مذہبی شدت پسندی اور اس کے سدباب کی حکمت عملی

خورشید احمد ندیم

صدمے کے شدید احساس کے ساتھ مولانا سعید احمد جلال پوری کی شہادت پر لکھنے کے لیے قلم اُٹھایا ہی تھا کہ لاہور میں قتل عام کی خبر نے اپنے حصار میں لے لیا۔

آج وطن کی فضا لہو رنگ ہے۔کراچی میں دو المناک واقعات ایک ہی دن ہوئے۔ گزشتہ روز خبر ملی کہ مولانا عبدالغفور ندیم اپنے بیٹے سمیت گولیوں کی زد میں تھے۔رات گہری ہونے لگی تو مولانا جلال پوری کی شہادت کی خبر سنی۔شب بھر ماضی کی راکھ کریدتا رہا۔ ۱۲؍ربیع الاوّل کا فیصل آباد، ۱۰؍محرم کا کراچی۔ بہت کچھ یاد آیااور نہیں معلوم کب صدمے کی شدت پر نیند نے غلبہ پا لیا۔ آج جمعہ کی نماز کے بعدکالم لکھنے کے لیے بیٹھا ہی تھا کہ ٹیلی ویژن کی سکرین پرنظرپڑی اور لاہور میں ایک اور بڑے حادثے کی خبر نے اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ مولانا سعید احمد جلال پوری کی شہادت کا دکھ مزید گہرا ہو گیا۔ جو بات میرے لیے اس سارے معاملے کو مزید المناک بناتی ہے،وہ یہ ہے کہ ان تمام واقعات میں کہیں نہ کہیں مذہب کا ذکر ہے، وہ مذہب جو عالم انسانیت کو دنیا اور آخرت میں کامیابی کی نوید سنانے آیا ہے۔ 

ان واقعات میں مذہب دو حوالوں سے زیر بحث ہے۔ایک مسلکی اور دوسرا سیاسی۔ مولانا عبدالغفور ندیم پر حملہ اور فیصل آباد کے واقعات کا رشتہ مسلکی اختلافات سے جوڑا جا رہا ہے۔مولانا سعید احمد جلال پوری کی شہادت پر مجلس تحفظ نبوت نے جن کوملزم ٹھہرایا ہے،ان سے اختلاف بھی مذہبی بنیاد پر تھا۔ مجلس کے ذمہ داران کے پاس ممکن ہے کچھ شواہد ہوں لیکن میرا احساس ہے کہ کسی حتمی رائے کے اظہار سے پہلے تمام ممکنہ پہلوؤں کو پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔ یہ سب لوگ پاکستانی ہیں اور مسلمان بھی۔ہم نے کم و بیش تین عشرے اس معرکہ آرائی میں صرف کر ڈالے کہ بندوق کے زور پر دوسرے مسلک والوں کو مٹایا جا سکتا ہے۔ آج تیس برس بعد ہمیں حساب کرنا چاہیے کہ ہم نے اپنے کتنے لوگ گنوائے ہیں اور دوسروں کو ختم کرنے میں کس حد تک کامیاب ہوئے ہیں۔ میرا خیال ہے مسلکی تشدد میں گرفتار ہر گروہ جب اس کا جائزہ لے گا تو اسے احساس ہو گا کہِ اس کا حاصل زیاں کے سوا کچھ نہیں۔ اس لیے ان سب لوگوں سے میری درخواست ہوگی کہ وہ رک جائیں اور تحمل کے ساتھ یہ سوچیں کہ کیا اس حکمت عملی پر اصرار درست ہے؟ میری یہ بھی خواہش ہوگی کہ مسلکی بنیاد پر قائم تنظیمیں مل بیٹھیں اور ایک ضابط اخلاق کا تعین کریں۔ اس ضابطہ اخلاق میں چند نکات کی حیثیت بنیادی ہونی چاہیے۔ مثال کے طور پر:

  • ہر مسلک کے لوگ اپنے نقطہ نظر کو علمی طور پر بیان کریں گے اور اسے دعوت تک محدود رکھیں گے۔
  • دوسرے مسلک کے نزدیک برگزیدہ شخصیات کو سب و شتم کا عنوان نہیں بنائیں گے۔ اگر کسی گروہ میں سے کوئی فرد تحریراً، تقریراً یا کسی اور طرح سے اس جرم میں ملوث پایا گیا تو وہ گروہ اس سے اعلانِ برأت کرے گا اور اس کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے گی۔
  • ہر مسلکی اجتماع پبلک مقامات کے بجائے عبادت گاہوں میں منعقد ہو گا۔
  • جمعہ اور عوامی خطبات میں مسلکی اختلافات کو موضوع بنانے سے اجتناب کیا جائے گا۔

