سیمینار: ’’ائمہ و خطبا کی مشکلات، مسائل اور ذمہ داریاں‘‘ (۲)

ادارہ

مولانا عبد الواحد رسول نگری 

(مدرس مدرسہ اشرف العلوم، گوجرانوالہ)

نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم، امابعد!

انتہائی لائق احترام علماء کرام، ائمہ کرام! آج کی اس مبارک نشست میں بڑے قیمتی بیانات آپ سماعت فرماچکے ہیں۔ عنوان ہے ’’ائمہ اورخطبا کی ذمہ داریاں اور مشکلات‘‘۔

محترم دوستو!امام اور خطیب کی ذ مہ داری سمجھنے سے پہلے ہمیں اس اہم نکتے کی طرف بھی توجہ دینی ہے کہ امام اور خطیب کا تعارف مسجد کی مناسبت سے ہوتاہے اوراس کی تمام تر ذمہ داریاں بھی مسجد کے عنوان سے ہیں۔خود مسجد اسلامی تعلیمات کی روشنی میں کیامقام رکھتی ہے اوراسلامی سوسائٹی میں کیامقام رکھتی ہے اوراسلامی سوسائٹی میں مسجد مسلمانوں کی کن کن ضروریات کو پوراکرسکتی ہے؟جب مسجد کی وہ حیثیت جس سے ہم فائدہ اٹھا سکتے ہیں، سامنے آئے گی تومسجد کی مناسبت سے امام اورخطیب کا بھی تعارف ہے، وہ بھی سامنے آئے گا۔ 

مسلمانوں کی چار اہم ترین ضروریات ہیں جومسجد سے پوری ہوتی ہیں۔ پہلی ضرورت یہ ہے کہ ہر مسلمان کو ایک عبادت گاہ چاہیے۔ دوسری ضرورت یہ ہے کہ ہرمسلمان کواسلامی زندگی گزارنے کے لیے ایک درس گاہ چاہیے جہاں سے وہ اپنی روزمرہ زندگی میں علمی طورپر رہنمائی لے سکے۔ تیسری چیز یہ ہ یکہ ہرمسلمان کو اپنے کردار، احوال اورقلب کی اصلاح کے لیے کوئی تربیت گاہ چاہیے اور چوتھی چیز مسلمانوں کے پاس ایک ایسا ادارہ ہو جہاں وہ باہم ملاقات کر سکیں، بہت قریب ہو کر ملیں، ایک دوسرے کو دیکھ سکیں، ایک دوسرے کے پاس بیٹھ سکیں،کھڑے ہوسکیں۔ یہ چار چیزیں مجموعی طور پر ہماری ضرورت ہیں۔ عبادت گاہ کا وجود، درس گاہ، تربیت گاہ، باہمی رابطے اورملاقات کاادارہ۔ غور کریں تومسجد کو اللہ پاک نے ان چیزوں کا مرکز بنایاہے اور مسجد کا امام وخطیب ان چاروں چیزوں کا نگران اور ذمہ دارہے۔ امام وخطیب کی ذمہ داریوں میں سب سے پہلی چیز اس حوالے سے کہ مسجد عبادت گاہ ہے، یہ شامل ہے کہ ہر وقت عبادت کا اہتمام کرے،لوگوں کو عبادت کی ادائیگی میں سہولیات فراہم کرے۔اوقات نماز ،اذان وغیرہ امام ان کو اپنی ذمہ داریوں میں لے۔یہ معنی نہیں کہ خود وہ اذانیں دے بلکہ یہ کہ بر وقت اذان ہورہی ہے، جماعت ہورہی ہے ،اس کا دھیان رکھے۔ ایسے ہی امام کی ذمہ داریوں میں عبادت کی ادائیگی کے وقت، نمازیوں پر دھیان رکھنا کہ ان کی صفیں درست ہیں، صفوں کے اندر کوئی خلل تو نہیں اور آج کل ایک اور چیز کی طرف توجہ دلانا بھی امام کی ذمہ داریوں میں آچکاہے۔ جب کوئی نمازی نماز کے لیے مسجد میں آتا ہے توتقریباً ہر نمازی کی جیب میں موبائل فون بھی ہوتاہے۔ اس بات کی طرف توجہ دلانی چاہیے کہ فون کو بند کر لیاجائے تاکہ عبادت کی ادائیگی میں کوئی خلل واقع نہ ہو ۔امام چونکہ عبادت کا نگران بھی ہے، اس کی ذمہ داریوں میں یہ بات بھی شامل ہے کہ عبادت کی ادائیگی میں نمازیوں کا لحاظ کرے۔ جیسے حدیث مبارکہ میں تخفیف قراء ت کا تذکرہ ہے کہ اس کے پیچھے نماز پڑھنے والوں میں ،بیمار ہیں ،مسافر ہیں، کمزور ہیں، ضعیف ہیں۔ امام صرف اپنے ذوق عبادت کوسامنے رکھ کر امامت نہ کرائے۔

یہ تو ذمہ داریاں ہیں جن کا تعلق اس بات سے ہے کہ مسجد عبادت گاہ ہے۔مسجد کا خطیب جمعہ کی خطابت کے لیے وقت مقررہ کاضرور لحاظ رکھے ۔ہماری کوتاہیوں میں سے ایک کوتاہی یہ بھی ہے کہ ہم جووقت لوگوں کوبتادیتے ہیں، اس وقت پر عبادت کا اہتمام نہیں کرتے ۔لوگوں میں چہ میگوئیاں شروع ہوجاتیں ہیں اور ہمارے دل میں بات آتی ہے کہ دومنٹ اوربات کرلیں، شاید لوگوں کے دل میں دین کی اورباتیں بھی آجائیں۔ میرے بھائیو! لوگ وقت مقررہ سے ایک سیکنڈ بھی اوپر ہو جائے تو اس کو بوجھ سمجھتے ہیں۔ 

مسجد کا ایک تعارف اس حوالے سے ہے کہ مسجد مسلمانوں کی درس گاہ ہے ۔حضور نبی کریم ﷺ کے مبارک ز مانہ میں مسجد نبوی میں مسلمانوں کی درس گاہ کاکردار ادا کیا گیا۔ آج بھی مسلمانوں کی بنیادی دینی تعلیم کی ضروریات مسجد ہی سے پوری ہورہی ہیں۔ مثلاً ہرمسلم گھرانے کی سب سے پہلی ضرورت یہ ہے کہ ان کے بچے کم از کم ناظرہ توپڑھ سکیں، لہٰذا اسی بنیاد پر مسجد دیہات کی ہو یا شہر کی،کینٹ کی ہویا ڈیفنس کی، وہا ں اس بنیادی ضرورت کا ضرور اہتمام ہوتاہے ، لیکن اس سے آگے بڑھ کر روز مرہ زندگی کے تمام شعبہ جات میں دینی،علمی رہنمائی کی فراہمی بھی مسجد سے متعلق ہے۔ اگر کوئی شخص تجارت سے وابستہ ہے تو اس کی تجارت کے مسائل میں رہنمائی ،کوئی شخص زراعت سے وابستہ ہے تو اس کی اس میں رہنمائی، کوئی شخص کسب یعنی محنت مزدوری سے وابستہ ہے تو اس کی اس میں رہنمائی،پھرگھریلواحکام ومسائل طلاق، نکاح وغیرہ اور ا س کے علاوہ بے شمار مسائل ہیں۔ یہ سارے کے سارے مسائل مسجد کے منبر ومحراب سے پورے ہوں گے۔ بالخصوص آج کے زمانہ میں اس کی ضرورت اوربڑھ گئی ہے۔ جب مسجد منبر ومحراب سے یہ ضرورت پوری ہوتی نظر نہیں آ رہی تو وہ ٹی وی چینلوں کی طرف رجوع کرنے لگے ہیں اورٹی وی چینلوں کے سامنے بیٹھے ہوئے دانش وروں سے اپنے خوابوں کی تعبیر پوچھنے لگے ہیں۔وہ اپنے استخارے، مسائل اور دیگر لغویات کے لیے امام وخطیب کی طرف رجوع کرنے کی بجائے کسی کی اور طرف کربیٹھے۔ وہ کیوں گئے؟ یہ ایک الگ عنوان ہے ۔ان میں ایک کوتاہی میری اورآپ کی ہے کہ ہمارا مطالعہ بہت قلیل ہے ۔ہم صحیح طریقے سے ان کی رہنمائی کرہی نہیں سکتے۔ آدمی نے روزہ رکھا ہے تو کن چیزوں سے روزہ ٹوٹ جاتاہے، نماز پڑھ رہے ہیں تو دوران نماز میں کن چیزوں سے نماز فاسد ہوجاتی ہے۔اگر میں اورآپ یہ مسائل بتلانہیں سکتے توکم از کم بتلانے والوں کی ضرورت اوراہمیت توان کے دلوں میں بٹھاسکتے ہیں کہ بھائی آپ ان شعبوں میں لگے ہیں، اس شعبہ کے مسائل جاننے کے لیے آپ مدرسہ نصرت العلوم چلے جائیں، مظاہرالعلوم چلے جائیں، دارالعلوم چلے جائیں، کسی مدرسے کی طرف رجوع کریں۔

