مولانا خواجہ خان محمد کی یاد میں تعزیتی نشست

ادارہ

حضرت مولانا خواجہ خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کندیاں کی وفا ت پر انھیں خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں ۸؍ مئی کو ایک تعزیتی نشست کا اہتمام کیا گیا جس کی صدارت بزرگ عالم دین مولانا مفتی محمد عیسیٰ خان گورمانی نے کی اور پاکستان شریعت کونسل کے سیکرٹری جنرل مولانا زاہد الراشدی، جمعیۃ علماے اسلام (س) پنجاب کے سیکرٹری جنرل مولانا عبد الرؤف فاروقی اور الشریعہ اکادمی کے مولانا حافظ محمد یوسف نے خطاب کیا۔

مولانا عبد الرؤف فاروقی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مولانا خواجہ خان محمد کی وفات سے دینی، علمی اور روحانی حلقوں میں جو خلا پیدا ہوا ہے،اس کے پر ہونے کا دور دور تک امکان نظر نہیں آتااور ان کی وفات سے ہم ایک سرپرست بزرگ اور عظیم سرمایے سے محروم ہو گئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے بزرگ ایک ایک کر کے ہم سے رخصت ہوتے جا رہے ہیں اور ہماری محرومیوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اس لیے ہمیں پہلے سے زیادہ محنت کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔

مولانا زاہد الراشدی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مولانا خواجہ خان محمد کو تمام مکاتب فکر میں متفقہ راہ نما کی حیثیت حاصل تھی اور تحریک ختم نبوت میں مختلف دینی مکاتب فکر کے علما اور دینی جماعتوں نے کل جماعتی مجلس عمل کے پلیٹ فارم پر مولانا خواجہ خان محمد کی قیادت میں حضرت مجدد الف ثانی کی تعلیمات کے مطابق سلسلہ نقشبندیہ کے علوم وکردار کو فروغ دینے والوں میں مولانا خواجہ خان محمد سرفہرست تھے اور انھوں نے قرآن وسنت کے مطابق تصوف وسلوک کی صحیح نہج سے لوگوں کو متعارف کرایا۔

مولانا مفتی محمد عیسیٰ خان گورمانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مولانا خواجہ خان محمد ہمارے دور میں اکابر علماے حق کی روایات کے امین اور ان کے مشن کے وارث تھے جنھوں نے زندگی بھر ملک میں قرآن وسنت کی تعلیمات کے فروغ، عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور نظام شریعت کے نفاذ کے لیے جدوجہد کی اور ہزاروں علماے کرام اور مسلمانوں نے ان سے روحانی فیض حاصل کیا۔

تعزیتی نشست میں علماے کرام، دینی مدارس اور کالجوں کے اساتذہ اور مختلف طبقات کے افراد نے شرکت کی اور آخر میں حضرت مرحوم کی مغفرت اور بلندئ درجات کے لیے دعا کی گئی۔

دارالعلوم دیوبند کے فتوے کے خلاف حالیہ مہم پر مولانا عتیق الرحمان سنبھلی کا بیان

جماعت دیوبند کے بزرگ عالم اور معروف دانشور و مصنف مولانا عتیق الرحمان سنبھلی(مقیم لندن)نے دارالعلوم کے فتووں کے خلاف میڈیا کی حالیہ مہم کو نہایت غیر ذمہ دارانہ بلکہ معاندانہ قرار دیا ۔مولانا نے اپنے ایک اخباری بیان میں، جو آج دہلی سے جاری کیاگیا، کہا کہ دارلعلوم صرف ہندوستان ہی نہیں پوری دنیا کے مسلمانوں کا ایک اہم دینی و علمی مرکز ہے۔ میڈیا کے کچھ حلقے اور مسلم دشمن گروہ اس کو مستقل ایک بدنام کن مہم کانشانہ بنائے ہوئے ہیں۔

