوتا ہے کہ کسی مسلمان کو یہ حق حاصل نہیں کہ کسی غیر مسلم شہری کو محض اس کے غیر مسلم ہونے کی بنا پر قتل کردے یا اس کا مال لوٹے یا اس کی عزت پا مال کرے یا اس کی عبادت گاہ کو نقصان پہنچائے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہاں تک فرمادیا کہ:

من قتل معاہداً فی غیر کنھہ حرم اللہ علیہ الجنۃ (۱۸)
’’جس نے معاہد کو بلاوجہ قتل کیا اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت حرام کردی۔‘‘

اسلام نے جہاں غیر مسلموں کی تکریم کا درس دیا ہے وہیں ایک مسلمان کی عزت، جان اور مال کا احترام کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مومن کی حرمت کو کعبے کی حرمت سے زیادہ محترم قرار دیا ہے۔ امام ابن ماجہ(م:۲۷۳ھ) سے مروی حدیث مبارکہ ملاحظہ ہو: 

حدثنا عبداللہ بن عمرو قال: رأیت رسول للہ صلی اللہ علیہ وسلم یطوف بالکعبۃ و یقول: مااطیبک واطیب ریحک، ما اعظمک واعظم حرمتک، والذی نفس محمد بیدہ، لحرمۃ المومن اعظم عنداللہ حرمۃ منک، مالہ ودمہ وان نظن بہ الا خیراً (۱۹)
’’حضرت عبداللہ بن عمرو نے ہم سے بیان کیاکہ انہوں نے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خانہ کعبہ کا طواف کرتے دیکھا اور یہ فرماتے سنا: (اے کعبہ) تو کتنا عمدہ ہے اور تیری خوشبو کتنی پیاری ہے تو کتنا عظیم المرتبت ہے او رتیری حرمت کتنی زیادہ ہے۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے ! مومن کے جان و مال کی حرمت اللہ کے نزدیک تیری حرمت سے زیادہ ہے۔ ہمیں مومن کے بارے میں نیک گمان ہی رکھنا چاہیے۔‘‘

مندرجہ بالا حدیث مبارکہ ایک مومن کے جان و مال کی قدرو قیمت کوواضح کررہی ہے۔ آتشیں اسلحہ سے لوگوں کو قتل کرنا تو بہت بڑا اقدام ہے ۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل اسلام کو اپنے مسلمان بھائی کی طرف اسلحہ سے محض اشارہ کرنے والے کو بھی ملعون و مردود قرار دیا ہے۔ آپ نے فرمایا: 

من اشار الی اخیہ بحدیدۃ فان الملا لکۃ تلعنہ حتی یدعہ، وان کان اخاہ لابیہ وامہ (۲۰)
"جو شخص اپنے بھائی کی طر ف ہتھیار سے اشارہ کرتا ہے فرشتے اس پر اس وقت تک لعنت کرتے ہیں جب تک وہ اس اشارہ کو ترک نہیں کرتا خواہ وہ اس کا حقیقی بھائی ( ہی کیوں نہ ) ہو"

زبان سے دوسرے مسلمانوں کو اذیت پہنچانے سے منع کیا گیا ہے۔ 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: 

وَلَا یَغْتَب بَّعْضُکُم بَعْضاً (۲۱)
’’اور تم میں سے ایک دوسرے کی غیبت نہ کرے۔‘‘

آنجناب صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 

المسلم من سلم المسلمون من لسانہ ویدہ (۲۲)
’’مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔‘‘

اگر مسلمانوں اور غیر مسلموں کی جنگ ہو رہی ہو اور دوران جنگ ایک غیر مسلم کلمہ پڑھ لے تو اسے قتل نہیں کیا جائے گا۔ مسلمانوں کو یہ بدگمانی کرنے کی اجازت نہیں ہے کہ اس کافر نے جان بچانے کے لیے کلمہ پڑھا ہے۔ 

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث مبارکہ ملاحظہ کریں جس میں حضرت اسامۃ بن زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

بعثنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الی الحرقۃ ، فصبحنا القوم فھزمنا ھم والحقت انا ورجل من الا نصار رجلا منھم، فلما غشینا ہ قال : لا الہ الا اللّٰہ، فکف الانصاری، فطعنتہ برمحی حتی قتلتہ، فلما قدمنا بلغ النبی صلی اللہ علیہ وسلم فقال : یا اسامۃ، اقتلتہ بعد ما قال: لا الہ الا اللّٰہ؟ قلت: کان متعوذاً، فما زال یکررھاحتی تمنیت انی لم اکن اسلمت قبل ذالک الیوم (۲۳) 
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جہاد کے لیے مقام حرقہ کی طرف روانہ کیا۔ ہم صبح وہا ں پہنچے اور( شدیدلڑائی کے بعد) انہیں شکست دے دی ۔میں نے اور ایک انصاری صحابی نے مل کراس قبیلہ کے ایک شخص کو گھیر لیا ،جب ہم اس پر غالب آگئے تو اس نے کہا: لاالہ الا اللّٰہ۔ انصاری تو( اس کی زبان سے کلمہ سن )کر الگ ہو گیا لیکن میں نے نیزہ ما رکر اسے ہلا ک کر ڈالا ۔جب ہم واپس آئے تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اس واقعہ کی خبر ہو چکی تھی۔ آپ نے فر مایا : اے اسامہ: تم نے اسے کلمہ پڑ ھنے کے با و جو د قتل کیا ؟میں نے عر ض کیا :اس نے جا ن بچانے کے لیے کلمہ پڑ ھا تھا ۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم با ر بار یہ کلمات دہرا رہے تھے اور میں افسو س کر رہا تھا کہ کا ش آج سے پہلے میں اسلام نہ لایا ہو تا۔‘‘

پر امن شہر یو ں اور بے گناہ مسلما نو ں کا قتل عام کرنے والے مسلمانوں کو اس فرمان ر سول پر ضرور غورکر نا چاہیے کہ جب حالت جنگ میں مو ت کے ڈر سے کلمہ پڑھے والے دشمن کو بھی اما ن حاصل ہے تو کلمہ گو بے گناہ مسلما نو ں کو قتل کر نا کتنا بڑا جرم ہو گا؟ 

جو لو گ مسلمانوں کے قتل میں کسی بھی قسم کی معاونت کر تے ہیں، ان کے بارے میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا :

من اعان علی قتل مو من بشطر کلمۃ ، لقی اللہ عزوجل ، مکتو ب بین عینیہ:آیس من رحمۃ اللہ (۲۴)
’’جس شخص نے چند کلما ت کے ذریعے بھی کسی مو من کے قتل میں کسی کی مدد کی تو وہ اللہ تعالی سے اس حال میں ملے گا کہ اس کی آنکھو ں کے در میان پیشانی پر لکھاہو گا:آیس من رحمۃ اللہ (اللہ تعالی کی رحمت سے ما یو س شخص)۔‘‘

محولہ بالاحقائق اس حقیقت کو واضح کر رہے ہیں کہ اسلام میں انسانی جا ن ،مال اور عزت کو بے حد احترام دیا گیا ہے۔ خواہ یہ جان ، مال اور عزت مسلما نوں کی ہو خواہ غیر مسلم کی ۔یہ بد قسمتی ہے کہ امت مسلمہ اسلام کی اصل تعلیما ت سے دور ہو تی جا رہی ہے ۔دہشت گر دی ، قتل و غار ت اور عدم بر داشت کے جذبات پر وان چڑ ھ رہے ہیں ۔جن کی وجہ سے عالمی دنیا میں مسلمانو ں کاوقاررو ز بروز گر تا جا رہا ہے ۔اگر امت مسلمہ اپنا کھویا ہوا مقام پھر سے حاصل کر نا چاہتی ہے تو اسے انسانی جا ن ، مال اور عزت کا احترام کر نا ہو گا۔نیزدرج ذیل امور کی طرف توجہ دینا ہوگی۔ 

۱۔ اسلام ہماری شناخت اور تشخص ہے۔ ہمیں یہ بات دنیا کو بتاتے ہوئے گھبرانا نہیں چاہیے بلکہ دنیا کودو ٹوک انداز میں بتانا ہوگا کہ ہم اول و آخر اپنے رب کے مطیع ہیں۔ احساس کمتری کوختم کرنا ہوگا۔ 

۲۔ تعلیم اور تحقیق کے میدا ن میں امت مسلمہ زوال کا شکار ہے۔روزنامہ جنگ ، لاہور کی ۲۴اپریل ۲۰۱۲ء کی درج ذیل رپورٹ ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے: 

’’برطانیہ و امریکہ کی درسگاہیں 10بہترین جامعات قرار پائیں جبکہ ان میں کوئی مسلم ملک شامل نہیں۔ کیمبرج معمولی فرق سے پہلی معیاری یونیورسٹی قرار پائی۔ ہارورڈ کا دوسرا نمبر ہے۔ ۴۰۰ بہترین جامعات میں پاکستان کا کوئی ادارہ شامل نہیں۔ اسلامی ملکوں میں ۵۸۰ اور صرف بھارت میں ۵۸۳ یونیورسٹیاں ہیں۔ ایشیا میں چین ، کوریا، بھارت جامعات پر سب سے زیادہ سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ امریکی جریدے ’’یوایس نیوز اینڈ ورلڈ رپورٹ‘‘ نے یہ درجہ بندی تعلیم اور کیرئیر پر تحقیق کرنے والے بین الاقوامی ادارے کوئیک کیورلی سیمونٹنگ سے کرائی ہے۔‘‘ (۲۵) 

