میثاقِ امن

ادارہ

(۲۶ مارچ ۲۰۱۲ء کو اسلام آباد میں ORE (ادارۂ تعلیم و تحقیق Organization for Research and Education) کے اہتمام میں ’’اور ڈائیلاگ فورم‘‘ کا ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں ممتاز علمی، مذہبی، فکری اور سماجی شخصیات نے شرکت کی۔ فورم نے اپنے اجلاس میں متفقہ طور پر ایک ’’میثاقِ امن‘‘کی منظوری دی جسے اس کی عمومی افادیت کے پیش نظر یہاں شائع کیا جا رہا ہے۔ ادارہ)


امن آج پاکستان کی سب سے اہم ضرورت ہے۔ امن کے بغیر معاشی خوش حالی ممکن ہے نہ سماجی ترقی۔ لہٰذا امن کو پہلی ترجیح بنائے بغیر اس بات کا کوئی امکان نہیں کہ معاشی ترقی کا کوئی منصوبہ نتیجہ خیز ہو یا سماجی اصلاح کا کوئی ہدف قابل حصول ہو۔امن کے لیے جہاں حکومت و ریاست کی سطح پر بعض اقدامات لازم ہیں وہاں اس بات کی بھی اشد ضرورت ہے کہ معاشرتی سطح پر تبدیلی کی ایک مہم اُٹھائی جائے جو عدم تشدد، رواداری، بردباری اور مکالمے کے کلچر کو عام کرنے کا سبب بنے۔ اس کے لیے لازم ہے کہ سول سوسائٹی کے تمام ادارے اور شعبے قیامِ امن کے لیے یکسو ہوں اور اپنا کردار کریں۔امن کے لیے معاشرتی وسماجی انصاف ضروری ہے۔ اس کے بغیر امن ممکن نہیں، اس لیے تمام طبقات سماجی انصاف کا ماحول پیداکرنے کے لیے جدوجہد کریں اور خلافت راشدہ کو اس سلسلے میں بنیاد بنایا جائے۔

’’اور ڈائیلاگ فورم‘‘ جو معاشرے کے مختلف طبقات کی نمائندہ شخصیات پر مشتمل ہے، اس مقصد کے لیے درج ذیل اقدامات تجویز کرتا ہے جن کے مخاطب تمام معاشرتی گروہ ہیں۔

اہلِ سیاست

۱۔ سیاسی جماعتیں ایک روادار معاشرے کے قیام کو اپنے منشور کا حصہ بنائیں۔

۲۔ وہ حکومت میں ہوں یا حزبِ اختلاف میں، ایک ایسے کلچر کے فروغ کے لیے کام کریں جو مکالمے، برداشت اور بردباری کی بنیادوں پر کھڑا ہو۔

۳۔ ٹی وی ٹاک شوز، اخباری بیانات اور جلسہ ہائے عام میں ایسے لہجے اور اسلوبِ کلام سے گریز کریں جو ایک روادار اور جمہوری معاشرتی اقدار سے متصادم ہو۔

۴۔ اختلاف کو شخصی کے بجائے نظری اور سیاسی مباحث تک محدود رکھیں۔

۵۔ سماجی سطح پر اپنے کارکنوں کو رواداری اور مختلف سیاسی گروہوں کے ساتھ میل جول کی تلقین کریں۔

۶۔ ایسا سیاسی نظام بنائیں جس میں مذکورہ بالا اصولوں کی روشنی میں کارکنوں کی سیاسی تربیت کی جائے۔

۷۔ سیاسی راہ نماؤں اور کارکنوں میں سیرت نبوی، خلافت راشدہ اور دیگر اسلامی واخلاقی تعلیمات کی روشنی میں اسلامی وفلاحی ریاست وحکومت کا شعوراجاگرکیا جائے اور فکری تربیت کا ماحول پیدا کیا جائے جو کہ ایک آئینی ضرورت ہے۔

۸۔ ریاستی اداروں اور ملک میں قانون پر عمل درآ مد کے لیے جد وجہد کی جائے گی۔

میڈیا

۱۔ ایسے بیانات، مضامین اور کالموں کی اشاعت سے گریز کیا جائے، جن سے مقصود دوسروں کی پگڑی اچھالنا ہو۔

۲۔ تحریروں کے قابلِ اشاعت ہونے کے لیے شائستگی و استدلال کو بنیادی لوازم قرار دیا جائے۔

