سید ابوالحسن علی ندویؒ: فکری امتیازات و خصائص

ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

انیسویں صدی کے اواخر میں عالم اسلام سیاسی، عسکری اور علمی و فکری زوال کی انتہا کو پہنچ رہا تھا اور بیسویں صدی کے آغاز تک مغربی استعمار عالم اسلام کے حصے بخیے کرنے اور خلافت کے ادارہ کو توڑنے میں کامیاب ہوچکاتھا۔اس ناگفتہ بہ صورت حال نے عالم اسلام میں بے چینی کی ایک لہر دوڑادی اور ہر طرف علماے راسخین اور مجاہدین آزادی اٹھ کھڑے ہوئے۔ مختلف اسلامی تحریکات اور شخصیات دنیائے اسلام کے کونے کونے میں پان اسلام ازم اور احیائے اسلام کے مبارک و مقدس کاز کے لیے سرگرم عمل ہوگئیں۔ 

یہ زمانہ افکار و نظریات کی شکست و ریخت کا زمانہ تھا۔ مغرب کے صنعتی و سائنسی انقلاب نے وہاں کے حالات یکسر بدل دیے تھے۔ افکار و خیالات کی دنیا میں ایک نمایاں تغیر آچکا تھا، اب جاگیر داری ختم ہورہی تھی اور اس کی جگہ شراکت جمہور نے لے لی تھی۔ سرمایہ داری کی پرانی شکلیں تبدیل ہوکر اب بین الاقوامی تجارتی ادارے (M.N.C.S) قائم ہورہے تھے۔ موروثی بادشاہت اور آمریت کی طنابیں بیسویں صدی کی ہوائے حریت سے یکے بعد دیگرے ٹوٹ رہی تھیں۔ مزدوروں کے استحصال نے سرمایہ دارانہ نظام اور بورژروا طبقہ کے خلاف سخت معاندانہ رجحانات پیداکردیے تھے۔انفرادی ملکیت کی بجائے اب سیاست و معیشت کے اداروں میں پرولتاریہ خیالات کی گونج سنائی دے رہی تھی اور یہ فکر زندگی کے ہر شعبہ کو شدت سے متاثر کرنے لگا تھا۔

مغربی نشاۃ ثانیہ کی پرورش و پرداخت اصلاً یہودی دماغ نے کی تھی، چنانچہ الحاد، بے دینی اور اخلاق سے بیزاری اس نئی تہذیب اور نئی بیداری کی نمایاں علامتیں بن گئیں۔ اب عقل انسانی ہی ہر چیز کی میزان، اور افادیت و نفع بخش ہی تمام اعمال کے خیروشر ہونے کا پیمانہ بن گئے۔ مذہبیات اور روحانیات پر الحادو تشکیل کی ہوائیں چلنے لگیں اور نئی نسلوں کے اذہان و قلوب کو متاثر کرنے لگیں۔ قومیت اور نیشنل ازم کی آوازیں اس زور سے اٹھیں کہ وطن پرستی ہی ’’روح عصر‘‘ سمجھی جانے لگی۔ عالم اسلام خود مختلف عصبیتوں اور قومیتوں کا شکار ہوگیا۔ فکری زعامت اور علمی و تحقیقی امامت بھی مشرق سے چھن کر اب مغرب کو منتقل ہوچکی تھی۔عالم اسلام پر اب عسکری و سیاسی حملوں کے بجائے علمی و فکری یلغار یں زیادہ ہورہی تھیں اورحکومت و ریاست اور سیاست ومعیشت کے مختلف اور متعدد نظریات سامنے آرہے تھے۔

