اسلامی بینکاری: زاویہ نگاہ کی بحث (۲)

محمد زاہد صدیق مغل

اسلامی بینکاری بطور حکمت عملی اور انداز فکر 

پھر اسلامی بینکاری کے نام پر جس شے کو ’تبدیلی کی حکمت عملی‘ کے طو پر اختیار کر لیا گیا ہے اس کی نوعیت پر غور کرنا بھی ضروری ہے کیونکہ اس بحث سے یہ اندازہ لگانا بھی ممکن ہوجائے گا کہ آیا اسلامی بینکاری کو فروغ دینے والے حضرات بذات خود اسے مجبوری سمجھتے بھی ہیں یا نہیں نیز اس کے ذریعے وہ کس نوع کی تبدیلی کی توقع رکھتے ہیں۔ کسی موجود نظام میں تبدیلی کے لیے برپا کی جانے جدوجہد کو حکمت عملی کے تین ادوار پر تقسیم کرکے سمجھا جاسکتا ہے، short run, middle run and long run (قریب یا قلیل، وسط اور طویل مدتی)۔ ان میں سے ہر دور کی حکمت عملی کے اپنے جدا گانہ تقاضے ہیں: 

طویل مدت (Long Run)

حکمت عملی سے متعلق یہ وہ دور ہے کہ جس کے بارے میں آپ اپنی حتمی منزل کا تعین کرتے ہیں کہ آپ بالاخر کن مقاصد کو حاصل کرنا چاہتے ہیں، یعنی طویل دور سے مراد وہ مقام ہے جہاں آپ اپنی قلیل اور وسط مدت میں اختیار کردہ طرز عمل و فیصلوں کے نتیجے میں پہنچنے کی امید کرتے ہیں۔ طویل مدت کے بارے میں اہم بات یہ ہے کہ اس کے بارے میں حتمی مقاصد کے بیان اور ایک عمومی خاکے سے زیادہ کوئی بات طے کرنا قریب قریب ناممکن ہوتا ہے، یعنی یہ بات قابل از وقت طے نہیں کی جاسکتی کہ طویل مدتی معاشرتی و ریاستی صف بندی کیسی ہوگی کیونکہ اداری صف بندیاں افراد کے تعلقات کے نتیجے میں وقوع پزیر ہوتی ہیں جن پرا ن گنت عوامل اثر انداز ہوتے ہیں 

قلیل مدت (Short Run)

نظاماتی تبدیلی کے لیے جدوجہد کرنے والی تحریکات کے لیے اپنی واقعیت کے اعتبار سے یہ اہم ترین دور ہوتا ہے کیونکہ عوام کی اکثریت دور اندیش نہیں ہوتی اور وہ اسی دور میں زندہ رہتی ہے۔ قلیل مدت سے مراد وہ فیصلے میں جو ہمیں فوری یعنی ’آج‘ اور ’ابھی‘ کرنے ہیں۔ مثلاً کیا اس سال ہمیں الیکشن میں حصہ لینا چاہئے یا نہیں، اگر ہاں تو کسی پارٹی کے ساتھ ملکر یا اپنے طور پر، بینکاری نظام کے بارے میں ہمارا رویہ کیا ہونا چاہئے، ہمیں اپنے مطالبات منوانے کے لیے ہڑتال کرنی چاہئے یا اسلحہ اٹھا لینا چاہئے وغیرہ وغیرہ اور اس نوع کے بے شمار فیصلے، اہم بات یہ کہ ان امور کے بارے میں کوئی فیصلہ نہ کرنا بھی بذات خود ایک فیصلہ ہے۔ عام لفظوں میں اس دور کو پنجابی زبان کے محاورے ’ہن کی کرئیے‘ سے تعبیر کر سکتے ہیں۔ قلیل مدت فیصلوں کی نوعیت سمجھنے کے لیے اس سے متعلق دو خصوصیات ذہن نشیں رہنا چاہئیں: اول یہ وہ دور ہے جہاں ہم اپنی واقعیت اور ماحول (facticity and environment) پر اثر انداز ہو کر اسے تبدیل نہیں کرسکتے، بلکہ وہ ایک حقیقت واقعہ کے طور پر ہمارے سامنے موجود ہوتا ہے اور ہمیں اس موجود ماحول کے اندر رہتے ہوئے ہی کوئی فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ دوئم یہی وجہ ہے کہ اس دور میں ہم ہمیشہ ’کم تر شر‘ کو اختیار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دو افراد یا تحریکات کے درمیان اپنے اپنے زاویہ نگاہ کی بناء پر اس امر میں تو اختلاف ہو سکتا ہے کہ فی الحال ’چھوٹی برائی‘ کیا شے ہے مگر یہ بات طے ہے کہ دونوں اپنے تئیں ’کم تر شر‘ ہی کو اختیار کرنے کی کوشش کررہے ہوں گے۔

وسط مدت (Middle Run)

طویل مدت مقاصد کے حصول اور اپنی نتیجہ خیزی کے اعتبار سے یہی دور سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ وسط مدت حکمت عملی کے اہم مراحل میں موجود نظام کے جبر کو کم کرنے کے لیے افراد کی مسلسل تعلیم و تربیت (جسے نئے سیاسی شعور سے تعبیر کرسکتے ہیں) اور متبادل ادارتی صف بندی (جسے تحریکی عمل بھی کہہ سکتے ہیں) کو وجود میں لانا شامل ہے۔ یہ وہ دور ہے جہاں اپنے فیصلوں کے ذریعے ہم ماحول کو تبدیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ وسط مدت حکمت عملی میں فیصلہ کرنے کے اصول قلیل مدت سے متضاد ہوتے ہیں، یعنی اگر قلیل مدت میں ہم سمجھوتے پر مبنی فیصلے کرتے ہیں تو وسط مدتی حکمت عملی میں سمجھوتوں پر مبنی فیصلے کبھی نہیں کیے جاتے، بلکہ ان فیصلوں کی خصوصیت ہی یہ ہوتی ہے کہ انکا مطمع نظر اپنی واقعیت اور ماحول کو تبدیل کرنا ہوتا ہے۔ ان تمام ادوار میں تعلق یہ ہے کہ قلیل مدت میں ایسے فیصلے نہیں کرنے چاہئیں جن کے بعد وسط مدتی حکمت عملی پر عمل کرنا ہی نا ممکن ہوتا چلا جائے اور بالآخر آپ نظام تبدیل کرنے کی پوزیشن ہی میں نہ رہیں بلکہ اس سے علی الرغم خود کو اسی نظام میں سمو لیں۔ 

پھر حکمت عملی کو سمجھنے کے لیے یہ بات بھی نہایت اہم ہے کہ کسی حاضر و موجود شے کو اختیار کرتے وقت اس کے ساتھ دو قسم کا رویہ اپنانا ممکن ہے: اول آئیڈئیل سمجھنے کا اور دوسرا Strategization یعنی بطور حکمت عملی اسے حتمی مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کرنے کا۔ کسی شے کو بطور آئیڈئیل اور بطور Strategy استعمال کرنے سے دو مختلف قسم کا فکری لٹریچر اور طرز عمل وجود میں آتا ہے۔ اول الذکر رویے کے بعد اس اختیار کردہ شے کو اپناتے (own کرتے) ہوئے اسے ایک مقصد کے طور پر فروغ دیا جاتا ہے اور اس کے خلاف کسی انقلابی تبدیلی کی گنجائش باقی ہی نہیں رہتی، جبکہ دوسرے طرز عمل میں کسی شے کو اس طرح استعمال کیا جاتا ہے کہ بالآخر اسکی ضرورت ہی ختم ہوجائے، نہ یہ کہ وہ ہماری زندگی کا لازمی جزو بن جائے۔ مثلاً افغان جہاد میں امریکہ نے مجاہدین کے ساتھ جو تعلق استوار کیا وہ دوسری نوعیت کا تھا اور یہی وجہ ہے کہ جنگ ختم ہونے کے بعد امریکہ نے جہاد کی تعلیم اور مجاہدین کے مالی مسائل کے حل اور ان کی تربیت کرنے والے اداروں کے فروغ کے لیے دنیا بھر میں کوئی جال نہیں بچھاد یا بلکہ بذات خود انہیں مٹانے کے در پے ہو گیا۔ 

