اپریل ۲۰۱۰ء

دستوری ترامیم اور حکمران طبقے کا رویہ

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

دستور پاکستان ایک بار پھر ترامیم کا سامنا کر رہا ہے اور ان سطور کی اشاعت تک دستور پر نظر ثانی کے لیے پارلیمنٹ کی قائم کردہ کمیٹی کی سفارشات منظر عام پر آ چکی ہوں گی۔ ۱۹۷۳ء میں منتخب دستور ساز اسمبلی نے یہ دستور منظور کیا تھا اور اس وقت کی پارلیمنٹ کو یہ اعزاز حاصل ہوا تھا کہ اس نے قیام پاکستان کے ربع صدی بعد ملک کو ایک ایسا متفقہ دستور دیا جو قوم کے تمام طبقوں اور علاقوں کے لیے قابل قبول تھا اور پوری قوم نے اس پر اتفاق کرتے ہوئے ایک نئی دستوری زندگی کا آغاز کیا تھا۔ اس دستور کی بنیاد تین امور پر تھی: اسلام، جمہوریت اور وفاق۔ یہی تین دستوری بنیادیں...

سید ابوالحسن علی ندویؒ: فکری امتیازات و خصائص

― ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

انیسویں صدی کے اواخر میں عالم اسلام سیاسی، عسکری اور علمی و فکری زوال کی انتہا کو پہنچ رہا تھا اور بیسویں صدی کے آغاز تک مغربی استعمار عالم اسلام کے حصے بخیے کرنے اور خلافت کے ادارہ کو توڑنے میں کامیاب ہوچکاتھا۔اس ناگفتہ بہ صورت حال نے عالم اسلام میں بے چینی کی ایک لہر دوڑادی اور ہر طرف علماے راسخین اور مجاہدین آزادی اٹھ کھڑے ہوئے۔ مختلف اسلامی تحریکات اور شخصیات دنیائے اسلام کے کونے کونے میں پان اسلام ازم اور احیائے اسلام کے مبارک و مقدس کاز کے لیے سرگرم عمل ہوگئیں۔ یہ زمانہ افکار و نظریات کی شکست و ریخت کا زمانہ تھا۔ مغرب کے صنعتی و سائنسی...

اسلامی اخلاقیات کے سماجی مفاہیم (۱)

― پروفیسر میاں انعام الرحمن

خالد سیف اللہ رحمانی ، ہندوستان کے معروف عالمِ دین ہیں ۔ ان کے مختلف اوقات میں لکھے گئے مضامین کے مجموعے عوامی پذیرائی حاصل کر چکے ہیں ۔ اب ان مجموعوں کا مجموعہ ، پاکستان میں زم زم پبلشرز کراچی نے ’راہِ عمل ‘ کے عنوان سے شائع کیا ہے۔ راہِ عمل دو جلدوں پر مشتمل ہے اور اس کے پانچ حصے ہیں ۔ جلد اول میں تین اور جلد دوم میں دو حصے ہیں۔ ان حصوں کے عنوانات بالترتیب (۱) نقوشِ موعظت، کل صفحات ۳۶۶ (۲) حقائق اور غلط فہمیاں، کل صفحات ۲۱۲ (۳) نئے مسائل ، اسلامی نقطہ نظر، کل صفحات ۲۷۰ (۴)عصرِ حاضر کے سماجی مسائل، کل صفحات ۲۲۴(۵) دینی و عصری تعلیم اور درس گاہیں:مسائل...

علمِ حدیث پر مستشرقین کے اعتراضات (جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہریؒ کے افکار کا خصوصی مطالعہ)

― پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم ورک

سترھویں، اٹھارویں اور کسی حد تک انیسویں صدی کے آغاز میں مستشرقین کی جو کتابیں منصہ شہود پر آئیں، ان میں بیشتر حملے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی پر کیے گئے ۔اس مہم کے قافلہ سالار مشہور مستشرق سر ولیم میور(م ۱۹۰۵ء) (Sir william Muir) ہیں جنھوں نے چار جلدوں پر مشتمل اپنی کتاب The Life of Muhammad میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی کو ہدفِ تنقید بنایا۔ یہ کتاب بڑی تہلکہ خیز ثابت ہوئی جس نے مسلمان اہلِ علم کو شدید اضطراب میں مبتلا کردیا۔ سر سید احمد خانؒ (م ۱۸۹۸ء )،اللہ تعالیٰ ان کو غریقِ رحمت فرمائے، وہ اوّلین شخص تھے جنھوں نے ۱۸۷۰ء میں...

ایک نئی دینی تحریک کی ضرورت

― ڈاکٹر محمد امین

یہ چند سال پہلے کی بات ہے کہ ہم نے ایک دن شہید ڈاکٹر سرفراز نعیمی صاحب سے کہا کہ ہمارے دینی سیاسی لوگ اکٹھے نہیں ہوتے تو بات سمجھ میں آتی ہے کہ وہاں ’کرسی‘ کا مسئلہ ہے لیکن دعوت و اصلاح جیسے غیر سیاسی کام میں دینی لوگ کیوں جمع نہیں ہوسکتے جبکہ اس کام کی بڑی سخت ضرورت بھی ہے۔ کہنے لگے کہ اس میں کوئی بڑی رکاوٹ بظاہر تونظر نہیں آتی ۔ چنانچہ ہم نے باہم مشورہ کر کے مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام اور سول سوسائٹی کے دیندار افراد کا ایک اجتماع جامعہ نعیمیہ میں رکھا جس کا ایجنڈا اور ورکنگ پیپر راقم نے تیار کرکے شرکا کو بھجوا دیا۔ اس اجلاس کی دونشستیں...

