مکاتیب

ادارہ

(۱)

(زیر نظر تحریر میں فاضل مکتوب نگار نے اکتوبر ۲۰۱۰ء کے شمارے میں شائع ہونے والی بحث کے بعض اہم نکات کے حوالے سے اپنا نقطہ نظر واضح کیا ہے۔ میرے خیال میں سابقہ بحث کی روشنی میں ان میں سے بیشتر نکات پر تبصرہ محض تکرار ہوگا، البتہ مکتوب نگار نے ریاست پاکستان کی خارجہ پالیسیوں اور پاکستانی شہریوں کے لیے ان کی پابندی کے ضروری یا غیر ضروری ہونے کے ضمن میں بعض اہم علمی اور اصولی سوالات اٹھائے ہیں اور اس طرح یہ بحث دور جدید میں اسلامی ریاست کے عملی ڈھانچے اور موجودہ مسلم حکومتوں کی شرعی حیثیت کے اس موضوع سے مربوط ہو گئی ہے جس پر ’الشریعہ‘ کے زیر نظر شمارے سے بحث ومباحثہ کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ ان تمام سوالات کے حوالے سے راقم الحروف اپنا نقطہ نظر القاعدہ کے راہ نما جناب ایمن الظواہری کی کتاب ’’سپیدۂ سحر اور ٹمٹماتا چراغ‘‘ پر اپنے مفصل تبصرے میں پیش کرے گا، ان شاء اللہ۔ مدیر)


بعض قابل قدر مضامین کے ساتھ ساتھ ’الشریعہ‘ کے شماروں میں ایسے گل بھی کھلتے ہیں جن کا ظاہر دلنواز ہونے کے باوجود خوشبو سے بالکل محروم ہوتا ہے۔بحث ومباحثہ کا حصہ گویا ایک اکھاڑہ ہے جس میں مختلف پہلوان اپنا زور دکھاتے ہیں۔ راقم تماشائی بن کر فن کاروں کے مظاہرے دیکھتا ہے۔ ایک دفعہ اس اکھاڑے میں اترنے کی کوشش بھی کی مگر ’الشریعہ‘ کے صفحات نے جگہ نہ دی۔ روایت کو برقرار رکھتے ہوئے جناب عمار خان نے القاعدہ وطالبان او رموجودہ افغان جنگ کے عنوان سے اکتوبر ۲۰۱۰ء کے شمارے میں یہ نیا گل کھلایا ہے۔ اس سلسلے میں راقم کی رائے اور بعض چیدہ چیدہ نکات پر تبصرہ درج ذیل ہے۔

افغانستان پر امریکی حملے کے حوالے سے جناب نے پہلے ہی پیراگراف میں لکھا: ’’جس نے بہت جلد انتہا پسندی اور تشدد پسندی کی شکل اختیار کر لی۔‘‘ 

اس سلسلے میں پہلی بات تو یہ ہے کہ جناب کئی سیڑھیاں بیک وقت پھلانگ کر بات کو اس نتیجے تک لے آئے۔ اس انتہا تک پہنچانے میں اس حملے کے علاوہ دیگر بہت سے عوامل کا اہم کردار ہے جن سے صرف نظر درست نہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ انتہا پسندی اور شدت پسندی موجودہ دور کی ایسی اصطلاحات ہیں جن کے واضع کفار ہیں اور وہ ان کا عملی اطلاق مسلمانوں اور بالخصوص جہاد ومجاہدین پر کرتے ہیں۔ انھوں نے ’’صلح کلیت‘‘ کو اعتدال کے ہم معنی قرار دے کر مسلمانوں کے ہر اس عمل کو ان کی سند دینا شروع کر دی جو اس مزعومہ اعتدال کے خلاف ہو۔ فی نفسہ ہر دو رویوں کو مذموم مان لیا جائے، تب بھی کسی فعل پر انھیں منطبق کرنا ایک اضافی امر ہے۔ ہو سکتاہے آپ کسی فعل پر یہ حکم لگائیں اور اس کے برعکس فاعل اسے اعتدال قرار دے۔ انھیں درست طو رپر اپلائی کرنے کے لیے خاص طور پر ان حالات کا مطالعہ ضروری ہے جن کے تقاضے پر فاعل نے ایسا فعل انجام دیا ہے۔ ممکن ہے جن حالات سے وہ دوچار ہو، وہ اسی ’’انتہا اور تشدد‘‘ کا تقاضا کرتے ہوں۔ ان مخصوص حالات میں یہ فعل عین اعتدال ہو، مگر حالات کے اس تناظر سے ہٹ کر دیکھا جائے تو پر تشدد اور تطرف نظر آئے۔ کفار کے ہاں سے درآمد شدہ ایسی اصطلاحات کے الم غلم استعمال سے اجتناب بہتر ہے۔