یہ آخری بات کچھ ایسی مشکل نہیں ہے، اگر کوئی علمی مباحث اور اصلاحی خطبات کے فرق کو جانتا ہو۔اس کی ایک مثال مسلکِ دیوبند کے نامور عالم مولانا سرفراز خان صفدر کا طرزِ عمل ہے۔ ان کا اکثر تصنیفی کام ان موضوعات پر مشتمل ہے جن کا تعلق مسلکی اختلافات سے ہے، لیکن اگر ان کے جمعہ اور عوامی خطبات کو دیکھا جائے تو خیال ہوتا ہے کہ جیسے یہ اختلاف کبھی ان کا موضوع نہیں رہا۔

اگر کسی ثالث کی موجودگی میں مسلکی مبلغین مل بیٹھیں اور ایسے نکات پر مشتمل ایک ضابطہ اخلاق تشکیل دے سکیں تو میرا خیال ہے کہ اس میں مسلمانوں کے لیے خیر ہے۔

لاہور کے واقعات کا تعلق سیاسی اختلاف سے ہے۔ہمارے ہاں ایک گروہ یہ خیال کرتا ہے کہ پاکستان کی فوج امریکا کی لڑائی لڑ رہی ہے اور یوں اس کے خلاف لڑنا مسلمانوں کے مفاد کا تقاضا ہے کیونکہ امریکا مسلمانوں کا دشمن ہے۔اس مقدمے کواگر ہم کچھ دیر کے لیے درست مان لیں اور یہ سوچیں کہ پاکستانی فوج کو کمزور کرنے سے امریکا کو فائدہ ہے یا نقصان؟ہم اس سوال پر جتنا غور کریں گے، اس نتیجے تک پہنچیں گے کہ اس سے پاکستان کمزور ہوگا، پاکستانی فوج کمزور ہوگی اور یہ وہ دیرینہ خواب ہے جو اسلام اور پاکستان کے دشمن مدت سے دیکھ رہے ہیں۔ پھر یہ پہلو بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ لاہور جیسے واقعات میں بے شمار بے گناہ مسلمان مارے جاتے ہیں۔ کیا کوئی مسلمان ایسا ہو سکتا ہے کہ وہ کسی دوسرے مسلمان کی جان لے اور یہ سمجھے کہ وہ اﷲ تعالیٰ کے حضور میں اپنے اقدام کا دفاع کر سکے گا؟ جو لوگ ان واقعات میں ملوث ہیں، انہیں ضرور اس سوال پر غور کرنا چاہیے۔ اگر انہیں پاکستانی حکومت اور فوج سے شکایت ہے تو اس کا ایک طریقہ ہمارے پاس موجود ہے اور وہ یہ ہے کہ جمہوری طریقے سے جدوجہد کرتے ہوئے، ان لوگوں کو اقتدار تک پہنچایا جائے جو ان امور میں دوسری رائے رکھتے ہیں۔اس سے ممکن ہے کامیابی نہ ہو، لیکن یہ ضرور ہوگا کہ لوگ اﷲ تعالیٰ کے حضور میں مواخذے سے بچ جائیں گے اور ان کے ہاتھوں پر کسی بے گناہ کا خون نہیں ہوگا۔ موجودہ حکمت عملی کا یہ نتیجہ تو ہمارے سامنے ہے کہ دنیا کا وہ واحد ملک جو اسلام کو اپنے وجود کی اساس مانتا ہے، کمزور سے کمزور تر ہو رہا ہے۔

