سیمینار: ’’ائمہ وخطبا کی مشکلات، مسائل اور ذمہ داریاں‘‘ (۳)

ادارہ

ٰمولانا مفتی محمد طیب 

(مہتمم جامعہ امدادیہ، فیصل آباد)

نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم، امابعد! فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم۔ ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم۔

جناب صدرمکرم، علماء کرام اور معززحاضرین !

جس موضوع پہ یہ سیمیناررکھاگیاہے، یہ موضوع انتہائی اہم بھی ہے اور انتہائی مشکل بھی۔مساجد کے متعلق مسائل بھی بہت ہیں اورضروریات بھی بے شمار ہیں۔لیکن اس موضوع پر ہمارا کوئی اجتماعی فورم نہیں ہے کہ اس پرہم اکٹھے ہو کران مسائل کوسوچیں اور غورکریں۔ ضرورت کااحساس ہے لیکن ساتھ مشکلات کودیکھ کرہم پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ ہمارے فیصل آباد میں جمعیت المدارس ہے۔ ایک موقع پر مفتی زین العابدین ؒ کے خلاف حکومت نے کوئی ایکشن لیا تھا، اس کے ردعمل میں یہ بنی اورپھر بنی رہی اورالحمدللہ اس کے کافی فوائد بھی حاصل ہوئے۔ گزشتہ سال مولاناضیاء القاسمیؒ کے مدرسے پر حملہ ہوا اور اس کے ردعمل میں علمااس پلیٹ فارم پرجمع ہوئے ۔اس سے پہلے قادیانیت کے موضوع پرجمع ہوئے اورقادیانیوں کی جوفیصل آباد میں ریشہ دوانیاں تھیں، ان کو پسپا ہوناپڑا۔جمعیت المدارس کے لیے جب علماجمع ہوتے ہیں تو وہاں پر ہمارے پرانے بزرگ ہیں، قاری عبداللہ صاحب عالم بھی ہیں ،قاری بھی ہیں۔وہ ہرنشست میں کہتے ہیں کہ مساجد کے بڑے مسائل ہیں، آپ نے مدارس کے موضوع پر توکمیٹی بنالی، لیکن مساجد کے بھی بہت مسائل ہیں۔ لیکن فیصل آباد کے علما نے اس موضوع پر سوچنے کی ابھی ہمت نہیں کی، کیونکہ مسائل ہی اتنے پیچیدہ ہیں۔ اسی طرح وفاق المدارس کی مجلس عاملہ کاجوآخری اجلاس کراچی میں ہوا، وہاں ایجنڈے میں ایک چیز وفاق المساجد بھی تھی کہ مساجد کا بھی ایک وفاق بنناچاہیے توبات اسی پر آکرختم ہوئی کہ یہ ایسامشکل موضوع ہے کہ اس کو نبھانابہت مشکل ہے۔ زیادہ سے زیاد ہ یہ کیاجاسکتا ہے ائمہ اور خطباکی تربیت کا کوئی نہ کوئی نظام بنادیاجائے۔

واقعتایہ موضوع اہم بھی ہے اور مشکل بھی۔ اس لیے کہ مساجد اسلامی معاشرے میں ریڑھ کی ہڈی کی مثال رکھتی ہے اورانبیاء کرام نے اپنے کام کی بنیاد مسجد کو بنایاہے اورجس طرح مسجد کی اہمیت ہے، اس سے زیادہ مسجدمیں بیٹھنے والے عالم کی اہمیت ہے۔سب سے پہلی مسجد بیت اللہ کی ہے اور اس کی اہمیت قرآن پاک نے خود بیان کی ہے اور اللہ نے اس کی تعمیر انبیاکرام سے کرائی اوراس کی شان یہ بتائی کہ ھدی للعالمین ہے ۔لیکن اس مسجد کی تعمیر کے بعد ابراہیم ؑ کوجس چیز کی ضرورت محسوس ہوئی، وہ یہ ہے کہ اس مسجد کو آباد کرنے کے لیے رسول ہوناچاہیے ،کتاب ہونی چاہیے،مدرسہ ہوناچاہیے اوریہ بیت اللہ کی جوعالمی حیثیت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت تک نمایاں نہیں ہوئی۔مکہ معظمہ شرک کامرکز تھا۔ رسول اللہ کی بعثت اورآپ کی اکیس سالہ جدوجہد کے بعد پھرمکہ فتح ہوااورمکہ کی وہ حیثیت (ھدی للعالمین) جوقرآن پاک نے بیان فرمائی و ہ بحال ہوئی اورقیامت تک بحال رہے گی۔تومسجد جہاں اہم ہے، وہاں مسجد کا ٖخطیب اورمسجد کا امام بھی بہت زیادہ اہم ہے۔ 

آج مسجدوں کے جومسائل ہیں، ان میں ایک مسئلہ تویہ ہے کہ اس وقت زیادہ مدارس علمادیوبند کے ہیں اورپھر طلبا کی تعدادبھی علمادیوبند کی زیادہ ہے تواس کا اثریہ ہوناچاہیے کہ ان کی مساجد بھی زیادہ ہوں، لیکن مساجد ان کی زیادہ کیوں نہیں ہیں؟ اس کی وجہ کیاہے؟ فیصل آباد میں ایک مرتبہ علما بیٹھے تھے تواس پر غورہوناشروع ہوا۔فرمانے لگے کہ جونئی کالونیاں بنتی ہیں توشروع میں ایک دومکان بنتے ہیں اوروہ ایک دومکینوں کی بات نہیں ہوتی کہ وہ مسجد کو آباد کرسکیں اور دیوبندی عالم یہ چاہتاہے کہ مجھے مسجد بھی ملے اورمکان بھی ملے، تب آکرمیں کام شروع کروں گا۔ ہمارے ملک کے کچھ ایسے لوگ بھی ہیں، وہ کہتے ہیں کہ مسجد کا پلاٹ چاہیے اور لاؤڈ سپیکر چاہیے اور اس کے بعد سارا کچھ خود بخود ہو جائے گاتواس مجاہدے کے لیے اہل حق تیارنہیں ہیں اور جو لوگ تیارہیں، وہ ان حالات میں آکرپلاٹ پر قبضہ کرلیتے ہیں اور ان کا کام چل جاتاہے۔ اس لیے ان کی مساجد زیادہ ہیں ہماری نہیں ہیں۔ایک وجہ تویہ ہے۔