ایسی صورت حال میں عالم اسلام میں اٹھنے والی مختلف تحریکات اور ان کے فکری رہنماؤں کی تحریرو ں اور تعبیروں میں خارج کے دباؤ کے تحت کچھ افراط و تفریط کا آجاناکچھ زیادہ تعجب کی بات نہیں ہے، کیونکہ انسان ہر حال میں اپنے ماحول اور اردگرد کی فضا سے اثر پزیر ہوتاہے۔چنانچہ برصغیر میں مدرسہ مودودیؒ کے پیداکردہ لٹریچر اور اس کے بانی کی خاص مصطلحات میں اس کے اثرات دیکھے جاسکتے ہیں۔ ۱ ؂ اسی طرح عالم عرب میں عظیم اسلامی تحریک ’’الاخوان المسلمون‘‘ کے ایک بڑے فکری رہنما اور مجاہد سید قطبؒ شہید کی بعض تحریروں میں بھی انہیں خیالات کی بازگشت ملتی ہے۔ ۲؂ بر صغیر کی بعض دوسری اور تحریکوں میں بھی افراط و تفریط کی یہی صورت حال نظر آتی ہے۔ ان میں سے بعض مغربی انقلاب سے شدید طور پر متاثر تھیں اور بعض خالص صوفیانہ نقشہ کے ساتھ اصلاح کا کام کرنا چاہتی تھیں۔ ۳؂ 

تحریکی و انقلابی تصور دین کی علمبردار جماعتوں اور تحریکوں نے بلاشبہ دین کی مدافعت ونصرت کی ناقابل فراموش خدمات انجام دی ہیں۔ انھوں نے کئی نسل کو الحاد و تشکیک کے حملوں سے بچایا، مستشرقین اور متجددین کے اعتراضات کے جواب دیے، اسلام سے متعلق مختلف پہلؤوں پر عصری اسلوب و آہنگ میں لٹریچر فراہم کیا۔بایں ہمہ چونکہ ان میں سے بیشتر اسلامی تحریکات کا پہلا دور جوش و خروش اور انقلابی جزیات اور تبدیلی کے ایک عمومی نشانہ کو لے کر ہوا تھا، اس بڑھی ہوئی انقلابیت کی وجہ سے کہیں پر جابر و مستبد مسلمان حکمرانوں سے ٹکراؤ اورتصادم کی کیفیت پیدا ہوگئی اور کہیں پر بنیادی فکر اور لٹریچر میں دین کی تعبیر و تشریح کے سلسلہ میں افراط و تفریط نے راستہ پالیا،حتی کہ جو شیلے نوجوان کارکن اور نسبتاً زیادہ انقلابی افراد ان تحریکوں سے بھی مایوس ہوکر الگ الگ گروپ بنانے میں جٹ گئے اور نیا خون کم ملنے کی وجہ سے اب اکثر تحریکیں تعصب وتحزب اور جمود فکری کا شکار ہونے لگی ہیں۔ 

دنیا کی دوسری قوموں کے مقابلہ میں بحکم ’’خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی ‘‘ امت مسلمہ کی ۱۴ سو سالہ تاریخ زوال و ادبار، انحطاط و تنزل کے ساتھ ہی اصلاح و تجدید سے بھی معمور رہی ہے۔امت کی اس پوری تاریخ میں عام روایت یہ رہی ہے کہ مصلحین و مجددین بلا استثنا پوری قوم کو اپنا مخاطب بناتے تھے۔ انھوں نے کسی تحریک و تنظیم کے تصور کی اساس پر کام نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اصلاح و تجدید کی تاریخ میں عمر بن عبدا لعزیز رضی اللہ عنہ سے لے کر حسن بصریؒ ، عبدالقادر جیلانیؒ ، غزالیؒ واشعریؒ تک اور ابن تیمیہؒ وابن خلدون ؒ سے لے کر امام ربانی مجدد الف ثانی سرہندیؒ اور امام ولی اللہ محدث دہلویؒ تک سب کے سب امت کی مشترکہ میراث بن گئے اور آنے والی نسلوں نے ان سے بلا استثنا کسب فیض کیا۔ ان عبقری شخصیات نے فقہی جمود، مسلکی اور جماعتی تعصب کی تنگ نائیوں اور محدود یتوں سے نکل کر فکر اسلامی کے آفاقی اور وسیع تصور کو سامنے رکھا۔

