ستمبر ۲۰۱۰ء

افراد کی غلامی سے قوموں کی غلامی تک

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

جنیوا سے جاری کی جانے والی اقوام متحدہ کی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’انسانوں کی تجارت جدید دور میں غلامی کی ایک شکل ہے اور یہ لعنت دنیا کے ہر علاقے میں موجود ہے۔ محنت ومشقت اور جنسی استحصال کے لیے مردوں، عورتوں اور بچوں کی اسمگلنگ اور ان کی خرید وفروخت مجرموں کے منظم گروہوں کے لیے پیسہ بنانے کا سب سے بڑا ذریعہ بن گیا ہے۔ انسانی تجارت کا شکار ہونے والی لڑکیوں کو مکروہ دھندے میں ڈال دیا جاتا ہے۔ انسانوں کی تجارت جتنی زیادہ عام ہے، اتنی ہی اس کے بارے میں معلومات کم ہیں۔ یہ گھناؤنا کاروبار اس قدر چوری چھپے کیا جاتا ہے کہ کوئی نہیں جانتا...

سیلاب کی تباہ کاریاں اور ہماری دینی و قومی ذمہ داری

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

سیلاب کی شدت اور تباہ کاریوں کے بارے میں اس کے بعد مزید کچھ جاننے کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی کہ اسے گزشتہ ایک صدی کے دوران آنے والا سب سے بڑا اور تباہ کن سیلاب بتایا جاتا ہے اور اقوام متحدہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ سونامی سے ہونے والی تباہ کاری سے اس سیلاب کی تباہ کاریوں کا دائرۂ زیادہ وسیع ہے۔ سیلاب کے اسباب میں اس بات پر تو کوئی دوسری رائے نہیں ہو سکتی کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور ان قدرتی آفات میں سے ہے جنھیں روکنا کسی کے بس میں نہیں ہوتا، البتہ اس کے نقصانات کو کم سے کم تک محدود کرنے کے لیے تدابیر اختیار کی جا سکتی ہیں اور بہت سے دوستوں...

سر سید احمد خان کی تفسیری تجدد پسندی۔ ایک مطالعہ (۳)

― ڈاکٹر محمد شہباز منج

قصصِ قرآنی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے بعض مقامات پر انتہائی عجیب و غریب اوردور ازکار تاویلات سے کام لیا ہے۔ اس سلسلہ میں سرسید،بقول پروفیسر عزیز احمد،عہد نامہ قدیم و جدید اور قرآن کے عوامی قصص کو ناپائیدار تاریخی مفروضات کا نام دے کر اپنے نقطۂ نظر کی تائید میں مشغول ہو جاتے ہیں ۔۶۹؂سورہ الکہف کی تفسیر میں اصحابِ کہف، یاجوج و ماجوج،ذولقرنین اور سدِّ ذولقرنین سے متعلق ان کی طول طویل بحثوں کا ماحصل یہ ہے کہ ایفسوس کے ’’سات سونے والے‘‘اصحابِ کہف تثلیث کے مخالف عیسائی طبقے سے تعلق رکھتے تھے ،جنہیں دقیانوس بادشاہ نے معتوب کیا تھا۔ وہ فی الواقع...

آفتابِ معرفت ۔ شیخ المشائخ حضرت خواجہ خان محمدؒ

― مولانا شیخ رشید الحق خان عابد

’’رفتم وازرفتنِ من عالمے تاریک شد، من مگر شمسم چوں رفتم بزم برہم ساختم‘‘۔ آنحضرت جل سلطانہ کی خلاقی وصناعی کا کیا کہیے کہ اس نے باوجود قدرتِ تامہ کے اپنی حکمتِ بالغہ سے نوع بنی آدم کو مختلف الاستعداد والحیثیۃ بنایا، جس کو خبیث النفس اور مبغوض جانا ؛اس کو کفر و شرک اور بُعد کی تاریکیوں میں دھکیل دیا،یا خلق کی ایذا رسانی اور تکلیف دہی کی قعرِ مذلت میں گرا کر لعنتوں کا مستحق ٹھہرایا اور ’’نُولّہ ماتولّی‘‘کی سزا سنائی اور جس کو شریف النفس پایا ؛ اس کو پسند فرما کر ایمان و عمل صالح کے اَنوار سے مزین فرمایا اور جس کو مقعدِ صدق کے لائق پایا،...

