اتحادِ تنظیمات مدارس دینیہ اور حکومت کا نیا معاہدہ

مولانا مفتی محمد زاہد

اخباری اطلاعات کے مطابق دینی مدارس کے پانچوں وفاقوں کو تعلیمی بورڈز کا درجہ دینے کا فیصلہ آخری مراحل میں ہے۔ اتحادِ تنظیماتِ مدارسِ دینیہ کے نمائندوں نے بھی اس پر اصولی آمادگی ظاہر کردی ہے ۔ چونکہ اس منصوبے کو ابھی حتمی شکل بھی نہیں ملی بلکہ کئی ایشو ابھی طے ہونا باقی ہیں، اس لیے فی الحال اس منصوبے پر کوئی حتمی تبصرہ کرنا تومشکل ہے تاہم موضوع چونکہ پر انا ہے اس لیے کچھ طالب علمانہ گذارشات پیشِ خدمت ہیں۔

کسی بھی موضوع پر کوئی پالیسی وضع کرتے ہوئے ضروری ہوتاہے کہ اس پالیسی سے متاثر ہونے ہونے والے یا اس سے تعلق رکھنے والے تمام حلقوں اور stake holders میں اس پر مباحثہ اور ڈسکشن ہو۔ دینی مدارس کے متعلقہ فریق طور پر تین ہیں۔ ہر ایک کے اپنے اپنے concerns ہیں۔ سب سے پہلا فریق دینی مدارس کے اندر کے لوگ ہیں جن میں وہاں کے منتظمین ، اساتذہ اور طلبہ شامل ہیں۔ ان کے نزدیک ان مدارس کا بنیادی مقصد ایسے افراد تیار کرنا ہے جو علومِ دینیہ سے گہری وافقیت رکھتے ہوں، ان علوم میں تدریس، تحقیق وتصنیف، وعظ ونصیحت اور دعوت وتبلیغ جیسی سرگرمیوں کے ذریعے لوگوں کی دینی ضروریات بھی پوری کرسکیں اور ان علوم کو اگلی نسلوں تک منتقل بھی کرسکیں۔ دوسرا اہم فریق مسلمان معاشرہ ہے۔ یہ بھی اس موضوع کا بہت اہم فریق ہے، اس لیے کہ اسی کی مالی اور اخلاقی مدد کے ذریعے یہ مدارس چل رہے ہیں، اس لیے کوئی بھی پالیسی وضع کرتے ہوئے اس امر کو پیش نظر رکھنا انتہائی ضروری ہے کہ سوسائٹی ان مدارس سے کیا توقعات رکھتی اور کس طرح کے نتائج چاہتی ہے۔ سوسائٹی کی ضرورت یا ان کی توقعات کو دیکھا جائے تو اسے چند نکات میں اختصار کے ساتھ بیان کیا جاسکتاہے۔ 

پہلی بات تو یہ کہ دینی رسوم وعبادات کی ادائیگی کے لیے انہیں کوالیفائڈ افراد کی ضرورت ہے۔ انہیں ضرورت ہے ایسے لوگوں کی جو انہیں نمازیں پڑھا سکیں، اذانیں دے سکیں، بچوں کو قرآن اور بنیادی دینی امور کی تعلیم دے سکیں، جنازہ پڑھا سکیں، وغیرہ وغیرہ ۔ دوسری بات یہ کہ کچھ لوگ ایسے ہوں جو اس سے ذرا آگے بڑھ کر زندگی کے روز مرہ پیش آنے حالات و واقعات کے بارے میں دینی تعلیمات کی روشنی میں راہ نمائی کرسکیں اور کچھ لوگ ایسے بھی ہوں جو نئے حالات کے مطابق اجتہادی بصیرت سے کام لے سکیں۔ تیسری بات یہ کہ ریاست سے لے کر عام معاشرے تک میں دین کی تنفیذ کے سلسلے میں تحقیقی کام اور تجاویز پیش کرسکیں اور یہ بات ثابت کرسکیں کہ زندگی کے جس شعبے کے متعلق بھی اسلامی تعلیمات ہیں، وہ آج بھی نہ صرف یہ کہ قابلِ عمل ہیں بلکہ کسی بھی اور نظام کی تعلیمات سے بہتر ہیں۔ چوتھی بات یہ کہ ہر مسلمان کی یہ خواہش ہے کہ اسلام کا پیغام غیر مسلموں تک بھی پہنچے اور اس سے متاثر ہو کر اسے قبول بھی کرسکیں۔ اس سلسلے میں کچھ ذمہ داری تو ہر مسلمان پر عائد ہوتی ہے، لیکن ایسے علما کی بھی ضرورت ہے جو ہر طبقے کے لوگوں تک دین کا پیغام ان کے لیے قابلِ فہم زبان میں قابلِ قبول انداز میں پیش کرسکیں اور اسلامی تعلیمات پر پیدا کیے جانے والے شکوک وشبہات کا تسلی بخش انداز میں جواب دے سکیں۔ پانچویں بات یہ ہے کہ ان مدارس سے ایسے لوگ پیدا ہوں جو سماج دوست ہوں، سوسائٹی کے خلاف نفرت رکھنے والے، اس کے خلاف یا اس کے درمیان نفرت پھیلانے والے نہ ہوں۔ وہ سماج میں پائی جانے والی خامیوں کی نشان دہی ضرور کریں، لیکن دوستانہ انداز اور اپنائیت کے رنگ میں، جس سے یہ محسوس ہو کہ یہ خود کو بھی اسی سوسائٹی کا حصہ سمجھتے اور اس کے دکھ درد اور امنگوں میں شریک ہیں، نہ کہ خدا کی طرف سے ان کے اوپر مسلّط کردہ کوئی بالائی مخلوق ہیں۔

