اسلامی سیاسی فکر ۔ جدید اسلامی فکر کے تناظر میں

ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

(یہ مقالہ 28-29 اپریل 2012ء  کو مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے شعبہ سیاسیات اور اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیاکے اشتراک سے ’’اسلام کا تصور سیاست‘‘ پر منعقدہ دو روزہ قومی سیمینار میں پیش کیا گیا۔)


عصر حاضر میں جس طرح قرآن ،حدیث فقہ جیسے خالص اسلامی علوم پر زبردست کام ہواہے۔ اوربیش بہاتحقیقات منظرعام پر آئی ہیں ۔اسی طرح علوم اسلامیہ کے دوسرے میدانوں میں بھی علماء اورارباب فکرونظرنے بہترین کاوشیں کی ہیں۔چنانچہ اسلام کی سیاسی فکرپر بھی بہت کچھ لکھاگیاہے فقہ وافتاء کے مباحث اورفتاوی کے ضمن میں بھی سیاسی مباحث سے تعرض کیاگیاہے(1) اورخاص اسلامی سیاست پر لکھی گئی تحریروں میں بھی۔بعض اصحاب فکرنے قدماء کی کئی رایوں سے اختلاف کا اظہاربھی کیاہے اوربعض نے اکثروبیشتران کے خیالات کی ترجمانی پر اکتفاکیاہے بعض نے ان پر کچھ اضافے بھی کیے ہیں ۔اس مقالہ میں یہ جائزہ لیاجائے گاکہ حالیہ زمانہ بیسویں صدی کے ربع اخیراوراکیسویں صدی کی پہلی دہائی میں جدیداسلامی فکرکے تناظرمیں اسلام کے سیاسی فکرمیں کیااضافہ ہواہے کون سے نئے مباحث زیرغورآئے ہیں اورکن نئی رائیو ں کا اظہارکیاگیاہے ۔

آج جب اس پہلوسے مطالعہ وتحقیق کی جائے کہ اسلامی سیاسی فکرمیں کیاکچھ نیاہواہے تو سب سے پہلے فقہ الاقلیات(2) اورفقہ الواقع (3)سے اعتناء کی ضرورت محسوس ہوتی ہے ۔کہ اسلامی سیاسی فکرپرنئے لکھنے والوں(4)نے موجودہ دوراوراس کے سیاسی واجتماعی رجحانات کو سامنے رکھاہے اور مسلم اقلیتوں اوران کے مسائل وایشوزسے بھی بحث کی ہے۔کیونکہ مسلم اقلیتیں دنیاکی کل مسلم آبادی کا چالیس فیصدبتائی جاتی ہیں ( 5) لہٰذااسلامی سیاست پر گفتگومیں اتنی بڑی تعدادکو نظرانداز نہیں کیاجاسکتااورخاص طورپر جب بعض ممالک میں یہ اقلیتیں نظام حکومت میں برابرکی شریک بھی ہوں جیسے کہ ہمارے ملک ہندوستان میں ہے ۔

چونکہ اسلامی سیاسی فکر کے مطالعہ سے یہ محسوس ہوتاہے کہ قرآنی آیات یااحادیث نبویہ جو سیاست سے متعلق کلام کرتی ہیں وہ صرف اصولیات پر گفتگوکرتی ہیں،جزئیات اورتفصیلات سے نہیں ،اس لیے بیشترلوگوں کارجحان یہ ہے کہ شرعی حدودمیں رہتے ہوئے اور الاصل فی الاشیاء الاباحۃ کے قاعدہ فقہیہ سے استفادہ کرتے ہوئے تمدنی وسیاسی مسائل کی جزئیات وتفاصیل میں ہم آزادہوں گے اورانسانی تجربات اورافکارسے اس سلسلہ میں فائدہ اٹھایاجا سکے گا۔

اسلامی سیاست پر لکھنے والے موجودہ مصنفین ومفکرین نے واضح طورپر لکھاہے کہ اسلامی سیاسی فکرمیں اصولی احکام یہ ہیں کہ:

۱۔ حاکمیت مطلقہ یاsovereigntyصرف خداکی ہے نہ کسی بادشاہ کی ہے اورنہ جمہورکی ۔اسلام میں مذہب زندگی کا ایک ضمیمہ نہیں بلکہ پوری زندگی پر حاوی ہے۔وہ خدااوربندے کے تعلق کے علاوہ انسان اورانسان کے تعلق سے بحث کرتاہے ،ساتھ ہی انسان اورکائنات سے تعامل سے بھی بحث کرتاہے ۔ اورحاکمیت الٰہ کا لازمی تقاضہ رسول اللہﷺ کی اطاعت بھی ہے۔

۲۔دوسرایہ کہ مسلمانوں کے باہمی معاملات شوری اورنمائندگی پر مبنی ہوں گے

۳۔تمام شہریوں کے بنیادی وشخصی انسانی حقوق اورحریتوں کی حفاظت کی جائے گی جن میں حریت دین وعقیدہ اورحریت فکروعمل بھی داخل ہیں۔ان اصولوں کے دائرہ میں رہتے ہوئے دوسرے نظامہائے سیاست سے تمدنی ،تیکنیکی اورانتظامی امورمیں استفادہ کیاجاسکتاہے اس بارے میں صاحب زادہ ساجدالرحمن صدیقی کہتے ہیں:’’مثال کے طورپر اسلام میں شوری اورنمائندگی کا اصول موجودہے مگراس شوری کے وجودمیں لانے کی کوئی محسوس ومخصوص صورت متعین نہیں کی گئی ہے۔امیرالمومنین کو امورحکومت طے کرنے کے لیے مشورہ کا حکم ہے ۔اب وہ حصول مشورہ کے لیے کیاطریقہ اختیارکرے ،قومی اسمبلی ہو،سینیٹ ہویاان جیساکوئی ادارہ اسلام اس سے بحث نہیں کرتا ۔(6) لہٰذاجمہوریت وڈیموکریسی سے اس ضمن میں فائدہ اٹھایاجاسکتاہے ۔اور انتم اعلم بامور دنیاکم (مسلم :حدیث نمبر6127)کی نص اس سلسلہ میں رہنمااصول بن سکتی ہے جس سے یہ مستنبط ہوتاہے کہ تمدنی وانتظامی امورکی جزئیات وتفاصیل میں شرع انسانی تجربہ وعقل کو آزادچھوڑناچاہتی ہے۔

اسی طرح موجودہ زمانے میں بنیادی حقوق اورانسانی آزادیوں کے تحفظ پر بڑازوردیاجاتاہے ،اسلام نے بھی اصولی طورپر انسانی جان ومال کے احترام ،عقیدہ فکرکی آزادی کی ضمانت دی ہے لہذااس معاملہ میں اسلام مغرب کے ساتھ ہے ۔جمہوری نظام میں نظری طورپر کئی خرابیاں موجودہیں ،ان خرابیوں سے دامن بچاتے ہوئے اس کی اچھائیوں کو اختیارکرنے میں کوئی حرج نہیں۔بعض لوگ الفاظ کے پیچ وخم میں الجھتے ہیں اورجمہوریت وسیکولرازم سے ہرحال میں بڑا انقباض محسوس کرتے ہیں اوربعض تو ان کو مطلقا کفروشرک قراردینے سے بھی نہیں چوکتے ،لیکن ایک فقیہ کی رائے میں : ’’ الدولۃ الاسلامیۃ دولۃ شوریۃ تتوافق مع جوھر الدیمو قراطیۃ ‘‘۔(7) اس بنیادپر اسلام کی سیاسی فکر کو حرکی اورڈائنامک کہاجاسکتاہے۔

۴۔عدل وانصاف : ارشاد باری تعالی ٰہے : اعدلوا ہو اقرب الی التقوی (انصاف کیاکرو،یہی پرہیز گاری کی بات ہے ۔ المائدہ :8) ساجدالرحمن صدیقی کے لفظوں میں’’اب یہ انصاف مہیاکرنے کے لیے کون سا نظام ترتیب دیاجائے ،عدالتوں کے کتنے درجے مقررکیے جائیس اسلام کو ان تفاصیل سے بحث نہیں ،اس کا تقاضاتو حصول انصاف کا ہے ذرائع سے کوئی سروکارنہیں (8)