اسلامی بینکاری: زاویہ نگاہ کی بحث (۲)

― محمد زاہد صدیق مغل

اسلامی بینکاری بطور حکمت عملی اور انداز فکر : پھر اسلامی بینکاری کے نام پر جس شے کو ’تبدیلی کی حکمت عملی‘ کے طو پر اختیار کر لیا گیا ہے اس کی نوعیت پر غور کرنا بھی ضروری ہے کیونکہ اس بحث سے یہ اندازہ لگانا بھی ممکن ہوجائے گا کہ آیا اسلامی بینکاری کو فروغ دینے والے حضرات بذات خود اسے مجبوری سمجھتے بھی ہیں یا نہیں نیز اس کے ذریعے وہ کس نوع کی تبدیلی کی توقع رکھتے ہیں۔ کسی موجود نظام میں تبدیلی کے لیے برپا کی جانے جدوجہد کو حکمت عملی کے تین ادوار پر تقسیم کرکے سمجھا جاسکتا ہے، short run, middle run and long run (قریب یا قلیل، وسط اور طویل مدتی)۔ ان میں سے ہر دور...

قادیانی مسئلہ ۔ حقائق کیا ہیں؟

― ڈاکٹر محمد عمر فاروق

حالیہ دنوں میں لاہور میں قادیانی معبد وں پر حملوں کا سب سے زیادہ فائدہ خود قادیانی عناصر نے ہی اٹھا یا ہے ، کیونکہ ان حملوں سے پہلے قادیانیوں کو پاکستان میں دھشت گردانہ کا رروائیوں کا مرتکب گردانا جاتا رہا ہے ۔اسرائیل میں قادیانی مشن کی مو جود گی کے پیش نظر پاکستان کے ایٹمی ہتھیا ر وں کو قادیانیوں سے لاحق شدید خطرات میڈیا میں زیر بحث رہے ہیں۔ اسی طرح قانون توہین رسالت کو ختم کرانے کے لیے بیرونی طاقتوں کے ذریعے پاکستان پر دباؤ بڑھا نے جیسے قادیانی ہتھکنڈوں کا تذکرہ ابھی محفلوں میں جاری ہی تھا کہ اُن کے معبدوں پر حملوں سے ملکی منظر نامہ میں...

ورلڈ اسلامک فورم کے زیر اہتمام کانفرنس

― ادارہ

ہندوستان کی آزادی کے ۶۳ ویں جشن کے موقع پر۸؍اگست۱۰۱۰ء بروزاتوارایسٹ لندن کے معروف تعلیمی ادارے دارالامہ کے وسیع ہال میں ورلڈاسلامک فورم کے زیرِاہتمام ایک عظیم الشّان کانفرنس زیرِصدارت مولاناعیسیٰ منصوری منعقدہوئی جس کاعنوان تھا: ’’برصغیرکی تحریک آزادی میں مسلمانوں کاکردار اور آزادی کے ۶۳ برس میں کیا کھویا کیا پایا‘‘۔ کانفرنس میں لندن اوربرطانیہ کے مختلف شہروں سے ہرطبقہ کے لوگوں خصوصاً مختلف تنظیموں، اداروں، مساجد اوراسلامک سینٹرزکے ذمہ داروں نے شرکت کی۔ کانفرنس میں بھارت سے میڈیاکے مشہورسہاراگروپ کے چیف ایڈیٹر جناب عزیزبرنی...

