الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کی سالانہ رپورٹ

ادارہ

(شعبان المعظم ۱۴۳۰ھ تا رجب ۱۴۳۱ھ ۔ جولائی ۲۰۰۹ء تا جون ۲۰۱۰)


الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ ۱۹۸۹ء سے اسلام کی دعوت وتبلیغ، اسلام مخالف لابیوں کی نشان دہی اور ان کی سرگرمیوں کے تعاقب، اسلامی احکام وقوانین پر کیے جانے والے اعتراضات وشبہات کے ازالہ، دینی حلقوں میں باہمی رابطہ ومشاورت کے فروغ اور نوجوان نسل کی فکری وعلمی تربیت وراہ نمائی کے لیے مصروف کار ہے۔ مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ کے خطیب اور مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے صدر مدرس مولانا زاہد الراشدی اکادمی کے ڈائریکٹر ہیں جبکہ حافظ محمد عمار خان ناصر (فاضل وفاق المدارس العربیہ، ایم اے انگلش پنجاب یونیورسٹی) ڈپٹی ڈائریکٹر کے طور پر ان کی معاونت کرتے ہیں۔ 

اکادمی کی سال رواں کی رپورٹ احباب ومعاونین کی خدمت میں پیش ہے:

اکادمی کے زیر اہتمام دینی مراکز 

  • ۱۹۹۹ سے جی ٹی روڈ گوجرانوالہ پر کنگنی والا بائی پاس کے قریب سرتاج فین کے عقب میں ہاشمی کالونی میں اکادمی کی تین منزلہ عمارت اس وقت اکادمی کی بیشتر تعلیمی اور علمی وفکری سرگرمیوں کا مرکز ہے۔ مسجد خدیجۃ الکبریٰ کے علاوہ اکادمی کے دفاتر، لائبریری اور الشریعہ فری ڈسپنسری اسی مرکز میں قائم ہیں۔
  •  کینال ویو واپڈا ٹاؤن کے عقب میں کوروٹانہ کے مقام پر کھیالی کے مخیر دوست حاجی ثناء اللہ طیب نے الشریعہ اکادمی کے لیے ایک ایکڑ (آٹھ کنال) زمین وقف کی ہے جہاں تقریباً دس لاکھ روپے کی لاگت سے، چار دیواری کی بنیادیں بھرنے کے علاوہ مدرسہ طیبہ تحفیظ القرآن کا ایک بلاک بھی تعمیر کیا جا چکا ہے۔ 

تعلیمی سرگرمیاں 

  • مسجد خدیجۃ الکبریٰ، کنگنی والا میں پنج گانہ نماز با جماعت کے ساتھ فجر کے بعد اسکول کے طلبہ وطالبات کے لیے ناظرہ قرآن کی کلاس مستقل طورپر جاری ہے۔ 
  • مدرسہ طیبہ تحفیظ القرآن، کوروٹانہ میں پرائمری پاس طلبہ کے لیے حفظ قرآن کریم مع مڈل کی کلاس جاری ہے۔
  •  میٹرک پاس طالبات کے لیے وفاق المدارس کے مقرر کردہ نصاب کے مطابق طالبات کے لیے درس نظامی اور دراسات دینیہ کورس کے مختلف درجات کی تعلیم جاری ہے۔ طالبات کو تجوید کی ضروری تعلیم دینے کے علاوہ عربی ادب وانشا کے ساتھ مناسبت پیداکرنے پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ 
  • اسکول وکالج کے طلبہ کے لیے عربی گریمر کے ساتھ ترجمہ قرآن مجید کی کلاسز کا سلسلہ بحمد اللہ جاری ہے۔ اب تک طلبہ کی چار جبکہ طالبات کی دو کلاسز ترجمہ قرآن مجید مکمل کر چکی ہیں۔ 
  • فروری/مارچ ۲۰۱۰ء میں اکادمی کے زیر اہتمام شہر کے دینی مدارس کے طلبہ کے لیے جامع مسجد شیرانوالہ باغ گوجرانوالہ میں عربی اور انگریزی لینگویج کورسز کا انعقاد کیا گیا جن میں اکادمی کے رفیق مولانا حافظ محمد یوسف دینی مدارس کے طلبہ اور اساتذہ کو انگریزی اور عربی بول چال کی تعلیم دی۔ ان کورسز میں مجموعی طور پر ۴۰ کے قریب طلبہ نے شرکت کی۔ 
  • اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی نے دینی مدارس کے اعلیٰ درجات کے طلبہ کو شاہ ولی اللہ کی کتاب ’’حجۃ اللہ البالغہ ‘‘ کے منتخب ابواب کی تدریس کی۔

