علمِ حدیث پر مستشرقین کے اعتراضات (جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہریؒ کے افکار کا خصوصی مطالعہ)

پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم ورک

ڈاکٹر محمد اکرم وِرک (شعبہ اسلامیات، گورنمنٹ ڈگری کالج، پیپلز کالونی، گوجرانوالہ)

محمد ریاض محمود (شعبہ اسلامیات، گورنمنٹ مولانا ظفر علی خان ڈگری کالج، وزیرآباد)


سترھویں، اٹھارویں اور کسی حد تک انیسویں صدی کے آغاز میں مستشرقین کی جو کتابیں منصہ شہود پر آئیں، ان میں بیشتر حملے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی پر کیے گئے ۔اس مہم کے قافلہ سالار مشہور مستشرق سر ولیم میور(م ۱۹۰۵ء) (Sir william Muir) ہیں جنھوں نے چار جلدوں پر مشتمل اپنی کتاب The Life of Muhammad میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی کو ہدفِ تنقید بنایا۔ یہ کتاب بڑی تہلکہ خیز ثابت ہوئی جس نے مسلمان اہلِ علم کو شدید اضطراب میں مبتلا کردیا۔ سر سید احمد خانؒ (م ۱۸۹۸ء )،اللہ تعالیٰ ان کو غریقِ رحمت فرمائے، وہ اوّلین شخص تھے جنھوں نے ۱۸۷۰ء میں ’’ خطباتِ احمدیہ‘‘ میں مستشرق مذکور کے اعتراضات کاعلمی اسلوب میں جواب دیا۔ سرسید نے اس کتاب کو محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے جس جذبے سے سر شار ہو کر مرتب کیا اوراس کی تکمیل کے لیے انگلستان کے سفر سمیت جو صعوبتیں برداشت کیں، وہ ان کے عشقِ رسول اور ایمانی حرارت کا بین ثبوت ہے۔ (1) علامہ شبلی نعمانی ؒ (م ۱۹۱۴ء ) کی قابلِ قدر تصنیف ’’ سیرۃ النبی‘‘ بھی دراصل سیرت پر مستشرقین کے اعتراضات ہی کا ردِ عمل ہے۔ عالمِ اسلام کے دیگرحصوں میں بھی مسلمان اہلِ علم نے مستشرقین کا علمی تعاقب کیا۔

اس دور میں مستشرقین کی یہ حکمتِ عملی نظر آتی ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات چونکہ اسلام کا مرکز و محور ہے، اس لیے کسی طرح اہلِ اسلام کے دلوں میں رسولِ خدا کی والہانہ محبت کو، جو دراصل اسلام کی روح ہے، ختم کیا جائے ۔ شاعر مشرق حضرت علامہ اقبال ؒ نے (م ۱۹۳۸ء) اہلِ مغرب کی اس سازش کو بھانپتے ہوئے ان الفاظ میں اس کا پردہ چاک کیاہے :

وہ فاقہ کش کہ موت سے ڈرتا نہیں ذرا
روحِ محمد اس کے بدن سے نکال دو 
فکرِ عرب کو دے کے فرنگی تخیلات
اسلام کو حجاز و یمن سے نکال دو 

(ضرب کلیم)

بہت جلد مستشرقین کو اس بات کا احساس ہو گیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر ان کے یہ الزامات اتنے کمزور اور بودے ہیں کہ علمی دیا نت کا خو گر کوئی بھی منصف مزاج انسان ان الزامات کو قبول نہیں کر سکتا ۔ دوسری طرف مسلمان اہلِ علم نے سیرت پر مستشرقین کے اعتراضات کی سطحیت کو دلائل و براہین کے ترازو میں رکھ کران کی علمی بد دیانتی کو مبرہن کرکے رکھ دیا۔ نتیجے کے طور پر مستشرقین میں سے ہی کئی معتدل مزاج اہلِ علم نے اپنے بھائی بندوں کے اس نوعیت کے اعتراضات پر افسوس کا اظہار کیا،چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ بعد کے دور میں مستشرقین نے اپنی تحریروں میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نسبتاً احترام کے ساتھ کیا ہے۔(2) 

سیرت کے محاذ پر جب مستشرقین کو منہ کی کھانی پڑی تو انھوں نے اپنا رخ قرآن مجید کی طرف موڑ دیا اوران لوگوں نے ان تمام اعتراضات کو قرآن پرلوٹانے کی کوشش کی جو عام طور پر بائیبل پر کیے جاتے ہیں ۔ اس مہم کا آغاز ۱۸۶۱ء میں جارج سیل (Gorge Sale) نے "The Koran"سے کیا اورمعروف آسٹریلوی مستشرق آرتھر جیفری Jeffery) (Arthur نے اس تحریک کو نقطۂ عروج تک پہنچایا ۔ موصوف نے اپنی کتابوں"The Koran: selected Suras"،اور"Islam, Muhammad and his Religion" نیز قرآنیات پر اپنی مشہور کتاب Materials for the history of the Text of the Quran" "میں قرآن کے متن کے غیرمحفوظ ہونے کے اعتراضات اٹھائے، لیکن مستشرقین کی یہ مہم بھی بہت جلد کمزور ہوگئی۔ صرف چالیس پچاس سال کی محنت کے بعد ہی مستشرقین کو اندازہ ہوگیا کہ قرآن اتنی مضبوط بنیادوں پر کھڑا ہے کہ اس کو محض الزامات سے ہلانا ممکن نہیں۔ (3) 

اب ایک اور مہم شروع ہوئی اور ان لوگوں نے اپنا رخ حدیثِ رسول کی طرف کرلیا ، لیکن اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں ہے کہ مستشرقین نے سیرت اورقرآن پر اعتراضات سے کلی طور پر صرفِ نظر کر لیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ اب بھی سیرت اور قرآن پر اعتراضات کرتے ہیں، لیکن ان میں اب وہ پہلے جیسی شدت نہیں ہے ۔ حالات کے جبر نے مستشرقین کو مجبور کیا کہ وہ اسلام کے خلاف کسی اور محاذ پر نئی صف بندی کریں چنانچہ انھوں نے قرآن کے بعد اسلام کے دوسرے بنیادی مأخذ حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تختۂ مشق بنانے کا فیصلہ کیا ۔

ڈاکٹر اسپرنگر (Sprenger) نے تین جلدوں میں سیرت پر کتاب لکھی تو اس میں حدیث کی روایت اور اس کی حیثیت پر بھی تنقید کی۔ سرولیم میور نے سیرت پر اپنی کتا ب میں حدیث پر اس بحث کو مزید آگے بڑھایا ، لیکن حدیث پر جس شخص نے سب سے پہلے تفصیلی بحث کی ،وہ مشہور جرمن مستشرق گولڈ زیہر (م ۱۹۲۱ء) (Gold Zehr)ہے۔ اس نے اپنی کتاب "Muslim Studies"کی دوسری جلد میں علمِ حدیث پر تجزیاتی انداز میں تنقید کی ہے۔ بعد کے دور میں تمام مستشرقین نے گولڈ زیہر ہی کے اصولوں کا اتباع کیا ہے۔ پروفیسر الفرڈ گیوم (Alfred Guillaume)نے اپنی کتاب "Islam" اور "Traditions of Islam"میں گولڈ زیہر کی تحقیق کو آگے بڑھایا ہے۔ جوزف شاخت (Joseph Schacht)نے اپنی کتاب "The Origins of Muhammadan Jurisprudence" میں گولڈ زیہر کے اصولوں کی روشنی میں اسلامی قانون کے مصادر ومنابع کاتجزیہ کیا ہے اور حدیث کے ظہور اور ارتقا پر بحث کرتے ہوئے حدیث کی نبوی کی ؑ حیثیت کو مشکوک قرار دیا ہے۔اس کے علاوہ مارگولیتھ (م ۱۹۴۰ء) (Margoliouth)، رابسن(Robson)، گب(م ۱۹۶۵ء)(Gibb)،ول ڈیورانٹ(م ۱۹۸۱ء) (Will Durant)،آرتھر جیفری (Arthur Jaffery)، منٹگمری واٹ (م ۱۹۷۹ء)(Montgomery Watt) ، ہوروفیتش (Worowitz)، وان کریمر (Von Kremer)، کیتانی (Caetani) ،اور نکلسن(Nicholson) وغیرہ نے بھی اپنے حدیث مخالف نظریات پیش کیے۔