ان اصولی احکام کے دائرہ میں رہتے ہوئے جزئیات وتفاصیل میں اسلامی سیاست دوسرے وضعی نظامہائے سیاست سے بہت سے امورمیں استفادہ کرسکتی ہے ۔مثال کے طورپر ووٹنگ اور انتخاب کے طریقۂ کارسے کام لیاجاسکتاہے ۔یہ دونوں ایسے طریقے ہیں جن سے ابجابی اورمنفی دونوں دائروں میں کام لیاجاسکتاہے ۔اس طریقہ سے اچھا حکمراں اور اچھے نمائندے اقتدارمیں لائے جاسکتے ہیں تو ان کی غلطیوں اورنقصان سے بچنے کے لیے ان کو اسی طریقہ سے کام لے کر ہٹایابھی جاسکتاہے ۔مسیحیت میں پوپ (مذہبی رہنما)کو خداکا براہ راست نمائندہ سمجھاجاتااورحکمرانوں سے بالاتراتھارٹی ماناجاتاتھا۔اسلام میں نہ صرف یہ کہ ایساکوئی ادارہ تجویز نہیں کیاگیابلکہ اس تصورکی نفی کی گئی ۔مفتی محمدزاہداس سلسلہ میں اپنی رائے یوں دیتے ہیں: ’’اب فرض کریں کہ منصب اقتدارپر جولوگ فائز ہیں وہ اگراپنے فرائض ٹھیک سے ادانہیں کرتے ہیں تو ان کے عزل ونصب کی جو چندصورتیں ممکن ہوسکتی ہیں وہ یہ ہیں۔ (۱)حکمرانوں کے اوپرکوئی بالاتراتھارٹی ہوجوکہ اس کام کوکرسکے ۔ایساادارہ آئڈیل اسلامی تصورسیاست میں خلافت کا ہے ۔خلیفہ یہ کام کرسکتاہے مگرموجودہ صورت حال میں عالم اسلامی میں نہ تو خلافت کا ادارہ قائم ہے اورنہ مستقبل قریب میں اس کاکوئی امکان دکھائی دیتاہے ۔(۲) حکمراں خود معزول ہوجائے اوررضاکارانہ اپنے اقتدارکو کسی دوسرے کو منتقل کردے ،یہ صورت بھی بظاہربہت rare ہے ۔(۳) ایک شکل یہ ہے کہ خودرعایاکو اپنے حکمرانوں کو معزول کرنے کا اختیارحاصل ہو۔اسلام کے مزاج اوراس کے تعلیم کردہ سیاسی تصورات سے یہی صورت زیادہ ہم آہنگ ہے۔موجودہ دورمیں جمہوریت کے انتخابی سسٹم اوراورووٹنگ سے اس سلسلہ میں فائدہ اٹھایاجاسکتاہے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ریاستی قوت کے بالمقابل جن اجتماعی اداروں کی ضرورت ہوتی ہے وہ پہلے عوام کو دستیاب نہیں ہواکرتے تھے اب تمدنی وتہذیبی احوال کے بدل جانے سے ان اداروں سے کام لیناعوام کے لیے بھی ممکن ہے ۔ماضی میں اقتدارمیں تبدیلی لانے کے لیے عوام کو تلوارہاتھ میں لینے کی ضرورت ہواکرتی تھی اب وہ کام تلوارکی بجائے ووٹنگ سے لیاجاسکتاہے ۔آج انتخابی نظام نے یہ ممکن بنادیاہے کہ بغیرقوت استعمال کیے ان کو الیکشنی طریقہ کارکے ذریعہ بدل دیاجائے۔(9)

مسلم اصحاب فکر میں کئی لوگوں نے پارلیمنٹ اورجمہوریت کے سلسلہ میں منفی خیالات کا اظہارکیاہے ۔مثال کے طورپر ڈاکٹرمستفیض احمدعلوی رقم طرازہیں: ’’ایک جمہوری طرز حکومت میں قوم کے تمام اجتماعی فیصلے عوام الناس کی خواہشات کے مطابق اوران کی مرضی کے تابع ہوناضروری ہیں ،قرآن وسنت اوراسلامی تاریخ سے جمہوریت کے اس تصورکے حق میں کوئی ثبوت نہیں ملتا۔قرآن نے اکثریت کی حکمرانی کا کوئی ذکرنہیں کیابلکہ اکثریت کے بے سوچے سمجھے فیصلہ کو بطوراصول تمدن اپنانے سے سختی سے روک دیاہے۔(10)

البتہ آگے چل کر علوی یہ بھی کہتے ہیں کہ :’’قرآن حکیم حکمرانی کے کسی ایک ماڈل آئڈیل یالازم قرارنہیں دیتااوریہ اس کے ابدی وآفاقی ہونے کا ایک مظہربھی ہے ۔کیونکہ ماڈلmodelاورسسٹمsystemزمان ومکان کی حدودکے پابندہیں۔ان کی شکلیں زمانے کے حالات اورسیاسی وسماجی تبدیلیوں کے ساتھ تبدیل ہوسکتی ہیں۔ لہٰذا طرز حکومت جوبھی اپنایاجائے ،پیمانہ یہ ہے کہ انسانوں پر حکمرانی خداخوفی ،انصاف اورانسانیت کی بھلائی پر مبنی ہونی چاہیے‘‘۔ (11)

تاہم بعض حضرات نے اس سلسلہ میں تھوڑی تفصیل کی ہے جیساکہ آگے ذکرکیاجائے گا۔ ڈاکٹر اسرار احمد جو عصرحاضرمیں نظام خلافت کے سب سے پرجوش داعی رہے ہیں، وہ مختلف مروجہ نطامہائے سیاست اور ان کی ظاہری صورتوں کے بارے میں کہتے ہیں : ’’خلافت کا نظام صدارتی نظام سے قریب ترہے ۔۔۔میں ہمیشہ کہتا آیا ہوں کہ پارلیمانی اور صدارتی دونوں نظام جائزہیں،وحدانی unitary نظام وفاقی federalنظام اورکنفیڈرل confederalسب جائز ہیں ۔۔۔دنیامیں کئی سیاسی نظام چل رہے ہیں وحدانی صدارتی وفاقی صدارتی،وفاقی صدارتی (جیسے امریکہ میں ہے )کنفیڈرل صدارتی،پھرپارلمانی ،وفاقی پارلیمانی اورکنفیڈرل پارلیمانی یہ چھ کے چھ جائزہیں‘‘۔(12)

اسلامی سیاست کے جدیدمباحث کے سلسلہ میں ناگزیرہے کہ عصرحاضرکے دومخصوص اورمقبول عام سیاسی تصورات سیکولرازم اورجمہوریت سے بھی بحث کی جائے جن کی ہندوستان کے تناظرمیں گفتگومیں خاص اہمیت بھی ہے۔ عبدالحق انصاری نے اس پر تھوڑی سی تفصیل دی ہے جس کی یہاں پرتلخیص کی جارہی ہے : ’’سیکولرازم کا لفظ دو سیاق میں بولاجاتاہے ۔ایک سیاق میں وہ زندگی کے بارے میں ایک مخصوص نقطۂ نظر کا نام ہے ۔جس کے مطابق انسانی زندگی کے ذاتی اورنجی حصہ میں مذہب یاالہامی ہدایات کو ماناجاسکتاہے ۔اجتماعی امورمیں تمام فیصلے انسانوں کو عقل وتجربہ کی روشنی میں انجام دینے چاہییں نہ کہ کسی آسمانی کتاب کی روشنی میں۔دوسرے سیاق میں سیکولرازم ریاست کا ایک اساسی تصورہے ۔نظری طورپر سیکولرریاست اجتماعی امورمیں مذہب کا دخل نہیں مانتی ،مگراس کے تفصیلی انطباق میں دنیامیں تین طرح کی ریاستیں ہیں: (۱) مذہب مخالف جیسی کہ کمیونسٹ ریاستیں(۲)مذہب فرینڈلی (فردکی نجی زندگی کی حدتک ) (۳) مختلف مذاہب کے لیے غیرجانبدار،ہندوستان آخرکے دونوں معنوں کے لحاظ سے ایک سیکولرریاست ہے ۔