دوسرایہ ہے کہ دیہاتوں میں کام بہت کم ہے۔ دیہاتوں میں جومساجد ہیں، ان کا حال بہت خراب ہے۔ مساجد موجود ہیں، لیکن دیہات کے لوگوں کو کلمہ ٹھیک نہیں آتا، قرآن پاک صحیح نہیں آتا۔دیہات میں جیسے دنیاوی اعتبار سے جہالت ہے، وہاں دینی اعتبار سے بھی جہالت ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم مدارس میں شہری زندگی میں رہ کر پڑھتے ہیں اور لوٹ کر دوبارہ دیہات کی زندگی میں جانا نہیں چاہتے۔علماتوہمارے کافی فارغ ہورہے ہیں، لیکن دیہات میں نہیں جاتے۔ اس کی وجہ سے آج بھی دیہات میں شرک ہے، بدعات ہیں، رسومات ہیں۔ وہ سب اس وجہ سے ہیں کہ ہم دیہات میں پہنچتے نہیں ہیں۔

تیسری وجہ یہ ہے کہ شہری زندگی میں ہم مساجدمیں بیٹھے ہیں، لیکن مساجد میں بیٹھ کر لوگوں کو ہم دین نہیں سکھارہے۔لوگوں کو قرآن شریف پڑھانا، فقہی مسائل سمجھانا، دین کے سارے معاملات سمجھانا، پورے طورپردین کے موضوع پر ہماری مساجدجو میں محنت ہونی چاہیے، وہ ہماری مساجد میں نہیں ہے۔باقی ہمارے بھی مسائل ہیں۔ تنخواہ کم ہے،ملتاکم ہے، گزارا نہیں ہوتا۔اس کا حل توہمارے اختیارمیں نہیں ہے، لیکن دین کا کام کرنا، دین کی محنت کرنا، جس مسجد میں ایک عالم بیٹھ جائے، اس کا گھر گھر قرآ ن وسنت کی روشنی پہنچانا، یہ سب کچھ اگر ایک عالم صحیح معنی میں ارادہ کر لے تووہ کام کرسکتاہے۔ لیکن ہمارا کام جمعہ کے خطبہ اورپانچ وقت کی نمازتک محدودہوتاہے۔ ہمارے اکابر نے قرآن پا ک کادرس دیاہے، لیکن آج بیشتر مساجدمیں درس قرآن نہیں ہورہا۔آپ مشکوٰۃ شریف لے کر، ریاض الصالحین لے کر حدیث کادرس دیناشروع کریں تولوگوں کو بہت سی دین کی معلومات حاصل ہوسکتی ہیں۔ لیکن اگر مساجد کاسروے کریں توپتہ چلتاہے کہ بہت سی مساجد ہیں کہ جن میں درس حدیث کاکام نہیں ہورہا۔ آپ فقہی مسائل کی کلاس لگاسکتے ہیں، لیکن فقہی مسائل لوگوں کو بتائے نہیں جا رہے۔ مساجد میں درس قرآن پاک ،درس حدیث ،فقہی مسائل ،ناظرہ قرآن پاک، یہ وہ بنیادی کام ہیں جو آج ہماری شہری مساجد میں جہاں پر ہم موجود ہیں، نہیں ہورہے۔

ایک کمی یہ ہے کہ بعض موضوعات کو ہم دوسرے فرقوں کے لیے چھوڑ دیتے ہیں۔ مثلاً اہل بیت ہیں، حضرت حسینؓ ہیں کہ ان کے متعلق گفتگو یا تو شیعہ کریں گے یابریلوی کریں گے ۔ہمارے موضوعات میں یہ شامل نہیں ہے۔ ہمارے بزرگان دین میں بعض ایسے ہیں کہ ان کاکردار بہت اونچاہے۔ مثلاً عبدالقادرجیلانی ؒ ،خواجہ معین الدین اجمیری ؒ ہیں اوریہ بڑے بڑے اکابر ہیں توان کے ایام ولادت یاایام وفات آتے ہیں توباقاعدہ پورے ہفتے منائے جاتے ہیں اور اس موضوع پر کلام کیاجاتاہے، لیکن ہم ان موضوعات کوچھوڑ دیتے ہیں تونتیجہ یہ نکلتاہے کہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ علماء دیوبند ابل بیت کا نام بھی نہیں لیتے اور اولیاء اللہ کا نام بھی نہیں لیتے۔مجھے یہاں آکر باتیں سن کر بہت فائدہ ہوا اورمیں بیٹھے یہ تمناکررہاتھاکہ کاش میں صبح کی نشست میں بھی موجود ہوتا، آپ نے بھی استفادہ کیاہے مجھے بھی فائدہ حاصل ہو جاتا۔

مولانا فرمارہے تھے کہ حالات حاضرہ کے متعلق بات کرنی چاہیے۔ حالات حاضرہ کے متعلق بات کرنے کے لیے ایک تو میڈیا کے ساتھ تعلق رکھنے کی ضرورت ہے،دوسرا اگر خطبات دیکھیں تواپنے قریب کے ان بزرگوں کے جن کے ہاتھ امت کی نبض پر ہیں۔اس سے ہمارے خطبات میں جان پیداہوسکتی ہے ۔ہمارے موجودہ دور کے بزرگوں میں ایک بڑانام ہے مفتی تقی عثمانی دامت برکاتہم کا، ان کے خطبات ہیں اورہمارے بزرگ مولانازا ہدالراشدی صاحب کے بھی خطبات ہیں۔ ہمارے ماضی قریب کے بزرگوں میں مولانا ابوالحسن علی ندوی ؒ اورمولانا قاری محمد طیب صاحب، یہ وہ بزرگ تھے کہ جومعاشرے سے بے خبر نہیں تھے،امت کی نبض پر ان کے ہاتھ تھے۔ ان کی کتابوں سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرناچاہیے۔

میری آخری گزارش یہ ہے کہ آپ نے ایک بہت اہم اور مشکل موضوع کوچھیڑا ہے۔میری تمناہے کہ گوجرانوالہ اس موضوع پر امامت کا کردار اداکرے،اس موضوع کو آگے بڑھائے اور اس موضوع پر اکٹھے ہونے کی روایت ڈالے۔اس کا طریقہ یہ ہوسکتاہے کہ جوبڑے بڑے ادارے ہیں، وہ پروگرام کی میزبا نی کو بانٹ لیں کہ اس مہینے فلاں ادارے میں پروگرام ہوگا، دومہینے بعد دوسرے میں،پھر تیسرے میں۔ اس طرح علما بھی اکٹھے ہوں گے اورموضوع بھی آگے بڑھے گا۔ رفتہ رفتہ صورتحال بھی نکھر جائے گی اورلائحہ عمل بھی سامنے آجائے گا۔ یہ چند بکھری باتیں تھیں جومیں نے آپ حضرات کے سامنے پیش کی ہیں۔ 