عصر حاضر میں مستشرقین نے اسلام کے خلاف ایک اور محاذ کھول رکھا ہے اور ان کی کوشش ہے کہ کسی طرح اسلامی تعلیمات کو غیر عقلی اور غیر فطری ثابت کیا جائے اور یہ باور کروایا جائے کہ اسلامی احکامات بنیادی انسانی حقوق سے متصادم اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگ نہ ہونے کی وجہ سے ناقابلِ عمل ہیں ۔ اس وقت یہ محاذ مسلمان اہلِ علم کی فوری توجہ کا متقاضی ہے ۔ حضرت شاہ ولی اللہ ؒ (م ۱۷۶۴ء ) نے ’’حجۃ اللہ البالغۃ‘‘ میں جس طرح مقاصدِ شریعت کو واضح کرتے ہوئے اسلامی تعلیمات کو انسانی عقل و دانش کا تقاضا قرار دیا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ آج کی زبان اور محاورے میں دین کی تعبیر و تشریح کے اس اسلوب کو جدید علمِ کلام کی روشنی میں بیان کیا جائے ۔ فی الوقت یہ موضوع ہمارے پیشِ نظر نہیں ہے، اس لیے ان سطور میں ہم اپنی گفتگو کو علم حدیث تک ہی محدود رکھیں گے۔ 

مستشرقین میں سے علمِ حدیث پر بنیادی کام گولڈ زیہراورشاخت ہی کا ہے۔ یہ دونوں یہودی ہیں اوران کا تعلق جرمن سے ہے۔ جن دیگر مستشرقین نے حدیث نبوی کو اپنی تحقیقات کا موضوع بنایا ہے، انھوں نے اسلامی مصادر سے براہِ راست استفادہ کرنے کی بجائے زیادہ تر گولڈ زیہر اور شاخت کی تحقیقات کو ہی اپنے خیالات کی بنیادبنایا ہے ۔ آزادانہ تحقیق کے دعوے دار مغربی اہلِ علم کے اس اسلوبِ تحقیق پرجسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری ؒ (م۱۹۱۸ ۔۱۹۹۸ء) تعجب کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

’’حیرت کی بات ہے کہ اصولِ حدیث اور تاریخِ حدیث پر مسلمانوں کی بے شمار کتابیں دنیا کی لائبریریوں میں موجود ہیں۔ حدیث طیبہ کے بارے مسلمانوں کا جو موقف ابتدا سے رہا ہے، وہ ہر دور کی تصانیف میں درج ہے لیکن مستشرق محققین نہ تو مسلمانوں کے موقف کی طرف اپنی توجہ مبذول کرتے ہیں اور نہ ہی حدیث کے متعلق مسلمانوں کے چودہ سو سالہ ادب کو کوئی اہمیت دیتے ہیں، بلکہ ان پر جب حدیث کے متعلق تحقیق کا بھوت سوار ہوتا ہے تو گولڈ زیہر اور اس کے نقالوں کی تصانیف کو ہی قابلِ اعتماد مصادر قرار دیتے ہیں۔‘‘ (4) 

حضرت پیرمحمد کرم شاہ الازہری ؒ نے علم حدیث کے دِفاع پر اپنی مستقل کتاب ’’سنت خیر الانام صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ میں مستشرقین اور منکرینِ حدیث کے اہم اعتراضات کا جائزہ پیش کیا ہے ،تاہم فاضل مصنفؒ نے موقع کی مناسبت سے سیرت پر اپنی کتاب ’’ضیاء النبی صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘ میں بھی علم حدیث پر مستشرقین کے اعتراضات کا جائزہ لیا ہے۔ پیر صاحب ؒ کی اس قابلِ قدر تصنیف کی یہ ایک نمایاں خصوصیت ہے کہ اس کی پہلی پانچ جلدوں میں سیرت کے عمومی بیان کے بعد آخری دو جلدوں میں اسلام کے بنیادی مآخذ، سیرت رسولِ عربی صلی اللہ علیہ وسلم، قرآن حکیم اور حدیثِ رسول پرمستشرقین کے بنیادی اعتراضات کا خالص علمی اسلوب میں تجزیہ کیا گیا ہے۔سیرت کے موضوع پرلکھی گئی کتابوں میں ’’ضیاء النبی‘‘ کا یہ خاص امتیاز ہے کہ اس میں قرآن و حدیث کو شعوری طور پر سیرت ہی کا لازمی حصہ سمجھتے ہوئے موضوعِ بحث بنایا گیا ہے۔ اس کتاب کی یہ خصوصیت بذات خود اس حقیقت کی غماز ہے کہ فاضل مصنفؒ کی نظر میں قرآن مجید در حقیقت رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا بیان اور حدیث و سنت اس کی عملی تشریح و تعبیر ہے، اس لیے ان کی نظر میں مستشرقین کا قرآن و سنّت کو تنقید کا نشانہ بنانا براہِ راست سیرت پر تنقید ہی کے مترادف ہے۔ مستشرقین نے حدیثِ رسول کو من گھڑت اور جعلی قرار دینے میں جو سخت مشقتیں اٹھائی ہیں، پیر صاحب ؒ اس کی اصل وجہ بیان کرتے ہوئے رقمطرازہیں:

’’ قرآن حکیم کی مخالفت کرتے ہوئے مستشرقین کو یہ مشکل پیش آئی کہ وہ قرآن حکیم کی من مانی تشریح نہیں کرسکتے تھے کیونکہ قرآن حکیم کی وہ تشریح جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود کی تھی، وہ احادیث طیبہ کی شکل میں مسلمانوں کے پاس موجود تھی۔ تاریخ کے کسی دور میں جب کسی قسمت آزما نے قرآن حکیم کو اپنی مرضی کے معانی پہنانے کی کوشش کی تو ملتِ اسلامیہ کے علمائے ربانیین نے احادیثِ طیبہ کی مدد سے ان کا منہ توڑ جواب دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن حکیم کی معنوی تحریف کی کوششیں ہمیشہ احادیثِ طیبہ کی مضبوط چٹان کے ساتھ ٹکرا کر پاش پاش ہوئیں۔ ‘‘ (5) 
’’مستشرقین جب قرآن حکیم کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام کہتے تھے تو وہ مجبور تھے کہ احادیث طیبہ کے متعلق کوئی اور مفروضہ تراشیں ۔یہ با ت انھیں مناسب معلوم نہ ہوتی تھی کہ قرآن حکیم اور احادیث طیبہ دونوں کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام قرار دیں ۔مستشرقین کے تخیل کی پرواز ویسے ہی بہت بلند ہوتی ہے، اس لیے انھوں نے احادیث طیبہ کے مصادر تلاش کرنے کے لیے بھی اپنے تخیل کے گھوڑے دوڑائے اور ایک نہیں بلکہ احادیث طیبہ کے کئی مصادر تلاش کر لیے ۔‘‘(6) 

علمِ حدیث پر مستشرقین کے بنیادی اعتراضات

مستشرقین نے علمِ حدیث پرجو بنیادی اعتراضات کیے ہیں، سب سے پہلے تو ہم اپنے قارئین کی خدمت میں ان کا خلاصہ پیش کریں گے اور پھرجسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری ؒ کے افکار کی روشنی میں ان اعتراضات کا جائزہ لیں گے۔ 

(۱)مستشرقین نے حدیث کے بارے میں یہ غلط فہمی پیدا کرنے کی کوشش کی ہے کہ دورِ اوّل کے مسلمان حدیث کو حجت نہیں سمجھتے تھے ،مسلمانوں میںیہ خیال بعد کے دور میں پیدا ہوا۔ (7) جوزف شاخت نے لکھا ہے کہ امام شافعی ؒ (م ۲۰۴ھ) سے دو پشت پہلے احادیث کی موجودگی کا کوئی اشارہ ملتا ہے تو یہ شاذ اور استثنائی واقعہ ہے۔ (8) آرتھر جیفری (Arthur Jeffery)کہتا ہے کہ پیغمبر ؑ کے انتقال کے بعد ان کے پیرو کاروں کی بڑھتی ہوئی جماعت نے محسوس کیا کہ مذہبی اور معاشرتی زندگی میں بے شمار ایسے مسائل ہیں جن کے متعلق قرآن میں کوئی راہنمائی موجود نہیں ہے،لہٰذا ایسے مسائل کے حل کے لیے احادیث کی تلاش شروع کی گئی۔(9) 