ایک کوتاہی ہماری یہ ہوتی ہے کہ ہمارا رویہ بہت سخت ہوتاہے۔ ایک نوجوان کے دل میں بہت سے سوالات کھڑے ہو سکتے ہیں۔ دین کے حوالے سے وہ غلط فہمی کا شکار ہوسکتاہے۔ کوئی زہریلا مواد اس کے دل میں اشکال پیدا کر سکتا ہے۔ وہ اشکال انتہائی سنگین ہوسکتاہے۔ اب اگر وہ اپنے ذہن میں اٹھنے والے سوال کو امام کے سامنے عرض کرتا ہے تو فوراً ہماری طرف سے سخت ترین جملہ اس کی طرف جائے گا: توتودہریہ ہورہاہے، تو توبددین ہورہاہے ۔اس کو کچھ کہنے دیں، اس کی زبان کی بات دل پر آنے دیجیے۔ وہ آئے گی اور اس کی فکر اس کی سوچ کا اندازہ ہوگا توہم اس کی رہنمائی کریں گے۔

ایک اوربات اسی مناسبت سے کہ مسجددرس گاہ ہے اور لوگوں کی علمی رہنمائی کا مؤثر ادارہ ہے، یہ بھی عرض کردوں کہ ایک امام وخطیب یہ دیکھے کہ میری یہ مسجد آئینی،قانونی اوردستوری طور پر جس مسلک سے وابستہ ہے اوریہاں کے نمازی جس مسجد سے وابستہ ہیں، اگر ان نمازیوں کواپنے مسلک پر عمل کرتے ہوئے کوئی بات پوچھنے کی نوبت آجاتی ہے، مثلاً کوئی آدمی کسی دوسرے مسلک کی مسجد میں چلاگیا اور وہاں کسی نے کوئی بات ذہن میں ڈال دی تواس کی ٹھیک ٹھاک علمی رہنمائی کی جائے۔ مثال کے طور پر میں حنفی المسلک ہوں۔ میرے نمازی بھی حنفی المسلک ہیں۔ یہاں کوئی دوسرے مسلک کاآدمی آجائے تووہ اونچی آواز میں آمین کہہ دیتا ہے اورلوگ اس کو ڈانٹیں تو وہ دوچار حدیثیں سنا دیتا ہے۔ اب لوگ لامحالہ طور پر امام صاحب کی طرف رجوع کریں گے کہ یہ کیاکہہ رہاہے توامام صاحب کو ایسے میں کم از کم اپنے مسلک کی علمی بنیاد انتہائی مضبوط رکھنی چاہیے اوروہ خود بھی اس کے لیے تیار رہے ۔مسجد کے ساتھ ایک لائبریری کا انتظام بھی ہوناچاہیے۔

میرے بھائیو!باتیں تو بہت زیاد ہ ہیں۔ میں نے دوحیثیتوں کے حوالے سے بات کی ہے۔ایک تویہ کہ مسجد عبادت گاہ ہے،میری اس حوالے سے کیاذمہ داری ہے ۔دوسری مسجد درس گاہ ہے ،میری اس حوالے سے کیاذمہ داری ہے۔ اس ذمہ داری کے اندر یہ شامل ہے کہ لوگ جو مسجد سے علم حاصل کریں گے، اس کے مختلف ددرجے ہیں۔ایک درجہ تو یہ ہے کہ باضابطہ وہ درس گاہ کے اندر آکر پڑھیں ۔یہ بہت محدود درجہ ہے ،بہت محدود لوگ آئیں گے ۔ترجمہ القرآن کی کلاس لگ گئی، بہت لوگ آئے ۔عام لوگوں کوزیادہ سے زیادہ علمی معلومات فراہم کرنے کے لیے درس قرآن اور درس حدیث کا انتظام ہوناچاہیے اورپھر اس سے بھی وسیع دائرہ ہے اوروہ جمعۃ المبارک ۔ہماری ترجمہ کلاس میں تھوڑے لوگ ہوں گے،جمعہ میں زیادہ ہوں گے۔ درس سے زیادہ لوگ جمعہ کے موقع پرآئیں گے ۔جمعہ کی نماز میں خطبہ میں ہمارا بیان مضبوط علمی بنیادوں پرہوناچاہیے۔کوئی وقت تھا کہ لمبی تقریر کرنے والے شخص کی خطابت کاچرچا اورشہر ت ہوتی تھی۔ ساری ساری رات تقریر چلتی تھی۔ آج معیار بدل چکاہے۔لوگوں کے پاس مختصر وقت ہے، اس مختصر وقت میں اپنی بات لوگوں کوسنائیں۔ ایک وقت تھا کہ ایک خطیب الفاظ کے انتہائی نادر نمونوں کا ذخیرہ رکھتاتھا۔ تقریرمیں ایک لفظ آگیا تو دوبارہ نہ آئے۔ لوگ اس کا معنی مفہوم سمجھنے کے لیے لغت کی کتابیں دیکھتے رہیں۔ لیکن آج یہ معیار بدل چکا ہے۔ انتہائی سادہ لب ولہجہ اورلوگوں کی سطح کے مطابق گفتگو کی جائے۔ لفظوں کی بادشاہت وہاں نہ ہوبلکہ جتنے گمراہ لوگ ہیں جنھوں نے لوگوں کوگمراہ کیا، انہوں نے طرز گفتگو انتہائی سادہ رکھاہے۔ طرز گفتگو خطیب کا انتہائی سادہ ہو۔ تیسری چیز یہ کہ کوئی وقت تھاکہ لوگوں کی معلومات کا مکمل مرکز وہ خطیب کی خطابت ہوتی تھی۔ مولاناصاحب نے جو بیان فرما دیا، وہی ان کا دین ہے اوروہی ان کی شریعت ہے۔لیکن معاف کرنا، آج لوگوں کی معلومات کے ذرائع بڑھ چکے ہیں۔آج کسی عنوان پر بات شروع کریں لو تو گ فوراً کہہ دیں گے کہ یہ بات میں نے فلاں جگہ پر پڑھی ہے۔ آج نیٹ کی سہولت ہرنوجوان کے پاس ہے ،کمپیوٹر،بڑی سے بڑی لائبریری ایک پرزے کے اندر جمع ہے اوروہ منٹوں میں اسے دیکھ لیتے ہیں، اس لیے میں اورآپ مجمع کے سامنے تقریر کرتے ہوئے انتہائی احتیاط سے کام لیں کہ لوگوں کی معلومات کا انحصار اب صرف میری خطابت پر نہیں بلکہ خارجی ذرائع پر ہے۔