میرے خیال میں دینی مدارس کے بارے میں بنیادی فریق یہی دو ہیں، یعنی خود یہ دینی مدارس اور پبلک۔ انہی کے باہمی تعاون اور مشترکہ کاوشوں سے یہ مدارس چل رہے ہیں۔ان دو کے بعد تیسرا فریق ریاست پاکستان ہے۔ ریاست پاکستان کی بنیادی حیثیت اس لیے نہیں ہے کہ یہ مدارس عموماً اس سے براہِ راست کوئی مالی تعاون وغیرہ حاصل نہیں کررہے، تاہم متعدد پہلوؤں سے ریاست کا بھی اس معاملے میں کردار بنتاہے۔ ایک تو اس وجہ سے کہ یہ مدارس جن کی یہاں بات کی جارہی ہے، وہ پاکستان کی حدود کے اندر واقع ہیں اور ریاست کی یہ ذمہ داری اور اس کا یہ حق ہے کہ وہ اپنی حدود میں واقع ہونے والی سرگرمیوں سے ایک حد تک آگاہ رہے۔ یہ بھی پاکستان جیسی دیگر جمہوری ریاستوں کاان مدارس کے حوالے سے مثبت کردار ہے کہ انہوں نے اپنے ہاں اس طرح کے آزاد دینی مدارس کو چلنے دیا ہے، وگرنہ کئی مسلم اور غیر مسلم ملک ایسے ہیں جہاں اس طرح کے مدارس کے قیام کا خواب دیکھنابھی مشکل ہے۔ 

دو چیزوں نے حکومت پاکستان کی وساطت سے ریاست کا کردار بڑھا دیا ہے۔ ایک تو دینی مدارس میں دی جانے والی تعلیم کا حکومتی سطح پر اعتراف اور اس کی recognition کا مسئلہ ہے کہ دینی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی اسناد کو حکومتی اور ریاستی ادارے بھی تسلیم کریں۔ ظاہر ہے کہ کوئی بھی حکومت جس حد تک وہ اس تعلیم کے تحت دی جانے والی اسانید کو تسلیم کرے گی، اسی حد تک وہ اپنے مطالبات (demands) اور متطلبات (requirements) بھی پیش کرے گی۔ یہ چیز بہت مشکل ہے کہ کسی سے آپ کچھ لیں تو سہی اس کے بدلے میں دینا کچھ نہ پڑے ۔ نیز ہر ریاست کا ایک عمومی نظامِ تعلیم اور تعلیمی پالیسی ہوتی ہے، کسی تعلیم کے تحت دی گئی اسناد کو ریاستی سطح پر تسلیم کرنے کے لیے اس نظام اور عمومی پالیسی سے استثناء ات ایک خاص حد تک ہی مل سکتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہہ لیجیے کہ یہ بات انتہائی بعید ہے کہ آپ یہ خواہش تو کریں کہ آپ کی تعلیم کو کسی ملک کا عمومی تعلیمی دھارا تسلیم کرے، لیکن آپ اس عمومی دھارے کا حصہ بننے یا اس کے خد وخال کو کسی بھی درجے میں قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہوں۔

ریاست کی دینی مدارس کے ساتھ دلچسپی کی دوسری وجہ موجودہ مخصوص حالات کی پیدا کردہ ہے۔ بوجوہ کچھ تو یہ تاثر پیدا ہوگیا ہے اور کچھ پیدا کردیا گیا ہے کہ یہ مدارس ایک سیکورٹی رسک بن چکے ہیں۔ اس وقت بظاہر یہی تاثر حکومت کو اس معاملے میں متحرک اور فعال کیے ہوئے ہے جس کی سب سے واضح علامت یہ ہے کہ اس سارے معاملے کو بنیادی طور پر وزیر داخلہ ڈیل کر رہے ہیں۔ نیز اب تک اس معاملے پر نہ تو اہل مدارس کو کسی سطح پر مشاورت میں شامل کیا گیا ہے اور نہ ہی عمومی ملک کے اکادیمی حلقوں (academia) میں اس پر کوئی خاص مباحثہ ہوا ہے اور یہ سب کچھ ایسے وقت میں سامنے آیا کہ جبکہ حکومت پاکستان کے امریکا کے ساتھ سٹریٹیجک مذاکرات کا نیا دور واشنگٹن میں ہونے والا تھا۔ ان ساری باتوں کو ملانے سے بظاہر یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ حالیہ دنوں میں جو پیش رفت ہوئی ہے، یہ تعلیمی سے زیادہ انتظامی اقدام ہے، اس لیے اسے ڈیل بھی وہ وزارت کررہی ہے جس کا بنیادی کام’’ شرارتی بچوں‘‘ کو ٹھیک کرنا ہے۔ کیا واقعتا دینی مدارس اپنی یہ حیثیت تسلیم کرنے کے لیے تیا ر ہوجائیں گے؟ 

چوتھا فریق جس کا اصولی طور پر بذاتِ خود اس معاملے میں کوئی کردار نہیں بنتا، لیکن معروضی حالات نے اسے رائے زنی کا موقع فراہم کردیا ہے بلکہ اس معاملے میں خاصا فعال ہے، وہ ’’بین الاقوامی برادری‘‘ نام کی کوئی چیز ہے جس کی سب سے زیادہ نمائندگی بلکہ ٹھیکہ داری کا دعویٰ امریکا کو ہے۔ بین الاقوامی برادری کی اس موضوع سے دلچسپی کی نوعیت دفعِ مضرت کی ہے، یعنی بقول ان کے انہیں ان مدارس اور ان کی تعلیم سے کچھ نقصانات کے اندیشے اور اس کے بارے میں کچھ تحفظات ہیں۔ بین الاقوامی برادری کے یہ خدشات، ریاست پاکستان کے سکیورٹی کے حوالے سے خدشات اور ان مدارس سے وابستہ عوامی توقعات کے اوپر ذکر کردہ پانچواں نکتہ، یہ تینوں چیزیں آپس میں بہت حد تک رل مل گئی ہیں۔ ان تینوں پہلوؤں سے مدارس کی طرف اٹھنے والی انگلیاں خواہ حقائق پر مبنی ہوں یا محض تاثرات پر، بہر حال اہل مدارس کو چاہیے کہ وہ اپنے طور پراس معاملے کو حقیقت پسندانہ انداز سے سنجیدگی کے ساتھ لیں۔ جہاں واقعتا اپنی کوتاہی ہو، اسے تسلیم کرکے اپنے طور پر اس کی اصلاح کی کوشش کریں اور جو محض غلط تاثر ہو، اسے زائل کرنے کی کوشش کریں۔ تاہم دینی مدارس کے معاملات کی اکادیمی نوعیت کو بالکلیہ نظر انداز کرکے انہیں محض سیکورٹی کے نقطۂ نظر سے لیا جانا اور ان کے معاملے کو سیکورٹی رسک کے انداز سے ڈیل کیا جانا یا اس کا تاثر پیدا ہونا کسی طور پر بھی خوش گوار منظر نہیں ہے۔