پاکستان کی حکومت میں خرابیاں ہو سکتی ہیں۔ اس ملک میں ایسے لوگ بھی ہو سکتے ہیں جو ظالم ہیں یا جو ہمارے مسلک کے لیے نقصان دہ ہیں، لیکن اس میں پاکستان کا کوئی قصور نہیں۔ہم نے اگر پاکستان میں اپنے خوابوں کی تعبیر تلاش کرنی ہے تو اس اقدام سے گریز کرنا ہوگا جس سے پاکستان کمزور ہوتا ہے۔ یہ ۱۰؍ محرم کا واقعہ ہو یا ۱۲؍ربیع الاوّل کا حادثہ، مولانا عبدالغفور ندیم پر حملہ ہو یا مولانا سعید احمد جلال پوری کی شہادت، لاہور کا سانحہ ہو یا پشاور کا، ان سب کا ایک نتیجہ ہے کہ پاکستان بطور ملک اور پاکستانی بحیثیت قوم کمزور سے کمزور تر ہو رہے ہیں۔ اگر ہم اسلام اور پاکستان سے مخلص ہیں تو ہمیں ہر ایسے اقدام سے گریز کرنا ہو گا جس کے نتیجے میں پاکستان کمزور ہوتا ہے۔ اسلام کو پاکستان کی مضبوطی کا عنوان بننا چاہیے، کمزوری کا نہیں۔

کالعدم تنظیمیں اور حکومت

گورنر پنجاب کو تو معذور سمجھنا چاہیے، اس لیے ان کی گل افشانی پر کچھ کہنا وقت کا بہترمصرف نہیں۔ صاحب حال، نہیں معلوم کب اناالحق کانعرہ بلندکر دے۔ اس بنا پرانہوں نے کالعدم تنظیموں کے بارے میں جو کچھ کہا، اس پر مجھے کچھ نہیں کہنا۔ تاہم وزیر داخلہ کا معاملہ دوسرا ہے کہ انہیں میں ذی شعور اور ذی فہم خیال کرتا ہوں۔ اس لیے جب انہوں نے کالعدم تنظیموں کو یہ وارننگ دی کہ وہ سیاسی سرگرمیوں سے دور رہیں تو مجھے ان کی بصیرت پر شبہ ہونے لگا۔ سادہ سا سوال ہے کہ یہ تنظیمیں اگر سیاسی میدان سے دور رہیں گی تو پھر کیاکریں گی؟ ظاہر ہے وہی کچھ جس پر اس وقت وزیر داخلہ کو اعتراض ہے۔ کالعدم تنظیمیں کیا کہتی اور کیا کرتی ہیں؟ اس سوال پر غور کرنے کے بعد یہ معلوم ہو سکے گا کہ مجھے وزیر داخلہ کی بصیرت پر کیوں شبہ ہوا ہے۔

اس وقت ملک میں جن تنظیموں کو کالعدم قرار دیا گیا ہے، وہ دو طرح کی ہیں۔ ایک وہ جو فرقہ وارانہ اور مسلکی معاملات میں ایک رائے رکھتی ہیں۔ دوسری وہ جو سیاسی نقطہ نظر رکھتی ہیں۔ ان دونوں طرح کی تنظیموں پر یہ اعتراض ہے کہ ان کی حکمت عملی تشدد پر مبنی ہے جس کی وجہ سے ریاست کا قانون انہیں گوارا نہیں کرتا۔ فرقہ واریت کے حوالے سے جو تنظیمیں کالعدم قرار دی گئی ہیں، ان میں سے ایک کا تعلق اہل سنت اور دوسری کا اہل تشیع سے ہے۔ ان تنظیموں نے جو مؤقف اپنایا ہے، وہ نیا نہیں۔اس سے پہلے بھی ملک میں ایسی تنظیمیں موجود تھیں اور افراد بھی جو ایک دوسرے کے بارے میں اسی طرح کے خیالات رکھتے تھے۔ اس طرح کی تنظیمیں کبھی کالعدم نہیں قرار پائیں کیونکہ ان کی حکمت عملی تشدد پر مبنی نہیں تھی۔وہ اپنی بات تحریر کے ذریعے، تقریر سے یا کسی موجود ذریعہ ابلاغ کو استعمال کرتے ہوئے دوسروں تک پہنچاتے تھے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مؤقف میں شدت ہوتی تھی لیکن اس کا ظہور ان کے طرزِ عمل میں نہیں ہوتاتھا۔