اس کے علاوہ حضرت فرمارہے تھے کہ تجربات بھی بیان کرنے ہیں توتجربات حضرت کے زیادہ ہیں، ان کی زندگی بھی زیادہ مسجد میں گزری ہے۔حضرت امام اہل سنت کی تو ساری زندگی مسجدمیں گزری ہے اور وہ ہمارے لیے ایک نمونہ بھی ہے کہ شیخ الحدیث کی مسند پر بیٹھے اورمسجد کی خدمت بھی کرے ،امامت بھی کرے، یہ دونوں باتیں جمع ہوجانا بڑی بات ہے۔میں اپنا تھوڑا سا تجربہ بیان کر دیتا ہوں ۔کراچی میں ۸۲ء میں، میں نے تخصص کیا تھامفتی رشید صاحب ؒ کے پاس۔اس سے پہلے بنوری ٹاؤن میں دورہ کیاتھا۔ ایک دن میں دوپہر کوبنوری ٹاؤن آیا توحضرت مفتی ولی حسن صاحب نے فرمایا کہ کچھ لوگ بیٹھے ہیں، یہ لیاری کے علاقے کے ہیں ،آگرہ تاج کالونی کی جامع مسجد ہے تو یہ اس کے لیے خطیب چاہتے ہیں۔ آپ وہاں چلے جائیں ۔یہ وہ مسجد تھی جہاں سیدعبدالمجید ندیم صاحب نے خطابت کاآغاز کیاتھا اوراس کے بعد بھی اسی معیار کے خطیب وہاں رہ چکے تھے اورمجھے اب بھی خطابت نہیں آتی۔میں چلا گیا۔ شروع میں تو بڑی تنگی پیش آئی کہ وہ جس انداز کی خطابت تھی، وہ مجھے آتی نہیں تھی بلکہ ایک صاحب (مجھ سے پہلے جمعیت اشاعۃ التوحید والسنۃ کے ایک خطیب وہاں رہ چکے تھے) مجھے کہنے لگے کہ یہاں توحید بیان ہواکرے ۔میں نے کہا کہ ٹھیک ہے، میں بیان کروں گا۔

میں نے درس قرآن شروع کیا اوراز خود لوگوں کو ناظرہ قرآن پاک پڑھانا شروع کیا،کسی اور کے ذمے نہیں لگایا اورپھر ناظرہ قرآن والوں میں سے ایک جماعت نکالی جن کو بہشتی زیورپڑھانا شرو ع کیا۔ تقریباً چرپانچ مہینے میں وہاں رہا، اس کے بعد میرا تخصص ختم ہوگیا اورمیں فیصل آباد واپس آگیا اورماضی قریب تک وہ لوگ یہ ہی کہتے رہے کہ آپ جب بھی کراچی آئیں تو یہ مسجد حاضر ہے۔ جب میں وہاں گیاتھا، وہاں پر فقہ کے مسائل اوردوسرے مسائل بہت محنت سے سکھائے اوراس کی وجہ سے بڑی تبدیلی آئی۔اس علاقے میں جماعت اسلامی بہت مضبوط تھی۔ انہوں نے میری مخالفت شروع کردی۔ ایک آدمی نے پوچھا کہ کیوں مخالفت کرتے ہو؟ ان کا قصور کیاہے؟ کہنے لگے کہ انہوں نے ہمارے انداز سے کام کرنا شروع کردیاہے، اورکوئی بات نہیں ہے تومیں آپ کو یہ ہی پیغام دینا چاہتاہوں کہ آپ جس مسجد میں بیٹھے ہیں، وہاں کے لوگوں کواپنا ہم خیال بنائیں، ان کو اپنا شاگرد بنائیں ۔دیہاتوں کی طرف رخ کرنے کی بہت ضرورت ہے، ادھر بہت کمی ہے ۔ اللہ تعالی میری اور آپ کی حاضری کو قبول ومنظور فرمائے۔واخردعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

مولاناعبدالخبیر آزاد

(امام وخطیب بادشاہی مسجد، لاہور)

نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم۔

بہت ہی خوبصورت عنوان پر آج کی اس نشست کا الشریعہ اکیڈمی کی طرف سے انعقاد کیاگیا ہے۔ اس کے انعقادپر میں حضرت شیخ الحدیث کامشکور ہوں کہ یہ پروگرام آج کی ضرورت ہے بلکہ جیسا کہ مولانا فاروقی صاحب کہہ رہے تھے کہ ایک بڑے میدان میں اس پروگرام کوہونا چاہیے اور ان شاء اللہ ہم راشدی صاحب کی سرپرستی میں پنجاب کی سطح پر اورپورے پاکستان کی سطح پر اس عنوان پرپروگرام کروائیں گے۔

یقیناامام کے بہت سے مسائل ہیں۔ یقیناًآج چھوٹی جگہ کے امام کو بھی مسائل درپیش ہیں اوربڑی جگہ کا امام ہے تو مسئلہ اس کو بھی درپیش ہے، مگر بات وہی آجاتی ہے جوحضرت استاذالحدیث نے فرمائی ہے کہ امام کو طاقتور بننا ہے، امام کو مضبوط بنناہے۔ آج کل معاشرے کے اندر سب سے زیادہ بگاڑ پیداکرنے والی وہاں کی کمیٹی ہے اورآپ کو یہ بات بتاکرمیں خوشی محسوس کروں گا کہ بادشاہی مسجد لاہور میں آج تک ہم نے کوئی کمیٹی بنانے نہیں دی ہے۔ چاہے وہ اوقاف کی مسجد ہے، لیکن ہم نے آج تک وہاں نہ توکوئی کمیٹی بننے دی ہے اور نہ ہی ضرورت محسوس کی ہے۔ باقی اوقاف کی مساجد میں کمیٹیاں ہوتی ہیں۔ ہمارے والد صاحب حضرت مولانا عبد القادر آزاد صاحب ؒ بھی کمیٹی نہ بنانے کے حق میں تھے۔جومسائل امام کے لیے پیداکیے جاتے ہیں، وہ سب سے زیادہ مسجد کی کمیٹی پیداکرتی ہے۔

امام معاشرے میں عزت وقدرکانام ہے۔ وہی لوگ جو امام سے قرآن وحدیث سنتے ہیں،وہ اس کے پیروکار ہوتے ہیں۔ میں یہ سمجھتاہوں کہ امام کو مضبوط ہونے کی ضرورت ہے۔ امام کی کیا حیثیت ہے؟ کیا مقام ہے، کیا بلندی ہے؟ اور اس کو کس منصب پر فائز کیا گیا ہے؟ مگر آج معاشرے نے اس امام کو بگاڑ کررکھ دیاہے اورمعاشرے نے اس کو کمزور کرنے کی کوشش کی ہے۔ ایک دیہات کاامام ہے ،اس کو سال میں چالیس بوریاں گندم کی اور بیس بوریاں چاول کی دینی ہیں۔ اب اسی کو اکٹھا کرنے کے لیے لگادیا اوراس کے لیے اتنا بڑامسئلہ پیداکردیا کہ یہ مانگتارہے گا توگھر چلے گا اورپھر امام کو اس چیز پر لگادیاکہ روٹی گھر سے آئے گی تو یہ کھائے گا اورجب کھائے گا توہم اس پر حکمرانی بھی کرسکتے ہیں تویہ بہت سی چیزیں ہیں جواکٹھی ہوجاتی ہیں۔

اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ چاہے وہ مسجد پرائیویٹ ہو، چاہے گورنمنٹ کی ہو، ہم مضبوطی کے ساتھ، طاقت کے ساتھ اوراپنے اس بل بوتے پر کہ ہم نے جو علم سیکھاہے، اس علم کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے فرائض منصبی انجام دیں۔ ہمارے جو پہلے علما تھے، انہوں نے محنت کی اوراتنی محنت کی کہ وہاں پر کوئی بات کرنے والا نہیں تھا۔ سچی بات ہے کہ ابتدا میں ہمارے علمانے جتنی محنتیں کیں، آج وہ ہم نہیں کررہے۔ہم کوشش کرتے ہیں کہ کچھ نمازیں پڑھائیں، کچھ نہ پڑھائیں۔ چلے گئے، اپنے دوسرے کاموں کاپوراکیااور ان چیزوں کوایک طرف رکھ دیا۔ آج لوگ کیوں اس طرح کے نہیں بن رہے ہیں جیسا کہ ہمارے اسلاف یا ہمارے بزرگان دین جب کوئی بات کرتے تھے تو وہ بات لوگوں کے دلوں پراثرکرتی تھی اور لوگ جوق درجوق مسجدوں میں آتے تھے۔ مسجدیںآبادہوتی تھیں، مگرآج مسجدیں خالی ہوتی جارہی ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ جوامام نے کام کرناتھا، وہ بھی اس میں بخل کررہا ہے۔

میں ہندوستان گیا۔ وہاں گول مسجد دہلی کے خطیب مولانا الیاس صاحب نے ایک تنظیم بنائی ہے، تنظیم ائمہ مساجد۔ وہ اسی لیے بنائی ہے کہ ائمہ کرام کے مسائل پر غورکیاجائے اورجہاں پرکوئی مسئلہ ہو، اس کو حل کیاجائے۔ میں تووہاں سے یہ سوچ کرآیاتھا کہ جس طرح ہم دوسرے امورپرکام کررہے ہیں، ہمیں اس موضوع پر بھی کام کرناچاہیے۔ جب سے درسوں کا سلسلہ ختم ہواہے، لوگ بھی دور ہوناشروع ہوگئے ہیں، دور بھی ایسے ہوئے ہیں کہ مساجد میں آنا تک بند کردیا ہے۔ امام کے ساتھ جوتعلق تھا، و ہ نماز پڑھنے تک رہ گیاہے۔ درس دینے کاسلسلہ اورذہن سازی کاسلسلہ ختم ہو گیا ہے۔ اب محفل قراء ت یامحفل نعت کا سلسلہ رہ گیا۔پہلے جلسے ہوتے تھے تو حضرت امیر شریعت بات کررہے ہیں، باقی علما بات کررہے ہیں،ان کی بات دلوں پر اثر کرتی تھی۔ اس طرح ذہن سازی ہوتی تھی، اسی طرح ہمارے علما نے کام کیا۔ آج ہر امام کو چاہیے کہ وہ اس ضرورت کو محسوس کرے اوریقیناًجب وہ اس طرح کے کام اپنی مسجد میں کرے گا تو لوگ بھی بنیں گے۔ اسی طرح عقائد بھی سمجھائے جاسکتے ہیں ۔اگر کمیٹیاں محفل میں بیٹھیں گی تو ان پربھی اثر ہوگا۔ جب ان کے عقائد درست ہوں گے تووہ امام کے پیچھے ہوں گے اورامام ان کے آگے ہوگا۔ جس طرح عیسائیوں میں فادرکو رہبر ورہنما سمجھا جاتا ہے، سکھوں میں گرو کو رہبر ورہنما سمجھا جاتا ہے، ہندوؤں میں پنڈت کو رہبر ورہنما سمجھا جاتا ہے، اسی طرح امام کودین اسلام نے اور حضرت محمدرسول اللہ کی امت میں بڑی اہمیت حاصل ہے۔ امام کو بھی اپنے کام پورے کرنے چاہییں۔

امام کے ہوتے ہوئے ان کمیٹیوں کی بھی کیاضرورت ہے؟ ان کو ختم کرناچاہیے اورامام کو خود آگے بڑھنا چاہیے۔ نمازیں امام نے پڑھانی ہیں، خطیب امام ہے، سب کچھ امام نے کرناہے جبکہ کمیٹی کا چیئرمین کوئی چوہدری ہوتاہے، کوئی جٹ ہوتا ہے، کوئی ارائیں ہوتاہے۔ وہ کمیٹی کا صدر بننے کے لیے تیارہوجاتے ہیں، پھر وہ طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں۔ اس کی بجائے یوں ہونا چاہیے کہ ڈویژنل سطح پرجوکمیٹیاں ہیں، ان کے چیئرمین بھی امام ہوں۔یہ اتناآسان کام تو نہیں ہے، لیکن جب امام خودچیئرمین ہوگاتومسائل سارے اسی کے پاس آئیں گے۔ 

پھر ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہمارے اپنے ہی لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں کی وجہ سے ایک دوسرے کے ساتھ دست وگریباں ہو جاتے ہیں۔ ہمیں جوبھی مسئلہ پیش آتاہے، وہ اپنوں کی وجہ سے آتا ہے ۔آج ان سب مسائل کوبھی درست کرناہے۔ جیسے حضرت نے فرمایا کہ ملک ٹوٹ گئے،وہ اسی وجہ سے ٹوٹے کہ اتحاد باقی نہیں رہ سکا کہ لوگ اپنی پلاننگ میں کامیاب ہوتے۔ آج بھی یہ ہے کہ ہم اپنی جنگ مسلک کے ساتھ لڑ رہے ہیں اورہمارے ہی لوگوں کو تیارکیا جا رہا ہے۔ ہمارے مسائل اپنے مفادات تک ہیں، مسلک کی مسلک جانے۔ جن کی وجہ سے ہمیں عزت ملی ہے، اگر ہم نے اس کی پہرہ داری نہیں کرنی توپھر میرے اور آپ کے اس مسلک پرکھڑے ہونے کا کوئی فائدہ نہیں۔الحمد للہ اپنے والد صاحب کی دعاؤں سے اور ان حضرات کی سرپرستی سے میرے پاس کوئی بھی آدمی مسئلہ لے کرآجائے کہ ہمارا یہ مسئلہ ہے، آپ حل کروائیں تومیں الحمدللہ اس کے ساتھ ڈی آئی جی کے پاس جاتاہوں۔ کمشنر کے پاس جاتاہوں۔ اگرلا ہور کانہیں تومیں فون پر بات کرتا ہوں اورپھر اس مسئلے کوہم ختم کراتے ہیں۔ کتنی ہی مساجد ہیں جن کے مسائل ہیں۔ ہم نے اس کو اسی لیول پر ختم کیا اورآج وہاں پر اسی طرح نظام اور سلسلے چل رہے ہیں۔