بیسویں صدی میں اٹھنے والی انقلابی تحریکیں امت میں ایک نئی روایت کا آغاز تھیں۔ ان سے امت کی اصلاح و تجدید کا یہی نکتہ پوشیدہ رہ گیا۔ بطور خاص بر صغیر میں دین کی تعبیر کے لیے جو اسلوب اختیار کیا گیا، جو لب ولہجہ اپنایا گیا، وہ یہاں کے لیے ایک نئی اور نامانوس بات تھی۔ اس کے باعث، نیز یہاں کے مخصوص حالات کے پیش نظر علما کی بڑی تعداد اس تحریک سے دور و نفور ہی رہی۔ نتیجہ یہ ہے کہ ایک مخصوص فکری حلقہ پیدا کرنے کے علاوہ یہ تحریکیں کوئی ہمہ گیر شکل اختیار نہ کر سکیں۔ عوام قابل ذکر تعداد میں ان کی طرف متوجہ نہ ہوئے اور ساری صلاحیتوں اور امکانات کے باوجود ان کے اثرات عام طور پر بہت محدود ہوکر رہ گئے۔

مذکورہ تحریکات کی نشوونما اور ارتقا کا زمانہ مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ کے عنفوان شباب کا زمانہ ہے۔مولانا نے ان میں سے بیشتر تحریکات اور ان کے بانیوں کو دیکھا، پرکھا اور برتا تھا۔ کئی ایک سے ان کی عملی وابستگی بھی رہی اپنے فکری سفر کے ارتقائی منازل طے کرتے ہوئے بالآخر وہ خود ’’ایک شخص ایک کاروان‘‘ کی شکل اختیار کرگئے۔گزشتہ نصف صدی کی عظیم علمی و فکری شخصیات کے مابین مولانا تنہا ایک ایسے داعی ومفکر اور روحانی قائد اور مرشد امت ہیں جو ان ساری محدودیتوں سے نکل کر بذات خود ایک مدرسہ فکر کی حیثیت اختیار کرگئے۔ مولانا ندوی ؒ کی زندگی ، ان کی عقلیت کے تکوینی عناصر، ان کا خاندانی پس منظر، ان کے اساتذہ گرامی قدر، ان کی تعلیم و تربیت اور فکری نشوونما، ان کی تصنیفات، ان کے عملی کارناموں اور ان کی اصلاحی و دعوتی جد وجہد کے بارے میں بہت کچھ کہا گیا ہے، بہت کچھ لکھا جاچکا ہے، اور آیندہ بھی ان پہلووں پر بہت ساکام ہوگا۔ میں یہاں اختصار کے ساتھ یہ عرض کرنا چاہتاہوں کہ مولانا کا فکری خمیر تحریک شہیدین کی جامع روح پرور اور انقلابی و تجدیدی دعوت سے اٹھا تھا۔یہی تحریک تھی جو ان کے دل میں جاگزیں ہوگئی تھی اور کہا جاسکتا ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بعد وہ اسی تحریک کو مثالی اور آئیڈیل نمونہ تصور کرتے تھے، اور اسی کے عملی مظاہر اور تقاضوں کی تلاش و جستجو میں انھوں نے مختلف شخصیات اور مختلف مراکز دعوت و فکر کی طرف قدم بڑھائے تھے۔ سید مودودی ؒ سے ان کا فکری رشتہ اسی کی خاطر استوار ہواتھا۔ بستی نظام الدین کے مرکزتبلیغ کی طرف ان کے قدم تبلیغی تحریک کے وسیع تناظر کو دیکھتے ہوئے ہی اٹھے تھے جو افسوس کہ بانی تبلیغ ،مصلح ا مت مولانا محمدالیاس کاندھلویؒ کے ذہن ہی میں رہا اور ان کی وفات پر ان کے ساتھ ہی رخصت ہوگیا۔ عالم عربی کے مجدد امام حسن البناءؒ کی تحریک اور ان کا منہج عمل اپنے جلال و جمال میں اسی تحریک کا پر تو نظر آیااور مولانا نے اس سے فیض اٹھانے میں کمی نہیں کی۔غرض یہ کہ ان کا اصل مایہ خمیر تحریک شہیدین تھی، اسی مشن کو انھوں نے اپنا مشن بنایا اور تاحیات اس مشن کے وفادار رہے، اور خود ان کا وجود مسعود بھی اس تحریک کا معنوی و امتداد و تسلسل بن گیا۔ 

