تعارف و تبصرہ

ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

Historical Perspective Hussein's Martyrdom in 

(واقعہ کربلااور اس کاتاریخی پس منظر)

مولانا عتیق الرحمن سنبھلی مدظلہ کانام علمی دنیامیں محتاج تعارف نہیں ہے۔ علوم اسلامیہ پر گہری نگاہ کے ساتھ ہی ان کا امتیازہے کہ انہوں نے عصری تحقیقات وعلوم سے بھی خاصا استفادہ کیاہے۔وہ مدت دراز سے لندن میں مقیم ہیں، اس طرح مشرق و مغرب دونوں سے ان کی واقفیت راست اور مشاہدکی ہے۔ ان کی متعدد کتابیں اور مقالات کے مجموعے منظر عام پر آچکے ہیں اور ان کے وسیع مطالعہ، دقیق مشاہدہ اور وسعت نظری اور حقیقت پسندی کے شاہد عدل ہیں۔ ’’واقعہ کربلا اور اس کا تاریخی پس منظر ‘‘مؤلفہ مولاناعتیق الرحمن سنبھلی اردو کے تحقیقی و فکری لٹریچر میں ایک گراں قدر اضافہ تھی اور اس کی اشاعت نے علمی حلقوں میں ایک تموج پیدا کر دیا تھا۔ اس کی تنقید اور تائیدمیں متعددمضامین لکھے گئے تھے۔ اب یہی کتاب انگریزی میں Historical Perspective Hussein's Martyrdom in کے نام سے شایع کی گئی ہے۔ 

یہ کتاب تاریخ اسلام کے ایک حساس ترین مسئلہ سے بحث کرتی ہے جس نے صدر اسلام میں ہی امت میں متعدد سیاسی، کلامی، عقائدی مباحث و اختلافات کو جنم دیاجو بالآخر اس میں سنی و شیعہ جیسے مستقل مکاتب فکر کے قیام پر منتج ہوئے۔ عام اسلامی تاریخ میں واقعہ کربلا اور اس کے مابعدرونما ہونے والے حادثات و المیوں کی ساری ذمہ داری یک طرفہ طور پر بنوامیہ کے سر ڈال دی جاتی ہے اور اعتراضات و نقد اور لعنت وملامت کا ہدف صرف یزید بن معاویہؒ ہی کو نہیں بنایاجاتابلکہ اس کی زد میں حضرت امیر معاویہؓ ،حضرت مغیرہ بن شعبہؓ ،حضرت عمروبن العاصؓ سے لے کرحضرت عثمان غنیؓ جیسے جلیل القدر صحابی بھی آتے ہیں جو ذوالنورین بھی ہیں اور عشرہ مبشرہ میں بھی شامل ہیں۔ تشیع کے اثرات اسلام کی تاریخ میں اتنے بڑے پیمانے پر پڑے ہیں اور ارد ولٹریچر خاص طور پر ان سے اتنا متاثر ہے کہ آج تک الاسلام یھدم ماکان قبلہ کے واضح ارشاد نبوی کے باوجود اردو مصنفین میں حضرت ہندؓ کو جگرخوار حمزہؓ، حضرت ابوسفیانؓ کو ’’طلقاء‘‘ جیسے مذموم القاب سے یاد کرنا ایک عام بات ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ واقعہ کربلا اور خلافت کے بتدریج ملوکیت میں تبدیل ہونے کے پورے پراسس میں اس کے حقیقی پس منظر، قتل عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو پوری طرح فراموش کردیاجاتاہے۔امت میں فتنوں کی شروعات کربلا نہیں بلکہ قتل عثمانؓ تھا۔ اردو کے اکثر مصنفین اس حقیقت کو نظر انداز کرکے مشہورعام لیکن بے سروپا روایات اور مبالغہ آمیز باتوں بلکہ سنی سنائی خرافات تک پر یقین کرکے اس مسئلہ پر بحث کرتے ہیں۔ ’’خلافت وملوکیت‘‘ جیسی تاریخ سازی نے جلیل القدر صحابہؓ کے خلاف اس پروپیگنڈے کو مزید دوآتشہ کردیا۔ ’’واقعہ کربلااور اس کاتاریخی پس منظر ‘‘اسی موضوع پر لکھی گئی ایک منفرد تحریرتھی جس کامقصد یہ تھا کہ واقعات و روایات کے انبار سے واقعہ کی صحیح اور حقیقی تصویر سامنے لائی جائے۔