مولانا نے دارالعلوم کے دفتر اہتمام سے فرمائش کر کے متعلقہ فتووں کی کاپی منگواکر خود دیکھی اورصاف محسوس کیا کہ میڈیا نے توڑ مروڑ کر بات کو پیش کیا ہے۔ مولانا کا کہنا تھا کہ ملک اور بیرون ملک کے بعض اخبارات اور ٹی وی چینلز نے بالکل جھوٹ یہ بات نشر کی کہ دارلعلوم کی طرف سے عورت کی کمائی کو حرام کہا گیا ہے۔ اس کے برعکس دارلعلوم کے فتووں میں صراحت ہے کہ’’کمائی پر حرام ہونے کا حکم نہیں‘‘۔ بعض فتووں میں یہ بھی صراحت ہے کہ ’’عورت کے لیے کمانا ممنوع نہیں‘‘۔ ہاں! بجاطورپر شرعی لباس اور حیا کے تقاضوں کی پابندی کی شرط ہے۔ مولانا کا کہنا تھا کہ چونکہ اس زمانے میں آفسوں اور بازاروں کا ماحول نہایت بے حیائی کا ہے اور مغربی تہذیب و تعلیم نے ذہن ناپاک بنا دیے ہیں، آفسوں میں صنف نازک کے ساتھ زیادتیوں کے جس طرح کے واقعات عام ہیں، اس کے بیان کی ضرورت نہیں، اس لیے دارالعلوم کے فتووں میں خواتین کو بلا ضرورت سروس کرنے سے منع کیا گیا ہے اور یہ نہایت معقول بات ہے۔

مولانا نے بڑا افسوس ظاہر کیا کہ بعض مسلمان بھی حقیقت جانے بغیر میڈیا کے اس خلاف حقیقت پروپیگنڈے سے متاثر ہو جاتے ہیں اور یہ بات بھول جاتے ہیں کہ دارالعلوم دیوبند ہمارے عقیدہ و تہذیب کی آخری دفاعی لائن ہے۔مولانا نے مزید کہا کہ نہایت حیرت کی بات یہ بھی ہے کہ ہمارے بعض اردو کے اخبارات بھی بسااوقات اس مہم کا حصہ بن جاتے ہیں۔ حالاں کہ ان سے تو بجا تور پر یہ توقع ہوتی ہے کہ وہ دارالعلوم سے رابطہ کرکے اصل حقیقت جان لیں ،اور فتووں کو ان کے صحیح تناظر میں سمجھنے اور پیش کرنے کی کوشش کریں ۔ مولانا نے سارے مسلمانوں سے اپیل کی کہ یہ وقت دارالعلوم کی تائید و حمایت کا اور مغربی تہذیب کے مقابلہ میں اس کے رہنما کردار کو تقویت پہنچانے کا ہے نہ کہ اسلام دشمن طاقتوں کے سامنے سپراندازی کرنے کا۔

گوجرانوالہ میں ’اور‘ ڈائیلاگ فورم کا انعقاد

مسلمانوں کی علمی روایت ،رائے کا اختلاف پیش کرنے، اسے قبول کرنے اور اس کی حوصلہ افزائی کے حوالے سے بہت روشن ہے۔ عدم رواداری پر مبنی ہمارے موجودہ رویوں اور نفسیات کی بنیاد نو آبادیاتی دور میں پائی جاتی ہے اور ہم نے اُس دور میں بحیثیت قوم اپنے ملی وجود اور روایت کو بچانے کے لیے جو تحفظاتی رویہ اختیار کیا تھا، وہ آج تک قائم ہے اور ہم اس نفسیات سے ابھی تک نجات نہیں پا سکے جبکہ علم وفکر اور ترقی کے میدان میں آگے بڑھنے کے لیے اس کی اشد ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار ممتاز عالم دین مو لانا زاہد الرشدی نے’’اور قومی فورم برائے مکالمہ‘‘ کے زیراہتمام گوجرانوالہ میں فکری نشست سے خطاب کرتے ہو ئے کیا۔ادارہ برائے تعلیم و تحقیق نے گوجرانوالہ میں مکالمہ کی ضرورت اور اہمیت کے عنوان سے اس فورم کا انعقادکیا جس میں گوجرانوالہ کے مختلف حلقہ ہاے خیال سے تعلق رکھنے والے علما، ارباب دانش اور سول سو سائٹی کی نما ئندہ شخصیات نے شرکت کی۔ 