بائیس مسجدوں کے مسائل آئے۔ حضرت مولانا فاروقی صاحب اورحضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب جانتے ہیں۔ وہ بھی اسی مجلس میں شامل تھے۔ حکومت پنجاب کی طرف سے کہاگیاکہ یہ بائیس مساجد مزارات کے ساتھ منسلک ہیں۔چونکہ مزارات بریلویوں کے ہیں، لہٰذا یہ مساجد بریلویوں کودے دی جائیں۔ اس کے بارے میں نوٹیفیکیشن جاری ہوگیاتھا۔ میں حج سے واپس آیا تو اس مسئلے کو دیکھا۔ ایک ایک عالم کے پاس میں گیااورکچھ سے فون پر بات کی اوریہ تحریک چلائی کہ ہم ایک مسجد بھی ان کے پاس نہیں جانے دیں گے اور اللہ کا فضل ہے کہ اللہ نے اس میں اپنی غیبی مدد کے ساتھ کامیابی عطا کی۔ میاں صاحب خود کہنے لگے کہ جو آرڈر میں نے دے دیے، وہ ٹھیک ہیں۔ باقیوں پر پھر بات کرلیں گے۔ مولاناقاری حنیف جالندھری صاحب نے کہا کہ باقیوں پرنہیں، اسی پربات ہوگی۔ اس مسئلے کو لے کر میں چلا اور تقریباً پورے پنجاب کے علماء کرام کو لا کر میاں صاحب کے سامنے بٹھا دیااوران کو قائل کیاکہ یہ مسئلہ جوآپ کو بتایا گیا ہے، وہ غلط ہے۔ محکمہ اوقاف بننے سے پہلے اورقیام پاکستان کے بعدسے یہ مساجد علمادیوبندکے پاس ہیں اور یہ مزارات بھی دس پندرہ سال پہلے کے بزرگوں کے نہیں ہیں بلکہ سوڈیڑھ سوسال پہلے فوت ہونے والے بزرگوں کے ہیں اوراس وقت تو یہ مسلکوں کی بات بھی نہیں تھی، لہٰذا جس مسلک کے بھی علماء کرام آتے رہے، ان کے ساتھ یہ مزارات بھی منسلک رہے۔ پھر ہم نے وہ لسٹ بھی ان کو دی۔

ایسے ایسے مسائل ہیں جو ہم کو وہاں بیٹھ کر حل کرنے پڑتے ہیں۔ اس کی وجہ سے مصائب بھی آتے ہیں کہ یہ لوگ ہرکام میں شامل ہونے کی کوشش کرتے ہیں، اس کا کوئی حل کیا جائے۔جب حل نظر نہیں آتا توکوشش کرتے ہیں کہ ان میں سے دوچار آدمی لے لیے جائیں جومفاد پرست ہوں، ان کو لے کر ان کو پیچھے کردیاجائے،مگر ہوناوہی ہوتاہے جو حکم ربی ہے، جوفیصلہ اللہ کی طرف سے ہے۔ میں نے یہ مشاہدہ کیاہے کہ جو فیصلہ رب کر چکا ہے، اس کے فیصلے میں کوئی کسی قسم کی دخل اندازی نہیں کرسکتا۔ یہ نہیں کہ آپ کمیٹیوں کو جاکر فارغ کردیں یا ان کا سر پھاڑ دیں بلکہ آپ حکمت عملی کے ساتھ، ہمت کے ساتھ ماحول بنائیں، ان شاء اللہ اس ماحول کی وجہ سے ایک وقت آئے گا کہ لوگ آپ کے ماتحت ہو جائیں گے۔

لاہورمیں بادامی باغ کی مسجد کا مسئلہ آیا۔ وہاں ہرروز لڑائی ہوتی تھی۔ ایک گھر تھاجودوسرے مسلک کا تھا، وہ تنگ کر رہا تھا، لڑائی کی طرف بات جارہی تھی۔میں نے ان سے کہاکہ لڑائی نہیں کرنی۔ ایک دن وہ وہاں جلوس لے آئے۔ ہمارے بھی سینکڑوں بندے وہاں جمع ہوگئے۔ دوتین مرتبہ انہوں نے وہاں پرجلوس بٹھائے۔ ،تبلیغی جماعت کی مسجد تھی اور ہم سے وابستہ تھی،ان کے امیر اس بات کوبرداشت نہ کرسکے۔ ان کو ادھر ہی ہارٹ اٹیک ہوا اور وہ ادھر ہی فوت ہوگئے۔ اب پرچہ اس آدمی پر بھی ہوا اورآنے والوں سب پرہوا۔ وہ دیوار بھی بنی اورمسجد بھی بن رہی ہے۔ ہمارے ایک ساتھی کی قربانی توہوگئی، مگر الحمد للہ وہ ناکام اوربرباد ہوئے، کامیابی اللہ نے ہمیں دی۔ آپ جانتے ہیں کہ ایک دفعہ پہلے والد صاحب بادشاہی مسجد لاہور میں القاری الکبیر حضرت باسط صاحب کو لائے۔ بادشاہی مسجد میں ایک جم غفیر تھا۔ لوگ حیران تھے کہ اتنا ہجوم ہے توبعض لوگوں نے کچھ کو شرارت کے لیے بھیجا۔ شرارت ہوئی، پھر مقدمات کاسلسلہ، پھر تحریک، تحریک میں یہ سب حضرات موجود تھے۔ آپ میں سے بھی کچھ گئے ہوں گے جنہوں نے ماریں کھائیں۔ اللہ نے ہمیں وہاں پر بھی فتح نصیب فرمائی۔ 