اس تمہید کے بعد اب ہم بات کرتے ہیں اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ کے ذمہ داران اور وزیرِ داخلہ کے درمیان طے پانے والے معاہدے کی۔ اس موقع پر یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ دینی مدارس میں جدید علوم کی تدریس ہونی چاہیے یا نہیں۔ راقم الحروف دینی مدارس میں بعض عصری علوم کی تدریس سمیت ان مدارس کے نصاب ونظام میں متعدد تبدیلیوں کا قائل ہے، لیکن ایسی تبدیلیاں جن میں بنیادی طور پر پہلے دو فریقوں (دینی مدارس کے اندر کے لوگ اور سوسائٹی) کے مقاصد اور امنگوں کو پیشِ نظر رکھا جائے، بہر حال یہ الگ موضوع ہے، لیکن اس وقت اصل موضوع یہ نہیں ہے۔ اس وقت جو بات چل رہی ہے، وہ وفاقوں کی اسنادکے سرکاری سطح پر اعتراف (recognition) کے تناظر میں ہے۔ ان وفاقوں کی طرف سے جاری ہونے والی آخری اسانید کو تو پہلے ہی بعض قیود کے ساتھ ایم اے کے برابر تسلیم کیا جاچکاہے۔ تحتانی اسناد کا مسئلہ کافی عرصے سے معلق تھا، اس لیے کہ ایک آدمی ماسٹر تو ہو لیکن میٹرک، انٹر اور گریجویشن کی سطح کی سند اس کے پاس موجود نہ ہو تو یہ صورتِ حال اس کے لیے کئی مشکلات کا باعث بنتی ہے۔ اس وجہ سے عرصے سے یہ مطالبہ چلا آرہا تھاکہ وفاقوں اور چند اداروں کی طرف سے جاری کردہ آخری سند کے علاوہ تحتانی اسناد کو بھی تسلیم کیا جائے۔ اس سلسلے میں ایک تجویز یہ بھی تھی کہ ان پانچوں وفاقوں کو تعلیمی بورڈز کا درجہ دیا جائے اور اس طرح سے ان کی جاری کردہ سند دیگر سرکاری بورڈز کی جاری کردہ میٹرک اور انٹر کی سند کی طرح مقبول ہو۔ اب اسی تجویز کو کچھ پذیرائی ملی ہے اور اسی تسلسل میں مذکورہ معاہدہ طے پایا ہے۔ 

اس سلسلے میں پہلی گذارش تو یہ ہے کہ دینی تعلیم حاصل کرنے والے لوگ دو طرح کے ہوتے ہیں ۔ ایک وہ ہیں جن کا خیال ہوتاہے کہ ہمیں اپنی تعلیم کی سرکاری سطح پر کسی اعتراف کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے نہ تو مزید تعلیم کے لیے سرکاری اداروں میں داخلہ لینا ہوتاہے اور نہ ہی کہیں ملازمت کے لیے درخواست دینی ہوتی ہے، چنانچہ خود وفاقوں سے ملحق مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والوں میں اس ذہن کے بے شمار لوگ مل جائیں گے۔ اس کے علاوہ کئی دینی مدارس بلکہ دینی تعلیم کے نیٹ ورک ایسے موجود ہیں جو یا تو سرے سے سند جاری ہی نہیں کرتے یا ان کی سند کسی سطح پر تسلیم شدہ نہیں ہے۔ اس میں مثال کے طور پر تبلیغی جماعت کے تحت چلنے والے نیٹ ورک کو پیش کیا جاسکتا ہے۔ اس نیٹ ورک کے تحت تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی تعداد اتحادِ تنظیمات میں شامل متعدد وفاقوں سے زائد ہوگی۔ ظاہر ہے کہ جو لوگ اس ذہن سے تعلیم حاصل کررہے ہیں، ان کا یہاں کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔ دوسرے وہ لوگ ہیں جن کا خیال ہوتا ہے کہ ہم اگر دینی تعلیم بھی حاصل کریں تو وہ ایسی ہو کہ اس کی بنیاد پر دینی مدارس ومساجد کے علاوہ بھی کسی میدان میں جا سکیں، مثلاً سرکاری محکموں یا اداروں میں ملازمت حاصل کرسکیں، مزید اعلیٰ تعلیم کے لیے سرکاری جامعات میں انہیں داخلہ مل سکے۔ آج جبکہ دینی مدارس سے فارغ التحصیل ہونے والوں کی تعداد مدارس ومساجد کی ضروریات سے کہیں زیادہ ہے۔ ایسے میں یہ خواہش یا سوچ اتنی غلط بھی نہیں ہے، البتہ اس کے طریق کار کے بارے میں بات کی جا سکتی ہے۔ 

