سر سید احمد خان کی تفسیری تجدد پسندی: ایک مطالعہ (۱)

ڈاکٹر محمد شہباز منج

سرسید احمد خاں (۱۸۱۷ء۔۱۸۹۸ء) نے جس ماحول میں آنکھیں کھولیں، وہ مسلمانوں کی سیاسی،معاشی،تعلیمی اور سماجی پسماندگی کا دور تھا۔ ۱۸۵۷ء کی جنگِ آزادی کی ناکامی نے مسلمانوں کو شکستہ خاطر کر دیا تھا۔ قومی امنگ،جوش و خروش ، بلندی و برتری اورترقی و کامرانی کا تصور کوسوں دور تھا ۔سرسید نے کل کی حاکم قوم کو ذلت و پستی کے گڑھے میں گرے ہوئے دیکھا۔ انگریزوں کی حکومت اور ان کی ساحرانہ تہذیب کے مناظر دیکھے۔ان کو ملازمت،رفاقت اور دوستی و تعارف کے ذریعے مستشرقین اور انگریزحکمرانوں اور صاحبانِ علم و حکمت سے گہرا واسطہ پڑا۔وہ ان کی ذہانت، قوتِ عمل اورتمدن ومعاشرت سے ایسے متاثر ہوئے جیسے کوئی مغلوب غالب اور کمزور طاقت ور سے متاثرہوتا ہے۔ انہوں نے شخصی طور پرانگریزی تہذ یب اور معاشرت کو اختیار کیا اور بڑی گرم جوشی اور قوت کے ساتھ اس کی دعوت دی۔ ان کا خیال تھا کہ اس ہم ر نگی ،حاکم قوم کی معاشرت و تمدن اختیار کرنے اور ان کے ساتھ بے تکلف رہنے سے وہ مرعوبیت اور اوراحساس کہتری وغلامی دور ہو جائے گا جس میں مسلمان مبتلا ہیں،حکام کی نظر میں ان کی قدر ومنزلت بڑھ جائے گی اور وہ ایک معزز درجہ کی قوم کے افراد معلوم ہونے لگیں گے ۔ انہوں نے ۱۸۶۹ء میں لندن کا سفر اختیار کیا اور ۱۲؍اکتوبر ۱۸۷۰ء کو مغربی تہذیب کے گرویدہ اور ہندوستان کی مسلم سوسائٹی میں مغربی اقدار واصول کی بنیاد پر اصلاح وتغیر کے پر جوش داعی اور مبلغ بن کر اپنے سفرِانگلستان سے ہندوستان لوٹے ۔ان کا نقطہ نظر خالص مادی ہو گیا۔ وہ مادی طاقتوں اور کائناتی قوتوں کے سامنے بالکل سرنگوں نظر آنے لگے ۔وہ اپنے عقیدہ اور قرآن مجید کی تفسیر بھی اسی بنیاد پر کرنے لگے اور اس میں اس قدر غلو کیا کہ عربی زبان و لغت کے مسلمہ اصول و قواعد اور اجماع و تواتر کے خلاف کہنے میں بھی انہیں کچھ باک نہ رہا۔۱؂ 

قاضی جاوید نے لکھا ہے کہ سر سید اور ان کے رفقائے کار اور ہم خیال نو آبادیاتی نظام کے بد ترین اثرات کی تجسیم تھے۔اس نظام کے جبر نے انہیں نیم انسانوں کی سطح پر لا کھڑا کیا تھا بلکہ شاید وہ اس سے بھی بہت پست سطح پر گر گئے تھے۔ اپنے انسان ہونے کی صداقت کی نفی کر کے انہوں نے اپنی پناہ گاہ ڈھوندی تھی۔ سر سید نے اپنی نئی صداقت کے واضح اظہار میں کبھی تامل نہیں کیا ۔چنانچہ انہوں نے کہا کہ انگریزں پر یہ الزام لگانا غلط ہے کہ وہ ہندوستان کے مقامی باشندوں کو جانور سمجھتے ہیں۔ اصل یہ ہے کہ ہم در حقیقت جانور ہیں۔ ’’میں بلا مبالغہ نہایت سچے دل سے کہتا ہوں کہ تمام ہندوستانیوں کواعلیٰ سے لے کر ادنیٰ تک،امیرسے لے کر غریب تک ،سوداگر سے لے کر اہلِ حرفہ تک ،عالم فاضل سے لے کرجاہل تک ،انگریزوں کی تعلیم وتربیت اور شائستگی کے مقابلہ میں در حقیقت ایسی ہی نسبت ہے جیسے نہایت لائق اور خوبصورت آدمی کے سامنے نہایت میلے کچیلے وحشی جانور کو۔‘‘ سرسید کا خیال تھا کہ اگر ہندوستان کے باشندے اس بات کے خواہشمند ہیں کہ انگریز حکمران ان سے مہذب انداز میں پیش آئیں تو اس کے لیے انہیں اپنے آپ کواپنے آقاؤں کے قالب میں ڈھالنا ہو گا۔۲؂ 

نیاعلمِ کلام

سر سید احمد خاں اپنے مذکورہ مغرب پرستانہ رجحانات کے تناظرمیں برصغیرمیں تجددومغربیت کے ایک بہت بڑے داعی کی حیثیت سے سامنے آئے ۔اس حقیقت میں کوئی شبہ نہیں کہ پاک وہند کی مسلم تجددپسندی کے تمام تر سوتے سرسید کی فکر سے پھوٹتے ہیں اور ان کے بعد جن لوگوں نے بھی تجدد پسندانہ افکار ونظریات پیش کیے، وہ محض ان کے خیالات کا چربہ تھے۔ سرسید نے اسلام اور مسلمانوں کو مغرب کے سانچے میں ڈھالنے کے لیے جہاں دیگر کاوشیں کیں، وہاں قرآنی عقائد واحکام کی نئی تعبیر وتشریح کابھی بیڑا اٹھایااور اس سلسلہ میں ایک نئے علم کلام کی بنیاد ڈالی ۔سر سید کا نیا علم کلام اور اس کی بنیاد پر سامنے آنے والی تفسیری نگارشات ان کی فکر پر استشراقیت اور مغربیت کے گہرے اثرات کی واضح عکاس ہیں۔ سطور ذیل میں سر سید کی ’’تفسیرالقرآن‘‘کی روشنی میں اسی حقیقت کوسامنے لانے کی سعی کی جارہی ہے۔