جمہوریت کا اطلاق بھی تین معنوں میں ہوتاہے ۔(۱) وہ ریاست جس میں حاکمیت (Sovereignty) کاحقدارریاست کے جمہورکو ماناجاتاہے ۔اورجہاں قانون کا مآخذکوئی خاندان ،طبقہ یافردنہیں ہوتا۔(۲) وہ طرز حکمرانی جس میں حکومت عوام کے منتخب نمائندوں کی ہوتی ہے ۔موروثی طورپر کسی خانوادہ کی یامخصوص طبقہ اورافراد کی نہیں ۔جمہوریت میں منتخب نمائندوں کا احتساب کرنے اوران کو بدل دینے کا اختیاربھی رہتاہے ۔(۳) جمہوریت کچھ قدروں کا نام بھی ہے ۔جس میں فکروخیال کی آزادی ،عقیدہ ومذہب کی آزادی ،بنیادی حقوق کا تحفظ ،قانون کی بالادستی، ہر ایک کے لیے ترقی کے یکساں مواقع وغیر ہ شامل ہیں ۔اس طرح پہلے معنی میں تو جمہوریت اوراسلامی ریاست میں کھلاتصادم ہے ۔کیونکہ اسلامی طرزحکومت میں حاکمیت جمہورکی نہیں بلکہ اللہ تعالی کی ہوتی ہے اورقانون کا مآخذ جمہور نہیں بلکہ کتاب وسنت ہوتے ہیں۔البتہ دوسرے دونوں معنوں کے اعتبارسے اسلام اورجمہوریت میں کوئی تصادم نہیں اوران آج کی جمہوریت اوراسلامی حکومت میں کوئی فرق نہیں اوراسی مناسبت سے اسلامی حکومت کو بھی اسلامی جمہوریت کہہ دیاجاتاہے۔ (13)

یہاں یہ وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے کہ سیکولرازم کا یہ تصورکہ ریاستی واجتماعی معاملات سے مذہب واہل مذہب کو مکمل طورپر بے دخل اوردین وسیاست کو جداسمجھاجائے ایک گمراہی ہے اوراسلام میں نظری طوراس کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ وہ اس کو عملی طورپر انگیز تو کرسکتاہے مگراس سے راضی نہیں ہوسکتا۔لیکن سیکولرزم کی یہ تعبیرکہ ’’ریاست تمام مذاہب کے ساتھ یکساں سلوک کرے گی اورخوداس کا کوئی مذہب نہ ہوگااوروہ کسی مذہب کے لیے جانب دارنہ ہوگی ‘‘ نہ صرف یہ کہ قابل قبول ہے بلکہ غیرمسلم اکثریتی ممالک مثلاہندوستان ،میں مسلمانوں کو اس کو تسلیم کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے ۔

پارلیمنٹ 

قرآن کریم میں قدیم قوموں اوربادشاہوں کے بیان میں کئی جگہوں پر ملاء قوم کا ذکرآیاہے ۔جس سے یہ اندازہ ہوتاہے کہ دورقدیم سے ہی سربراہ حکومت کے نظام مملکت کو چلانے کے ذمہ دارافراد کا ایک ادارہ موجودرہاہے ۔ایرا ن میں اس کا نام مجلس بزرگاں اوریونان میں ہیلیایامجلس پنج صدکے نام سے اس کے وجودکا ثبوت ملتاہے ۔(14)

سرزمین عرب میں مکہ کی شہری ریاست میں اس کو دارالندوہ کہاجاتاتھا۔جدیدجمہوریت نے تھوڑے سے تغیرکے ساتھ یونان کے اسی روایتی ایوان کو پارلیمنٹ یاایوان نمائندگان کی شکل دیدی ہے ۔یوروپ میں اس ادارہ کا ارتقاء بارہویں اورتیرہویں صدیوں میں ارتقاء کوپہنچااوربیسویں صدی میں اس کو پوری دنیامیں پذیرائی مل گئی۔(15) پارلیمنٹ کے بارے میں بعض اہل فکرنے یہ رائے دی ہے :’’پارلیمنٹ کے حوالہ سے ایک اہم پہلوجوجدیدجمہوریت کی بنیادوں میں سے ہے اوراسلامی اصول سیاست سے مطابقت رکھتاہے ،وہ نظام شورائیت ہے ۔پارلیمنٹ یانمائندہ اسمبلی بحث وتمحیص کے نتیجہ میں عوام الناس یارعایاکے لیے بہترسے بہترفیصلہ ،ان کے عوامی نمائندوں کی آراء کی بنیادپر کرتی ہے ۔یہ پہلواسلامی اصول سے مطابقت رکھتاہے ،کیونکہ اہل اسلام کے امورمشاورت کے ساتھ طے پانے کو پسندیدہ قراردیاگیاہے‘‘۔(16) 

علامہ یوسف القرضاوی نے خیال ظاہرکیاہے کہ اسلامی سیاسی فکرپر ابھی عصرحاضرکے تناظرمیں بہت کام کیاجاناباقی ہے اوراس سلسلہ میں اجتہادوتجدیدفکرکی ضرورت ہے (17) اصل میں جب اسلامی فقہ کی تدوین شروع ہوئی تو اس وقت عالم اسلام وقت کاسپرپاورتھا اورپوری اسلامی ریاست ایک خلیفہ کے ماتحت تھا یاکم ازکم نظری طورپر ایک خلیفہ کی اتھارٹی کو چیلنج نہ کیاجارہاتھا اورمسلم سلاطین اس کی وفاداری کا دم بھرتے تھے ،ایسے ماحول میں فقہاء اسلام نے جوسیاسی اصول مدون کیے یامسلم مفکرین سیاست نے جو تحریریں چھوڑیں وہ زیادہ تر نظری باتوں پر مشتمل ہیں اورعصرحاضرکے نت نئے مسائل کا ان میں کوئی مرتب حل نہیں پایاجاتاہے ۔مثلااس سوال کا مدون اسلامی فقہ یااسلامی سیاسی فکرجوجواب دیتی ہے کہ اگرکوئی غیرمسلم ریاست جومسلمانوں کے خلاف جارحیت کی مرتکب نہیں ہوتی تو اسلامی ریاست کے تعلقات اس کے ساتھ بھی محاربہ پرمبنی ہوں گے یامسالمہ پر ،وہ بہت زیادہ relevantنہیں۔کہ فقہاء کی اکثریت بظاہرپہلی رائے کی حامل ہے جوموجودہ حالات میں قابل عمل نہیں۔مستشرقین اوران کے ہم نوا بعض مسلمان اسکالر وں کے نزدیک اسلامی فقہ تمام تر اسلام کی حکمرانی کی فضاء میں پروان چڑھی ۔اسی وجہ سے وہ مسلمانوں کو اس صورت حال کے بارے میں تو تفصیلی رہنمائی دیتی ہے،جب وہ حاکم ہوں،لیکن جب مسلمان خود محکومی کی حالت میں ہوںیا محکومی سے مشابہ حالت ہویا تھوڑے بہت وہ خود بھی اقتدار میں شریک ہوں جیسے کہ ہندوستان میں ہے،تو ایسی صورت حال کے لیے مدون فقہ اسلامی رہنمائی دینے سے قاصر ہے۔

بلاشبہ اس دعویٰ میں صحت کا کچھ نہ کچھ عنصر موجود ہے اوردارالاسلام اور دارالحرب کی قدیم فقہی بحثیں اس صورت حال کو مزید الجھا دیتی ہیں۔تاہم ہماری بنیادی غلطی اس معاملہ میں یہ ہے کہ ہم ساری رہنمائی لکھی لکھائی شکل میں فقہ قدیم کی کتابوں میں ڈھونڈنا چاہتے ہیں جب کہ فقہ اسلامی(مدون)سے باہر اور بھی اسلامی علوم ہیں جن میں رہنمائی کا وافر سامان موجو دہے۔اس لیے عبدالحمید ابو سلیمان اس نکتہ پر بجا طورپر زور دیتے ہیں کہ فقہ اسلامی اورسیربذات خود شریعت نہیں،وہ اس کا صرف ایک جزء ہے۔ (18)

ہمارا مدعا یہ ہے کہ مدون فقہ سے باہر سیرت نبوی،سیرت صحابہ اوربعد کی اسلامی تاریخ میں مسلمانوں کا غیروں سے تعامل،ان سب سے استفادہ کرنے او رہنمائی حاصل کرنے کی کوشش کی جائے تو شاید وہ سوال سرے سے کھڑاہی نہ ہو جس کی نسبت مستشرقین وغیرہ کی طرف کی گئی ہے۔