حکمت عملی کے اس پس منظر کو سامنے رکھتے ہوئے اب ذرا اسلامی بینکاری کا جائزہ لیجئے۔ ماہرین اسلامی بینکاری کے نزدیک اس کے طویل مدتی مقاصد کیا ہیں یہ جاننے کے لیے انکے فکری لٹریچر کا مطالعہ بہت کافی ہے جس سے یہ بات عین روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ ان حضرات کے نزدیک اسلام بھی ان مقاصد کے حصول کا ذریعہ بن سکتا ہے جنہیں موجودہ نظام اصل قرار دیتا ہے (اسی لیے یہ حضرات بینکنگ کا متبادل پیش کرتے ہیں اور ظاہر ہے متبادل کہتے ہی اسے ہیں جو ایک ہی مقصد کو کسی دوسرے طریقے یا ذریعے سے حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو)۔ ماہرین اسلامی معاشیات کا بنیادی مقدمہ یہ ہے کہ مارکیٹ اکانومی پر مبنی موجودہ نظام اور اس کے مقاصد فطری انسانی تقاضوں کا جائز ارتقا ہیں، البتہ اس نظام میں چند عملی (operational) مگر قابل اصلاح نوعیت کی خرابیاں بھی ہیں۔ ظاہر بات ہے کہ اگر یہ مقدمہ و مفروضہ مان لیا جائے تو پھر موجود ہ نظام کے خلاف ہر قسم کی انقلابی (ریاست کے اندر تعمیر ریاست) اسلامی جدوجہد کا جواز کالعدم ٹھہرتا ہے کیونکہ اس بنیادی مقدمے کے بعد ان عملی خرابیوں کی اصلاح کے لیے کسی انقلابی جدوجہد نہیں بلکہ اصلاحی سیاست (reformist politics) و سرمایہ دارانہ علوم یعنی سائنسز (بشمول سوشل اور بزنس ) میں مہارت حاصل کرنے کی ضرورت رہ جاتی ہے، اور درحقیقت یہی ماہرین اسلامی معاشیات کی طویل مدت حکمت عملی ہے جسکے حصول میں وہ ہر دم کوشاں ہیں اور یہ حکمت عملی انکے قلیل اور وسط مدتی تمام فیصلوں سے عین عیاں ہے (۴) ۔ اسلامی معاشیات و فائنانس سے وابستہ افراد کا حتمی مطمع نظر موجود عالمی نظام زر کا خاتمہ نہیں بلکہ اسے فطری مان کر اس میں چند اصلاحات کا نفاذ ہے اور وہ بھی اس لیے کہ ان اصلاحات کے ذریعے سرمائے میں زیادہ بہتر انداز میں اضافہ ممکن ہوسکتا ہے ]یہی وجہ ہے کہ مجوزین اس امر (جو درحقیقت ان کی ’غلط فہمی‘ ہے) کو فخریہ طور پر بیان کرتے ہیں کہ گلوبل فائنانشل بحران میں اسلامی اصولوں پر چلنے والے بینک وغیرہ سب سے کم متاثر ہوئے، یعنی اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کا فائدہ یہ ہے کہ اس کے ذریعے سرمایہ دارانہ نظام زر خود کو بحرانوں سے محفوظ کر سکتا ہے، فیا للعجب گویا اسلام باطل کا محافظ بننے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے[۔ اسلامی بینکاری، اسلامی بانڈز، اسلامی انشورنس وغیرہم کا حاصل صرف اور صرف مسلم ذرائع کو عالمی نظام زر میں شامل کرکے نفع خوری کو بڑھاوا دینا ہے۔ مجوزین اسلامی بینکار ی کے نزدیک قلیل مدت جبر سے مراد محض یہ ہے کہ فی الوقت انہیں عام بینکوں کے معیار سود کو اپنے شرح نفع کے لیے بطور معیار قبول کرنا پڑتا ہے۔ چنانچہ حکمت عملی کے درج بالا خاکے کے مطابق اسلامی بینکاری کا نقشہ کچھ یوں ہے: 

  • طویل مدتی حکمت عملی: موجودہ نظام زر کے مقاصد کو جائز سمجھتے ہوئے اسلامی طریقوں سے ان کا حصول۔ 
  • وسط مدتی حکمت عملی: سرمایہ دارانہ علوم کی اسلام کاری اور اصلاحی سیاست کے ذریعے افراد کی فراہمی اور قانونی تبدیلیوں کو ممکن بنانا تاکہ اسلامی بینکاری پر بہتر طریقے سے عمل درآمد کرنا ممکن ہوسکے۔ 
  • قلیل مدتی حکمت عملی: سودی نظام زر کے جبر کو جس حد تک کم اپنانا ممکن ہو اتنا ہی اختیار کیا جائے۔ 

جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا کہ اسلامی بینکاری کے حامیین اور ہمارے درمیان باعث نزاع یہی قضیہ ہے کہ وہ موجودہ نظام کی اسلام کاری کو ممکن سمجھ کر اس کے ساتھ آئیڈئیل بنیادوں پر تعلق استوار کرتے ہیں اور یہی انکی حکمت عملی کی بنیادی غلطی ہے۔ ماہرین اسلامی معاشیات کی اس طویل مدتی حکمت عملی کو چند اکا دکا عبارتوں کا حوالہ دیکر ذائل کرنے کی کوشش کرنا اور یہ تاثر دینا کہ بذات خود اسلامی بینکاری کسی قلیل مدت حکمت عملی (جبر وغیرہ) کا شاخسانہ ہے دن کو رات کہنے کے مترادف ہے (جسکی ایک دلچسپ مثال ذیل میں ’خلوت و جلوت کے تضاد‘ کے تحت آرہی ہے)۔ 

خلوت و جلوت کا تضاد

اسلامی بینکاری کے مویدین اکثر یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں اسلامی بینکاری کے حامی علمائے کرام بھی اسلامی بینکاری کے فروغ کو آئیڈئیل نہیں سمجھتے بلکہ اسے مجبوری وغیرہ کے درجے میں ہی اختیار کرتے ہیں، چنانچہ یہی وجہ ہے کہ اکثر و بیشتر ان علماء کرام کی نجی محافل میں جب کوئی شخص ان سے سوال کرتا ہے تو تقوے کا لحاظ کرتے ہوئے اسے غیر سودی (اسلامی) بینکاری سے بچنے ہی کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ اسلامی بینکاری کے فروغ کے حوالے سے ان علماء کرام کی ’نجی حکمت ‘ عملی کیا ہے یہ تو ہمیں معلوم نہیں کیونکہ اس کے لیے ثقہ و غیر ثقہ راویوں کی چھانٹ پھٹک کرنے کا ایک پیچیدہ مرحلہ درکار ہے (ہوسکتا ہے بعض احباب کو کسی معتبر با خبر ذریعے سے ان نجی محافل کے احوال معلوم ہوتے ہوں)، مگر ان علماء کرام کی اسلامی بینکاری کے حوالے سے ’پبلک پالیسی‘ معلوم کرنے کے لیے کسی روایت پر اعتماد کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ اس سلسلے میں آئے دن اسلامی بینکوں (بشمول میزان بینک) کی طرف سے اخبارات میں دیے جانے والے جاذب نگاہ اشتہارات، شہر کی اہم شاہراہوں کے کنارے آویزاں بڑے بڑے بل بورڈز اور گلیوں کوچوں میں لٹکے ہوئے خوشنما بینرز بہت کافی ہیں جن کا مقصد ہی صرف یہ ہے کہ مختلف اشتہاری ہتھکنڈے استعمال کرکے عوام الناس (علی الرغم اس سے کہ وہ بینکوں سے کوئی تعلق رکھتے ہیں یا رکھنا چاہتے بھی ہیں یا نہیں کیونکہ پاکستان کی دس فیصد سے بھی کم آبادی بینک اکاؤنٹ ہولڈر ہے) کو اسلامی بینکوں کی خدمات حاصل کرنے کے لیے اکسایا جائے، اور یہ بات بھی کوئی راز نہیں کہ کروڑوں روپے کی اس اشتہار بازی کا مقصد آخر کیا ہوتا ہے۔ شاید یہ اپنی نوعیت کی پہلی اسلامی روایت ہوگی کہ جس شے کو خلوت میں ترک کرنے کی نصیحت کی جارہی ہو جلوت میں عین اسی شے کو اشتہار بازی کے ذریعے عام کیا جانا مطلوب قرار پا رہا ہو۔ خلوت اور جلوت میں اختیار کردہ یہ متضاد حکمت عملی آخر تنوع کی کس قسم سے متعلق ہے یہ ہم طے کرنے سے بالکلیہ قاصر ہیں، اگر مویدین اسلامی بینکاری اس سلسلے میں راہنمائی فرمائیں تو نوازش ہوگی۔پھر کیا ہی اچھا ہو اگر ان علمائے کرام کی یہ ’نجی حکمت عملی‘ اور ’تقوے پر مبنی قیمتی مشورے‘ خفیہ روایت کے سلسلوں کے بجائے اشتہارات اور بل بورڈز کے ذریعے عوام الناس تک پہنچ جائیں۔ اصل بات یہ ہے کہ ماہرین اسلامی معاشیات کی اکثریت موجودہ معاشی ادارتی صف بندی میں شمولیت کو کوئی مجبوری نہیں بلکہ فطری تقاضوں کا ارتقاء سمجھتی ہے جنہیں معمولی ردوبدل کرکے اسلامی بنایا جا سکتا ہے (جیسا کہ ان حضرات کی کاوشوں اور مفتی تقی عثمانی صاحب کی کتب کے مطالعے سے واضح ہوجاتا ہے)۔ 

کیا ’کل‘ کی بحث شرع کے لیے اجنبی ہے؟ 

مفتی صاحب فرماتے ہیں کہ شریعت میں کسی شے کو اپناتے وقت ’کل ‘ کے بجائے حرام و حلال کی بنیاد پر جانچنے کا اصول کارفرما ہوتا ہے۔ مفتی صاحب کے اس اصول کے تجزیے سے قبل یہ واضح کردینا ضروری ہے کہ ’کل‘ کی بنیاد پر جانچنے سے ہماری مراد ہے : 

  • موجودہ دور کے کسی بھی مظہرکا اس کے درست اور مخصوص علمی ومعاشرتی تناظر میں جائزہ لے کر اسکی حقیقت کو پہچاننا 
  • اس مظہر کو کسی اسلامی روایت یا تصور کے ساتھ محض ظاہری و جزوی مماثلت کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس کے مخصوص مقاصد اور ’مقاصد شریعت‘ کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اس طرح پرکھنا ہے کہ 
  • مبادا ہم کسی ایک پہلو پر عمل کرنے کی کوشش میں شریعت کے ان گنت دیگر احکامات کی نافرمانی کے مرتکب نہ ہوں 
  • نیز شریعت جس قسم کی انفرادیت، معاشرت وریاست کا فروغ چاہتی ہے وہ تار تار نہ ہوجائے 