مولانا سنبھلی کے نقل کردہ اقتباس سے بھی میں اتفاق نہیں کرتا۔ یہ حکیمانہ تدبیر اور جرات کا ثبوت نہیں بلکہ احمقانہ تدبیر اور حماقت کا ثبوت ہوتا۔ یہ تدبیر حکمت کی آڑ میں بزدلی کا سبق ہے جس کی علت جبار وقت کے حرب وضرب کا خوف ہے۔ جابر وظالم کے سامنے سر جھکا کر اس کے جائز ناجائز مطالبات مانتے چلے جانے کا نام قطعاً حکمت نہیں۔ جرات کے اس ثبوت سے شہ پا کر کل کلاں کو وہ مزید مطالبات کی فہرست ہاتھوں میں تھما دیتا تو تب کیا ہوتا؟ خلافت کو آمریت کہہ کر جمہوریت کے قیام کا مطالبہ کرتا تو؟ انسانی حقوق کی پامالی کو حملے کے لیے وجہ جواز بنا لیتا تو؟ جیسے دہشت گردی کی اس جنگ میں امریکہ کا رفیق سفر بننے کے باوجود آئے دن پاکستان سے ’’ڈو مور‘‘ کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ ابوجندل کے واقعے سے استدلال دو وجوہ سے خام ہے۔ان میں سے ایک یہ کہ وہ انھی کی قید سے بھاگ کر آئے تھے اور جانا نہیں چاہ رہے تھے۔ آقاے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم نے حکماً انھیں واپس بھیجا۔ بہتر تھا ملا عمر پر دباؤ ڈال کر ان کے حکم کے ذریعے اسامہ کو حوالہ امریکہ کر دیا جاتا۔

تمام شرکاے بحث نے بالواسطہ یا بلا واسطہ یہ تسلیم کیا کہ القاعدہ نے ٹاورز پر حملہ کر کے ارتکاب جرم کیا، ماسوائے مغل صاحب کے۔ میں اس معاملے میں جناب زاہد صدیق مغل کا ہم نوا ہوں۔ جناب محمد عمار خان نے اس جرم کی بنا دو اصول قرار دیے۔ ایک یہ کہ جن پر حملہ ہوا، وہ غیر مقاتلین تھے اور غیر مقاتلین پر حملہ ناجائز اور گناہ ہے۔ دوسرا یہ کہ القاعدہ نے ایک اسلامی ریاست کو مستقر بنا کر طالبان سے بالا بالا ہی یہ کام کر ڈالا۔ شرعی اصول یہ تھا کہ انھوں نے اقدام کرنا تھا تو ملکی قیادت سے اجازت لیتے۔ اگر اجازت ملتی، تب یہ قدم اٹھاتے (گو کہ حملہ اس صورت میں بھی جائز نہ ہوتا کیونکہ پہلے شرعی اصول کی خلاف ورزی پھر بھی لازم آتی)۔ اس تنقیح کے بعد مدار بحث صرف پہلا اصول رہ گیا کہ غیر مقاتلین پر حملہ کیا۔ میں یہاں صرف اتنا ہی کہوں گا کہ یہ اصول انھیں (یعنی القاعدہ کو) بھی تسلیم ہے۔ اس پر تو کوئی اختلاف نہیں۔ اختلاف صرف اس بات پر ہے کہ موجودہ جمہوری حکومتوں میں وہ عوام کو زمرۂ مقاتلین میں شمار کرتے ہیں اور آپ نہیں کرتے، لہٰذا اسے آپ ان کی خطا سے تو تعبیر کر سکتے ہیں، شرعی اصول کی پامالی کا الزام نہیں دے سکتے۔ اگرجناب محمد عمار خان کا فہم دین انھیں رائے رکھنے اور دینے کا حق دیتا ہے تو انھیں اس حق سے کس بنیاد پر محروم کیا جا سکتا ہے؟ غیر مقاتلین جیسے عورتیں، بچے، تاجر، کسان، خدام، مزدور، قیدی اور زخمی وغیرہ کو قتل نہ کرنے سے متعلق جو احادیث جناب محمد عمار خان نے مغل صاحب کے جواب میں پیش کیں، اگرچہ ان میں اس بات پر کوئی دلالت نہیں کہ موجودہ جمہوری نظام کے حصہ دار غیر مقاتلین ہوں گے، مگر مان بھی لیا جائے تب بھی بات خطا یا تاویل سے آگے نہیں جا سکتی۔