مولانا ندوی کا بنیادی وصف یہ تھا کہ وہ عالم اسلام میں منصب توجیہ و ترشید پر فائز تھے۔عصر حاضر میں دین کی نئی تعبیر و تشریح کا مسئلہ پیش آیا اور بعض مفکرین سے اس سلسلہ میں بعض تسامحات ہونے لگے تو مولانا نے اس موضوع پر قلم اٹھایا اور اس ضمن میں اپنے بعض محبوب رفقا اور دوستوں پر بھی علمی تنقیدو محاسبہ کا فرض انجام دیااورعصرحاضرمیں دین کی تشریح و توضیح کے سلسلہ میں مولانا مودودیؒ کی تعبیری فر و گزاشتوں کا بھی مؤاخذہ کیا۔ ۴؂  ارید ان اتحدث الی الاخوان اور کتاب ’’البصائر‘‘، ’’عصر حاضر میں دین کی تفہیم و تشریح‘‘ اور ترشید الصحوۃ الاسلامیۃ سب اسی ترشیدی و توجیہی سلسلہ کی مختلف کڑیاں ہیں۔جب بر صغیر کے ایک تحریکی حلقہ میں یہ مسئلہ بڑے شد و مد کے ساتھ اٹھایا گیا کہ قرآن کے مخصوص مصطلحات کے معنی و مفہوم پر صدیوں پردہ پڑا رہ گیا تھا تو مولانا نے اس بات کی شدت کے ساتھ تردید کی اور علمی اور مثبت انداز میں ’’دعوت و عزیمت‘‘ کا ایک تاریخی سلسلہ لکھا۔ یہ پورا سیٹ اصلاً ان کے اس دعوے کا علمی ثبوت تھا کہ امت میں اصلاح و تجدید کا ایک تاریخی تسلسل قائم رہا ہے اور کسی مرحلہ میں بھی ایسا نہیں ہوا کہ دین کے مجموعی مفاہیم امت سے مستور ہوگئے ہوں۔ ماذا خسرالعالم بانحطاط المسلمین اور ’’الصراع بین الفکرۃ الغربیۃ والفکرۃ الاسلامیۃ‘‘ میں انھوں نے مختلف اسلامی ممالک میں امت کے ماضی حال و مستقبل کا ایک بصیر ت افروز اور مؤر خانہ و ناقدانہ جائزہ لیا، زوال و ادبار کے عوامل کی نشاندہی بھی کی اور موجودہ حالات میں عالم اسلام کس راستہ کو اختیار کرے، اس سوال کا جواب دیا اور واضح منہج عمل مسلمانوں کے سامنے رکھا۔ واقعہ یہ ہے کہ عالم اسلام نے مولانا کی اس توجیہ و ترشید کو دل سے قبول کیا ہے، چنانچہ تحریکات اسلامیہ کے موجودہ منہاج عمل اور عملی طریقہ ہائے کار میں اس کے اثرات کو صاف طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔اس لحاظ سے مولانا اس صدی کے بہت بڑے فکری قائد اور روحانی مرشد ہیں۔

مولانا ابوالحسن علی ندوی ؒ کا دوسرا بڑا وصف یہ ہے کہ وہ فقہی توسع کے قائل اور اس کے علمبردار تھے۔ انھوں نے جمود و تقلید کے بجائے ہمیشہ اجتہاد کی دعوت دی۔ عشق رسول، اتباع سنت، اور احترام سلف کے ساتھ تربیت باطن اور تزکیہ و احسان کو مطلوب شرعی قرار دیتے رہے۔ انھوں نے تصوف کو بدعات و خرافات اور عجمی اثرات سے پاک کرنے کی دعوت دی اور کتاب وسنت پر مبنی تصوف (احسان) کو روح دین سے کبھی متصادم نہیں سمجھا بلکہ اگر دیکھا جائے تو صحیح معنی میں انھوں نے ہی برصغیر میں پہلی بار علم تزکیہ (تصوف) کی تجدید کی اور اسے بدعات و شرکیہ اعمال سے اس کی تطہیر کی بنارکھی۔ اسی سلسلہ میں ان کے گہربار قلم سے ربانیۃ لا رھبانیۃ نکلی۔انھوں نے پوری ملت کو اپنا مخاطب سمجھا اور بنایا۔ جماعت دیوبند سے بھی انھیں ویسی ہی محبت تھی جیسی تحریک ندوہ سے۔ محدثین کے مسلک سے بھی انھیں عقیدت تھی اور متبع سنت صوفیا اور سلاسل تصوف کے بھی وہ قدر دان تھے۔گویا ان کی ذات میں تحریک ندوہ کی بازیافت ہوئی تھی اور اس کی اصل روح عود کرآئی تھی۔ المیہ یہ ہے کہ مولانا کے اس فکری اور عملی توسع کو بعض خوردہ بیں اور کوتاہ چشم فکر و عمل کا تضاد سمجھتے ہیں۔