(۲)محدثین کے ہاں اسناد کی جو اہمیت ہے، وہ دلائل کی محتاج نہیں ہے حتی کہ انھوں نے اسناد کو دین قرار دیا ۔ مستشرقین چونکہ اسناد کی اہمیت سے پوری طرح آگاہ ہیں، اس لیے انھوں نے اسناد کے من گھڑت ہونے کا اعتراض کرکے احادیث کو ناقابلِ اعتبار قرار دینے کی کوشش کی اور دعویٰ کیا کہ اُس دور میں لوگ مختلف اقوال اور افعال کو محمد ؑ کی طرف منسوب کردیا کرتے تھے ۔کتانی (Caetani) (10) اور اسپرنگر (Springer) (11) ان مستشرقین میں شامل ہیں جن کے نزدیک اسناد کاآغاز دوسری صدی کے آواخر یا تیسری صدی کے شروع میں ہوا۔گولڈ زیہر موطأ امام مالک ؒ پر بحث کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ امام مالک ؒ (م ۱۷۹ھ) نے اسناد کی تفصیل بیان کرنے کے لیے کوئی مخصوص طریقہ اختیار نہیں کیا بلکہ اکثر و بیشتر وہ عدالتی فیصلوں کے لیے ایسی احادیث بیان کرتے ہیں جن کا سلسلۂ اسناد صحابہ تک ملا ہوا نہیں اور اس میں متعدد خامیاں ہیں۔ (12) جبکہ جوزف شاخت کا کہنا ہے کہ اس مفروضے کو قائم کرنے کی کوئی دلیل نہیں ہے کہ اسناد کے باقاعدہ استعمال کارواج دوسری صدی ہجری سے قبل ہو چکا تھا۔(13) منٹگمری واٹ (Montgomery Watt)نے اسناد کے مکمل بیان کو امام شافعی ؒ (م ۲۰۴ھ) کی تعلیمات کا نتیجہ قرار دیا ہے۔(14) 

(۳) مستشرقین نے قرآن مجید کی طرح احادیث پر بھی یہ اعتراض کیا ہے کہ بہت ساری روایات یہودو نصاریٰ کی کتب سے متأثر ہوکر گھڑی گئی ہیں ۔وہ احادیث جن میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی معجزانہ شان کا ذکر ہے،ان پر تبصرہ کرتے ہوئے ول ڈیورانٹ(م ۱۹۸۱ء) (Will Durant)کہتاہے کہ بہت ساری احادیث نے مذہبِ اسلام کو ایک نیارنگ دے دیا ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعویٰ نہیں کیا تھا کہ ان کے پاس معجزات دکھانے کی قوت ہے ، لیکن سینکڑوں حدیثیں ان کے معجزانہ کارناموں کا پتہ دیتی ہیں جس سے واضح طور پر محسوس ہوتا ہے کہ اکثر احادیث عیسائی تعلیمات کے زیر اثر تشکیل پذیر ہوئیں۔ (15) اس قسم کا دعویٰ کرنے والوں میں فلپ کے حتی (Philip.K.Hitti) بھی قابلِ ذکرہے۔ (16) 

(۵)مستشرقین کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ چونکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث کی کتابت سے منع کردیا تھا، اس لیے دورِ اوّل کے علما نے علمِ حدیث کی حفاظت میں سستی اور لاپرواہی سے کام لیا جس کے نتیجہ میں احادیث یا تو ضائع ہوگئیں یا پھران میں اس طرح کا اشتباہ پیدا ہوگیا ہے کہ پور ے یقین کے ساتھ کہنا کہ یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے ، ممکن نہیں ہے۔مستشرق الفرڈگیوم (Alfred Guillaume) لکھتا ہے کہ یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ حدیث کے بعض مجموعے اموی دورکے بعد جا کر مدون ہوئے۔ (17) مشہور مستشرق میکڈونلڈ (Macdonold) لکھتا ہے کہ بعض محدّثین کا صرف زبانی حفظ پر اعتماد کرنا اور اُن لوگوں کو بدعتی قرار دینا جو کتابتِ حدیث کے قائل تھے، یہ طرزِ عمل بالآخر سنّت کے ضائع ہونے کا سبب بنا۔ (18) 

مستشرقین نے ایک خاص حکمتِ عملی کے تحت ان عظیم شخصیات کو اپنی تنقید کا نشانہ بنایا ہے جو حدیث و سنّت کی جمع و تدوین اور حفاظت میں بنیادی پتھر کی حیثیت رکھتی ہیں۔ مستشرقین نے اس مقصد کے لیے جن شخصیات کو خاص طور اپنی تنقید کا نشانہ بنایا ہے ان میں ایک تو مشہور صحابی حضرت ابو ہریرہؓ( م ۵۹ھ) اور دوسرے نامور تابعی امام ابنِ شہاب زہری ؒ (م ۱۲۴ھ) ہیں۔ گولڈ زیہر (م ۱۹۲۱ء )نے حضرت ابو ہریرہؓ پر وضعِ حدیث کا الزام عائد کیا ہے اور محدّث امام ابنِ شہاب زہریؒ پر اِتّہام باندھا ہے کہ وہ بنو اُمیّہ کے دینی اور سیاسی مقاصد کوپورا کرنے کے لیے احادیث وضع کیا کرتے تھے۔ (19) جوزف شاخت (Joseph Schacht)امام اوزاعی ؒ (م ۱۵۷ھ ) پر وضعِ حدیث کا الزام عائد کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ ان کے زمانے میں مسلمانوں میں جو بھی عمل جاری تھا ،اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کردینے کا رجحان تھا تاکہ اس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تصویب حاصل ہو جائے، خواہ احادیث اس عمل کی تائید کرتی ہوں یا نہ کرتی ہوں۔امام اوزاعی ؒ کا یہی عمل تھا اور اس رجحان میں عراقی فقہا امام اوزاعیؒ کے ساتھ شریک تھے۔(20) 

اعتراضات کا تنقیدی جائزہ

علمِ حدیث کے بارے مستشرقین کے ان گمراہ کن نظریات کی ایک وجہ تو ان کی ہٹ دھرمی اور اسلام سے عدوات کو قرار دیا جا سکتا ہے کیونکہ مستشرقین کا طریقۂ واردات ہی یہ ہے کہ ہر وہ چیز جو ان کے اہداف کے حصول میں رکاوٹ بنتی ہے، اگر اس کو کلی طور پر رد کرنا ممکن نہ ہو توکم از کم اس میں اشتباہ ضرور پیدا کردیا جائے ۔علمِ حدیث کے بارے میں یہ لوگ اپنے مقصد میں کس حد تک کامیاب ہوئے ہیں، اس کا اندازہ ہر وہ شخص آسانی سے کر سکتا ہے جو عالمِ اسلام میں برپا ہونے والے ’’فتنۂ انکارِ حدیث ‘‘ سے واقفیت رکھتا ہے۔اہلِ علم سے یہ بات مخفی نہیں ہے کہ فتنہ انکارِ حدیث کی تحریک کا فکری سر چشمہ مستشرقین کے افکار و نظریات ہی ہیں ۔ مستشرقین کے حدیث مخالف نظریات کی دوسری وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ چونکہ زیادہ تر مستشرقین نے حقائق کی جستجو میں اسلام کے اصل مصادرو مراجع کی طرف رجوع کرنے کی بجائے ثانوی مأ خذ پر ہی اکتفا کیا ہے، اس لیے حقیقت ان کی نظروں سے اوجھل ہوگئی ہے۔ بدقسمتی سے حدیث پر تحقیق کرتے ہوئے مستشرقین کے ہاں گولڈ زیہر کو ’’امام معصوم‘‘ کا درجہ حاصل ہے اور اس کی تحقیقاتِ حدیث ہر طرح کی تنقید سے بالا تر سمجھی جاتی ہیں۔ چونکہ دیگر مستشرقین گولڈ زیہر کے قائم کردہ معیارات اور اصولوں کی روشنی میں ہی حدیث کا مطالعہ کرتے ہیں، اس لیے منطقی طور پر اس اندازِ فکر نے مستشرقین کوایک بنیادی غلطی میں مبتلا کردیا ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ گولڈ زیہر نے جہاں جہاں غلطیاں کی ہیں، دیگر مستشرقین بھی اس کے اصولوں کی پیروی میں اس جیسی غلطیوں ہی کے مرتکب ہوئے ہیں ۔ مابعددور کے مستشرقین پر گولڈ زیہر کی تحقیقاتِ حدیث کے اثرات کا تجزیہ کرتے ہوئے ڈاکٹر فواد سیزگین لکھتے ہیں :

’’گولڈزیہر نے اپنے خیالات کا اظہار اپنی کتاب ’’دراساتِ محمدیہ‘‘ میں کیا جو1890ء میں جرمن زبان میں شائع ہوئی۔ اس کتاب کے شائع ہونے کے بعد حدیث پر تحقیق کے لیے یہ کتاب اہلِ مغرب کے لیے بنیادی دستاویز بن گئی ۔بیشتر مستشرقین اس کتاب کے حوالے سے اپنے نتائج فکر پیش کرتے رہے۔پروفیسر شاخت (J.Schacht) نے فقہی احکام سے متعلق احادیث پر کام کیا ،گلیوم (A.Guillaume)کی’’ ٹریڈیشنز آف اسلام ‘‘ وجود میں آئی ،جو گولڈ زیہر کی تحقیقات کا چربہ تھی ۔مار گولیتھ (Margoliouth)نے گولڈ زیہر کے افکار کی روشنی میں اپنے نظریات پیش کیے ۔علاوہ ازیں ہوروفتش (J.Horowitz) ہورست (H.Hosrt)، فون کریمر (A.Von.Kremer)، مویر (W.Wuir) ، کتانی(L.Caetani)، اور نکلسن (A.R.Nicholoson) وغیرہ نے بھی اس میدان میں اپنے اپنے نتائج فکر بیان کیے ہیں جو سارے کے سارے کم و بیش گولڈ زیہر ہی کے افکار کی صدائے باز گشت ہیں‘‘۔(21) 