ان دواصولوں پر تفریع بٹھاتے ہوئے جناب محمد عمار خان نے موجودہ افغان جنگ کے جہاد ہونے سے ہی انکار کر دیا۔ اس کا جو جواب جناب زاہد الراشدی صاحب نے دیا، وہ خوب ہے۔ میں یہاں تین باتوں کی وضاحت کرتا ہوں۔

۱۔ جناب محمد عمار خان نے اس پر جو احادیث پیش کیں، شاید اس موقع پر المطلق اذا اطلق یراد بہ الفرد الکامل کے معروف قاعدے سے ذہول ہو گیا، ورنہ لا دین لمن لا امانۃ لہ، لا صلاۃ لم یقرا بفاتحۃ الکتاب، لا وضو لمن لم یقرا ببسم اللہ اور آیۃ المنافق ثلاث ..... وان صام وصلی وزعم انہ مسلم جیسی احادیث سے اس طریق استدلال کے مطابق نہ وضو ہوگا نہ نماز نہ اسلام نہ دین۔

۲۔ جناب عمار کے پیش کردہ دو اصولوں کے درمیان جو باریک اور دقیق فرق ہے، اسے ایک تاریخی واقعے سے واضح کرنا چاہوں گا۔ خوارزم شاہ علاؤ الدین نے چنگیز خان کے سفرا یا تجار کو بلا کسی معقول وجہ کے قتل کرا دیا جو ایک قبیح فعل اور شرع کی خلاف ورزی تھا۔ یہ واقعہ تاتاریوں کی صورت میں عالم اسلام پر ہولناک تباہی کا سبب بنا۔ جو کچھ ہوا، ہوا۔ کسی ایک عالم نے بھی یہ رائے نہیں دی کہ تاتاریوں سے جنگ جہاد نہیں، کیونکہ پہلے شرعی اصول کی خلاف ورزی ایک مسلم حکمران کی طرف سے ہوئی، بلکہ ابن تیمیہ جیسے جبل علم نے ان کے خلاف جہاد کا فتویٰ دیا اور بنفس نفیس تلوار اٹھا کر میدان میں آئے۔

۳۔ امریکہ نائن الیون سے پہلے کا مسلمانوں کے ساتھ حالت جنگ میں ہے، ۱۹۹۰ء میں ہونے والی خلیج کی پہلی جنگ کے وقت سے۔ بلکہ نائن الیون سے پہلے اور ۱۹۹۰ء کے بعد بل کلنٹن کے زمانہ صدارت میں بھی افغانستان کے خلاف باضابطہ طبل جنگ بجا چکا ہے جب اس نے کروز میزائل کے ذریعے اسامہ پر حملہ کیا تھا اور طالبان کی خود مختاری کو پامال کیا تھا، بلکہ عالمی اصول جنگ کی خلاف ورزی بھی کی تھی۔ خلاصہ یہ کہ نائن الیون کا واقعہ اس کی ابتدا ہے نہ بنیاد۔

جناب محمد عمار خان کا یہ فرمان بہت حد تک محل نظر ہے کہ ’’یہ ہر قانونی تعریف کے مطابق دہشت گردی کا ایک واقعہ تھا اور یہی وجہ ہے کہ پوری مسلم دنیا نے بیک زبان اس کی مذمت کی۔‘‘ 