مولانا ندوی ؒ نے دین کی سیاسی تعبیر پر تنقید کی، تاہم وہ اپنی زندگی کے کسی لمحہ میں بھی دین و سیاست کی دوئی اور تفریق کے قائل نہیں رہے۔انھوں نے اسلا م کی شوکت،خلافت کے ادارہ کے احیا اور عالم اسلام کے اتحاد اور قوت کی آرزو کی، اس کے لیے کوششیں کیں اور عالم اسلام کے سربراہوں، امرا، مفکروں اور دانشوروں سے جماعتوں اور ان کے قائدین سے اس سلسلہ میں کھلی باتیں کیں۔ ان کا سلسلہ ’’اسعمیات‘‘‘ اس پر شاہدعدل ہے۔ انھوں نے عالم اسلام کے مسائل سے ہمیشہ تعلق رکھا، مسلمان امرا کو ان کے فرائض سے متعلق آگاہ کرتے رہے، انھوں نے مصر کی ناصریت، عربی قومیت اور ترکی کی کمالیت پر تنقید کی، مسجد اقصیٰ اور مقبوضہ فلسطین کے مسائل پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

امت کے ضیاع پر مولاناابوالحسن علی ندوی (جوعرف عام میں علی میاں ندوی کے نام سے معروف ہیں)انگاروں پر لوٹتے تھے، لیکن ان کا یہ درد محض احساس و شعور اور قرطاس و قلم تک ہی محدود نہ تھا، انھوں نے امت کا مرثیہ پڑھنے اور آہ وبکا کرنے پر بھی اکتفا نہیں کیا۔ وہ قنوطیت اور یاسیت کے بھی شکار نہ تھے نہ ہی خوش فہمیوں میں مبتلا رہے، بلکہ میدان عمل میں آکر ایک دیدہ ور سپاہی کی طرح اور ایک با شعور اور بابصیر ت قائد کی طرح ہر محاذ پر آگے نظر آئے۔ وہ ڈرائنگ روم مفکروں، گوشہ نشین علما و مدرسین اور زمانے کے اندھیروں اور اجالوں سے بے خبر ’’ہو حق‘‘ کی ضربیں لگانے والے عابدوں اور زاہدوں میں سے نہیں تھے بلکہ ان کی پوری زندگی تمام تر علمی و تحقیقی مشغولیتوں، عبادات کے ذوق و شوق اور روحانی ریاضتوں کے باوجود سر تاپا جہد وعمل سے عبارت تھی۔ وہ عالم اسلام میں ہونے والے ہر قسم کے تعلیمی و تربیتی، دعوتی اور اصلاحی کاموں میں تعاون کرتے اور اصلاحی تحریکات کے پشت پناہ اور مؤید اور ان کے لیے دعا گو بھی تھے۔