حصول ترقی کے لیے ضروری ہے کہ مسلمانوں میں رائج نظام تعلیم میں مثبت تبدیلیاں لائی جائیں تاکہ اسلامی معاشرے میں اعلیٰ جدید تعلیم یافتہ ماہرین تیار ہوں جو نئی ایجادات کی قدرت رکھتے ہوں۔ 

۳۔ اسلامی دنیا وسائل سے مالا مال ہے۔ یہ خزانے امت کے میدانوں اور پہاڑوں میں، اس کی وادیوں اور صحراؤں میں، اس کے سمندروں اور دریاؤں میں بکھرے پڑے ہیں۔ ہماری جغرافیائی اہمیت بھی اپنی جگہ مسلمہ ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ وسائل کو بہتر طریقے سے استعمال میں لایا جائے۔ 

۴۔ ترقی کے حصول کے لیے معاشرتی ظلم و زیادتیوں کو ختم کرنا ہوگا۔ 

۵۔ خواتین کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے انہیں صحیح مقام و مرتبہ دیا جائے۔ خواتین کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ خواتین معاشرے کا عدد ی لحاظ سے نصف حصہ ہیں۔ گھر اور معاشرے پر ان کے براہ راست مثبت یا منفی ہر دو طرح سے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ مسلمان مردوں کے لیے ضروری ہے کہ خواتین کے ساتھ ان کے اولین فریضے کی ادائیگی میں معاونت کریں جو گھر کی نگہداشت ، خاوند کا خیال او رنسل انسانی کی تربیت کرنے کے اعلیٰ اعمال پر مشتمل ہے۔ اس میں دو رائے نہیں (جنہوں نے تجربات کرنے تھے ، کرلیے پھر بھی یہی نتیجہ نکلا) کہ خواتین سے یہ مقام کوئی اور نہیں لے سکتا اور نہ ہی اسے درست انداز سے ادا ہی کرسکتا ہے۔ لہٰذا خواتین کے ساتھ بھر پور تعاون کیا جانا چاہیے تاکہ وہ اچھی بیوی، بہترین ماں اور مفید شہری ثابت ہو سکیں۔ 

ہمیں ضرورت و مجبوری میں ان کے کام کرنے کے حق کو بھی تسلیم کرنا چاہیے ۔ اگر خود انہیں یا ان کے افراد خاندان کو ان کی معاونت کی ضرورت ہو تو وہ باہر جا کر کام کرسکتی ہیں جیسے کہ حضرت شعیب علیہ اسلام کے واقعے سے راہنمائی ملتی ہے جب کہ وہ بوڑھے تھے اور ان کی بیٹیاں بکریوں کو پانی پلانے کے لیے لے جاتی تھیں۔ علاوہ ازیں اگر معاشرے کو ان کے کام کی ضرورت ہوجیسے کہ عورتوں کا بچیوں کو تعلیم دینا ، عورتوں کا عورتوں کے علاج کے لیے تربیت لینا وغیرہ جیسے امور تو ان میں خواتین کو کام کرنے کا موقع ملنا چاہیے ۔ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ اگر خواتین کو درست مقام حاصل ہوگا تو خاندان خوش وخرم رہے گا اور زندگی پر سکون بسر ہوگی۔ 

۶۔ اتفاق و اتحاد کو فروغ دینا ہوگا۔کٹی پھٹی اور بکھری امت کا کوئی مستقبل نہیں۔ کبھی یہ ایک تھی ، اب مختلف اقوام کا مجموعہ بن چکی ہے جو الگ الگ گروہوں کی شکل اختیار کرچکے ہیں۔ یہ گروہ محض متفرق مجموعہ ہی نہیں ہیں بلکہ بار بار عملاً ایک دوسرے سے دست و گریبان ہو جاتے ہیں اور اس طرح خود ہی ایک دوسرے کے غیظ و غضب کاشکار ہوتے رہتے ہیں۔جبکہ موجودہ دور میں مختلف الخیال اقوام پرانے اختلافات ، نسلی امتیازات، مذہبی لڑائیاں اور علاقائی جھگڑے کم سے کم کرنے پر کمربستہ ہیں۔ ہم اس وقت تک عالمی سازشوں کا مقابلہ نہیں کرسکتے جب تک اتفاق اور اتحاد کو فروغ نہ دیں۔ 