مذہبی شدت پسندی اور اس کے سدباب کی حکمت عملی

― خورشید احمد ندیم

صدمے کے شدید احساس کے ساتھ مولانا سعید احمد جلال پوری کی شہادت پر لکھنے کے لیے قلم اُٹھایا ہی تھا کہ لاہور میں قتل عام کی خبر نے اپنے حصار میں لے لیا۔ آج وطن کی فضا لہو رنگ ہے۔کراچی میں دو المناک واقعات ایک ہی دن ہوئے۔ گزشتہ روز خبر ملی کہ مولانا عبدالغفور ندیم اپنے بیٹے سمیت گولیوں کی زد میں تھے۔رات گہری ہونے لگی تو مولانا جلال پوری کی شہادت کی خبر سنی۔شب بھر ماضی کی راکھ کریدتا رہا۔ ۱۲؍ربیع الاوّل کا فیصل آباد، ۱۰؍محرم کا کراچی۔ بہت کچھ یاد آیااور نہیں معلوم کب صدمے کی شدت پر نیند نے غلبہ پا لیا۔ آج جمعہ کی نماز کے بعدکالم لکھنے کے لیے بیٹھا...

ایک تربیتی ورک شاپ کی روداد (۱)

― محمد عمار خان ناصر

جنوری ۲۰۱۰ء کے آغاز میں مجھے پاکستان کے دینی جرائد کے مدیران اور نمائندوں کے ایک گروپ کے ہمراہ نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو میں ’’میڈیا کے چیلنج اور پیغام کی اثر انگیزی‘‘کے زیر عنوان منعقد کی جانے والی ایک سہ روزہ تربیتی ورک شاپ (۳ تا ۵ جنوری ۲۰۱۰ء) میں شریک ہونے کا موقع ملا۔ اس ورک شاپ کا اہتمام اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے الائنس آف سویلائزیشنز (AoC) نے کیا تھا۔ اس ادارے کے قیام کی تجویز ۲۰۰۵ء میں اقوام متحدہ کی ۵۹ ویں جنرل اسمبلی میں اسپین کے صدر Jos233 Luis Rodrguez Zapatero نے ترکی کے وزیر اعظم رجب طیب اردگان کی تائید کے ساتھ دی تھی۔ اس کے پس منظر میں بنیادی...

مکاتیب

― ادارہ

محترم مولانا عمار خان ناصر صاحب۔ سلام مسنون۔ امید ہے مزاج بخیر ہوں گے! ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ [فروری ۲۰۱۰] میں سید مہر حسین بخاری صاحب کا جوابی مکتوب پڑھا۔ موصوف نے خوامخواہ بحث کو طول دینے اور اپنے پلڑے میں وزن ڈالنے کے لیے حضرت صوفی صاحب نوراللہ مرقدہ کے شیعہ کے بارے میں نظریہ سے متعلق بحث میں دارالعلوم دیوبند کے مفتی اول صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا فتویٰ بھی نقل کردیا، حالانکہ اس عاجز نے تو فقط حضرت صوفی صاحب رحمہ اللہ کے نظریہ سے متعلق چند گزارشات کی تھیں۔ اب جبکہ وہ خود میدان میں اتر آئے ہیں تو مجبوراً ہمیں بھی چند گزارشات کرنا پڑیں۔خدا تعالیٰ...

حالات و واقعات

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

کراچی میں علما کی شہادت۔ کراچی ایک بار پھر علما کی قتل گاہ بن گیا ہے اور مولانا سعید احمد جلال پوریؒ اور مولانا عبد الغفور ندیمؒ کی اپنے بہت سے رفقا سمیت الم ناک شہادت نے پرانے زخموں کو پھر سے تازہ کر دیا ہے۔ خدا جانے یہ سلسلہ کہاں جا کر رکے گا اور اس عفریت نے ابھی کتنے اور قیمتی لوگوں کی جان لینی ہے۔ مولانا سعید احمد جلال پوری شہید حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید کے قافلے کے فرد تھے، ان کے تربیت یافتہ تھے اور انھی کی مسند پر خدمات سرانجام دے رہے تھے۔ بڑی شخصیات کا خلا تو کبھی پورا نہیں ہوا کرتا، لیکن اگر ان کے مشن کا تسلسل جاری رہے اور خود...

الشریعہ اکادمی میں سیرت النبیؐ کے حوالے سے مختصر تقریب

― ادارہ

الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں یکم مارچ بروز پیر کو جناب عثمان عمر ہاشمی کی زیر صدارت سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عنوان سے ایک مختصر تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں عوام الناس کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب میں خصوصی خطاب مولانا عبدالواحد رسول نگری نے فرمایا جبکہ مہمان خصوصی کی حیثیت سے مسلم لیگ (ن) کے سرکردہ رہنما اور ممبر قومی اسمبلی جناب عثمان ابراہیم مدعو تھے۔ مولانا عبدالواحد رسول نگری نے اپنے خطاب میں کہا کہ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مجالس اور تقاریب کا انعقاد، جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات زندگی سن اور سنا...