ادارہ تعلیم وتحقیق کے چیرمین خورشید احمد ندیم نے ’’اور قومی فورم برائے مکالمہ‘‘ کے قیام کے مقصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس فورم کا نصب العین معاشرے میں رواداری، جمہوریت اور پرامن بقاے باہمی کو فروغ دینا اور ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہے جہاں مکالمے اور تبادلہ خیال کو کلچر کی حیثیت حاصل ہو۔ جید عالم دین مولانا مفتی محمد شفیع کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ اختلاف رائے دراصل علم وفہم اور دیانت کا اظہار ہے اور کسی جگہ کامل اتفاق رائے پائے جانے کا مطلب ہی یہ ہے کہ یا تو سب لوگ سمجھ بوجھ سے عاری ہیں اور یا اپنے ضمیر کے ساتھ خیانت کرتے ہوئے رائے کے اختلاف کو چھپا رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مکالمے کا مقصد کسی بات کو صحیح یا غلط ثابت کرنا نہیں ہوتا، بلکہ ایک دوسرے کی بات کو سمجھنا اور یہ چیز سیکھنا ہوتا ہے کہ اختلاف رائے کے باوجود کیسے مل جل کر رہا جا سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ معاشرے میں مختلف مسائل کے حوالے سے پائی جانے والی پولرائزیشن بڑی حد تک غیر حقیقی ہے اور اس کی بڑی وجہ باہمی میل جول اور مکالمے کا فقدان ہے، کیونکہ تجربے سے ثابت ہوا ہے کہ جب مختلف الخیال طبقات کو ایک جگہ بٹھا کر تبادلہ خیال کا موقع دیا جاتا ہے تو بہت سے خدشات اور غلط فہمیاں دور ہو جاتی ہیں اور معاشرے کے ارتقا کو مل جل کر آگے بڑھانے کے لیے بہت سے مشترک نکات نکھر کر سامنے آ جاتے ہیں۔

ممتاز دانش ور میر احمد علی نے کہا کہ ہر مذہب کے ماننے والے اپنے مذہب کے برحق اور سچا ہونے پر پختہ یقین رکھتے ہیں، اس لیے سب کے مذہبی جذبات کا احترام کرنا چاہیے اور پرامن طریقے سے مل جل کر رہنے کے لیے اختلاف کو برداشت کرنے اور مکالمے کا طریقہ اختیار کرنا ناگزیر ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت دنیا میں مغرب کے سائنسی اور سماجی علوم کا سکہ چل رہا ہے اور اس میدان میں دنیا کی دوسری قوموں پر برتری حاصل کیے بغیر مسلمانوں کی عظمت رفتہ کی بازیابی کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔

ماہنامہ الشریعہ کے مدیر محمد عمار خان ناصر نے کہا کہ اسلام دنیا میں مختلف مذاہب کے وجود میں آنے اور باقی رہنے کو ایک خدائی اسکیم کے طورپر بیان کرتا ہے یہی چیز مختلف مذاہب کے درمیان پر امن بقاے باہمی اور مکالمہ کی بنیاد ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ مکالمہ اور رواداری کے کلچر کو ارباب دانش تک محدود رکھنے کے بجائے عوام کی سطح پر بھی فروغ دینا ضروری ہے اور اس سلسلے میں بلند پایہ مفکرین اور ان کے افکار وخیالات کو آسان اور قابل فہم زبان میں عوام کے لیے قابل رسائی بنانے کے لیے ایک علمی تحریک شروع کرنے کی ضرورت ہے۔

جلال ماڈل اسکول کے پرنسپل محمدطفیل بیگ نے کہا کہ مکالمے اور رواداری کی فضا کو عوامی سطح تک پھیلانے کی ضرو رت ہے کیونکہ مذہبی مکاتب فکر کے راہ نماؤں کے باہمی اختلافات کے اثرات عوام الناس تک پہنچتے ہیں اور تناؤ کی فضا میں وہ بھی باہمی میل ملاقات سے گریز کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

روزنامہ جنگ کے نمائندہ حافظ خلیل الرحمن ضیاء نے کہا کہ اعلیٰ او رمنصفانہ معاشرتی قدروں کے فروغ کے لیے اسلام بھرپور راہنمائی کرتا ہے اور قرآن وسنت کی تعلیمات کو اختیار کر کے ہم اپنے تمام مسائل کو حل کر سکتے ہیں۔

ملک عبد الوکیل نے کہا کہ عدم برداشت کا رویہ بنیادی طور پر اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کوئی شخص علم اور فہم کے لحاظ سے اپنے آپ کو کامل سمجھ لیتا ہے کیونکہ ایسا سمجھنے کے بعد انسان میں مزید علم حاصل کرنے یا دوسرے کے خیالات سے استفادے کا جذبہ ختم ہو جاتا ہے۔