مستشرقین کایہ الزام کہ مسلمانوں میں حدیث کی اہمیت اور اس کی حجیت کا تصور بعد کے دور کی پیدا وار ہے ، انتہائی خطرناک ہے ۔اس الزام کو تسلیم کرنے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ اسلام کو اس کے اصل تشخص ہی سے محروم کردیا جائے ۔ پیر صاحب ؒ مستشرقین کے اس الزام پرتنقید کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

’’اگر احادیث طیبہ کی اہمیت اور حجیت کا ثبوت صرف احادیث طیبہ اور تاریخِ اسلام کی مدد سے پیش کرنا پڑتا تو مستشرقین اپنے مزعومات کے مطابق اسے بڑی آسانی سے رد کرسکتے تھے، لیکن اللہ تعالیٰ ’’بکل شئ علیم‘‘ ہے۔ وہ اسلام کے خلاف اٹھنے والے ان سب فتنوں کو جانتا تھا، اس لیے اس نے احادیث طیبہ کی اہمیت اور حجیت کو قرآن حکیم کے ذریعے بیان کردیا۔ قرآن حکیم کی بے شمار آیتیں احادیث طیبہ کی اہمیت کو ثابت کر رہی ہیں۔ مستشرقین کی ایک معقول تعداد اب یہ تسلیم کرتی ہے کہ آج مسلمانوں کے ہاتھوں میں جو قرآن ہے ، یہ بعینہ وہ ہے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کے سامنے پیش کیا تھا۔ اس لیے وہ قرآن حکیم کی کسی آیت کے متعلق یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ بعد کے مسلمانوں نے خود گھڑی ہے ۔جب قرآن حکیم کی بے شمار آیات کریمہ احادیث طیبہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اہمیت کو بیان کرر ہی ہیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ دورِ رسالت کے مسلمانوں نے احادیثِ طیبہ کو کوئی اہمیت نہ دی ہو اور صدی، ڈیڑھ صدی بعد مسلمانوں کو مجبوراً احادیث کی طرف متوجہ ہونا پڑا ہو؟‘‘(22) 

پیر صاحب ؒ کے استدلال کی بنیاد وہ تمام آیات ہیں جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور اتباع کا حکم ہے کہ جب مستشرقین کی ایک معقول تعداد بھی یہ تسلیم کرتی ہے کہ قرآن مجید اپنی اصل شکل میں محفوظ ہے تویہ کیسے ممکن ہے کہ مسلمانوں نے ان آیات کو کوئی اہمیت ہی نہ دی ہوجن میں رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کو جزوِ ایمان قرار دیا گیا ہے ۔ کئی صفحات پر پھیلی ہوئی اس بحث میں پیر صاحب ؒ نے متعدد آیات سے استدلال کیا ہے اور پوری بحث کو سمیٹتے ہوئے مستشرقین کے سامنے جو بنیادی سوالات رکھے ہیں، ان سے صرفِ نظر کرنامستشرقین کے لیے آسان نہیں ہے۔ فرماتے ہیں: 

’’کیا قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں کو ان تمام آیاتِ قرآنی کا علم نہ تھا جن میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے؟کیا ان مسلمانوں کو قرآن حکیم کو سمجھنے اور اس کے احکام پر منشائے خداوندی کے مطابق عمل کرنے کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی راہنمائی کی کبھی ضرورت محسوس نہیں ہوئی تھی؟کیاانہیں یہ معلوم نہ ہوسکا تھا کہ ان کا نبی صرف مبلغ کتاب ہی نہیں بلکہ معلمِ کتاب و حکمت بھی ہے؟وہ چیزیں جن کی حرمت کا فیصلہ قرآن حکیم نے نہیں بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا، کیا قرونِ اولیٰ کے مسلمان ان چیزوں کو حرام نہیں سمجھتے تھے؟ بڑی عجیب بات ہے کہ مستشرقین اور ان کے ہم نوا دیگر اہلِ مغرب چودہویں صدی کے مسلمانوں کو تو بنیاد پرست سمجھتے ہیں اور قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں کے متعلق سمجھتے ہیں کہ قرآن حکیم کی بے شمار آیات جو اطاعتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم دے رہی تھیں، ان آیات کی طرف ان کی توجہ ہی نہ تھی۔ اگر یہ سچ ہے کہ ہر زمانے کے مسلمان حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کو فرض سمجھتے تھے، قرآن حکیم کے اسرار و رموز کو سمجھنے کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی راہنمائی کو ضروری سمجھتے تھے ، وہ احکامِ قرآنی پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عملی نمونے کی روشنی پر عمل کرتے تھے، وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو معلم کتاب و حکمت اور مزکئ قلوب سمجھتے تھے تو پھر یہ بھی سچ ہے کہ وہ جس طرح قرآن حکیم کو دین کا اول مصدر سمجھتے تھے، اسی طرح وہ سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور احادیثِ طیبہ کو دین کا مصدرِ ثانی سمجھتے تھے۔‘‘ (23) 

قرآن مجید کے کتنے ہی احکامات ایسے ہیں جن پر اس وقت تک عمل ممکن ہی نہیں جب تک حدیث و سنّت کو ساتھ نہ ملایا جائے۔ مثلاً : نماز ،روزہ ،زکوٰ ۃ اور حج جیسی بنیادی عبادات پر اس وقت تک عمل نہیں کیا جا سکتا جب تک سنّتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ہادی اور راہنما نہ بنایا جائے ۔فاضل مصنفؒ نے لفظ ’’حکمت ‘‘ کو خصوصی طور پر اپنی توجہ سے نوازا ہے اور پختہ دلائل سے ثابت کیا ہے کہ حکمت سے مراد حدیث و سنّت ہے اور وہ بھی قرآن حکیم کی طرح منز ل من اللہ ہے ۔ (24) 

پیر صاحب ؒ مستشرقین پر طنز کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ان لوگوں نے وضعِ حدیث کے جس فتنے کا ذکر کیا ہے یہ کوئی ایسا ’’انکشاف‘‘ نہیں ہے جس سے مسلمان آگاہ نہیں تھے اور محض مستشرقین ہی ہیں جنھوں اپنی تحقیقات سے یہ پتہ چلایا ہے کہ دورِ اوّل میں احادیث وضع کی گئی تھیں، بلکہ حفاظتِ حدیث کے پورے نظام پر نظر رکھنے والا کوئی بھی شخص باور کر سکتا ہے کہ محض یہ کہہ دینے سے کہ یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے لوگ مطمئن نہیں ہو جاتے تھے بلکہ خبر کی پوری تحقیق کے بعد ہی اسے کو قبول کیا جاتا تھا۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں یہودو نصاریٰ اور منافقین اہلِ ایمان کے خلاف مسلسل بر سر پیکار تھے ، مسلمانوں کے لیے ضروری تھا کہ کسی بھی خبر کو قبول کرنے سے پہلے خبر لانے والے کے کرداراور عمومی طرزِ عمل کو بھی پیشِ نظر رکھیں۔ اس لیے ایک ایسا معاشرہ جس کے افراد کی تربیت روایت اور درایت کے لازوال اصولوں کی روشنی میں ہو ئی ہو، ان میں موضوع روایات کارواج پذیر ہونا کسی صورت ممکن نہ تھا ۔پیر صاحبؒ وضعِ حدیث کے فتنے پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

’’اس بات سے انکار نہیں کہ دشمنانِ اسلام نے سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے چشمۂ صافی کو گدلا کرنے کی کوشش کی اور انہوں نے ایسی باتوں کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرنے کی کوشش بھی کی جو آپ نے نہ فرمائی تھیں، لیکن صورتِ حال یہ نہ تھی کہ ایسے کم بختوں کی مذموم کارروائیوں کو کسی نے روکا نہ ہو ۔ حدیث گھڑنے والے گھڑتے رہے، لیکن وہ لوگ جن کی نظریں قرآن حکیم کی ان آیات پر تھیں جو کسی خبر پر یقین کرنے سے پہلے تحقیق کرنے کا سبق دیتی ہیں یا جو افتراء علی اللہ کو ظلم عظیم قرار دیتی ہیں اور جن لوگوں کی نظریں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث پاک پر تھیں جو جھوٹی حدیث گھڑنے والوں کو دوزخ کا ٹھکانا دکھا رہی ہے، ایسے لوگوں نے کبھی ان لوگوں کو کھل کھیلنے کا موقع نہیں دیا جو احادیث طیبہ کے چشمۂ صافی کو گدلا کرنا چاہتے تھے ۔قرآن حکیم نے انہیں فاسق کی خبر کے متعلق محتاط رہنے کا حکم دیا تھا۔‘‘(25) 