کلی تجزئیے سے ہم ہر گز یہ مطلب ’نہیں ‘ لیتے کہ چاہے کوئی عمل قرآن وسنت سے ہی کیوں نہ ثابت ہو اگر وہ مقاصد الشریعہ کے خلاف ہوگا تو ہم اسے نہیں مانیں گے، العیاذ باللہ بھلا کیا خود شارع سے بڑھ کر بھی کوئی یہ طے کر سکتا ہے کہ اسکی عطا کردہ شریعت کے مقاصد حاصل کرنے کا طریقہ خود اس کے تجویز کردہ طریقے کے سواء کوئی اور ہوسکتا ہے؟ مفتی صاحب کو راقم کے بارے میں یہ بد گمانی نجانے کس عبارت سے لاحق ہوگئی کہ ہمارا تعلق اس گروہ سے ہے جو مقاصد الشریعہ کی آڑ میں شریعت ہی کو معطل کردینا چاہتا ہے۔ راقم ایک مرتبہ پہلے بھی ماہنامہ الشریعہ ہی میں یہ وضاحت کر چکا ہے کہ مسئلہ خیر و شر، معروف و منکر کی تعیین کے معاملے میں وہ ماتریدی ہی نہیں بلکہ اس سے بھی آگے اشعری نکتہ نگاہ کا قائل ہے کہ حسن و قبح افعال کے ذاتی نہیں بلکہ شرعی اوصاف ہیں نیز عقل انکا ادراک کرنے سے بالکلیہ قاصر ہے، لہذا راقم الحروف کو مقاصد الشریعہ کی آڑ میں شریعت معطل کرنے والے گروہ پر قیاس کرنا کسی طور درست نہیں۔ جہاں تک رہی یہ بات کہ مجوزین اسلامی بینکاری کے شرع سے ثابت شدہ معاہدات استعمال کرنے کو ہم مقاصد الشریعہ کے تناظر میں رد کیوں کرتے ہیں تو اس ضمن میں تین باتیں عرض ہیں: 

  • مجوزین جن دلائل کی بنیاد پر موجودہ ادارتی صف بندی کا اسلامی جواز پیش کرتے ہیں وہ دلائل ہی محل نظر ہیں۔ انکے اکثر و بیشتر دلائل کی حالت یہ ہے کہ ایک ہی حدیث سے علمائے متقدمین کا کوئی حوالہ پیش کیے بغیر نیز لبرل معاشیات کو درست طور پر سمجھے بغیر ہی اس نظام کو اس حدیث سے اخذ کرڈالتے ہیں۔ انکے زیادہ تر دلائل قرآن و سنت سے براہ راست استدلال کے بجائے قیاس پر مبنی ہوتے ہیں، مثلاً کمپنی کا جواز بیت المال پر قیاس کرکے نکال لیا گیا ہے جو محض ظاہر بینی کی علامت ہے کیونکہ دونوں اپنے مقاصد کے اعتبار سے بعد المشرقین کی سی مماثلت رکھتے ہیں۔ یہ قیاس بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص اسلامی تاریخ میں ’تعلیمی نظام کی موجودگی‘ کو دیکھ کر یہ دعوی کرے کہ ’موجودہ تعلیم بھی ایک نظام ہے‘ اور یوں موجودہ علوم کو شامل اسلام کرلے (اگر راقم کو مفتی صاحب کی الزامی دلیل سے اپنا دفاع کرنا ہوتا تو اسلامی بینکاروں کی مانند اس قسم کے بے شمار قیاسات گھڑے جاسکتے ہیں)۔ ظاہر بات ہے محض نظام تعلیم کی مماثلت موجودہ تعلیم کو اسلام میں جائز کہنے کے لیے کافی نہیں کیونکہ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ دونوں کے مقاصد میں تعلق کیا ہے۔ ہمارے مفکرین موجودہ دور کے تقریباً ہر ہی مظہر کو کسی نہ کسی اسلامی روایت سے جزوی مشابہت کی بنیاد پر ’یہ بھی اسلام میں ہے‘ کہہ کر شامل اسلام کردیتے ہیں مگر اس قسم کے استدلال کرتے وقت یہ بھول جاتے ہیں کہ قیاس کرتے وقت محض ’مماثلت‘ (similarities) ہی نہیں بلکہ ’عدم مماثلت‘ (dis-similarities) کا خیال رکھنا بھی بنیادی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ (علمائے متقدمین نے اس بات پر نہایت زور دیا ہے اور اسی بناء پر علم الاشباہ و النظائر اسلامی علمی روایت کا ایک اہم جزو رہا ہے اور موجودہ دور میں تو اس کے احیاء کی سخت ضرورت ہے)۔ چنا نچہ یہ کہتے وقت کہ ’یہ بھی اسلام میں ہے‘ اس پر بھی نظر رہنا چاہیے کہ ’اسلام میں کیا نہیں ہے‘ ۔
  • ہمارے تجزیے کے مطابق شرکت و مضاربت کی بنیاد پر بینکاری ممکن ہی نہیں جیسا کہ ہم نے اپنے مضمون میں واضح کرنے کی کوشش کی اور مفتی صاحب نے بھی اس پر کوئی بنیادی اعتراض وارد نہیں کیا، سوائے اس کے کہ مجوزین اسلامی بینکاری علمائے کرام اسے درست اور ممکن سمجھتے ہیں (اور جو اشکالات اٹھائے ہیں، ان کی حقیقت ان شاء اللہ اگلے تبصرے میں واضح کی جائے گی)۔ لہٰذا جن معاہدات و طرق تمویل (شرکت و مضاربت) کو حضرات مجوزین بھی ’آئیڈیل ‘ سمجھتے ہیں، وہ کم از کم اسلامی بینکاری کے نام پر کیے جانے والے کاروبار کے تحت ناممکن ہیں۔ 
  • رہے ’حیلہ طرق تمویل‘ تو ان کے بارے میں نہ صرف یہ کہ ناقدین علمائے کرام بلکہ خود مجوزین کو بھی قبول ہے کہ یہ عبوری دور سے متعلق ہیں اور جن کا مستقل اور منظم استعمال بعض کے نزدیک نا پسندیدہ اور بعض کے ہاں ممنوع ہے (جیسا کہ آگے آرہا ہے)۔ ان تمام پہلووں کو سامنے رکھتے ہوئے اگر راقم الحروف اسلامی بینکاری و فائنانس میں اختیار کیے جانے والے معاہدات کو غلط سمجھتا ہے تو کیا اسے ’مقاصد کی آڑ میں شرع کو معطل کرنا‘ کہا جا سکتا ہے؟ 

اس وضاحت کے بعد ’کل‘ کو نظر انداز کر کے جزو پر فتوے دینے کی غلطی سمجھنے کے لیے ایک مثال پر غور کرتے ہیں۔ ایک ایسے غلیظ معاشرے کا تصور کیجیے جہاں فحاشی و بدکاری اس طرح عام ہوجائیں کہ اسے باقاعدہ طور پر ایک منظم معاشرتی صف بندی کی حیثیت حاصل ہوجائے، لوگوں کا احساس گناہ اس حد تک گر جائے کہ وہ نکاح کے بجائے زنا کو ترجیح دینے لگیں، نیز ریاستی قوانین بھی نکاح کو مشکل اور زنا کو آسان بنائیں (جیسا کہ دنیا کے کئی ممالک کا یہ حال ہے)۔ ایسے ماحول میں ایک ’تہجد گزار فرد ‘ بھی خود کو ایسے حالات میں پائے گا کہ نہ صرف یہ کہ وہ اپنی اولا د ہی کو بلکہ خود کو بھی زنا و بدکاری کی آلائشوں سے بمشکل ہی بچا پائے گا جس کا اظہار یہ اعداد وشمار ہیں کہ مغربی معاشروں میں محض پندرہ سال کی عمر تک پہنچنے والے بچوں میں سے ستر فیصد سے زائد بچے کم از کم ایک مرتبہ زنا کا ارتکاب کر لیتے ہیں، کئی ممالک میں پچاس فیصد سے زائد بچے حرامی النسل ہوتے ہیں۔ فرض کریں اس ماحول میں کوئی ’خداترس‘ عالم ’تہجد گزار‘ مسلمانوں کو ’بدکاری کے گناہ سے بچانے ‘ کے لیے ’عموم بلوی‘ اور ’وقت کی ضرورت‘ کو دلیل بنا کر ’اسلامی قحبہ خانے‘ بنائے جہاں بڑی تعداد میں بدکاری کے شعبے سے متعلق عورتوں کو جمع کرلے اور پھر درج ذیل ’شرعی‘ اصولوں کی پابندی کرنا شروع کردے: 

  • وہاں ’بلا ضرورت شرعیہ ‘ مرد و زن کا اختلاط نہ ہونے دے ۔
  • مباشرت سے قبل ’نکاح‘ کی رسم اور ’مہر ‘ کی رقم طے کروائے۔
  • نکاح کروانے کے لیے ’شرعی قاضیوں‘ اور ’گواہوں‘ کا انتظام موجود ہو ۔
  • مباشرت کے بعد شوہر بیوی کو ’طلاق ‘ دے کر ’مہر کی رقم ادا‘ کردے ۔
  • کیونکہ عورت کے لیے ہر طلاق کے بعد نئے نکاح کی راہ میں ’عدت ‘ کی طویل مدت حائل ہوگی، لہٰذا یہاں غامدی صاحب کے فتوے پر عمل کرلے کہ اگر میڈیکل ٹیسٹ سے ثابت ہوجائے کہ حمل نہیں ٹھہرا تو عدت ختم ہوجائے گی، لہٰذا اسلامی قحبہ خانے میں اعلیٰ قسم کی لیبارٹری بھی بنوالے۔