تو خلاصہ یہ ہے کہ مسجد درس گاہ ہے، علم کا مرکز ہے ،خطیب اورامام کی ذمہ داری ہے کہ لوگوں کی اس دائرے میں بھرپور رہنمائی کریں۔مسجد باہمی ملاقات اوررابطے کاادارہ ہے،امام یہاں کن کن طریقوں سے لوگوں سے رابطہ کرے، کیسے لوگوں کو جوڑے،یہ ان کی ذمہ داریاں ہیں اوران ذمہ داریوں کواداکرنے میں کیاذمہ داریاں ہیں، میرے خیال میں ان مشکلات کو تفصیل کے ساتھ لانا ضروری نہیں۔ واخردعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

مولانا عبدالرؤف فاروقی 

(مہتمم جامعہ اسلامیہ، کامونکی)

الحمد للہ وکفی وسلام علی عبادہ الذین اصطفیٰ۔

محترم علماء کرام اورمیری تمام برادری کے دوستو!آپ حضرات نے آج کے موضوع کی مناسبت سے بڑی فکر انگیز گفتگو علماء کرام سے سنی ہے۔ یہ بہت طویل موضوع ہے اوراس پر تقاریر نہیں، کئی دنوں تک بیٹھ کرتبادلہ خیال ہونا چاہیے۔ مشکلات سامنے آئیں، مسائل سامنے آئیں، ذمہ داریوں پرگفتگو ہو، مسائل ومشکلات کوحل کرنے کی تجاویز سامنے لائی جائیں۔ 

۱۹۷۳ء میں، میں باقاعدہ امامت کے مصلے پر کھڑا ہوا۔ جس مسجد میں مجھے امامت کی ذمہ داریاں سونپی گئی ،اس مسجد میں، میں واحد خدمت کرنے والا تھا یعنی غسل خانہ کی صفائی،وضوکی جگہ کودھونا ،موٹرچلانا،پانی کا انتظام کرنا، یہ سب میری ذمہ داریاں تھیں۔ پہلے پوری مسجد کی صفائی کرنا، صفیں درست کرنا،اذان کے ٹائم پر اذان دینا،پھر قراقلی ٹوپی پہن کر منبرپر کھڑے ہو جانا یابیٹھ جانا، میری ابتدا یہاں سے ہوئی۔ایک ڈیرے اور گاؤں کا امام ہے، اس کے مسائل کیا ہیں۔ ایک قصبے اور شہر کا امام ہے، اس کے مسائل کیا ہیں۔ پھر شہروں اور قصبوں میں ایک شخصی مسجد ہے کہ ایک شخص نے بنائی ہے، وہی اس کا منتظم ہے، وہی اس کا متولی ہے، اسی کا قاعدہ کلیہ چلتاہے، اس مسجد کے امام کے کیا مسائل ہیں۔ محلے کی مساجد کی منتظمہ ہے،محلے کی کمیٹی بنی ہوتی ہے جس میں کوئی دودھ بیچنے والا، سودی کاروبار کرنے والا، اس طرح کے لوگ اس کمیٹی کے منتظم اور صدر، نائب صدر، خزانچی وغیرہ ہوتے ہیں، وہاں کے امام کے مسائل کیا ہیں۔ پھر اوقاف کی سرکاری مساجد کے ائمہ ہیں، ان کے مسائل ہیں۔ بہت سی قسمیں ہیں اماموں کی۔

میری اپنے رائے یہ ہے کہ ذمہ داریاں توسب جگہ کی ایک جیسی ہیں۔ایک بڑے عالم کے پاس شیخ الحدیث کے پاس بہت سے اماموں کے مسائل آتے ہیں۔یہاں مولانا زاہدالراشدی صاحب تشریف فرماہیں، ان کے پاس بھی بہت سے ائمہ کے کیس، مقدمات آتے رہے،یہ نبھاتے رہے ۔ہم وکیل صفائی ہوتے ہیں اماموں کے۔ مولوی کی وکالت کرنا،اس کے اوپر لگے ہوئے الزامات کودھونایہ ہماری فطرت میں شامل ہے۔میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس سیمینار کے انعقادپر مولانا زاہدالراشدی صاحب مبارکبادکے مستحق ہیں،لیکن سیمینارکی بجائے اگر ایک جرگہ بنایاجاتااوروہاں پر دیہاتوں کے امہ کو بھی دعوت دی جاتی اوران سے بھی کہتے کہ تم اپنے مسائل بتاؤ، ہم اپنے بتاتے ہیں۔اس طرح ہم خیالات کا تبادلہ کرسکتے ہیں۔ وقت کی بہت قلت ہے اورمسائل بہت زیادہ ہیں اوربہت سے مسائل جن سے ہمیں واسطہ پڑتاہے، اس پر بہت لمبے عرصے کے لیے گفتگو کی ضرورت ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ الشریعہ اکیڈمی کبھی اس کا بھی اہتمام کرے گی کہ ہم مل کر بیٹھیں گے اور آپس میں تبادلہ خیال کریں گے۔ مسائل ہرکسی کے مختلف ہیں۔ ہم جیسے لوگ مسائل میں گھرے ہوئے ہیں اور مولانا سمیع اللہ فراز جیسے لوگ ہم پر طنز کرسکتے ہیں کہ ہم یہ نہیں کرسکے، وہ نہیں کر سکے۔ جب ہم سب مل کر بیٹھیں گے، تبھی ہم لوگ مسائل کو حل کرسکیں گے۔

میں اپنی بات ختم کرتے ہوئے عرض کرتاہوں کہ ذ مہ داریوں کا انداز بالکل ایک ہے، امام اور خطیب کی ذمہ داریوں کا دائرہ متعین ہے کیونکہ امام اورخطیب روحانی باپ ہوتاہے اپنے تمام متوسلین کا ،اپنے نمازیوں کا اوراسے اپنے نمازیوں، مقتدیوں اوراپنے سامنے بیٹھ کر سننے والے لوگوں کے ساتھ بالکل باپ جیسی شفقت سے پیش آنا چاہیے۔ آپ دیکھیں، عیسائی اپنے مذہبی رہنماکو فادر کہتے ہیں یاپادری کہتے ہیں۔ پدر بھی فارسی میں باپ کو کہتے ہیں۔ جیسے وہ پادری نہ صرف اپنے مذہب کے لوگوں کے ساتھ بلکہ ہمارے مذہب کے غریب لوگوں،دیہات کے لوگوں اوربہت سے مجبور لوگوں کے ساتھ انتہائی شفقت کامعاملہ کرتاہے، حالانکہ ان کے پاس مذہب کی سچائی نہیں ہے، لیکن وہ پھر بھی اپنے اخلاقی رویے کی وجہ سے لوگوں میں مقبول ہوجاتاہے، اسی طرح ایک امام اورخطیب کولوگوں کے ساتھ شفقت کا معاملہ کرنا چاہیے۔