نوجوان افسانہ نگار عامر رفیق نے کہا کہ مذہبی لوگوں کے بارے میں یہ تاثر عام ہے کہ وہ لوگوں کی آزادی فکر پر قدغن لگانا چاہتے ہیں، اس لیے مکالمے کی فضا پیدا کرنے کے لیے مذہبی لوگوں کے رویے اور کلچر کو بدلنے کی ضرورت ہے۔

پولیس انسپکٹر محمد ناصر نے کہا کہ کوئی فرد یا طبقہ کس حد تک مکالمے کا قائل ہے، اس کی آزمائش مکالمے کے حق میں عمومی تقریروں سے نہیں بلکہ اس وقت ہوتی ہے جب کسی اختلافی مسئلے پر عملاً مکالمہ کرنے کی کوشش کی جائے، کیونکہ ایسے موقع پر کوئی بھی فریق مکالمے کی روح اور آداب کا لحاظ رکھنے میں عام طور پر ناکام ثابت ہوتا ہے۔

سماجی تنظیم ’’چھاؤں‘‘ کی چیئر مین ثمینہ عرفان نے کہا کہ ہم اختلاف رائے کو گوارا کرنے کا سبق خود اپنے گھر سے سیکھ سکتے ہیں کیونکہ ماں باپ اپنی اولاد کے مزاج اور رجحانات کے اختلاف اور تنوع کو سمجھنے اور قبول کرنے کے بعد ہی اس قابل ہوتے ہیں کہ ان کی تربیت اور نشوو نما کا اہتمام کر سکیں۔

ترقی پسند دانش ور سید قربان رضا شاہ نے کہا کہ عام طور پر مارکسسٹ حلقوں کو مذہب مخالف سمجھا جاتا ہے، حالانکہ ہمارا اختلاف خدا یا رسول یا دین کے بنیادی حقائق سے متعلق نہیں بلکہ صرف معاشی وسائل کی تقسیم کے طریقے پر ہے۔ انھوں نے کہا کہ جاگیرداری ہمارے موجودہ سماجی مسائل اور رویوں کی جڑ ہے اور جب تک یہ استحصالی نظام ختم نہیں ہوگا، معاشرے میں مثبت فکر اور رویے فروغ نہیں پا سکتے۔ انھوں نے مزید کہا کہ تمام انبیا ایک ہی پیغام لے کر دنیا میں آئے اور سب انبیا کی تعلیمات انسانیت کی مشترکہ میراث ہیں، لیکن مختلف مذاہب نے مختلف پیغمبروں کو اپنے لیے مخصوص کر کے مذاہب کو جاگیریں بنا دیا ہے اور اب مذاہب کے مابین جنگ درحقیقت اپنی اپنی جاگیروں کی حفاظت کی جنگ ہے۔

ادیب اور دانش ور اسلم سراج الدین نے کہا کہ علمی دنیا میں مکالمے کی روایت کا آغاز افلاطون سے ہوتا ہے جس نے مکالمے کے ذریعے دوسروں کے خیالات اگلوانے کو بچے کی پیدائش کے عمل سے تشبیہ دی ہے اور کہا ہے کہ یہ کام اتنا ہی تکلیف دہ ہے جتنا ایک ماں کے لیے اپنے بچے کو جنم دینا۔ انھوں نے مغربی فلسفی ڈیکارٹ کے مشہور مقولے کے حوالے سے کہا کہ مکالمے کی بنیاد شک پر ہونی چاہیے اور ضروری ہے کہ آدمی خالی الذہن ہو کردوسرے کی بات سنے۔ انھوں نے قائد اعظم کی ۱۱؍ اگست کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قائد اعظم نے واضح طور پر یہ کہا تھا کہ مختلف مذاہب اپنے اپنے طریقے پر عبادت کرنے کے لیے آزاد ہیں اور ریاست کا ان معاملات سے کوئی تعلق نہیں ہوگا جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ پاکستان کو مذہبی ریاست نہیں بنانا چاہتے تھے۔

جماعت اسلامی کے راہ نما میجر (ر) ڈاکٹر عبد القیوم نے کہا کہ اسلام میں مکالمے کی بنیاد شک نہیں بلکہ یقین ہے۔ انھوں نے کہا کہ اسلام ایسے اختلاف کو پسند نہیں کرتا جو انانیت اور نفسانیت سے پیدا ہوا ہو، لیکن مثبت اور دیانت دارانہ اختلاف رائے ایک اسلامی قدر ہے اور اسلام معاشرے میں اختلاف اور تنوع کی پوری پوری حوصلہ افزائی کرتا ہے۔

