تعارف و تبصرہ

ادارہ

ماہنامہ ’الشریعہ‘ کی خصوصی اشاعت بعنوان ’’جہاد ۔ کلاسیکی وعصری تناظر میں‘‘

گوجرانوالہ سے شائع ہونے والا ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ ممتاز عالم دین، محقق ومصنف اور جامعہ نصرۃ العلوم کے شیخ الحدیث حضرت مولانا علامہ زاہد الراشدی صاحب کی زیر سرپرستی گزشتہ تیئس سال سے شائع ہو رہا ہے۔ ایک عرصہ تک خود علامہ راشدی صاحب اس کی ادارت کے فرائض سرانجام دیتے رہے ہیں اور اب یہ علمی جریدہ ان کے جواں سال صاحبزادے محمد عمار خان ناصر کی زیر ادارت شائع ہو رہا ہے۔ اس علمی جریدے نے روز اول سے عمومی گروہ بندی اور فرقہ بندی سے اٹھ کر فکری حوالے سے ایسی ساکھ بنا لی ہے کہ یہ جریدہ ’’پڑھے جانے والے جرائد‘‘ میں سرفہرست ہے۔ اس کے مضامین تنوع کے ساتھ ساتھ اجتماعیت کا رنگ نمایاں ہے جو گہرائی اور گیرائی کے ساتھ لکھے جاتے ہیں اور شائع کرنے سے پہلے ان کے مندرجات پر ادارتی ٹیم ان مضامین پر خاصا غور وفکر بھی کرتی ہے۔

’’الشریعہ‘‘ کی ادارتی ٹیم کالج ومدرسہ کے اہل علم وقلم پر مشتمل ہے جو علامہ راشدی صاحب کے فکر ودانش کا پتہ دیتی ہے۔ اگرچہ جناب عمار خان ناصر کے بعض تفردات پر علمی حلقوں میں اضطراب پایا جاتا ہے، ’’القاسم‘‘ میں بھی ان کے تفردات پر گرفت کی گئی ہے، مگر جہاں تک اس جریدہ کے مضامین کی ندرت کا تعلق ہے، اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اس علمی جریدہ نے مختلف حوالوں سے اپنی خصوصی اشاعتوں میں فکری رہنما کاکردار ادا کیا ہے۔

زیر نظر خصوصی اشاعت جہاد اور خروج کے عنوان پر ترتیب دی گئی ہے۔ جہاد کے موضوع پر مولانا محمد یحییٰ نعمانی (مدیر الفرقان، لکھنؤ) اور محمد عمار خان ناصر کے طویل مضامین بڑے معرکے کے ہیں۔ دونوں حضرات نے اپنے اپنے انداز میں مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی کے مخصوص فلسفہ جہاد (الجہاد فی الاسلام) کا تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے اپنا نقطہ نظر پیش کیا ہے اور ان کے نقطہ نظر نے اس موضوع پر تحقیق ومطالعہ کی نئی راہیں متعین کی ہیں۔ محمد رشید نے مولانا وحید الدین خان دہلوی کے فلسفہ امن، جو درحقیقت انگریزی عہد کے فلسفہ عدم تشدد کا تسلسل ہے، کا تنقیدی جائزہ لیا ہے۔

خصوصی اشاعت کا دوسرا موضوع یا حصہ ’’عہد حاضر کی مسلم ریاستوں کی شرعی حیثیت اور مسئلہ خروج‘‘ کے موضوع پر ہے۔ مولانا زاہد الراشدی نے اسلام آباد کے ایک ادارے ’’پاکستان مرکز برائے مطالعات امن‘‘ (PIPS) کے تحت ایک سیمینار کی روداد قلم بند کی ہے۔ ایک مضمون معروف حریت پسند راہنما الشیخ ایمن الظواہری کی کتاب کے بعض اقتباسات پر مشتمل ہے۔ شیخ الظواہری نے اس کتاب میں پاکستان کوایک غیر اسلامی ریاست قرار دیا ہے، جبکہ محمد عمار خان ناصر نے شیخ کے خیالات کا تنقیدی جائزہ لیا ہے۔ مفتی محمد زاہد اور محمد مشتاق احمد نے ’’مسئلہ تکفیر اور خروج‘‘ پر بحث کی ہے۔