اسماء الرجال جیسے فن کی ایجاد کا سہرا مسلمانوں کے سر ہے جس میں دنیا کی کوئی قوم ان کی ہمسری کا دعویٰ نہیں کرسکتی۔ اس علم کی بدولت محدثین نے لاکھوں انسانوں کی زندگیوں کے شب و روز، ان کے اخلاق و کردار اور ان کے اندازِ زیست کا ریکارڈ جمع کردیا اور ہر خبر کے راویوں کے سلسلے کا کھوج لگایا تاکہ یہ پتہ چلایا جاسکے کہ کسی حدیث کے سلسلۂ سند میں کسی فاسق و فاجر اور کذاب کا نام تو نہیں آتا۔ محدثین کی ان عظیم الشان کوششوں کا اعتراف مستشرقین نے بھی کیا ہے۔ ڈاکٹر اسپرنگر (Springer) لکھتے ہیں :

"The glory of the literature of the Mohammadans is its literary biography. There is no nation nor has there been any which like them has during the 12 centuries recorded the life of every man of letters. If the biographical records of the musalmans are collected, we should probably have accounts of the lives of half a million of distinguished persons, and it would be found that there is not a decennium of their history, nor a place of importance which has not its representatives"(26) 
’’مسلمانوں کے علمی ذخیرے کی شان ان کے سوانحی ادب میں نمایاں ہوتی ہے۔ (دنیا میں) ایسی کوئی قوم نہ تھی نہ ہے جس نے مسلمانوں کی طرح بارہ صدیوں میں علم وادب سے تعلق رکھنے والے ہر آدمی کے حالات زندگی محفوظ کیے ہوں۔ اگر مسلمانوں کے سوانحی ذخیرے کو جمع کیا جائے تو ہمیں کم وبیش پانچ لاکھ ممتاز افراد کے حالات زندگی میسر ہوں گے اور یہ حقیقت سامنے آئے گی کہ ان کی تاریخ کا کوئی عشرہ یا کوئی اہم مقام نہیں جس کی نمائندگی کرنے والے لوگ (اس ذخیرے میں) نہ پائے جاتے ہوں۔‘‘

مشکوٰ ۃ المصابیح کا مترجم رابنسن (Robson)کہتا ہے:

"In the gospels as they stand we don't have the various elements of the sources separated out for us as we do through the "Island" of muslim traditions where at least apparently, the transmission is traced back to the source"(27) 
’’اناجیل میں، جیسا کہ وہ ہمارے پاس موجود ہیں، ہمیں یہ شکل دکھائی نہیں دیتی کہ مختلف مآخذ سے لی جانے والی معلومات الگ الگ ہمارے سامنے پیش کی گئی ہوں، جیساکہ ہمیں مسلمانوں کی روایات میں یہ چیز دکھائی دیتی ہے جہاں کم از کم ظاہری طور پر روایات کی کڑی ان کے اصل ماخذ کے ساتھ ملائی جاتی ہے۔‘‘

لہٰذا روایت اور درایت کے ان سنہری اصولوں کی موجودگی میں ،جس کا اعتراف مستشرقین کو بھی ہے، کسی جعلی روایت کا لوگوں میں قبولیت حاصل کرنا ممکن نہ تھا ۔ اسلامی احکامات کو کذب و افترا سے محفوظ رکھنے کے لیے اسلام نے لوگوں کی جو تربیت کی، اس کی بنیاد پر یہ بات دعوے سے کہی جاسکتی ہے کہ صحابہ کرامؓ اور راسخ العقیدہ اہلِ ایمان کی طرف سے تو اس کا کوئی امکان نہ تھا کہ وہ کسی بات کو اپنی طرف سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کردیں جبکہ دیگر لوگوں کی روایت کو سخت شرائط کے ساتھ ہی قبول کیا جاتا تھا ۔اس پس منظر میں مستشرقین کا یہ الزام کہ بہت ساری احادیث عیسائی اور یہودی روایات کے زیر اثر تشکیل پذیر ہوئی ہیں ، اپنے اندر کوئی وزن نہیں رکھتا ۔ہم یہ وضاحت کرنا ضروری خیال کرتے ہیں کہ تمام الہامی ادیان کی بنیادی تعلیمات ایک ہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے یہ دعویٰ کبھی نہیں کیا کہ وہ کسی نئی دعوت کا علمبردار ہے ،بلکہ اسلام تو پہلے ہی اس بات کا داعی ہے کہ اس کی دعوت سابقہ انبیا کی دعوت کا تسلسل ہے اور اسلام اس دین کا مکمل ترین ایڈیشن ہے جس کی ابتدا حضرت آدم ؑ سے ہوئی تھی۔ لہٰذا اگر اسلام کی بنیادی تعلیمات کی اصالت سابقہ الہامی کتابوں میں پائی جائے تو یہ کوئی عجیب بات نہیں ہے ، کیونکہ اصولی طور پر اسلام اور سابقہ انبیا کی دعوت کے بنیادی نکات ایک ہی ہیں۔ خود قرآن کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ سابقہ الہامی کتابوں کی غیر محرّف تعلیمات کی تصدیق کرنے والا ہے اور اس کی اصل شکل کو بیان کرنے والا ہے۔ (28) یہی وہ پسِ منظر ہے جس میں قرآن نے اہلِ کتاب کو خطاب کرتے ہوئے صاف طور پر کہا ہے: ’’اے اہلِ کتاب ! آؤ اس کلمہ کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان ایک ہے وہ یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔‘‘ (آل عمران،۳:۶۴)دوسری اہم بات یہ ہے کہ اسلام کا مرکز ومحور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے اور کسی بھی شخص کا دعواے اسلام اس وقت تک کوئی اہمیت نہیں رکھتا جب تک اس کادل اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے لبریز نہ ہواور وہ اپنی جبین نیاز کو آپ کے حضور خم نہ کردے ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسل کی اطاعت کے وجوب پر کثیر آیات نازل فرمائی ہیں۔ (29) 

دوسری طرف خود جنابِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹ بولنے والوں اور آپ کی طرف جھوٹی بات کو منسوب کرنے والوں کوسخت الفاظ میں وعید سنائی ہے: ’’من کذب علیّ متعمدًا فلیتبوّأ مقعدہ من النار‘‘ (30) ، ’’جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھا، اس کا ٹھکانہ آگ ہے۔‘‘ مزید فرمایا: ’’من حدّث عنی بحدیث یری أنہ کذب فھو أحد الکاذبین‘‘ (31) ’’جس شخص نے علم کے باوجود جھوٹی حدیث کو میری طرف منسوب کیا، وہ جھوٹوں میں سے ایک جھوٹا ہے۔‘‘ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہلِ کتاب کی اتباع اور اقتدا سے بھی سختی سے منع کیا ہے۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’لتتّبعنّ سنّۃ من کان قبلکم باعًا بباع وذراعًا بذراعٍ وشبرًا بشبرٍ، حتی لودخلوا فی جحر ضب لدخلتم فیہ ، قالوا: یارسول اللّٰہ! الیہود والنصاری؟ قال:فمن،اِذًا؟‘‘ (32) ’’تم اپنے سے پہلے لوگوں کے نقش قدم کی ہو بہو پیروی کرو گے، حتیٰ کہ اگر وہ بجو کے بل میں گھسے ہوں گے تو تم بھی اس میں گھسو گے۔ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ ! آپ کی مراد یہود ونصار یٰ ہیں؟ آپ نے فرمایا: تو اور کس سے ہے۔‘‘ 

یہی وجہ ہے کہ مسلمان ہمیشہ ایسے اعمال سے بچتے رہے جن سے یہود و نصاریٰ سے مشابہت پیدا ہوتی ہے ۔ صحابہ کرامؓ نے ہمیشہ اس بات کی حوصلہ شکنی کی کہ لوگ قرآن کی موجودگی میں اہلِ کتاب کی روایات کو آگے بیان کریں۔ حضرت عمر فاروقؓ کو علم ہوا کہ ایک شخص کتابِ دانیال دوسروں کو نقل کرواتا ہے تو آپؓ نے اس کو بلایا اس کی پٹائی کی اور حکم دیا کہ جو کچھ اس نے لکھا ہے اس کو مٹا دے اور وعدہ کرے کہ آئندہ نہ تو وہ اس کتاب کو پڑھے گا اور نہ ہی کسی کو پڑھائے گا اور پھر حضرت عمر فارووقؓ نے یہود و نصاریٰ کی کتب کے نقل کرنے کی ممانعت کے سبب کے طور پر خود اپنا واقعہ بیان کیاکہ ایک موقع پر جب انھوں نے یہی عمل کیا تھا تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر شدید غصے اور ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا۔ (33) اس لیے مستشرقین کے اس اعتراض میں کوئی حقیقت نہیں ہے کہ احادیث کا مأخذ بائیل اور اسرائیلی روایات ہیں ۔