مسئلہ اس وقت پیدا ہوا جب بعض ایسی تنظیمیں وجود میں آئیں جنہوں نے اپنے نقطہ نظر کے فروغ کے لیے تشدد کو بطور حکمت عملی اختیار کیا۔ اس کے بعد ریاست کو مداخلت کی ضرورت پیش آئی اور انہیں کالعدم قرار دیا گیا۔اس سارے معاملے میں جو بات قابلِ غور ہے، وہ یہ ہے کہ جب کالعدم تنظیموں پر پابندی لگی تو اس سے یہ تو ہوا کہ وہ علانیہ اپنی سرگرمیوں کوجاری نہیں رکھ سکیں، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان کانقطہ نظر بھی کالعدم ہو گیا۔ وہ نقطہ ہائے نظر اپنی جگہ موجود رہے اور جب انہیں تنظیمی وحدت میں ظہور کرنے کی اجازت نہ ملی تو انہوں نے خفیہ سرگرمیاں شروع کر دیں۔ تشدد ظاہر ہے کہ پہلے بھی اعلانیہ نہیں ہوتا تھا۔ لہٰذا تشدد کا سلسلہ تو روکا نہ جا سکا، البتہ ان تنظیموں کو ایک خاص نام کے ساتھ کام کرنے سے روک دیا گیا۔اب اس مسئلے کا حل یہ تھا کہ ریاست ان تنظیموں کو پابند کرتی کہ وہ ایک ضابطہ اخلاق بنائیں اور اس کے تحت اعلانیہ اپنی سرگرمیوں کا آغاز کریں۔ اس سے ریاست کے لیے یہ جاننے کا موقع تھا کہ کیا بات خلافِ قانون ہو رہی ہے اور وہ اس پر قانونی کاروائی کر سکتی تھی۔ ریاست کے قانون کے تحت، اپنی بات کہنے کا ایک جائز طریقہ سیاست ہے۔ حکومت اگر حکیمانہ طرزِ عمل اختیار کرتی تو ان تنظیموں کا رخ سیاست کی طرف کر دیتی۔

سیاست کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ وہ آدمی میں وسعت پیدا کرتی ہے اور اس سے یہ موقع پیدا ہوتا ہے کہ آپ دوسرے کے نقطہ نظر کو جانیں اور ایک دوسرے کے ساتھ سماجی نظم و ضبط بڑھائیں۔سیاسی عمل جب جاری رہتا ہے تو اس سے تشدد میں کمی آتی ہے کیونکہ اس سے گھٹن پیدا نہیں ہوتی۔کالعدم تنظیموں کے افراد نے جب سیاست میں حصہ لینا شروع کیا تو یہ ایک مثبت پیش رفت تھی۔ مثال کے طور پر سپاہ صحابہ یا تحریک جعفریہ سے متعلق شخصیات جب سیاست میں متحرک ہوئیں تو ایک طرف پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ جیسی قومی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات کے عمل کا آغاز ہوا اور دوسری طرف وہ میڈیا پر دوسری تنظیموں اور جماعتوں کی قیادت کے ساتھ مکالمے کے ایک عمل کا حصہ بنے ۔مکالمہ وہ ایک مثبت عمل ہے جو ایک دفعہ شروع ہو جائے تو پھر تشدد میں یقیناًکمی آنے لگتی ہے۔اس کا ایک اور فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ایک تنظیم کا نقطہ نظر اور طرزِ عمل دونوں قوم کے سامنے زیرِ بحث آتے ہیں اور جو لوگ اس حوالے سے کسی غلط یا بے بنیاد مؤقف پر کھڑے ہوتے ہیں، وہ قوم کی نظروں میں نا قابلِ اعتبار ٹھہرتے ہیں۔ حکومت میں اگر بصیرت ہوتی تو وہ اس تبدیلی کا خیر مقدم کرتی اور ان تنظیموں کو یہ دعوت دیتی کہ وہ مکالمے کا حصہ بنیں اور اپنی بات کو دلائل کے ساتھ قوم کے سامنے رکھیں۔میرا خیال اس سے خود بخود اس تشدد میں کمی آتی، حکومت جسے ختم کرنے کی خواہش رکھتی ہے۔