یہ خصوصی اشاعت ۶۶۰ صفحات پر مشتمل ہے اور اس کی قیمت ۵۰۰ روپے ہے اور حافظ محمد طاہر، انچارج شعبہ ترسیل سے رابطہ نمبر 0306-6426001 سے براہ راست رابطہ کر کے بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔

(تبصرہ: مولانا عبد القیوم حقانی۔ بشکریہ ماہنامہ ’’القاسم‘‘ خالق آباد، نوشہرہ)

’’خطبہ حجۃ الوداع‘‘ اور ’’اسلام اور انسانی حقوق‘‘

گزشتہ دنوں میں ماہنامہ ’الشریعہ‘ گوجرانوالہ کے تازہ شمارے کے ساتھ الشریعہ اکادمی کی طرف سے دو کتابیں بھی موصول ہوئیں۔ پہلی کتاب کا عنوان ہے ’’خطبہ حجۃ الوداع: اسلامی تعلیمات کا عالمی منشور‘‘ اور دوسری کتاب ہے ’’اسلام اور انسانی حقوق: اقوام متحدہ کے عالمی منشور کے تناظر میں‘‘۔ یہ دونوں کتابیں الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ نے اکتوبر ۲۰۱۱ء میں طبع کی ہیں۔ بظاہر یہ دو کتابیں ہیں اور انھیں طبع بھی الگ الگ کیا گیا ہے، لیکن فی الحقیقت یہ دونوں کتابیں ایک ہی سلسلے کی مربوط کڑیاں ہیں اور ہر ایک، دوسری کے بغیر ناتمام تصور ہوتی ہے۔

یہ دونوں خوب صورت اور عمدہ کتابیں معروف صاحب قلم وصاحب بصیرت شخصیت مولانا زاہد الراشدی کے محاضرات ہیں جو حجۃ الوداع کے موقع پر ہادی عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے لبوں سے سرزد ہونے والے مبارک ومسعود کلمات یعنی خطبہ حجۃ الوداع کی روشنی میں دیے گئے ہیں، لیکن اس کے اصل مخاطب عصر حاضر کے وہ لوگ ہیں جو اقوام متحدہ کے ۱۰؍ دسمبر ۱۹۴۸ء کو جاری کیے گئے عالمی منشور کی تیس دفعات کے سحر میں مبتلا ہیں۔

ان کتابوں کے مولف کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں تحریر، تدریس اور تقریر کے تینوں شعبوں پر بہت ہی گہری اور عمدہ دسترس عطا فرمائی ہے۔ ان کا قدیم اور جدید کتب کا مطالعہ اور قدیم اور جدید دور کا مشاہدہ قابل رشک ہے۔ پھر جیسے حضرت داؤد علیہ السلام کے ہاتھ میں لوہا موم ہو جاتا ہے، اسی طرح ان کے سامنے قدیم اور جدید مسائل وموضوعات یوں نرم اور موم ہو جاتے ہیں کہ وہ اپنے علم سے ان کا ایک ایک پرت کھولتے جاتے ہیں اور ان کے قلب وذہن پر مضامین اور افکار کا ورود ہوتا رہتا ہے۔ وہ بیک وقت اپنے عظیم والد، امام اہل سنت مولانا سرفراز خان صفدر کے مسند نشین ہیں اور وسری طرف علم وادب کی دنیا میں اور اپنے حکمت وتدبر میں امام العصر شاہ ولی اللہ دہلوی اور دوسرے اسلاف وعلماء کی یادگار ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے قلب ونظر اور ان کے قلم میں مزید زور وحکمت پیدا فرمائے۔

مولانا راشدی کو اللہ تعالیٰ نے جن ا نعامات سے خصوصی طو رپر نوازا ہے، ان میں سے ایک انعام قدیم اور جدید علوم کا مطالعہ اور ان کا تجزیہ وتبصرہ بھی ہے۔ یہ دونوں کتب حقیقت میں اسی امر کا مظہر اتم ہیں۔ 

حجۃ الوداع کے حوا لے سے شائع کی جانے والی کتاب ان کے ان دروس او رخطبات کا مجموعہ ہے جو ۳؍ ستمبر سے ۹؍ ستمبر ۲۰۰۷ء تک مسلسل پانچ روز خطبہ حجۃ الوداع کے موضوع پر دار الہدیٰ، اسپرنگ فیلڈ، ورجینیا (واشنگٹن) میں دیے گئے اور جسے مولانا کے چھوٹے صاحب زادے ناصر الدین خان عامر نے آڈیو ریکارڈنگ کی مدد سے تحریر کا جامہ پہنایا اور اس پر مولانا کے بڑے صاحب زادے حافظ محمد عمار خان ناصر نے کچھ اضافے کیے۔