اللہ کاشکر ہے کہ آج پوری دنیا میں مسلک دیوبند کی ترجمانی کر رہے ہیں اور دنیا کا کوئی کونا ایسا نہیں ہے جہاں پر مسلک دیوبند کا فرزند کام نہ کررہاہو اورہرجگہ ائمہ اور خطباکام کرہے ہیں۔ تھوڑی اپنی ناچاقیاں ہیں، ان کوختم کردیں اورنچلی سطح پرہمیں ضرورت ہے کہ ان کوختم کردیں۔ صحابہ کرام کے دلوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دی ہوئی تعلیم تھی جس کی وجہ سے وہ آپس میں پیار اورمحبت سے رہتے تھے، اس لیے اللہ نے قرآن پاک میں رحماء بینہم کہا کہ آپس میں پیار محبت سے رہتے ہیں۔ جب محبت کے ساتھ قافلے چلتے ہیں تو اللہ کی طرف سے فتح ونصرت کے باب کھلتے ہیں۔ میرااورآپ کا وقار اس سے وابستہ ہے اور اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعاہے کہ ہم معاشرے میں ایک ایسا امام پیدا کریں کہ وہ اس معاشرے کے مسائل درست کرسکے اوراسی کی آج معاشرے کو ضرورت ہے۔ یہ سب کچھ مدارس سکھا رہے ہیں، استاداوراکابر سکھا رہے ہیں۔ جب ان کو مان کرچلیں گے توعزتیں بھی ہیں، رفعتیں بھی ہیں، وقار اور بلندیاں بھی ہیں اورحق کا بول بالابھی ہوگا۔

ابھی چند دن پہلے جرمنی کے شہر میونخ میں ایک کانفرنس ہوئی جس میں اسی (۸۰) ممالک سے لوگ آئے۔ وہاں پر جب میرا نام لیا گیا کہ سید عبدالخبیرآزاد امام بادشاہی مسجد لاہور آپ سے خطاب کریں گے تومیں نے وہاں پر وہ سارے مسائل بیان کیے جودنیا کے لیے چیلنج ہیں۔میں نے کہاکہ آپ لوگ کہتے ہیں کہ دہشت گرد پیداہوگئے ہیں، کبھی آپ نے سوچاکہ اس کے اسباب کیاہیں؟ آپ لوگ دوسرے ملکو ں پر قبضے کرکے اوروہاں کے لوگوں کو تہس نہس کرکے،حملے کر کے یہ سمجھتے ہیں کہ آپ وہاں پرامن قائم کررہے ہیں تویہ غلط ہے۔ اگرآپ چاہتے ہیں کہ دنیامیں امن قائم ہو تو جنگوں کے ساتھ نہیں بلکہ ڈائیلاگ کے ساتھ ان مسائل کاحل نکالنا ہوگا۔ ہم پھر ہی دنیا میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔ اسلام امن پسند اورمحبت کوپھیلانے والا مذہب ہے اورآج ہمیں اپنے دین کے مطابق اپنے اپنے دین میں رہتے ہوئے اپناکام کرناہے۔ اور بھی بہت کچھ بیان کیا تو یقین جانیں، تقریباً پندرہ منٹ تک لوگ تالیاں بجاتے رہے۔ تقریباً ہرمذہب کے لوگ وہاں موجود تھے۔ 

ہمارے والد کوامام السلاطین کالقب ملا۔ آپ دیکھیں کہ جب اللہ قدرومنزلت بڑھانے پرآتاہے توبادشاہوں کا بھی امام بنادیتاہے۔ کراچی میں تمام بادشاہ پیچھے کھڑے تھے، وہ آگے کھڑے تھے۔ ایک جوڑااسی کو دیکھ رہاتھا تواس نے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ شکل وصورت اچھی ہے۔ وہ یہ سمجھے کہ شاید کوئی بادشاہ ہے تو پتہ چلاکہ نہیں، یہ ایک فقیر درویش ہے جو ان کی امامت کرا رہاہے۔ وہ جوڑاغیرمسلم تھا۔ ادھر ہی اس نے کلمہ پڑھا اوراسلام قبول کرلیاتوجب قدرومنزلت بڑھتی ہے تودنیا کے اندر ڈنکا بجتاہے۔ آج الحمدللہ علماء دیوبند ڈنکا بجارہے ہیں اوران شاء اللہ قیامت تک بجاتے رہیں گے۔ اللہ تبارک وتعالی مجھے آپ کو عمل کرنے کی توفیق عطافرمائے۔

میں ایک دفعہ پھر مولانا زاہدالراشدی صاحب کا اوران کے صاحبزادہ صاحب کا شکریہ اداکرتاہوں کہ انہوں نے اتنے خوبصورت موضوع پر یہ نشست منعقد کی۔ ہمیں کام کرنا ہے، بلکہ ہم علما کی مشاورت کے ساتھ اس کام کو آگے بڑھائیں گے بلکہ ہرسطح پر، ہرڈویژن پر ایسی کمیٹیاں بنائی جائیں گی جوامام کی قدرومنزلت کواجاگر کریں گی۔ ہمیں چاہیے کہ جوکوتاہیاں ہیں، ہم ان کو ختم کریں۔ جب ہم متحد ہوجائیں گے تویہ سب لوگ ہمارے سامنے کچھ بھی نہیں ہیں۔ یہ بہت کمزورلوگ ہیں۔ اللہ ہمیں عمل کی توفیق عطافرمائے۔ واٰخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

مولانا زاہدالراشدی

(ڈائریکٹر الشریعہ اکادمی، گوجرانوالہ)

سب سے پہلے تومیں مفتی صاحب کا شکریہ اداکرتاہوں کہ انہوں نے اپنے تاثرات ،مشاہدات اور تجربات سے مستفید فرمایا۔دوتین باتوں کے ساتھ میں بھی اس میں شرکت کرناچاہوں گا ۔تجربات توبہت ہیں، لیکن مشاہدات کی بات کروں گا۔

آج کل ہمارا بڑا مسئلہ ایک یہ ہے جودن بدن بڑھتا جارہاہے،خطبا کے لیے بطور خاص، کہ لوگ بالکل خطبہ کے وقت آتے ہیں،خطبہ سنتے ہیں، نماز پڑھتے ہیں اورچلے جاتے ہیں۔ہماری گفتگو سے سامعین کو زیادہ دلچسپی نہیں ہوتی۔ اکثر مساجد میں یہی ہوتاہے۔ اس کی ایک وجہ میں عرض کرتاہوں۔آج سے دس پندرہ سال پہلے جنگ اخبار برطانیہ میں ایک نوجوان کا مراسلہ شائع ہوا ۔ اس نے لکھاکہ اب ہم نے یہاں مساجد میں جانا کم کردیاہے،کیوں کہ اس کی تین وجوہات ہیں۔ ایک وجہ تویہ کہ خطیب صاحب جس موضوع پر گفتگوکررہے ہوتے ہیں، وہ ہماری دلچسپی کے موضوع نہیں ہیں۔ ہماری ضرورت کے مسائل اورہیں۔ حلال وحرام کے مسائل ،معاشرت، نکاح ،طلاق کے مسائل ہیں اوروہ کسی اور موضوع پر گفتگو کر رہے ہوتے ہیں، اس لیے جو وہ کہہ رہے ہیں ان سے ہمیں کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔دوسری وجہ یہ ہے کہ جس زبان میں و ہ بات کررہے ہوتے ہیں، وہ ہمیں سمجھ نہیں آتی۔ان کی زبان اورہے اورہماری زبان اور ہے۔ یہ ادھر کامسئلہ ہے کہ نئی نسل زبان کو نہیں جانتی۔ اور تیسری وجہ یہ ہے کہ ہم تو مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے جاتے ہیں اور تقریباً ہر نماز کے بعد کوئی صاحب اٹھتے ہیں اور اپیل کرنے لگتے ہیں یادامن پھیلادیتے ہیں توہم چندہ دینے تونہیں جاتے، مسجد میں نماز پڑھنے جاتے ہیں۔ ہرنماز کے بعد تو ہم چندہ نہیں دے سکتے ۔یہ تین وجوہا ت اس نے اپنے مراسلہ میں لکھی تھیں۔