حکومت کو اس معاملے میں جو کردار ادا کرنا چاہیے، اس کا تعلق ایک ضابطہ اخلاق کی تشکیل سے ہے یا پھر اس باب میں موجود قوانین کے نفاذ سے۔ فرقہ وارانہ اختلاف نہ تو نئے ہیں نہ انہیں ختم کیا جا سکتا ہے،انہیں صرف آداب کا پابند بنانے کی ضرورت ہے۔واقعہ یہ ہے کہ فرقہ واریت کے حوالے سے تشدد اس طرح در آتا ہے جس طرح عام سیاسی و سماجی معاملات میں تشدد کا آغاز ہوتا ہے۔جب کسی ملک میں قانون مغلوب ہو جاتا ہے یا ظالم کے سامنے قانون بے بس ہوتا ہے اور مظلوم کی داد رسی نہیں کرتا تو پھر لوگ قانون کو ہاتھ میں لیتے ہیں۔ پھر وہ اپنے ہاتھوں سے ظلم ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بالکل اسی طرح جب مذہبی معاملات میں قانون متحرک نہیں ہوتا اور لوگوں کے مذہبی جذبات کے احترام سے معذور ہوتا ہے تو پھر لوگ اپنے جذبات کی تسکین کے لیے خود میدان میں نکل آتے ہیں۔مثال کے طور پر اس ملک میں قانون موجود ہے کہ کہ مسلمانوں کی برگزیدہ شخصیات پر سب و شتم ممنوع ہے۔ جب ایسے واقعات ہوتے ہیں اور قانون مجرموں کو سزا نہیں دیتا تو پھر تشدد جنم لیتا ہے۔حکومت اگر اس معاملے میں سنجیدہ ہے تو اسے تین کام کرنے چاہییں:

۱۔ مذہبی حوالے سے موجود قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔

۲۔ حکومت اس کی حوصلہ افزائی کرے کہ یہ جماعتیں دعوتی، علمی اور سیاسی سرگرمیوں میں مصروف ہوں اور اعلانیہ کام کریں۔

۳۔ ان کی مشاورت سے ایک ضابطہ اخلاق وضع کیا جائے جس پر عمل درآمد کو حکومتی انتظام سے یقینی بنایا جائے۔

سیاسی حوالے سے حکومت نے لشکر طیبہ پر پابندی لگائی ہے ، ہمیں معلوم ہے کہ یہ پابندی دوسرے ممالک کے مطالبے پر لگائی گئی ہے۔ان سے امریکا کو شکایت تھی اور بھارت کو۔ وہ داخلی طور پر کسی پر تشدد کاروائی میں ملوث نہیں رہے۔ ان کے حوالے سے اربابِ اقتدار کو یہ دیکھنا چاہیے کہ حکومت کی بین الاقوامی اخلاقی اور قانونی ذمہ داریاں کیا ہیں اور وہ انہیں کس حد تک ادا کر رہی ہے۔جہاں تک جماعت الدعوہ کا تعلق ہے تو وہ اصلاً دعوت اور خدمت خلق کا کام کرتی ہے، اس لیے اس پر پابندی کا کوئی جواز نہیں ہے۔ اسی طرح خود حکومت یہ کہتی ہے کہ حافظ سعید صاحب پر بھارت جو الزام عا ئد کر تا ہے،اس کے تسلی بخش ثبوت مو جو دنہیں۔ اگر یہ بات درست ہے تو حکومت کو پابندی کا حق ہے نہ گرفتاری کا۔ بظاہر اس معاملے میں حکومت کا مقدمہ اتنا کمزور ہے کہ اگر جماعت الدعوہ عدالت میں چلی جائے تو شاید حکومت اپنا موقف ثابت نہ کر سکے۔

اس دراز نفسی کا حاصل یہ ہے کہ اگر کالعدم جماعتیں تشدد کی جگہ سیاسی میدان میں کام کرتی ہیں تو حکومت کو اس کی حوصلہ افزائی کر نی چا ہیے اور جن کے بارے میں اس کا اپنا موقف یہ ہے کہ ان کے خلاف کو ئی ثبوت نہیں تو ان پر اسے پا بندی کا کوئی حق نہیں۔

طالبان اور شہباز شریف

جناب شہباز شریف نے الفاظ کے انتخاب میں ممکن ہے احتیاط روا نہ رکھی ہو، لیکن دانا الفاظ کے پیچ و خم میں نہیں الجھتے۔ ان کی نظر مفہوم پر ہوتی ہے۔ میرا خیال ہے مفہوم اور معانی واضح ہیں اور ان پر بھی بات ہونی چاہیے!