عام طو رپر واعظوں کے وعظ میں رنگ محفل جمانے کے لیے رطب ویابس ہر قسم کی باتیںآ جاتی ہیں اور عصر حاضر میں خطبات، مواعظ اور ارشادات وغیرہ کی صورت میں مختلف علماء وخطباء کی مجالس وعظ وارشاد کے جو مجموعے دیکھنے اور مطالعہ کرنے کو ملتے ہیں، ان سے اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ واقعی بیان اور شے ہے اور تصنیف وتالیف اور شے ہے، لیکن مولانا راشدی کے امتیازات میں سے ایک امتیاز یہ بھی ہے کہ ان کا ’’وعظ وخطبہ‘‘ بھی ایسے ہی ہوتا ہے جیسے کہ ان کی تحریر وتصنیف اور ان کی تحریر وتصنیف ویسے ہی شگفتہ اور دلچسپی کے رنگ لیے ہوتی ہے جیسے کہ ان کی تقریر اور ان کا بیان۔

اس مجموعے میں مولانا نے خطبہ حجۃ الوداع پر بڑی عمدہ نظر ڈالی ہے اور اس کا موازنہ اقوام متحدہ کے ۱۰ دسمبر ۱۹۴۸ء کو جاری کیے جانے والے عالمی منشور اور اس کی دفعات سے کیا ہے جس سے جدید قوانین اور جدید معاشروں میں رونما ہونے والی حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں اور جدید سائنس کی روشنی میں آنے کے باوجود مغربی معاشرے کے چہرے کی بوقلمونی پر ان کی نظر کی گہرائی کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔

مولانا نے ان دونوں کتابوں میں اسلامی نقطہ نظر پیش کرنے کے ساتھ ساتھ مغربی معاشرے کا تضاد بھی پیش کیا ہے، چنانچہ مغربی معاشرے کی بنیاد جن افکار پر اٹھائی گئی ہے، ان میں ایک نمایاں فکر فلسفہ کذب وافترا بھی ہے۔ اس فلسفے کے تحت مغربی دانش ور اتنی ڈھٹائی اور اتنی صفائی سے جھوٹ بولتے ہیں کہ ان کے جھوٹ پر سچ کا گمان ہونے لگتا ہے۔ مولانا نے بڑی مہارت کے ساتھ مغربی دنیا کا یہ بھیانک روپ دنیا کو دکھایا ہے۔ مولانا کی خوبی یہ ہے کہ انھوں نے یہ تمام باتیں مغرب میں بیٹھ کر کہی ہیں اور مغرب کو دوغلے پن اور منافقت کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ ایک جگہ مولانا امریکہ کے ’’حقوق انسانی‘‘ کے علمبردار ہونے پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’امریکہ میں رہنے والے افریقی نسل کے لوگوں کو ۱۹۶۴ء تک ووٹ کا حق حاصل نہیں تھا۔ کونڈولیزا رائس امریکہ کی وزیر خارجہ رہی ہے۔ ۔۔۔ ا س عورت کا باپ ان لوگوں میں شامل تھا جنھوں نے ووٹ کا حق لینے کے لیے امریکہ میں عدالتی جنگ لڑی۔ اس کے باپ کو ووٹ کا حق حاصل نہیں تھا، اس لیے کہ وہ افریقی النسل کالا تھا ۔۔۔ میں یہ بتانا چاہ رہا ہوں کہ اس بات کو ابھی آدھی صدی بھی نہیں گزری اور اب یہ لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم نے غلامی ختم کی ہے۔‘‘ (اسلام اور انسانی حقوق، ص ۷۱)

مولانا نے اس کتاب میں نہ صرف اقوام متحدہ کے منشور کے طور پر جاری ہونے والے تیس نکات کے متن کا اردو ترجمہ شامل کیا ہے بلکہ اس کی اہم دفعات کا حجۃ الوداع کے خطبے میں شامل حقوق انسانی کے ساتھ موازنہ اور تقابل بھی کیا ہے اور جگہ جگہ مغربی لوگوں، خصوصاً مذہبی پادریوں کے ساتھ اپنی گفتگو کو بھی دہرایا ہے جس میں انھوں نے مغربی معاشرے میں مذہبی اقدار کی تباہی کا اعتراف کیا ہے اور ایک پادری نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ وہ لوگ تو ہمار ی یعنی مسلمانوں کی طرف دیکھ رہے ہیں۔