اس نکتہ کی مزید وضاحت محموداحمدغازی نے کی ہے ’’کہ مسلم اقلیتیں ہر دور میں پائی جاتی رہی ہیں۔حتی کہ عہد نبوی اور عہد راشدی میں بھی اور خلافت راشدہ کے بعد کے زمانے میں بھی۔چنانچہ نبیﷺ کے زمانہ میں بھی مسلم اقلیت تھی۔(19)۔ حبشہ میں مسلم اقلیت تھی اس کے علاوہ صلح حدیبیہ کے بعد حضرت ابوبصیرؓ کے ساتھیوں نے سرحد شام پر ایک اقلیت تشکیل دے لی تھی جو مدینہ کے Jurisdictionسے باہر تھی۔عہد راشدی میں معبر،مالابار اور سیلون (سری لنکا)جیسے دوردراز کے علاقوں میں مسلمان مبلغین اورتاجر آباد ہوگئے تھے اور مسلم اقلیتیں وجود میں آگئی تھیں۔(20)۔ ایسے میں دیکھنا یہ چاہیے کہ ان مسلم اقلیتوں کا اپنے اپنے متعلقہ معاشروں کے ساتھ کیا تعامل رہا۔ پھر اس تعامل کو سامنے رکھ کر ہم آج کے لیے نئی اسلامی سیاسی فکرکی تشکیل کرسکتے ہیں۔چنانچہ ایک بھی مثال ایسی اسلامی تاریخ میں نہیں ملتی کہ حبشہ یا مکہ مکرمہ (فتح مکہ سے پہلے)اورعہد راشدی میں معبر ،سری لنکا اورساحل اندلس کی چھوٹی چھوٹی مسلم اقلیتوں کو اس کا مکلف ٹھہرایا گیا ہو کہ وہ اسلام کے اجتماعی قوانین (فوجداری)اورحدود وتعزیرات و غیرہ اپنے اپنے علاقہ میں نافذ کریں۔ہاں ان کے لیے نماز ،روزہ،زکوٰۃ،حج، نکاح و طلاق،وراثت،وصیت،حجاب اورحلال و حرام وغیرہ ،احکام کی بجاآوری کو ضروری قراردیاگیا۔اسلام کے اجتماعی قوانین مثلاً فوجداری قانون حدود وغیرہ کے نفاذ کے لیے اسلامی حکومت کا ہونا ضروری شرط ہے۔جہاں یہ شرط پائی جائے گی وہاں مسلمان ان کا نفاذکریں گے اورجہاںیہ شرط نہ پائی جائے گی وہاں وہ ان پر عمل درآمد کے مکلف ہی نہ ہوں گے۔‘‘

غازی نے مزیدلکھاہے : ’’زکوٰۃ اسی وقت واجب ہوگی جب آدمی صاحب نصاب ہو،رمضان کے روز ے رمضان میں ہی رکھے جائیں گے شوال میں نہیں۔شریعت نے کسی کو اس کا مکلف نہیں کیا کہ وہ زکوٰۃ اداکرنے کی خاطر پہلے دولت اکٹھی کر کے صاحب نصاب بنے اورپھر زکوٰہ ادا کرے۔

اس سے واضح ہوتاہے کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ چونکہ اسلامی حکومت کے بغیر بہت سے اسلامی احکام پر عمل نہیں کیا جا سکتا ،لہٰذا ان احکام پر عمل کے لئے اسلامی حکومت قائم کرنی چاہیے ،وہ نہایت لچر بودی اور الٹی بات کہہ رہے ہیں، ایک ایسی بات جو 14سو سال پہلے کسی فقیہ کے ذہن میں نہیں آئی ۔مثلاً وراثت کے احکام پر عمل کرنے کا مقتضا کسی فقیہ نے یہ نہیں سمجھا کہ آدمی کو کوشش کرکے مرنے سے قبل دولت جمع کر جانی چاہیے تاکہ اولاد کو وراثت کے ااحکام پر عمل کرنے کا موقع ملے۔ہر فقیہ و عالم نے صرف یہ سمجھاکہ مرنے والا اگر کچھ دولت چھوڑکر مرتاہے تو اس ترکہ کو اسلامی وراثت کے مطابق تقسیم کیاجائے۔اور اگر کچھ نہیں چھوڑ تا ہے تو احکام و وراثت پر عمل کا کوئی مطلب نہیں بنتا۔(21)

پروفیسرنجات اللہ صدیقی کی رائے یہ ہے کہ آج مسلم ریاست میں مسلم اورغیرمسلم شہریوں کے مابین تفریق کرناممکن نہ ہوگابلکہ تمام شہریوں کے ساتھ یکساں سلوک کرنامناسب ہوگا (22) کیونکہ تفریق کی صورت میں جن ممالک میں مسلمان اقلیت میں ہیں ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے آوازاٹھانااوران کے لیے یکساں سلوک کا مطالبہ کرناہمارے لیے کیسے ممکن ہوگا؟(23) اسی طرح پاکستان کے ممتاز اسلامی عالم ومحقق عمار خان ناصرنے جزیہ کی تفہیم جدیدکی کوشش کی ہے اور اس ضمن میں ماضی وحال کے کئی فقہاء کے حوالے دیے ہیں۔(24)

اس کے علاوہ مطلقاً تبدیلئ مذہب کی سزاقتل قراردینے کوموجودہ دورمیں آزادی رائے کے خلاف سمجھاجاتاہے، اس پربھی اسلامی سیاسی فکرمیں نئی آراء کا اظہارکیاگیاہے اوران کی تائیدبعض علماء سلف کے اقوال سے بھی ہوتی ہے۔ چنانچہ مولاناعنایت اللہ سبحانی اوروحیدالدین خاں اس سلسلہ میں سلف سے متوارث تشریح سے اختلاف کرتے ہیں۔ 25) ) 

برصغیرکے علماء نے سیاسی فکرمیں حرکیت اوراجتہادکا ثبوت دیاہے ۔چنانچہ 1917کے لگ بھگ جمعیہ علماء ہندنے باقاعدہ یہ فیصلہ کیاکہ اب آزادی کی لڑائی عسکریت کے بجائے سیاسی میدان میں لڑی جائے گی ۔حالانکہ انہی سرفروش علماء کا گروہ تھا جس نے 1857سے لے کربالاکوٹ اورشاملی کے میدانوں میں اپناگرم گرم خون جہادکے لیے پیش کیاتھااورانگریز نے دہلی پر قبضہ کرکے ہزارہاعلماء کوپھانسی پر لٹکایاتھاان کا جرم یہی تھاکہ غیرملکی استعمارکی غلامی ان کو کسی حال میں قبول نہ تھی۔مگراب انہوں نے گاندھی جی کے عدم تشددکے فلسفہ کو قبول کرلیاجس کو وہ ایک حدتک اسلامی تعلیمات سے غیرمتصادم اوروقت کا تقاضاسمجھتے تھے۔جمعیۃ علماء ہندکے ناظم اعلی اورمؤرخ مولانامحمدمیاں نے اس تبدیلی کے حق میں تفصیلی دلائل دیے ہیں(26)

انہوں نے یہاں تک کہاکہ عدم تشددپر مبنی طریقہ کاربھی جہادہی ایک شکل ہے بلکہ جہادکی افضل شکل ہے ۔(27) توسیاسی میدان میں عالمی سطح پر جوتبدیلیاں آئی ہیں ان کے پیش نظراجتہادسے کام لے کرآج بھی بعض اسلا ف کرام سے منقول بعض سیاسی رایوں پر نظرثانی کی جاسکتی ہے اورکی جارہی ہے۔مثال کے طورپر غیراسلامی ملک کی شہریت، ایسے ممالک کے سول اداروں سے استفادہ ،ان میں سرکاری نوکریاں اورفوجی ملازمتیں اوران میں قائم غیراسلامی نظام کے تحت ہونے والے الیکشنوں اورانتخابات میں امیدواربننا،ووٹ دینااوراسمبلی یاپارلیمان کا رکن بننا،ایسی حکومتوں میں وزارت ،عدلیہ اوربیوروکریسی میں اعلی عہدے اورمناصب قبول کرناوغیرہ اسیے مسائل ہیں جن پر موجودہ دورکے فقہاء یوسف القرضاوی ،وہبہ الزحیلی ،طٰہٰ جابرعلوانی وغیرہم نے اپنی رائیں دی ہیں۔اہل علم بجاطورپر اس خیال کا اظہارکرتے رہے ہیں : ’’چونکہ انسانی معاشرہ تغیرپذیرہوتااورہمیشہ نت نئی تبدیلیوں سے دوچاررہتاہے جس کے پیش نظراسلامی شریعت میں پیش آمدہ مسائل سے نبردآزماہونے کے لیے رہنمااصول موجودہیں۔اس لیے ’’ عصری حالات اورتقاضوں کے پیش نظربعض فقہی مسائل کی ازسرنوتعبیروتاویل کی ضرورت ہے ‘‘۔ (28)