دعوت وابلاغ 

  • علمی وفکری جریدہ ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ پابندی کے ساتھ شائع ہو رہا ہے جس میں ملت اسلامیہ کو درپیش مسائل ومشکلات اور جدید علمی وفکری چیلنجز کے حوالہ سے ممتاز اصحاب قلم کی نگارشات شائع ہوتی ہیں۔
  • اردو زبان میں دو اسلامی ویب سائٹ پہلے سے کام کر رہی ہیں۔ www.alsharia.org  پر ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ کے علاوہ مختلف اہم عنوانات پر منتخب مقالات ومضامین ملاحظہ کیے جا سکتے ہیں، جبکہ خطبہ حجۃ الوداع کا جامع متن اور خطبے کے حوالے سے مولانا زاہد الراشدی کے محاضرات پڑھے جا سکتے ہیں۔ گزشتہ سال کے دوران دو مزید ویب سائٹس قائم کی گئیں جن پر شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر اور مفسر قرآن مولانا صوفی عبد الحمید سواتی کے حالات زندگی اور خدمات کے علاوہ ان کے علمی افادات بھی ملاحظہ کیے جا سکتے ہیں۔

نشر واشاعت 

  •  ۲۰۰۷  میں اکادمی کے شعبہ نشر واشاعت کے زیر اہتمام اہم علمی وفکری موضوعات پر مطبوعات کا سلسلہ شروع کیا گیا جس کے تحت اب تک اکادمی کی طرف سے ڈیڑھ درجن کے قریب کتب اور کتابچے شائع کیے جا چکے ہیں۔ گزشتہ سال کے دوران میں دو اہم مطبوعات منظر عام پر لائی گئیں:
    • ماہنامہ الشریعہ کی خصوصی اشاعت (بیاد حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر) ضخامت: ۱۰۰۰ صفحات۔
    • ’’مسلمانوں کا دینی وعصری نظام تعلیم‘‘ (خطبات ومحاضرات: ڈاکٹر محمود احمد غازی) ضخامت: ۲۵۶ صفحات۔