مشاجرات صحابہ کے نازک موضوع پر اسلامی تاریخ میں کئی تحقیقی کتابیں موجود ہیں۔ بطور خاص عربی میں متعدد تحقیقات پائی جاتی ہیں جن میں قاضی ابن العربیؒ نے العواصم من القواصم میں حضرت عثمانؓ پر لگائے گئے سارے الزامات کے تاروپود بکھیر کر رکھ دیے ہیں۔ اسی طر ح امام ابن تیمیہؒ نے منہاج السنۃ میں واقعات کی تحقیق کی اور صحیح اور معتدل رویہ اختیار کیا۔ تاہم ماضی قریب میں بعض اہل علم نے متقدم محققین کی ان گراں قدر کاوشوں کو ’’وکالت صفائی‘‘ کے خانے میں ڈالنے اور اپنی ہی تحقیق کو حرف آخرقراردینے کی بھر پورکوشش کی۔ اس تحقیق کی رو سے خلافت کو ملوکیت میں بدلنے کے اس نارواعمل میں بعض جلیل القدر صحابی ؒ بھی شامل تھے اور اپنے ذاتی اغراض و مقاصد پورے کرہے تھے۔ ’’خلافت و ملوکیت ‘‘کا رد عمل بھی ہوا اور اس موضوع پر موافقت و مخالفت میں کافی کچھ لکھا گیا۔ چنانچہ محمود احمد عباسی صاحب نے اس سلسلہ میں ایک سیریز لکھی اور بالکل برعکس موقف اختیار کیا جس میں وہ جادۂ اعتدال سے ہٹ گئے اور یزید کو خلیفہ راشد قراردے ڈالا۔ ظاہرہے کہ یہ نری انتہا پسندی ہے۔ یہ قابل ذکرہے کہ زیر تبصرہ کتاب کسی رد عمل میں نہیں لکھی گئی، اس لیے وہ صحیح اورمسلک معتدل کی مؤثرترجمانی کرتی ہے۔ یہ پہلو بھی خوش آیند ہے کہ اب اس سلسلے میں نقد و نظر کا سلسلہ اردو میں بھی شروع ہوچکاہے اور زیر نظر کتاب کے علاوہ علامہ شبیر احمد ازہر میرٹھی نے بھی اس موضوع پر تحقیقی کتاب لکھی ہے جو ابھی منظر عام پر نہیں آسکی۔اس کے علاوہ پروفیسرمحمد یاسین مظہر صدیقی کے متعدد تحقیقی مقالات اس موضوع پر سامنے آچکے ہیں۔

مولانا سنبھلی کی تحقیق یہ ہے کہ حضرت امیر معاویہؓ سے حضرات حسنینؓ کے تعلقات نہایت خوش گوار اور مشفقانہ رہے۔ دوسری طرف یزید میں نہ صرف یہ کہ انتظامی صلاحیتیں تھیں بلکہ دینی واخلاقی لحاظ سے بھی اس کی تصویر وہ نہیں تھی جوغیر تحقیقی روایات پیش کرتی ہیں، حتی کہ اس کی خلافت کے مخالفین کے اختلاف کی وجہ بھی وہ نہیں تھی جو عام طور پر ظاہر کی جاتی ہے۔ ان کے اختلاف کی بنا تو یہ تھی کہ ان کے خیال میں یزیدکو موروثی طور پر خلافت دی گئی تھی جس کی اسلام میں گنجائش نہیں۔ تیسری طرف حضرت امیر معاویہؓ کا خیال یہ تھا کہ خلافت کے مسئلہ میں امت میں بہت تلوار چل چکی، اس لیے مناسب یہ ہے اور امت کا مفاد بھی اس میں ہے کہ اس کا انتظام اپنی زندگی ہی میں کردیاجائے۔ابن خلدونؒ کا خیال یہ ہے کہ اس کے ساتھ ہی شفقت پدری کے فطری جذبہ کا دخل بھی اس میں رہا ہوگا۔ محققین کا خیال یہ ہے کہ حضرت امیرمعاویہؓ کے اس فیصلہ کو کسی بدنیتی پر محمول کرنا بالکل غلط ہے۔ زیادہ سے زیادہ اسے ان کی اجتہادی غلطی کہا جا سکتا ہے۔

حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے جب کوفیوں کے بلانے پرمکہ سے خروج کا ارادہ کیا تو متعد دکبارصحابہؓ نے ان کو اس فیصلہ پر نظر ثانی کے لیے آمادہ کرنے کی کوشش کی۔ ان حضرات میں امام حسینؓ کے اپنے بھائی محمد بن الحنفیہ، عبد اللہ بن مطیع، عبد اللہ بن عمرؓ، عبد اللہ بن عباسؓ اور عبد اللہ بن جعفرؓ،ابوبکر ابن عبد الرحمن، حضرت ابوسعید الخدریؓ ،جابر بن عبد اللہ،ؓ مسور ابن مخرمہؓ ،واسلہ بن واقد اللیثیؓ وغیرہم شامل تھے۔ ان لوگوں کے جو الفاظ روایات میں آتے ہیں، ان کی بنیاد پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ محض شفقت کے باعث وہ آپ کو اس فیصلہ سے روک رہے تھے بلکہ اصولی طور پر وہ یہ سمجھتے تھے کہ خلیفہ وقت کے خلاف خروج صحیح نہیں کہ عملاً اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ ساتھ ہی یہ حقیقت بھی سامنے رہے کہ خود حضرت حسینؓ نے اس وقت اپنا ارادہ تبدیل کرکے واپسی کا قصدکرلیا جب انہیں کوفہ میں مسلم بن عقیلؓ کے مشن کے فیل ہو جانے اور ان کی شہادت کی خبر ملی ۔تاہم مسلم بن عقیل کے بھائیوں اوربیٹوں نے باپ کے خون ناحق کا بدلہ لیے بغیر واپس لوٹنے سے انکار کردیا۔اس کے بعدجب قافلہ حسین میدان کربلا پہنچ گیا تو کوفی لشکر کے سربراہ عمر بن سعد کی مصالتی کوششوں کے بعد خود سیدنا حسینؓ نے کوفی لشکر کے سامنے یہ پیشکش کی کہ آپ کوتین میں میں کسی ایک چیزکی اجازت دی جائے :

۱۔یاتو آپ کو واپس جانے کی اجازت دے دی جائے ،

۲۔ یا دمشق امیر المومنین کے پاس جانے دیاجائے اور

۳۔ یا سرحدوں پر جہاد کے لیے جانے دیاجائے۔

واقعہ یہ ہے کہ یہ تینوں شرطیں نہایت مناسب اور معقول تھیں، تاہم شقی القلب عبید اللہ بن زیاد اور اس کے دست راست شقی شمر بن الجوشن اورحسین بن نمیرنے ان شریفانہ ومعقول شرطوں کو ماننے سے انکار کردیا اور نتیجہ میں اپنے بدبخت ہاتھوں کو نواسہ رسولؓ کے پاک خون سے رنگ لیا۔ مصنف نے مختصر طورپر اس پر بھی روشنی ڈالی ہے کہ یزید نے خواتین اہل بیت کے ساتھ کریمانہ برتاؤ کیا، عبید اللہ بن زیاد کولعن طعن کی، مگر اس کو کوئی سزا نہیں دی ۔اپنے تجزیہ میں انہوں نے جذبات عقیدت کے بجائے حقیقت پسندی سے کام لیاہے، تاہم مبصرکے نزدیک اس سلسلے میں یزید کو کلیتاً بری الذمہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

مولانا عتیق الرحمن سنبھلی ایک صاحب اسلوب، رسرچ وتحقیق کے شناور اور منطقی و سائنٹیفک طرزاستدلال سے بہرہ ور مصنف ہیں۔ انہوں نے ہر قدم نہایت احتیاط سے رکھا ہے اور متعلقہ تاریخی مواد کے تحلیل و تجزیہ اور گہرے مطالعہ و محاکمہ کے بعد وہی راے اختیار کی جو راجح،اقرب الی الصواب اور افراط وتفریط سے دور لگی۔ انہوں نے محمود احمد عباسی صاحب کی طرح خام تاریخی مواد سے کھٹاکھٹ نتائج نہیں نکالے ہیں۔ 

کتاب کے انگریزی ترجمہ کی تصحیح اور مناسب ایڈیٹنگ جناب ضیاء الحق صاحب نے انجام دی ہے،جو انگریزی زبان کے ماہر ہیں ان کا نام اور کام کسی بھی ترجمہ کی صحت کی ضمانت دیتا ہے۔ ۲۱۴ صفحات پر مشتمل یہ کتاب اچھے گٹ اپ میں شایع کی گئی ہے امید ہے کہ باذوق حلقہ میں اس کو ہاتھوں ہاتھ لیاجائے گا۔

قیمت: 200روپے۔ ناشر: الفرقان بک ڈپو 114/31نظیر آباد لکھنؤ یوپی۔

تعارف و تبصرہ