مندرجہ بالا نکات کو پیش نظر رکھ کر ہم بحیثیت امت ترقی کرسکتے ہیں ہم مادی، روحانی، تہذیبی، بشری ہر نوع کے خزانوں سے مالا مال ہیں۔ عین ممکن ہے کہ اکیسویں صدی میں ہم اپنی عظمت رفتہ کو پا کر پھر شوکت و رفعت کو بحال کرسکیں۔ دنیا کو اسلام کی طرف راغب کرنے کا سب سے بہتر راستہ یہ ہے کہ ہم اسلام پر عمل کرنے والے بن جائیں۔ جہاں تک غیروں کی سازشوں کا تعلق ہے تو ہمارے لیے قرآن رہنمائی کررہا ہے:

ادْعُ إِلِی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَجَادِلْہُم بِالَّتِیْ ہِیَ أَحْسَنُ (۲۶)
’’پکارو اپنے رب کے راستے کی طر ف حکمت کے ساتھ اور موعظہ حسنہ کے ساتھ اور ان (کج بحثوں) سے مجادلہ کرو اس طور پر جو بہت عمدہ ہو۔‘‘

اسلامی ملکوں کے سربراہان اور عوام کے لیے ضروری ہے کہ قول و فعل کے تضاد سے اپنے آپ کو بچائیں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کو دھوکہ نہیں دیا۔ آپ نے زیر زمین کار روائیوں سے ہمیشہ اجتناب کیا اور وعدوں کو ایفا کرنے کا درس دیا۔ دنیا کی قیادت انہی کو ملتی ہے جو کردار اور علم و تحقیق میں نمونہ بنتے ہیں۔ ہمیں سورۃ الا حزاب کی اس آیت پر عمل کرنا چاہیے:

لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُولِ اللَّہِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ (۲۷)
"یقیناًتمہارے لیے رسول اللہ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔‘‘


حوالہ جات 

1- www.worldometers.info/world-population
2- Muslimpopulation.com/world

۳۔ اٰل عمران ،۳/۱۱۰

۴۔ الترمذی ، ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ (م: ۲۷۹ھ)، جامع الترمذی، ابواب الامثال عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ،باب ماجا ء (فی)مثل ابن آدم واجلہ وأملہ، حدیث نمبر۲۸۷۴،ص:۶۴۶، دارالسلام للنشر والتوزیع، الریاض ، ۱۴۲۰ھ

۵۔ المائدۃ ،۵/۳

۶۔ المائدۃ ، ۵/۳۲

۷۔ مودودی، سیدابو الا علی (م:۱۹۷۹ء)، تفہیم القرآن، ج:۱، ص: ۴۶۴،ادارہ ترجمان القرآن، لاہور، ۱۹۹۱ ء

۸۔ بخاری ، محمد بن اسماعیل (م:۲۵۶ھ)، الجامع الصحیح ، کتاب الحج ، باب الخطبۃ ایام منیٰ، حدیث نمبر۱۷۳۹، ص:۲۸۰،دارالسلام للنشر والتوزیع، الریاض،۱۴۱۹ھ

۹۔ الدارمی،ابو محمد عبداللہ بن عبدالرحمن(م:۲۵۵ھ)،سنن الدارمی ، باب فنی النھی عن قتل الرسل، ج:۲،حدیث نمبر ۲۵۰۳،ص:۳۰۷، دارالکتاب العربی ، بیر وت ، ۱۴۱۷ھ

۱۰۔ احمدبن حنبل(م:۲۴۱ھ)،المسند،ج:۱،حدیث نمبر ۲۷۳۱،ص:۳۹۱،نشرالسنۃ،ملتان،۱۴۲۱ھ

۱۱۔ البقرۃ ،۲/۱۸۸

۱۲۔ بخاری ، محمد بن اسماعیل (م:۲۵۶ھ)، الجامع الصحیح ،کتاب الحج،باب الخطبۃ ایام منیٰ ، حدیث نمبر ۱۷۴۱،ص:۲۸۱،داراالسلام للنشر والتوز یع،الریا ض ،۱۴۱۹ھ

۱۳۔ ابو یو سف ،یعقوب بن ابراہیم (م:۱۸۲)، کتاب الخراج،ص:۷۲،دارالمعرفۃ للبطاعۃ والنشر ، بیروت، لبنان ،سن ندارد