انہی مسائل میں ذمہ ،دارالحرب ودارالاسلام کی تقسیم ہے کہ یہ تقسیمات دائمی نہیں ہیں۔وہ فقط ایک دورکی عملی ضرورت کا اظہارتھیں ۔اس وقت وہ ایک زمینی حقیقت ،ایک امرواقع کی تعبیرتھی ،آج وہ حالات نہیں ہیں ،وہ کل کا عرف تھا جو آج بدل چکاہے لہذاعلامہ یوسف القرضاوی یہ دعوت دیتے ہیں کہ غیرمسلمین کے مسائل پر(پھرسے ) غورکیاجاناچاہیے۔ (29) نجات اللہ صدیقی کے مطابق ’’اہم چیز اس بات کا شعورہے کہ نئے حالات ایک نئے موقف کا تقاضاکرتے ہیں‘‘۔ (30) آج کئی مفکرین اورفقہاء کی تلقین ہے کہ ’’مغربی ممالک کے مسلمان ان ملکوں کے شہری بن کرشہریت کے تمام حقوق سے فائدہ اٹھائیں اورشہریت کے تمام فرائض اداکریں۔(31)

طارق رمضان نے شہریت سے وابستہ فرائض کی ادائیگی کو ،جن میں سب کے ساتھ مل کرعدل وانصاف کے لیے جدوجہدسرفہرست ہے ایک دینی تقاضاقراردیاہے ۔(32) احمدصدقی دجانی نے بھی اسی طرح کی رائے کا اظہارکیاہے ۔(33) راشدغنوشی نے اقلیتی مسلمانوں کے لیے اپنے ملک کے نظام حکومت سے کنارہ کشی کرنے اورحالات بدلنے کے انتظارکے رویہ کو غلط قراردے کراس بات پر زوردیاہے کہ ’’ایسے لوگوں کے لیے بہترین راستہ یہ ہے کہ وہ سیکولرجمہوری جماعتوں کے ساتھ مل کرایک ایسے سیکولرنظام کے قیام کے لیے جدوجہدکریں جس میں انسانی حقوق کا احترام کیاجائے ۔جن حقوق میں کہ وہ ضروری مصالح شامل ہیں جن کے تحفظ کے لیے اسلام آیاہے مثلا جان ،عقل ،مال ،آزادی اورخوددین ،جس میں اس سوسائٹیوں میں مسلمانوں کے عقیدہ ،مذہبی شعائراورپرسنل لاز کا تحفظ شامل سمجھاجاتاہے(34) اس سے بھی آگے بڑھ کر وہ اس کو مقاصدشریعت کی روشنی میں واجب قراردیتے ہیں۔’’جن حالات میں ایک جمہوری اسلامی نظام کا قیام ناممکن ہوان حالات میں ایک ایسے سیکولرجمہوری نظام کے قیام کی کوششوں میں حصہ لینے سے کیسے باز رہاجاسکتاہے ؟ ابن خلدون کے الفاظ میں (35) اگرشرع کی حکمرانی ناممکن ہوتو عقل کی حکمرانی قائم کی جائے ۔اشتراک عمل سے دوری ہرگز مناسب نہیں بلکہ واجب شرعی ہے کہ مسلمان ایسے نظام کے قیا م کی کوششوں میں انفرادی اوراجتماعی طورسے شرکت کریں ۔(36)

آج دارالاسلام اوردارالکفریادارالحرب کی بحث اس لیے بھی irrelevant  معلوم ہوتی ہے کہ سرحدوں کے فاصلے سمٹ گئے ہیں ،گلوبلائزیشن اورنئی انفارمیشن ٹیکنالوجی نے جغرافیائی حدود کو بے معنی بنادیاہے ۔اس کے علاوہ تلخ حقیقت ہے کہ اسلام اورمسلمانوں کوبعض مسلم ملکو ں سے کہیں زیادہ آزادی تو غیرمسلم ممالک میں حاصل ہے ۔عبدالرحمن مومن لکھتے ہیں’’: عام طورپر یہ سمجھاجاتاہے کہ اسلامی ملکوں میں رہنے والے مسلمانوں کو اپنے دینی شعائرپر عمل پیراہونے کی پوری آزادی حاصل ہے جبکہ غیراسلامی ملکوں میں رہنے والے مسلمانوں کو اپنی دینی وتہذیبی شناخت قائم رکھنے میں رکاوٹیں درپیش ہیں۔یہ بات علی الاطلاق صحیح نہیں ہے ۔بیشترمغربی ممالک میں مسلمان لڑکیاں برقعہ اورحجاب کے ساتھ درس گاہوں اورجامعات میں تعلیم حاصل کرتی ہیں جبکہ ترکی جیسے اسلامی ملک میں جامعات اورسرکاری دفتروں میں خواتین کے حجاب اوربرقعہ پہننے پر پابندی عائدہے ۔ہندوستان کی مسلم خواتین کو جو آئینی حقوق ومراعات حاصل ہیں ان سے عرب ممالک کی خواتین محروم ہیں’’۔(37)

عالم اسلام کا مطلوبہ کردار

اس سلسلہ میں بعض اہل فکرنے یہ رایے ظاہرکی ہے : ’’عام حالات میں عالم اسلام کی ضرورت ہے کہ اس کے ہاں’’خلافت اسلامیہ‘‘کا معیاری نظام ہو،جس سے آج کی سیکولرروایت کے برعکس حکومت وسیاست کے پلیٹ فارم سے دنیائے انسانیت کی نسبت سے اسلام کی رحمت وبرکت کا اظہارہوسکے۔جب کہ حقیقی داخلی مفادات کا تحفظ بھی اس مبنی برعدل اسلامی حکومتوں کے نظام سے وابستہ ہے ۔اس روشنی میں پھیلے ہوئے عالم اسلام میں آج کی اکثروبیشترقابل اصلاح مسلمان حکومتیں متحدہ خلافت کے مطلوبہ نظام پر متفق نہ بھی ہوسکیں تو ان کی کم سے کم ضرورت ہے کہ موجودہ اقوام متحدہ اوراس کے اس جیسے دوسرے سیکولرذیلی فورموں کے جال سے نکل کراصولی اسلامی حکومت پر مبنی مؤثراورکارگروفاق کے نظام سے اپنے کو منسلک کریں ‘‘۔(38)

جزیہ 

سلطان احمداصلاحی سوال کرتے ہیں:’’دوسراسوال یہ ہے کہ مسلمان نہ ہونے کی صورت میں کیاغیرمسلم انسانیت کو زیرکرکے اسے جزیہ کا پابنداوراسلامی حکومت کا تابع فرمان بناناضروری ہے جیساکہ ماضی میں اسلام نہ لانے کی صورت میں اسلامی ریاست کے غیرمسلم عوام کے لیے اس کی پابندی تھی ۔۔۔جہاں تک جزیہ کا سوال ہے تواس سلسلہ میں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ اس کا مطلب کسی طرح اسلام کے زیرسایہ غیرمسلم عوام کی تحقیروتذلیل نہیں تھی ۔۔۔دوسرامسئلہ اس زیادہ اہم اورنئے حالات میں نئی رائے بنانے کا تقاضاکرتاہے ۔اسلام کی دعوت کے باوجودغیرمسلموں سے جنگ شروع کرکے ان کو جذیہ کے دائرہ میں لانایہ رائے پرانے عرف کے مطابق تھی ،آج کے دورمیں اس کے سلسلہ میں نئی رائے بنانے کی ضرورت ہے ۔مولانااصلاحی کے نزدیک اس کی وجہ یہ ہے کہ ’’اول یہ موجودہ عالم اسلام اپنی کمزوریوں کے ساتھ اس کا اہل نہیں کہ کسی ملک کو بزورطاقت فتح کرکے وہاں کے غیرمسلموں پر جذیہ نافذکرسکے ۔دوسرے عہدحاضرکی دوررس تبدیلیوں کے پس منظرمیں جس کی تفصیل اوپرگزری ،دین پسند،اہل اورمثالی عالم اسلام کے لیے بھی ماضی کے انداز کی عسکری یوروش ویلغارکو بمشکل ہی قرآن وسنت اورمطلوبہ دینی مصلحت کے مطابق قراردیاجاسکتاہے۔ (39)