ابھی تک دہشت گردی کی کوئی ’’قانونی‘‘ تعریف طے نہیں کی جا سکی۔ اگر اس کا کوئی خاص تصور ذہن میں رکھ کر جناب عمار نے یہ بات لکھی ہے تو اسے زینت قرطاس بنائیں تاکہ اس کا جائزہ لیا جا سکے۔ پوری مسلم دنیا کی طرف سے اس کی مذمت اور اس سے براء ت کا اعلان یہ ثابت کرنے کے لیے قطعاً مفید نہیں کہ یہ دہشت گردی تھی، اس لیے کہ باستثناے چند پوری مسلم دنیا کے دل امریکی حرب وضرب کے خوف سے معمور ہیں۔ انھوں نے جہاد کو جمہوری جدوجہد یعنی جلسے جلوس، احتجاج، ہڑتالیں، دھرنے، سیاسی جماعتیں تشکیل دینے، اپنے حکمرانوں سے اقتدار لینے، خود حکومت کرنے یا حکمرانوں کی طرف سے مخالف آوازوں کو دبانے میں ہی محدود کر دیا ہے۔

جناب عمار خان کا یہ کہنا کہ مسلم ریاست کے شہریوں کے لیے اپنے نظم اجتماعی کے فیصلوں سے ہٹ کر کوئی اقدام کرنا جائز نہیں بلکہ پاکستانی شہریت کے حامل ہوتے ہوئے طالبان افغانستان کے ساتھ شریک جنگ ہونا بھی جائز نہیں، ایک نئی بحث کا دروازہ کھولتا ہے۔ اس کے اہم نکات مندرجہ ذیل ہیں:

۱۔ ہر حلف اور معاہدہ معروف کی شرط سے مشروط ہوتا ہے، یہاں تک کہ اطاعت امیر بھی۔ اس حلف ومعاملہ کی پابندی کیا شرعی حیثیت رکھتی ہے جس میں معروف سے تجاوز کیا گیا ہو؟

۲۔ ملکوں کی موجودہ تقسیم بیسیویں صدی کی جدت ہے، یعنی ہر ملک کی مخصوص قانونی سرحد ، ان کے اندر مخصوص قانون اور پالیسیوں کا نفاذ، شہری حقوق کے لیے شہریت کا لزوم، عبور سرحد کے لیے ریاستی اجازت کی ضرورت وغیرہ۔ ان تمام امور کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ کیا یہ سیاسی تفریق نہیں؟ مذہبی تفریق اگر سم قاتل ہے تو کیا سیاسی تفریق زہر کا پیالہ نہیں؟

۳۔ کیا اسلامی نظم مملکت میں یہ تجزی ہے کہ کوئی فرد مخصوص علاقے کا قانونی باشندہ ہے، دوسرے کا نہیں؟ باجازت ریاست دوسرے ملک میں جا سکتا ہے مگر قانوناً وہاں کے معاملات میں دخیل نہیں ہو سکتا؟ یہاں تک کہ ایک طرف یہ انتظامی امور ہوں اور دوسری طرف شرعی فریضہ ہو تو اس کی ادائیگی کے لیے اس قانون شکنی سے وہ گناہ گار تصور ہوگا۔ کیوں؟

۴۔ ان ملکوں کے امرا وحکام کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ کیا ان کی اطاعت بھی اسی طرح لازم ہے جس طرح خلیفۃ المسلمین کی؟ کیا ان کے خلاف خروج پر بھی وہی وعید ہے جو خلفاے وقت کے خلاف خروج پر تھی؟

۵۔ کیا اسلامی نظم مملکت میں کثیر مستقل بالذات حکمرانوں کی گنجائش ہے؟ یا لازمی ہے کہ تمام مسلمین کا امیر واحد ہو اور دیگر علاقوں کے ولاۃ اسی کے حکم سے معزول ومنصوب ہوں اور اس کے ماتحت تصور کیے جائیں؟

