مئی ۲۰۱۲ء

میثاقِ امن

― ادارہ

امن آج پاکستان کی سب سے اہم ضرورت ہے۔ امن کے بغیر معاشی خوش حالی ممکن ہے نہ سماجی ترقی۔ لہٰذا امن کو پہلی ترجیح بنائے بغیر اس بات کا کوئی امکان نہیں کہ معاشی ترقی کا کوئی منصوبہ نتیجہ خیز ہو یا سماجی اصلاح کا کوئی ہدف قابل حصول ہو۔امن کے لیے جہاں حکومت و ریاست کی سطح پر بعض اقدامات لازم ہیں وہاں اس بات کی بھی اشد ضرورت ہے کہ معاشرتی سطح پر تبدیلی کی ایک مہم اُٹھائی جائے جو عدم تشدد، رواداری، بردباری اور مکالمے کے کلچر کو عام کرنے کا سبب بنے۔ اس کے لیے لازم ہے کہ سول سوسائٹی کے تمام ادارے اور شعبے قیامِ امن کے لیے یکسو ہوں اور اپنا کردار کریں۔امن...

مولانا قاضی حمیداللہ خان بھی رخصت ہوگئے

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مولانا قاضی حمیداللہ خانؒ کو آج (۱۹؍ اپریل، جمعرات کی) صبح شیرانوالہ باغ گوجرانوالہ میں نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد ان کے آبائی وطن چارسدہ کے لیے رخصت کیا تو کم وبیش گزشتہ نصف صدی کی تاریخ نگاہوں کے سامنے گھومنے لگی۔ قاضی صاحب شوگر کے مریض خاصے عرصے سے تھے۔ کچھ دنوں سے گردوں کا عارضہ بھی ہوگیا اور وہ گردوں کی مشینی صفائی کے مرحلہ سے گزار رہے تھے جس کے بعد جگر نے بھی متاثر ہونا شرو ع کردیا اور آج وہ ان تمام مراحل سے گزرکر اپنے خالق ومالک کے حضور پیش ہونے جارہے ہیں ۔ ان للہ مااخذ ولہ مااعطی ولکل شئی عندہ اجل مسمّیٰ، انا للہ واناالیہ...

ہندوستان کی روایتی اسلامی فکر میں تاریخ اور قانونی معیاریت (۱)

― ڈاکٹر ابراہیم موسٰی

’’ایک زمانہ وہ تھا جب ہم یہ کہہ سکتے تھے کہ ہم کون ہیں؟ لیکن اب ہم صرف ایک ایسے اداکار کی طرح ہیں جو صرف اپنے حصے کا مکالمہ دہرا دیتا ہے۔‘‘ (John M. Coetzee, Elizabeth Costello)۔ ’’ ماضی بعید ان چیزوں میں سے ہے جو جہالت کو ثروت مند بنا سکتی ہے ۔ یہ مستقبل کے مقابلے میں اپنے اندر بے انتہا لچک رکھنے والی ہے او ر بہت زیادہ اہم ہے ۔ اس کے لیے ہمیں کم سے کم کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔یہی وہ معروف موسم ہے جسے تمام اساطیر کا تحفظ حاصل ہے۔‘‘ (Jorge Luis Borges,"I, a Jew": Selected New Fictions)۔ تعارف۔ کم و بیش دو صدیوں سے مسلم مفکرین اجتہاد کے نظریے کی وکالت و اشاعت کرتے رہے ہیں۔ (۱)اجتہاد کی...