علمی وفکری نشستیں 

  • گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی اکادمی کے زیر اہتمام ہفتہ وار فکری نشستوں کا اہتمام کیا گیا جن میں اکادمی ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی نے اپنی یادداشتیں بیان کیں۔ 
  • ۴؍ اکتوبر ۲۰۰۹ء کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں امام اہل سنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کی یاد میں شائع ہونے والی، ماہنامہ ’الشریعہ‘ کی خصوصی اشاعت کی تقریب رونمائی منعقد ہوئی۔ تقریب کی صدارت پروفیسر حافظ خالد محمود نے کی جبکہ مہمان خصوصی کے طور پر ڈاکٹر حافظ محمود اختر (چیئرمین شیخ زاید اسلامک سنٹر لاہور) شریک ہوئے۔ تقریب سے گفتگو کرتے ہوئے مختلف ارباب علم ودانش نے حضرت مولانا سرفراز خان صفدر کی شخصیت وخدمات اور ’الشریعہ‘ کی خصوصی اشاعت کے حوالے سے اپنے احساسات وتاثرات کا اظہار کیا۔ بزرگ عالم دین مولانا مفتی محمد عیسیٰ خان گورمانی نے تقریب کے اختتام پر دعائیہ کلمات ارشاد فرمائے۔
  • ۱۲؍ فروری کو مولانا سید عدنان کاکا خیل جامعۃ الرشید کے ایک وفد کے ہمراہ تعلیمی دورے پر گوجرانوالہ تشریف لائے اور ’’الشریعہ اکادمی‘‘ میں حاضرین سے ایک مختصر خطاب کیا۔ انھوں نے کہا کہ عصر حاضر کو ڈائیلاگ کا دور کہا جاتا ہے اور ایسے اداروں کی بہت زیادہ ضرورت ہے جو اس کلچر کو رواج دیں۔ انھوں نے کہا کہ الشریعہ اکادمی نے ایک چھوٹے شہر سے ایک بڑے کام کی ابتدا کی ہے اور ایس کی بنیاد اس سوچ اور فکر پر ہے کہ دلیل اور حجت سے بات ہونی چاہیے اور بات چیت کے ذریعے مسائل کو حل کرنا چاہیے۔ 
  • یکم مارچ کو اکادمی میں سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عنوان سے ایک مختصر تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں عوام الناس کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب میں خصوصی خطاب مولانا عبدالواحد رسول نگری نے فرمایا جبکہ مہمان خصوصی کی حیثیت سے مسلم لیگ (ن)کے سرکردہ رہنما اور ممبر قومی اسمبلی جناب عثمان ابراہیم مدعو تھے۔ مولانا عبدالواحد رسول نگری نے کہا کہ سیرت کی محفلوں میں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی معاشرتی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرنا چاہیے تاکہ سننے والوں میں معاشرتی فلاح وبہبود کے لیے کام کرنے کا جذبہ پیدا ہو۔ جناب عثمان ابراہیم نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج ہمیں جن ناموافق حالات کا سامنا ہے، وہ اسی صورت میں سازگار بن سکتے ہیں جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کو مشعل راہ نا کر اپنی نجی، قومی اور بین الاقوامی زندگی کی تعمیر کریں گے۔ 
  • ۲۱؍ مارچ کو شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا ؒ کے خلیفہ مجاز مولانا عبدالحفیظ مکی بعد از نماز مغرب الشریعہ اکادمی میں تشریف لائے اور حاضرین سے مختصر خطاب فرمایا۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت حق وباطل کا ایک ایک معرکہ برپا ہے اور ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہیے ، بلکہ حق و باطل کے درمیان برپا اس معرکے میں ہمت اور حوصلہ مندی کا ثبوت دیتے ہوئے اپنی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کا فریضہ سر انجام دینے کی تیاری کرنی چاہیے اور اللہ کی رحمت سے امید رکھنی چاہیے کہ وہ اس شر میں سے ہمارے لیے ضرور خیر پیدا فرمائے گا۔
  •  ۸؍ مئی کو حضرت مولانا خواجہ خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کندیاں کی وفا ت پر انھیں خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں ایک تعزیتی نشست کا اہتمام کیا گیا جس کی صدارت بزرگ عالم دین مولانا مفتی محمد عیسیٰ خان گورمانی نے کی اور پاکستان شریعت کونسل کے سیکرٹری جنرل مولانا زاہد الراشدی، جمعیۃ علماے اسلام (س) پنجاب کے سیکرٹری جنرل مولانا عبد الرؤف فاروقی اور الشریعہ اکادمی کے مولانا حافظ محمد یوسف نے خطاب کیا۔ تعزیتی نشست میں علماے کرام، دینی مدارس اور کالجوں کے اساتذہ اور مختلف طبقات کے افراد نے شرکت کی اور آخر میں حضرت مرحوم کی مغفرت اور بلندئ درجات کے لیے دعا کی گئی۔

رفاہ عامہ 

الشریعہ اکادمی کے زیر انتظام ہاشمی کالونی میں فری ڈسپنسری روزانہ عصر تا عشا کام کرتی ہے اور روزانہ اوسطاً ۷۰ مریض اس سے استفادہ کرتے ہیں۔

اخراجات 

اکادمی کی کوئی مستقل آمدنی نہیں ہے اور تمام اخراجات اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم کے ساتھ احباب ومعاونین کے مخلصانہ تعاون سے پورے ہوتے ہیں۔اصحاب خیر سے گزارش ہے کہ خصوصی توجہ فرمائیں اور انتظامی، تعلیمی وتعمیری اخراجات میں تعاون فرما کر اپنے ذخیرۂ آخرت میں اضافہ کریں۔ جزاکم اللہ تعالیٰ احسن الجزاء۔


الشریعہ اکادمی