آخری سند کا مسئلہ تو اکثر وفاقوں اور بعض مدارس ( جو ۸۰ء کی دہائی میں جنرل ضیاء الحق مرحوم کے زیادہ قریب تھے) کی حد تک حل شدہ ہے، اس لیے کہ ایچ ای سی نے ان کی عالمیہ کی سند کو ایم اے (سولہ سالہ) کے برابر تسلیم کر رکھا ہے۔ اب مسئلہ صرف اس سے نیچے کا ہے ۔ اس سلسلے میں راقم الحروف کا نقطہ نظر جس کا اظہارپہلے بھی کرچکاہے، یہ ہے کہ دینی تعلیم حاصل کرنے والوں کو اول تو یہ طے کرنا چاہیے کہ وہ کس نقطہ نظر سے یہ تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ اگر پہلا نقطۂ نظر اختیار کرکے تعلیم حاصل کررہے ہیں تو ظاہر ہے کہ انہیں اپنی سند کے اعتراف کا خیال ہی دل سے نکال دینا چاہیے، جیساکہ تبلیغی جماعت کے نیٹ ورک کی صورتِ حال ہے۔ اور اگر دوسرا نقط نظر ہے اور دینی تعلیم حاصل کرنے والے یہ چاہتے ہیں کہ ان مدارس ومساجد کی لائن سے باہر بھی وہ خود کو میٹرک، ایف اے یا گریجویٹ منوائیں تو اس کے لیے حکومتوں سے مختلف قسم کی رعایتوں اور اعتراف کی بھیک مانگنے کی بجائے ذراہمت اور جرأت سے کام لے کر وہی راستہ اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے جو اس مقصد کے لیے پاکستان کا عام شہری اختیار کرتا ہے۔ یعنی اسے اس میدان میں through proper channel آنا چاہیے۔ مثال کے طور پر اگر کسی جگہ داخلے یا کسی ملازمت کے لیے میٹرک کی شرط ہے تو بجائے کہ اس کے کہ دینی مدرسے کا پڑھا ہوا درخواست کرے کہ میری ثانویہ عامہ کی سند کو میٹرک کے برابر تسلیم کیا جائے، اس کے لیے زیادہ بہتر ہوگا کہ وہ بھی اسی راستے سے میٹرک کی سند لے کر آئے جس راستے سے باقی امیدوار لے کر آئے ہیں۔ یہی بات انٹر اور بیچلر وغیرہ کے بارے میں بھی کہی جاسکتی ہے۔ اس صورت میں چونکہ وہ کوئی رعایت نہیں لے رہا ہوگا، اس لیے اس میں خود اعتمادی بھی زیادہ ہوگی اور مستقبل میں پیش آنے والی کئی پیچیدگیوں سے بچ بھی جائے گا۔ اور یہ کام ایسا نہیں ہے جو ناممکن ہو۔ ڈاکٹر محمود احمد غازی مرحوم ، ڈاکٹر محمد الغزالی ، ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی، ڈاکٹر علی اصغر چشتی، ڈاکٹر محمود الحسن عارف ، بریگیڈیئر (ر) ڈاکٹر فیوض الرحمن ، ڈاکٹر خالد علوی مرحوم ، پروفیسر انوار الحسن شیرکوٹی مرحوم وغیرہ ناموں کی ایسی طویل فہرست پیش کی جاسکتی ہے جنہوں نے درسِ نظامی کی تعلیم اس زمانے میں حاصل کی جب کہ اس کی کسی سند کے اعتراف کا کوئی تصور نہیں تھا۔ اس کے باوجود انہوں نے عصری جامعات یا سرکاری اداروں میں نہ صرف اپنی جگہ بنائی بلکہ ان میں اعلیٰ مناصب پر بھی پہنچے اور اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ یہ سب کے سب عام راستہ اختیار کرکے ہی یہاں پہنچے ہیں، کسی مدرسے کی سند کی بنیاد پر کوئی رعایت حاصل کرکے نہیں۔ ایسے نوجوانوں کی فہرست تو بہت طویل ہوگی جنہوں نے بی اے تک کے امتحانات تو عام نظام کے تحت دیے اور اس کے بعد وفاق کی سند کے ایم اے کے ساتھ معادلے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے لیے راہ بنائی ۔ 

حالیہ معاہدے کے ذریعے دینی مدارس کے طلبہ کو کیا فائدہ ہوسکتا ہے، اس کا جائزہ لینے سے پہلے یہ ذہن میں رہنا ضروری ہے کہ اس مقصد کے حصول کے متبادل کیا راستے موجود ہیں ۔ اس وقت عملی صورتِ حال یہ ہے کہ دینی مدارس میں درسِ نظامی میں داخلہ لینے والوں کی خاصی تعداد ایسی ہے جو میٹرک یا اس سے اوپر کی تعلیم عام عصری اداروں میں حاصل کرکے آئی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اس وقت متعدد مدارس ایسے ہیں جنہوں نے اپنے طلبہ کو خود میٹرک تک تعلیم دینے کا انتظام بھی کیا ہواہے اور یہ طلبہ اپنے اپنے علاقوں کے سرکاری بورڈز سے نہ صرف امتحان دے رہے ہیں بلکہ کئی اپنے اپنے بورڈز میں نمایاں پوزیشنیں بھی حاصل کررہے ہیں۔ مزید برآں ان مدارس میں خاصی تعداد ایسے طلبہ کی بھی ہے جو اپنے طور پر تعطیلات میں یا چھٹی کے اوقات میں تیاری کرکے میٹرک ، انٹر اور بی اے کے امتحانات دے لیتے ہیں اور انہوں نے چونکہ اسی نظام کے تحت یہ امتحانات دیے ہوتے ہیں جس کے تحت کوئی اور نوجوان امتحان دے کر آیا ہوتاہے، اس لیے وہ نہ تو کسی کے زیرِ بارِ احسان ہوتے ہیں ، نہ انہیں کسی سے مذاکرات یا لجاجت کی ضرورت ہوتی ہے۔ ماسٹر لیول سے نیچے کی اسناد کا ایک حل تو یہ ہے جو محض تجویز نہیں ہے بلکہ وسیع پیمانے پر اس پر عمل ہورہا ہے۔ چونکہ ان مداس میں بڑی تعداد میں طلبہ میٹرک کرکے آتے ہیں، کئی مدارس نے خود میٹرک تک تعلیم شروع کر رکھی ہے، اس لیے میٹرک کی حد تک تو سمجھنا چاہیے کہ مسئلہ تقریباً حل شدہ ہے۔ اس سے اوپر چونکہ ریاضی لازمی مضامین میں شامل نہیں ہے، ان میں انگریزی ، مطالعۂ پاکستان اور اسلامیات لازمی ہوتے ہیں، اس لیے ان امتحانات میں کامیاب ہونا طلبہ کے لیے میٹرک کے مقابلے میں بہت آسان ہے۔ اگر مدارس چاہیں تو ان امتحانات کو کسی حدتک اپنے نظام کے اندر بھی جگہ دے سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر درجہ ثالثہ میں منطق کی کتاب شرح تہذیب کی بجائے انٹر کی انگریزی پڑھادیں تو طلبہ کے لیے انٹر کے امتحان میں بہت آسانی ہوجائے گی۔ اس کے علاوہ وہ اگر چاہیں تو اسلامیات اختیاری، عربی، فارسی، ایجوکیشن اور سوکس جیسے آسان مضامین رکھ کر بہت اچھے نمبروں میں کامیاب ہوسکتے ہیں اور اگر چاہیں تو معاشیات وغیرہ ذرا مشکل مضمون رکھ کر اپنی معلومات اور استعداد میں اضافہ بھی کرسکتے ہیں اور اگر کوئی مدرسہ یا اس کے طلبہ یہ محسوس کریں کہ ہم نے روایتی درسِ نظامی ہی کی تعلیم حاصل کرنی ہے، اس کے ساتھ کوئی پیوند کاری نہیں کرنی، ان کے لیے یہ راستہ بھی کھلا رہے گا۔