سر سید نے اپنے علم کلام میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ اسلام کے تمام احکام عقل کے عین مطابق ہیں اور قرآن حکیم میں کوئی بات ایسی نہیں جو جدید تمد ن و ترقی کے منافی ہو۔۳؂ ان کے علم کلام کا کامل اظہاران کی ’’تفسیرالقرآن‘‘ میں ہوا ہے ۔انہوں نے اپنے مخصوص تجددپسندانہ نقطۂ نظر کے مطابق تفسیرقرآن کی خاطرکچھ تفسیری اصول وضع کیے ہیں۔ ان تفسیری اصولوں کے مطابق اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے،حاضرو ناظر ہے،خالق کائنات ہے ،اس نے وقتاًفوقتاً بنی نوع انسان کی ہدایت کے لیے انبیا مبعوث کیے جن میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی شامل ہیں۔ قرآن وحی مستند اور کلام الٰہی ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پربذریعہ وحی نازل کیا گیا ۔رہ گیا یہ سوال کہ یہ حضرت جبریل کے توسط سے بھیجا گیا یا اس کے الفاظ حضور کے دل پر القا ہوئے، کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔قرآن میں کوئی بات نادرست اور خلافِ واقعہ مندرج نہیں۔اللہ کے جن اوصاف کاقرآن میں ذکر ہے، وہ صرف اپنے جوہر کی صورت میں موجود ہیں اور اس کی ذات سے ہم آہنگ اور ابدی ہیں۔ان صفات کی کوئی حد ہے اورنہ انتہا،لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی دانائی اور اختیارِ کلی سے قوانینِ قدرت تخلیق کیے اور انہیں تخلیق اور وجود کے نظم و ضبط کے لیے قائم رکھتا ہے۔لہٰذا قرآنِ پاک میں کوئی شے بھی قوانینِ فطرت کے خلاف نہیں ہو سکتی ۔ قرآن مجیدکاموجودہ متن حتمی اور مختتم ہے جس میں کوئی چیز اضافی ہے اورنہ الحاقی۔ہر سورہ کی آیتیں اپنے موجودہ تسلسل میں تاریخی ترتیب سے پائی جاتی ہیں ۔قدیم تصورِ نسخ جو متن اور تفسیر میں مسلمہ حقیقت کا درجہ رکھتا ہے، اسے مطالعۂ قرآن کے سلسلہ میں رد کرنا ضروری ہے ،وحی نے بتدریج ترقی کی ہے ،قرآنی مسائلِ معاد متعلق بہ ملائکہ، عفریتیات اور کونیات سائنسی حقیقت کے متضاد نہیں ہو سکتے اور اسی اصول کی روشنی میں ان کی تشریح ہونی چاہیے ۔ قرآنِ حکیم کے بلاواسطہ یا بالواسطہ بیانات، جو انسانی تمدن کی ترقی کے امکانات اور اضافوں کا باعث ہو سکتے ہیں،کے مطالعہ کے لیے لسانی تحقیق ضروری ہے۔۴؂

سرسید کا اہم ترین تفسیری اصول یہ ہے کہ ورک آف گاڈیعنی قوانینِ فطرت اور ورڈ آف گاڈ یعنی قرآنی آیات واحکام میں کبھی اختلاف نہیں ہو سکتا۔ چونکہ یہ دونوں اللہ کے بنائے ہوئے ہیں،اس لیے ان دونوں میں ہم آہنگی ضروری ہے۔ بنا بریں قرآنی آیات کی تشریح وتعبیر کے ضمن میں اس اصول کو پیش نظر رکھا جائے گا کہ ورک آف گاڈاور ورڈ آف گاڈمیں توافق و تطابق پایا جائے ۔ بصورت دیگر قرآنی آیات واحکام میں تناقض لازم آئے گا۔۵؂اس تفسیری اصول کو مدِّ نظررکھتے ہوئے سر سید نے قرآنی آیات و تعلیمات کو عقل اور جدید سائنسی نظریات ومعلومات سے ہم آہنگ کرنے اورجدید ذہن کے لیے قابلِ قبول بنانے کی کوشش میں عقائدو احکام کے سلسلہ میں متجددانہ خیالات وآراکا اظہارکیا ہے ۔سید محمد عبداللہ کے بقول ’’تفسیر القرآن‘‘میں روایات سے بغاوت اپنی انتہاکوپہنچ جاتی ہے۔ اس میں اصول، طریقِ کار اور نصب العین سب کچھ پرانی تفسیروں سے مختلف معلوم ہوتا ہے ۔ سر سیدکے افکار کا محور یہ ہے کہ اسلام کا کوئی مسئلہ عقل اور اصولِ تمدن کے خلاف نہیں ۔دین میں صرف قرآنِ مجید یقینی ہے، باقی سب کچھ یعنی حدیث ،اجماع اور قیاس وغیرہ اصولِ دین میں شامل نہیں۔‘‘ ۶؂ مولانا حالی بیان کرتے ہیں کہ سر سید نے قطعی فیصلہ کرلیا کہ اسلام کے متعارف مجموعہ میں سے وہ حصہ جس کو تمام مسلمان ملہم من عند اللہ سمجھتے ہیں اور جس کی نسبت یقین رکھتے ہیں کہ وہ جس طرح خدا کی طرف سے نبی آخرالزمان کے دل میں القا ہواہے ،اسی طرح بے کم وکاست نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہاتھوں ہاتھ ہم تک پہنچا ہے، صرف وہی حصہ اس بات کااستحقاق رکھتاہے کہ اس میں جو بات مسائلِ فلسفہ وحکمت کے خلاف ہو، اس میں اورمسائلِ حکمت میں تطبیق کی جائے یا مسائلِ حکمیہ کی غلطی ثابت کی جائے۔پس انہوں نے جیسا کہ حضرت عمرؓسے منقول ہے کہ ’’حسبنا کتاب اللّہ‘‘ اپنے جدید علم کلام کا موضوع اور اسلام کا حقیقی مصداق محض قرآن مجید کو قرار دیا اور اس کے سوا تمام مجموعہ احادیث کو اس دلیل سے کہ ان میں کوئی حدیث مثل قرآن کے قطعی الثبوت نہیں اور تمام علماء و مفسرین کے اقوال و آرا اورتمام فقہا و مجتہدین کے قیاسات و اجتہادات کو اس بنا پر کہ ان کے جوابدہ خودعلما ومفسرین اورفقہا ومجتہدین ہیں ،نہ اسلام ،اپنی بحث سے خارج کر دیا۔۷؂ 

حدیث کی اہمیت کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ سر سید نے یہ تصور بھی شد ومد سے پیش کیا کہ قرآن حکیم کی زبان اور اندازِ بیان تمثیلی اور علاماتی ہے ۔ اس طرح گویا قرآنی تعلیمات کی من مانی توجیہات کا جواز تلاش کر لیا گیا۔۸؂ ورک آف گاڈ اور ورڈ آف گاڈ کی موافقت سے متعلق سر سیدکے خیالات میں پراٹ (John H Prat) کی اس کتاب سے گہرا تاثر پایا جاتا ہے جس میں اس نے اپنے نتائجِ فکر بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ :’’کوئی نئی ایجاد خواہ کتنی ہی حیرت انگیز ہو، ہماری مقدس کتابوں کے کل مضامین کے الہامی ہو نے کے عقیدے میں خلل انداز نہیں ہوتی اورنہ سائنس کے ولولہ ہی کو کم کرتی ہے ۔ ‘‘۹؂ پراٹ نے اس سوال کے جواب کے لیے ایک پورا پیراگراف مخصوص کیا ہے کہ صحائف کے ان اقتباسات کو جن میں جنت کو ایک’’ شفاف مواد کا بڑا گنبد‘‘کہا گیا ہے ،سائنس اور معروضی بنیاد پر قائم حقائق سے کیسے ہم آہنگ کیا جائے۔اس کا حل یہ ہے کہ اصل عبرانی لفظ کو دیکھنا چاہیے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہفتاوی ترجمہ میں (Slereoma) اور انجیل کے لاطینی ترجمہ میں (Firmamentum)کا عبرانی میں مفہوم وسیع وقفہ یا کشادگی ہے۔ پراٹ نے اس مفہوم پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقدس روحانی مصنف نے اشیا کی ماہیت اور حقیقی ہےئت کے اظہار کے لیے مناسب ترین الفاظ کا استعمال کیا ۔صحائف تو شروع ہی سے صحیح تھے، تمام تر خلطِ مبحث صرف انسانی لا علمی اور ناقص تصورات کے سبب پھیلا۔تعقل اور مشاہدہ کا صحائف سے اختلاف دراصل صحائف کی غلط تعبیروں سے اختلاف ہے ۔۱۰؂

