جون ۲۰۱۰ء

قرآن کریم اور دستور پاکستان

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

اسلامی جمہوریہ پاکستان کی عدالت عظمیٰ میں اس وقت حکومت اور حکمرانوں کے حوالے سے بہت سے مقدمات زیر سماعت ہیں اور اس سلسلے میں عدالت میں پیشی سے صدر اور وزیر اعظم کی استثنا پر ملک بھر میں بحث وتمحیص جاری ہے۔ ایک جانب سے یہ کہا جا رہا ہے کہ اسلامی روایات وتعلیمات کے مطابق حاکم وقت بھی اسی طرح عدالت کے سامنے پیش ہونے کا پابند ہے جس طرح رعیت کے دوسرے لوگ پابند ہیں، جیساکہ امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مقدمے میں عدالت کے سامنے پیش ہو کر اس کا اظہار کیا تھا، جبکہ دوسری طرف سے اس بات پر دلائل دیے جا رہے ہیں کہ حاکم اعلیٰ کی عدالت میں پیشی...

سر سید احمد خان کی تفسیری تجدد پسندی: ایک مطالعہ (۱)

― ڈاکٹر محمد شہباز منج

سرسید احمد خاں (۱۸۱۷ء۔۱۸۹۸ء) نے جس ماحول میں آنکھیں کھولیں، وہ مسلمانوں کی سیاسی،معاشی،تعلیمی اور سماجی پسماندگی کا دور تھا۔ ۱۸۵۷ء کی جنگِ آزادی کی ناکامی نے مسلمانوں کو شکستہ خاطر کر دیا تھا۔ قومی امنگ،جوش و خروش ، بلندی و برتری اورترقی و کامرانی کا تصور کوسوں دور تھا ۔سرسید نے کل کی حاکم قوم کو ذلت و پستی کے گڑھے میں گرے ہوئے دیکھا۔ انگریزوں کی حکومت اور ان کی ساحرانہ تہذیب کے مناظر دیکھے۔ان کو ملازمت،رفاقت اور دوستی و تعارف کے ذریعے مستشرقین اور انگریزحکمرانوں اور صاحبانِ علم و حکمت سے گہرا واسطہ پڑا۔وہ ان کی ذہانت، قوتِ عمل اورتمدن...

اسلامی اخلاقیات کے سماجی مفاہیم (۳)

― پروفیسر میاں انعام الرحمن

کسی سماجی مسئلے کی گتھی سلجھانے کے لیے مصلح کا غیر جانب دار ہونا نہایت ضروری ہے۔ یہ صفت مصلح کوتحریک دیتی ہے کہ زیرِ بحث مسئلے کا معروضی جایزہ لے۔ معروضی تجزیے کی یہ روش، مسئلے کے متعلق درست زاویے سے سوال اٹھانے کی صلاحیت پیدا کرتی ہے۔ ہماری رائے میں کسی مسئلے کے قابلِ قبول حل کے لیے پہلا قدم،اس کے متعلق درست سوال اٹھانا ہے۔ ملاحظہ کیجیے کہ خالد سیف اللہ صاحب نے آج کے ایک سنجیدہ مسئلے کو کتنے معروضیت پسندانہ اسلوب سے اڈریس کیا ہے: ’’سوال یہ ہے کہ کم عمری کا نکاح زیادہ نقصان دہ ہے یا کم عمری کے جنسی تجربات؟ یقیناََ بے قید جنس پرستی زیادہ مضر...

بلا سود بینکاری کا تنقیدی جائزہ ۔ منہجِ بحث اور زاویۂ نگاہ کا مسئلہ (۲)

― مولانا مفتی محمد زاہد

مسئلے کا معاشی اور مقاصدِ شریعت کا پہلو: بہر حال کہنے کا مقصد یہ ہے کہ روایتی علما کی واضح اکثریت جس میں غیر سودی بینکاری کے ناقدین اور مجوّزین دونوں ہی شامل ہیں، اگر مسئلے کو محض عقود کی سطح پر خالص فقہی انداز سے دیکھ رہی ہے تو اس معاملے کو اس کے پس منظر سمیت دیکھا جانا چاہیے۔ تاہم اس خالص فقہی زاویۂ نظر کے علاوہ اس مسئلے کو دیکھنے کے کچھ اور پہلو بھی ہیں جن میں خاص طور پر روایتی اور غیر سودی بینکاری دونوں کا اس حوالے سے جائزہ شامل ہے کہ مجموعی سطح کی معیشت پر ان دونوں کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں یا ہوسکتے ہیں اوراسلامی تعلیمات کی روشنی میں ان...