دوسرا راستہ وہ ہے جس کا آغاز علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی نے اس زمانے میں کیا تھا جب ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی وہاں کلیہ علومِ اسلامیہ کے ڈین تھے۔ وزارتِ تعلیم اور وفاق المدارس العربیہ کے نمائندے اس میں شامل تھے۔ خود حضرت مولانا سلیم اللہ خاں صاحب مدظلہم اور مولانا قاری محمد حنیف جالندھری نے اس کے متعدد اجلاسوں میں شرکت کی۔ بعض اجلاسوں میں حضرت مولانا فضل الرحیم، حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی اور حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی بھی شریک ہوئے۔ اس کے مطابق یہ طے کیا گیا کہ جس طرح آرٹس گروپ ، سائنس گروپ ، کامرس گروپ وغیرہ ہوتے ہیں، اسی طرح میٹرک سے لے کر بی اے کی سطح تک درسِ نظامی گروپ کا آغاز کیا جائے ۔ چنانچہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اور وزاتِ تعلیم دونوں نے اسے منظور کیا اور یونیورسٹی اور بعض سرکاری بورڈز نے اس پر عمل درآمدبھی شروع کیا۔ اس اسکیم کا لب لباب یہ ہے کہ میٹرک ، انٹر اور بی اے کی سطح تک لازمی مضامین مثلاً انگریزی ، مطالعۂ پاکستان کے علاوہ درسِ نظامی ہی کے بعض مضامین کا ان طلبہ سے امتحان لے لیا جائے، مثلاً انٹر کی سطح کی انگریزی ، مطالعۂ پاکستان اور اسلامیات لازمی کے علاوہ ثانویہ خاصہ ہی کے بعض مضامین کا ان سے امتحان لے لیا جائے اور انہیں باقاعدہ اوپن یونیورسٹی یا سرکاری بورڈ سے ایف اے کی سند جاری کردی جائے۔ ثانویہ خاصہ کے یہ مضامین چونکہ انہوں نے پڑھے ہوئے ہوتے ہیں، اس لیے ان کے لیے دیگر اختیاری مضامین کے مقابلے میں آسانی ہوگی۔ اُس وقت صدرِ وفاق حضرت مولانا سلیم اللہ خاں صاحب نے مدارس کو اس سکیم کا حصہ بننے سے منع فرمادیا تھا، تاہم پرائیویٹ طور پر بڑی تعداد میں طلبہ اس اسکیم سے فائدہ اٹھاتے رہے ہیں۔ ( تازہ ترین صورتِ حال کا مجھے علم نہیں ہے)۔

تیسرا راستہ اس سلسلے میں یہ ہے کہ طالب علم میٹرک یا انٹر کے صرف لازمی مضامین کا امتحان دے ، میٹرک کے ساتھ کسی وفاق کی ثانویہ عامہ کی سند اور انٹر کے ساتھ ثانویہ خاصہ کی سند لگا کر اسلام آباد میں واقع انٹر بورڈ چئیر مین کمیٹی سے، جسے ہم سمجھنے میں آسانی کے لیے عصری بورڈز کا وفاق کہہ سکتے ہیں، میٹرک یا انٹر کے ساتھ معادلے کا سرٹیفکیٹ حاصل کرلے۔ ایک عرصے تک طلبہ اس سہولت سے بھی فائدہ اٹھاتے رہے ہیں، تازہ ترین صورتِ حال کا علم نہیں ۔ تاہم یہ راستہ اگر آج کل دستیاب نہیں ہے تو اس کی بحالی کی کوشش نسبتاً آسان ہے۔

جو طالب علم درسِ نظامی کی تعلیم کے بعد کسی اور لائن کی طرف جانا چاہتا ہے، اس کے لیے یہ تین راستے تو پہلے سے موجود ہیں جن میں سے سب مؤثر اور قابلِ اعتماد پہلا راستہ ہے اور جیسا کہ عرض کیا وہ اتنا مشکل بھی نہیں ہے۔ ان کے ہوتے ہوئے وفاقوں کو بورڈز کا درجہ دیے جانے کی صورت میں ایک چوتھا راستہ سامنے آجائے گا ، لیکن کیا اس سے دینی مدرسے کے طالب علم کوئی بہت بڑا فائدہ یا سہولت حاصل ہوگی اور اس سہولت کی قیمت ان وفاقوں اور مدارس کو کیا ادا کرنی پڑے گی، اس بات پر تمام وفاقوں اور اہلِ مدارس کو بہت ہی سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ یہ بات تو پہلے تین راستوں اور اس نئے راستے میں قدرِ مشترک ہے کہ جو طالب علم میٹرک ، انٹر یا بی اے کی سند حاصل کرنا چاہتاہے، اسے اس مرحلے کے لازمی مضامین کا امتحان بہر صورت دینا ہوگا۔ لازمی مضامین سے چھوٹ تو کسی صورت میں نہیں مل سکتی، زیادہ سے زیادہ یہ ہوگا کہ نئے سیٹ اپ میں لازمی عصری مضامین کا امتحان خود وفاق لے گا اور وفاق کے باقی مضامین میٹرک، انٹر وغیرہ کے اختیاری مضامین کے قائم مقام ہوجائیں گے۔ لیکن اس میں پہلا سوال تو یہ ہے کہ طالب علم کے لیے اصل مشکل تو لازمی مضامین ہی ہوتے ہیں۔ ان کو پڑھنے اور پاس کرنے کے بعد ہاتھی نکل جاتاہے، صرف دُم ہی رہ جاتی ہے،اس دُم کے لیے اسے کسی خاص رعایت اور مہربانی کی ضرورت بھی ہے یا نہیں، اس لیے کہ عام بورڈز میں بھی ایسے اختیاری مضامین موجود ہیں جن میں دینی مدرسے کا طالب علم بہت ہی سہولت کے ساتھ کامیابی حاصل کرسکتاہے، جیسے انٹر کی سطح پر عربی اور اسلامیات اختیاری وغیرہ ( اس عربی سے واقعتا طالب علم کی عربی استعداد میں بھی اضافہ ہوتاہے)۔ تو ایسے میں ایک طالب علم کے لیے وفاق کی جاری کردہ میٹرک اور انٹر کی سند میں زیادہ کشش ہوگی یا کسی سرکاری بورڈ کی سند میں؟ اس لیے کہ وفاق لازمی مضامین کے نصاب اور امتحان میں نرمی برتتاہے تو سند کی وقعت ویسے ہی گر جائے گی ، اور اگر پورا معیار برقرار رکھتا ہے (جس کے بارے میں وفاقوں کی صلاحیت تا حال سوالیہ نشان ہے) تو تب بھی ’’ مولویانہ میٹرک‘‘، ’’ مولویانہ ایف اے‘‘ اور ’’ عام میٹرک‘‘، ’’عام ایف اے‘‘ کا تاثر باقی رہے گا ۔ کیا کسی طالب علم کے لیے اس بات میں کشش ہوگی کہ وہ اتنی ہی محنت کرکے عام میٹرک یا انٹر کی بجائے ’ مولویانہ ‘‘ میٹرک یا ’مولویانہ‘ انٹر کی سند حاصل کرے؟ حاصل یہ کہ ایک طالب علم کے لیے اس نئے مجوّزہ سسٹم کے اندر کوئی بڑا ریلیف موجود نہیں ہے۔ البتہ اس سے اس کے لیے متعدد پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی ہیں ، مثلاً یہ کہ اگر ایک طالب علم ایک طرف وفاق کے تحت ثانویہ عامہ کرنا چاہتاہے، لیکن دوسری طرف وہ میٹرک عام سرکاری بورڈ کے تحت کرنا چاہتاہے تو چونکہ وفاق بھی ایک تعلیمی بورڈ ہی ہوگا، اس لیے دونوں طرف امتحان دینے میں ڈبل انرولمنٹ کا مسئلہ رکاوٹ بن جائے گا۔