سرسیدنے ’’تبیین الکلام‘‘ میں پراٹ کی کتاب کا کئی جگہ حوالہ دیاہے۔پراٹ سے مشابہت ’’تفسیرالسموات‘‘ میں اور نمایاں ہو جاتی ہے جہاں وہ اس سوال سے متعلق اپنا جواب تفصیل سے دیتے ہیں کہ قرآن کی شہادتوں اور کوپر نیکی نظریات میں مطابقت کیسے پیدا کی جائے۔ ۱۱؂ ’’تفسیرالقرآن‘‘ میں اس سلسلہ میں سر سید نے مختلف الفاظِ قرآنی کو استعاراتی معنی پہناتے ہوئے مفسرین سے سخت اختلاف اور اپنے اختیار کردہ معنی کی درستگی پر اصرار کیا ہے ۔سورہ البقرہ کی آیت ۲۹ کی تفسیر میں سبع سموٰت کے تحت اس بات کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہ سبع سماوات کا جو مفہوم اکثر مفسرین کے ہاں بیان کیا گیا ہے، وہ یونانی علم نجوم سے مستعار لیا گیا ہے اور قرآن کو اس سے کچھ علاقہ نہیں۔ لکھتے ہیں کہ ’’اس مقام پر سما کے لفظ سے وہ وسعت مراد ہے جو ہر شخص اپنے سر کے اوپر دیکھتا ہے ۔پس آیت کے یہ معنی ہیں کہ خدااس وسعت کی طرف متوجہ ہوا جو ہر شخص اپنے سر کے پر بلند دکھائی دیتی ہے اور ٹھیک اس کو سات بلندیاں کر دیا۔ سات سیارہ کواکب کو ہر کوئی جانتا تھا ۔عرب کے بدو بھی ان سے بخوبی واقف تھے ۔وہ ستارے اوپر تلے دکھائی دیتے ہیں۔ یعنی ایک سب سے نیچا دوسرا اس سے اونچا تیسرا سب سے اونچا اور علی ہذالقیاس ۔اور ان کواکب کے سبب جو بطور روشن نشانیوں کے اس وسعت مرتفع میں دکھائی دیتے ہیں، اس وسعت کے ساتھ جدا جدا حصے یا درجے یاطبقے ہو جاتے ہیں۔ پس اسی کی نسبت خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ اس کو ٹھیک سات آسمان کر دیے۔‘‘۱۲؂

سورۃ الاعراف کی آیت ۵۴ کے الفاظ ثم استوی علی العرش تشریح میں فخر الدین رازی کی تفسیرپرتنقید کرتے ہوئے سوال کرتے ہیں کہ رازی جیسے مفسرین بعض جگہ عرش کا لغوی اور بعض جگہ استعاراتی مفہوم کیوں مراد لیتے ہیں۔ رازی کے اس اعتراض کاکہ بغیر کسی دلیل کے قرآن کی استعاراتی تعبیر کیوں مراد لی جاتی ہے ،جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ظاہری معنی صرف اس وقت ترک کیے جاتے ہیں جب مفسر کے پاس اس کا واضح ثبوت ہوتا ہے کہ ایک مخصوص سیاق و سباق میں متن کا یہ منشا نہیں ،لیکن معاملہ کو یہیں چھوڑ دینا اور زیر بحث لفظ کی تخصیص یا اس کے معنی کی تاویل نہ کرنا ،قرآن کو بے معنی کرناہے ۔آخرقرآن نازل ہی کیوں گیا تھا ۔یہ ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ قرآن بلاشبہ کلام خداوندی ہے، لیکن یہ انسانی زبان میں ملفوف ہے ،اس لیے الفاظ قرآنی کے معنی اسی طرح متعین کرنے چاہییں جیسا کہ ہم یکساں مواقع پر انسانوں کے الفاظ کے معنی ومفہوم متعین کرتے ہیں۔ اس طریقہ کو تاویل کہنا غلط ہے ۔یہ تاویل نہیں بلکہ خدا نے ان الفاظ کو اسی مفہوم میں استعمال کیا ہے ۔۱۳؂

ڈاکٹر سی ڈبلیو ٹرول نے لکھا ہے کہ سر سید کا الہامی لفظ اور سائنس کے درمیان تعلق کا نظریہ ابن رشد کے معقول و منقول کے درمیان توافق کے مسئلے کے حل سے مماثلت رکھتا ہے ۔اس معاملے میں وہ ابن رشد کے موقف کو ’’انتہائی متوازن اور عقلی‘‘ کہتے ہیں۔اگر صحائف کے ظاہری معنی مبرہن نتائج سے متصادم ہوں تو ان کی استعاراتی تشریح لازمی ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ صحائف کے خالق نے یہی تمثیلی واستعاراتی معنی مراد لیے تھے ۔وہ ابن رشد سے اس اعتبار سے البتہ مختلف ہیں کہ وہ جدید علوم طبعی کے نتائج کو ،ان تجرباتی اور استقرائی طریقوں کے باوجود جن پر علوم کی بنیاد ہے، پوری برہانی اہمیت دیتے ہیں اور اپنی اس علمیاتی رجائیت میں فرانسس بیکن اورجان سٹوارٹ مل کے عقائد کا اس سیاق وسباق میں ،بغیر واضح طور پر ان کا نام لیے یا حوالہ دیے تتبع کرتے ہیں۔۱۴؂ 

معجزات 

معجزات تمام مذاہب اور کتبِ سماوی کاایک اہم عنصر اور ناقابلِ استرداد حصہ رہے ہیں ۔۱۵؂از روئے قرآن و حدیث معجزات کا حق ہونا اتنا بدیہی ہے کہ تمام آئمہ محققین نے اس پر اتفاق کیا ہے ۔ ۱۶؂ فلاسفہ اور سائنسدانوں کی ایک کثیر تعداد نے بھی معجزات کے امکان ووقوع تسلیم کیا ہے۔۱۷؂ لیکن یورپ میں علمی نشأۃثانیہ کے ساتھ عقلیت پرستی کی جو تحریک اٹھی،اس کے نتیجے میں یورپ میں یہ تصور جڑ پکڑ گیا کہ معلوم و معروف قوانینِ فطرت سے ہٹ کر کسی واقعہ کے وقوع پذیرہونے پر ایمان رکھنا عقل و علم سے بیر اور جہالت و وہم پرستی کے سوا کچھ نہیں۔۱۸؂مغربی اہل فکرِ سے متاثر ہو کر سرسید نے بھی قوانینِ قدرت کا ایسا تصور قائم کر لیا جس میں معجزات کی کوئی گنجائش نہیں پائی جاتی۔چنانچہ انہوں نے معجزات کا مطلقاً انکار کر ڈالا ۔ان کا خیال ہے کہ پیغمبر چونکہ فطرت کے قوانینِ الٰہیہ کا نفاذ کرتے ہیں اور معجزات کا تصور ان قوانین کا غلط اور غیر قانونی طریقہ پر ابطال کرتا ہے ،اس لیے کتبِ سماوی میں معجزات کا جو ذکر ہے اسے استعاراتی، اشاریاتی یا افسانوی سمجھنا چاہیے۔ انکارِ معجزات کے حوالے سے انتہاپسندانہ موقف اختیار کرنے میں مافوق الفطرت اور معجزاتی عناصر پر ولیم میور کی تنقید نے سر سید پرخاصے اثرات مرتب کیے۔’’خطباتِ احمدیہ‘‘سرسید کی ان کوششوں کا بین ثبوت ہے جو انہوں نے سیرتِ طیبہ کو ان معجزات سے الگ کرنے کے لیے کیں۔بارہویں خطبہ میں وہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کے متعلق ما فوق الفطرت واقعات کو شاعرانہ تخلیق کہتے ہیں،جو اسلام کی حیرت انگیز کا میابی کے بعد اختراع کیے گئے۔۱۹؂ سر سیدنے سورہ بنی اسرائیل کی پہلی آیت کی تفسیرکے سلسلہ میں معراجِ جسمانی سے متعلق احادیث وروایات کو ناقابلِ اعتباراور ان کے بیان کو خلافِ قانونِ فطرت اور ممتنعاتِ عقلی میں سے شمار کرتے ہوئے بالکل ڈیوڈ ہیوم کے اندازمیں ۲۰؂ معجزات کا انکارکیا ہے ۔لکھتے ہیں’’واقعات خلاف قانونِ فطرت کے وقوع کا ثبوت اگر گواہانِ روایت بھی گواہی دیں تو محالات سے ہے اس لیے کہ اس وقت دو دلیلیں جو ایک ہی حیثیت پر مبنی ہوں، سامنے ہوتی ہیں۔ایک قانون فطرت جو ہزاروں لاکھوں تجربوں سے جیلاًبعد جیلِِ وزماناًبعدزمانِِ ثابت ہے اورایک گواہانِ روایت جن کاعادل ہونابھی تجربہ سے ثابت ہوا ہے۔ پس اس کا تصفیہ کرنا ہوتا ہے کہ دونوں تجربوں میں سے کون سا تجربہ قابلِ ترجیح ہے ۔قانونِ فطرت کو غلط سمجھنا یا راوی کی سمجھ اور بیان میں سہو و غلطی کا ہونا۔کوئی ذی عقل تو قانونِ فطرت پر راوی کے بیا ن کو ترجیح نہیں دے سکتا ۔قولِ پیغمبر بلا حجت قابلِ تسلیم ہے مگر کلام تو اسی میں ہے کہ قولِ پیغمبر ہے یا نہیں۔‘‘اس استدلال کے بعد سر سید معراجِ رسول کو خواب میں پیش آنے والا ’’رویا‘‘قرار دیتے ہیں۔۲۱؂ اسی سے متصل شق صدر کے معجزہ پر بحث کرتے ہوئے اسے بھی شبِ معراج کے خواب کا حصہ قرار دیا ہے ۔۲۲؂