مولاناندویؒ کو فکر ارجمند کے ساتھ دل درد مند بھی عطا ہواتھا۔ دین ظلم سے، کفر اور شرک سے نفرت سکھاتا ہے، لیکن ایک انسان کے ساتھ (چاہے وہ کافر و مشرک ہی کیوں نہ ہو) وہ فرخ دلانہ، مصلحانہ اور ناصحانہ رویہ کا طالب ہے۔ ہر نبی کی کی دعوت میں یہ چیز نہایت ابھر ی ہوئی ہے کہ ہر نبی نے اس راہ کی تمام مشکلات کو خندہ جبینی سے برداشت کیااور قوم کی طرف سے پیش آنے والی مصیبتوں اور اذیتوں کے باوجود انا لکم ناصح امین ہی کہا۔ علماے حق اور مصلحین امت بھی انبیا کی نیابت کرتے ہیں۔بنی آدم کے لیے ہمدردی و غم گساری، بلند انسانی قدروں کی حفاظت، حق کی طرف داری، مظلوموں کے حق میں آواز اٹھانا، اور ظلم کے خلاف احتجاج کرنا وغیرہ جیسے عناصر کا پایا جانا دعوت واصلاح کی تاریخ کا ایک ناگزیر حصہ ہے ۔مولانا کی ’’پیام انسانیت‘‘ کی تحریک دراصل ایسی جذبہ واحساس کی ایک تعبیر ہے۔

آج عقلیت کا دوردورہ ہے۔ سائنٹفک ریسرچ و تحقیق کے نام پر الحادی تہذیب اور تشکیک کی فضا پھیلائی جارہی ہے۔ اس صورت حال میں دینی مفاہیم اور تعلیمات کی تشریح کے لیے عصری اسلوب کا استعمال و قت کا تقاضا اور ایک ناگزیر دعوتی ضرورت ہے۔ اس صدی کے کئی بہترین دماغوں نے عقلی اور استدلالی اسلحوں سے لیس ہوکر اسلام کی نصرت و اشاعت کاکام کیا ہے جس کی مثال میں مولانا وحیدالدین خان کی شاہکار کتاب ’’مذہب اورعلم جدید کا چیلنج‘‘ کو پیش کیا جاسکتاہے اور ان کا یہ کام اپنی جگہ نہایت مہتم بالشان اور ضروری ہے اور مولانا ندوی ؒ عصری اسلوب میں کام کی اہمیت کو سمجھتے ہیں۔ تاہم یہ ایک نفسیاتیحقیقت ہے کہ انسان عقل و منطق کے سہارے زندگی نہیں گزارسکتا۔ عقل اور سائنس انسان کے دل میں شکوک و شبہات کے بیج بو سکتے ہیں، اسے ایمان و یقین کی حرارت اور طمانیت قلب کی دولت نہیں دے سکتے ۔ یہ چیز تو اسے صرف قلب و روح کی تسکین اور جذبہ و ضمیر کے اطمینان کے راستے سے مل سکتی ہے۔مولانا کا یہ ایک بہت بڑا امتیاز ہے کہ وہ عقل سے زیادہ جذبہ کی تطہیر اور فکر سے زیادہ عمل کی دعوت دیتے ہیں۔ یہی انبیا و مصلحین کی دعوتوں کا مزاج بھی رہا ہے۔ ایک صحیح حدیث میں اس حقیقت کو ان الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے کہ ’’الا ان فی الجسد لمضغۃ اذا صلح صلح الجسد کلہ واذا فسد فسد الجسد کلہ، الا وھی القلب‘‘۔ 