ذرا غور تو کیجیے کہ ’اسلامی قحبہ خانے‘ بنانے میں کس قدر شرعی مسائل کا لحاظ کیا جارہا ہے۔ قریہ قریہ ’اسلامی قحبہ خانے ‘ بنانے کے بعد یہ نقشہ وہ آپ کے سامنے پیش کرکے پوچھے کہ بتائیے، اس میں کیا خرابی ہے اور آپ بجائے اسے ایک ’کل‘ کے ’اس میں جو اچھا ہے، وہ لے لو اور جو برا ہے اسے چھوڑ دو‘ کی بنیاد پر جزواً جزواً پرکھ کر یہ کہنے لگیں کہ ’میاں یہاں عدت گزارنے کا طریقہ فقہ حنفی کے مطابق نہیں ہے‘ یا ’گواہ صفت عدالت سے متصف نہیں ‘ وغیرہ تو ایسے طریقہ اجتہاد کو کیا کہا جائے گا؟ کیا (کسی دوسری فقہ کی روشنی میں کوئی فقہی حل تجویز فرمادینے کے بعد ) عدت گزارنے کے طریقے کو درست کرلینے سے واقعی یہ ’اسلامی قحبہ خانے‘ کہلانے کے مستحق ٹھہریں گے اور ہم خلق خدا کو ’غیر اسلامی کوٹھوں‘ کے بجائے ’اسلامی قحبہ خانے‘ جانے کی ترغیب دلانے کے لیے اشتہاری مہمیں شروع کرنے پر زور دینے لگیں گے اورخود ان قحبہ خانوں میں کنسلٹنٹ بھرتی ہونے کی فکر کرنے لگیں گے کہ دیکھیں کہیں یہ ’غیر شرعی‘ اصولوں پر نہ چل نکلیں؟ ہوسکتا ہے کسی کو ’اسلامی قحبہ خانے‘ کی یہ مثال محض ایک ذہنی عیاشی لگتی ہو، لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ مصر کے فقیہ العصر علامہ یوسف قرضاوی صاحب نے نکاح المسیار کی اجازت دے کراسلامی قحبہ خانے بنانے کی راہ ہموار کردی ہے۔ اب ضرورت ہے تو بس ہمت کی۔ یقین مانیے جس معاشرتی ماحول کی اوپر منظر کشی کی گئی، وہاں ایسی کاوشوں کے حامی چند علماء کرام کا دستیاب ہوجانا نیز عوام الناس میں ان کا مقبول ہوجانا کوئی اچنبھے کی بات نہ ہوگی۔ اگر بات صرف جزو ہی کی ہے تو پھر ’اسلامی قحبہ خانے‘ کے مالک کا کیا قصور ہے کہ اس کا یہ ’شرعی جواز‘ نہ مانا جائے کہ اسلام نے شہوانی جذبے کا جائز طریقے سے اظہار حرام کب قرار دیا ہے، اگر ایسا ہوتا تو اسلام مرد کو چار شادیوں کی اجازت ہی کیوں دیتا؟ نیز اسلامی بینکاروں کے فلسفے کو بنیاد بنا کر وہ بھی تو کہہ سکتا ہے کہ ’جناب اسلام میں جائز اور ناجائز کا فرق صرف طریقہ کار کی تبدیلی پر مبنی ہے، اگر جانور بسم اللہ پڑھ کر ذبح کرلیا جائے تو وہ حلال ہوجاتا ہے ورنہ حرام، اسی طرح میں نے غیر اسلامی کوٹھوں کو غیر شرعی طریقوں سے پاک کرکے اصول شرعیہ (Shariah compliance) کی روشنی میں انہیں اسلامی قحبہ خانوں میں تبدیل کردیا ہے، ٹھیک ہے اس کوشش میں ابھی تک مجھے سو فیصد کامیابی نہیں ملی، لیکن ناقدین کو چاہیے کہ میری کاوشوں کو ’کل‘ کی روشنی میں جانچ کر رد کرنے کے بجائے اس سلسلے میں میری راہنمائی فرمائیں تاکہ اس کار خیر میں مزید بہتری لائی جاسکے‘۔ 

اس سلسلے میں مثالوں کا ایک دفتر پیش کیا جا سکتا ہے، مگر خوف طوالت کی بنا اسی ایک مثال پر اکتفا کرتے ہیں کیونکہ سمجھنے کے لیے اس میں بہت سا مواد موجود ہے۔ مسند امام احمد (۱۸۴) میں سالم بن عبداللہ کی روایت کا مفہوم ہے کہ غیلان بن سلمہ نے حضرت عمرؓ کے دور حکومت میں جب اپنی بیویوں کو طلاق دے کر اپنا مال بھائیوں میں تقسیم کردیا تو حضرت عمرؓ نے اسے بلا کر کہا کہ تمہیں اپنی بیویوں کی طرف رجوع کرنا ہوگا اور تقسیم شدہ دولت واپس لینا ہوگی، بصورت دیگر میں (اسلامی حکومت کے سربراہ کی حیثیت سے) تمہاری بیویوں کو تمہارا وارث بناؤں گا ۔ ایک صحابیؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک خوبصورت مگر بانجھ عورت سے نکاح کی تین مرتبہ اجازت طلب کی، آپ نے تینوں مرتبہ منع فرمادیا (ابن حبان ۳۹۸۸، ابو داؤد ۲۰۵۳، نسائی ۳۲۲۹) حالانکہ بانجھ عورت سے نکاح حرام نہیں ہے، لیکن چونکہ یہ مقاصد شریعہ کی کلیت کو متاثر کرتا ہے، لہٰذا اجازت نہ دی گئی۔ درج بالا مثال کی طرح ان چند روایات ہی پر اکتفا کرتے ہیں کیونکہ یہ موضوع بذات خود ایک الگ مضمون کا متقاضی ہے (۵) ۔ اصل بات یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کے انہدام کے لیے اس وقت تک کوئی مثبت اسلامی حکمت عملی تیار نہیں کی جاسکتی جب تک تجزیے کا نقطہ ماسکہ جزوی تفصیلات نہیں بلکہ ’نظام‘ نہ بن جائے۔ 

اس مقام پر یہ بھی مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ’مدعی لاکھ پہ بھاری ہے گواہی تیری‘ کے مصداق خود مجوزین کے گھر سے ’کل‘ کی روشنی میں تجزیہ کرنے کے حق میں ثبوت پیش کردیا جائے۔ اس سلسلے میں ڈ اکٹر نجات اللہ صدیقی صاحب کی کتاب ’مقاصد شریعت‘ کا باب نمبر ۶ (مقاصد شریعت کی روشنی میں معاصر مالیات کا جائزہ) چشم کشا حقائق کی نشاندہی کرتا ہے۔ مجوزین کے ہاں ڈاکٹر صاحب کی حیثیت ’استاذ الاساتذہ‘ کی سی ہے (کیونکہ خود مولانا تقی عثمانی بھی اسلامی معاشیات میں انہیں اپنا استاد مانتے رہے ہیں)۔ چونکہ ہمارامقصد صرف یہ دکھانا ہے کہ درج بالا اصول خود مجوزین کے نزدیک بھی معتبر ہے، لہذا ہم یہاں چند اقتباسات پیش کرتے ہیں، تفصیلات کے لیے کتاب کی طرف رجوع کرنا چاہئے۔ 

  • چنانچہ ڈاکٹر صاحب ایک بیع کے اندر ایک سے زائد معاہدات کو جمع کرنے کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’یہ اصول ہمیشہ یاد رکھنا ہوگا کہ عام حالات میں، یا الگ الگ کیے جانے کی صورت میں، جو معاملات درست ہوں، وہ بھی اس صورت میں قابل قبول نہیں رہ جاتے جب ان کے نتیجے میں عدل و انصاف کی خلاف ورزی ہو رہی ہو، ظلم او رحق تلفی کا اندیشہ ہو اور مقاصد شریعت صراحۃً مجروح ہورہے ہوں‘‘۔ (ص : ۲۰۷) 
  • مجوزین اسلامی بینکاری کے طریقہ تحقیق کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’یہ ایک حقیقت ہے کہ ان کا مرکز توجہ اسلامی مالیاتی اداروں کے روز مرہ مسائل رہے، یہ ان کلی امور پر توجہ نہیں مرکوز کرسکے جو اسلامی نظام کو سرمایہ دارانہ نظام سے اور ان دونوں نظاموں کے مالیاتی اداروں کو ایک دوسرے سے ممتاز کرتے ہیں‘‘۔ (ص : ۲۱۶) ۔۔۔ ’’معاملات کے باب میں خاص طور پر فقہ اسلامی کے ائمہ مثلاً ابوحنیفہؒ اور مالک بن انسؒ کسی طریقہ پر صاد کرنے سے پہلے عواقب اور مال کار پر ضرور نظر ڈالتے تھے۔ ان کا فیصلہ مصالح عامہ کو سامنے رکھ کر ہوتا تھا۔ امام ابوحنیفہؒ کے استحسان اور امام مالکؒ کے مصالح مرسلہ کی یہی نوعیت تھی۔ صرف متعلقہ عقود کی سلامتی کسی ایسے طریقہ پر صاد کرنے کے لیے کافی نہیں جس کے مفسدہ کا پلہ اس کی کسی منفعت پر بھاری ہو۔‘‘ (ص: ۲۱۷) 
  • مجوزین کے زاویہ نگاہ نے امت مسلمہ کو کیا دیا اس پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’گزشتہ تیس برسوں میں جزئی نظر اور روز مرہ مسائل کے حل پر مرکوز فتاوی نے آج اسلامک بینکنگ اور فنانس کو ایسی شکل دے دی ہے جو مال کار اور اپنے عواقب کے اعتبار سے ہمیں وہیں پہنچا رہی ہے جہاں سودی قرضوں پر مبنی بینکنگ اور فنانس نے پوری انسانیت کو پہنچا رکھا ہے‘‘۔ (۲۱۷) 
  • پھر قرض کی مثال دے کر جزوی اور کلی دونوں نقطہ نگاہ سے معاملے کا موازنہ کرنے کی اہمیت اجاگر کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ’’یہ موازنہ دینی مدارس میں نہیں سکھایا جاتا، نہ ہی متعلقہ علوم دینی مدارس کے نصاب میں شامل ہیں‘‘۔ (۲۱۷) 