سورہ البقرہ کی آیت۵۰کے ضمن میں حضرت موسیٰ کے عصا کے ذریعے دریا کے معجزاتی طور پر پھٹ جانے کو باطل قرار دیتے ہوئے کہا ہے ’’اس وقت بسبب جوار بھاٹے کے جوسمندر میں آتا رہتا ہے کہیں خشک زمین نکل آتی تھی اورکہیں پایاب رہ جاتی تھی۔بنی اسرائیل پایاب وخشک راستہ سے راتوں رات بامن اتر گئے۔یہی مطلب صاف اس آیت سے پایا جاتاہے جو سورہ دخان میں ہے کہ ’’وَاتْرُک الْبَحْرَ رَھْوَا‘‘ جس کا ٹھیک ٹھیک مطلب یہ ہے کہ چھوڑ چل سمندر کوایسی حالت میں کہ اترا ہوا ہو ۔صبح ہوتے فرعون نے جو دیکھا کہ بنی اسرائیل پار اتر گئے، اس نے بھی ان کا تعاقب کیا اور لڑائی کی گاڑیاں اور سوار وپیادے غلط راستے پرسب دریا میں ڈال دیے اور وہ وقت پانی کے بڑھنے کا تھا ۔ لمحہ لمحہ میں پانی بڑھ گیاجیسا کے اپنی عادت کے موافق بڑھتا ہے اور ڈوباؤہو گیا جس میں فرعون اور اس کا لشکر ڈوب گیا۔‘‘۲۳؂ سورہ آل عمران کی آیت ۳۷کے سلسلہ میں قَالَتْ ھُوَ مِنْ عِنْدِاللّٰہ کی تشریح کے ضمن میں حضرت مریم کے پاس پھلوں کی معجزانہ آمد کی بجائے ابو علی جبائی معتزلی کے اس قول کو قابلِ اعتبار سمجھتے ہیں جس کے مطابق اللہ تعالیٰ ان ایمان والوں کے ذریعے ،جو زاہد و عابد عور توں کی خبر گیری کرتے تھے ،حضرت مریم ؑ کو رزق پہنچاتا تھا۔۲۴؂ 

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ذکر کے تسلسل میں ان کی بن باپ معجزانہ پیدائش کا انکار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ حضرت اسحاق اور ان کی بیوی اور حضرت زکریا اور ان کی بیوی دونوں کی حالت اولاد ہونے سے مایوسی کی تھی، مگر دونوں سے اولاد کا بغیر باپ کے پیدا ہونا تسلیم نہیں کیا گیا ۔حضرت مریم ؑ کی تو حالت بھی اولاد ہونے سے مایوسی کی نہ تھی، لہٰذاصرف ان کے تعجب سے جو محض اس وقت کی کیفیت پر تھا جب کہ بشارت ہوئی تھی، نہ کہ آئندہ کی ہونے والی حالت پر،کیونکر حضرت عیسیٰ کے بغیر باپ کے پیدا ہونے پر استدلال ہو سکتا ہے ۔کیا عجب ہے کہ اس خواب کے بعد ہی حضرت مریم اور ان کے مربیوں کو حضرت مریم کی شادی کا خیال پیدا ہوا ہو جو آخر کاریوسف کے ساتھ عقدہونے سے پورا ہوا ۔۲۵؂ رفع عیسیٰ سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب اس واقعہ پر مورخانہ طور سے نظر ڈالی جائے تو ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ صلیب پر نہ مرے تھے بلکہ ان پر ایسی حالت طاری ہو گئی تھی کہ لوگوں نے ان کو مردہ سمجھا تھا۔ تاریخ میں صلیب پر سے لوگوں کے زندہ اترنے کی مثالیں موجود ہیں ۔حضرت عیسیٰ تین چار گھنٹے کے بعد صلیب سے اتار لیے گئے تھے اور ہر طرح پر یقین ہو سکتا ہے کہ وہ زندہ تھے ۔رات کو لحد سے نکال لیے گئے اور مخفی طور پر اپنے مریدوں کی حفاظت میں رہے ۔حواریوں نے ان کو دیکھا اور ملے اورپھر کسی وقت اپنی موت سے مر گئے ،اور یہودیوں کی عداوت کے خوف سے انہیں کسی نامعلوم مقام میں دفن کر دیا گیا۔حضرت علیؓکا جنازہ بھی خوارج کے خوف سے اسی طرح مخفی طور پر دفن کیا گیا تھا،حالانکہ خوارج کا خوف یہودیوں کی نسبت بہت کم تھا ،اور اسی طرح بعض شیعہ نے حضرت علیؓ کے متعلق کہہ دیا تھا کہ وہ آسمان پر چلے گئے۔ ۲۶؂

معجزات کی نفی کرتے ہوئے قدرے فیصلہ کن انداز میں سر سید نے تحریر کیا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس معجزہ نہ ہونے کا ذکر قر آن میں موجود ہے ۔ حضرت محمد، جو افضل الانبیاء ہیں،کے پاس معجزہ نہ ہونے کے بیان سے ضمناً یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ کہ انبیائے سابقین علیہم السلام کے پاس بھی کوئی معجزہ نہیں تھا، اور جن واقعات کو لوگ معروف معنوں میں معجزات سمجھتے تھے، وہ در حقیقت معجزات نہ تھے بلکہ قانونِ قدرت کے مطابق وقوع پذیر ہونے والے واقعات تھے ۔عام معروف معنوں میں انبیاء میں معجزات اور اولیاء اللہ میں کرامات کا یقین (گو یہ اعتقاد رکھا جائے کہ خدا نے ہی یہ قدرت ان کو عطا کی تھی )،توحید فی الصفات کو نامکمل کر دیتا ہے۔ اسلام اور بانئ اسلام کی کوئی عزت،کوئی تقدس،کوئی بزرگی اور کوئی صداقت اس سے زیادہ نہیں ہو سکتی کہ انہوں نے صاف صاف لوگوں کو بتا دیا کہ معجزے وعجزے تو خدا کے پاس ہیں، میں تو تمہاری طرح کا ایک انسان ہوں اور تمہیں خدا کی طرف سے بھیجی ہوئی وحی کی تلقین کرتا ہوں۔۲۷؂