اسلامی بینکاری: زاویہ نگاہ کی بحث

― محمد زاہد صدیق مغل

ماہنامہ الشریعہ شمارہ مئی ۲۰۱۰ میں مفتی زاہد صاحب دامت برکاتہم العالی نے راقم الحروف کے مضمون ’اسلامی بینکاری: غلط سوال کا غلط جواب‘ کے تعقب میں اپنے مضمون ’غیر سودی بینکاری کا تنقیدی جائزہ‘ (حصہ اول) میں ’زاویہ نگاہ کی بحث ‘ کے تحت چند گزارشات پیش کی ہیں جن پر مختصر تبصرہ کرنا راقم ضروری سمجھتا ہے۔ (۱) راقم الحروف نے اپنے مضمون میں یہ بنیادی بحث اٹھائی تھی کہ اسلامی بینکاری کے حامیین نے اصل بحث کی ترتیب کو الٹ دیا ہے۔ مفتی صاحب نے بحث کی موجودہ ترتیب کے حق میں بجا طور پر یہ وضاحت فرمائی کہ علمائے کرام خود کو اس ترتیب پر اس لیے مجبور پاتے...

مولانا خواجہ خان محمد کی یاد میں تعزیتی نشست

― ادارہ

حضرت مولانا خواجہ خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کندیاں کی وفا ت پر انھیں خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں ۸؍ مئی کو ایک تعزیتی نشست کا اہتمام کیا گیا جس کی صدارت بزرگ عالم دین مولانا مفتی محمد عیسیٰ خان گورمانی نے کی اور پاکستان شریعت کونسل کے سیکرٹری جنرل مولانا زاہد الراشدی، جمعیۃ علماے اسلام (س) پنجاب کے سیکرٹری جنرل مولانا عبد الرؤف فاروقی اور الشریعہ اکادمی کے مولانا حافظ محمد یوسف نے خطاب کیا۔ مولانا عبد الرؤف فاروقی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مولانا خواجہ خان محمد کی وفات سے دینی، علمی اور روحانی حلقوں...

تعارف و تبصرہ

― ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

مولانا عتیق الرحمن سنبھلی مدظلہ کا نام علمی دنیا میں محتاج تعارف نہیں ہے۔ علوم اسلامیہ پر گہری نگاہ کے ساتھ ہی ان کا امتیاز ہے کہ انہوں نے عصری تحقیقات وعلوم سے بھی خاصا استفادہ کیاہے۔وہ مدت دراز سے لندن میں مقیم ہیں، اس طرح مشرق و مغرب دونوں سے ان کی واقفیت راست اور مشاہدکی ہے۔ ان کی متعدد کتابیں اور مقالات کے مجموعے منظر عام پر آچکے ہیں اور ان کے وسیع مطالعہ، دقیق مشاہدہ اور وسعت نظری اور حقیقت پسندی کے شاہد عدل ہیں۔ ’’واقعہ کربلا اور اس کا تاریخی پس منظر ‘‘مؤلفہ مولاناعتیق الرحمن سنبھلی اردو کے تحقیقی و فکری لٹریچر میں ایک گراں قدر...

انا للہ و انا الیہ راجعون

― ادارہ

حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ۔ ۵ مئی کو حضرت مولانا خواجہ خان محمد بھی ہمیں داغ مفارقت دے گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ گزشتہ سال اسی تاریخ کو والد محترم مولانا محمد سرفراز خان صفدر کا انتقال ہوا تھا۔ وہ دونوں دار العلوم دیوبند میں ہم سبق رہے اور شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی کے شاگرد تھے۔ ان کا روحانی سرچشمہ بھی ایک ہی تھاکہ ڈیرہ اسماعیل خان میں موسیٰ زئی شریف کی خانقاہ کے فیض یافتہ تھے۔ نقشبندی سلسلے کی اس خانقاہ کے حضرت خواجہ سراج الدین سے حضرت مولانا احمد خان نے خلافت پائی جو خانقاہ سراجہ کے بانی تھے اور اسی خانقاہ کے مسند...

ای میل سبسکرپشن

 

Delivered by FeedBurner

Flag Counter