استاذ گرامی حضرت مولانا قاضی حمید اللہ خانؒ / مرزا غلام احمد کے دعاوی اور قادیانیوں کی تکفیر

― محمد عمار خان ناصر

(’’خاطرات‘‘ کے عنوان سے ایک سلسلہ شذرات کا آغاز کافی عرصے سے ذہن میں تھا جس میں مختلف علمی، فکری، فقہی، معاشرتی وتہذیبی اور مشاہداتی موضوعات کے حوالے سے، جو راقم الحروف کے زیر غور رہتے ہیں، اپنے طالب علمانہ نتائج فکر کو مختصر تحریروں کی صورت میں قارئین کے سامنے پیش کرنا مقصود ہے۔ زیر نظر شمارے سے اس سلسلے کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ کوشش کی جائے گی کہ اس عنوان سے کچھ نہ کچھ معروضات تسلسل کے ساتھ پیش کی جاتی رہیں۔ واللہ الموفق۔ عمار ناصر)۔ استاذ گرامی حضرت مولانا قاضی حمید اللہ خانؒ۔ مولانا قاضی حمید اللہ خانؒ کم وبیش نصف صدی تک درس وتدریس اور...

مولوی انتقام لیتا رہے گا

― نجم ولی خان

شاد باغ میں ایک قاری نے بارہ سالہ بچے کو اتنا مارا کہ وہ مر ہی گیا اور یہ ایک ہی جگہ ہونے والا ایک ہی واقعہ نہیں‘ ہمارے بہت سارے ’’عالم دین‘‘ اس کے لیے بدنام ہیں اور اس بدنامی کو بڑھانے میں ہمارے ہی معاشرے کے دین سے بے زار طبقے نے بھی بڑا کردار ادا کیا ہے۔ مگر کبھی یہ جاننے کی کوشش نہیں کی گئی کہ وہ ’’مولوی‘‘ جسے معاشرے میں عزت‘ وقار کا حامل ہی نہیں، اعلیٰ اخلاقی اقدار کا علم بردار بھی ہونا چاہیے، اس کا یہ رویہ کیوں ہے؟ وہ اپنے مدرسوں میں بچوں کو زنجیروں سے باندھ کر کیوں رکھتا ہے؟ جب وہ سبق پڑھا رہا ہوتا ہے تو اس کے پاس ایک موٹا ڈنڈا کیوں...

وہ کام جو اقبال ادھورے چھوڑ گئے

― ڈاکٹر جاوید اقبال

(یہ مقالہ اقبال اکادمی لاہور اور یونیورسٹی آف گجرات کے زیر انتظام ۱۵؍ نومبر ۲۰۱۱ء کو ’’ریاست وحکومت: اقبال اور عصری مسائل‘‘ کے عنوان پر یونیورسٹی آف گجرات میں منعقدہ سیمینار کے لیے لکھا گیا تھا۔ ڈاکٹر صاحب کی خواہش پر اسے عمومی مباحثہ کے لیے ’الشریعہ‘ کے صفحات میں شائع کیا جا رہا ہے۔ مدیر)۔ بعض اہم موضوعات پر علامہ اقبال نے شعر یا نثر میں کچھ نہ کچھ تحریر کرنے کے منصوبے تو بنائے مگر زندگی نے وفا نہ کی، اس لیے اُن کی تکمیل نہ ہو سکی۔ مثلاً مہاراجہ کشن پرشاد کو خط میں ’’بھگوت گیتا‘‘ کا اردو اشعار میں ترجمہ کرنے کے ارادے کا ذکر کرتے ہیں۔صوفی...

شیخ ایمن الظواہری پر حافظ عمار ناصر کی تنقید کا محاکمہ

― محمد عادل فاروقی

الشریعہ کی اشاعت خاص (جہاد: کلاسیکی اور عصری تناظر میں) میں حافظ عمار ناصر کا مضمون پڑھنے کے بعد قلب و ذہن کی عجیب کیفیت ہے کہ خیر القرون کے ایک تابعیؒ اور شر قروں کی طرف محو سفر زمانے کی ایک کافرہ نے بیک وقت فکر و خیال کو اپنے گھیرے میں لے لیا ہے۔ اہل علم کے بقول پیغمبرانہ اسلوب بیان رکھنے والے مشہور تابعی بزرگ شیخ حسن بصریؒ نے ایک بار فرمایا: ’’ ما لی اریٰ رجالا و لا اریٰ عقولا‘‘ (الحسن البصری، ابن جوزی ،ص ۶۹) کیا معاملہ ہے کہ مجھے آدمی تو نظر آتے ہیں مگر عقلیں نایاب ہیں۔یاد رہے کہ شیخ ؒ یہ سب کچھ خیر القرون ہی میں فرما رہے ہیں اور وہ زمانہ عہد...