یہ تو تھا دینی مدرسے کے ایک طالب علم کے نقطہ نظر سے جائزہ ۔ خود مدارس پر اس کاکیا اثر مرتب ہوگا، تو بظاہر یہ نظر آرہا ہے کہ مذکورہ معمولی سے فائدے، جس کے متعدد متبادل پہلے ہی سے موجود ہیں، کے بدلے میں وفاقوں یا دینی مدارس کو مندرجہ ذیل چیزیں قبول کرنا پڑیں گی جنہیں قبول کرنے کے لیے وہ ابھی تک تیار نہیں تھے ۔

(۱)وفاقوں کی نصاب کمیٹیوں میں دو دو سرکاری نمائندے شامل ہوں گے۔ اگرچہ ابتدا میں یہی کہا جائے گا کہ وہ صرف عصری مضامین کے بارے میں رائے دینے کے لیے ہیں، لیکن آگے کیا ہوتاہے، اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

(۲)پانچوں وفاقوں کے معیارِ تعلیم ، نصابِ تعلیم اور معیارِ امتحان میں یکسانیت کے لیے ان کے اوپر ایک ادارہ قائم ہوگا جس کی تشکیلی صورت (composition) تادمِ تحریر مبہم ہے۔ واضح رہے کہ طے شدہ معاہدے یا مفاہمت کی یادداشت میں میں باقی شقوں میں تو عصری تعلیم کا ذکر ہے، لیکن اس مشترکہ ادارے جو بظاہر اس پورے معاہدے کا کسٹوڈین اور نگران ہوگا، کے لیے معاہدے میں عصری تعلیم کی قید کی بجائے صرف معیار تعلیم اور نصابِ تعلیم جیسے الفاظ مذکورہیں جس میں بظاہر پوری کی پوری تعلیم داخل ہے۔ اس طرح کا ادارہ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ ( جسے مدارس پہلے رد کرچکے ہیں) سے کتنا مختلف ہوگا، ایسے ادارے کا وفاقوں اور مدارس میں کردار کتنا مفید یا مضر ہوگا اور وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ یہ کردار کم ہوگا یا بڑھے گا، یہ اہم سوال ہے ۔ 