۶۔ اصل اسلامی نظم مملکت کیا ہے؟ خلافت؟ جمہوریت؟ شخصی حکومت وبادشاہت یا حالات کے اعتبار سے جس کو بھی اختیار کر لیا جائے، درست ہوگا؟

۷۔ مسلم دنیا کا موجودہ حکومتی نظم عبوری ہے یا اصل ہے؟ عبوری ہے تو اس کے احکام کیا ہیں؟

حافظ محمد سمیع اللہ کا یوں فرمانا کہ ’’کیا القاعدہ کا کوئی وجود بھی ہے؟‘‘ میں سمجھ نہیں سکا کہ یہ واقعی لاعلمی کا اظہار ہے یا طنز ہے؟ اگر اظہار حقیقت ہے تو انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ القاعدہ عرب محاربین پر مشتمل ایک عسکری تنظیم ہے، ۱۹۸۴ء میں جس کی بنیاد ڈاکٹر عبد اللہ عزام شہید نے رکھی تھی۔ آپ مصری الاصل اور اسلام آباد کی اسلامی یونیورسٹی میں پروفیسر تھے۔ جہاد افغانستان کے ساتھ خاص تعلق تھا۔ اسامہ بن لادن وغیرہ کا جہاد کی طرف متوجہ ہونا ڈاکٹر عزام شہید کی کوششوں کا ثمرہ تھا۔ ۱۹۸۹ء کی کسی تاریخ کو آپ پشاور میں بم بلاسٹ میں شہید کیے گئے۔

آگے صفحہ ۴۷ پر مزید گزارشات کے عنوان سے دو اڑھائی صفحات میں جناب عمار خان نے جو کچھ سپرد قلم کیا ہے، سچی بات یہ کہ پوری کوشش اور کئی دن کے غور کے بعد بھی اسے مکمل نہیں سمجھ سکا۔ نہ ربط میسر ہوا، نہ پیرا گرافس واضح ہوئے، نہ جملوں کا مفہوم ہی متعین کر سکا۔ ایسا لگتا ہے جیسے کہنے والا خود بھی ذہنی تذبذت کا شکار ہے اور یکسو نہیں۔ جو کچھ وہ کہنا چاہتا ہے، وہ کہہ نہیں پا رہا۔ مگر یہ سوچ کر دل کو مطمئن کیا کہ ’الشریعہ‘ میں ان افراد کے مضامین چھپتے ہیں جو جدید اہل علم وفن میں بالغ نظر ہیں اور جن کا ذہنی وفکری افق بہت وسیع ہے۔ ہم جو کہ بڑے روایتی مذہبی طبقے کے فرد ہیں، اسے کہاں سمجھ سکتے ہیں۔ بہرحال صحیح یا غلط، جو بھی سمجھا، سپرد قلم کرتا ہوں۔

جناب نے فرمایا:

۱۔ جہادی عناصر کے ساتھ ہمارا رویہ رومانوی اور تخیلاتی ہے۔ ہم انھیں تنقید سے مبرا سمجھتے ہیں۔ 

میرے خیال میں یہ کہنا بجائے خود ایک خیال ہی ہے جو زمینی حقائق کے برعکس اور ان کے بارے میں دیے گئے کمنٹس کی غلط تعبیر پر مبنی ہے۔ کسی کی تعریف وتمجید کا یہ مطلب لینا کہ اسے تنقید سے مبرا سمجھا جاتا ہے، غلط ہے۔ میں ایسے کئی افراد وبزرگوں کی نشان دہی کر سکتا ہوں جنھوں نے طالبان کے کئی کاموں پرتنقید کی اور جذبہ خیر خواہی کے ساتھ انھیں سمجھایا۔ ہاں، اسے وہ میڈیا پر اور عوام میں لے کر نہیں آئے۔

۲۔ زمینی حقائق کے مطابق طالبان کا برسر اقتدار آنا اولاً سیاسی اور ثانیاً مذہبی ونظریاتی مسئلہ ہے۔