حقوق انسانی اور اس جدید فکر کا مطالعہ مولانا کی خصوصیت ہے، چنانچہ انھوں نے خود ایک مقام پر لکھا ہے کہ وہ گزشتہ ربع صدی سے اس عنوان پر مسلسل بول اور لکھ رہے ہیں۔ (اسلام اور انسانی حقوق، ص ۸) یہ پختہ کاری ان کی تحریر کی ہر سطر میں نظر آتی ہے اور اسلام اور اسلام کے عطا کردہ حقوق اوران کی تاریخ پر ان کی بڑی گہری نظر ہے۔ اس طرح وہ تقابلی حقوق پر بڑی مستند شخصیت تصور ہوتے ہیں۔

ہمارے دینی مدارس میں جو نصاب تعلیم پندرہویں صدی؍ اکیسویں صدی میں پڑھا جا رہا ہے، اس میں آج بھی اشاعرہ، ماتریدیہ، معتزلہ، خوارج اور مرجۂ وغیرہ فرقوں کا تو ذکر ہے، مگر عہد حاضر کے جدید مسائل خصوصاً حقوق انسانی جیسا اہم ترین معاملہ، جس کے بغیر اقوام متحدہ کسی بھی ریاست کو رکنیت دینے کے لیے تیار نہیں ہے، اس کے متعلق واجبی سا علم بھی نہیں پڑھایا جاتا۔ اسی طرح عہد حاضر کے معتزلہ یعنی منکرین حدیث اور نام نہاد اہل قرآن، حتیٰ کہ قادیانیت، عیسائیت اور قرامطہ کی جدید شکل آغا خانیت کے متعلق بھی مکمل طو رپر خاموشی روا رکھی جاتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جب طلبہ دینی مدارس سے نکل کر معاشرے میں جاتے ہیں تو اپنے ماحول سے مطابقت پیدا کرنے میں بری طرح ناکام ہو جاتے ہیں۔

میرے نزدیک یہ دونوں کتابیں، خصوصاً ’’اسلام اور انسانی حقوق‘‘ کو جدید دینی مدارس کے نصاب میں شامل ہونا چاہیے۔ اگر ارباب وفاق کو اس کے اردو میں ہونے پر اعتراض ہو تو اسے عربی کا جامہ پہنایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح یہ کتابیں خصوصی طور پر جدید پڑھے لکھے طبقوں کو بھی ضرور پڑھنی چاہییں اور جامعہ پنجاب سمیت تمام جامعات کے ’’مطالعہ علوم اسلامیہ‘‘ میں اسے Recommended Books میں شامل کیا جانا چاہیے۔

آخر میں ایک طالب علمانہ سی خواہش کا اظہار بھی مناسب ہوگا۔ وہ یہ کہ جب اس کتاب کا اگلا ایڈیشن آئے تو اس میں خطبہ حجۃ الوداع کی روشنی میں مسلمانوں کے طرز عمل کا بھی ایک جائزہ لے لیا جائے کہ ہم نے اپنی تاریخ میں کس حد تک اس خطبے اور اس کی دفعات پر عمل کیا اور ہم نے مساوات انسانی کے اس عالمی منشور کی کہاں کہاں اور کس کس طرح خلاف ورزی کی اور اسلام کی منشا کے خلاف کس طرح لونڈی غلاموں کا غلط اور ناجائز استعمال کیا اور ابھی تک ہمارے معاشرے میں غلامی کی کون کون سی صورتیں رائج ہیں اور یہ کہ ہمیں اپنی تاریخ میں اس کے کیا کیا نقصانات اٹھانا پڑے۔

مختصراً یہ کہ یہ دونوں کتابیں اپنے موضوع پر ’’بنیادی کتب‘‘ میں شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ مصنف کو جزائے خیر عطا فرمائے اور ان کی تمام تحریروں سے عالم اسلام میں استفادہ کو عام فرمائے۔

(تبصرہ:ڈاکٹر محمود الحسن عارف)

تعارف و تبصرہ

(جولائی ۲۰۱۲ء)

Flag Counter