موجودہ زمانہ فن کا زمانہ ہے۔ آج فن سے کا م لے کر لوگ اس فکر و خیال کی بھی جاندار و شاندار ترجمانی کردیتے ہیں جن سے انہیں کوئی قلبی تعلق اور دلی وابستگی نہیں ہوتی۔غالباً یہ بھی ایک وجہ ہے کہ داعیوں کی کثرت اور مطبوعہ اور مسموعہ لٹریچر کی زیادتی کے باوجود متوقع اثرات و نتائج حاصل نہیں ہورہے ہیں۔ آج کتنے ہی سحر انگیز خطیب، کتنے ہی وسیع المطالعہ دانشور اور بلیغ طرز ادا کے مالک مصنفین اور جادو نگار ادیب اور محقق مل جائیں گے جن کے فکر وعمل میں واضح تضاد ملتا ہے، جن کے بولنے اور لکھنے پر فدا ہونے والے اور سن کر مسحور ہوجانے والے ان کی سیرت و کردار کو دیکھیں تو یقیناًانہیں ان کی سطح سے بہت گرا خیال کریں اور ان پر نفرین بھیجنے لگیں۔ دانشوروں کی اس بھیڑ میں مولاناعلی میاںؒ کا ایک امتیاز یہ ہے کہ ان کے ہاں دانش و بنیش بھی ہے اور ایمان ایقان کی سرور آگیں کیفیت بھی ۔ان کے حرف حرف سے اخلاص و للٰہیت ٹپکی پڑتی ہے۔ ان کی پرشکوہ اور خطیبانہ طرز کی تحریروں و تقریروں میں فصاحت و بلاغت کی چاشنی بھی ہے ، حرارت قلب اور جوش عشق کا سامان بھی۔ کثرت معلومات اور تحقیق کے اعلیٰ درجہ پر ہوتے ہوئے بھی ان کے بول بول میں ایک عجیب طرح کی روحانی کشش ولذت پائی جاتی ہے۔ ان کا قاری انہیں پڑھ کر جوش عمل سے سرشار ہوجاتا ہے اور اسے کہیں بھی قول وفعل میں تضاد یا دورنگی کا احساس نہیں ہوتااور مصنوعیت اور لفاظی کا خیال نہیں ہوتا۔

مولانا علی میاںؒ کے ہاں فن بھی ہے اور فنی نزاکتوں کا بھر پور احساس بھی ، تاہم فن سے زیادہ مقصدیت ان کے پیش نظر ہوتی ہے۔ وہ ادب برائے ادب کی تخلیق نہیں کرتے بلکہ ادب کو ایک اعلیٰ اور بلند انسانی زندگی کی تعمیر کے لیے استعمال کرتے ہیں اور عالمی رابطہ ادب اسلامی ۵؂ دراصل ان کے اسی ادبی فکر کا عملی مظاہرہ ہے۔ کوئی شک نہیں کہ وہ اردو و عربی دونوں کے ایک صاحب طرز انشا پرداز ادیب ہیں، اسی طرح وہ ایک کامیاب سوانح نگار، اور صاحب نظر ناقد و مؤرخ ہیں،لیکن اس سب سے زیادہ وہ ایک دل درد مند رکھنے والے داعی، دیدہ ور مصلح اور صاحب فراست مربی ہیں۔


حواشی 

۱؂ مولانا مودودی اور سید قطب کی تحریروں میں دین کے سیاسی پہلو پر غیر ضروری زور دیاگیا اور ان کی تشریح کی رو سے دین کی سماجی واجتماعی نظام زندگی کی حیثیت زیادہ ابھر کر سامنے آئی اور اس کا تعبدی پہلوکمزور پڑگیا جس کے اثرات ان کے پیداکردہ لٹریچر میں بھی صاف دیکھے جاسکتے ہیں۔ مولانا مودوی کا یہ فکر تفہیم القرآن ،اسلامی عبادات پر ایک تحقیقی نظر ،اور ’خطبات ‘میں نظر آتا ہے، تاہم اس کو خاص منضبط انداز میں انہوں نے’ قرآن کی چار بنیادی اصطلاحوں‘میں پیش کیاہے جس میں انہوں نے الٰہ، رب ،عبادت اور دین کے معانی ومفاہیم لغت عرب کی بنیاد پر متعین کیے ہیں،ان کے مطابق صفات الٰہیہ میں حاکمیت الٰہ اور اقتدار اعلی ہی اصل او ر بنیادی صفت ہے ۔اس فکر پر مفصل نقد کے لیے ملاحظہ ہو ’’تعبیر کی غلطی‘‘ مؤلفہ مولاناوحیدالدین خان اور ’’عصرحاضرمیں دین کی تفہیم و تشریح پر ایک نظر‘‘ از مولانا ابوالحسن علی ندوی۔

۲؂ سید قطب نے بھی معالم فی الطریق اور فی ظلال القرآن میں متعدد مقامات پر اس فکر کی ہم نوائی کی ہے،وہ لکھتے ہیں کہ اخص خصائص الالوھیۃ الحاکمیۃ۔ 