ثانیاً مذہبی ونظریاتی مسئلے کا مطلب تو میں نہیں سمجھ سکا، مگر پہلے حصے سے یہ سمجھا ہوں کہ اس وقت کے سیاسی حالات افغانستا ن میں ایسی کسی بھی قوت کا تقاضا کر رہے تھے کہ جو قوت بھی ان سے فائدہ اٹھاتی، وہ اقتدار حاصل کر لیتی، چنانچہ طالبان نے اس سے فائدہ اٹھایا اور برسر اقتدار آ گئے۔ افغانستان کا کوئی ایسا مخصوص جغرافیہ بھی جناب کی نظر میں ہوگا جس نے طالبان کی مدد کی، مگر ان کے علاوہ کسی کی مدد نہیں کر سکا، یہاں تک کہ امریکہ کی بھی نہیں۔ لہٰذا ان کا ورد ہونا کوئی اعجوبہ نہیں۔ اگر ہم یہ کہیں کہ اللہ کی مدد ونصرت ان کے ساتھ تھی جس نے فتح دلوائی، اسی نے ایسے حالات تخلیق کیے اور راستے ہموار کیے جن کے نتیجے میں طالبان کا ورود ہوا، ایسے ہی بے کس مجاہدین کے ہاتھوں اللہ نے روس کو پٹوایا، آگے کے حالات بھی اسی کے پیدا کردہ ہیں جو پٹنے کے لیے وہ امریکہ بہادر کو افغانستان لے آیا اور اب اللہ پھر کم من فئۃ قلیلۃ الخ ولیمحص اللہ الذین آمنوا الخ اور لا تخافوا الخ کا منظر دکھا رہا ہے تو یہ رومانی اور تخیلاتی رویہ ہوگا۔ اس کا مطلب یہ بنے گا کہ ہم زمینی حقائق کا ادراک نہیں رکھتے جس کا لازمی نتیجہ یہی ہے کہ ہم انھیں تنقید سے مبرا سمجھتے ہیں۔ یا اس جملے کا مطلب یہ ہے کہ ان کا برسر اقتدار آنا کوئی شرعی مسئلہ یا کسی ایسے شرعی فرض کی تکمیل نہیں جس کی پیروی ہمارے اوپر لازم ہو اور ہم بھی خواہی نخواہی اسے یہاں لاگو کرنے کی کوشش کریں، بلکہ سیاسی طور پر جیسے ہمارے یہاں حکومتوں میں ادل بدل ہوتا ہے، ایسے ہی وہاں بھی پہلو کے بعد حکومت ان کے ہاتھ آ گئی۔ جغرافیائی طور پر یہ ایک الگ مملکت ہے جس کے افراد اپنا نظم طے کرنے میں آزاد ہیں۔ ان کا نظم ہمارے لیے لائق تقلید ہو تو ہو، واجب التقلید بہرحال نہیں، کیونکہ ہم جغرافیائی طور پر الگ اور مستقل مملکت کے حامل ہیں۔

۳۔ طالبان کا مخصوص مذہبی پس منظر ہے۔ معلوم نہیں اسے طالبان کی خصوصیت قرار دینے کی کیا وجہ ہے؟ ہمارے یہاں تو ہر طبقے اور جماعت بلکہ ہر فرد یہاں تک کہ جناب کا بھی مخصوص مذہبی پس منظر اور مخصوص فکری سانچہ ہے۔

۴۔ اسی پس منظر کی وجہ سے ان کا اقتدار کچھ مضمرات اور کچھ نیم مذہبی وسیاسی فوائد کا حامل بھی ہے، مگر مضمرات زیادہ اور فوائد کم ہیں، وہ بھی خاص زاویے سے۔ گویا عملاً فائدہ کالمعدوم ہی ہے۔ مذہبی فائدہ قدیم خلافت (جو کہ قصہ پارینہ ہو چکی) کے طلب گاروں کی محض جذباتی تسکین اور سیاسی فائدہ اہل تشیع کے سامنے رکاوٹ ہے۔ یہی اہم ترین فوائد ہیں اور وغیرہ سے جن کی طرف اشارہ کیا گیا، وہ یقیناًان سے کم ہیں۔ اسلام کا نفاذ اگرچہ اپنے مخصوص مذہبی پس منظر کے مطابق ہی ہو، منکرات کا خاتمہ، مظالم واستحصالات سے نجات، امن وامان کا قیام، سادہ طرز حکمرانی، اسلام اور امت سے بے لچک وابستگی وغیرہ قابل قدر تو ہے مگر ......۔