وحی ونبوت

اسلام کے نقطۂ نظر سے وحی نبی کی داخلی کیفیت یا فطری ملکہ نہیں بلکہ خارج سے بذریعہ فرشتہ نازل ہوتی ہے ۔ اس کی تصدیق نہ صرف صحفِ سماوی سے ہوتی بلکہ عقلاً بھی اس میں کوئی استبعاد نہیں۔مستشرقینِ یورپ خود دیگر انبیا پر نزولِ وحی کے قائل ہیں، لیکن وحی محمدیؐ سے انکار کی خاطر امغربی اہلِ قلم نے بر بنائے تعصب شدید ہرزہ سرائیاں شرو ع کر دیں۔ مثلاً انہوں نے نہایت دریدہ دہنی سے کام لیتے ہوئے آپ کو مصروع قراردے دیا۔ ۲۸؂وحی و نبوت کے حوالے سے استشراقی خیالات نے سرسید پر گہرا اثر ڈالا۔تفسیر القرآن میں وحی ونبوت سے متعلق سرسید کے خیالات پڑھ کر آدمی حیرت زدہ رہ جاتا ہے کہ کیا یہی وہ سر سید ہیں جنہوں نے ولیم میور کے زلاتِ علمی کے جوابات لکھنے کے لیے اپنا سب کچھ قربان کر دینے اورکنگال ہو کر مر جانے کو سعادتِ دارین سمجھا تھا ؟ میور وغیرہ مستشرقین نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم پرصرع اورمرگی کا جو الزام عائد کیاتھا، سر سید نے ’خطباتِ احمدیہ ‘ میں بلا شبہ اس کی زبردست تردید کی ہے لیکن ’تفسیرالقران ‘میں وہ وحی ونبوت کی ایسی توجیہ پیش کرتے ہیں کہ اپنے خیالات کو بالبداہت استشرا قی الزامات سے جا ملاتے ہیں۔ سرسید لکھتے ہیں کہ نبوت ایک فطری چیز ہے جوانسان میں اس کی دوسری صفات کی طرح خلقی طور پر موجودہوتی ہے ۔یہ فطری صفت مختلف ناموں سے پکاری جاتی ہے، مثلاًہدایتِ کامل کی فطرت،ملکۂ نبوت،ناموسِ اکبر اور جبریلِ اعظم وغیرہ۔خدا اور پیغمبر میں بجز اس ملکۂ نبوت کے جسے جبریل بھی کہا جا سکتا ہے اور کوئی ایلچی یا پیغام پہنچانے والا نہیں ہوتا ۔ نبی کا دل ہی وہ آئینہ ہے جس میں تجلیاتِ ربانی کا جلوہ دکھائی دیتا ہے ۔وہ خود ہی وہ مجسم چیز ہے جس میں سے کلامِ خدا کی آوازیں نکلتی ہیں۔وہ خود ہی وہ کان ہوتا ہے جو خدا کے بے حرف وصوت کلام کو سنتا ہے ۔اسی کے دل سے فوارہ کی مانند وحی اٹھتی ہے اور خوداسی پر نازل ہوتی ہے ۔اسی کا عکس اس کے دل پر پڑتاہے، جس کووہ خودہی الہام کہتا ہے۔اس کو کوئی نہیں بلواتا،وہ خود ہی بولتا ہے اور خود ہی کہتا ہے وَمَا ینْطِقُ عَنِ الْھَوٰی اِنْ ھُوَ الاّ وَحْیٌ یوُحٰی۔وہ خود ہی اپنا کلام اپنے ظاہری کانوں سے یوں سنتا ہے ،گویا کوئی دوسرا شخص اس سے کلام کر رہا ہے اووراپنے آپ کو ان ظاہری آنکھوں سے یوں دیکھتا ہے ،گویاکوئی دوسرا شخص اس کے سامنے کھڑا ہے ۔ یوں سمجھیے جیسے مجنون بغیر کسی بولنے والے کے اپنے کانوں سے آوازیں سنتے اور تنہا ہوتے بھی اپنے سامنے کسی کو کھڑا ہوا اور باتیں کرتاہوا دیکھتے ہیں۔ لہٰذا ایسے شخص کوجوفطرت کی رو سے تمام چیزوں سے بے تعلق روحانیت میں مستغرق ہو ،ایسی واردات کا پیش آنا ہر گز خلافِ فطرتِ انسانی نہیں ۔دونوں میں فرق یہ ہے کہ پہلا مجنون ہے اور دوسرا پیغمبر۔کافر دوسرے کو بھی مجنون کہتے تھے۔چنانچہ وحی وہ چیز ہے جس کو قلبِ نبوت پراُسی فطرتِ نبوت کے سبب مبدأفیاض نے نقش کیا ہے۔یہی نقشِ قلبی کبھی بولنے والے کی مانند ظاہری کانوں سے سنائی دیتا ہے اور کبھی دوسرے بولنے والے کی شکل میں نظر آتا ہے، مگر بجز اپنے آپ کے نہ وہاں کوئی آواز ہے اور نہ بولنے والا ۔جس طرح تمام ملکاتِ انسانی کسی محرک کے پیشِ آنے پر اپنا کام کرتے ہیں،اسی طرح ملکۂ نبوت بھی کسی مخصوص امر کے پیشِ نظر فعال ہو جاتا ہے۔۲۹؂ 

غور کیجیے وحی ونبوت سے متعلق اپنے مذکورہ خیالات میں سر سید مستشرقین کے ان بیانات کے کس قدر قریب چلے گئے ہیں جن کے مطابق وہ وحی والہام کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی داخلی کیفیت سے تعبیرکرتے ہیں ،جسے آپ (نعوذ بااللہ)غلط طور پر وحی سمجھ بیٹھے تھے، حالانکہ وہ جنون و مرگی کے دوران حضورؐپروارد ہونے والے خیالات ہوتے تھے، یا جن کے مطابق وحی آپؐ کے زمانے میں مکہ کے حالات اور آپ کی غیر معمولی فطری صلاحیتوں اور سوچ وبچارکے ذریعے اپنے معاشرے کو برائی سے بچانے کے لیے آپ کے نہاں خانۂ دل میں جاری کشمکش کا فطری اظہار تھی ۔  

وحی کو نبی کی داخلی کیفیت اور فطری ملکہ سے تعبیر کرنے کی بنا پر سر سید نے ختمِ نبوت سے متعلق ایسے خیالات کا اظہارکیا جس سے نئی نبوت کے دعویداروں نے خوب فائدہ اٹھایا۔ختمِ نبوت سے متعلق سر سید کے خیالات کی ترجمانی کرتے ہوئے ڈاکٹر ٹرول لکھتے ہیں کہ سر سید کے نزدیک ختمِ نبوت کا اصول افراد میں ملکۂ پیغمبری یا اس صفت کے سبب انسانوں کو الوہی نعمتوں کے حصول کے اختتام کا مفہوم نہیں رکھتا ۔خدا ا پنی مخلوق سے کبھی بے نیاز نہیں رہتا، اس لیے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی لوگ اس خلقی تحفہ کے ساتھ پیدا ہوں گے۔ اس کے باوجود کوئی شخص حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیغمبرانہ تعلیم کی ہمہ گیر تکمیل اور صداقت میں کوئی اضافہ کرنے کے قابل نہیں ہو گا ۔یہی کامل توحید کا پیغام ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق اپنے خیالات میں ایک طرف تو سر سید ما فوق الفطرت واقعہ کے اصول سے احتراز کرنا چاہتے ہیں،یعنی یہ کہ خدا نے اس کام کے لیے حضور کا انتخاب نہیں کیا تھا اور اسی لیے انہوں نے ملکۂ نبوت کا نظریہ پیش کیا، مگردوسری طرف وہ اپنے پہلے نظریہ کے تسلسل میں توحید کے پہلے معلم کی حیثیت سے حضرت محمد کی منفرد حیثیت کو نمایاں کرنا چاہتے ہیں۔ان کے نزدیک آپؐ کے پیغام میں ایک عالمگیر کشش ہے جو سب کے لیے قابلِ فہم ہے ۔اس لحاظ سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے آخری پیغمبر ہیں پھر بھی جیسے جیسے فطرت کا نظام کھلتا جاتا ہے ،بعد کے یکے بعد دیگرے آنے والوں میںیہ ملکہ فعال ہوتا رہتا ہے۔ایسی پارسا ہستیوں کی توقع کی جا سکتی ہے جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نئی صورتِ حال میں توحید کا سبق سکھانے کی اہلیت اور قدرت رکھتی ہوں ۔۳۰؂ 