میںیہ سمجھتا ہوں کہ مسائل بہت ہیں، ذمہ داری کا دائرہ متعین ہے، لیکن حل ایک ہی ہے کہ ہرامام اور ہر خطیب انما یخشی اللہ من عبادہ العلماء اور العلماء ورثۃ الانبیاء کانمونہ بن جائے۔ دین نبی کریم کی وراثت ہے، انبیا کی وراثت ہے اوردین صرف عبادات کے شعبے کانام نہیں ہے۔ امورسیاست،سیاست مدنی جسے ہم سیاسی امور کہتے ہیں جس سے ہم نے اپنے آپ کو بے دخل کرلیا ہے، یہ سب سرداردوعالم لی اللہ علیہ وسلم کی وراثت ہے اور امام اورخطیب کوجہاں عبادت اور سیاست دونوں میدانوں کاشہسوارہوناچا ہیے، وہاں خشیت الٰہی سے اس کا دل بھرا ہوا ہونا چاہیے۔ حضرت مولانا زاہدالراشدی صاحب تشریف فرماہیں، آپ حضرات اختلاف کر سکتے ہیں،آج سے پچیس تیس سال پہلے جب دیوبندی علما سیاست سے وابستہ تھے،ہرمسجد کا امام اورخطیب سیاسی ہوتا تھا۔ جمعیت علمااسلام اوپر سے لے کر نیچے تک مضبوط تھی۔ اس وقت مسائل کم ہوتے تھے ۔جس دن ہم نے پسپائی اختیار کی ہے،مسجدوں کاانتظام مقامی کمیٹیوں کے سپرد کر دیا ہے جس میں ایک بریلوی ہوتاہے، ایک غیر مقلد ہوتا ہے، ایک جماعت اسلامی کا، ایک پیپلزپارٹی کاآدمی ہوتاہے،ایک تحریک انصاف کا ہوتاہے ،یوں مختلف خیالات کے لوگوں کا مرکب یعنی مغلوبہ ساہوتاہے اورآپ جانتے ہیں کہ نتیجہ توبہرحال اقل اورارذل کے تابع ہوتاہے اوریہ کمیٹیا ں ایک سازش کے تحت بنی ہیں۔ جمعیت علماء اسلام نے، دیوبندی مولوی نے ۱۹۷۰ء کی دہائی میں یا اس سے پہلے یا اس کے بعد بہت سی قوتوں کو شکست دی اوراس بری طرح دی کہ وہ آج تک اپنے زخم چاٹ رہے ہیں۔سازش تیارہوئی کہ اس ملاکو کسی طرح پابند کر دیا جائے اورپابندکرنے کے لیے یہ سارانظام بنایاگیا۔ آج ہم خشیت الٰہی سے اتقوا اللہ حق تقاتہ  (اللہ سے ڈروجس طرح اس سے ڈرنے کا حق ہے) اورڈرنے کا حق کیاہے کہ صرف اللہ سے ڈرو، اس کے سوا کسی سے نہ ڈرو اور ہمار ا حق ہے تنقید کرناحکمرانوں پر ،ہمارا حق ہے تعاونوا علی البر والتقوی کی بنیاد پر سیاست کرنااورکسی کو کوئی حق نہیں ہے کہ اس ملک پر جواسلامی جمہوریہ پاکستان ہے ۔اے این پی کوحق نہیں ہے ،پیپلز پارٹی کو،مسلم لیگ ن کو حق نہیں ہے کہ وہ سیاست کرے اس لیے کہ قرارداد پاکستا ن کی بنیاد پر اس کا قبلہ متعین ہے ۔اسلام اس کا ریاستی مذہب ہے توکون حق دارہے کہ وہ سیاست کرسکے؟ وہ صرف ملااورمولوی اورپیغمبردوعالم کاوارث ہے ۔اگر ہم اس پر آجائیں تومسائل ایک دم نہ سہی،ایک ایک کرکے حل ہوتے جائیں گے ۔میں اپنی گفتگو کا خلاصہ دولفظوں میں بیان کرتاہوں کہ ذمہ داریاں سب کی متعین ہیں،دائرہ واضح ہے،پیغمبر دوعالم اورصحابہ کرام ہمارے سامنے نمونہ ہیں۔ہم سب اللہ سے ڈرنے کانمونہ بن جائیں توان شاء اللہ مسائل حل ہوجائیں گے ،مشکلات ختم ہوجائیں گی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس مقام پر واپس آنے کی توفیق عطافرمائے۔واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔ 

مولانا حافظ گلزاراحمد آزاد 

(جمعیت اہل سنت، گوجرانوالہ)

عنوان کے حوالے سے یہ پروگرام ایک الگ اورمنفرد سا پروگرام سے ہے۔عموماً ہمارے ہاں اس قسم کے موضوعات پر پروگرام نہیں ہوتے۔ذمہ دارریوں کے حوالے سے پہلی نشست میں، میں نے اور آپ نے بہت سی کام کی باتیں سنی ہیں۔اللہ عمل کی توفیق دے اورجن سے بچنا ہے،ان سے بچنے کی توفیق دے۔علماء کی ذمہ داریاں معاشرے کے حوالے سے، اسلامی سوسائٹی کے حوالے سے ،خطابت کے حوالے سے ،مسجد کے حوالے سے ہم نے پوری کرنی ہیں۔ علماء کے مسائل بھی بے پناہ ہیں۔ایک ایک مسئلہ آپ دیکھیں کہ اس میں سے کتنے مسائل نکلتے ہیں۔ کیاکیا مجبوریاں اور دشواریاں ہیں، آپ مجھ سے بہتر جانتے ہیں۔ان مسائل کو یہاں بیان بھی کیاگیاہے، آگے ان کا حل تو وہ دور دور تک دکھائی نہیں دے رہاکہ ائمہ کے مسائل ہم کس حد تک حل کرپائیں گے یاواقعتا ان مسائل کو حل کرنے کے لیے ہمارے پاس وسائل ہیں یاہم سنجیدہ کوشش کرنا چاہ رہے ہیں۔ابھی تواس بات کا بھی یقین نہیں آرہا، کیوں کہ مختلف عنوانات پر پروگرام ہوتے ہیں، سیمینار ہوتے ہیں اورکہتے ہیں کہ بھائی نیاپروگرام تھا بڑااچھا ہوا،لیکن عملی پیش رفت ہوتی نظر نہیں آتی۔ایک مزید رکاوٹ ہے کہ ہمارے ہاں ایسے منفی طرزعمل پر کسی کوتوڑنے کے لیے پروگرام ہوتے ہیں،لیکن مثبت اورمعیاری عنوانات پرمعاشرے کے مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے کوئی کام نہیں ہوتا۔ اس حوالے سے میں الشریعہ اکادمی کے اراکین کو مبارکباد اورخراج تحسین پیش کرتاہوں کہ وہ ایسے پروگرام کے لیے بہت کوشش اورجدوجہد کررہے ہیں۔ ان شاء اللہ جیسے جیسے آگے چلتے جائیں گے، پیش رفت ہوتی جائے گی۔

