برطانیہ میں طب اسلامی کا تذکرہ

حکیم محمد عمران مغل

ایک پاکستانی نژاد مذہبی گھرانہ کافی عرصے سے لندن میں دائمی حقوق کے ساتھ آرام وسکون کی زندگی گزار رہا ہے۔ یہ گھرانہ جس کے سربراہ ظفر احمد انصاری صاحب ہیں، میرپور آزاد کشمیر سے اٹھ کر برطانیہ کے پر رونق شہر برمنگھم میں جا بسا ہے۔ ایک دن رات کے سناٹے میں میرے موبائل پر ان کافون آیا۔ فرمانے لگے کہ ماہنامہ الشریعہ دیکھا ہے اور برطانیہ سے آپ سے مخاطب ہوں۔ آپ کے ’‘امراض وعلاج‘‘ کے کالم سے یہاں کے لوگ خوب خوب فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ میرے خاندان میں بھی امراض معدہ اور خونی امراض کی کثرت ہے۔ میں نے کہا کہ اپنے کسی ایسے رشتہ دار کو میرے پاس بھیجیں جو آپ کے خاندان کا مکمل تجزیہ کر سکے۔ کہنے لگے کہ میرا چھوٹا بھائی چھٹیاں گزارنے کے لیے پاکستان آیا ہوا ہے، وہ آپ کے پاس آ جائے گا۔

کچھ دنوں کے بعد ان کے بھائی آئے اور میں نے ان سے معلومات لیں اور چھان پھٹک کر تسلی کر لی۔ ان کے ہاتھ ظفر احمد صاحب کے ایک ماہ کی دوا برطانیہ بھیج دی گئی۔ میں نے ان سے کہہ دیا تھا کہ اس کے علاوہ کسی علاج کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ غالباً اڑھائی تین ماہ کے بعد رات کے سناٹے میں انھوں نے دوبارہ موبائل پر رابطہ کیا اور اطلاع دی کہ اللہ تعالیٰ نے بہت کم عرصے میں مجھے شفا سے ہم کنار کر دیا ہے۔ ساتھ ہی حیرانی سے استفسار کرنے لگے کہ مجھے بیماری کچھ اور تھی، لیکن آپ نے دوا کچھ اور بھیج دی۔ میں نے جواباً کہا کہ اسی لیے تو چند دنوں میں کئی سال کی تکالیف ختم ہو گئی ہیں۔ الحمد للہ میں نے ٹامک ٹوئیاں مارنے اور ٹوٹکے سیکھنے کے بجائے طب کا فن سیکھنے میں عمر گزاری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میری بھیجی ہوئی دوا سے نہ صرف معدہ اور خون کے امراض ختم ہو گئے، بلکہ موٹاپا، چربی کی زیادتی، چھپاکی، خارش، بواسیر، بد ہضمی کو بھی بیخ وبن سے اکھاڑ دیا گیا۔

اصل میں معدہ کے امراض کا علاج کرتے ہوئے کئی دوسرے عوامل کو بھی دیکھنا پڑتا ہے۔ میں نے انھیں رسوت، ریٹھے اور کٹھ غولیائی دھرکونے، عشبہ وغیرہ کا نسخہ بنا کر دیا تھا جو اندھیرے میں بھی تیر بہدف ثابت ہوا۔ ظفر احمد صاحب کے علاج سے مجھے خوشی ہے کہ بحر الکاہل میں کسی کو بحر ہند کے پانی کی ضرورت پیش آئی۔

امراض و علاج

(نومبر ۲۰۱۲ء)

Flag Counter