۳۔ کسی خبر کو برائے اشاعت قرار دینے کے لیے ضروری قرار دیا جائے کہ اس کا مواد رواداری و باہمی احترام کی مسلمہ تعبیرات سے متصادم نہ ہو۔ نیز قومی ومعاشرتی افادیت یا نقصان کو بھی ترجیح کی وجوہ میں شامل کیا جائے اور اس کے لیے ضابطہ اخلاق طے کیا جائے۔

۴۔ ٹی وی ٹاک شوز میں صحت مندانہ تنقید اور مکالمہ کے آداب کو ملحوظ رکھا جائے۔

۵۔ جو سیاست دان اور راہنما، ان آداب کا لحاظ نہیں رکھتے، انہیں ٹاک شو میں بلانے سے گریز کیا جائے۔

۶۔ خبر میں سنسنی خیزی اور اشتعال سے مکمل اجتناب کیا جائے۔

۷۔ میڈیا اپنی کمرشل ضرویات کے لیے ریٹنگ سے زیادہ پروگراموں کے موادکو بہتر بنانے پر توجہ دے گا۔ عوام کے ذوق اور اخلاق کی تعمیر کوبھی پیشِ نظر رکھا جائے گا۔

علماء

۱۔ علمی و فکری اختلاف کو فرقہ واریت کے فروغکا سبب بننے سے روکا جائے۔

۲۔ اختلاف کے آداب میں اسلاف کی روایت کو زندہ کیا جائے جو باہمی احترام سے عبارت ہے۔

۳۔ بین ا لمذاہب مکالمے کو رواج دیا جائے۔

۴۔ دوسرے مذاہب کی برگزیدہ شخصیات اور راہنماؤں کے احترام کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھا جائے۔

۵۔ ایک فرد کے جرم کو کسی گروہ یا اجتماع سے منسوب نہ کیاجائے۔

۶۔ مذہبی اختلاف کو اشتعال انگیز نہ بنایا جائے۔

۷۔ ایسے مقررین اور مضمون نگاروں کی حوصلہ شکنی کی جائے جو سماج میں اشتعال کو فروغ دیتے ہیں۔

۸۔ قانون، سماجی روایات اور دوسرے مذاہب کے احترام کو دینی مدارس کے نظامِ تعلیم و تربیت کا حصہ بنایا جائے۔

۹۔ علمی اسلوب اور شائستگی کی بنیاد پر فکری ارتقا کی حوصلہ افزائی کی جائے۔

۱۰۔ مسجد اور دوسرے مذہبی اداروں کو سارے معاشرے کے لیے جائے امن قرار دیا جائے۔

۱۱۔ دینی مدارس، یونیورسٹیوں اور کالجوں کے اساتذہ وطلبہ کے درمیان میل جول، باہمی مکالمہ ومباحثہ اور مفاہمت ومعاونت کے رجحانات کی حوصلہ افزائی کی جائے اور مشترکہ اجتماعات کا اہتمام کیا جائے۔

اہلِ علم و دانش

۱۔ معاشرتی سطح پر مکالمے اور برداشت کے کلچر کو فروغ دیا جائے۔

۲۔ تعلیمی اداروں میں مکالمے اور رواداری کے لیے بطورِ خاص کوشش کی جائے۔

۳۔ طالبِ علموں کی تربیت میں سماجی روایات کے احترام کو شامل کیا جائے۔

۴۔ ایسے نصاب اور تعلیمی ماحول کی تشکیل کے لیے کوششیں کی جائیں جو رواداری اور برداشت کو فروغ دیں۔

۵۔ طلبا اور اساتذہ کی تنظیموں میں روابط بڑھائے جائیں۔

۶۔ دینی اور عمومی تعلیم کے طلبا و طالبات کے مابین فاصلوں کو کم کرنے کی شعوری کوشش کی جائے۔

۷۔ نصابِ تعلیم کو علم اور انسان دوست بنایا جائے۔

۸۔ تعلیمی اداروں کے ماحول میں علم دوستی اور تحقیق کی مشرقی و مغربی روایات کو پیشِ نظر رکھا جائے۔

۹۔ تعلیمی پالیسی کی ترجیحات میں قرآن وسنت کی تعلیمات اور مسلمہ مسلم دانش وروں کے افکار کو بنیاد بنایا جائے۔