ماضی میں کسی خطے اورعلاقے کے حکمراں طبقہ کی قوت وشوکت کو توڑے بغیراس کی قلمرومیں اپنی بات کہنے اوراپناپیغام پہنچانے کا کوئی موقع نہ تھا۔۔۔جس کی ضرورت سے ریاست کی مالی ذمہ داریوں میں حصہ داری کی مجبوری سے اس کے غیرمسلم شہریوں کے لیے جذیہ کو گواراکیاگیا۔۔۔آج کے بدلے ہوئے حالات میں دعوت اسلامی کے مقصدسے جب فوج کشی ضروری نہیں رہی تو ہرحال میں دنیاکے غیرمسلموں سے جزیہ لینابھی ضروری نہیں باقی رہتا( 40)

صلح

اسلام کے قانون بین الاقوام کا اصل الاصول صلح ہے ۔جیساکہ قرآن کہتاہے والصلح خیر ( اورصلح خوب چیز ہے :(النساء: 128 ) اس کے علاوہ سورہ انفال میں فرمایا :اوراگریہ لوگ صلح کی طرف مائل ہوں توتم بھی اس کی طرف مائل ہوجاؤاورخداپربھروسہ رکھو،کچھ شک نہیں کہ وہ سب کچھ سنتااورجانتاہے۔( 61) اسی پر پوری سیرت نبوی کے واقعات شاہدعدل ہیں۔پھرایساکیوں ہے کہ موجودہ دورکے مسلمان مصفین اوراسلامی مفکرین کے استثناء کے ساتھ پوری اسلامی تاریخ میں غیرمسلموں سے تعلقات کی اصل نسبت صلح نہیں بلکہ جنگ اورمسالمہ وموادعہ نہیں بلکہ محاربہ دکھائی دیتی ہے؟ جہادپر ایک نئے لکھنے والے اس سوال کا جواب یوں دیتے ہیں: ’’ اس کا سبب اس زمانہ کا تمدن اوربین الاقوامی اورسیاسی صورت حال تھی اوراس زمانہ کے لیے یہی شرعی حکم تھا ۔اصل میں اس زمانہ میں دنیامیں کہیں بھی مستقل صلح کا کوئی تصورنہیں تھا۔عملاہی نہیں نظری طورپر بھی ریاستوں کے درمیان ایسی دائمی صلح سیاسی اوراخلاقی فکرکے لیے اجنبی چیز تھی ۔۔۔ قدیم زمانہ میں ریاستیں واضح طورپرکوئی نہ کوئی مذہب رکھتی تھیں بلکہ ہرریاست تعصب کی حدتک مذہبی تصورات پر قائم ہوتی تھی اوراِس کااُس دورمیں کوئی تصورہی نہ تھاکہ کوئی غیرمسلم حکومت اپنے زیراقتدارعلاقوں میں اللہ کے بندوں کو اس کے دین کی طرف بلانے کے لیے امکانات کھلے چھوڑدے ۔یہ بات اُس وقت بالکل ناقابل تصورتھی ۔۔۔ لہٰذااُس صلح کا لازمی نتیجہ یہی نکلناتھاکہ امت اِس پورے خطہ کے بارے میں صبرکرلے اوروہاں کے انسانوں کو اللہ کی عبادت کی طرف بلانے اوراس کی بندگی کے راستہ پر چلانے کی جدوجہدنہ کرنے کو منظورکرلے ۔ظاہرہے کہ امت مسلمہ کے لیے اِس صورت حال کو مستقل طورپر تسلیم کرنے کی کسی طرح اجازت نہیں دی جاسکتی ۔یہ بات امت مسلمہ کے لیے اپنے فرض منصبی کے خلاف ہے ۔اس لیے علماء امت نے اس زمانہ میں بجاطورپر یہ خیال ظاہرکیاکہ صلح برائے مصلحت اورعارضی طورپر ہی کی جائے ۔۔۔لیکن اس صورت حال سے الگ کرکے اس مسئلہ میں غورکریں تو قرآن کی یہ بات اپنی جگہ قائم رہتی ہے کہ ۔۔۔اسلام کے قانون بین الاقوام میں اصل صلح ہی ہے۔(41)

ذمہ ،اہل ذمہ اورجزیہ

ذمہ اورجزیہ کے بارے میں صحیح اورراجح قول یہ ہے کہ وہ حقوق شہریت سے بالکل متصادم نہیں،نہ ان سے ہرگز بھی یہ مرادہے کہ اہل ذمہ اورجزیہ دینے والوں کا درجہ گھٹاکران کو ریاست کے ثانوی درجہ کے شہری قراردیاجائے یاان کی تحقیروتذلیل مطلوب ہے۔جن روایتوں سے ایساعندیہ ملتاہے وہ سب کمزوروضعیف ہیں (42 )

اصل میں جزیہ ایک نظام محاصل تھا جو ایرانیوں کے ہاں رائج تھا ۔اسلامی ریاست کے غیرمسلم شہریوں پر اِس کو بطورریاستی ٹیکس کے نافذکیاجاتاتھا۔جس کا سبب یہ تھا کہ ریاست ہی ان کے تحفظ کی پابندتھی اورجو غیرمسلم اسلامی ریاست کی جنگی خدمت انجام دیتے تھے ان سے یہ ساقط ہوجاتاتھا۔اورمسلمانوں سے زکوۃ وصدقات کی صورت میں جزیہ سے کہیں زیادہ بھاری ٹیکس لیے جاتے تھے ۔چونکہ زکوۃ ایک دینی فریضہ اورمالی عبادت ہے اس لیے غیرمسلموں سے نہیں لی جاسکتی تھی ۔اس لیے اسلامی ریاست کے غیرمسلم شہریوں پر زکوۃ سے کافی ہلکاٹیکس جزیہ نافذکیاگیا۔(43)

تاہم لفظ جزیہ اورذمہ کے بارے میں حضرت عمرؓکا اسوہ موجودہے جس سے گویایہ اصول طے فرمادیاکہ غیرمسلم شہری جزیہ اورذمہ وغیرہ اصطلاحات ترددوتوحش کا شکارہو ں تو ان ناموں پر اصرارکرناکوئی ضروری نہیں (44) مزیدبرآں جدیددورکے فقہاء اورعلماء مثلامصطفی سباعی ،علامہ یوسف القرضاوی ،عبدالکریم زیدان ،وہبہ الزحیلی ،اورمصطفی الزحیلی اس کے قائل ہیں کہ آج کی مسلم ریاستو ں میں جزیہ نافذ نہیں کیاجائے گا(45)اس کے علاوہ برصغیرکے متعدد علماء ومفکرین بھی یہی رائے رکھتے ہیں(46)

صلح پسندغیراسلامی ریاست کے خلاف اقدام نہیں ہوگا

اگرچہ فقہاء کی اکثریت اِس بات کی قائل ہے کہ اسلامی ریاست کے واقعات غیرمسلم ریاست سے محاربہ پر مبنی ہوں گے ۔مگرترک اوراہل حبشہ کے بارے میں حدیث میں اقدام کرنے سے منع کیاگیاہے ۔فرمایا: اترکو الحبشۃ ماودعوکم واترکو الترک ماترکوکم (ابوداؤ کتاب الملاحم ،باب فی النھی عن تھییج الترک والحبشۃ ) اس حدیث کو نقل کرکے مولاناجلال الدین عمری لکھتے ہیں: ’’اس حدیث میں صاف کہاگیاہے کہ جب تک یہ ریاستیں اسلامی ریاست کے معاملات میں دخل انداز نہیں ہورہی ہیں اوراس سے الگ تھلگ اورکنارہ کش ہیں ان سے محاذآرائی کا سوال ہی پیدانہیں ہوتا‘‘۔ انہوں نے ا س سے یہ نتیجہ بھی نکالاہے کہ جوقوم جنگ نہ کرے اس سے جنگ نہ کی جائے گی اورپرامن ملکوں کے ساتھ اسلامی ریاست خواہ مخواہ کی کشمکش مول نہ لے گی ۔( 47)

ڈاکٹرمحموداحمدغازی واضح کرتے ہیں کہ مسلم اقلیتوں کے فکری مسائل کی جڑ میں ۔دوسری چیزوں کے ساتھ ۔یہ بھی ہے کہ ان کے ایک بڑے طبقہ کو تحدیدی طورپر یہ معلوم نہیں کہ ان کی دینی ذمہ داریاں کیا اورکس حد تک ہیں؟اسلام ان سے،ان کے حالات کے مطابق ،کس چیز کامطالبہ کرتاہے؟کیونکہ مسلمانوں کی ایک خاصی بڑی تعداداس کنفیوژن میں مبتلاہے کہ تمام مسلمانوں کے فرائض وواجبات یکساں ہیں۔بعض لوگ اس کنفیوژن میں خود بھی مبتلا ہیں اور دوسروں کو بھی کررہے ہیں کہ اقلیتی مسلمانوں کے فرائض بھی وہی ہیں جو اکثریتی ممالک کے مسلمانوں کے ہیں۔