۵۔ پاکستان اپنے مفادات کی خاطر طالبان کا ہم درد ہے، جبکہ میرے خیال میں یہ ماضی کا قصہ ہے، حال کی واردات نہیں۔

۶۔ بعض معاملات میں سمجھ داری کا ثبوت فراہم کرنے کے باوجود وہ زیادہ سمجھ دار نہیں، کیونکہ کئی معاملات میں انھوں نے عالمی سیاست کے ڈائنامکس کا خیال نہیں رکھا۔ عالمی سیاست جس میں مسلمان تھالی کا بینگن اور مصلحت پسند ہیں، اس کے علی الرغم انھوں نے کسی ’’مصلحت‘‘ کو روا نہیں رکھا، یہاں تک کہ نہ صرف بدھا کے مجسمے منہدم کرا دیے بلکہ القاعدہ جیسے تخریب کاروں کو بھی پناہ دے دی۔ انھیں چاہیے تھا کہ وہ عالمی سیاسی ’’مصلحتوں‘‘ کا خیال کرتے اور ہرگز یہ کام نہ کرتے۔

۷۔ طالبان ہمارے یہاں کے اہل علم سے راہ نمائی لینے کے محتاج ہیں۔

مگر یہاں کے وہ اہل علم کون سے ہیں؟ جملہ مذہبی عناصر تو یوں نکل گئے کہ اپنی جذباتیت ورومانویت کی وجہ سے یہاں کی قدیم مذہبی قیادت کی بصیرت وتجربہ کو خود فراموش کر چکے، جبکہ روایتی اور عام مذہبی حلقے صورت حال کو سطحی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ پس یہ کیا راہ نمائی دیں گے؟ نیز روایتی مذہبی قیادت ذہنی طو رپر یکسو نہیں، وہ مصلحت پسندی اور نام نہاد حمیت کا شکار ہیں تو راہ نمائی دینے والا کون رہا؟ میر ے خیال میں ماڈریٹ اہل علم مودودی واصلاحی مکتب فکر کے لوگ یا غامدی صاحب اور ان کے خوشہ چین یا وہ جو کھلے عام طالبان کی تنقید کا فریضہ سرانجام دیں، جن کے نزدیک جہاد ایک فکر یا درس وتدریس کی کوئی چیز ہے، جو ۳۲ سال سے مسلسل برسر پیکار بندۂ صحرائی اور مرد کہستانی کی نفسیات واخلاق سے واقفیت نہیں رکھتے۔ دونوں کے زاویہ نظر اور نقطہ نگاہ میں ہی فرق ہے۔

اس سب کے باوجود میں حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب کے ان الفاظ سے اتفاق کرتا ہوں جنھیں رسالے کے سرورق پر چھاپا گیا ہے۔

محمد بدر عالم

ibntaqi1970@gmail.com

(۲)

بخدمت گرامی قدر حضرت علامہ زاہد الراشدی مدظلہ

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مزاج گرامی؟

۱۔ اسلامی دنیا کے عظیم اسکالر ڈاکٹر محمود احمد غازی بھی اللہ تعالیٰ کے حضور پہنچ گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ چنیوٹ کے احباب انھیں ایک سیمینار میں بلانا چاہتے تھے، لیکن ہوتا وہی ہے جو منظور خدا ہوتا ہے۔ غازی صاحب کی وفات کا صدمہ صرف ان کے خاندان کا صدمہ نہیں، سبھی اہل علم دل تھامے بیٹھے ہیں۔ افسوس کہ ایک اور دیدہ ور دنیا سے چلا گیا۔ ان کے نام کے ساتھ ’ڈاکٹر‘ کا سابقہ ان کے شایان شان نہ تھا۔ وہ علم ونظر کی بلندیوں میں پروفیسروں سے بہت آگے تھے۔ بلاشبہ وہ نابغہ عصر شخص تھے۔