۱۴۔ ابن عابدین شامی،محمد بن امین(م:۱۲۵۲ھ)،ردالمحتار علی الدرالمختار شر ح تنویرالابصار،کتاب الغصب، المجلدالتاسع،ص:۳۰۴،دارالکتب العلمیہ، بیروت ،لبنان،۱۴۲۴ھ

۱۵۔ ابن قدامۃ ،ابو محمد عبداللہ بن احمد بن محمد (م:۶۲۰ھ)،المغنی،کتاب الحدود، باب القطع فی السر قۃ ، الجز ء الثانی عشر، ص : ۳۱۵، دارالحدیث ، القاھرۃ،۱۴۲۵ھ

۱۶۔ ابن حزم ، ابو محمد علی بن احمد بن سعید (م : ۴۵۶ھ)،المحلّٰی شر ح المجلّٰی ، ج:۱۳،ص:۱۷۷،داراحیا التراث العربی،بیروت،لبنان،۱۴۱۸ھ۔

۱۷۔ الہندی،علاء الدین علی المتقی بن حسام الدین (م:۹۷۵ھ)،کتاب الفضائل/فضائل الصحابہ،الجز الثانی عشر، حدیث نمبر۳۶۰۰۵، ص:۲۹۴،دارالکتب العلمیۃ،بیروت،لبنان،۱۴۲۴ھ

۱۸۔ الدارمی،ابو محمد عبداللہ بن عبدالرحمن(م:۲۵۵ھ)،سنن الدارمی ،باب فی النھی عن قتل المعاھد ،ج:۲، حدیث نمبر۲۴۰۹، ص:۶۸۵، دارالقلم ، دمشق، ۱۴۱۷ھ

۱۹۔ ابن ماجہ، ابو عبداللہ محمد بن یذید (م:۲۷۳ھ)،السنن، ابواب الفتن، باب حرمۃ دم المو من ومالہ ، حدیث نمبر۳۹۳۲،ص،۵۶۴، دارالسلام للنشر و التوزیع ، الریاض ، ۱۴۲۰ھ

۲۰۔ مسلم بن حجاج (م:۲۶۱ھ)، جامع الصحیح، کتاب البروالصلۃ والآداب ، باب النھی عن اشارۃ بالسلاح الی مسلم ، حدیث نمبر۶۶۶۶، ص:۱۱۴۲ ، دارالسلام للنشر والتوزیع، الریاض، ۱۴۱۹ھ 

۲۱۔ الحجرات، ۴۹/۱۲

۲۲۔ بخاری ، محمد بن اسماعیل (م:۲۵۶ھ)، الجامع الصحیح ، کتاب الایمان ، باب المسلم من سلم المسلمون من لسانہ ویدہ، حدیث نمبر۱۰ ، ص: ۵،دارالسلام للنشر والتوزیع، الریاض ، ۱۴۱۹ھ 

۲۳۔ ایضاً، کتاب المغازی، باب بعث النبی صلی اللہ علیہ وسلم اسامۃ بن زید الی الحرقات من جھینۃ، حدیث نمبر۴۲۶۹، ص: ۷۲۲، دارالسلام للنشر والتوزیع، الریاض ، ۱۴۱۹ھ 

۲۴۔ ابن ماجہ، ابو عبداللہ محمد بن یذید (م:۲۷۳ھ)،السنن، ابواب الدیات، باب التغلیظ فی قتل مسلم ظلماً ، حدیث نمبر۲۶۲۰، ص: ۳۷۶ ، دارالسلام للنشر و التوزیع، الریاض، ۱۴۲۰ھ

۲۵۔ روزنامہ جنگ ،لاہور ، ۲۴ اپریل، ۲۰۱۲ء، ص:۱۲

۲۶۔ ا لنحل ، ۱۶/ ۱۲۵

۲۷۔ الاحزاب ، ۳۳/۲۱

دین اور معاشرہ

نومبر ۲۰۱۲ء

جلد ۲۳ ۔ شمارہ ۱۱

عمل تدریس میں استاد کا کردار
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ملالہ یوسف زئی پر حملہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

اے عاشقانِ رسول، تم پر سلام !
مولانا عتیق الرحمن سنبھلی

احترام انسانیت اور امت مسلمہ کے لیے راہ عمل
غلام حیدر

خاطرات
محمد عمار خان ناصر

جماعت اسلامی کا داخلی نظم سید وصی مظہر ندویؒ کی نظر میں (۲)
چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ

اسلام کی نئی تعریف؟
محمد دین جوہر

مولانا سعید احمد رائے پوریؒ / مولانا مفتی محمد اویسؒ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

برطانیہ میں طب اسلامی کا تذکرہ
حکیم محمد عمران مغل