بھارت میں ’’مشترکہ خاندانی قوانین‘‘ کا ایک مجوزہ منظر

ادارہ

لیجیے، یونیفارم سول کوڈ تیار ہے۔ مردوں اور عورتوں سب کو تعدد ازدواج کا حق دیا جا رہا ہے۔ مرد بھی بیک وقت کئی شادیاں کر کے کئی بیویاں رکھ سکتے ہیں اور اسی طرح عورتیں بھی کئی کئی شادیاں کر کے بیک وقت کئی کئی شوہر رکھ سکتی ہیں۔ اس کے لیے راجیہ سبھا میں ایک پرائیویٹ بل پیش کر دیا گیا ہے۔ یہ بل بی جے پی کے ممبر پارلیمنٹ، سابق گورنر اور پنجاب وہریانہ کے سابق چیف جسٹس ایم راما جوئس نے پیش کیا ہے۔ (دی سنڈے گارجین، ۱۸ جولائی)

بی جے پی ایک زمانے سے یونیفارم سول کوڈ کے نفاذ کے لیے تحریک چلا رہی ہے۔ اس کے لیے طرح طرح کی کوششیں ہوتی رہی ہیں۔ خود آئین سازوں نے بھی آرٹیکل ۴۴ میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کو حکومت کی بنیادی ذمہ داری قرار دیا ہے۔ بی جے پی کے ایک ممبر نے اس کے لیے عملی قدم اٹھا دیا ہے۔ جو مردوں اور عورتوں کو تعدد ازدواج کے معاملے میں مساوی حق اور برابری کا درجہ دینے کے قائل ہیں، وہ اس بل کے ذریعے عورتوں کے خلاف مذہب یا جنس کی بنیاد پر امتیاز کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ اس بل کے ذریعے شادی اور طلاق کے سلسلے میں ایسا قانون بنانا چاہتے ہیں جس میں مختلف مذاہب کے احکام وتعلیمات کو یکجا کر دیا جائے گا۔ اس بل میں دوسری شادی کا راستہ نکال کر طلاقوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے مسئلے پر قابو پانے کا خواب دیکھا گیا ہے کہ ایک مرد یا عورت اپنے موجود شریک حیات کی مرضی سے طلاق لیے بغیر دوسری شادی کر سکتا اور کر سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تعدد ازدواج موجودہ قانون کے تحت مردوں اور عورتوں کے لیے ناممکن ہے جب تک کہ وہ طلاق نہ لے لیں، لیکن بہرحال زندگی میں ایسے حالات پیدا ہو جاتے ہیں جب خاندان یا جوڑے کے لیے دوسری شادی لازمی ہو جاتی ہے۔ مثال کے طور پر میاں بیوی دونوں ایک خوشگوار ازدواجی زندگی گزار رہے ہیں لیکن بدقسمتی سے بیوی کسی ایکسیڈنٹ میں دونوں ٹانگوں سے محروم ہو جاتی ہے، تب وہ ایک بیوی کی حیثیت سے اپنے لازمی فرائض ادا نہیں کر پاتی۔ اگر وہ چاہے تو اس کا شوہر دوسری شادی کر سکتا ہے، لیکن موجودہ قوانین طلاق کے بغیر اس طرح کی شادی کی اجازت نہیں دیتے، باوجودیکہ مختلف علیحدہ علیحدہ قوانین موجود ہیں۔

واضح رہے کہ خاندانی پراپرٹی میں افراد کے حقوق، حق وراثت، اقلیت، سرپرستی، شادی اور طلاق سے متعلق قوانین سول کوڈ کہلاتے ہیں۔ ان میں شادی اور طلاق سے متعلق قوانین بہت اہمیت کے حامل ہیں اور اس سلسلے میں آئین کے نفاذ سے پہلے کے بھی اور بعد کے بھی دونوں وقتوں کے اور مختلف قسم کے قوانین موجود ہیں۔ ہندو شادی ایکٹ ۱۹۵۵ء، اسپیشل شادی ایکٹ ۱۹۵۴ء، ۱۹۶۳ء کا ایکٹ نمبر ۳۲، ۱۹۴۹ء کا ایکٹ نمبر ۳۳، ۱۹۷۰ء کا نمبر ۲۹ اور ۱۹۷۶ء کا نمبر ۶۸، انڈین کرسچین میرج ایکٹ ۱۸۷۲ء، پارسی شادی وطلاق ایکٹ ۱۹۳۶ء اور مسلم نکاح وطلاق کی ایکٹ ۱۹۵۱ء۔ ان تمام باتوں کا ذکر کرتے ہوئے بل میں کہا گیا ہے کہ مسلم پرسنل لا کے تعلق سے پارلیمنٹ نے آئین کے نفاذ کے بعد کوئی قانون نہیں بنایا ہے۔ شادی اور طلاق سے متعلق مسلم پرسنل لاء ایک مرد کو بیک وقت چار بیویاں رکھنے کا حق دیتا ہے اور پھر شوہر کو یک طرفہ طور پر زبانی الفاظ کہہ کر بیوی کو طلاق دے دینے کا حق بھی دیتا ہے۔ یہ قوانین امتیاز پر مبنی ہیں اور عورتوں کے خلاف ہیں، جبکہ آئین کا آرٹیکل ۱۵ جنس اور مذہب کی بنیاد پر امتیاز کو ممنوع قرار دیتا ہے۔

یاد رہے کہ کوئی بھی ممبر پارلیمنٹ جو وزیر نہ ہو، اگر پارلیمنٹ میں کوئی بل پیش کرتا ہے تو اس کو پرائیویٹ بل کہا جاتا ہے اور ۱۹۷۰ء کے بعد سے پارلیمنٹ نے کوئی پرائیویٹ بل پاس نہیں کیا ہے، لیکن ایک ایسے وقت میں جب مختلف کھاپ اندرون گوتر شادی کے خلاف قانون قرار دیے جانے کے لیے تحریک چلا رہی ہیں، جنسی انارکی وبے راہ روی کے نتیجے میں نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں میں جنون عشق کا طوفان برپا ہے، وہ گھر سے فرار ہو کر من مانے طریقے سے شادیاں رچا رہے ہیں اور مغربی دنیا کی تقلید کرتے ہوئے پارٹنر شپ، کورٹ شپ کی راہ اختیار کر رہے ہیں اور اب بالخصوص قومی راج دھانی دہلی اور اس کے ارد گرد او ربالعموم پورے ملک میں ناموس کے نام پر قتل کے واقعات کا سلسلہ روز بروز زور پکڑتا جا رہا ہے، حکومت ہندو میرج ایکٹ میں ترمیم پر غور کر رہی ہے، اس بل کو یقیناًزیر بحث لایا جائے گا۔ مختلف فرقے، مذاہب اور تہذیبوں کے ماننے والے اس کو کہاں تک قبول کرتے ہیں، دیکھنے کی بات ہے۔ تاہم مسلمانوں کو جو قرآن وسنت کے احکام وتعلیمات پر ایمان وعقیدہ رکھتے اور ان پر عمل کرتے ہیں، ہر وقت محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ 

(سہ روزہ ’’دعوت‘‘ دہلی) 

اخبار و آثار

Flag Counter