شہباز شریف کی تقریر اور پھر اس کی شرح کو سامنے رکھیں تو ان کا کہنا یہ ہے کہ طالبان بظاہر جو خیال پیش کر رہے ہیں،انہیں اس پر اعتراض نہیں ہے لیکن طالبان نے جو حکمت عملی اختیار کی ہے، ا نہیں اس سے اتفاق نہیں ہے۔ میرا تأثر ہے کہ اس وقت پاکستانی عوام کی اکثریت کا مؤقف بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ دیگر باتوں کے ساتھ طالبان کا کہنا یہ ہے کہ پاکستان کو ایک خود مختار ملک کی طرح اپنی ترجیحات خود متعین کرنی چاہییں اور امریکا کی غلامی سے خود کو آزاد کرنا چاہیے اور یہ کہ ہمیں اس خطے میں امریکا کی جنگ نہیں لڑنی چاہیے۔

اس مؤقف پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔ سوال یہ ہے، اس چاہیے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟ طالبان بزبانِ حال اس کا یہ جواب دیتے ہیں کہ ایک منظم گروہ کو مسلح کرکے حکومت پر قبضہ کر لینا چاہیے اور اس طرح نظامِ حکومت کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لے لینی چاہیے۔ اگر اس میں ملک کی فوج مزاحم ہوتو اسے ہدف بنانا چاہیے۔ اگر خود کش حملوں کے ذریعے اس فوج کو کمزور کیا جا سکتا ہے، تو یہ راہ بھی اپنائی جا سکتی ہے۔اس کے نتیجے میں اگر عام لوگ مرتے ہیں تو اسے ایک ناگزیر نقصان کے طور پر قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں کہ گیہوں کے ساتھ گھن تو پستا ہی ہے۔مزید یہ کہ بین الاقوامی قوانین اور سرحدوں کی کوئی اہمیت نہیں۔ ہم انہیں قبول کرنے پر آمادہ نہیں اور انہیں راہ میں حائل نہیں ہونے دیں گے۔

شہباز شریف کہتے ہیں کہ انہیں اس حکمت عملی سے اتفاق نہیں۔ وہ جمہور ی طریقے سے تبدیلی پر یقین رکھتے ہیں۔میرا خیال ہے کہ اس پر اہلِ دانش میں گفتگو ہونی چاہیے کہ تبدیلی کیسے ممکن ہے۔ اگر ہم معاشرے میں مسلح جدوجہد کے ذریعے تبدیلی پر یقین رکھتے ہیں تو عملاً یہ کس حد تک ممکن ہے؟ پھریہ کہ اس طرح کیا کسی کوشرعاً اور اخلاقاً حق اقتدار حاصل ہو جاتا ہے؟

دوسرے سوال کو پہلے دیکھیے! اگر بندوق اور اسلحہ کے زور پر اقتدار پر قبضہ جائز ہے تو پھر ملک میں آنے والی تمام فوجی حکومتوں پر کوئی اخلاقی اعتراض نہیں اُٹھایا جا سکتا۔ یہی نہیں، اس کی جلو میں اور بہت سے سوالات بھی ہمارے منتظر ہیں۔

ہم آج ایک عمرانی معاہدے کے تحت ایک ریاست کی صورت میں رہ رہے ہیں۔ یہ معاہدہ ۱۹۷۳ء کا آئین ہے۔اس ملک میں بسنے والے تمام لوگوں نے اپنے نمائندوں کے ذریعے اس کو قبول کیا ہے۔اس معاہدے میں یہ طے ہے کہ ملک میں تبدیلی کیسے آئے گی۔اخلاقی اور شرعی اعتبار سے اس معاہدے سے روگردانی جائز نہیں ہے۔ اگر اس پس منظر میں مسلح جدوجہد کا جائزہ لیا جائے تو یہ مانے بغیر چارہ نہیں کہ اس کو کسی طرح قبول نہیں کیا جا سکتا۔

جہاں تک دوسرے سوال کا تعلق ہے تو اسے تاریخی تناظر میں سمجھنا چاہیے۔ تاریخ کا کہنا یہ ہے کہ تشدد پر مبنی تحریک دنیا کے کسی معاشرے میں کبھی کامیاب نہیں ہوئی۔ یہ تحریک صحیح مؤقف پر اُٹھی ہو یا غلط بنیاد پر، اس سے یہ تو ہوا کہ صفحہ ہستی پر ایک عرصے کے لیے ہنگامہ برپا رہا، لیکن دس بیس سال سے زیادہ اس کی عمر نہیں ہوئی۔خوارج ہوں یا مختار ثقفی، یہ ابن سبا کی تحریک ہو یا سعودی حکومت کے خلاف بیسویں صدی کی بغاوت، ریاست کے مقابلے میں ایسی تحریکیں ہمیشہ ناکام رہی ہیں۔ تاہم ان کے نتیجے میں معاشرہ جس عذاب اور فساد سے گزرتا ہے، اس کی تلافی مدتوں نہیں ہو سکتی۔اس بنا پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ طالبان کا سیاسی مؤقف اگر درست ہو تو بھی اس حکمت عملی سے کامیابی ممکن نہیں۔میرا خیال ہے کہ شہباز شریف بھی شاید یہ کہنا چاہ رہے ہیں۔