حالانکہ اکثرمسلم علماء وفقہاء کے نزدیک اکثریتی ممالک کے مسلمانوں کے فرائض میں یہ بھی ہے کہ وہ اسلامی شریعت کے نفاذ کی کوشش کریں اوراسلامی نظام قائم لریں۔مگریہی فریضہ ان کے نزدیک مسلم اقلیتوں پر لازم نہیں ہوتا۔اب اگرکوئی قرآن وسنت کے عمومی نصوص کے حوالے سے جنوبی افریقہ یا امریکہ و انگلینڈکے اقلیتی مسلمانوں کو ان ممالک کے نظام حکومت کے خلاف اٹھ کھڑاہونے کی تبلیغ کرے جن کی تعداد 10فیصد یا اس سے بھی کم ہے- تو اس کانتیجہ اس کے سوا کیا نکلے گا کہ یہ حکومتیں مسلمانوں کے وجود کو ہی ختم کرنے کی کوشش کریں۔یہ محض مفروضہ نہیں حقیقتاً ایسا ہو چکا ہے۔ترینداد میں بالکل ایسی ہی صورت حال پیش آئی تھی۔(48)چنانچہ مسلم اقلیتوں کے لائحہ عمل کے سلسلہ میں ڈاکٹرمحموداحم غازی کے نزدیک یہ سمجھنا بہت بہت ضروری ہے کہ مسلمان اقلیتوں کی نہ یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ملک کے قائم شدہ نظام کو بدل کر وہاں اسلامی حکومت قائم کردیں اور نہ ہی عملاً ان کے لیے ممکن ہے۔اللہ کی شریعت نے یہ ذمہ داری ایک بااختیار و آزاد اسلامی ملک یا خطہ (دارالاسلام)کے باشندوں پر ڈالی ہے ۔غیر مسلم اکثریتی ممالک میں بسنے والے مسلمانوں پر نہیں ہے۔قاضی مجاہدالاسلام قاسمی ؒ اس با ت کویوں تعبیرکیاکرتے تھے کہ ’’عذرانفرادی بھی ہوتاہے اوراجتماعی بھی ہوتاہے ‘‘۔

اس مقالہ کے اختتام پرہم عبدالحمیداحمدابوسلیمان کے یہ الفاظ نقل کرتے ہیں جو اس پوری بحث کا ماحصل بھی ہیں: ’’بین الاقوامی تعلقات کے سلسلہ میں اپنے اصولوں ،اقداراوراہداف کے اعتبارسے اسلام آج بھی مکمل طورسے قابل عمل ہے اورکامیاب وتعمیری خارجہ تعلقات کی رہنمائی کی صلاحیت رکھتاہے۔بشرطیہ مسلمان ان جامع اورہمہ گیراصولوں اوراہداف کی پابندی کریں۔انہیں اسلام کے دوراول سے متعلق اپنے فہم کو ازسرنومرتب کرنااوراس کے مطابق مربوط طریقہ پر بین الاقوامی تعلقات کا تجربی اسلامی مطالعہ کرناچاہیے۔اسی صورت میں مسلم مفکرین اورسیاسی مدبرین اپنی امت ،بحیثیت مجموعی انسانیت اوراسلام کی خدمت کے لیے متبادل کامیاب روش عمل کا حقیقی تعین کرسکیں گے ۔(49)

اسی طرح نئی اسلامی سیاسی فکرکی تشکیل میں ہمیں اسلامی نظریۂ کائنات یااسلامک ورلڈ ویوکو سامنے رکھنا ہوگا۔ کیونکہ اسلامی نظریۂ کائنات کے حوالہ سے ہی نئی اسلامی سیاسی فکرکی تشکیل کی جاسکتی ہے ۔


حواشی وحوالہ جات

1۔ مثال کے طورپر ملاحظہ ہوحافظ سعداللہ مدیرمنہاج لاہورکا مقالہ ، غیرمسلم حکومت کی اطاعت اورا س کے ساتھ تعلق کے حدودوضوابط فکرونظر جنوری ۔مارچ 2009،ادارہ تحقیقات اسلامی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد

2۔ فقہ الاقلیات کا تصوربالکل نیانہیں ہے ۔ماضی کے فقہی ذخیرہ میں نئے پیش آمدہ مسائل ومعاملات سے متعلق فقہی احکام الحوادث والنوازل کے تحت ذکرکیا۔بقول عبدالرحمن مومن بعض فقہاء نے فقہ الضرورۃ اورفقۃ النوازل کی اصطلاحات بھی استعمال کی ہیں۔ اس لیے فقہ الاقلیات کو فقہ النوازل کی ایک نوع قراردیاجاسکتاہے ۔اگرچہ آج فقہ الاقلیات مغربی ممالک میں رہائش پذیریاان سے قریبی ربط رکھنے والے علماء نے یہ اصطلاح وضع کی ہے ان علماء وفقہاء میں ڈاکٹرطٰہٰ جابرعلوانی ،علامہ یوسف القرضاوی سرفہرست ہیں علوانی کا اصرارہے کہ فقہ الاقلیات کو ایک خودمختارفقہ سمجھناچاہیے۔

3۔ اپنے حالات کو صحیح طورپر سمجھ کر دینی ذمہ داریوں کا تعین ہی فقہ الواقع ہے۔اس سلسلہ میں ملاحظہ ہودکتورطٰہٰ جابرعلوانی، مفاھیم محوریۃ حول المنہج والمنہجیۃ دارالسلام، قاہرہ مصر2003) 

4۔ یہاں اسلامی سیاسیات پر لکھنے والوں سے ہماری مرادوہ مصنفین ہیں جن کا نقطہ نظراسلامی ہے۔

5۔ ملاحظہ ہو غطریف شہباز ندوی ،ہندوستان میں مسلم اقلیتوں کے مسائل ،مطالعات شمارہ نمبر16،اقلیات نمبراپریل 2012انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹواسٹڈیز نئی دہلی

6۔ ملاحظہ ہواسلامی معاشرہ کی تشکیل ،صاحب زادہ ساجدالرحمن صدیقی صفحہ217)

7۔ د یوسف القرضاوی ،الدولۃ الاسلامیۃ انٹرنیٹ سے ماخوذ) 

8۔ دیکھیں،اسلامی معاشرہ کی تشکیل ،صاحب زادہ ساجدالرحمن صدیقی صفحہ 221)

9۔ دیکھیں جہادپر ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ پاکستان کی خصوصی اشاعت (مارچ ۱۲۰۲) ۔

10۔ ملاحظہ ہوفکرونظر،اپریل ۔جون 2008شمارہ 4ادارہ تحقیقات اسلامی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد)

11۔ ایضاً۔

12۔ دیکھیں ڈاکٹراسراراحمد، پاکستان میں نظام خلافت ،امکانات خدوخال اوراس کے قیام کاطریقہ کار صفحہ 36)

13۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو،ڈاکٹرعبدالحق انصاری ،سیکولرازم ،جمہوریت اورانتخابات صفحہ 6-7)

14۔ ملاحظہ ہوفکرونظر،اپریل ۔جون 2008شمارہ 4ادارہ تحقیقات اسلامی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد)

15۔ ایضا

16۔ ایضاصفحہ ۳۷

17۔ ملاحظہ ہوکتاب الدین والسیاسۃ ،نیٹ پردستیاب ہے ،خاص طورپر باب الاقلیات الاسلامیۃ والسیاسۃ۔

18۔ ملاحظہ عبدالحمیداحمدابوسلیمان ،اسلام اوربین الاقوامی تعلقات منظراورپس منظر ،ترجمہ عبدالحی فلاحی قاضی پبلشرز اینڈ ڈسٹری بیوٹرزنئی دہلی 13،صفحہ 42)

19۔ اسلام کا قانون بین الاقوام(خطبات بھاولپور 2)،ڈاکٹرمحموداحمدغازی ،دعوہ اکیڈمی اسلام آباد-13باب مسلم اقلیت جدید لادین ریاستوں میں۔ خاص کر صفحات509,510,511,512اور513ملاحظہ ہو۔