ذمہ داریوں کے حوالے سے میں مختصرسابیان کروں گا کیوں کہ اتنا وقت نہیں ہے۔ ۷۰ء سے پہلے سے میں گوجرانوالہ میں ہوں اورجمعیت اہل سنت والجماعت سے منسلک ہوں اوریہ علما سے تعلق کی وجہ سے ہے۔میں آج بڑے اعتماد سے کہتا ہوں کہ ہمارے عام ائمہ کرام اور خطبا میں محلو ں کے اندر جن کو ہم عام زبان میں چھوٹے مولوی کہتے ہیں، جتنی قربانی ہمارے مسلک کے علمادیتے ہیں،آپ کو اتنی قربانی کہیں نہیں ملے گی۔جتنے مسائل کے اندر رہ کر وہ دین کا یہ سلسلہ چلا تے ہیں، آپ کو مثال ملنا مشکل ہوگا ۔جوں جوں آپ ان پر غورکرتے جائیں گے، آپ کو مسائل کھلتے ہوئے نظر آئیں گے ۔وجہ کیاہے کہ تین ہزار روپے امام صاحب لے رہے ہیں، اس کے آٹھ بچے ہیں، دو میاں بیوی ہیں، والدین بھی آگئے، وہ بھی ان کے پاس ہیں۔ اب بتائیں، یہ بجٹ کیسے بنایاجائے گا؟ ۳۵۰۰میں یہ مہینہ کیسے چلائے گا؟ ایک آدمی کا ناشتہ نہیں چلتا،لیکن یہ لے کر پھر کام کررہے ہیں اورکس طرح کام کررہے ہیں، یہ وہ جانتے ہیں یاان کا اللہ جانتا ہے۔کیونکہ ان کے ذہن کے اندر پیشہ نہیں، مشن ہے اور وہ یہ مشن لے کر چلتے ہیں۔ہمارے اکابر کا بھی یہ یہی ورثہ تھا کہ ایک جگہ بیٹھ کر بھوکے پیاسے رہو ،لیکن نئی نسل تک ورثہ پہنچا دو۔

یہاں وزیرآباد میں واقعہ پیش آیاکہ ایک پڑھی لکھی خاتون نے ایک قادیانی سے نکاح کرلیا۔ یہاں سے سب علما گاڑیاں بھر کر گئے۔یہاں کی انتظامیہ سے بھی بات ہوئی اور وہاں کی انتظامیہ سے بھی بات ہوئی، لیکن میں جاتے ہوئے راستے میں یہ سوچ رہاتھا کہ قادیانیوں کے خلاف بچے بچے کے دل میں نفرت ہے، پھر اس خاتون نے جوکافی پڑھی لکھی ہے، اس نے مرزائی کے ساتھ کیوں نکاح کرلیا؟ جب ہم وہاں پہنچے تومجھے پتہ چلاکہ اس پورے گاؤں میں ایک بھی مسجد علماء دیوبند کی نہیں ہے ۔میں سمجھ گیاکہ اگر ہمارا ایک چھوٹا سا ورکر بھی یہاں اصلاح کا کام کرتا تویہ سانحہ پیش نہ آتا۔اورکچھ ایسے علما ہمارے ضلع کے جو ان پڑھ تھے ،سادہ قرآن پاک پڑھا ہوا تھا، علاقہ کے اندر انہوں نے کام کیا۔ وہ اردومطالعہ کرتے رہے اورعلماسے جڑے رہے،پورے علاقے کا نقشہ ہی بدل گیا ۔ایک گاؤں نہیں، کئی گاؤں کے اندر یہ اثرپھیلتا چلا گیا۔ اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ سب سے پہلے ہمیں اپنے آپ کو بنانا چاہیے،جب اپنے آپ کو بنالیں گے توپورا معاشرہ بن جائے گا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے اندر تشریف فرما ہیں، صحابہ کرام بھی بیٹھے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ اب جو آدمی آئے گا، وہ جنتی ہوگا۔صحابہ کرام بہت متجسس ہوئے کہ وہ کون آدمی ہے ؟اتنے میں ایک آدمی آیا۔ تازہ وضو کیے ہوئے تھا،بائیں ہاتھ میں جوتیاں پکڑے ہوئے ہے، سلام کیا اور آکر بیٹھ گیا۔دوسرے دن پھر مجلس جمی ہوئی تھی۔ آپ نے فرمایا کہ اب جو آدمی آئے گا، وہ جنتی ہے ۔صحابہ کرام پھر انتظار میں ،جستجو میں۔ وہی آدمی اسی حالت میں آیا۔ تیسرے دن پھر اسی طرح آپ نے فرمایا کہ ابھی جو آدمی آئے گا، وہ جنتی ہوگا۔ وہ آیا، اسی طرح سلام کیا اوربیٹھ گیا ۔عبداللہ بن عمروبن العاصؓ فرماتے ہیں کہ میں نے یہ ارادہ کیا کہ آج میں ا س کے پیچھے جاتا ہوں ،پتہ کرتاہوں کہ یہ کون سا کام کرتاہے کہ اس کے بارے میں آقا نے فرمایا کہ یہ جنتی ہے۔چنانچہ میں اس کے پیچھے گیا۔ جب ان کے گھر کے پاس گئے تو اس آدمی نے محسوس کیا کہ میرے پیچھے کوئی ہے۔عبداللہ بن عمروالعاص ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے اس سے کہاکہ میں نے قسم کھائی ہے کہ میں تین دن اپنے گھر نہیں جاؤں گا۔مہربانی فرماکر مجھے اپنے گھر رہنے کی اجازت دو۔وہ آدمی کہنے لگا کہ ٹھیک ہے، رہ لو۔حضرت عبداللہ کہتے ہیں کہ میں رات کو جاگتا رہاکہ یہ آدمی کیاکرتاہے ۔اس آدمی نے عشاء کی نماز پڑھی،تھوڑا بہت پڑھا اور سو گیا،تہجد کے لیے اٹھا ہی نہیں،فجر کی نماز کے لیے اٹھا ۔میں تین دن رہا، لیکن ان تین دنوں میں اس نے کوئی منفرد کام نہیں کیا۔میں بڑا حیران ہوا کہ یہ ایسا کیاکام کرتاہے کہ آقا نے فرمایا کہ یہ جنتی ہے۔ میں نے اس آدمی کے سامنے ساری صورت حال بیان کی تواس نے کہا کہ سارامعاملہ تمہارے سامنے ہے۔میں بڑا مایوس ہوا، واپس جانے لگا تو اس آدمی نے کہا کہ اے اللہ کے بندے، میں کوئی اورکام تونہیں کرتا البتہ میرے دل میں کسی آدمی کے لیے کینہ یابغض نہیں ہے۔ شاید یہ عمل ہی خداپاک کو پسند آ گیا۔ حضرت عبداللہؓ کہنے لگے، میری آنکھیں کھل گئیں کہ واقعتا یہی وہ عمل ہوگا کہ جس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو جنت کی بشارت سنادی ہے۔

یہ توعام آدمی کے بارے میں ہے۔ اگرہم علما کے بارے میں سوء ظن رکھنا شروع کردیں، حسد اورکینہ شروع کر دیں،ایک جماعت دوسری جماعت سے حسد شروع کردے توبہتری آسکتی ہے؟ سب سے پہلے اگر ہم اپنے سینے کو صاف کریں، سب سے محبت کریں، جوسیاسی علماہیں،جوجہاد کاکام کرنے والے ہیں، جوتبلیغ کا کام کرنے والے ہیں، ان کو اپنے گھر کافرد سمجھیں،ان کو دل میں جگہ دیں توپھر ان شاء اللہ اس کارواں کو کوئی روک نہیں سکتا۔