ڈاکٹر صاحب مرحوم گزشتہ سال جامعہ اسلامیہ امدادیہ فیصل آباد تشریف لائے تھے تو ان سے استفادہ کا موقع ملا۔ ایک نجی مجلس میں احباب ان کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف رہے حالانکہ ان سے سوال وجواب کی صورت میں استفادہ کرنا چاہیے تھا۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائیں اور ان کی مغفرت فرما دیں۔ آمین

۲۔ کراچی کے علماء کرام نے اسلامی معیشت او راسلامی بینکاری کی جو بحث چھیڑی تھی، الشریعہ میں اس پر تحریری مباحثہ جاری ہے۔ خالص فقہی مباحث میں کوئی رائے دینے کا احقر اہل نہیں ہے، صرف ایک سوال اٹھانا چاہتا ہے۔ بینکوں کے طریق کار کو غیر اسلامی قرار دے کر پاکستان بھر کے مفتی حضرات نے فتویٰ جاری کیا تھا اور اسے زبان حال سے اجماع کا درجہ دیا جا رہا ہے۔ یہ فتویٰ جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی کی طرف سے شائع ہوا۔ جوابی طور پر مولانا مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ نے اس متفقہ فتویٰ کی بارہ غلطیاں واضح کیں کہ ان محترم حضرات نے لکھا ہے کہ بنکوں کا طریق کار یہ ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ بینکوں کے طریق کار کے متعلق بارہ غلط اطلاعات کی بنیاد پر جو فتویٰ جاری کیا گیا تھا، اس کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟ کیا کسی نے مولانا عثمانی مدظلہ کی تصحیح کو چیلنج کیا ہے؟ اگر نہیں تو کیا محترم مفتیان کرام اپنے اس ’اجماعی‘ فتوے پر نظر ثانی کریں گے؟ کیا سنی سنائی باتوں کو بنیاد بنا کر فتویٰ دیا جا سکتا ہے؟

مشتاق احمد

ادارہ مرکزیہ دعوت وارشاد، چنیوٹ

(۳)

مکرمی جناب مولانا عمار خان ناصر صاحب

ماہ اکتوبر کے شمارے میں آنجناب کے افکار ونظریات اور اکابر علما کے رشحات قلم نظر سے گزرے۔ آپ کے پیش کردہ موقف اور تجزیہ سے اتفاق یا اختلاف اپنی جگہ، مگر اس حساس موضوع پر غور وخوض، تحقیق وتنقید اور فکر وتدبر کا دروازہ آپ نے بہرحال کھول دیا ہے۔ آپ کی یہ محنت قابل قدر اور لائق تحسین ہے۔ اب اصحاب علم وتحقیق کی ذمہ داری بنتی ہے کہ آپ کے پیش کردہ موقف کا مختلف پہلووں سے جائزہ لیں اور راہ مستقیم کی طرف ہماری راہنمائی کریں۔

آپ کے موقف میں القاعدہ پر تنقید درست مگر پرویزمشرف کی امریکہ نواز پالیسی کی پابندی اور ایک اسلامی خطے کے باشندوں کا دوسرے خطے کے باشندوں کا ساتھ نہ دینا اور اپنی دفاعی پوزیشن میں امریکہ کے خلاف لڑنے کو ’’جہاد‘‘ نہ سمجھنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ افغانستان میں روس او راب امریکہ کے خلاف لڑائی کو ہمارے تمام اکابر نے جہاد ہی کہا ہے۔ آنجناب کا جہاد نہ سمجھنا آپ کی ذاتی رائے تو ہو سکتی ہے، جمیع اکابر علما کا موقف نہیں۔بہرحال یہ موضوع قابل غور فکر ہے، لہٰذا اکابر علما کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ موجودہ حالات میں علما اور نوجوانوں کے کردار کے حوالے سے صحیح راستے کا تعین فرمائیں اور نائن الیون کے بعد پیدا شدہ صورت حال اور افغان جنگ کے پاکستان پر اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے نئی نسل کی راہ نمائی کریں تاکہ ہمارے نوجوان جذباتیت سے ہٹ کر صحیح راہ پر گامزن ہو سکیں۔

حافظ خرم شہزاد

گوجرانوالہ

مکاتیب

Flag Counter