یہ نہ سمجھا جائے کہ یہ سب زاہد مغل تحریر کررہا ہے، بلکہ مجوزین کے استاذ الاساتذہ فرمارہے ہیں۔ ہمیں اس بات کا ادراک ہے کہ ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی صاحب بذات خود سرمایہ دارانہ نظام کے جزوی ناقد ہیں، مگر یہاں اصل بات یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب جس حد تک اسلامی بینکاری کو مقاصد شریعت کے خلاف سمجھتے ہیں، اس قدر اسے غلط قرار دے رہے ہیں، چاہے اس میں ہونے والے انفرادی معاہدات جزوی سطح پر بظاہر ٹھیک ہی کیوں نہ نظر آرہے ہوں۔ ہمیں امید ہے کہ جب مجوزین موجودہ نظام کا مزید بہتر ادراک حاصل کرلیں گے تو ان شاء اللہ انہیں اپنی باقی ماندہ غلطی کا احساس بھی ہوجائے گا۔ 

نئی فکر ناقابل التفات نہیں ہوتی

مفتی صاحب نے صد فیصد درست فرمایا کہ جو گزارشات ہم پیش کررہے ہیں وہ ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں جن کا نقد و نظر کی چھلنی سے گزرنا ابھی باقی ہے، ایسی ابتدائی فکر کی بنیاد پر کسی چلتے ہوئے نظام کو ترک کرکے انارکی کی حالت اختیار نہیں کی جاسکتی۔ ہمیں اس انداز فکر پر کوئی اعتراض نہیں کیونکہ ہم نے یہ کب کہا کہ سب لوگ دل و دماغ بند کرکے ہماری فکر کے پیچھے چل پڑیں۔ اس کے برعکس یہ گزارشات پیش ہی اس لیے کی گئی ہیں کہ ’کھلے ذہنوں‘ کے ساتھ ان پر غور و فکر کیا جائے کہ اگر بیماری کی تشخیص اور اس کا علاج تجویز کرنے میں کوئی کسر رہ گئی ہے تو اس کی اصلاح ہوجائے۔ ’اب تک چھلنی سے نہ گزرنے ‘ کا یہ مطلب بھی نہیں نکلتا کہ چھلنی کا منہ بند کرکے کسی دوسری شے کو اس میں سے گزرنے ہی نہ دیا جائے یا اسے نا قابل التفات قرار دے دیا جائے۔ یہاں بنیادی بات یہ ہے کہ ایک فکر کو آپ ’کس فکری چھلنی‘ سے گزارنے کی کوشش کررہے ہیں، کیونکہ کسی فکری چھلنی کا منہ کس قدر کھلتا ہے، اس کا تعلق براہ راست اس فکر کے حاملین کے فکری پس منظر سے ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک کتنی تبدیلی درکار ہے۔ نئی فکر اگر کسی ایسی تبدیلی کا تقاضا کرے جس کی موجودہ فکر ی چھلنی متحمل ہی نہ ہو تو ایسی صورت میں چھلنی بدلنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ مجوزین اسلامی بینکاری کے جس فکری پیمانے کے ذریعے ’نئی فکر‘ کو جانچنے کی کوشش کی جارہی ہے، بذات خوداس پیمانے کو بھی تو جانچنے کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ محض اس بنیاد پر کہ وہ پیمانہ حاضر و موجود ہے یا چند نامور شخصیات نے انہیں تھام رکھا ہے، اس کے ٹھیک ہونے کی کوئی دلیل تو نہیں۔ 

پھر جہاں کسی نئی فکر کو تنقید کی چھلنی سے گزارنے کی بات کرنا ایک اہم علمی نکتہ ہے، وہیں ان اہل علم کو یہ اصول بھی یاد رکھنا چاہیے کہ باطل کی نفی اثبات حق پر نہ صرف مقدم ہے بلکہ اس کی پیشگی شرط بھی ہے (۶) ۔ کسی شے کے متبادل کی فراہمی میں یہ چیز فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہے کہ معاشرے میں اس متبادل کی طلب کتنی شدت کے ساتھ پائی جاتی ہے اور شدت طلب کا انحصار اس بات پر ہے کہ لوگ کس قدر حاضر و موجود نظام سے نالا۶ ہیں اور اس سے براء ت چاہتے ہیں۔ متبادل کی نوبت تبھی تو آئے گی جب معاشرے کا ایک موثر طبقہ ’موجود‘ سے بیزار ہوگا۔ اگر آپ کسی کو معاشرے کے ایک طبقے کو موجود سے بیزار ہی نہ کرنے دیں گے اور متبادل نہ ہونے اور ’نئی فکر ‘ ہونے کے باعث چپ کراتے رہیں گے تو متبادل کی نوبت کیونکرآئے گی؟ چنانچہ جس شے کی عدم موجودگی کو دلیل بنا کر مجوزین اپنے ناقدین کو خاموش کرانے کی کوشش کرتے ہیں اس کا پایا جانا تو منحصر ہی اس بات پر ہے کہ معاشرے پر اثر انداز ہونے والے طبقے میں اس کے طلبگار پیدا ہوجائیں کیونکہ وہ بغیر طلب کے فراہم ہوجانے والی شے نہیں۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ کسی چیز کی معاشرے میں بالکلیہ طلب نہ ہو، مگر اس کی پیداوار کے ڈھیر لگ جائیں۔ اس کی پیداوار کے لیے جس قدر محنت کی ضرورت ہے، وہ اسی وقت فراہم ہو پائے گی جب معاشرہ اسے اپنی ناگزیر ضرورت سمجھے گا۔ یہ عجیب منطق ہے کہ غلط کو غلط مت کہو، اسے قائم و دائم رہنے دو اور اس کے خاتمے کا سوال بھی مت اٹھاؤ کیونکہ اسے غلط کہنے کے لیے جو چیز پاس ہونی چاہیے، اسلامی بینکاری کے ناقدین اپنے پاس نہیں رکھتے۔ پس یاد رکھنا چاہیے کہ متبادل سے بات ’شروع ‘ نہیں ہوگی بلکہ اس پر بات ’ختم‘ ہوگی۔ ظاہر سی بات ہے جب تک کسی چلتے ہوئے نظام کے خلاف کوئی دعوت اٹھے گی ہی نہیں تو وہ تبدیل کیسے ہوگا ؟ 

پھر کیا ہی اچھا ہو اگر یہی مشورہ اسلامی بینک قائم کرنے والے ماہرین اسلامی فائنانس اور علمائے کرام کو بھی دیا جائے کہ ان حضرات کو بھی اپنی فکر و حکمت عملی کو ہر قسم کی تنقید کی چھلنی سے گزارنے کے بعد ہی اسلامی بینک قائم کرنا چاہیے تھے، کیونکہ اپنے اس عمل کی وجہ سے انہوں نے امت کو شدید فکری الجھاؤ سے دو چار کردیا ہے۔ یہ تو عجیب بات ہے کہ یہ حضرات تو اس اصول سے مستثنیٰ ہو کر آئے دن اپنی خام فکر کی بنیاد پر (نام نہاد) اسلامی بینکنگ کے کاروبار کو وسعت دینے میں مصروف عمل رہیں، قریہ قریہ جا کر اپنی برانچیں کھولتے رہیں، اس کے نام پر دنیا بھر میں کھربوں ڈالر کا کاروبار چمکائیں مگر جب ناقدین کچھ کہنے کی جسارت کریں تو ان کے پلے یہ سنہرا اصول باندھ دیا جائے کہ ’جناب ابھی آپ کی فکر خام ہے، جب پختہ ہوگی تب اس پر کان دھریں گے‘۔ حضرت علیؓ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر کوئی ایسا معاملہ پیش آجائے جس کے متعلق کوئی صریح حکم نہ ہو تو میرے لیے کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس سلسلے میں عبادت گزار فقہا سے مشورہ کرنا اور کوئی انفرادی رائے قائم کرنے سے احتراز کرنا۔ (مجمع الزوائد ۃ ۱/۱۷۸)۔ اس حدیث کے مطابق کیا عمائدین اسلامی بینکاری پر لازم نہ تھا کہ اپنی انفرادی رائے کی بنا پر امت کو اسلامی بینکاری کے خطرات میں مبتلا کرنے سے پہلے کم از کم دیوبندی حلقہ علماء ہی میں کوئی اجتماعی رائے قائم کرنے کا اہتمام فرماتے۔