مساجد کی کمیٹیوں کے بارے میں بات ہوئی۔ ہم بھی کمیٹیوں کے ماتحت کام کرتے ہیں ۔مولاناراشدی صاحب نے فرمایاہے کہ اگر امام طاقتور ہوتوکمیٹی بھاگ جاتی ہے اور اگرکمیٹی طاقتور ہوتوامام بھاگ جاتا ہے۔ مولانا کا تجربہ تویہ ہے۔ میں چالیس سال سے امام ہوں، میں سمجھتاہوں کہ امام طاقتور ہے۔مولانا شمس الدین صاحب کا جنازہ تھا ۔مولانا اعظم صاحب اہل حدیث مکتب فکر کے بڑے عالم ہیں۔ وہ کہنے لگے کہ یار تم اچھے ہو، ہمیں توکمیٹیاں ہی چلنے نہیں دیتیں۔ یعنی ان کے ذہن میں یہ ہے کہ دیوبندی کمیٹیوں کا محتاج نہیں ہے۔یہ تو ہم ہی جانتے ہیں کہ ہمارے ساتھ کیا بیتتی ہے۔ لیکن جو مخلص ہوکرچلے ،پیشہ نہ سمجھے، مشن سمجھ کر چلے گا، ایک دن آئے گا کہ کمیٹیاں ماتحت ہوجائیں گی ان شاء اللہ۔ میں تویہ کہتاہوں کہ یہ فیصلہ کرلو کہ کوئی مطالبہ نہیں کرنا، مجھے جودیناہے اللہ نے دیناہے۔کسی سے کوئی مطالبہ نہیں کرنا اوردوسرایہ فیصلہ کرلیں کہ یہ سمجھیں کہ مجھے حاجی صاحب نے رکھا ہواہے یاصدرصاحب نے رکھا ہوا ہے،بلکہ یہ سمجھیں کہ مجھے اللہ نے رکھا ہوا ہے۔جب یہ فیصلہ کرلیں گے تو ان شاء اللہ ،اللہ راہیں کھول دے گا۔

میرا چھوٹاسامحلہ ہے ،وہاں چھوٹی سے مسجد ہے۔ اس مسجدمیں، میں نے تقریر کی علامہ اقبال کے خلاف۔اس وقت میں طالب علم تھا اورنوائے وقت کے فرنٹ پیج پر خبرآتی تھی مولانا حسین احمدمدنی ؒ کے خلاف کہ یہ پاکستان کے لیے خطرہ ہیں۔مجھے غصہ آگیا ،میں نے جمعہ کاسارا خطبہ علامہ اقبال کے خلاف کیا کہ تم اس کی بات کرتے ہو کہ جس کے منہ پر ڈاڑھی بھی نہیں تھی ۔میں نے بہت کچھ کہہ دیا،لیکن آخر میں اللہ کے فضل سے میں نے کہا کہ علامہ اقبال اگر بنا ہے تواحمدعلی لاہوری ؒ کی نظر سے بناہے، علامہ انورشاہ کاشمیری ؒ کی نظر سے بناہے، عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی مجلس سے بنا ہے، اس وجہ سے ہم اس کا احترام کرتے ہیں۔جمعہ پڑھانے کے بعد ہمارے سارے دیوبندی حضرات آگئے اورکہنے لگے کہ آپ صبح صبح چلے جائیں کہ سارا محلہ آپ کے خلاف ہو گیا ہے، گولیاں چل جائیں گی۔ میں نے کہا کہ صبح کیا جانا ہے، میں ابھی جاتا ہوں۔وہاں سے نکلاتونصرت العلوم چلاگیا۔ اس وقت میں وہاں پرزیرتعلیم تھا۔حضرات !تین دن گزرے تھے،اللہ کاکرم ایسا ہوا کہ جومیرے مخالف تھے،وہ آگئے اورکہنے لگے کہ لوگ کہتے ہیں کہ جب تک حافظ صاحب نہیں آئیں گے، نہ اذان ہوگی نہ نماز ہوگی۔آپ کی مہربانی واپس چلیں۔میں نے کہا کہ آپ صوفی عبدالحمید سواتی صاحب کے پاس آؤ،وہ جو فیصلہ کریں گے میں ماننے کو تیارہوں ۔چنانچہ وہ صوفی صاحب کے پاس آئے۔،صوفی صاحب نے بات سنی اورفرمانے لگے کہ جاؤ بیٹا، جاکر خدمت کرو۔یہ سب کچھ میرا کمال نہیں تھا ،یہ میں نے اپنے اکابر کے حوالے سے گفتگو کی تھی ۔اگر آج ہم سب اپنا ذہن مثبت بنا کرکام کریں گے توبہت سے مسائل کا حل ہوسکتا ہے۔

میں آخر میں بس دوباتیں کہتا ہوں کہ ہماری جتنی بھی جماعتیں ہیں، فکری ہیں،مذہبی ہیں ،سیاسی ہیں،سماجی ہیں، تبلیغی ہیں، سب کا احترام کرو،سب کاادب کرواوردوسری بات یہ ہے کہ اللہ کوحاضرناظرکرکے اپنے اکابر کے مشن کو آگے بڑھانے کی کوشش کرو۔اللہ ہم سب پر کرم فرمائے گا۔ واخردعواناان الحمدللہ رب العالمین۔

مولانا عبدالحق خان بشیر صاحب 

(حق چاریار اکیڈمی، گجرات)

نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم، امابعد!

معزز علماء کرام، قابل صداحترام بزرگو اور دوستو!

سب سے پہلے تومیں الشریعہ اکادمی کے منتظمین کومبارکباد پیش کرتاہوں کہ وہ آج کی عصری وسماجی ضروریات کے حوالے سے مختلف قسم کے سیمینار منعقد کرتے ہیں اوریہ آج کا پروگرام بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔مجھے جوموضوع دیا گیا ہے، وہ ہے ’’خطبہ جمعہ کے لیے موضوع کا انتخاب اوراس کی تیاری‘‘۔مجھ سے پہلے میرے دوست مولانا گلزار احمد آزاد صاحب مساجد کی کمیٹیوں اور ائمہ وعلما کی مشکلات پربات کررہے تھے ۔اس حوالے سے والد محترم امام اہل سنت مولانا سرفرازخان صفدر ؒ دوباتیں ارشاد فرمایاکرتے تھے کہ مسجد کی کمیٹی کے اندر موجود سرمایہ دار چاہے اس کی پیشانی پر تہجد کے اور سجدوں کے نشانات اورمحراب پڑ جائے، وہ مولوی کے معاملے میں سرمایہ دار ہی ہے۔دوسری بات حضرت شیخ فرمایاکرتے تھے کہ اللہ رب العزت نے مولوی کولوگوں کی اصلاح کے لیے بھیجا ہے اور ہر مسجد میں ایک بابا مولوی کی اصلاح کے لیے ہوتا ہے۔شیخ فرمایاکرتے تھے کہ جومولوی اللہ کی رضا کے لیے اس بابے کو برداشت کرجائے اوراپنے مشن کو اس کی وجہ سے ترک نہ کرے، میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔محض اللہ کی رضا کے لیے اس بابے کو برداشت کرجائے۔