سرسید کے مذکورہ صدر خیالات واضح طور پر نئی نبوت کے لیے گنجائش پیدا کر رہے ہیں ۔یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ مرزاقادیانی کو اپنی نئی نبوت کے لیے سر سید کے خیالات سے بھی شہ ملی۔سرسیدکی پیروی میں۳۱؂مرزاقادیانی نے بھی وحی کو ایک فطری ملکہ قرار دے کر اپنے اس مفروضے کی تائید کے لیے دلائل فراہم کرنے کی کوشش کی کہ نبی کی متابعت سے آدمی کا فطری ملکہ فعال ہو سکتا ہے اور وہ نبی ہی کی طرح وحی پا سکتا اورخدا کے مکالمہ و مخاطبہ سے مشرف ہو سکتا ہے۔۳۲؂ 

مسائلِ معاد

قرآن مجید کی رو سے بعث بعد الموت اور جنت ودوزخ وغیرہ معاد سے تعلق رکھنے والے ایسے مسائل ہیں جن کو ماننا ایمان کی لازمی شرط ہے۔ نیز قرآن مجید سے مترشح ہوتاہے کہ کہ بعث بعد الموت اور جزاو سزائے اخروی کا معاملہ جسم و روح دونوں سے متعلق ہے۔معاد کے بارے میں حسی تصورات عیسائیت وغیرہ مذاہب میں بھی موجود رہے ہیں، لیکن یورپ میں سائنسی نشأۃ ثانیہ کے دور میں جہاں دیگر مذہبی عقائد شکست و ریخت کا شکار ہوئے، وہاں معاد سے متعلق نقطہ نظر بھی بدل گیا اور اخروی جزا وسزا کے جسمانی کی بجائے روحانی ہونے اور جنت و دوزخ کو مقامات کی بجائے کیفیات سے تعبیر کرنے کا رجحان پیدا ہو گیا ۔انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کامقالہ نگار لکھتا ہے: 

the most recent interpretations view Heaven symbolically as a state of life with Christ, rather than a place

ستم ظریفی یہ ہے کہ مغربی اہلِ فکر نے ایک طرف تو جسمانی جزا سزا کے مسیحی تصورات کو نئی تعبیردے کر روحانی بنانے کی کوششیں کیں اور دوسری طرف اسلام کو بدو عربوں کو متاثر کرنے کے لیے جزا سزا کے تصورات پر مسیحیت وغیرہ مذاہب کی تقلید میں حسیت کی چھاپ لگانے گا ملزم باور کرانے کی سعی کی۔ رچرڈ بیل کا اصرار ہے کہ حشرِ اجساد، جسمانی جزا سزا اور جنت ودوزخ کے واقعی وجود کے اسلامی تصورات بنیادی طور پر یہودیت، عیسائیت اور زردشت وغیرہ مذاہب سے ماخوذ ہیں جنہیں کچھ مقامی رنگ وروغن لگا کر پیغمبر اسلام نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا ۔۳۴؂ ولیم میور کا خیال تھاکہ جنت ودوزخ کے قرآن میں بیان کیے جانے والے مناظرمادی مسرتوں اور حسی راحتوں کی صورت میں بیان کیے گئے ہیں اور اس سے مقصود یہ ہے کہ عربوں کے ذہن کو، جو بنجر اور بے آب و گیاہ زمین کے باسی تھے ،متاثر کیا جا سکے۔ وہ سورہ الرحمن کی آیات۴۳۔۵۸ کا حوالہ دیتے ہوئے قران مجید کے جنت و جہنم سے متعلق بیانات کو بناوٹی قرار دیتا ہے جن کے ذریعے بدو عربوں کے لیے متاثر کن خیالات گھڑے گئے۔۳۵؂ 

مغربی واستشراقی اہلِ فکر سے تاثر کے نتیجہ میں سر سیدنے معاد سے متعلق مسائل کو روحانی ثابت کرنے کی بھر پور کوشش کی۔ سورہ الاعراف کی آیت ۳۸ کی تفسیر میں حشرِ جسمانی کی تغلیط اور جزا وسزا کے روحانی ہونے پر استدلال کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ا نسانی روح ،جو حیوانی روح سے بنیادی طور پر مختلف اور لا فانیت کی حامل ہے ،اپنی لا فانیت میں جو خیر وشر جذب کرتی ہے ،اس کے لیے روزِ قیامت جوابدہ ہے ۔ قرآن میں روزِ قیامت پیش آنے والے جن کائناتی حوادث کا ذکر ہے ،وہ اس زمانے کے وحوش وطیورپر گزریں گے ،مگر اس سے پہلے مرنے والے انسانوں کے لیے قیامت ان کی موت ہی سے شروع ہو جاتی ہے ۔ قیامت در حقیقت تمام کائنات میں ایک لازمی بنیادی تبدیلی کی طرف اشارہ کرتی ہے ۔قرآن کی کسی آیت سے ثابت نہیں ہوتا کہ روزِ حشر لوگ موجودہ جسموں میں دوبارہ زندہ ہوں گے۔ قرآن کے زمانۂ نزول کے لوگ چونکہ روح پر یقین نہیں رکھتے تھے ،اس لیے جزا وسزا کی حقیقت سمجھانے کے لیے ان کے تخیل پر اثر انداز ہونے والا طریقہ اختیار کیا گیا جس سے مادی جسم کے از سر نوع اٹھائے جانے کا عقیدہ پیدا ہو گیا حالانکہ واقعۃً مادی اجسام دوبارہ نہیں اٹھائے جائیں گے اور جزا وسزا محض روحانی ہو گی ۔ ۳۶؂سرسید نے جنت ودوزخ اور ان کے نعیم وآلام کو تمثیلی و استعاراتی قرار دینے کے ساتھ ساتھ انہیں حسی سمجھنے والوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ قرآن کے جنت ودوزخ کے وعدہ ووعید سے متعلق ایسے بیانات جو حسیت کا رنگ لیے ہوئے نظر آتے ہیں، ان کا مقصد در اصل جنگلی وبدوی اور غیر تربیت یافتہ انسانی دماغوں میں ان کے فہم کے مطابق انتہائی درجہ کے رنج و راحت کا احساس پیدا کرنا ہے ورنہ درحقیقت، جیسا کہ ایک تربیت یافتہ دماغ کوسمجھنے میں کچھ دقت پیش نہیں آتی ، ان بیانات میں ذکر کردہ اشیا سے بعینہ وہ اشیا مقصود نہیں۔کوڑ مغز ملا اور شہوت پرست زاہدجس طرح کی حسن پرستانہ اور شراب وکباب سے مزین جنت کا نقشہ پیش کرتے ہیں، ایسی جنت سے تو ہمارا یہ خرابہ بہتر ہے، چہ جائیکہ قرآن کے بیانات سے ایسی جنت کاذکر مطلوب ہو۔۳۷؂