اکابرین کے غیر متعلقہ اقوال کاحوالہ

مفتی صاحب نے یہ شکوہ (بلکہ بعض مقامات پر خبردار ) بھی کیا ہے کہ درحقیقت اپنے مضمون کے ذریعے پس پردہ ہم نے یک لحظہ ان تمام اکابر علمائے کرام کی تردید و تحقیر کردی ہے جو اسلامی بینکاری کے حق میں تھے یا ہیں۔ ہم امید کررہے تھے کہ مفتی صاحب ہمارے مضمون کے بنیادی مقدمے (کہ موجودہ بینک زر قرض کی جعلی رسید ہے نیز جز محفوظاتی بینکاری کے ہوتے ہوئے یہ دھوکہ بازی ختم کرنا نا ممکن ہے اور اسلامی بینک اس جرم میں برابر کے شریک ہیں) پر نقد فرماتے ہوئے علم معاشیات و ماہرین اسلامی معاشیات کے تجزیوں کی روشنی میں ہماری غلطی واضح کردیں گے مگر اس سلسلے میں ان کے پاس کہنے کے لیے اس سے زیادہ اور کچھ نہیں کہ دنیا کے بڑے بڑے ماہرین اسلامی معاشیات و حامیین اسلامی بینکاری علمائے کرام اسے غلط نہیں کہتے۔ اگر مفتی صاحب واقعی یہ ثابت کردیں کہ اس مسئلے پر امت مسلمہ کا اجماع ہوچکا ہے تو ہمیں اپنی غلطی ماننے میں کوئی حجاب نہ ہوگا کیونکہ ہم اجماع کو حجت شرعی مانتے ہیں، لیکن اگر ایسا نہیں ہے جیسا کہ حقیقت واقعہ ہے تو ازراہ مہربانی عرض ہے کہ ان اکابر علمائے کرام نے بذات خود کبھی یہ نہیں لکھا کہ ہمارا نام لے کر تمہارے سامنے اگر کوئی شخص کوئی مسئلہ بیان کرے تو اسے بلا چوں چراں دلیل طلب کیے بغیر ہی قبول کرلینا۔ جہاں تک جدید اسلامی تحقیقاتی اداروں اور ان میں کام کرنے محققین کی بات ہے تو ان کے بارے میں ہماری رائے یہی ہے کہ ’ہم رجال و نحن رجال‘، جیسے اپنی تحقیق (صحیح یا غلط) کی بنیاد پر وہ اپنی رائے رکھنے کا حق رکھتے ہیں، اسی طرح ناقدین اسلامی بینکاری کو بھی اس کا حق ملنا چاہیے۔ ان قدآور شخصیات کے با وزن ناموں کے نیچے کسی کی آواز دبانے کی کوشش نہیں کرنا چاہئے۔ مفتی صاحب ہم سے سوال کرتے ہیں کہ کیا ہم ان تمام حضرات کو غلط کہنے کی جسارت کرنا چاہتے ہیں، ہم بصد ادب مفتی صاحب کی خدمت میں گزارش کرتے ہیں کہ اگر وہ ان سب حضرات کے معصوم عن الخطا ہونے کی گواہی دینے کے لیے تیار ہیں تو ہم آج ہی سے اسلامی بینکاری کی مخالفت ترک کرنے کے لیے تیار ہیں۔ جہاں تک اکابر علماء کرام کی بات ہے تو اس کے بارے میں ہم آگے عرض کریں گے، مگر جہاں تک دور حاضر کے علمائے کرام کا تعلق ہے تو ان کی دینی علوم پر دسترس پر راقم کو کو ئی شک و شبہ نہیں اور نہ ہی ان کی تجہیل خدانخواستہ ہمارا مقصد رہا ہے، البتہ یہ تاثر بہر حال قائم ہے کہ اگر ایک طرف وہ ’مجتہد فی علوم الشرع‘ ہیں تو دوسری طرف ’مقلد فی علم الاقتصاد‘ ہیں اور درحقیقت یہی مسئلے کی اصل جڑ ہے۔ 

اسلامی بینکاری کے خلاف چھپنے والے علمائے کرام کے متفقہ فتوے کے جواب میں کچھ عرصہ قبل ’غیر سودی بینکاری‘ کے نام سے ایک کتاب چھپ کر منظر عام پر آئی جس کا پہلا باب ہی ’اسلامی متبادل‘ (خصوصاً بینکاری نظام کے متبادل ) کے امکانات و اہمیت سے بحث کرتا ہے۔ کتاب کے نہایت محترم اور فاضل مصنف اس باب میں بینکاری نظام کے اسلامی متبادل کے امکانات ثابت کرنے کے لیے یا تو پرانی دلیلوں کو بعینہہ دھرا دیا ہے (گویا ان دلیلوں کے خلاف آج تک کوئی تنقیدی بات کہی ہی نہ گئی ہو) اور یا پھر کوئی علمی دلیل قائم کرنے کے بجائے چند اکابر علمائے کرام ؒ (جن کا ذکر مفتی صاحب نے بھی فرمایا) کے اقوال نقل کرکے اپنے دعوے میں وزن پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ ہمارے نزدیک اسلامی بینکاری کے حق میں اپنے پیش رو علمائے کرام کے اقوال پیش کرنا ہی محل نظر ہے کیونکہ انکے یہ اقوال اس دور پر محمول ہیں جب : 

(۱) بینکاری نظام کی اصل حقیقت اور سرمایہ دارانہ نظام سے اس کا تعلق علمائے کرام پر مکمل طور پر واضح نہ ہو سکا تھا، لہذا علمائے کرام نے اس کے متبادل کے امکانات پر آراء کا اظہار فرمایا، مگر آج ان بنیادی مباحث کی وضاحت کے بعد ان آراء و اقوال کو اپنے حق میں استعمال کرنا درست نہیں۔ یہ بات پورے وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ جن اکابر علمائے کرام کے اقوال محترم مصنف نے بطور دلیل پیش کیے ہیں اگر ان علمائے کرام کے سامنے یہ مباحث پیش کردیے جاتے تو یقیناًوہ بینکاری کے اسلامی متبادل کا فتوی نہ دیتے کیونکہ ان علمائے کرام نے اسلامی بینکاری کا متبادل کسی دنیاوی منفعت، مال و متاع یا شہرت کے حصول کے لیے نہیں بلکہ محض رضائے الہی کے لیے پورے خلوص کے ساتھ حق سمجھ کر بیان کیا۔ اس مقام پر یہ گمان نہیں کرنا چاہئے گویا اس بحث سے اکابر علماء کرام پر نامکمل تحقیق کے بغیر فتوی دینے کا الزام عائد ہوجا تا ہے، حاشا و کلا۔ درحقیقت تحقیق ایک ’عمل ‘ کا نام ہے نہ کہ کسی ’واقع ‘ کا جو فوراً سے وقوع پزیر ہوجاتا ہو۔ اس بات کو اس مثال سے سمجھا جا سکتا ہے کہ ابتداً لاؤڈ سپیکر میں ادائیگی نماز کو جید علمائے کرام نے ناجائز کہا مگر جیسے جیسے تحقیق کا عمل آگے بڑھا ان جید علماء کے تلامذہ نے اپنے اساتذہ سے اختلاف کرتے ہوئے اسے جائز کہا۔ ظاہر ہے نئی تحقیق کی روشنی میں نیا فتوی دینے سے نہ تو اکابرین پر کوئی الزام عائد ہوتا ہے اور نہ ہی انکا علم و فضل کم ہوتا ہے 

(۲) علمائے کرام نے ابتداً حیلوں پر مبنی اسلامی بینکاری کی اجازت اس امید پر دی تھی کہ وقت گزرنے کے ساتھ یہ اپنی اصل بنیادوں (مشارکت و مضاربت) کی طرف بڑھتی چلی جائے گی مگر طویل عرصے پر محیط تجربے سے ثابت ہوچکا کہ اسلامی بینکاری اپنی اصل بنیادوں کی طرف بڑھنے کے بجائے حیلوں کو ہی مستقل اصول بنانے پر مصر ہوتی چلی گئی ہے (فاضل مصنف کی درج بالا مذکور کتاب اس رویے کی ایک واضح مثال ہے جس کا مقصد حیلوں کو عمومی و آفاقی اصولوں کے طور پر اپنانے کا سر توڑ جواز پیش کرنا ہے)۔ مثلاً سٹیٹ بینک آف پاکستان کی سالانہ رپورٹس کے مطابق اسلامک بینکنگ میں مختلف طرق تمویل کی شرح استعمال کچھ اسطرح ہے: 


اس گوشوارے کو دیکھنے سے بالکل واضح ہے کہ اسلامی بینکوں میں اب تک نوے فیصد (90%) سے زیادہ کام اجارہ، مرابحہ اور مشارکہ متناقصہ سے چلایا جارہا ہے جبکہ مجوزین اسلامی بینکاری کے بقول اصل اسلامی طرق تمویل یعنی مشارکہ اور مضاربہ کا فیصدی حصہ تین فیصد (3%) سے بھی کم ہے (یہاں ذہن میں یہ سوال مچلتا ہے کہ اگر واقعی اسلامی بینکاری کسی مجبوری کا نام ہے تو اسلامی بینکوں کو نفع کی لالچ کے سواء آخر کس چیز نے کھربوں روپے کے حیلہ طرق تمویل کرنے پر مجبور کررکھا ہے؟)۔ پھر ایسا بھی نہیں کہ اس پورے عرصے کے دوران دنیا بھر میں اسلامی بینکاری کی مقبولیت میں اضافہ نہ ہوا ہو۔ مثلاً سٹیٹ بینک آف پاکستان ہی کے مطابق ملک بھر میں سال ۲۰۰۳ سے لیکر ۲۰۰۸ تک اسلامی بینکوں کے کاروبار کی شرح نمو درج ذیل رہی: 


دیکھئے ایک طرف تو اسلامی بینکاری کے حجم میں اس قدر ہوش ربا اضافہ ہورہا ہے مگر دوسری طرف یہ اپنی اصل کی طرف بڑھنے کے بجائے محض حیلوں بہانوں کو عام کرنے کی روش بدستور برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اب ایک طرف اسلامی بینکوں کی اس ’عملی روش‘ کو سامنے رکھئے اور دوسری طرف ماہرین اسلامی بینکاری کے یہ ’کتابی اصول ‘ ملاحظہ فرمائیے جن کے مطابق حیلہ طرق تمویل ’عبوری دور‘ سے متعلق ہیں: 