اب میں اپنے موضوع کی طرف واپس آتاہوں۔ خطابت ایک فن ہے جس کی ہردورمیں اہمیت رہی ہے اوراس فن نے معاشرے کے اندر انفرادی اوراجتماعی اصلاح میں بڑا کردار اداکیاہے۔اس فن سے تحریکیں اٹھی ہیں ،تحریکوں کو عروج ملاہے ،تحریکیں کامیاب ہوئی ہیں۔لیکن یہ فن اس وقت تک اہمیت کاحامل بھی رہاہے،اس کا ایک کردار بھی رہا ہے جب تک یہ فن سوسائٹی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے ۔جب یہ فن ایک سوسائٹی کی بجائے ایک خطیب کی ضرورت بن گیا،اس وقت سے یہ فن اپنی اہمیت کھوگیاہے ۔یہ فن دراصل سوسائٹی کی ضرورت کے لیے ہے، اس نے ہر دور کے اندرسوسائٹی کی اصلاح میں بنیادی کردار اداکیے ہیں۔آج ہمیں یہ شکوہ ہے کہ جمعہ کے موقع پر ہماری مساجد کے اندر نفری کم کیوں ہوگئی ہے یاجونفری ہے، وہ تقریر کے ٹائم کی بجائے خطبے کے ٹائم پر یانماز کے ٹائم پر کیوں آتی ہے۔ یہ شکوہ توہم کرتے ہیں،لیکن کیاکبھی ہم نے یہ سوچامنبرپربیٹھ کر ہم ان لوگوں کی ضرورت کو پوراکررہے ہیں؟سوسائٹی کے جو مسائل ہیں ،سماج کی جوضروریات ہیں ،کیاہم منبر پر بیٹھ کر ان ضروریات کو پورا کررہے ہیں؟ آج خطابت صرف اورصرف نقالی اور رٹے کا نام رہ گئی ہے اور میں بطورلطیفہ عرض کرتاہوں کہ ہمارے علاقے کے بڑے ممتاز خطیب ہیں،تقریر فرمارہے تھے اور میں ان کی تقریر سے اندازہ کررہاتھا کہ یہ تقریر حضرت مولانا عبدالشکور دین پوریؒ کی ہے۔ تقریر میں فرمارہے تھے کہ میں نے امیرشریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ سے ملاقات کی۔ تقریر کے بعد کھانے پہ بیٹھے ہوئے تھے،میں نے ان سے پوچھا کہ حضرت آپ کا سن ولادت کیاہے؟ فرمانے لگے ۱۹۷۵ء۔ میں نے کہا کہ حضرت جس شخصیت کی ملاقات کے بارے میں آپ تقریر میں فرمارہے تھے، وہ اس سے پندرہ یاسولہ سال پہلے دنیا سے رخصت ہوگئے تھے۔ یعنی کتاب کے اندر ایسے ہی لکھا تھا جس طرح وہ بیان فرمارہے تھے ۔یعنی رٹے کے اندر بھی اگر آدمی عقل سے کام لے تو کام چل سکتاہے۔میں یہ عرض کررہاہوں کہ ہمارے ہاں خطابت نقالی اور رٹے کا نام رہ گیاہے۔اگراپنے دورکاایک خطیب،اس کاانداز یہ ہے کہ وہ کرسی پرپاؤں رکھ کر تقریر کرتاہے توہم اس کی بھی نقالی کریں گے۔ تقریر بھی اسی کی نقل کریں گے،انداز بھی اسی کا نقل کریں گے ۔یہ چیز ہم میں آگئی ہے کہ ہم نے نقالی اوررٹا خطابت کے اندر گھسیڑ دیاہے۔اس وقت سے خطابت اپنی اہمیت کھو چکی ہے۔

اگر ہم اس چیز کو محسوس کریں کہ سوسائٹی کی ضرورت ہم نے پوری کرنی ہے اور سوسائٹی کے تقاضے کیاہیں توہمیں سوسائٹی کے اندر رہنا ہوگا، سوسائٹی سے روابط رکھنے ہوں گے، سوسائٹی سے ان کی مشکلات اور ضروریات معلوم کرنی ہوں گی۔ ہمارے ہاں حالت کیاہے کہ گلیوں میں یوم یکجہتی کشمیر منایا جا رہا ہوتا ہے اورمیں مسجد میں بیٹھ کر بریلویوں کا دھڑلہ، اہل حدیثوں کا دھڑلہ نکال رہا ہوتا ہوں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ اس کی ضرورت نہیں، اپنے مقام پر اس کی بھی ضرورت ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ آج پوری کی پوری قوم کراچی سے لے کر خیبر تک جس عنوان پر اکٹھی ہورہی ہے، مجھے اس کے لیے قوم کے اس تقاضے کو بھی پورا کرنا ہے۔ کشمیر کے بارے میں ہماراموقف کیاہے ،کشمیرکے ساتھ ہماری ہمدردی کی بنیاد کیا ہے،ان کے ساتھ ہمارا ربط وتعلق کیا ہے۔ ہمیں پبلک کے سامنے اس چیز کابھی اظہارکرناہے، لیکن نہیں۔ مجھے انتہائی افسوس کے ساتھ کہناپڑ رہاہے کہ ہمارے ۹۰فیصد سے زائد خطیب سوسائٹی کی ضرورت کااحساس نہیں کرتے اورجب تک ہم سوسائٹی کی ضرورت کااحساس نہیں کریں گے، تب تک ہم صحیح عنوان کاانتخاب نہیں کر سکتے۔ 

ہمارے ہاں خطبا کاایک طبقہ تو وہ ہے جنہوں نے مہینوں کے حساب سے خطبات یادکرلیے ہیں۔یہ ربیع الاول کے ہیں، یہ ربیع الثانی کے ہیں، یہ ذوالقعدہ کے ہیں، یہ ذوالحجہ کے ہیں۔اگلاسال شروع ہوتاہے پھر وہی ترتیب شروع ہوجاتی ہے کہ پچھلے سال کی تقریر کس کو یاد ہے اور ایک طبقہ وہ ہے کہ جو سیاست کے اندر اس قدرگھس گئے ہیں کہ ان کے لیے ہفتے کی اخبارات کافی ہوتی ہیں۔ ہفتہ کی اخبارات سامنے رکھیں اور جمعہ پڑھادیا۔ یہ دونوں طرز درست نہیں ہیں۔ ہمیں پبلک کی ضرورت محسوس کر کے موضوع کا انتخاب کرناچاہیے ۔اس وقت سوسائٹی کے اندر حدوداللہ کا مسئلہ چل رہاہے۔ ہم نے پبلک کو سمجھاناہے کہ حدوداللہ کیاہیں،ان کا حکم کیا ہے۔ اگرسوسائٹی کے اندرناموس رسالت کا مسئلہ چل رہاہے ،توہمیں پبلک کو سمجھاناہے کہ اس کی ا ہمیت کیاہے۔اگرسوسائٹی کے اندرعورتوں کا دن، والدین کا دن، بچوں کا دن، مزدوری کا دن چل رہاہے توہمیں پبلک کو اسلام کے حوالے سے ان دنوں کی اہمیت کوبتاناہے۔لیکن اس طرف ہماری توجہ نہیں ہے۔ہماری سوسائٹی کے اندرنفرتیں بڑھتی جارہی ہیں،ہمیں اس بات کااحساس نہیں ہے کہ ہم سوسائٹی کی ان نفرتوں کو کیسے دور کریں۔ ہمارا پورے کاپوراخاندانی نظام بگڑ رہاہے ۔والدین اوراولاد کے درمیان، بھائی بھائی کے درمیان نفرت کی دیوار کھڑی ہورہی ہے،لیکن کیا کبھی ہم نے محسوس کیا کہ ہم منبر پر بیٹھ کر بھی ان نفرتوں کو دورکرنے کے لیے کوئی کردار اداکریں؟جب تک ہم ان ضروریات کو محسوس نہیں کرتے اس وقت تک ہم اپنافرض ادانہیں کرسکیں گے۔