بھارت میں ’’مشترکہ خاندانی قوانین‘‘ کا ایک مجوزہ منظر

― ادارہ

لیجیے، یونیفارم سول کوڈ تیار ہے۔ مردوں اور عورتوں سب کو تعدد ازدواج کا حق دیا جا رہا ہے۔ مرد بھی بیک وقت کئی شادیاں کر کے کئی بیویاں رکھ سکتے ہیں اور اسی طرح عورتیں بھی کئی کئی شادیاں کر کے بیک وقت کئی کئی شوہر رکھ سکتی ہیں۔ اس کے لیے راجیہ سبھا میں ایک پرائیویٹ بل پیش کر دیا گیا ہے۔ یہ بل بی جے پی کے ممبر پارلیمنٹ، سابق گورنر اور پنجاب وہریانہ کے سابق چیف جسٹس ایم راما جوئس نے پیش کیا ہے۔ (دی سنڈے گارجین، ۱۸ جولائی)۔ بی جے پی ایک زمانے سے یونیفارم سول کوڈ کے نفاذ کے لیے تحریک چلا رہی ہے۔ اس کے لیے طرح طرح کی کوششیں ہوتی رہی ہیں۔ خود آئین سازوں...

الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کی سالانہ رپورٹ

― ادارہ

الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ ۱۹۸۹ء سے اسلام کی دعوت وتبلیغ، اسلام مخالف لابیوں کی نشان دہی اور ان کی سرگرمیوں کے تعاقب، اسلامی احکام وقوانین پر کیے جانے والے اعتراضات وشبہات کے ازالہ، دینی حلقوں میں باہمی رابطہ ومشاورت کے فروغ اور نوجوان نسل کی فکری وعلمی تربیت وراہ نمائی کے لیے مصروف کار ہے۔ مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ کے خطیب اور مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے صدر مدرس مولانا زاہد الراشدی اکادمی کے ڈائریکٹر ہیں جبکہ حافظ محمد عمار خان ناصر (فاضل وفاق المدارس العربیہ، ایم اے انگلش پنجاب یونیورسٹی) ڈپٹی ڈائریکٹر کے طور پر ان کی معاونت...

میری معالجاتی کتاب کا ایک نایاب ورق

― ادارہ

(’الشریعہ‘ کے ابتدائی شماروں میں ’’امراض وعلاج‘‘ کے عنوان سے ایک مستقل کالم شائع ہوتا رہا ہے جس میں پیچیدہ امراض کے علاج کے حوالے سے طب مشرق کے تجربات وتحقیقات قارئین کی خدمت میں پیش کی جاتی تھیں۔ کئی سال کے تعطل کے بعد حکیم محمد عمران مغل صاحب نے اس سلسلے میں اپنی خدمات دوبارہ پیش کی ہیں۔ امید ہے کہ قارئین اسے مفید پائیں گے۔ مدیر)۔ پرانے اطبا نے پیچیدہ امراض کے ازالہ کے لیے انتہائی سستے نسخے ترتیب دیے۔ اسی طرح کا ایک نسخہ ایک ایسے مریض پر استعمال کیا گیا جو موجودہ طریق علاج سے عاجز آ چکا تھا۔ یہ واقعہ ماہنامہ ’’اسرار حکمت‘‘ لاہور میں...

مسائل جدیدہ کے بارے میں حکیم الامت حضرت تھانویؒ کا نقطہ نظر

― ادارہ

ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت! اگر ایک رسالہ ایسا اور لکھا جاتا کہ جس میں ہر پیشہ ور کے معاملات کے احکام کو اس میں شرعی حیثیت سے بصورت مسائل بیان کر دیا جاتا تو بڑی سہولت ہو جاتی، اس لیے کہ لین دین وغیرہ میں آج کل نئی نئی صورتیں پیدا ہو گئی ہیں اور اکثر احکا م شرعیہ کے خلاف عمل درآمد ہو رہا ہے اور ان سے اجتناب کرنے کو لوگ دشوار سمجھتے ہیں۔ یہ سب مشکلیں حل ہو جاتیں۔ فرمایا کہ آپ آج یہ کہہ رہے ہیں، میں نے تو ایک عرصہ ہوا، اس وقت چاہا تھا کہ سب اہل معاملہ اپنے اپنے معاملات کو سوال کی صورت میں جمع کر کے مجھ کو دے دیں، چاہے وہ تجارت پیشہ ہو یا زراعت...

ای میل سبسکرپشن

 

Delivered by FeedBurner

Flag Counter