ایک اور مشاہدہ عرض کرتاہوں۔ برمنگھم میں ختم نبوت کانفرنس ہوتی ہے۔ وہاں گرمیوں میں صبح نوبجے سے لے کر شام آٹھ بجے تک وقت ہوتاہے۔ایک مرتبہ وہاں کانفرنس ہوئی۔ میں نے بھی وہاں تقریباً بیس ،پچیس منٹ بات کی۔ ہمارے پنجاب کے جسٹس نذیرغازی بریلوی مکتب فکرسے تعلق رکھتے ہیں،لیکن ختم نبوت میں ہمیشہ ساتھ رہے ہیں۔ اس وقت وہ پنجاب کے ڈپٹی ایڈووکیٹ جنرل تھے،انہوں نے بھی وہاں تقریر کی۔ شام کو نودس گھنٹے کی کانفرنس کے بعد جب عصر کی نماز پڑھ کر فارغ ہوکرنکل رہے تھے تو ایک نوجوان نے مجھے پکڑ لیاکہ مولوی صاحب میری بات سنیں ۔ ہم صبح سے آئے ہیں، ثواب کی نیت سے آئے ہیں، ثواب کی نیت سے بیٹھے ہیں،سمجھ میں کچھ نہیں آیا کہ آپ لوگوں نے کیا کہا ہے۔ کچھ آپ کی بات سمجھ میں آئی ہے اورکچھ نذیرصاحب کی تقریر سمجھ میں آئی ہے، باقی ہمیں کچھ پتہ نہیں چلا کہ آپ ہمیں کیاپیغام دینا چا ہتے ہیں۔

آج کی اصطلاحات،آج کے اسلوب ،آج کی نفسیات بالکل مختلف ہیں۔آج سے پچا س سال پہلے کے اسلوب سے زبا ن بدل گئی ہے،معیار بدل گیاہے ،محاورے بدل گئے ہیں ،نفسیات بدل گئی ہیں۔بات سمجھانے کے لیے عرض کرتا ہوں۔ہمارے بڑے مفکرین میں گزرے ہیں مولانا ابوالکلام آزاد۔ ان کی تقریر ،ان کی خطابت اپنے دور کی پرشکوہ خطابت تھی،اپنے دورمیں معیاری سمجھی جاتی تھی ۔آج اگر ان کے لہجے میں بات کریں تولوگ کہتے ہیں کہ مولانا صاحب کوئی وظیفہ پڑھ رہے ہیں۔ ایک لطیفہ بھی ہے اس کے بارے میں،پتہ نہیں لوگوں نے خود گھڑا ہے یاواقعی سچ ہے۔ کہتے ہیں کچھ لوگ مولانا صاحب کے پاس آئے ،انہوں نے بات پوچھی،کوئی سوال پوچھا۔ مولانا صاحب نے اپنے اندازمیں کوئی جواب دیا جس میں آد ھی فارسی ،آدھی عربی تھی۔آج سے پچاس سال پہلے کی گفتگو تھی ،مشکل محاورے ،مشکل باتیں۔ اس زما نے میں جتنی مشکل گفتگو ہوتی تھی ،جتنے مشکل کوئی محاورے بولتا تھا، وہ اتناہی بڑا خطیب ہوتا تھا۔ مولانا صاحب نے ان دیہاتیوں کو اپنی زبان میں جواب دیا توچوہدری اپنے ساتھیوں سے کہنے لگا کہ چلو بھئی چلتے ہیں،کیوں کہ مولانا صاحب تو اس وقت کوئی وظیفہ کررہے ہیں۔ تو آج کی زبان وہ نہیں ہے۔ آج تو آپ سادہ لہجے میں بات کریں گے۔ 

آج سے پچاس ساٹھ سال پہلے گفتگو کا معیار یہ تھا کہ آپ نے عشا کی نماز کے بعد گفتگو شروع کی ہے اور،صبح فجر ہوگئی ہے۔ لوگوں کو پتہ نہیں چلا ٹائم کا،لوگ آرام سے بیٹھے سن رہے ہیں۔ اب آپ آدھے گھنٹے سے زیادہ بات کریں گے تولوگ کہیں کہ یہ کیا بور کر رہا ہے۔ مولوی صاحب بس وی کرو۔ سادہ لہجوں میں مختصر وقت میں آپ اپنی بات سمجھا سکتے ہیںیانہیں سمجھا سکتے۔ حضرت مولانا محمد علی جالندھری ؒ نے مجھے خطابت پر لیکچر دیاتھا،اس کا صرف ایک جملہ میں عرض کروں گا۔ مولانا فرمایا کہ ’’مولوی صاحب خطیب کینوں کہندے نیں؟ جے سامنے بیٹھے بندے تیری گل سمجھ دے نیں تے توں خطیب ایں، نہیں تے گھٹا تے سواہ ایں۔‘‘ آج خطابت یہ نہیں ہے کہ مولوی صاحب تقریر کرکے جائیں تولوگ کہیں کہ واہ واہ بہت زبردست تقریرکی ہے ۔کیاکہاتھا؟پتہ نہیں ہے۔ 