(۳)سب سے اہم بات یہ ہے کہ ملک میں قائم ہونے والی کسی بھی تنظیم کو سوسائٹیز ایکٹ ۱۸۶۰ء کے تحت اپنی رجسٹریشن کرانے کا حق حاصل ہوتاہے، لیکن عرصے سے مدارس کی رجسٹریشن رکی ہوئی تھی۔ بار بار کے مطالبے کے بعد رجسٹریشن کا سلسلہ ۲۰۰۵ء میں شروع تو ہوا، لیکن دودھ میں مینگنیاں ڈال کر ۔ اس طرح سے کہ مدارس کی رجسٹریشن کے لیے اسی ایکٹ میں ایک ترمیمی آرڈیننس جاری کیا گیا اور مدارس کی صرف اس ترمیمی آرڈیننس کے مطابق رجسٹریشن شروع کرنے کا اعلان کیا گیا۔ حالانکہ یہ قانون بالکل امتیازی تھا ، شاید ابتدا میں وفاق المدارس نے اسے مسترد کرنے کا اعلان بھی کیا تھا، تاہم بعد میں شاید معمولی رد وبدل کے بعد اس کے تحت رجسٹریشن کرانا قبول کرلیا گیا تھا۔ اس امتیازی قانون کے خلاف بآسانی عدلیہ کا دروازہ کھٹکھٹایا جاسکتا تھا، اس لیے کہ یہ ترمیم امتیازی ہونے کے ساتھ اصل قانون کے مقاصد اور اس کے عمومی مزاج سے بالکل میل نہیں کھاتی (اس نکتے تفصیل کا یہاں موقع نہیں) لیکن ایک فوجی آمر کی موجودگی کی وجہ سے اُس وقت کی عدلیہ سے کوئی توقع نہیں کی جاسکتی تھی، اس لیے خیال تھا کہ شاید بدرجۂ مجبوری خاموشی اختیار کرلی گئی ہے، مناسب وقت پر اس امتیازی قانون کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے گی ۔ لیکن عدلیہ کی آزادی اور فوجی آمریت کے خاتمے کے بعد نامعلوم کسی نے اس کی ضرورت کیوں محسوس نہیں کی۔ اب وفاقوں کو بورڈز کا درجہ دیے جانے ( جس کے فوائد جیساکہ عرض کیا گیا بہت محدود ہیں )کے عوض خود اتحادِ تنظیمات نے مدارس کے خلاف اس امتیازی قانون کو قبول کرنے کا تحریری معاہدہ کرلیا ہے، بلکہ ہر مدرسے کی طرف سے اس کا عہد کرلیا گیا ہے کہ وہ اس ترمیمی آرڈیننس کے تحت اپنی رجسٹریشن کرائے گا۔ کیا مدارس اس معمولی سے فائدے کے بدلے میں ان کی طرف سے اس تحریری التزام کو بخوشی قبول کرلیں گے یا کیا انہیں ایسا کرنا چاہیے؟ جس اتحادِ تنظیمات کا کام مدارس کا کیس لڑنا ہے، کیااس کے اکابر اسی کے ہاتھوں ہتھیار ڈالے جانے کو قبول کر لیں گے؟ نیز اس معاہدے کے نتیجے میں ایک طرح سے حکومت اور وفاقوں کے درمیان شراکت داری وجود میں آرہی ہے جس میں ایک شریک یعنی حکومت کی مستقبل کی بلکہ حال کی پالیسیوں کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ کیا اس پارٹنر شپ کو ان وفاقوں کے اکابر بآسانی قبول کرلیں گے؟ ان سوالوں کا حتمی جواب تو آنے والے وقت ہی میں ملے گا ، تاہم اندازے کے طور پر دیگر وفاقوں کے بارے میں تو کچھ نہیں کہا جاسکتا، لیکن وفاق المدارس العربیہ کے ماضی کے جرأت مندانہ ریکارڈ کے پیشِ نظر اس کا امکان کم ہی نظر آتاہے کہ وہ اس طرح کے سیٹ اپ کی حتمی منظوری دیں، اس لیے کہ یہ حضرات اس سے ملتی جلتی کئی تجاویز کو مسترد کرچکے ہیں۔ نوے کی دہائی میں جب اوپر ذکر کردہ درسِ نظامی گروپ کی تجویز سامنے آئی جو موجودہ تجویز کے مقابلے میں کہیں بے ضرر تھی تو اس کے بارے میں حضرت صدرِ وفاق مدظلہم نے مدارس کو اس میں شرکت سے منع کرنے کے بارے میں باقاعدہ مراسلہ لکھا تھا۔

یہاں یہ بات بھی ذہن میں رہنی چاہیے کہ کسی بھی وفاق یا ادارے کو تعلیمی بورڈکا درجہ دینے کا معاملہ اتنا سادہ نہیں ہوتا جتنا ہمارے ہاں عموماً سمجھ لیا جاتاہے ۔ اس مقصد کے لیے باقاعدہ دفعہ وارایک قانون بنتاہے جس میں تمام تفصیلات درج ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر فیڈرل بورڈ کے قیام کے قانون (مجریہ ۱۹۷۵ء ) کو اگر دیکھیں تو اس کی دفعہ پانچ میں بتایا گیا ہے کہ یہ بورڈ کن کن ارکان پر مشتمل ہوگا جن میں مثلاً دو یونیورسٹیوں کے چانسلر ( جن کی تعیین ایچ ای سی کرے گی)، وزارتِ تعلیم کے دونمائندے، کسی ایک کالج اور ایک سکول کا نمائندہ جس کا تعین الیکشن سے ہوگا، قومی اسمبلی کے تین ممبران جن میں سے کم از کم ایک خاتون ہوگی، دو سینیٹ کے ارکان ، آزاد کشمیر اور تمام صوبوں ، فاٹا اور گلگت بلتستان میں ہر ایک کا ایک نمائندہ ، وغیرہ وغیرہ۔ اس مثال سے صرف یہ اندازہ کرانا مقصود ہے کہ کسی ادارے کو بورڈکا درجہ ملنے کا باقاعدہ ایک سسٹم اور قانونی طریقِ کا ر اور اس کا ایک مخصوص مزاج ہوتا ہے، جبکہ وفاقوں کے حوالے سے ان امورپر تا حال مکمل ابہامات ہی ابہامات ہیں۔ تاہم اتنی بات واضح ہے کہ جب کسی وفاق یا تنظیم کو تعلیمی بورڈ کا درجہ ملے گا تو وہ خود بخود پہلے سے موجود تعلیمی بورڈز کے نظام کا حصہ بن جائے گا۔ اس عمومی نظام کے مشمولات سے استثنا ایک خاص حد تک ہی مل سکے گا۔ چونکہ ان وفاقوں کو مکمل بورڈ کا درجہ ملنا ہے ، ان کی سند مکمل میٹرک یا ایف اے تسلیم کی جائے گی، صرف چند لازمی عصری مضامین کی حدتک نہیں ، اس لیے بظاہر اس وفاق کا پورا نظام اس عمومی تعلیمی سسٹم کا حصہ بن جائے گا۔ جب میٹرک یا انٹر کی سند کی بنیاد وفاق کے دینی مضامین بھی بن رہے ہوں گے تو ظاہر ہے کہ وہ بھی ملک کی عمومی تعلیمی پالیسی کا حصہ بن جائیں گے ۔ ایسا فوری طور پر نہ ہو تب بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ تدریجاً ایسا ہی ہوگا۔ 

اس وقت مجھے اپنی رائے پیش کرنا نہیں ہے ، بلکہ اس مجوزہ اقدام کے ممکنہ نتائج کی طر ف توجہ دلانا ہے ، اگر ہمارے اکابر اور اہلِ مدارس ان نتائج کو قبول کرنے کے لیے ذہناً تیار ہیں تو الگ بات ہے ، لیکن اگر یہ نتائج منظور نہیں اور بظاہر ایسا ہی ہوگا تو ابھی اس معاملے پر بہت سنجیدہ غور ہونا چاہیے۔ معاملات ایک ڈگر پر چل پڑنے کے بعد واپسی بہت مشکل ہوجاتی ہے۔پھرچونکہ یہ سب کام قانون سازی کے ذریعے ہوگا، اس لیے اصل فیصلہ مقننہ نے کرنا ہے جو اتحادِ تنظیمات اور حکومت کے درمیان ہونے والے معاہدے کا حصہ ہی نہیں ہے، بالخصوص صوبائی حکومتیں اورمقننہ ، اس لیے کہ اس کا بھی اس معاملے میں بڑا کردار ہوگا ۔ کسی بھی قانون کا حلیہ قانون سازی کے مختلف مراحل سے گذرتے ہوئے کیا سے کیا ہوجاتاہے، یہ محتاجِ وضاحت نہیں۔ اس لیے اتنے غیر واضح ، مبہم اور خدشات کے حامل معاہدے کو موجودہ حالت میں کامیابی قرار دینا جلد بازی ہی معلوم ہوتاہے۔