ملائکہ،شیطان اورجنات

فرشتوں ،شیطان اور جنات کا تصور مختلف مذاہب میں موجود رہا ہے۔ اسلام نے بھی ان کا ذکر غیرمرئی واقعی وجودات کے طور پر کیا ہے۔ یورپ میں جدید سائنس اور مادی افکار کی اشاعت نے ان غیر مرئی مخلوقات کے انکار کا رجحان پیدا کر دیا۔ انسائیکلوپیڈیا آف ریلجین کے مقالہ نگار کے مطابق جدید روشن خیالوں نے Demons کے وجود کو پرانے لوگوں کے توہمات قرار دے دیا ۔اس سلسلہ میں معروف ماہرِ نفسیات فرائڈ نے خصوصی کردار ادا کیا ۔۳۸؂غیر مرئی مخلوقات سے متعلق مغربی اہلِ فکر کے خیالات سے متاثر ہو کر سر سید نے ملائکہ،شیطان اورجنات سے متعلق قرآنی بیانات کی معذرت خواہانہ توجیہات پیش کرتے ہوئے ان کے خارجی وجود سے انکار کر ڈالا ۔چنانچہ وہ اپنی تفسیر میں ملائکہ اور شیاطین کو خیر وشر کی قوتیں اور جنات کو جنگلی اور پہاڑی مخلوق قرار دیتے ہیں۔سورہ البقرہ کی آیت ۳۰ کی تفسیرمیں فرشتوں اورشیطان کی بابت لکھا ہے: ’’جن فرشتوں کا قرآن میں ذکر ہے، ان کا کوئی اصلی وجود نہیں ہو سکتا بلکہ خدا کی بے انتہا قدرتوں کے ظہور کو اور ان قوی کو، جو خدا نے اپنی مخلوق میں مختلف قسم کے پیدا کیے ہیں،ملک یا ملائکہ کہاہے جن میں سے ایک شیطان یا ابلیس بھی ہے ۔پہاڑوں کی صلابت ،پانی کی رقت ،درختوں کی قوتِ نمو،برق کی قوتِ جذب ودفع، غرضیکہ تمام قوی جن سے مخلوقات موجود ہوئی ہیں اور جو مخلوقات میں ہیں، وہی ملائک وملائکہ ہیں جن کا ذکر قرآن مجید میں آیا ہے۔ انسان ایک مجموعہ قوائے ملکوتی اور قوئ بہیمی کا ہے ،اور ان دونوں قوتوں کی بے انتہا ذریات ہیں جو ہر ایک قسم کی نیکی اور بدی میں ظاہر ہوتی ہیں اور وہی انسان کے فرشتے اوران کی ذریات اور وہی انسان کے شیطان اور ان کی ذریات ہیں ۔‘‘ ۳۹؂ بالفاظِ دیگر سر سید کے ہاں قرآن کی اصطلاح میں ، اپنے ثانوی مفہوم میں، فرشتہ خدائی اخلاقی سہارا ہے جو انسان کی حد سے زیادہ ناخوش گوارحالات سے نپٹنے کی کوشش میں مدد کرتا ہے، اور شیطان یعنی مردود فرشتہ کو استعارۃً قرآن پاک میں مخلوقِ آتش سے موسوم کیا گیا ہے ،یہ در اصل انسان کے سیاہ شہوات کی جانب اشارہ ہے ۔۴۰؂ 

’’جن‘‘ کے حوالے سے لکھا ہے کہ جن اوراس مادہ سے بننے والے تمام الفاظ کے معنی مستور عن الاعین چیز کے ہیں۔ مشرکینِ عرب ایسے تمام واقعات کو جن کے اسباب ان کو معلوم نہیں ہوتے تھے اور اکثر بیماریوں کو، جن کے وجوہ سے وہ ناواقف ہوتے تھے ، غیر مرئی موثر کا اثر خیال کرتے تھے ،جیسا کہ اب بھی جہلا بیمار آدمی پر آسیب کا اثر خیال کرتے ہیں۔ مشرکینِ عرب اور یہودیوں میں جنوں کا عجیب وغریب تخیل مجوسیوں سے درآمد کیا گیا، جو ابتدا ہی سے اہرمن ویزداں کے قائل تھے ۔ مشرکینِ عرب کا یہ بھی خیال تھاکہ یہ مخلوق انسان کو بھلائی یا برائی پہنچانے کی قدرت رکھتی ہے اور مختلف اشکال میں متشکل ہو سکتی ہے ۔قرآن مجید میں کہیں استعارۃًجن کا اطلاق شیطان معنوی الانسان پر ہوا ہے ، کہیں وحشی اور شریر انسانوں پر اور کہیں بطورِ الزام و خطابیات کے اس وجودِ خیالی پر جس پر مشرکین یقین رکھتے تھے۔ مگر خطابیات کے طور پر بیان کرنے سے ایسی مخلوق کا وجود فی الواقع ثابت نہیں ہوتا ۔لفظ’ جن‘ قرآن میں پانچ مقامات پر لفظ’جان‘ کے مترادف کے طور پر استعمال ہوا ہے اور ان کے وجود کو فی الواقع تسلیم کیے بغیر ،ان مخلوقات پر عرب جاہلیت کے اعتقاد کی جانب اشارہ کیا ہے ۔قرآن پاک میں جنات معصیت،امراض اور دیگر مصائب کے مظاہر گردانے گئے ہیں ۔چند دیگر مقامات پر قرآن نے جنگلوں ، پہاڑوں اور ریگستانوں مین رہنے والے وحشی انسانوں کے لیے بھی یہ لفظ استعمال کیا ہے۔۴۱؂ 


حوالہ جات و حواشی

۱۔ابوالحسن علی ندوی، مسلم ممالک میں اسلامیت اور مغربیت کی کشمکش، کراچی، مجلسِ نشریاتِ اسلام، ۱۹۸۱ء، ص ۹۵، ۹۶۔ نیز ملاحظہ ہو:سرسید احمد خاں،مضامین سرسید،(ترتیب ومقدمہ،ذوالفقار،غلام حسین،ڈاکٹر)،لاہو،سنگ میل پبلی کیشنز ۱۹۹۳ء، ص۱۔۴

۲۔قاضی جاوید،سرسید سے اقبال تک، لاہور تخلیقات، ۱۹۹۸ء، ص ۱۴۔۱۵،۱۷، نیز دیکھأ: ڈار، بشیراحمد،

 Religious Thought of Sayyed Ahmad Khan, Lahore, 1971, p. 268.

۳۔محمد اکرام شیخ،موجِ کوثر،لاہور،ادارہ ثقافتِ اسلامیہ، ۱۹۹۲ء، ص ۱۵۸۔ نیز ملاحظہ ہو:سید عبداللہ، سرسید احمد خاں اور ان کے ناموررفقاکی اردو نثر کا فنی و فکری جائزہ،اسلام آباد،مقتدرہ قومی زبان،۱۹۹۴،ص۳۰۔۳۳۔

۴۔ سرسید احمد خاں ، تفسیر القرآن مع اصولِ تفسیر، لاہور:دوست ایسوسی ایٹس،۱۹۹۵ء،ص۱۔۳۶۔

۵۔ سرسید کے اصولِ تفسیرپر نقد ونظر کے لیے ملاحظہ ہو: فضل الرحمن گنوری،’’سرسید کابنیادی اصول۔نیچراور لا آف نیچر‘‘ در ’تحقیقات اسلامی‘علیگڑھ،جولائی۔ستمبر ۱۹۹۰ء، ص۲۹۷۔۳۱۰۔ 

نیز دیکھئے: ظفرالحسن،سرسید اور حالی کا نظریۂ فطرت،لاہور،ادارہ ثقافت اسلامیہ،۱۹۸۷،ص۲۵۱۔۲۵۴۔

۶۔ سید عبداللہ ،سر سید احمدخاں اور ان کے ناموررفقاکی اردو نثر کا فنی وفکری جائزہ،حوالہ مذکور،ص۳۱۔۳۲۔

۷۔حالی ،الطاف حسین، مولانا،حیاتِ جاوید، لاہور، ہجرہ انٹر نیشنل،۱۹۸۴، حصہ اول،ص۲۳۱۔

۸۔قاضی جاوید ،سرسید سے اقبال تک،ص۲۵۔ 

۹۔

 Prat, John H, Scripture and Science not at variance, London, 1858, p. 95.