چنانچہ مولانا تقی عثمانی صاحب فرماتے ہیں:

’’اسلامی بینکوں اور مالیاتی اداروں کے شریعہ ایڈوائزری بورڈ اس نکتے پر متفق ہیں کہ یہ (مرابحہ اور اجارہ) فائنانسنگ کے مثالی طریقے نہیں ہیں اس لیے انہیں ’صرف‘ ضرورت کے موقع پر ہی استعمال کرنا چاہئے۔‘‘ (اسلامی بینکاری کی بنیادیں: ص ۱۹) 

اسلامی نظریاتی کونسل اپنی تجاویز میں کہتی ہے: ’’یہ خطرہ بھی موجود ہے کہ یہ طریقے بالآخر سودی لین دین اور اس سے متعلقہ برائیوں کے از سر نو رواج کے لیے چور دروازے کے طور پر استعمال ہونے لگیں۔ لہٰذا یہ امر ضروری ہے (کہ) ان طریقوں کا استعمال ’کم سے کم حد تک ‘ ’صرف‘ ان صورتوں اور ’خاص حالات‘ میں کیا جائے جہاں ’یہ ناگزیر‘ ہوں اور اس بات کی ’ہرگز اجازت نہ دی جائے‘ کہ یہ طریقے سرمایہ کاری کے ’عام معمول‘ کی حیثیت اختیار کر لیں‘‘۔ (رپورٹ بلاسود بینکاری: ص۱۳) 

درج بالا حقائق کو نظر انداز کرکے آخر اسلامی بینکاری کے آہستہ آہستہ ’عبوری دور‘ سے نکل کر اپنی اصل کی طرف گامزن ہونے کی امیدوں کے سبز باغ دکھانے کی کوشش کیوں کی جا رہی ہے؟ خود مجوزین کو بھی قبول ہے کہ آج کی اسلامی بینکاری اس سے یکسر مختلف ہے جس کا خواب ابتداً دیکھا گیا تھا۔ چنانچہ ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی صاحب اسلامی بینکاری کا تعارف کراتے ہوئے فرماتے ہیں: 

’’ابتداءً اسلامک بینکنگ کا ماڈل مضاربت پر مبنی تھا ۔۔۔ مگر جلد ہی زیادہ تر اسلامی بینکوں نے براہ راست پر خطر کاروبار سے اجتناب کرتے ہوئے ایک ایسا طریقہ اختیار کرلیا جس میں نفع تقریباً یقینی ہو اور اسکی شرح پہلے معلوم رہے، یہ بیع المرابحہ کا طریقہ تھا ۔۔۔ (انہی مرکبات) کے اجراء نے اسلامک بینکنگ کو عام کرنے اور اسے عوام سے قریب تر کرنے میں بڑا حصہ لیا ۔۔۔ مرابحہ، اجارہ منتہیہ بالتملیک، متوازی سلم، صکوک (جن کے بطن میں بیع الدین بھی جائز ہوگیا) اور اب حال میں تورق کے اضافے نے آج کی اسلامک بینکنگ کو اس سے بہت مختلف بنا دیا جس کا چرچابیسویں صدی کی پچاس اور ساٹھ کی دہائیوں میں سامنے آنے والے لٹریچر میں ملتا ہے‘‘۔ (مقاصد شریعت، ص ۲۱۲ تا ۲۱۴) 

چنانچہ جن حالات، شرائط اور امیدوں کی بنیاد پر اکابر علماء کرام نے جواز اسلامی بینکاری کے اقوال فرمائے تھے، ایک طرف وہ حالات ہی اب مکمل طور پر بدل چکے ہیں اور دوسری طرف انکی شرائط بھی پوری نہ ہوسکیں، لہذا بدلے ہوئے حالات میں ان اقوال کو بطور دلیل پیش کرنا اصولاً درست نہیں۔ اتنا ہی نہیں بلکہ حقائق واضح ہوجانے کے بعد آج اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنے کے بجائے انہیں اکابر علماء کے اقوال کے پیچھے چھپانے کی کوشش کرنے کا رویہ بذات خود ان ربانی علماء کرام کی توہین کے زمرے میں شمار ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ 

جملہ معترضہ کے طور پر اس موقع پر ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسلامی بینکاری کے مختلف طرق تمویل فروغ پانے کی وجہ کیا ہے؟ اس سوال کے دو ممکنہ جوابات ہوسکتے ہیں: اولاً یہ طرق تمویل تعلیمات شرع کے مطابق ہیں، دوئم یہ طرق تمویل سودی بینکاری نظام کی طرح باآسانی ’نفع کے نام ‘ پر سودی معاملہ کرنے میں مدد گار ہیں۔ ظاہر ہے اگر پہلا جواب درست ہوتا تو مرابحہ و اجارہ کی طرح شرکت و مضاربت بھی بڑے پیمانے پر فروغ پاتے مگر دنیا میں ایسا کہیں بھی نہیں(۷)۔ چنانچہ یہ اعدادو شمار چیخ چیخ کر یہ حقیقت بیان کررہے ہیں کہ اسلامی بینکاری کی مقبولیت کی وجہ اسکی اسلامیت نہیں بلکہ عالمی سودی نظام میں ضم ہوسکنے کی صلاحیت ہے اور اسی لیے اس کے ذریعے وہی طرق تمویل فروغ حاصل کررہے ہیں جو فرضی بیع اور نفع کے نام پر قرض پر سودی معاملات کرنے میں مدد گار ہیں۔ اسلامی بینکاری سے متعلق درج بالا اعدادو شمار کوئی حادثہ یا سازش نہیں بلکہ عین اسکی اصل کا اظہار ہیں کہ اسلامی معاشیات و بینکاری محض سرمایہ داری کا ایک نظریہ ہے (جیسا کہ راقم نے اپنے مضمون ’اسلامی معا شیات یا سرمایہ داری کا اسلامی جواز ‘ میں واضح کیا ہے)۔ ان حقائق کی روشنی میں یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ اسلامی بینکاری درحقیقت سودی بینکاری کا متبادل کم اور تکملہ و مددگار (complement) زیادہ ہے کہ یہ اس کے شانہ بشانہ چلنے کی بھر پور صلاحیت رکھتی ہے۔ 

اس موقع پر ’مجوزین برائے فروغ حیلہ طرق تمویل ‘ یہ عجیب و غریب استدلال پیش کرتے ہیں کہ شرکت و مضاربت کے فروغ نہ پانے کی اصل وجہ عوام میں ایمانداری کا فقدان ہے۔ اس پر سوالات یہ پیدا ہوتا ہیں کہ کیا اسلامی بینکاری بے ایمان لوگوں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے وضع کی گئی ہے؟ کیا واقعی شرعی حیلوں کا مقصد مسلمانوں کی کرپٹ آبادی کے مفادات کا تحفظ کرنا ہوتاہے؟ کیا ان کرپٹ منافقین کی خدمت کے لیے دین کا حلیہ بگاڑنا جائز ہے؟ ہمیں تو کہیں سے یہ خبر پہنچی تھی کہ اسلامی بینکاری علمائے کرام کے ’تہجد گزار‘ حلقہ احباب اور ’متقی‘ مریدین کے پرزور اصرار پر ان کی ناگزیر شرعی ضروریات پوری کرنے کے لیے شروع کی گئی تھی۔ اسلامی بینکاری بطور حکمت عملی کی اصل غلطی سمجھنا ہو تو اس کا تقابل دینی تعلیم کے فروغ کے لیے نجی سطح پر علمائے کرام کے قائم کردہ مدارس کے نظام سے کرلینا چاہئے جہاں موجودہ تعلیمی نظام کا کوئی ادنی شائبہ بھی نہ پڑنے دیا گیا۔ ذرا سوچئے کہ اس دینی نظام تعلیم کو نفع خوری سے کیوں محفوظ رکھا گیا؟ آخر اس کی مسند و تعلم کے دروازے حیلوں کی آڑ میں ہر شخص کے لیے کیوں نہ چوپٹ کھول دیے گئے؟ آخر یہاں موجودہ علوم سے کیوں اعتنا برتا گیا؟ علمائے کرام نے اپنی بے لوث قربانیوں کے ذریعے مدرسہ نظام تعلیم کو کس کس طرح سرمایہ دارانہ ساختوں سے محفوظ رکھا، اگر اس پر غور کر لیا جائے تو کام کرنے کا آئیڈئیل ماڈل ہمارے سامنے عیاں ہوجائے گا اور اسلامی بینکاری کی غلطی سمجھانے کے لیے طویل مضامین تحریر کرنے کی ضرورت بھی نہ رہے گی۔ 