’’عافیہ‘‘ ۔ ایک تنقیدی جائزہ

― محمد رشید

عالم اسلام کی بیٹی۔۔۔عافیہ صدیقی کی مظلومیت، بے بسی،لاچاری اور اذیت ناک قید پر جتنا بھی دکھ اور افسوس کیاجائے، کم ہے۔ عافیہ کے ساتھ انسانیت سوز سلوک انسانی سماج اورتہذیب کے منہ پر ابلیس کا ایک زوردار تھپڑ ہے۔ یہ اکیسویں صدی کے بھیانک ترین انسانی المیوں میں سے ایک ہے۔ پاکستانی قوم کی ایک نہایت ذہین اور اعلیٰ تعلیم یافتہ حافظ قرآن بیٹی کے ساتھ امریکہ کے وحشیانہ اور حیوانی سلوک کا اصل محرک کون سی بات بنی؟ عافیہ صدیقی کی زندگی، نظریات اورموومنٹ کی تفصیلات کیا رہی ہیں؟ یہ اور اس قسم کے دوسرے سوالات ہر اس پڑھے لکھے انسان کے ذہن میں اٹھتے ہیں...

سیمینار: ’’ائمہ و خطبا کی مشکلات، مسائل اور ذمہ داریاں‘‘ (۱)

― ادارہ

ڈاکٹر حافظ سمیع اللہ فراز۔ نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم اما بعد۔ محترم علماء کرام اورحاضرین محترم! الشریعہ اکیڈمی اپنی روایات کو برقراررکھتے ہوئے اس اہم ترین مذہبی اورمعاشرتی مسئلہ پر سیمینار منعقد کرانے پرمبارکباد کی مستحق ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے منتظمین کو اور معاونین کو اجرعظیم سے نوازے۔ مجھ سے ایک ہفتہ قبل میرے بھائی محترم عمار خان ناصر نے ارشاد فرمایا کہ آپ جس جگہ پرخطابت کی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں،وہ سوسائٹی اوروہ علاقہ باقی علاقوں سے کئی لحاظ سے منفرد ہے۔ لامحالہ وہاں کے مذہبی مسائل یاوہاں کی مساجد کا ماحول،اس کا جو آپ تجربہ...

ایک فالج زدہ نو مسلم کا واقعہ

― حکیم محمد عمران مغل

لاہور میں بھاٹی چوک انتہائی پر رونق اور تاریخی جگہ ہے جہاں دلچسپ واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔ سامنے ہی حضرت علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ کا مرقد ہے جہاں فاتحہ خوانی کے لیے ہر وقت عوام وخواص کا جمگھٹا لگا رہتا ہے۔ سفید پوش، درویش اور بد اندیش ہر ایک نے یہاں اپنی حاضری لگانی ہوتی ہے۔ ایک دن میں جونہی بھاٹی چوک کے وسط میں پہنچا تو بیچ چوراہے کے ایک نوجوان نے مجھے روک لیا جیسے وہ برسوں سے مجھے جانتا ہو۔ کہنے لگا کہ یہ عورت میری بیوی ہے جس کے سہارے میں چل پھر رہا ہوں۔ اس کی حالت بتا رہی تھی کہ اس پر فالج کا دردناک حملہ ہو چکا ہے۔ بتانے لگاکہ میں ایک عرصہ...

تلاش

Flag Counter