شہباز شریف صاحب کی گفتگو پر البتہ یہ سوال ضرور اُٹھایا جا سکتا ہے کہ کیا وہ فی الواقع یہی مؤقف رکھتے ہیں اور اگر کل اقتدار ان کے حوالے کر دیا جائے تو کیا قوم یہ امید کر سکتی ہے کہ وہ طالبان کے مؤقف کے مطابق تبدیلی لے آئیں گے، یعنی پاکستان امریکی اثرات سے آزاد ہو جائے گااور یہ ملک اپنے فیصلوں میں خود مختار ہوگا؟ میرا خیال ہے، یہ بات کہنا اتنا آسان نہیں ہے۔واقعہ یہ ہے کہ شہباز شریف جانتے ہیں کہ اس ملک کے عام آدمی کی سوچ یہی ہے۔ سیاست دان عوامی جذبات کا سوداگر ہوتا ہے،وہ ان کی رعایت سے گفتگو کرتاہے۔شہباز شریف بھی یہی کر رہے ہیں۔اس طرح کا ایک مظاہرہ چند روز پہلے قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف نے بھی کیا تھا۔ حامد کرزئی جب پاکستان کے دورے پر آئے تو وہ اس ضیافت میں شریک نہیں ہوئے جو ان کے اعزاز میں وزیر اعظم نے دی۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ کرزئی پاکستان کے خلاف بیان دیتے ہیں اور امریکی ڈکٹیشن پر چلتے ہیں، اس لیے وہ احتجاجاً اس دعوت میں شریک نہیں ہوں گے۔ ان کی خدمت میں یہ سادہ سا سوال رکھا جا سکتا ہے کہ امریکا سے آنے والے ہر تیسرے درجے کے افسر کے ساتھ ملاقات کے لیے وہ شریف برادران کے شانہ بشانہ پنجاب ہاؤس میں موجود ہوتے ہیں۔ اب ایک دفعہ بھی ایسا نہیں ہوا کہ انہوں نے کسی امریکی افسر سے محض اس بنا پر ملنے سے انکار کیا ہو کہ وہ پاکستان کے مفاد کے خلاف کاروائیوں میں ملوث ہیں۔

شہباز شریف صاحب بھی اگر طالبان کی تائید کررہے ہیں تو یہ ایک سیاسی ضرورت ہے۔ جہاں تک اقتدار کی ضروریات ہیں تو وہ ان سے واقف ہیں اور ان کو معلوم ہے کہ اس وقت تیسری دنیا کا کوئی ملک خود مختاری کا دعویٰ تو کر سکتا ہے، اپنے طرز عمل سے اس کی دلیل فراہم نہیں کر سکتا۔ ان کو معلوم ہے کہ کارگل کی لڑائی بند کرانی ہو تو وزیر اعظم پاکستان کو امریکا کے صدر ہی سے درخواست کرنی پڑتی ہے۔ اس بنا پر میر اکہنا یہ ہے کہ شہباز شریف صاحب جو کچھ کہہ رہے ہیں، اسے بہت سنجیدہ نہ لیا جائے۔اس میں جو بات قابل غور ہے، اس پر توجہ دی جائے اور وہ میں نے اس کالم میں لکھ دی ہے۔اہل سیاست کی اپنی ضروریات ہیں۔ان کے بیانات کو اس حوالے سے دیکھنا چاہیے۔جو کچھ گورنر صاحب فرما رہے ہیں، اس پربھی کسی سنجیدگی کی ضرورت نہیں۔ان کا اپنا کام ہے، سو وہ ان کو مبارک۔ کارخانہ سیاست میں اس طرح کی رونق رہے گی۔

یہ چمن یوں ہی رہے گا اور ہزاروں جانور
اپنی اپنی بولیاں سب بول کر اُڑ جائیں گے

(بشکریہ ’’اوصاف‘‘ اسلام آباد)

حالات و واقعات

Since 1st December 2020

Flag Counter