حوالوں کا مسئلہ

ضمنی طور پر ایک بات عرض کرنا ضروری محسوس ہورہا ہے۔ مفتی صاحب نے ہمارے اصل مضمون میں درج ایک حدیث کا مکمل حوالہ نہ دینے پر چند عجیب و غریب شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔ حوالوں کے متعلق یہ بات مسلمہ ہے کہ اس کی تفصیلات کی نوعیت مخاطب کی علمی استعداد نیز زیر بحث موضوع کی نوعیت (کہ وہ مخاطبین کے لیے کس قدر معلوم یا اجنبی ہے) کے مطابق ہوتی ہے۔ چونکہ راقم کے مخاطبین مجوزین اسلامی بینکاری علماء کرام تھے، لہٰذا ان کے بارے میں ہمارا یہ مفروضہ تھا کہ انہیں علوم اسلامی کی زیادہ تفصیلات بتانے کی ضرورت نہیں کیونکہ اس معاملے میں وہ راقم سے کئی گنا زیادہ علم رکھتے ہیں، البتہ معاشیات وغیرہ کی کتب کے ذرا تفصیلی حوالے پیش کر دیے گئے کیونکہ یہ ان کی سرگرمی کے اصل میدان نہیں اور نہ ہی ان کتب کی انہیں براہ راست واقفیت ہوتی ہے۔ امام غزالیؒ نے اپنی کتاب تہافت الفلاسفہ میں درجنوں یونانی افکار کا رد کیا مگر کوئی حوالہ نہ دیا کہ فلسفیوں کا فلاں نظریہ میں نے فلاں کتاب سے لیا ہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ امام صاحب حوالو ں سے بے خبر تھے، بلکہ اصل بات یہ تھی کہ جن مباحث پر آپ گفتگو فرمارہے تھے، وہ علماء کے لیے اجنبی مباحث نہ تھے کیونکہ اس دور کا تقریباً ہر عالم ان سے واقف تھا۔ مفتی صاحب ہم سے حدیثوں کے مکمل حوالے مانگ رہے ہیں، جب کہ ہمیں تو اس بات کا شکوہ ہے کہ آج ہمارے مدارس کے طلباء مغربی علمیت کی مبادیات تک سے اس قدر ناواقف کیوں ہیں کہ انہیں ان کے بارے میں بھی کتابوں کے حوالے دینے کی ضرورت پڑتی ہے، آخر ہمارے طلبا و علما امام غزالیؒ کے دور کے علما کی طرح جدید فلسفیانہ مباحث سے مانوس کیوں نہیں؟ چنانچہ حوالوں سے متعلق یہ اصول اس قدر مسلم ہے کہ خود مفتی صاحب کے زیر تبصرہ مضمون سے بھی اس کی مثالیں پیش کی جاسکتی ہے۔ مثلاً موجودہ نظام زر کے بارے میں خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ایک جگہ مفتی صاحب فرماتے ہیں: 

’’موجودہ نظامِ زر میں کیا کیا خامیاں ہیں ، اس سلسلے میں مسلمان معاشی مفکرین اور مسلمان فقہا کی ایک جماعت یہ رائے رکھتی ہے کہ ہمیں طلائی معیار کی طرف دوبارہ لوٹنا پڑے گا (جدید معاشی مفکرین میں سے نمساوی مکتبِ فکر Austrian school of economists کا نقطۂ نظر بھی اس سے ملتا جلتاہے) ‘‘ 

دیکھیے اس اقتباس میں مفتی صاحب نے علم معاشیات کے ایک مکتب فکر کے نظریے کے بارے میں سرے سے کوئی حوالہ دیے بغیر ہی ایک دعویٰ کرڈالاہے۔ (سر دست عرض ہے کہ مفتی صاحب کے اس اقتباس میں Austrian school of economists کے بارے میں ’جدید ‘ معاشی مفکرین کی اصطلاح کم از کم معیشت دانوں کے لیے نا قابل فہم ہوگی، کیونکہ اس مکتب فکر کا آغاز اٹھارہ سو ستر (۱۸۷۰) کی دہائی میں Carl Menger سے ہوتا ہے، بہر حال قدیم و جدید اضافی اصطلاحات ہیں۔ ہو سکتا ہے، مفتی صاحب نے انہیں اپنے وضع کردہ کسی معنی میں استعمال کیا ہو کیونکہ علم معاشیات کی تاریخ میں تو اس مکتب فکر کو اتنا ہی پرانا سمجھا جاتا ہے جتنا neoclassical economics کو)، بندہ ناچیز اس کے تحت وہ سب کچھ نہیں دہرائے گا جو مفتی صاحب نے ہمارے مکمل حوالہ نہ دینے پر تحریر کیا ہے کیونکہ ہمیں اس بات کا ادراک ہے کہ مفتی صاحب کا براہ راست مخاطب راقم الحروف ہے جو علم معاشیات کا طا لب علم ہے اور اس سے یہ توقع رکھنا جائز ہے کہ کم از کم وہ معاشیات کے چیدہ چیدہ مکاتب فکر کے اہم نظریات سے واقف ہوگا۔ لیکن اگر پھر بھی مفتی صاحب کی خواہش ہے کہ انہیں مکمل حوالے ہی چاہئیں تو ان شاء اللہ آئندہ اس کا اہتمام کرنے کی کوشش بھی کی جائے گی۔ 

ایک گزارش

آخر میں مجوزین اسلامی بینکاری علمائے کرام کی خدمت میں دردمندانہ گزارش ہے کہ ایسی حکمت عملی سے اغماز کریں جس کے نتیجے میں موجودہ نظام کے اندر اسلام اور علمائے کرام کے مفادات (stakes) بڑھتے چلے جائیں کیونکہ کسی نظام میں جس قدر آپ کے مفادات بڑھ جاتے ہیں اسے چھوڑنا اتنا ہی مشکل ہوتا چلا جاتا ہے، اسی قدر آپ اس کے جواز اور اس میں شمولیت پر اصرار کرنے لگتے ہیں، اسی قدر آپ سمجھوتوں پر مبنی حکمت عملی اپنانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ (جمہوری بنیادوں پر جدوجہد کرنے والی اسلامی تحریکات کی مجبوریوں پر غور کرلینے سے یہ سب بخوبی عیاں ہوجاتا ہے)۔ استعمار کی کوشش یہی ہے کہ کسی طرح موجودہ ریاستی ادارتی صف بندی کے اندر علمائے کرام کے مفادات بڑھا کر انہیں اس میں شامل کرلیا جائے تاکہ اسے تبدیل کرنے کی بات کرنے والا کوئی منفرد گروہ باقی ہی نہ رہے (ظاہر ہے علمائے کرام کے علاوہ دوسرے کسی گروہ سے اس کی امید کرنا ہی عبث ہے)۔ علمائے کرام موجودہ تعلیمی نظام کی اسلام کاری سے اس لیے بے نیاز ہیں کیونکہ اسلامی علوم کے تحفظ اور فروغ کا کوئی مفاد اس نظام تعلیم سے وابستہ نہیں، یہ کل ختم ہونے کے بجائے آج ختم ہو انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ جو علماء کرام اسلامی بینکاری سے منسلک ہیں، وہ پورے خلوص نیت کے ساتھ اسے خدمت اسلام سمجھتے ہیں۔ خدارا راقم الحروف جیسے دیگر ناقدین اسلامی بینکاری کی نیتوں پر شک کرکے انہیں علماء کرام کا مخالف (یا زبردستی گروہ متجددین کا ہم نوا) نہ سمجھا جائے۔ ہمارا مقصد تو صرف انہیں نظام کفر کی حقیقت اور اس میں شمولیت کے خطرات سے آگاہ کرنا ہے۔ کسی کی تجہیل یا تحقیر کرنا ہمارے مقاصد میں شامل نہیں۔ 


حواشی 

۴۔ اسلامی بینکاری کا فکری تناظر سمجھنے کے لیے دیکھئے راقم الحروف کا مضمون ’اسلامی معاشیات یا سرمایہ داری کا اسلامی جواز‘ (ماہنامہ الشریعہ اگست تا اکتوبر ۲۰۰۸)۔ اس مضمون میں ان کتب کے حوالے بھی دے دیے گئے جن کی مدد سے ماہرین اسلامی بینکاری کے اصل مقاصد جانے جا سکتے ہیں 

۵۔ محض توجہ دلانے کے لیے عرض ہے کہ مفتی صاحب کتب اصول فقہ میں ’عوارض تقلید (سماویہ)‘ میں ’مریض‘ کے مباحث سے بخوبی واقف ہوں گے۔ علامہ شاطبیؒ نے بھی مقاصد شریعت اور حیلوں کی ممانعت کے تحت بہت سے قیمتی اصول بیان فرمائے ہیں۔ پھر اگر یہ دیکھنا ہو کہ جدید مظاہر کو اسلامیانے میں کیسی فاش غلطیاں سرزد ہورہی ہیں تو ماہنامہ ساحل (کراچی) کے شماروں کا مطالعہ کرلیا جائے، اس نوع کی بے شمار مثالیں وہاں مل جائیں گی۔

۶۔ مضمون کا یہ نکتہ جناب حامد محمود صاحب کے مضمون ’جمہوریت‘ سے اخذ کیا گیا ہے۔ (سہ ماہی ’ایقاظ ‘ اکتوبر۲۰۰۳) 

۷۔ ایسا نہیں ہے کہ مختلف طرق تمویل میں حیلہ تمویل کے غالب استعمال کا رجحان شاید صرف پاکستان کے ساتھ خاص ہو بلکہ دنیا میں ہر جگہ اسلامی بینکاری کا یہی طریقہ کار ہے۔ مثلاً احمد حسین صاحب کی تحقیق کے مطابق اسلامی بینکاری کے ایک بڑے چمپئین ملک ملائشیا کے ایک بڑے اسلامی بینک کی ۱۹۹۹ میں طرق تمویل کے استعمال کی شرح کچھ اس طرح ہے: 


Hussain Ahmad (2000), "Debt Financing", A Seminar paper on Islamic Banking and Finance, organized by the BIMB Institute of Research and Training Sdn Bhd

کچھ ایسی ہی کہانی سعودی عرب کے سب سے بڑے اسلامک بینک ’الراجح بینکنگ اینڈ انوسٹمنٹ کارپوریشن ‘ کی سالانہ رپورٹس میں بھی دیکھی جا سکتی ہے جو بینک کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔

آراء و افکار