ہماری یہ دیانت دارانہ رائے ہے کہ علوم الحدیث کے فن سے متعارف کوئی بھی شخص مستشرقین کے مذکورہ دعویٰ کو تسلیم نہیں کرسکتا۔ اس میں شک نہیں کہ کئی تابعین نے اسرائیلی روایات کو بیان کیا ہے تاہم ان کی نقل کردہ روایات محض کسی حکم کی تائید یاتوضیح کے لیے ہیں نہ کہ ہدایت اور راہنمائی کے لیے اور اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ اسرائیلی روایات اسلامی عقائد و نظریات کی بنیاد نہیں ہیں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اہلِ کتاب کے اس طرزِ عمل کا خاص طور پر ذکر کیا ہے کہ ان لوگوں نے اللہ کی نازل کردہ کتابوں کو بازیچۂ اطفال بنا رکھا تھا اور ان کتابوں میں اپنی خواہشِ نفس سے کمی بیشی کرتے رہتے تھے ۔ قرآن مجیدنے اسی پس منظر میں مسلمانوں کو تنبیہ کی ہے کہ وہ اس فعل شنیع کے قریب نہ جائیں ۔ پیر صاحب ؒ نے ’’احادیث طیّبہ کو کذب و افتراء سے محفوظ رکھنے کا اہتمام ‘‘ کے زیر عنوان سیر حاصل بحث کی ہے۔ (34) 

جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری ؒ نے مستشرقین کے اس اعتراض پر کہ روایات دو اڑھائی صدیوں کے کہیں بعد جا کر مدون ہوئی ہیں، تنقید کرتے ہوئے اپنے استدلال کی بنیاد ایک بارپھر قرآنی آیات پر رکھی ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ قرآن تو مسلمانوں کو حکم دے رہا ہو کہ ان میں سے ہر قبیلے اور خاندان میں ایک ایسا گروہ ہونا چاہے جو قرآن کا فہم حاصل کرے۔ (سورۂ ال عمران،۳:۱۰۴ )پیر صاحب ؒ کا استد لال یہ ہے کہ اس آیت کا تقاضا یہ ہے کہ حدیث و سنّت کو نہ صرف خود سمجھا جائے بلکہ دوسروں بھی سکھایا جائے ۔پیر صاحب ؒ نے خطبہ حجۃ الوداع اور اس کے پس منظر میں متعدد احادیث اور واقعات سے استدلال کیا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرامؓ کو متعدد مواقع پر تاکید فرمائی کہ وہ مجھ سے سنی ہوئی باتوں کو یاد رکھیں اور اس کو دوسرے لوگوں تک پہنچائیں ۔یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرامؓ نے حدیث کی حفاظت اور ترویج و اشاعت میں اپنی زندگیاں وقف کردیں ۔پیر صاحب ؒ کو مستشرقین کے اس نقطۂ نظر سے بھی شدید اختلاف ہے کہ حفاظتِ حدیث کا صرف ایک ہی قابلِ اعتماد ذریعہ ہے اور وہ ہے تدوینِ حدیث ۔آپؒ فرماتے ہیں : 

’’عام مصنفین نے ’’تدوینِ حدیث‘‘ کے عنوان کے تحت ہی حفاظت حدیث کے متعلق اپنے نتائج فکر کو بیان کیا ہے۔ ہم نے ’’تدوین حدیث‘‘ کی بجائے ’’ حفاظتِ حدیث‘‘ کو اپنے موضوع کا عنوان بنانا مناسب سمجھا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں نے حدیث طیبہ کی حفاظت کے لیے صرف تدوین حدیث کے طریقے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ انہوں نے اس کار خیر کے لیے متعدد ایسے طریقے اپنائے ہیں جن کی مستشرقین کو ہوا بھی نہیں لگی۔ مستشرقین کے ساتھ مباحثے میں ضروری نہیں کہ ہم ہمیشہ اسی محاذ پر ان کا مقابلہ کریں جس محاذ کو وہ خود منتخب کریں۔ اگر تدوین کے بغیر دینی پیغام کی حفاظت کا کوئی طریقہ مستشرقین کے ہاں مروج نہیں تو یہ ان کا قصور ہے ، ہم ان کی اس کوتاہی کی وجہ سے امت مسلمہ کی ان خصوصیات کو کیوں نظرانداز کردیں جو اس ملت کا طرۂ امتیاز ہیں؟‘‘ (35) 

عربوں کے بے مثل حافظے کے ساتھ ساتھ ان کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جو والہانہ محبت تھی، اس کی بنا پر انھوں نے آپ کے اقوال کو اپنے دل و دماغ میں پوری طرح محفوظ کرلیا ۔ ’’حدیثِ تقریری ‘‘ اور سنّتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی روایت میں مفہوم کی یکسانیت کے باوجود الفاظ کا مختلف ہوجانا عین ممکن ہے لیکن جہاں تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال کا معاملہ ہے، اگرچہ ان کی روایت میں محدثین نے صحابہ کرامؓ کے لیے روایت بالمعنی کے جواز کو تسلیم کیا ہے، کیونکہ وہ رسولِ خدا کے براہِ راست مخاطب ہونے کی وجہ سے مرادِ رسول کو پوری طرح سمجھتے تھے لیکن اس کے باوجود صحابہ کرامؓ جس لفظی صحت کے ساتھ ان اقوال کو محفوظ رکھتے تھے، پیر صاحب ؒ نے اس پرکئی واقعات بطور دلیل ذکر کیے ہیں۔(36) 

پیر صاحب ؒ فرماتے ہیں کہ مستشرقین کا یہ دعویٰ کہ تدوین کا کام کرنے والوں کا بھروسہ صرف اور صرف زبانی مصادر پر تھا، اس لیے ان کے خیال میں جو چیز صدیوں غیر مدون شکل میں رہی، اس کے متعلق یہ وثوق سے نہیں کہا جاسکتا کہ وہ اپنی اصلی حالت میں ہے۔ گو مستشرقین کا یہ شوشہ بھی بالکل بے بنیاد ہے کہ تدوین کے بغیر کسی چیز کی حفاظت ممکن نہیں اور ا س کی ایک بہت بڑی دلیل یہ ہے کہ برطانیہ جو اکثر مستشرقین کا وطن ہے، اس ملک کا آئین تحریری شکل میں موجود نہیں لیکن مدون نہ ہونے کے باوجود وہ آئین محفوظ ہے اور برطانوی لوگ اسی آئین کے مطابق اپنے ملک کو چلارہے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کا ملک ہی اصل جمہوری ملک ہے۔ وجہ یہ ہے کہ ان کا آئین ان کی قومی زندگی کا حصہ بن چکا ہے، اس لیے تحریری شکل میں موجود نہ ہونے کے باوجود زندہ ہے اور ان آئینوں کی نسبت زیادہ قوت کے ساتھ زندہ ہے جو تحریری شکل میں موجود تو ہیں لیکن متعلقہ قوموں کی زندگیوں میں ان کی روح نظر نہیں آتی۔ مسلمانوں نے جس انداز میں احادیثِ طیبہ کو اپنی زندگیوں میں نافذ کیا تھا، اگر احادیث تحریری شکل میں موجود نہ ہوتیں تو بھی احادیث کی صحت ہر قسم کے شک و شبہ سے بالاتر رہتی لیکن یہ تصور کرنا بالکل غلط ہے کہ مسلمانوں نے پورے دو سو سال احادیث طیبہ کی تدوین کی طرف کوئی توجہ نہیں دی۔ حق یہ ہے کہ گو مسلمانوں نے حفاظتِ حدیث کے سلسلہ میں کتابت کے علاوہ دیگر وسائل پر زیادہ بھروسہ کیا لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ انہوں نے احادیث کی کتابت کو بالکل نظر انداز کردیا۔ حضرت پیر کرم شاہ الازہری ؒ نے ’’حفاظتِ حدیث ‘‘ کے زیرعنوان ۷۵ صفحات پر مشتمل جو معرکہ آرا بحث کی ہے، وہ پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔

پیر صاحب ؒ نے ’’احادیث لکھنے کی ممانعت کا مسئلہ ‘‘ کے زیر عنوان حضرت ابو سعید الخدریؓ (م ۷۴ھ )سے مروی صحیح روایت ’’لا تکتبوا عنی شیئاً غیر القرآن‘‘ کی اہلِ علم کی آرا کی روشنی میں ایسی توجیہ کی ہے جس سے مستشرقین کا اعتراض رفع ہوجاتا ہے ، اس پوری بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ:

