اتحاد تنظیمات مدارس اور حکومت کا معاہدہ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ اور وفاقی حکومت کے درمیان مبینہ طور پر ہونے والے معاہدے اور اس کے تحت ’’وفاقی مدرسہ بورڈ‘‘ کے قیام کے حوالے سے ۶؍ نومبر کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں مختلف دینی مدارس کے اساتذہ اور ذمہ دار حضرات کی ایک مجلس مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا۔ راقم الحروف کے علاوہ مولانا سید عبد المالک شاہ، مولانا عبد الرؤف فاروقی، مولانا عبدالحق خان بشیر، مولانا حافظ محمد یوسف، حافظ محمد عمار خان ناصر، پروفیسر محمد اکرم ورک، پروفیسر حافظ منیر احمد اور پروفیسر غلام حیدر نے مباحثہ میں حصہ لیا اور مبینہ معاہدہ اور وفاقی مدرسہ بورڈ کے بارے میں اب تک کی معلومات کی بنیاد پر کچھ آرا اور تجاویز پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ مذاکرہ میں مبینہ معاہدے کے پس منظر اور اہم نکات کے حوالے سے وفاق المدارس العربیہ کے ناظم اعلیٰ مولانا قاری محمد حنیف جالندھری کے مضمون کے ساتھ ساتھ وفاقی مدرسہ بورڈ کے چیئرمین جناب وکیل احمد خان کا روزنامہ پاکستان میں ۲۳؍ اکتوبر کو شائع ہونے والا تفصیلی انٹرویو اور مولانا مفتی محمد زاہد آف فیصل آباد کا تجزیاتی مضمون پڑھ کر سنایا گیا اور مجموعی طور پر مولانا محمد زاہد صاحب کے تجزیے سے اتفاق کرتے ہوئے شرکاے مذاکرہ نے مختلف پہلووں پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

اس بات کا بطور خاص نوٹس لیا گیا تھا کہ اگر وفاقی مدرسہ بورڈ کے چیئرمین جناب وکیل احمد خان کے بقول مدارس دینیہ کا معاملہ صرف حکومت اور دینی مدارس کا معاملہ ہے اور اس میں کسی غیر ملکی طاقت اور بیرونی ایجنڈے کا کوئی دخل نہیں ہے تو یہ معاملات وزارت تعلیم کے ساتھ طے پانے کی بجائے وزارت داخلہ کے ذریعے کیوں طے کیا جا رہے ہیں؟ کیونکہ اگریہ صرف تعلیمی مسئلہ ہے اور حکومت اپنے نقطہ نظر سے دینی مدارس کے نصاب ونظام میں بہتری پیدا کرنا چاہتی ہے تو اس مسئلے کو وزارت تعلیم کے ذریعے ڈیل کیا جانا چاہیے، وزارت داخلہ کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے اور وزارت داخلہ کے ذریعے دینی مدارس کے ساتھ معاملات طے کرنے کا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ اصل مسئلہ تعلیم کا نہیں اور اس کے پیچھے یقیناًبعض بین الاقوامی حلقوں کی یہ خواہش کارفرما ہے کہ دینی مدارس کی آزادی اور خود مختاری کو کنٹرول کیا جائے اور انھیں کسی نہ کسی انداز میں سرکاری کنٹرول کے دائرے میں لایا جائے، ورنہ وزارت داخلہ کے لیے اس میں دخل اندازی کی کوئی تک نہیں بنتی۔

دوسری بات جس کا مذاکرہ میں بطور خاص تذکرہ کیا گیا، یہ ہے کہ اتنا بڑا فیصلہ اعلیٰ ترین سطح پر ہو گیا ہے، مگر مدارس دینیہ کے عمومی ماحول میں اس سلسلے میں باخبری کی کوئی فضا موجود نہیں ہے اور نہ ہی اکثر مدارس کے ذمہ دار حضرات کو بحث ومباحثہ اور اظہار خیال کا موقع دیا گیا ہے۔ اتنا اہم فیصلہ جس کے ساتھ دینی مدارس کا مستقبل وابستہ ہے، اس میں ان کی آزادی اور خود مختاری کے حوالے سے سراسر ابہامات کی فضا نظر آ رہی ہے جبکہ اس کے لیے بڑے جامعات اور دینی جماعتوں میں باہمی تبادلہ خیالات اور متعلقہ امور پر اظہار خیال کا ماحول فیصلے سے قبل ضروری تھا جو دکھائی نہیں دے رہا، بلکہ ایک بڑی اکثریت کو سرے سے معاملات کی نوعیت اور تفصیلات کا علم تک نہیں ہے، اس لیے یہ ضروری ہے کہ اس اہم فیصلے کے بارے میں دینی مدارس کے عمومی ماحول کو اعتماد میں لیا جائے اور صرف اعلیٰ سطحی مذاکرات پر اکتفا نہ کیا جائے۔

شرکاے مذاکرہ خیال تھا کہ دینی مدارس کے وفاقوں کو سرکاری سطح پر بورڈ کے طور پر تسلیم کیا جانا ایک اچھی پیش رفت دکھائی دیتی ہے کیونکہ اس میں خود وفاقوں کے اپنے مطالبہ کی تکمیل ہوتی ہے، لیکن ان وفاقوں کے اپنے اپنے بورڈز کے اوپر ’’وفاقی مدرسہ بورڈ‘‘ کی تلوار لٹکائی جا رہی ہے اورمعاہدہ یا اس سلسلے میں بیان کی جانے والی تفصیلات میں وفاقی مدرسہ بورڈ کے دائرۂ کار، اختیارات اور عملی کردار کے بارے میں کوئی وضاحت موجود نہیں ہے۔ یہ بات محل نظر ہے اور وفاقوں کو بورڈ کا درجہ دیے جانے کی یہ قیمت کہ وہ وفاقی مدرسہ تعلیمی بورڈ کے دائرۂ اختیار میں شامل ہو جائیں، اسے بہت مہنگا بنا رہی ہے۔ شاید دینی مدارس اپنے اہداف ومقاصد اور ڈیڑھ سو سالہ ماضی کے تسلسل پر قائم رہتے ہوئے اتنی بڑی قیمت ادا کرنے کی پوزیشن میں نہ ہوں۔

بہرحال شرکاے مذاکرہ نے مجموعی طو رپر ا س مبینہ معاہدے پر اپنے اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور کم وبیش سب حضرات نے مولانا مفتی محمد زاہد کے تجزیے کو بروقت اور صحیح قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ دینی مدارس کے ذمہ دار حضرات کو اس تجزیاتی مضمون کے مطالعہ کے بعد اس سلسلے میں کوئی حتمی رائے قائم کرنی چاہیے۔

تعلیم و تعلم / دینی مدارس