ڈاکٹر صولت ناگی نے کہا کہ نظریہ پاکستان کی کوئی حقیقت نہیں اور یہ نظریہ ۱۹۵۳ء میں احمدیوں کے خلاف اٹھنے والی مذہبی تحریک کو جواز فراہم کرنے کے لیے وجود میں لایا گیا۔ انھوں نے مذہبی طبقا ت کے خیالات اور رویوں پر تنقید کی اور کہا کہ ان کے قول وفعل میں تضاد ہے، کیونکہ وہ اسلام میں اختلاف رائے کی اہمیت کی باتیں تو کرتے ہیں جبکہ ان کا عمل اس کی تائید نہیں کرتا جس کی حالیہ مثال پنجاب یونی ورسٹی میں ہونے والے واقعات ہیں۔ 

الشریعہ اکادمی کے حافظ محمد رشید نے کہا کہ مذہبی اور غیر مذہبی طبقات کے مابین بے اعتمادی کی فضا ہے اور دونوں طرف کے حضرات ذہنی طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ دوسری طرف کے حضرات کی بات کی کوئی وقعت نہیں، اس لیے اول تو ان کے درمیان مکالمہ ہی نہیں ہوتا اور اگر ہو بھی تو اس ذہنی رویے کی وجہ سے مکالمے کے حقیقی فوائد حاصل نہیں ہوتے۔

فورم میں نقابت کے فرائض نوجوان دانش ور عمران حمید ہاشمی نے انجام دیے اور اس فورم کے انعقاد پر گوجرانوالہ کے علمی وفکری حلقوں کی طرف سے منتظمین کا شکریہ ادا کیا۔

’’ماں اور نوزائیدہ بچوں کی صحت کے تحفظ میں علماء دین کا کردار‘‘

(قومی ادارہ برائے تحقیق وترقی (National Research & Development Foundation) گزشتہ کئی سال سے صوبہ سرحد اور پنجاب کے مختلف اضلاع میں تقریباً ایک ہزار علماے دین کے ساتھ مل کر ’’ماں اور نوزائیدہ بچوں کی صحت کے تحفظ‘‘ کے حوالے سے عوام الناس میں شعور وآگاہی پیدا کرنے کی ایک مہم کامیابی سے چلا رہا ہے۔ اس ضمن میں NRDF کے چیف کوآرڈی نیٹر جناب تحسین اللہ خان کی طرف سے ارسال کردہ ایک رپورٹ کے اہم نکات کا خلاصہ ان کے شکریے کے ساتھ یہاں پیش کیا جا رہا ہے۔ (مدیر))

معاصر مسلم دنیا میں ترقیاتی منصوبوں کی کامیابی کے لیے مذہبی راہ نماؤں کے اثر ورسوخ کو استعمال میں لانے کا تجربہ کم ہی کیا گیا ہے، حالانکہ مسلم عوام کی اکثریت نہ صرف مذہب سے گہری وابستگی رکھتی ہے بلکہ علما کو بھی احترام کی نظر سے دیکھتی ہے۔ عوام میں پھیلے ہوئے بہت سے غلط تصورات کا ازالہ کرنے اور مثبت رویوں کے فروغ کے لیے مساجد اور مدار س کے وسیع نظام سے اور خاص طور پر خطبات جمعہ سے موثر مدد لی جا سکتی ہے۔ 

پاکستانی معاشرے میں روزی کمانے کی ذمہ داری بنیادی طور پر مرد انجام دیتا ہے اور خواتین کی صحت وغیرہ سے متعلق امور میں فیصلے کرنے کا اختیار بھی مردوں کو ہی حاصل ہے، اس لیے خواتین اور خاص طور پر ماں اور بچے کی صحت کی صورت حال کو بہتر بنانے کی مہم میں زیادہ سے زیادہ مردوں کی شمولیت بہت اہم ہے۔ اس پس منظر میں ۲۰۰۴ء میں یونائیٹڈ اسٹیٹس ایجنسی فار ڈولپمنٹ (USAID) کے تعاون سے PAIMAN کے عنوان سے ایک منصوبہ تشکیل دیا گیا جس کا مقصد ماؤں اور نوزائیدہ بچوں کی صحت کے لیے عوام میں شعور پیدا کرنا اور اس ضمن میں سرکاری ونجی سطح پر کام کرنے والے اداروں کو ضروری سہولیات فراہم کرنا ہے۔ یہ چھ سالہ منصوبہ تھا جس کے لیے آزاد جموں وکشمیر سمیت پورے ملک سے ۲۴ ؍ اضلاع کا انتخاب کیا گیا۔ مذکورہ منصوبے کا ایک اہم حصہ یہ بھی تھا کہ پاکستان کے مذہبی راہ نماؤں کو اس پر آمادہ کیا جائے کہ وہ اپنے خطبوں اور تقریروں میں ماں اور نوزائیدہ بچوں کی صحت کے مسائل کو موضوع بنائیں اور اس سلسلے میں عوام کو راہ نمائی فراہم کریں۔ 