(۱) کتابتِ حدیث کی ممانعت والی روایات منسوخ ہیں، کیونکہ ان روایات کا سیاق و سباق ، تاریخی پس منظر اور دیگر شواہداس مؤقف کی تائید کرتے ہیں اور پھر صحابہ کرامؓ کی کثیر تعدادکا کتابتِ حدیث کی طرف عملی رجحان ان احادیث کے مفہوم کو متعین کرنے میں ہمارے لیے حجت ہے ۔

(۲) جمع و تطبیق کے اصول کی روشنی میں بھی ان روایات کا مفہوم متعین کیا سکتا ہے یعنی نہی نزولِ قرآن کے وقت التباس کی وجہ سے کی گئی ہے، لیکن جب التباس کا خطرہ نہ رہا تو آپ نے احادیث لکھنے کی اجازت دے دی۔

(۳) ان روایات کی ایک توجیہ یہ بھی کی جا سکتی ہے کہ آ پ نے ایک ہی صفحہ پر قرآن مجید کے ساتھ احادیث لکھنے سے منع فرمایا تھا ،جیسا کہ کئی روایات سے یہ اشارہ ملتا ہے جبکہ احادیث کو الگ صفحات پر لکھنے کی اجازت تھی۔ 

(۴) یا ممانعت کا حکم ان لوگوں کے لیے تھاجو حدیث کے حفظ کرنے میں اور باہم مذاکرہ کرنے میں کاہلی کا شکار ہو رہے تھے اور صرف کتابتِ حدیث پر تکیہ کیے ہوئے تھے،شاید اسی پسِ منظر میں آپ نے ان لوگوں کی حوصلہ افزائی بھی فرمائی جو حدیث کو یاد کرتے ہیں اور اس کو دوسروں تک پہنچاتے ہیں۔جبکہ جولوگوں حفظ کے خو گر تھے، ان کو آپ کی طرف سے احادیث لکھنے کی اجازت تھی۔(37) 

جہاں تک مستشرقین کے اس اعتراض کا تعلق ہے کہ دورِ اوّل میں صحابہ کرامؓ تذبذب شکار رہے کہ ا حادیث کو لکھا جائے یا نہ لکھا جائے جس کی وجہ سے ابتدائی دور میں حدیث کی حفاظت کے لیے کوئی منظم کوشش نہ کی جاسکی اور جب دوسری اور تیسری صدی ہجری میں احادیث کی جمع و تدوین کا کام شروع ہوا تو اس وقت تک حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا بڑا حصّہ ضائع ہو چکا تھا، اہلِ علم نے اپنی تحقیقات کے نتیجے میں مستشرقین کے اس اعتراض کو بے وزن کردیا ہے ۔ ڈاکٹر محمد حمید اللہ (م ۲۰۰۱ء) نے اپنی مرتب کردہ کتاب’’الوثائق السیاسیۃ ‘‘میں ۲۸۱ ایسے خطوط اور وثائق کا ذکر کیا ہے جن کاتعلق صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرمی سے ہے۔ (38) اسی طرح ڈاکٹر صاحبؒ موصوف نے ہمام بن منبّہ(م ۱۰۱ھ) جو ابو ہریرہؓ (م ۵۹ھ) کے شاگرد ہیں،کی طرف منسوب ’’صحیفہ ہمام بن منبّہ‘‘ ایڈٹ کرکے شائع کیا ہے جس میں ۱۳۸ ؍ا حادیث درج ہیں، اس مخطوطے کی دریافت قرنِ اوّل میں کتابتِ حدیث کی بہت بڑی شہادت ہے۔ (39) علاوہ ازیں ڈاکٹر محمد حمید اللہؒ نے شاہانِ عالم کے نام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کئی خطوط بھی دریافت کیے ہیں۔ چونکہ ان میں سے کئی خطوط حدیث کی مستند کتابوں میں بھی منقول ہیں، اس لیے نو دریافت شدہ خطوط اور کتبِ حدیث میں مطابقت کا پایا جانا بھی کتبِ حدیث کے مستند ہو نے اور قرنِ اوّل ہی میں کتابتِ حدیث پر دلالت کرتے ہیں۔ (40) اس موضوع پر ڈاکٹر محمد مصطفی الاعظمی کا پی ایچ ڈی کا مقالہ "Studies in Early Hadith Litereture" جو ’’دراسات فی الحدیث النبوی وتاریخ تدوینہ‘‘ کے عنوان سے دو جلدوں میں عربی زبان میں شائع ہو چکا ہے ، خاص طور پر قابلِ مطالعہ ہے۔ اس کتاب میں ڈاکٹر صاحب موصوف نے نہ صرف حدیثِ نبوی کی جمع و تدوین کی تاریخ کا تفصیلی حال بیان کیا ہے بلکہ باون (۵۲) صحابہ کرامؓ اور دو سو باون(۲۵۲) تابعین عظام ؒ کے صحائف کا ذکر کیا ہے جس سے قرنِ اوّل میں حدیث کی کتابت اور حفاظت کے لیے کی جانے والی ہمہ گیر کوششوں پر روشنی پڑتی ہے۔ (41) پیر صاحبؒ نے بھی عہدِ نبوی سے لے کر صحاح ستّہ کی تدوین تک کی مختصر تاریخ بیان کرکے مستشرقین کے اعتراضات کی سطحیت کو واضح کردیا ہے۔ (42) نتیجۃ البحث کے طور پر پیر صاحب ؒ فرماتے ہیں :

’’مسلمانوں نے اپنے علمی سرمائے کو محفوظ رکھنے کے لیے جو کوششیں کی ہیں وہ کسی دوسری قوم نے اپنے علمی سرمائے کی حفاظت کے لیے نہیں کیں۔ حیرت کی بات ہے کہ جن لوگوں کواپنے دینی اور علمی ورثے کی حفاظت کا سلیقہ نہ تھا، وہ اس ملت کے علمی سرمائے پر ہاتھ صاف کرتے ہیں جس ملت نے اپنے علمی سرمائے کی حفاظت کے لیے بے نظیر کام کیا ہے۔ احادیث طیبہ کی حفاظت کے لیے مسلمانوں نے مختلف طریقے استعمال کیے ۔ احادیث طیبہ کے حصول کے لیے محیر العقول کاوشیں، احادیث طیبہ کو سینوں میں محفوظ کرنا، احادیث طیبہ کے پیغام اور تعلیم کو فردوقوم کی عملی زندگی میں جذب کرنا، احادیث سننے اور سنانے کی محفلیں منعقد کرنا، تدریسِ حدیث کے حلقے، حدیث کی کتابت، حدیث کی تدوین، فنِ اصولِ حدیث متعارف کرانا، احادیث کی سندوں کی چھان بین ، احادیث کے متن پرکھنا، رواۃِ حدیث کے حالاتِ زندگی اور ان کے اخلاق و کردار کو محفوظ کرنا، احادیث کے مختلف درجے متعین کرنا،ایسی کتابوں کی تیاری جن سے صرف صحیح احادیث کا بیان ہو، ہر حدیث کی فنی حیثیت متعین کرنا، ان راویوں سے ملت کو آگاہ کرنا جو وضعِ حدیث کے لیے مشہور ہیں اور ایسی کتابیں مرتب کرنا جن میں تمام موضوع روایات کو جمع کردیا جائے تاکہ لوگ ان موضوع روایات کو قولِ رسول سمجھ کر دھوکا نہ کھا جائیں ۔ یہ وہ مختلف طریقے تھے جو مسلمانوں نے حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بیش بہا خزانے کی حفاظت کے لیے استعمال کیے۔‘‘ (43) 

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ مستشرقین جس فکری کج روی کا شکار ہوئے ہیں، اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ حدیث سے متعلق اپنے نظریات کو ثابت کرنے کے لیے انہوں نے قرآن مجید کو بالکل ہی نظر انداز کردیا ہے حالانکہ قرآن مجید میں حدیث کی حجیت اور اس کی حفاظت کے واضح شواہد موجود ہیں۔ پیر صاحب محترمؒ نے مستشرقین کو قرآن مجید کی طرف متوجہ کیا ہے کہ جب وہ اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ قرآن اپنی اصل شکل میں موجود ہے تو اسی قرآن کی متعدد آیات کا تقاضا ہے کہ حدیث و سنت بھی محفوظ ہو ورنہ قرآن کا فہم اور اس کے متعدد احکام پر عمل ممکن ہی نہیں۔

یہ بات بڑی قابلِ قدر ہے کہ پیر صاحبؒ نے حدیث کا دفاع کرتے ہوئے معذرت خواہانہ انداز اختیار نہیں فرمایا بلکہ مستشرقین کو متنبہ کیا ہے کہ وہ اپنے خیالاتِ فاسدہ کو مسلمانوں کے خیالات بنا کر پیش کرنے کے بجائے مسلمہ علمی طریقے کے مطابق مسلمانوں کے بنیادی مصادر کی طرف رجو ع کریں کیونکہ انہیں یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اسلام کی عمارت کو اپنے نظریات پر تعمیر کرنے کی کوشش کریں۔ غور کیا جائے تو مستشرقین کا بڑا مسئلہ ہی یہ ہے کہ وہ کسی بھی اسلامی مسئلہ پر مسلمانوں کے نقطۂ نظر سے بحث نہیں کرتے بلکہ غلط طور پر یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں یہی مسلمانوں کا نقطۂ نظر ہے۔ شاید یہ وہ بنیادی وجہ ہے جس نے مستشرقین کے مطالعات میں عجیب و غریب قسم کے نتائج پیدا کر دیے ہیں۔