20۔ ایضا

21۔ ایضا

22۔ ملاحظہ ہونجات اللہ صدیقی ،اسلام ،معاشیات اورادب ،مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز نئی دہلی صفحہ419 

23۔ ایضا صفحۃ 420 

24۔ ملاحظہ ہوجہادپران کا مبسوط مقالہ مشمولہ الشریعہ کی جہادپر خصوصی اشاعت (مارچ ۲۰۱۲) ۔

25۔ ملاحظہ ہو عنایت اللہ سبحانی تبدیلی مذہب اوراسلام ،ادارہ احیاء دین بلریاگنج ،جنوری 2002اوروحیدالدین خاں ،شتم رسول کا مسئلہ ،مکتبہ الرسالہ نئی دہلی 

26۔ ملاحظہ ہومولانامحمدمیاں،علماء ہندکا شاندارماضی مکتبہ رشیدیہ کراچی 1986جلدپنچم ،با ب نہم بعنوان ،حصول آزادی کے لیے پروگرام : لائحہ عمل کی تبدیلی 

27۔ ماہنامہ الشریعہ (خصوصی اشاعت برجہاد)مارچ 2012شریعہ اکیڈمی گوجرانوالہ پاکستان ،صفحہ 587

28۔ ملاحظہ ہوپروفیسرعبدالرحمن مومن ،عمرانیات فقہ اسلامی اورمسلم اقلیتیں مطالعات ج4،شمارہ4،اکتوبر تا دسمبر2009انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹواسٹڈیز نئی دہلی

29۔ بحوالہ پروفیسرنجات اللہ صدیقی ،مقاصدشریعت ،مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز نئی دہلی صفحہ191۔

30۔ ایضا 191۔

31۔ ایضا 182۔

32۔ ایضا 182۔

33۔ ایضا 182۔

34۔ ایضا صفحہ 186۔

35۔ بحوالہ نجات اللہ صدیقی ،مقاصدشریعت ،صفحہ186

36۔ پروفیسرنجات اللہ صدیقی ،مقاصدشریعت، مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز نئی دہلی صفحہ 186۔

37۔ ملاحظہ ہوپروفیسرعبدالرحمن مومن ،عمرانیات فقہ اسلامی اورمسلم اقلیتیں مطالعات ج4،شمارہ4،اکتوبر تا دسمبر2009انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹواسٹڈیز نئی دہلی 

38۔ مسلمان اقلیتوں کا مطلوبہ کردار سلطان احمداصلاحی فکروآگہی بھورمؤتکیہ کلاں اعظم گڑھ یوپی طبع دوم (2002ء)ص 44۔

39۔ مسلمان اقلیتوں کا مطلوبہ کردار سلطان احمداصلاحی فکروآگہی بھورمؤتکیہ کلاں اعظم گڑھ یوپی طبع دوم (2002ء) صفحہ 59۔ نظام خلافت کے احیا ء کے سلسلہ میں اس سے مماثل رایوں کا اظہاراسلام کے بین الاقوامی قوانین کے دوبڑے ماہروں ڈاکٹرمحمدحمیداللہؒ اورڈاکٹرمحموداحمدغازی ؒ نے بھی کیاہے ۔(ملاحظہ ہو،غطریف شہبازندوی ،ڈاکٹرمحمدحمیداللہ ،مجددعلوم سیرت ،2003فاؤنڈیشن فاراسلامک اسٹڈیز ،نئی دہلی ،صفحہ77 ،اوراسلام کا قانون بین الاقوام خطبات بہاولپور(2)، ڈاکٹرمحموداحمدغازی ،دعوہ اکیڈمی اسلام آباد،آخری باب ۔

40۔ ملاحظہ ہووہی مصدرصفحہ (61)

41۔ یحیٰ نعمانی ،جہادکیاہے ،صفحہ134-135۔

42۔ ایضا صفحہ 262-268 

43۔ تفصیل ملاحظہ ہو،جہادکیاہے صفحہ ۰۷۲تا۵۷۲،یحیٰ نعمانی ،المعہدالعالی للدراسات الاسلامیہ لکھنؤجولائی 2011۔

44۔ نفس مصدر صفحہ274۔

45۔ نفس مصدرصفحہ 274۔

46۔ نفس مصداورر دیکھیں سلطان احمداصلاحی ،مسلم اقلیتو ں کا کردار، صفخہ 180-181 جزیہ کے بارے میں کلاسیکل موقف اور حالیہ موقف کے بارے میں دیکھیں، عمار خان ناصر، ’’جہاد۔ایک مطالعہ‘‘، ماہنامہ الشریعہ (خصوصی اشاعت برجہاد) مارچ 2012، شریعہ اکیڈمی گوجرانوالہ پاکستان ،صفحہ288 تا 293 ۔

47۔ ملاحظہ ہو،سیدجلال الدین عمری ،غیرمسلموں سے تعلقات اوران کے حقوق ،صفحہ 280،ادارہ تحقیق وتصنیف اسلامی علی گڑھ ستمبر1998

48۔ ٹرینڈاڈجزا ئرغرب الہند میں ایک چھوٹا ساملک ہے اور چند جزائرپر مشتمل ہے ۔وہاں مسلمانوں کا تناسب تقریباً 16.15فیصد ہے۔لیکن اقلیت میں ہونے کے باوجود کچھ عرصہ پہلے ان کو اتنا اثر رسوخ حاصل تھا کہ اس ملک کا صدر ،پارلیمنٹ کا اسپیکر اورعدالت کا چیف جسٹس مسلمان تھے۔یعنی تین بڑے بڑے عہدے ان کے پاس تھے صرف وزیر اعظم عیسائی اکثریت میں سے ہوتا تھا۔اب یہ ہوا کہ بیرون ملک سے کچھ پر جوش مگر کم علم مبلغ وہاں پہنچے اور انہوں نے نادانی میں اس طرح کی تقریریں کیں کہ جنگ بدر میں313مسلمانوں نے بے سرو سامانی میں سارے عرب کے مشرکین کو چیلنج دیاتھااورعظیم الشان فتح حاصل کی تھی۔ لہذا جہاں بھی313مسلمان ہوں ان کا فرض بنتاہے کہ وہ کفر کو چیلنج دیں اوراسلامی نظام قائم کریں۔ان کی پرجوش تقریروں سے متاثر ہوکر کم پڑھے لکھے اور سادہ لوح مگرجوشیلی طبیعت کے مالک کالے مسلمان جوش و خروش سے اٹھ کھڑے ہوئے اور اسلامی انقلاب لانے کا اعلان کردیا۔ملک میں توڑ پھوڑ مچائی،پارلیمنٹ میں گھس گئے ،غیر مسلموں کی املاک کو آگ لگائی۔ ان کے لیڈروں نے ٹیلی ویژن اورریڈیو اسٹیشن پر قبضہ کر کے وہاں نفاذ اسلام کا اعلان کردیا۔نتیجہ کیا نکلا؟فوج نے زبردست کارروائی کی ،پارلیمنٹ ،ریڈیو اسٹیشن اورٹیلی ویژن کو ان سے چھڑایا ،ہزاروں لوگوں کو گرفتار کر لیا،اسلامی نظام تو کیا قائم ہوتا،مسلمانوں سے تمام کلیدی عہدے اورمراعات چھین لی گئیں۔دعوت و تبلیغ پر پابندی لگی۔غیر مسلموں سے خیر سگالی کے سارے تعلقات ختم،اچھے تاثرات یکایک برے اثرات میں بدل گئے۔یہ بے تدبیری اسی لیے ہوئی کہ وہ غریب مبلغین فقہ الواقع کا ادراک نہ رکھتے تھے۔ان کے جوش جنون نے اسلام کا راستہ مسدود کر کے رکھ دیا جس کو اب تک غیر مسلم دشمن بھی نہ کرسکے تھے۔ ملاحظہ ہواسلام کا قانون بین الاقوام(خطبات بھاولپور 2)،ڈاکٹرمحموداحمدغازی ،دعوہ اکیڈمی اسلام آباد

49۔ عبد الحمید احمد ابو سلیمان، اسلام اور بین الاقوامی تعلقات منظر اور پس منظر، ترجمہ عبدالحی فلاحی قاضی پبلشرز اینڈ ڈسٹری بیوٹرز نئی دہلی ۳۱، صفحہ 282)

اسلام اور سیاست

Flag Counter