ہمیں یہ محسوس کرناچاہیے کہ ہمارے ساتھ لوگوں کے انس کی کمی کے اسباب کیاہیں ۔ایک وجہ تویہ ہے کہ ہم لوگوں لوگوں کے مانوس لہجے میں بات نہیں کرتے ،لوگوں کی نفسیات کے مطابق بات نہیں کرتے۔ ہماری خطابت وہی پرانی، مناظرانہ، مجادلانہ، طعن وتشنیع، بازوکس لینا، ہماری خطابت آج سے تیس سال پہلے والے سنٹر پر کھڑی ہے اوراب جو خطابت کے میدان میں تبدیلی آئی ہے، وہ ہم نے محسوس نہیں کی ہے، اس کو اپنایانہیں ہے ۔آج کی زبان اورتحریر دونوں سادہ ہیں۔ جتنی سادہ اورمختصر آپ بات کریں گے، اتنے بڑے آپ خطیب ہیں۔دوسری بات جومیں عرض کرنا چاہتا ہوں ،یہ بات میں اکثر کہاکرتاہوں کہ اب عام پڑھے لکھے لوگوں کے پاس بھی معلومات کاذریعہ میں یا آپ نہیں ہیں۔ آج سے تیس،چالیس سال پہلے معلومات کا ذریعہ ہم ہی تھے۔پڑھا لکھا آدمی بھی ہماری دی ہوئی معلومات کو ٹھیک سمجھ لیتا تھا۔ اب صورت حال یہ ہے کہ جھوٹی یاسچی، میرے علاوہ اورلوگوں کے پاس معلومات کے ذرائع بھی ہیں۔ کوئی انٹر نیٹ پر بیٹھا ہے، کوئی اخبارات پڑھتا ہے،میگزین پڑھتاہے ،چینل پروگرام دیکھتاہے۔ میں غلط یا صحیح کی بات نہیں کر رہا، لیکن اس کی معلومات کا دائرہ ہم سے وسیع ہے۔ آج کے اس میڈیا کے پھیلاؤ نے ایک عام آدمی کو معلومات کی بہت سی کھڑکیاں دے دی ہیں۔ وہ اپنی میز پر بیٹھے بیٹھے ایک بٹن کلک کرتا ہے، ایک طرح کی معلومات لے لیتا ہے۔ دوسرابٹن کلک کرتاہے، دوسری طرح کی معلومات لے لیتا ہے۔ اس کے بعد وہ آپ سے مسئلہ پوچھتا ہے۔ ہمیں اپنے قارئین کو مطمئن کرنے کے لیے اپنی معلومات کا دائرہ وسیع کرناپڑے گا۔ہمیں معلومات کے ساتھ محاکمہ بھی کرنا پڑے گا۔عام آدمی صرف معلومات پرفیصلہ کرے گا۔یہ ہمارا کام ہے کہ ہمارے پاس جومعلومات ہیں، ہم اس پر ٹھیک فیصلہ کریں کہ یہ ٹھیک اوریہ دلیل شرعی کی بات ہے اوریہ ٹھیک نہیں ہے۔ ہم یہ کام نہیں کررہے ہیں۔ نہ لوگوں کی ذہنی سطح پرآرہے ہیں، نہ ہماری معلومات کا دائرہ وسیع ہے۔ ہم تو بہت سی جگہوں پر خارجی مطالعہ کو ویسے بھی حرام سمجھتے ہیں۔

ایک دفعہ ایک مسئلہ پر میں معلومات لے رہا تھا۔ ایک کتاب تھی جوایک دینی مسئلے پر تھی اورکسی پروفیسر کی لکھی ہوئی تھی۔ایک صاحب مجھے دیکھ کر پریشان ہوگئے کہ مولوی صاحب! آپ یہ کتابیں پڑھتے ہیں؟ میں نے کہا کہ ہاں بھئی پڑھتاہوں۔ معلومات توجہاں سے بھی ملیں، لے لینی چاہییں۔ دیکھیں، لوگ ہمارے پاس کس لیے آتے ہیں؟ دینی معلومات لینے کے لیے۔ خطبے یاجمعے کیوں سنتے ہیں،درس کیوں سنتے ہیں؟ اگر وہی بات اس کو رات کوکسی چینل میں مجھ سے اچھے لہجے میں مل جائے تووہ میرے پاس کیوں آئے گا؟ میں اسلوب کی ،لہجے کی بات کررہاہوں۔ وہ بات مجھ سے اچھے لہجے میں نے رات کو کسی چینل میں سنی ہے تووہ میری بات سنے گا یا چینل کی بات سنے گا ؟ وہ کہے گا کہ وہی بات رات انہوں نے بڑی اچھی کی تھی۔ بات صرف اسلوب کی ہوتی ہے ،لہجے کی ہوتی ہے ،شائستگی کی ہوتی ہے۔ جو بات میں لڑائی کے انداز میں کررہاہوں، وہ رات چینل میں بیٹھا ہوا کوئی آدمی بڑی محبت کے انداز میں کررہاہوتاہے توسننے والے کو وہ بات پسند آجاتی ہے کہ اس نے کتنی اچھی بات کی ہے۔

تومیں یہ عرض کررہاہوں کہ حالات کے رخ پر جوتبدیلیاں ہیں ،ان کو محسوس کرناچاہیے ۔حالات کے مطابق ڈھلنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ میں اپنا موقف ،اپنا مذہب یااپنا عقیدہ چھوڑ دوں۔ نہیں،بلکہ اپنے لہجے کو،اسلوب کو،اپنی گفتگو کے انداز کو، تحریر کے انداز کو آج کے حالات کے مطابق اپنانا ہوگا ۔ہم لوگ درس نظامی میں بڑے شوق سے مقامات حریری اورمقامات ہمدانی پڑھتے ہیں۔ آج اس زبان میں آپ خطبہ دیں گے ؟وہ ہزار سال پہلے کی زبان ہے،اس دور کی زبان سے واقفیت کی اپنی افادیت ہے۔ لیکن آج اگر حریری کا کوئی خطبہ آپ نقل کر لیں تولوگ کہیں گے کہ مولوی صاحب وظیفہ کررہے ہیں۔ آج کا اسلوب اختیار کریں ، لوگوں کی ذہنی سطح سمجھیں۔ لوگوں کے ہم سے دور ہونے کا ایک بڑاسبب یہ بھی ہے جومیں نے بیان کیاہے۔ 

میں آخر میں یہ کہوں گاکہ جوکچھ علماء کرام نے تجاویز پیش کیں ہیں، ہم ان کو مرتب کرکے شائع کریں گے اور یہ سیمینار ہمارا آخری سیمینار نہیں ہے،ان شاء اللہ جب تک ہم کسی نتیجے پر نہیں پہنچ جاتے ،ہم یہ سیمینار چلاتے رہیں گے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ مجھے ،آپ کو عمل کرنے کی توفیق عطافرمائے۔ یہ ایک جامع رپورٹ آئے گی کہ امہ اور خطباکے مسائل کیاہیں اوران کا حل کیاہے ۔میں آخر میں سب حضرات کا بہت شکریہ اداکرتاہوں اورخداحافظ کہتاہوں۔ 

الشریعہ اکادمی