پھر یہ بات بھی سنجیدہ توجہ کی مستحق ہے کہ جب یہ پارٹنر شپ وجود میں آئے گی تو ظاہر ہے کہ آئے روز حکومتی نمائندوں سے بات چیت اور مذاکرات کا عمل چلتا رہے گا، اس لیے کہ پارٹنر شپ کا یہ منطقی اور لازمی نتیجہ ہے۔ یہ بات چیت عموماً بیورو کریسی کے ساتھ ہوگی جو انتہائی تجربہ کار اور چالاک ہوتی ہے ۔ کیا ان وفاقوں کے نمائندوں کے بارے میں یہ ضمانت دی جاسکتی ہے کہ وہ ہمیشہ ایسے ہی ہوں گے جو اس چالاک بیوروکریسی کے ساتھ نمٹ سکیں ؟ چونکہ اس نئے سیٹ اپ میں سب وفاقوں کو ایک ساتھ چلنا ہوگا، اس لیے کیا اس بات کا امکان نہیں ہے کہ کل کلاں چند ایک وفاقوں کی قیادت میں ایسے لوگ آجائیں جو بہت بھولے بھالے ہوں اور آسانی سے اس بیوروکریسی سے مات کھا جائیں یا خدا نخواستہ کسی وقت ایسے لوگ آجائیں جو اپنے بزرگوں والی پختگی اور استغنا سے خالی ہوں اور ان کے لیے اعلیٰ سطحی مذاکرات تک رسائی اور اعلیٰ حکام تک شرفِ بار یابی ہی معراجِ ترقی ہو اور اسی دام میں ان سے شعوری یا غیر شعوری طور پر ایسے فیصلے کروالیے جائیں جو دینی مدارس کے مقاصد کے مستقبل کے لیے بہتر نہ ہوں، لیکن دوسری طرف وہ اپنے زورِ بیان اور اختیارات کی بنیاد پر مدارس کو مطمئن یا خاموش کرالیں؟ موجودہ وقت کے بارے میں جو مرضی کہہ لیں، آنے والے وقت کی ضمانت کون دے سکتا ہے کہ کس سیٹ پر کس طرح کا آدمی ہوگا؟ تو کیا اس طرح کا رسک لے کر حکومت کے ساتھ یہ شراکت داری کرنے یا اس سے مراعات لینے، سودا بازی کرنے سے بہتر نہ ہوگا کہ اب تک جس طرح کام چل رہا ہے، چلنے دیا جائے۔ جو ان وفاقوں کا کام اور ان کا دائرۂ اختصاص ہے یعنی دینی تعلیم کا امتحان لے کر سندات دینا، یہ اپنا یہ کام آزادی کے ساتھ کسی کے زیر بارِ احسان ہوئے بغیر کرتے رہیں اور جو عصری اداروں کا کام ہے یعنی عصری تعلیم کا امتحان لے کر سرٹیفیکیٹ جاری کرنا، وہ اپنا کام کرتے رہیں۔ جو نوجوان صرف دینی تعلیم پر اکتفا کرنا چاہتا ہے، وہ وفاق کے امتحانات پر قناعت کرے، جوکسی دوسری طرف جانا چاہتے ہیں ان کے لیے راستے پہلے بھی بند نہیں ہیں۔ اس طرح ہر کوئی اپنے اپنے دائرۂ اختصاص میں کام کرتا رہے۔

جہاں تک تعلق ہے مدارس کے طلبہ کو عمومی دھارے کے قریب لانے اور انہیں عصری تعلیم دینے کا تو حقیقت یہ ہے کہ مدارس میں عصری تعلیم کا کام کافی حدتک پہلے سے ہورہاہے۔ پہلے بڑی ہچکچاہٹوں کے بعد مڈل تک آئے تھے، اب کافی حد تک بات میٹرک تک پہنچ چکی ہے۔ اگر مدارس کو اپنے حال پر چھوڑ دیا جائے تو اس میں مزید پیش رفت کے امکانات بھی ہیں۔ جو عصری مضامین پڑھنا پڑھانا چاہتے ہیں، وہ عام سرکاری بورڈز سے امتحانات دیں گے تو مستقبل میں ان کا فائدہ بھی ہوگا اور وہ عام دھارے کے زیادہ قریب آئیں گے۔ اب تک جو اپنے طور پر مدارس میں تبدیلی آرہی ہے یا جس کی توقع کی جارہی ہے، وہ اگرچہ بظاہر سست رفتار ہے لیکن وہ چونکہ مدارس کے اندر سے پھوٹنے والی تبدیلی ہے اور اس تبدیلی کا بنیادی سرچشمہ ان مدارس کے اصل دو فریق یعنی اہلِ مدارس اور سوسائٹی ہیں، اس لیے اس تبدیلی کے مؤثر پائیدار ہونے کے ساتھ ساتھ اس سے مدارس کی آزادی متاثر ہونے کا سوال بھی پیدا نہیں ہوگا، خاص طور پر اس وجہ سے بھی کہ اس کے لیے انہیں نہ تو کسی کا زیرِ احسان ہونا پڑتاہے اور نہ ہی کسی سے مذاکرات کرنا پڑتے ہیں۔ البتہ اس تبدیلی میں یہ’خامی‘ ضرور ہے کہ اس سے کسی وزیر یا بیورو کریسی کے نمبر نہیں بنتے کہ اس نے بڑی تگ ودو اور مذاکرات کے بعد مدارس کو اس لائن پر لگا دیا ہے۔

تعلیم و تعلم / دینی مدارس