حواشی و تعلیقات

(1) تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو :

’’حیا ت جاوید ‘‘ (از مولانا الطاف حسین حالی ؒ ) ۲/۱۲ تا ۱۸، (ارسلان بکس علامہ اقبال روڈ ،میرپور ،آزاد کشمیر ،مئی ۲۰۰۰ء) 

(2)مثلاً اس حوالے سے، رچرڈ سائمن ، پیئربائیل ،سائمن اوکلے ،ھادریان ریلانڈ ،مائیکل ایچ ہارٹ ،ڈاکٹر مورس بکائے، تھامس کارلائل کیرن آرم سٹرانگ ، منٹگمری واٹ،جان بیگٹ ، الفریڈ اسمتھ اور کئی دیگر مستشرقین کے نام بطور مثال پیش کیے جاسکتے ہیں ۔

(3)مثلاً :Kenneth Craggانجیل اور بائبل کاقرآن سے تقابلی جائزہ کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ : بائیبل اور انجیل کو صدیوں بعد جمع کیا گیا جبکہ قرآن محمد ﷺ کی زندگی میں ہی وجود میں آ چکا تھا۔(''The Event of The Quran-Islam in its Scripture'', P:178,(George Allen & Unwin, London)۔ اسی طرح انیسویں صدی کے مشہور مستشرق سر ولیم میور قرآن کے بارے میں لکھتے ہیں کہ: یہ ایک حقیقت ہے کہ آیات کی ترتیب صرف اور صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی تھی اور ہی کی ہدایت پر حفظ کی جاتی تھیں یا لکھ لی جاتی تھیں ۔چنانچہ اس طور پر عہدِ رسالت میں قرآ ن سامنے آچکا تھا یہی نہیں بلکہ اس پر یقین کرنے کی کافی وجوہا ت ہیں کہ آپ کی زندگی میں ہی آپ کے صحابہ کے پاس قرآن کے بہت سے نسخے موجود تھے ۔(Sir william Muir:"The Life of Muhammad",John Grant-1894 edition,P:xix)،اسی حقیقت کا اعتراف سٹینٹن (H.U.W.Stanton) جان برٹن (John Burton)اورکئی دوسرے مستشرقین نے بھی کیا ہے ۔ ملاحظہ ہو:

H.U.W.Stanton:"The teaching of Quran" Darf Publications Ltd, London, 1919 Revised 1987,P:11
John Burton:"The collection of Quran" University of St Andrews,University Press 1977 P:4) 

(4) ضیاء النبی ﷺ، 25/7،(ضیاء القرآن پبلی کیشنز ،لاہور،۱۴۱۸ھ)

(5) ضیاء النبیﷺ ، 15-16/7

(6) ضیاء النبیﷺ ، 17/7

(7) Gibb,(1965) "Islam" "The Encyclopedia Of Loving Faith", p:171, (London,1884)
(8) "The origins of Muhammadan Jurisprudence".(Oxford press 1950),P:3 
(9) Arthur Jeffery,"Islam,Muhammad And His Religion", P:12, (Indiana,1979)
(10) J.Robson,"The Isnad in Muslim Tradition"P:18 (Glasgow University,Oriential Society) 1955
(11) Ibid,P"18
(12) Gold zhiher,(1921)"Muslim Studies"p:213,Vol:2,(George Allen & Unwin LTD,London,1971)
(13) Josefh Schacht, "The origins of Muhammadan Jurisprudence" P:36 -37, (Oxford at the clarendon prss 1950)
(14) Watt,Montgomery,(1979) "Muhammad At Medina",p:318,(Oxford Press London),1956
(15) Will Durant,(1981)"The Age of Faith",211-212, (New York,1950)
"Islam and the west" , (New jersey, U.S.A,1962) p:105-107 (16) Philip.K.Hitti,
(17) Alfred Guillaume,"Islam" , p:89-90 ,(London 1963) 
(18) Dancan B.Macdonald,"Muslim Theology , Jurisprudence and constitution Theory", p:76-77,(Beirut Khayats, 1965)
(19) "Muslim Studies",P:56,40-45,Vol:2
(20) "The origins of Muhammadan Jurisprudence"P:72-73 

(21) ڈاکٹر فواد سیز گین،’’مقدمہ تاریخ تدوین حدیث‘‘،(مترجم:سعید احمد)،ص:18،(ادارہ تحقیقاتِ اسلامی ،اسلام آباد، 1985)

(22) ضیاء النبیﷺ ، 28/7

(23) ضیاء النبی ﷺ،54/7

(24) ضیاء النبیﷺ ،56-40/7

(25) ضیاء النبیﷺ ، 60-61/7

(26) Abn-Hajar, "Al-Isabah"(Introduction by Springer) Biship's College Press Calcutta, 1856)
(27) Robson, "Ibn-i-Ishaq's use of Isnad" ,P.449, (Bulletin of the John Rylands library Manchster,March 2, 1956)

(28) (النساء ، ۴/۴۷)،(المائدۃ،۵/۴۸)

(29) تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو:(الانفال، ۸/۱)،(الانفال ،۸/۲۰)،(محمد،۴۷/۳۳)،(التغابن، ۶۴/۱۲)،(ال عمران، ۳/۳۲)،)ال عمران،۳/۱۳۲)، (النساء، ۴/۵۹)مذکورہ بالا آیات میں اطاعتِ رسولصلی اللہ علیہ وسلم کو لازمی حکم کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اور بہت سی آیات ایسی بھی ہیں ، جن میں اطاعتِ رسول اور اس کی جزا ذکر کی گئی ہے، چند آیات ملاحظہ ہوں مثلاً: (النساء،۴/۱۳)، (الاحزاب،۳۳/)، (النساء، ۴:۶۹)، (النساء،۴:۸۰)، (الاحزاب،۳۳:۳۶) (الجن،۷۲:۲۳)

(30) مسلم بن حجاج بن مسلم القشیریؒ ، الامام ابو الحسین ، (۲۰۴۔۲۶۱ھ) صحیح مسلم، مقدمہ، باب تغلیظ الکذب علی رسول اللّٰہ ﷺ ،ح: ۴ ،ص:۸ ،( دارالسلام للنشر والتوزیغ، الریاض، ۱۹۹۸ء )

(31) صحیح مسلم، مقدمہ، باب وجوب الروایۃ عن الثقات وترک الکذابین،ح:۱ ،ص:۷

(32) ابن ماجہؒ ، محمد بن یزید، (۲۰۹۔۲۷۳ھ) ابن ماجۃ ،کتاب الفتن، باب افتراق الامم ، ح:۳۹۹۴ ،ص:۵۷۴ ، (دارالسلام للنشر والتوزیع، الریاض، ۱۹۹۹ء )

(33) الخطیب البغدادیؒ ، ابوبکر احمد بن علی بن ثابت، (۳۹۲۔۴۶۳ھ) ’’ تقیید العلم‘‘، (تحقیق : یوسف العش)، ص:۵۰،۵۱،(دار احیاء السنۃ النبویۃ،انقرہ، ۱۹۷۴ء)

(34) ملاحظہ ہو:ضیاء النبی ﷺ،۷/۵۶۔۷۱

(35) ضیاء النبیﷺ ، ۷/۷۵

(36) تفصیل کے ملاحظہ:ضیاء النبیﷺ ، ۷/۷۷۔۸۲

(37) ضیاء النبیﷺ ، ۷/۱۱۲۔۱۲۴

(38) محمد حمید اللہ ،ڈاکٹر ،(م ۲۰۰۱ ء) ’’مجموعۃ الوثائق السیاسیۃ فی العھد النبوی والخلافۃ الراشدۃ‘‘، (قاہرۃ، ۱۹۴۱ء)

(39) ’’صحیفہ ہمام بن منبّہ‘‘، (بیکن بکس، لاہور، 2005ء)

(40) ’’رسول اکرم ﷺ کی سیاسی زندگی‘‘،(دار الاشاعت ،کراچی،1987ء)

(41) محمد مصطفی الاعظمی ،ڈاکٹر، ’’دراسات فی الحدیث النبوی و تاریخ تدوینہ‘‘، ۱؍۹۲۔۳۲۵ (المکتب الاسلامی ، بیروت ،۱۹۹۵ء) 

(42) ضیاء النبیﷺ ، 155-124/7

(43) ضیاء النبیﷺ ، 76-77/7

شخصیات