سیدنا ابوبکرصدیقؓ کایوم وفات آتاہے ،ضرورت ہے کہ لوگوں کو بتاناچاہیے، لیکن کیاابوبکرصدیق ؓ کامقام اتناہی ہے کہ انہوں نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ معاونت کی ،ان کے ساتھ ہجرت کی، تمام جہادوں میں شریک رہے؟ کیایہ بتاناہماری ذمہ داری نہیں کہ ابوبکرصدیقؓ نے خلافت کا نظام کیسے چلایا؟حضرت عمر فاروقؓکی شخصیت کوبھی ایک ہی دائرے میں بندکردیاہے کہ کیسے انہوں نے اسلام قبول کیا، کیسے ہجرت کی،کیسے مدینہ منورہ میں رہے ،کیسے شہیدہوگئے۔درمیان میں جوان کا خلافت کادور ہے،اپنی خلافت کوچلانے کے لیے ان کی سیاست کانظام کیاتھا؟ عدالت کانظام کیاتھا؟ انہوں نے روم وایران کی پرانی تہذیبوں کے اندر سے کیسے ایک نئی تہذیب متعارف کرائی۔ کیایہ سب بتاناہماری ذمہ داری نہیں ہے؟ہم جب شخصیات کے حوالے سے بھی دیکھتے ہیں تو ہمارے عنوانات شخصیت کے ایک مخصوص حصے تک محدودہوتے ہیں۔ تومیں یہ عرض کرناچاہوں گا کہ جب تک ہم سوسائٹی کی ضرورت اورسوسائٹی کے مسائل کونہیں سمجھتے، اس وقت تک ہمارے لیے موضوع کا تعین اور اس تعین کے ساتھ اپنے فرض کواداکرناہمارے لیے ممکن نہیں ہوگا۔

دوسری چیزہے’’موضوع کی تیاری‘‘۔ میں انتہائی افسوس کے ساتھ عرض کروں گا کہ ہمارے ہاں مارکیٹ میں بکنے والے خطبات نے ہمارے نوجوانوں کے مطالعے کاذوق تباہ وبربادکردیاہے۔اپنی پسندکے ایک خطیب کے خطبات لیے،اس کو دیکھا اور جمعہ پڑھادیا ۔یہ سوچے بغیر کہ وہ خطیب کس ما حول میں بات کررہاتھا ۔ وہ تیس سال پہلے کے ماحول میں بات کررہا تھا اورمیں تیس سال بعد جب کہ ماحول بہت حد تک بدل چکاہے۔میں ماحول کی پروا کیے بغیر بیس، پچیس سال پہلے کے ماحول میں کی گئی تقریریں رٹ کر جمعہ پڑھا رہا ہوں۔ میرا ۱۹۸۵ء سے اپنا طرزیہ رہاہے اور اب تک یہی معمول ہے کہ میں جمعرات کادن باہرنہیں دیتا۔ ایک موضوع کاانتخاب کرتا ہوں۔ عشاء کی نماز سے لے کر فجرتک میں جمعہ کی تیاری کرتا ہوں۔سب سے پہلے میں موضوع کے مطابق آیات تلاش کرتاہوں،پھران آیات کے لیے میرے پاس جو دستیاب تفاسیر ہیں، انہیں دیکھتا ہوں۔ پھراس کے مطابق احادیث دیکھتاہوں،ان احادیث کی شروحات نکالتاہوں، پھرمیں اپنے مضمون کوترتیب دیتاہوں۔ ہمارے موضوع کا ایک پہلودین کے حوالے سے ہے۔ اگرہم نے اپنے اندرذوق مطالعہ کو برقراررکھا، جسے برقراررکھناچاہیے اورصرف مطبوعہ خطبات پر انحصار نہیں کیا توپھراس موضوع کے متعلق قرآن پاک کی آیات، ضروری نہیں کئی تفاسیر ہوں ،اگردوتفاسیربھی ہیں،یا ایک بھی ہے جیسے معارف القرآن ہے،جیسے تفسیر عثمانی ہے، اگر ایک تفسیرسے بھی ان آیات کی تشریح پڑھ کر ان سے متعلق احادیث اور جو ان کی شروحات دستیاب ہیں، ان کو دیکھ کر اگرتیاری کی جائے تومیں پورے وثوق سے کہتاہوں کہ اس سے ذوق مطالعہ بھی بڑھے گا اور ان شاء اللہ علم بھی بڑھے گا۔ اس کے علاوہ یہ کہ یہاں اگر کچھ سٹور ہوگا عقل اسی کے مطابق سپلائی کرے گی۔ یہاں اگر کچھ سٹور نہیں ہے توعقل کے آگے جوکچھ انسان بولتاچلاجائے گا۔ہمیں یہاں موضوع سے متعلق کچھ سٹورکرناہے ،پوری توجہ کے ساتھ اس کو ذہن میں بٹھاناہے۔

حضرت شیخ ؒ فرماتے تھے۔ مجھے یادہے، ۱۹۷۷ء کی تحریک مصطفی کے دوران شیخ نے میری تقریر سنی اورمجھے گھر بلا کر بڑے غصے سے کہا کہ کیاکر رہے تھے تم؟ یہ تقریرتھی؟ تقریرآستین چڑھانے کانام نہیں، تقریرمنہ سے تھوک نکالنے کا نام نہیں ہے۔ تقریرنام سے دوچیزوں کا۔ ایک یہ کہ جو تم کہہ رہے ہو، اس کے بارے میں تمہارا دل مطمئن ہے اورجوتم کہہ رہے ہو، وہ لوگوں کو سمجھ آرہاہے ۔اگر یہ دوچیزیں ہیں توتقریرتقریر ہے۔ تو موضوع کی تیاری کے لیے ضروری ہے کہ جوموضوع منتخب کیاہے، اس موضوع کے حوالے سے آیات قرآنیہ،ان کی تفاسیر ،احادیث اوران کی شروحات دیکھی جائیں۔ اگران کے اندرفقہی مسائل ہیں توان مسائل کو بھی دیکھ لیاجائے۔اگر بزرگوں کے مسائل بھی اس موضوع کے مطابق مل جائیں تونورعلی نورہے۔ اس کے اندر اورجان پیداہوجائے گی۔ اوراس کا ایک پہلوہے جو سماجی بھی ہوسکتاہے،سیاسی بھی ہوسکتاہے، تاریخی بھی ہوسکتاہے۔موضوع کے اندرجوسیاسی ،سماجی پہلوہیں، ان کے لیے بھی ہمیں قابل اعتماد مواد حاصل کرناہے اوروہ قابل اعتماد ذریعہ تلاش کرناہے جس سے مجھے ٹھیک مواد مل جائے۔ میں اس مقام پر یہ ضرور کہوں گا کہ اس کے لیے علما کا میڈیا کے ساتھ وابستہ رہنابہت ضروری ہے ۔میں یہ نہیں کہتا کہ الیکٹرانک میڈیا کے ساتھ تعلق رکھو،لیکن اب ہمیں روزنامہ اسلام کے خول سے باہر نکلنا چاہیے اوراس خول سے باہر نکل کرآگے بڑھناہے۔ ہمیں صرف اسی پر انحصارنہیں کرناکہ صبح روزنامہ اسلام پڑھ لیا، بس کافی ہے۔ نہیں بلکہ ہمیں میڈیا کے ساتھ وابستہ ہوناہے اور میڈیا سے معلومات حاصل کرکے ہم نے اس موضوع پر جودینی پہلوکے ساتھ دوسرا پہلوہے،خواہ وہ سماجی ہے یا سیاسی ہے، اس کے لیے معلومات حاصل کرنی ہیں۔ اگر ہم ان چیزوں کا خیال رکھ سکیں تومیرا خیال ہے کہ ایک خطیب منبرپربیٹھ کراپنی منصبی ذمہ داری کو پوری طرح نبھاسکتاہے۔واٰخردعواناان الحمد للہ رب العالمین

(جاری)

الشریعہ اکادمی