اس مقصد کے لیے متعلقہ علاقوں میں اہم مساجد اور مذہبی شخصیات کا انتخاب کیا گیا جبکہ قومی سطح پر معروف اور ممتاز علما پر مشتمل ایک مرکزی شوریٰ تشکیل دی گئی جو اس مہم کی نگرانی کرے۔ مختلف علما سے انفرادی طور پر ملاقات کر کے ان کے ساتھ منصوبے کی اہمیت اور اس کے خد وخال کے بارے میں گفتگو کی جاتی ہے۔ علما کو عملی شواہد کی روشنی میں ماں اور بچے کی صحت کے حوالے سے حقیقی صورت حال بتائی جاتی ہے اور انھیں آمادہ کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے خطبات اور درسوں میں ان مسائل پر گفتگو کریں اور عام لوگوں میں آگہی پیدا کریں۔ منصوبے کے نفاذ کے لیے پہلے مرحلے کے طور پر بونیر اور بالائی دیر کا انتخاب کیا گیا جہاں جون ۲۰۰۶ء سے مارچ ۲۰۰۷ء تک یہ منصوبہ جاری رہا۔ اس سے حاصل ہونے والے تجربات کی روشنی میں ڈیرہ غازی خان، خانیوال، جہلم، راول پنڈی، سوات، پشاور، ڈیرہ اسماعیل خان، چار سدہ اور مردان میں بھی اسی نوعیت کے منصوبے جاری کیے گئے۔

۲۰۰۸ء کے آخر میں اس منصوبے کے اثرات جانچنے کے لیے ڈیرہ غازی خان اور خانیوال کے ضلعوں میں ایک ریسرچ اسٹڈی کی گئی جس میں مذہبی راہ نماؤں کے رسپانس کے حوالے سے درج ذیل نتائج پیش کیے گئے ہیں: 

  • علما سماجی مسائل کو موضوع بنانے کی ضرورت کو شدت سے محسوس کرتے ہیں۔
  • علما کا عمومی خیال یہ ہے کہ کسی بھی مسئلے کو اگر قرآن وسنت کی روشنی میں فروغ دیا جائے تو علما یا عوام کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔
  • علما شروع شروع میں این جی اوز کے ساتھ تعاون کرنے سے ہچکچاتے ہیں، کیونکہ انھیں خدشہ ہوتا ہے کہ یہ تنظیمیں مغربی ایجنڈے کو فروغ دے رہی ہیں۔
  • علما کا اس پرعمومی اتفاق ہے کہ عوام تک کوئی پیغام پہنچانے کے لیے جمعے کے خطبات بہترین ذریعہ ہیں۔

ڈاکٹر عبد الماجد المشرقی کے لیے ’’قلم کا مزدور‘‘ ایوارڈ

یکم مئی کو الحمرا ہال نمبر ۲ لاہور میں پاکستان رائٹرز گلڈ کے زیر اہتمام ایک تقریب منعقد ہوئی جس میں پاکستان کے چاروں صوبوں سے تعلق رکھنے والے قلم کاروں کو ’’قلم کا مزدور‘‘ کے عنوان سے ایوارڈ دیے گئے۔ پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر رفیق احمد بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے اور قلم کاروں کو ایوارڈ تقسیم کیے۔ صوبہ پنجاب سے اس ایوارڈ کا مستحق گوجرانوالہ کی معروف علمی وتعلیمی شخصیت ڈاکٹر عبد الماجد المشرقی (پرنسپل مشرق سائنس کالج) کو قرار دیا گیا اور ’’قلم کا مزدور‘‘ ایوارڈ اور سر ٹیفکیٹ کے علاوہ انھیں دو لاکھ روپے نقد بھی پیش کیے گئے۔

الشریعہ اکادمی