۱۰۔ 

Ibid, pp.8,11,17. 

۱۱۔ ٹرول،سی ڈبلیو،ڈاکٹر،سر سید احمد خاں۔۔۔فکرِ اسلامی کی تعبیرِ نو، (مترجمین،ڈاکٹر قاضی افضل حسین اور محمداکرام چغتائی)، لاہور، القمر انٹرپرائزز،۱۹۹۸ء،ص۱۸۳۔

۱۲۔سرسید احمد خاں،تفسیرالقرآن مع اصولِ تفسیر،ص۱۱۰۔۱۱۳۔

۱۳۔ایضاً،ص۶۷۹۔۶۹۱۔

۱۴۔ٹرول،سی ڈبلیو،ڈاکٹر،سرسید احمد خاں۔۔۔فکرِ اسلامی کی تعبیرِ نو،ص۱۹۳۔ 

۱۵۔عیسائیت میں معجزات ، خود مغربی اہلِ فکر کے اقرار کے مطابق ،اس قدر ضروری عنصر کی حیثیت رکھتے ہیں کہ اس مذہب سے معجزات کو نکالنا ،مذہب کو باطل قرار دینے کے مترادف ہے۔

 Longman, Supernatural Religion, Green & Co, London, 1874, Vol. 1, pp. 9-10.

۱۶۔

See for detail; Bashir Ahmad Siddiqi,Dr, Modern trends in Tafsir Literature-Miracles, Lahore, Faculty of Islamic and Oriental Learning, Yuniversity of the Punjab, 1988,pp.138-182. 

۱۷۔ 

Ibid, pp.221-235. 

۱۸۔ 

Supernatural Religion, Op.Cit, Vol.II.p.480. 

۱۹۔ٹرول سی ڈبلیو، ڈاکٹر،سرسید احمد خاں۔۔۔فکرِ اسلامی کی تعبیرِ نو، ص۲۰۶۔۲۰۷۔

۲۰۔ انکارِ معجزات کے حوالے سے ڈیوڈہیوم کے جس استدلال کا سر سید یہاں تتبع کر رہے ہیں،اس کے تفصیلی مطالعہ کے لیے ملاحظہ ہو :

 Hume,David,Enquiries Concerning the Human Understandig, edited by L.A Selly,Bigge, 2nd ed; Oxford,1893, pp.114-127. 

۲۱۔سرسید احمد خاں ،تفسیر القرآن مع اصولِ تفسیر،ص۱۰۷۵۔۱۱۹۷۔ 

۲۲۔ایضاً،ص۱۱۹۷۔ ۱۲۰۵۔

۲۳۔سر سید احمدخاں،تفسیرالقرآن مع اصولِ تفسیر،ص۱۴۷۔۱۶۲۔

۲۴۔ایضاً، ص۳۹۹۔ 

۲۵۔ایضاً،ص۴۱۳۔

۲۶۔ایضاً،ص۴۲۶۔۴۲۷۔

۲۷۔ایضاً،ص۵۸۰۔

۲۸۔الزامِ صرع کے حوالے سے استشراقی ہرزہ سرایوں کی تفصیلات کے لیے دیکھیے:

Muir,William,Muhammad and Islam,London,N.D.pp.22,24. 

سرسید احمد خاں،سیرت محمدی،لاہور،مقبول اکیڈمی، ۱۹۹۷، ص۲۲۸۔ ۲۲۸ ۔ اکیڈمی،۱۹۹۷،ص۲۲۸۔۲۳۰۔ 

قرونِ وسطی اور بعدمیں بھی ایک عرصہ تک مستشرقین حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر نزول وحی کی توجیہ مرگی کے دوروں ہی سے کرتے رہے (Muhammad Khalifa,The Sublime Quran and Orientalism ,London $ New York,Longman,1983,p.12 ) ،لیکن زمانۂ مابعد میں،جب اس بے ہودہ الزام کو خو مستشرقین ہی کی جانب سے تاریخی تنقید کے خلاف ایک جرم قرار دیا جانے لگا (Guillaume,A, Islam, ,Harmondsworth,Pelican Books,1961, p.25) تو مستشرقین نے پینترا بدلااورآپؐ پر وحی کی جدید فلسفیانہ توجیہات پیش کی جانے لگیں،تاہم اس استشراقی موقف میں کوئی تبدیلی نہ آئی کہ حضورؐ پر خارج سے کوئی وحی ناز ل نہیں ہوتی۔جدید توجیہات میں سب سے پر زور انداز سے پیش کی جانے والی توجیہ یہ ہے کہ وحی کے حوالے سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پیش کردہ تصورات ، آپ کے لا شعور سے شعورمیں آنے والے وہ خیالات تھے جو مکہ کے اس زمانے کے حالات کا فطری ردِ عمل تھے۔ (Watt, W. M, Muhammad: Prophet and Statesman, Oxford Yniversity press,1961,p.14)

۲۹۔۔سرسید احمد خاں ،تفسیرالقرآن مع اصول تفسیر،ص۹۰۔۹۶،۵۶۵۔۵۷۸۔ 

۳۰۔ٹرول،سی ڈبلیو،ڈاکٹر ،سرسید احمد خاں ۔۔۔فکرِ اسلامی کی تعبیرِ نو، ص۲۱۷۔۲۱۸۔

۳۱۔مرزا قادیانی کا سر سید کا تتبع کوئی بے سند مفروضہ نہیں ہے بلکہ اہلِ تحقیق نے کئی مسائل میں مرزا کے سر سید اور ان کے ہم نوااہلِ فکر کے تتبع کی وضاحت کی ہے ۔مثال کے طور پر دیکھیے:محمد اکرام شیخ، موجِ کوثر،س۱۷۸۔ 

۳۲۔دیکھیے:قادیانی،غلام احمد ،مرزا،تفسیر سورہ فاتحہ،ربوہ، دار المصنفین،ص۲۵۰۔۲۶۰۔ 

۳۳۔

 The Encyclopaedia Britannica, Chicago,1986, Vol.5 .p.789. 

۳۴۔

 Vide, Bell, Richard, Introduction to the Quran, at the Edinburgh University press, 1963, pp. 156-161.

۳۵۔

Vide, Muir, William, The Life of Mahomet, London, Smith Elder & Co;1877,Vol.2.pp141-145.

۳۶۔سر سید احمد خاں،تفسیرالقرآن مع اصولِ تفسیر،ص۶۳۵۔۶۷۵۔ 

۳۷۔ایضاً،ص۱۰۶۔۱۰۸۔

۳۸۔

The Encyclopedia of Rrligion, Mircea Eliade, Editor in Chief, London & New York,1987,Vol.4.p.291.

۳۹۔ سرسیداحمد خاں، تفسیرالقرآن مع اصولِ تفسیر،ص۱۱۷۔

۴۰۔وہی مصنف ،تہذیب الاخلاق،لاہور، اشاعتِ ثانی،س.ن.حصہ دوم،ص۱۹۱۔

۴۱۔وہی مصنف،تفسیرالقرآن مع اصول تفسیر،ص۶۱۳۔۶۲۴،وہی مصنف ،تفسیر الجن ولجان،آگرہ،۱۸۹۲ء ، ص۲۔۱۹۔ 

شخصیات

Flag Counter