سماجی مصلحین

۱۔ معاشرتی تعمیرکی کاوشوں کو مقامی مذہبی و سماجی روایات سے ہم آہنگ بنایا جائے۔

۲۔ معاشرتی سطح پر موجود گروہ بندی کو کم کرنے کی کوشش کی جائے۔

۳۔ ایسی سرگرمیوں سے گریز کیا جائے،جن سے کسی گروہ کے خلاف نفرت اور اشتعال پیدا ہوتا ہو۔

۴۔ علما اور وکلا باہمی تنازعات کے حل میں ثالث کا کردار ادا کریں اور ثالثی کے نظام کو فروغ دینے کے لیے مربوط ومنظم محنت کی جائے۔

۵۔ جمہوریت، رواداری اور برداشت جیسی روایات سے غیر مشروط وابستگی کا مظاہرہ کیا جائے۔

۶۔ سماجی انصاف اور معاشی تفاوت کے خاتمے کے لیے مذہبی و سماجی اداروں کو مضبوط بنایا جائے۔

۷۔ خواتین، بچوں اور دوسرے محروم طبقات کے حقوق کے لیے کوششوں کو منظم کیا جائے اور باہمی تعاون کو بڑھایا جائے۔

۸۔ کرپشن، نا اہلی اور کام چوری کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے دیانت وامانت اور فرض شناسی کی اہمیت کو ہر سطح پر اور ہر شعبہ میں اجاگر کرنے کے لیے محنت کی جائے۔

’’اور ڈائیلاگ فورم‘‘ سے اس بات کی کوشش کی جائے گی کہ معاشرے کے تمام نمائندہ طبقات کومذکورہ بالا مقاصد کی یاددہانی کرائی جاتی رہے اور ان کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھا جائے تاکہ ہم پاکستان کو ایک پر امن سماج دے سکیں۔جس میں سب کے بنیادی حقوق محفوظ ہوں اور کسی کے جان ، مال اور عزتِ نفس کو کوئی خطرہ درپیش نہ ہو ۔ یوں معاشی خوش حالی اور سماجی ترقی کو یقینی بنایا جاسکے۔اﷲ تعالیٰ اس کارِ خیر میں ہماری معاونت کرے۔


فورم کے شرکاء:

۱۔ ڈاکٹر خالد مسعود،ڈائریکٹر جنرل ادارہ تحقیقاتِ اسلامی،بین الاقوامی اسلامی یو نیورسٹی اسلام آباد

۲۔ مو لانا زاہد الراشدی، ڈائریکٹر الشریعہ اکادمی، گوجرانوالہ

۳۔ مفتی عبدالقوی، مہتمم جامعہ عبیدیہ، ملتان

۴۔ وصی شاہ،شاعر، ادیب،کالم نگار،ڈرامہ نگار۔ لاہور

۵۔ بیرسٹر دانش افتخار،ایڈیٹر روزنامہ ’’اساس‘‘،راولپنڈی

۶۔ سلیم صافی، کالم نگار روزنامہ’’جنگ‘‘۔اینکر جیو ٹی وی چینل

۷۔ سید شاہد گیلانی، صدر راولپنڈی گروپ آف کالجز

۸۔ علامہ امین شہیدی،مجلس وحدت المسلمین،اسلام آباد

۹۔ رومانہ بشیر،کرسچین سٹڈی سنٹر،راولپنڈی

۱۰۔ قاسم شاہ ،مشیر وزیراعظم پاکستان

۱۱۔ محمد آصف محمود،ایڈووکیٹ

۱۲۔ خورشید احمد ندیم،چیئرمین ادارہ تعلیم وتحقیق

درج ذیل اراکین فورم اجلاس میں شریک نہ ہوسکے لیکن انہوں نے ’’میثاق امن‘‘ سے اتفاق کیا۔

۱۔ قمر زمان کائرہ،سیکرٹری اطلاعات پاکستان پیپلز پارٹی

۲۔ صدیق الفاروق، راہنما پاکستان مسلم لیگ(ن)

۳۔ مجیب الرحمن شامی، چیف ایڈیٹر روزنامہ ’’پاکستان‘‘لاہور

۴۔ ڈاکٹر محمد شکیل اوج، صدر شعبہ علوم اسلامیہ، کراچی یونیورسٹی

۵۔ بیرسٹر ظفر اللہ خان،قانون دان، اسلام آباد


حالات و واقعات