۳ ؂ اصل میں دین کی عصری تعبیر ایک دودھاری تلوار کی طرح ہے جس میں اگر ذرا سا بھی احتیاط کا دامن ہاتھ سے چھوٹ جائے اور حد سے تجاوز ہوجائے تو بات کہاں سے کہاں پہنچ جاتی ہے۔چنانچہ عنایت اللہ مشرقی جیسے عبقری اور ذہین انسان نے جب ٹھوکر کھائی تو خاکسار تحریک چلائی اور دین کی عصری تعبیر کے نام پر علما کی شدید و بے جا مخالفت شروع کردی۔عبادات کے نظام اور قرآن کی ترتیب اور نظم کی تفہیم میں من مانی تاویلات کیں،نماز کو فوجی پریڈ بنادیا۔ علما سے سائنس داں مراد لیے ۔مشرقی صاحب کی یہ نئی تاویلات ان کی کتاب تذکرہ میں خاص طور پر نمایاں ہیں۔اس کتاب اوراس کے تکملہ میں انہوں قرآن کی نزولی ترتیب وضع کی ہے،اور اسی کو اصل قرار دیاہے ،نیز علما کی مخالفت میں ’’ملاکا نیادین‘‘ ۱۔۲۔۳ نہایت استہزائیہ انداز میں لکھی۔ اسی طرح غلام احمد پرویز نے دین کی معاشی اور سوشلسٹ تعبیر کی اور زکوٰۃ کا پوراسسٹم انہیں ذاتی ملکیت کے خلاف نظر آیا جیساکہ ان کی کتاب ’’لغات القرآن‘‘ اور ’’نظام ربوبیت ‘‘ سے معلوم ہوتاہے ۔ان کے ہاں انکار حدیث کا رجحان اس پر مستزاد ہے ۔ 

۴؂یہ نقطہ نظراصلاً صوفیا کا تھا جن کے ہاں مخاطب کی رعایت، انسان دوستی و خدمت خلق کے فلسفہ کے باعث کفر واسلام کے مابین امتیاز بھی ختم سا ہوگیاتھا۔ بعض اوقات انھوں نے مقامی تصورات و رسوم کو بھی وسیلہ تبلیغ کے طورپراختیار کرلیا۔ بلاشبہ محقق صوفیا ہمیشہ ان غالی خیالات کی تردید کرتے رہے، لیکن ان کے اکثر طبقات و سلاسل پر یہی رجحانا ت غالب رہے جس میں وحدت الوجود کے فلسفہ نے توحید و شرک کے مابین سارے فاصلے ہی ختم کر دیے۔ دور جدید میں تصوف کے زیر اثر حلقوں میں ایک اور فلسفہ نمودار ہوا جس کی ترجمانی بر صغیر میں تبلیغی جماعت کا پیٹرن کرتا ہے۔یہ صحیح ہے کہ مسلمان عوام پر اصلاح و تبلیغ کے اس فکر کے گہرے اثرات پڑے ہیں، تاہم اس کا یہ پہلو بہت کھٹکتا ہے کہ اس میں نھی عن المنکر کے پہلو کو مکمل طور پر فراموش کرکے امر بالمعروف اور بشارت کے پہلو پر زیر صرف کیا جاتا ہے اور احادیث فضائل سے خاص طور پر مددلی جاتی ہے۔

۵؂ ملاحظہ ہو عصر حاصر میں دین کی تشریح وتفہیم پر ایک نظر ۔

۶ ؂ یہ خیال مولانا مودودی نے اپنی کتاب ’’قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں‘‘ کے مقدمہ میں ( ص ۴تا۶)میں ظاہر کیاہے۔

۷ ؂ مصرمیں ناصری مظالم کی شدت کے وقت جیلوں میں بندچند اخوانی نوجوانوں میں ردعمل کی کیفیت پیداہوئی اور انہوں نے صدر ناصر اور اس کے حواری مواریوں کی تکفیر شروع کردی تو اس شدت کے خلاف اخوان کے مرشد عام استاذ حسن الہضیبی نے ایک کتاب لکھی ’دعاۃ لاقضاۃ‘ کہ ہم داعی ہیں، خدائی فوجدار نہیں۔یہ کتاب گویا مولاناعلی میاں ؒ کے خیالات کی تائید ہی تھی۔

شخصیات